2022 May 17
کیا شیعہ مذہب میں امیر المومنین (ع) کو نعوذ با اللہ گالی دینا جائز ہے ؟
مندرجات: ٢١٩٣ تاریخ اشاعت: ١٦ January ٢٠٢٢ - ١٦:٥٩ مشاہدات: 534
وھابی فتنہ » پبلک
کیا شیعہ مذہب میں امیر المومنین (ع) کو نعوذ با اللہ گالی دینا جائز ہے ؟

شیعہ مذھب میں نعوذ باللہ حضرت علی(ع) کو گالی دینا جائز ہے کیا ..؟


وہابی سلفی ، اصول کافی کی ایک حدیث نقل کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ مولا علی علیہ السلام کو گالی دینا شیعہ فقہ میں جائز ہے {نعوذ باللہ} .

 

حدیث  کا مفھوم  اور مضمون یہ ہے :میرے بعد تم لوگوں کو مجھے برا بلا کہنے پر مجبور کیا جایے گا لہذا جان بچانے کے کیے ایسا کہناپڑے تو کہہ دینا ..لیکن مجھ سے اظہار برائت نہ کرنا

 

....

جواب :

بلکل ایسی حدیث امیر المومنین علیہ السلام  سے اہل سنت کی کتابوں میں بھی ہے۔۔۔ 
جیساکہ آپ کی یہ پیشنگوئی سچ ثابت ہوئی۔

اور معاویہ کے دور حکومت میں ایسا ہی ہوا..

ملاحظہ کریں ۔۔۔۔(www.valiasr-aj.com/urdu/mobile_shownews.php


اب جاھل سلفی اموی مولوی کہتے ہیں کہ شیعہ مذھب میں مولا کو گالی دینا جائز ہے نعوذ باللہ۔


یہ بلکل ایسا ہے جیسے جان بچانے کے لیے حرام اور مردار کھانا پڑے تو سب اس کو جائز سمجھتے ہیں لیکن  یہاں کوئی جاھل ہی کہہ سکتا ہے کہ اسلام میں حرام اور مردار کھانا جائز ہے ...

دیکھیں :

مصنف ابن أبي شيبة     كِتَابُ الْفِتَنِ… مَنْ كَرِهَ الْخُرُوجَ فِي الْفِتْنَةِ وَتَعَوَّذَ عَنْهَا…..

37254 - عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُخَارِقِ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ: «إِنِّي لَا أَرَى هَؤُلَاءِ الْقَوْمَ إِلَّا ظَاهِرِينَ عَلَيْكُمْ لِتُفَرِّقَكُمْ عَنْ حَقِّكُمْ وَاجْتِمَاعُهُمْ عَلَى بَاطِلِهِمْ , وَإِنَّ الْإِمَامَ لَيْسَ يُشَاقُّ سَفَرُهُ , وَإِنَّهُ يُخْطِئُ وَيُصِيبُ , فَإِذَا كَانَ عَلَيْكُمْ إِمَامٌ يَعْدِلُ فِي الرَّعِيَّةِ وَيَقْسِمُ بِالسَّوِيَّةِ فَاسْمَعُوا لَهُ وَأَطِيعُوا , وَإِنَّ النَّاسَ لَا يُصْلِحُهُمْ إِلَّا إِمَامٌ بَرٌّ أَوْ فَاجِرٌ , فَإِنْ كَانَ بَرًّا فَلِلرَّاعِي وَلِلرَّعِيَّةِ , وَإِنْ كَانَ فَاجِرًا عَبَدَ فِيهِ الْمُؤْمِنُ رَبَّهُ وَعَمِلَ فِيهِ الْفَاجِرُ إِلَى أَجَلِهِ , وَإِنَّكُمْ سَتُعْرَضُونَ عَلَى سَبِّي , وَعَلَى الْبَرَاءَةِ مِنِّي , فَمَنْ سَبَّنِي فَهُوَ فِي حِلٍّ مِنْ سَبِّي , وَلَا تَبْرَءُوا مِنْ دِينِي فَإِنِّي عَلَى الْإِسْلَامِ»…………

  أبو بكر بن أبي شيبة، عبد الله بن محمد بن إبراهيم بن عثمان بن خواستي العبسي (المتوفى: 235هـ)  المصنف في الأحاديث والآثار (7/ 463):، المحقق: كمال يوسف الحوت  الناشر: مكتبة الرشد – الرياض الطبعة: الأولى، 1409..عدد الأجزاء: 7

 امام حاکم نے بھی المستدرک میں اس کو نقل کیا ہے ۔

امام حاکم اور امام ذھبی کے نذدیک یہ صحیح السند ہے ۔


 3365 - أخبرنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق أنبأ محمد بن أحمد بن النضر الأزدي ثنا معاوية بن عمرو ثنا أبو إسحاق الفزاري عن سفيان عن سلمة بن كهيل عن أبي صادق قال : قال علي رضي الله عنه : إنكم ستعرضون على سبي فسبوني فإن عرضت عليكم البراءة مني فلا تبرأوا مني فإني على الإسلام فليمدد أحدكم عنقه ثكلته أمه فإنه لا دنيا له و لا آخرة بعد الإسلام ثم تلا : { إلا من أكره و قلبه مطمئن بالإيمان ۔۔۔


 
صحيح الإسناد و لم يخرجاه 

تعليق الذهبي قي التلخيص : صحيح

 المستدرك على الصحيحين للحاكم مع تعليقات الذهبي في التلخيص (2/ 390):

سوال :

 اب اصول کافی کی اس روایت کو بہانا بنا کر شیعوں پر الزام تراشی جائز ہے تو  یہی حدیث اہل سنت  کی کتابوں  میں بھی صحیح سند موجود ہے.  .. اب دیکھنا سلفی اموی مولوی کیا منہ بناتے ہیں اور کیا  کہتے ہیں ؟





Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی