2022 January 20
اصحاب کے بارے میں حضور پاک (ص) کی پیشن گوئی
مندرجات: ٢١٨٣ تاریخ اشاعت: ٠٢ January ٢٠٢٢ - ١٦:١٣ مشاہدات: 169
وھابی فتنہ » پبلک
اصحاب کے بارے میں حضور پاک (ص) کی پیشن گوئی

اصحاب کے بارے میں حضور پاک (ص) کی پیشن گوئی

اہل سنت کی سب سے معتبر کتاب صحیح بخاری میں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے منقول ہے :

6615 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّكُمْ سَتَحْرِصُونَ عَلَى الْإِمَارَةِ وَسَتَكُونُ نَدَامَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَنِعْمَ الْمُرْضِعَةُ وَبِئْسَتْ الْفَاطِمَةُ

  صحيح البخاري --- كتاب الاحكام --- باب ما يكره من الحرص على الإمارة: رقم الحديث: 7148[

نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا :

  عنقریب تم لوگ حکومت اور اقتدار کے لالچی  اور  حریص ہوں گے اور یہ قیامت کے دن تمہارے لیے باعث ندامت ہو گی۔ پس کیا ہی بہتر ہے دودھ پلانے والی اور کیا ہی بری ہے دودھ چھڑانے والی۔۔

یہ حدیث مندرجہ ذیل کتابوں میں بھی نقل ہوئی ہے ۔۔۔

 صحيح ابن حبان – ج 10 ص 334 - - مسند أحمد، ج 2  448-  مصنف ابن أبي شيبة - ج12 ص 215)- - السنن الكبرى للنسائي – ج 4 ص 436- - سنن البيهقي الكبرى – ج 3 ص 129-

 

حضور پاک (ص) کو اصحاب کا دنیا کے پیچھے جانے کا خوف

حَدَّثَنِى عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِى حَبِيبٍ عَنْ أَبِى الْخَيْرِ عَنْ عُقْبَةَ أَنَّ النَّبِىَّ - صلى الله عليه وسلم - خَرَجَ يَوْمًا فَصَلَّى عَلَى أَهْلِ أُحُدٍ صَلاَتَهُ عَلَى الْمَيِّتِ ، ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى الْمِنْبَرِ فَقَالَ « إِنِّى فَرَطٌ لَكُمْ ، وَأَنَا شَهِيدٌ عَلَيْكُمْ ، وَإِنِّى لأَنْظُرُ إِلَى حَوْضِى الآنَ ، وَإِنِّى أُعْطِيتُ مَفَاتِيحَ خَزَائِنِ الأَرْضِ - أَوْ مَفَاتِيحَ الأَرْضِ - وَإِنِّى وَاللَّهِ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمْ أَنْ تُشْرِكُوا بَعْدِى ، وَلَكِنِّى أَخَافُ عَلَيْكُمْ أَنْ تَنَافَسُوا فِيهَا » .

 صحيح البخارى (5/ 257، أطرافه 1344 ، 3596 ، 4042 ، 6426 ، 6590 - تحفة 9956

 اللہ کی قسم! میں تمہارے بارے میں اس سے نہیں ڈرتا کہ تم میرے بعد شرک کرنے لگو گے بلکہ مجھے اس کا ڈر ہے کہ تم دنیا کے لیے حرص کرنے لگو گے۔

 

 سقیفہ فرمان نبی (ص) کی صداقت کا گواہ

جیساکہ حضور پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے اصحاب سے خطاب میں فرمایا کہ تم لوگ عنقریب اقتدار کی رشہ کشی اور حکومت کی دوڑ میں لگ جاو گے اور اس کا انجام قیامت کے دن پشیمانی اور حسرت ہی ہوگا ۔۔۔

آپ کی وفات کے بعد آپ کا جنازہ ابھی دفن نہیں ہوا تھا ۔۔۔ سقیفہ میں بلکل ایسا ہوا جیسا آپ نے فرمایا تھا ، قبائلی رقابتوں اور رنجشوں اور ایک دوسرے پر برتری جتانے اور ایک دوسرے پر حکومت کرنے کی باتوں کا ہی سقیفہ میں رد و بدل ہوئیں۔ نہ قرآن کی کسی آیت سے استدلال ہوا نہ آنحضرت (ص) کی کسی حدیث کو بیان کیا ۔۔۔

اس سلسلے میں  تفصیل کے لئے مندرجہ ذیل ایڈرس کی طرف رجوع کریں.خلافت کے مسئلے میں سقیفہ کے واقعے پر ایک تبصرہwww.valiasr-aj.com/urdu/shownews.php 

صحیح بخاری‘‘  میں’’ عمر بن خطاب‘‘ کی زبانی سقیفہ کا ماجرا۔

 www.valiasr-aj.com/urdu/shownews.php

 

 اصحاب کے دور کے فتنوں کا آغاز سقیفہ سے ہوا اور سقیفہ حقیقت میں  غدیر اور فرمان مصطفی (ص)سے بغاوت ہی تھا ۔

دیکھیںحدیث غدیر اور  شیعہ موقف کی حقانیتwww.valiasr-aj.com/urdu/shownews.php

جیساکہ اسی اقتدار کی رسہ کشی میں جناب سیدۃ نساﺀ العالمین جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا کے گھر کو گھر والوں سمیت آگ لگانے کی دھمکی دی۔

www.valiasr-aj.com/urdu/shownews.php

سلسلہ چلتا رہا یہاں تک کہ خلیفہ سوم خود اصحاب کے ہاتھوں قتل ہوا ۔

دیکھیں : قتل عثمان میں جناب عائشه کا کردار:

www.valiasr-aj.com/urdu/shownews.php

عشرہ مبشرہ کا خون عشرہ مبشرہ کی گردن پر www.valiasr-aj.com/urdu/shownews.php

جنگ جمل اور جنگ صفین کی کمانڈری اصحاب کر رہے تھے اور اس میں ہزروں لوگوں کا قتل ہوا ۔ یہی وجہ ہے حضور پاک (ص) نے ان فتنوں میں علی بن ابی طالب علیہ السلام کے  ساتھ دینے اور ان کے مقابل میں اہل جمل اور اہل صفین و نہروان سے جنگ کرنے کا حکم دیا ۔۔

دیکھیں :www.valiasr-aj.com/urdu/shownews.php

اصحاب کے فتنوں کو  دجال کے فتنے سے بھی زیادہ خطرناک کہا

امام اہل سنت امام احمد حنبل اور امام ابن حبان (المتوفی ۳۵۴ھ)  نے نقل کیا ہے:

وَعَنْ حُذَيْفَةَ ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ : كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيه وسَلَّم ، فَذُكِرَ الدَّجَّالُ ، فَقَالَ : لَفِتْنَةِ بَعْضِكُمْ أَخوَفُ عِنْدِي مِن فِتْنَةِ الدَّجَّالِ ، إِنَّهَا لَيْسَتْ مِنْ فِتْنَةٍ صَغَيرَةٍ ، وَلاَ كَبِيرَةٍ ، إِلاَّ تَتَّضِعُ لِفِتْنَةِ الدَّجَّالِ ، فَمَنْ نَجَا مِنْ فِتْنَةِ مَا قَبْلَهَا نَجَا مِنْهَا ، وَإِنَّهُ لاَ يَضُرُّ مُسْلِمًا ، مَكتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ : كَافِرٌ ، مُهَجَّاةٌ۔۔۔

حذیفہ بن یمان سے نقل ہوا ہے کہ حضور پاک (ص) نے (صحابہ سے) فرمایا: تم میں سے بعض کا فتنہ میرے نزدیک دجال کے فتنے سے بھی زیادہ خوفناک ہوگا ۔۔۔۔۔۔

 الاحسان بترتیب صحیح ابن حبان - ترتیب ابن بلبان الفاسی // جلد ۸/۹ // صفحہ ۲۲۳ // رقم ۶۸۱۶ // طبع دار الفکر بیروت لبنان۔

مسند أحمد بن حنبل (5/ 389  : أبو عبد الله أحمد بن محمد بن حنبل الشيباني (المتوفى: 241هـ)المحقق: شعيب الأرنؤوط - عادل مرشد، وآخرون إشراف: د عبد الله بن عبد المحسن التركي،الناشر: مؤسسة الرسالة۔الطبعة: الأولى، 1421 هـ - 2001 م

اس کتاب کے مشہور محقق شعيب الأرنؤوط نے لکھا ہے  : إسناده صحيح

ابن حجر ھیثمی (المتوفی ۸۰۷ھ) نے اس روایت کو نقل کرنے کے بعد یوں لکھا ہے:

 رواه أحمد والبزار ورجاله رجال الصحيح۔۔۔

اس کو احمد بن حنبل اور ابوبکر بزار نے روایت کیا ہے اور اس کے تمام راوی صحیح بخاری کے راوی ہیں۔

 مجمع الزوائد - ابن حجر ھیثمی // جلد ۹ // صفحہ ۴۵۶ // رقم ۱۲۴۹۸ // طبع دار الکتب العلمیہ بیروت لبنان۔

 





Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی