2022 January 20
جارح سعودی اتحاد کے جنگی طیاروں نے ایک بار پھر یمن کے دارالحکومت صنعا پر بمباری کی ہے۔
مندرجات: ٢١٧٥ تاریخ اشاعت: ٢٧ December ٢٠٢١ - ١٤:٢٠ مشاہدات: 132
خبریں » پبلک
جارح سعودی اتحاد کے جنگی طیاروں نے ایک بار پھر یمن کے دارالحکومت صنعا پر بمباری کی ہے۔

یمنی ذرائع ابلاغ کے مطابق اس جارحانہ حملے کے بعد دارالحکومت صنعا میں شدید دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں آخری اطلاع ملنے تک اس حملے میں ہونے والے ممکنہ جانی و مالی نقصان کے بارے میں کوئی رپورٹ سامنے نہیں آئی تھی۔

جارح سعودی اتحاد کے جنگی طیاروں نے جمعے کو بھی صنعا کے شمال میں واقع الثورہ اسٹیڈیم سمیت مختلف علاقوں پرحملے کئے تھے۔ جارح سعودی اتحاد نے حالیہ ہفتوں کے دوران یمن کے مختلف شہروں کے رہائشی علاقوں کو بارہا اپنے حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔ یمنی فوج کی آپریشنل کمان نے بھی اس ملک کے مغربی صوبے الحدیدہ میں سعودی اتحاد کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزی جاری رہنے کی خبردی ہے ۔ رپورٹ کے مطابق جارح سعودی اتحاد اوراس کے زرخرید ایجنٹوں نے گذشتہ چوبیس گھنٹے کے دوران صوبہ الحدیدہ میں دوسوچونسٹھ بار جنگ بندی کی خلاف ورزی کی۔

دوسری جانب ریاض میں امریکی سفارت خانے نے یمنی شہریوں پر جارح سعودی اتحاد کے ہر روز کے حملوں کو نظرانداز کرتے ہوئے جیزان پریمنی افواج کے حملے کی مزمت کی ہے۔ ریاض میں امریکی سفارتخانے نے دعوی کیا ہے کہ سعودی عرب پر یمنی فوجیوں کے حملوں سے سعودی عرب میں موجود ستّرہزار سے زیادہ امریکیوں اور سعودیوں کی جان خطرے میں ہے۔

ریاض میں امریکی سفارتخانے نے اب تک سعودی اتحاد کے حملوں میں ہزاروں معصوم بچوں سمیت لاکھوں یمنی شہریوں کے شہید اور زخمی ہونے کی طرف کوئی اشارہ نہیں کیا  ۔امریکی سفارت خانے نے یمنی فوج سے مطالبہ کیا ہے کہ سعودی علاقوں پر حملے بند کرکے، بحران یمن کے حل کے لئے سفارتی کوششوں میں مدد کرے۔

ریاض میں امریکی سفارتخانے کا یہ بیان جمعے کو جنوبی سعودی عرب کے جیزان علاقے پر یمنی فوج کے مارٹر حملے میں ایک سعودی کے ہلاک اور کئی کے زخمی ہونے پر مبنی جارح سعودی اتحاد کے دعوے کے بعد سامنے آیا ہے ۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ یمن کے خلاف سعودی حکومت اوراس کے اتحادیوں کے حملوں اورجارحیت کا سلسلہ مارچ دوہزار پندرہ سے جاری ہے۔ ان حملوں میں اب تک لاکھوں یمنی شہید اور زخمی ہوچکے ہیں جبکہ چالیس لاکھ سے زیادہ افراد بےگھر اور دربدر ہوچکے ہیں۔

یمن پر سعودی اتحاد کی فوجی جارحیت میں اس ملک کی پچاسی فیصد سے زیادہ بنیادی تنصیبات تباہ ہوچکی ہیں اور بری ، بحری و فضائی محاصرے کے نتیجے میں یمنی عوام کو غذائی اشیا اور جان بچانے والی دواؤں کی شدید قلت کا سامنا ہے۔





Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی