2022 January 20
ابوبکر کا پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف سے ارث چھوڑنے کا اعتراف ۔۔۔
مندرجات: ٢١٧٠ تاریخ اشاعت: ٢٠ December ٢٠٢١ - ١٤:٤٢ مشاہدات: 242
مضامین و مقالات » پبلک
ابوبکر کا پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف سے ارث چھوڑنے کا اعتراف ۔۔۔

ابوبکر کا پیغمبر  صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف سے ارث چھوڑنے کا اعتراف+ اسکن

شیعہ اور اہل سنت کے درمیان موجود بنیادی اختلافات میں سے ایک رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف سے ارث چھوڑنے کا مسئلہ اور خاص کر باغ  فدک کے بارے یہ سوال ہے کہ کیا باغ فدک حضرت زہرا سلام اللہ علیہا  کی ملکیت تھی اور ابوبکر اور عمر نے اس کو  ان سے چھین لیا ہے ؟  کیا حضرت زہرا سلام علیہا نے وراثت کے عنوان سے اس کا مطالبہ کیا؟۔

اہل سنت کے نذدیک فدک حضرت زہرا سلام علیہما کی میراث نہ ہونے کی اہم دلیل«نحن معاشر الأنبياء لا نورث» والی وہ روایت ہے کہ جس کو ابوبکر نے نقل کیا۔ فدک چھینے کے بعد جناب زہرا (س) اپنا حق لینے گئیں لیکن ابوبکر نے مذکورہ حدیث سے استدلال کیا اور پیغمبروں کی طرف سے ان کی اولاد کو کسی قسم کی ارث ملنے کی نفی کی۔

 لیکن قابل توجہ  نکته یہ ہےکہ اگرچہ ابوبکر نے مذکورہ حدیث سے استدلال کیا اور حضرت زہرا (س) کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے وارث ہونے کی نفی کی۔ لیکن ابوبکر  خود ہی ایک معتبر روایت میں حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ارث ملنے کا اعتراف کرتا ہے ۔

ہم اس روایت کو  اہل سنت کی کتابوں سے اہل سنت کے علماء کی طرف سے اس روایت کے صحیح اور حسن ہونے کے اعتراف کے ساتھ نقل کرتے ہیں :

 احمد بن حنبل نے اپنی مسند میں ایک صحیح سند روایت نقل کی ہے :

حدثنا عبد اللَّهِ قال حدثني أبي قال ثنا عبد اللَّهِ بن مُحَمَّدِ بن أبي شَيْبَةَ قال عبد اللَّهِ وَسَمِعْتُهُ من عبد اللَّه بن أبي شَيْبَةَ قال ثنا محمد بن فُضَيْلٍ عَنِ الْوَلِيدِ بن جُمَيْعٍ عن أبي الطُّفَيْلِ قال لَمَّا قُبِضَ رسول اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَرْسَلَتْ فَاطِمَةُ إلى أبي بَكْرٍ أنت وَرِثْتَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَمْ أَهْلُهُ قال فقال لاَ بَلْ أَهْلُهُ قالت فَأَيْنَ سَهْمُ رسول اللَّهِ قال فقال أبو بَكْرٍ إني سمعت رَسُولَ اللَّهِ يقول إِنَّ اللَّهَ عز وجل إذا أَطْعَمَ نَبِياًّ طُعْمَةً ثُمَّ قَبَضَهُ جَعَلَهُ للذي يَقُومُ من بَعْدِهِ فَرَأَيْتُ أَنْ أَرُدَّهُ على الْمُسْلِمِينَ فقالت فَأَنْتَ وما سَمِعْتَ من رسول اللَّهِ أَعْلَمُ۔۔۔

ابي طفيل کہتا ہے ؛ پيامبر( صلي الله عليه و آله) کی وفات کے بعد جناب فاطمه (عليها السلام)  نے ابوبکر کے پاس کسی کو یہ پوچھنے کے لئے بھیجا : کہ رسول اللہ(صلي الله عليه و‌‌ آله سلم) کے وارث تم ہو  یا ان کے خاندان والے ؟ أبوبكر نے کہا : نہیں، ان کے خاندان والے ان کے وارث ہیں ۔حضرت زہرا سلام اللہ علیہا نے پوچھا: پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا حصہ کہاں ہے؟  ابوبکر نے کہا :میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنا کے کہ  جب بھی اللہ کسی پیغمبر کو رزق و روزی دیتا ہے تو یہ اس کے بعد اس کے جانشین کو ملتا ہے میں نے یہ مناسب سمجھا کہ اس مال کو مسلمانوں کو پلٹا دیا جائے ۔حضرت زہرا سلام علیہا نے جواب میں فرمایا: جو تو نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنا ہے تم ہی بہتر جانتے ہو۔  

الشيباني،  ابوعبد الله أحمد بن حنبل (متوفاى241هـ)، مسند أحمد بن حنبل، ج 1  ص 4 ناشر: مؤسسة قرطبة – مصر.

مقدسي نے  اس کو الأحاديث المختارة  میں نقل کیا ہے اور اس کو صحیح کہا ہے:

أخبرنا أبو الطاهر المبارك بن أبي المعالي بن المعطوش بقراءتي عليه بالجانب الغربي من بغداد قلت أخبركم هبة الله بن محمد بن عبدالواحد قراءة عليه وأنت تسمع أنا الحسن بن علي أنا أحمد بن جعفر ثنا عبدالله بن أحمد حدثني أبي ثنا عبدالله بن محمد بن أبي شيبة قال عبدالله وسمعته من عبدالله بن أبي شيبة ثنا محمد بن الفضيل عن الوليد بن جميع عن أبي الطفيل قال لما قبض رسول الله صلى الله عليه وسلم أرسلت فاطمة إلى أبي بكر أنت ورثت رسول الله صلى الله عليه وسلم أم أهله قال فقال لا بل أهله قالت فأين سهم رسول الله صلى الله عليه وسلم قال فقال أبو بكر إني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول إن الله عز وجل إذا أطعم نبيا طعمة ثم قبضه جعله للذي يقوم من بعده فرأيت أن أرده على المسلمين قالت فأنت وما سمعت من رسول الله صلى الله عليه وسلم أعلم أخرجه أبو داود عن عثمان بن أبي شيبة عن محمد بن فضيل ( إسناده صحيح )

المقدسي الحنبلي، ابوعبد الله محمد بن عبد الواحد بن أحمد (متوفاى643هـ)، الأحاديث المختارة، ج 1   ص 129،تحقيق عبد الملك بن عبد الله بن دهيش، ناشر: مكتبة النهضة الحديثة - مكة المكرمة، الطبعة: الأولى، 1410هـ.

ابويعلي نے مسند میں اس روایت کو اس طرح نقل کیا ہے :

حدثنا أبو بكر بن أبي شيبة حدثنا محمد بن فضيل عن الوليد بن جميع عن أبي الطفيل قال أرسلت فاطمة إلى أبي بكر فقالت ما لك يا خليفة رسول الله صلى الله عليه وسلم أنت ورثت رسول الله أم أهله قال لا بل أهله قالت فما بال سهم رسول الله صلى الله عليه وسلم قال إني سمعته يقول إن الله إذا أطعم نبيا طعمة ثم قبضه إليه جعله للذي يقوم بعده فرأيت أنا بعده أن أرده على المسلمين قالت أنت وما سمعته من رسول الله

أبو يعلي الموصلي التميمي، أحمد بن علي بن المثني (متوفاى307 هـ)، مسند أبي يعلي، ج 1 ، ص 40 تحقيق: حسين سليم أسد، ناشر: دار المأمون للتراث - دمشق، الطبعة: الأولى، 1404 هـ – 1984م. 

الباني نے إرواء الغليل:

الباني نے بھی اس روایت کو نقل کیا ہے اور اس کی سند کو معتبر قرار دیا ہے :

(1241) - (حديث: إذا أطعم الله نبيا طعمة ثم قبضه فهو للذى يقوم بها من بعده رواه أبو بكر عنه.  حسن.

أخرجه الإمام أحمد (1/4) فى  مسنده  وكذا ابنه عبد الله فى زوائده عليه , وأبو يعلى فى مسنده  (316/1) من طريق الوليد بن جميع عن أبى الطفيل قال: لما قبض رسول الله صلى الله عليه وسلم , أرسلت فاطمة إلى أبى بكر: أنت ورثت رسول الله صلى الله عليه وسلم أم أهله , قال: فقال: بل أهله , قالت: فأين سهم رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ قال: فقال أبو بكر إنى سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: " إن الله إذا أطعم نبيا طعمة ثم قبضه , جعله للذى يقوم بعده  فرأيت أن أرده على المسلمين , فقال: فأنت وما سمعت من رسول الله صلى الله عليه وسلم

قلت: وهذا إسناد حسن

ألباني، محمد ناصر (متوفاى1420هـ)، إرواء الغليل في تخريج أحاديث منار السبيل، ج 5 ص 76 تحقيق: إشراف: زهير الشاويش، ناشر: المكتب الإسلامي - بيروت - لبنان، الطبعة: الثانية، 1405 - 1985 م.

اس روایت کے سلسلے میں چند نکات :

پہلا نکته: اس حدیث کا، حدیث  «لا نورث..» سے ٹکڑاو :

معتبر روايت کے مطابق خود ابوبکر اعتراف کرتا ہے کہ حضرت زهرا عليها السلام اپنے والد گرامی جناب رسول خدا صلي الله عليه و آله سے ارث لے سکتی ہے لیکن یہ اس روایت کے مخالف ہے جو انبياء کے ارث چھوڑنے کی نفی کرتی ہے.

  مزے کی بات یہ ہے کہ  أبو بكر احمد بن عبد العزيز الجوهري کہ جو  إبن أبي الحديد معتزلي کے استاد بھی ہے  اور ابن ابی الحدید اس سے بہت سی احادیث نقل کرتا ہے وہ  كتاب" السقيفة اور  فدك" والی اپنی کتاب میں کہتا ہے:

في هذا الحديث عجب، لأنها قالت له: «أنت ورثت رسول الله (صلي الله عليه و آله) أم أهله، قال: بل أهله» و هذا تصريح بأنه (صلي الله عليه و آله) موروث يرثه أهله و هو خلاف قوله: لا نورث.

  احمد بن حنبل کی نقل كرده یہ حدیث عجیب ہےکیونکہ جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا نے ابوبکر سے کہا: « رسول الله (صلي الله عليه و‌‌ آله) کے وارث تم ہو یا ان کے اہل بیت ؟  أبو بكر نے کہا : نہیں بلکہ رسول الله (صلي الله عليه و‌‌ آله) کے گھر والے ان کے وارث ہوں گے . یہ أبو بكر کا اعتراف ہے کہ رسول الله (صلي الله عليه و‌‌ آله) ارث چھوڑ کر جاتے ہیں اور رسول الله (صلي الله عليه و‌‌ آله) کے وارث ان کے أهل بيت ہیں ۔یہ بات أبو بكر کے اس قول کے مخالف ہے جو وہ رسول الله (صلي الله عليه و‌‌ آله) سے نقل کرتا ہے «ہم پیغمبر ارث چھوڑ کر نہیں جاتے »

الجوهري، أبو بكر احمد بن عبد العزيز (متوفاي323)، السقيفة وفدک، ص 109، ناشر : شركة الكتبي للطباعة والنشر - بيروت – لبنان  الطبعة الثانية 1413 ه‍ . 1993 م

دوسرا نکته  : « إن الله إذا أطعم نبيا طعمة ثم قبضه» کے متعلق :

اگرچہ ابوبکر اس روایت کے شروع میں اعتراف کرتا ہے کہ اهل بيت عليهم السلام، کو پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف سے ارث ملتا ہے اور وہ ان کے وارث ہیں۔

حدیث کے اس حصے سے ہم از باب الزام استدلال کرسکتے ہیں،لیکن  بعد میں پيامبر صلي الله عليه و آله کی ایک حدیث کا حوالہ دیتا ہے کہ جو خود اس نے ہی سنی ہے « إن الله إذا أطعم نبيا طعمة ثم قبضه جعله للذى يقوم بعده فرأيت أن أرده على المسلمين» ابوبکر نے اس روایت سے استناد کیا اور حضرت زهرا عليها السلام کو ان کے باپ سے ارث ملنے کی نفی کی . لہذا وہ اس روایت میں تناقض کا شکار ہوا ہے اور یہ دونوں قابل جمع نہیں ہے ۔

جیساکہ اس سلسلے کی صحیح سند روایات کے مطابق خلیفہ قسم کھا کر کہتا ہے کہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آؒلہ وسلم کا طریقہ ہے اسی پر عمل کروں گا لیکن یہاں اس روایت میں یہ کہتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا طریقہ یہ تھا کہ آل محمد [ع] کو خرچہ پانی دیتے تھے لیکن میری نظر یہ ہے کہ میں انہیں نہ دوں اور اس کو مسلمانوں کو پلٹا دوں ۔۔۔ ۔۔۔فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا نُورَثُ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ إِنَّمَا يَأْكُلُ آلُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْمَالِ وَإِنِّي وَاللَّهِ لَا أُغَيِّرُ شَيْئًا مِنْ صَدَقَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ حَالِهَا الَّتِي كَانَ عَلَيْهَا فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَأَعْمَلَنَّ فِيهَا بِمَا عَمِلَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَبَى أَبُو بَكْرٍ أَنْ يَدْفَعَ إِلَى فَاطِمَةَ مِنْهَا شَيْئًا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 صحيح البخاري (13/ 135):  کتاب المغازی ۔۔ بَاب غَزْوَةِ خَيْبَرَ۔۔۔۔

اب یہاں یا تو یہ کہنا ہوگا کہ روایت کا بعد والا حصہ جعلی ہے اور اس روایت میں ہیر پھیر ہوا ہے  اور اگر رواہت میں ہیر پھیر ہونے کا انکار کیا جائے پھر بھی اس پر کچھ اہم اشکالات ہوسکتے ہیں۔

 اولا : یہ ابابکر کا خود اپنے نفع میں گواہی دینا ہے کہ اس میں خود اس کا اپنا فائدہ تھا لہذا یہ قابل قبول نہیں۔جیساکہ جب حضرت علی علیہ السلام فدک کے مسئلے میں شہادت دینے گیے تو ان کی شہادت اور گواہی کو قبول نہیں کیا اور ان کی گواہی کو  اپنے نفع میں گواہی دینے کے مورد میں سے قرار دیا ۔اب یہاں ابوبکر کیوں خود اپنے لئے اس کو قبول کرتا ہے؟

اس سلسلے میں مزید معلومات کے لئے  «نحن معاشر الأنبياء لا نورث ....» والے مقالے کی طرف رجوع کرئے  ۔۔

 

ثانيا: روایت قرآنی آیات کے مخالف ہے

 روایت کا یہ والا حصہ قرآن کی ان آیات کے خلاف ہے کہ جو رشتہ داروں کے وارث ہونے کے سلسلے میں نازل ہوئی ہے جیساکہ قرآن میں آیا ہے :

« وَ أُولُوا الْأَرْحامِ بَعْضُهُمْ أَوْلى‏ بِبَعْضٍ في‏ كِتابِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ بِكُلِّ شَيْ‏ءٍ عَليمٌ

اور اللہ کی کتاب میں خونی رشتہ دار ایک دوسرے کے زیادہ حقدار ہیں،

سوره انفال 75

ایک اور آیت میں ہے :

 النَّبِيُّ أَوْلى‏ بِالْمُؤْمِنينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ وَ أَزْواجُهُ أُمَّهاتُهُمْ و أُولُوا الْأَرْحامِ بَعْضُهُمْ أَوْلى‏ بِبَعْضٍ في‏ كِتابِ اللَّهِ مِنَ الْمُؤْمِنينَ وَ الْمُهاجِرينَ إِلاَّ أَنْ تَفْعَلُوا إِلى‏ أَوْلِيائِكُمْ مَعْرُوفاً كانَ ذلِكَ فِي الْكِتابِ مَسْطُوراً

بیشک نبی تمام مومنین سے ان کے نفس کے بہ نسبت زیادہ اولیٰ ہے اور ان کی بیویاں ان سب کی مائیں ہیں اور مومنین و مہاجرین میں سے قرابتدار ایک دوسرے سے زیادہ اولویت اور قربت رکھتے ہیں مگر یہ کہ تم اپنے دوستوں کے ساتھ نیک برتاؤ کرنا چاہو تو کوئی بات نہیں ہے یہ بات کتابِ خدا میں لکھی ہوئی موجود ہے.

سوره احزاب 6

اهل سنت کی حدیثی اور تفسیری کتابوں میں نقل ہوا ہے کہ اس آیت سے مراد رشتہ داروں کا ایک دوسرے سے ارث لینا ہے ۔

تفسر مقاتل میں ہے :

۱:   وأولوا الأرحام بعضهم أولى ببعضٍ في كتاب الله ( يعني في المواريث ) من المؤمنين

اور اللہ کی کتاب میں خونی رشتہ دار ایک دوسرے کے زیادہ حقدار ہیں، يعني مومنین کےچھوڑے ہوئے مال کے ۔

الأزدي البلخي، أبو الحسن مقاتل بن سليمان بن بشير (متوفاى150هـ) ، تفسير مقاتل بن سليمان، ج 3   ص 36  تحقيق : أحمد فريد ، ناشر : دار الكتب العلمية - لبنان/ بيروت ، الطبعة : الأولى ، 1424هـ - 2003م .

۲:    طبري نے بھی کہا ہے :

وأولوا الأرحام بعضهم أولى ببعض في كتاب الله ( . ورد المواريث إلى القرابات بالأرحام

ارث رشتہ داری کی وجہ سے نذدیک ترین کو دیتے ہیں ۔

الطبري، أبو جعفر محمد بن جرير بن يزيد بن كثير بن غالب (متوفاى310)، تهذيب الآثار، ج 1 ص 26، تحقيق: محمود محمد شاكر ، ناشر: مطبعة المدني ـ مصر، الطبعة: الأولى.

طبري نے ہی اپنی تفسیر میں لکھا ہے:

وأولوا الأرحام بعضهم أولى ببعض في كتاب الله فصارت المواريث لذوي الأرحارم

ارث نذدیک ترین رشتہ دار کو  ملتا ہے ۔

الطبري، أبو جعفر محمد بن جرير بن يزيد بن كثير بن غالب (متوفاى310)، جامع البيان عن تأويل آي القرآن، ج 5   ص 52، ناشر: دار الفكر، بيروت – 1405هـ

۳:۔جصاص نے لکھا ہے :

بعضهم أولى ببعض فتوارثوا بالأرحام

بعض رشتہ دار بعض کی نسبت سے زیادہ مستحق ہے اور رشتہ داری کی وجہ سے ارث ملتا ہے۔

الجصاص الرازي الحنفي، أبو بكر أحمد بن علي (متوفاى370هـ) ، أحكام القرآن ، ج 4   ص 262تحقيق : محمد الصادق قمحاوي ، ناشر : دار إحياء التراث العربي - بيروت – 1405هـ.

۴:  ۔  تفسير جلالين میں آیا ہے :

وأولوا الأرحام ( ذوو القرابات ) بعضهم أولى ببعض ( في الإرث )

رشتہ دار بعض رشتہ بعض کی نسبت سے ارث لینے میں زیادہ مستحق ہے۔

محمد بن أحمد المحلي الشافعي + عبدالرحمن بن أبي بكر السيوطي (متوفاى911 هـ)، تفسير الجلالين، ج 1، ص 262، ناشر: دار الحديث، الطبعة: الأولى، القاهرة

۵:     سيره نبوي میں اس طرح نقل ہوا ہے:

وأولو الأرحام بعضهم أولى ببعض في كتاب الله ( أي بالميراث )

اللہ کی کتاب میں رشتہ دار بعض رشتہ بعض کی نسبت سے ارث لینے میں زیادہ مستحق ہے

الحميري المعافري،  ابومحمد عبد الملك بن هشام بن أيوب (متوفاى213هـ)، السيرة النبوية، ج 3   ص 232، تحقيق طه عبد الرءوف سعد، ناشر: دار الجيل، الطبعة: الأولى، بيروت – 1411هـ.

دوسری آیات میں آیا ہے :

يُوصيكُمُ اللَّهُ في‏ أَوْلادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْن

اللہ تمہاری اولاد کے بارے میں تمہیں ہدایت فرماتا ہے، ایک لڑکے کا حصہ دو لڑکیوں کے برابر ہے، سوره نساء 11

مندرجہ بالا آیات میت کے رشتہ داروں کا میت سے ارث لینے کو ثابت کرتی ہیں اور یہ حکم  بھی مطلق ہے کہ جو پيامبر صلي الله عليه و آله کو بھی شامل ہے۔ رسول خدا صلى الله عليه و آله و سلم اور ان کی اولاد کو اس حکم سے خارج سمجھنے پر کوئی دلیل نہیں ہے ۔

اسی طرح قرآن میں بہت سی جگہوں پر انبياء علیہم السلام کی اولاد کا انبیاء علیہم السلام سے ارث لینے کا ذکر ہے  اس سلسلے میں  « حدیث «نحن معاشر الأنبياء لا نورث .کی تحقیق ...» میں ہم نے تفصیلی بحث کی ہے ۔

ثالثا:   ابوبکر اس حکم میں صادق نہیں تھا کیونکہ حضرت علي عليه السلام انہیں جھوٹا ،دھوکہ باز ،خیانت کرنے والا اور گناہ گار سمجھتے تھے ۔ {صحیح مسلم۔ کتاب الجھاد و السیر۔۔باب حکم الفئی ،حدیث نمبر [۴۵۷۷]

لہذا کس طرح ایسے کی بات قابل قبول ہوسکتی ہے کہ جو بقول امیر المومنین علیہم السلام جھوٹ بولتا ہے؟ ہم کیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اولاد کے وارث نہ ہونے کی بات کو قبول کریں ؟!! کیا ایسے شخص کی طرف سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی روایت نقل کرنا ،اس کی روایت میں شک کا سبب نہیں ؟!!

 رابعا:  ابوبکر نے روایت کے اس حصے میں یہ ثابت کرنا چاہا کہ فدک جیسے اموال کہ جو حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کے ہاتھ میں تھے اور یہ چیزیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ارث میں ملنی تھی ،یہ اب جب انبیاء کی مالی وراثت نہیں ہے تو یہ اب جناب فاطمہ ع کی ملکیت نہیں ہیں۔ یوں اس طرح ابوبکر نے اس طریقے سے فدک سے جناب فاطمہ ع کو محروم کرنا چاہا ۔جبکہ فدک ایک ہدیہ تھا کہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی زندگی میں انہیں بخش دیا تھا۔

 اللہ نے رشتہ داروں کو اپنا حق دینے کا حکم دیا تو پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بھی اللہ کے اس حکم کے مطابق فدک اپنی بیٹی جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا کو عطا کیا۔ اسی لئے یہ جناب فاطمہ سلام اللہ علیہما کی ذاتی ملکیت تھی۔لیکن ابوبکر نے زور سے یہ چھین لیا ۔جیساکہ تاریخ مدینہ منورہ میں نقل ہوا ہے:

 .   إن أبا بكر رضي الله عنه انتزع من فاطمة رضي الله عنها فدك

ابوبکر نے فدک فاطمہ سلام اللہ علیہا سے چھین لیا ۔

النميري البصري، ابوزيد عمر بن شبة (متوفاى262هـ)، تاريخ المدينة المنورة، ج 1   ص 124، تحقيق علي محمد دندل وياسين سعد الدين بيان، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت - 1417هـ-1996م.

دوسرے الفاظ میں ، احاديث کے مطابق فدک حضرت زهراء عليها السلام کی ملکیت تھی  ۔ اب یہاں کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ پيامبر صلي الله عليه و آله کی میراث ہے ؛ کیونکہ یہ پيامبر (ص) کی زندگی میں ہی ان کے ہاتھ سے نکل گیا ہے ۔لہذا اب اس کی ضرورت ہی نہیں تھی کہ ابوبکر آئے اور اس کے بارے میں بات کرئے۔ حضرت زہراء  سلام اللہ علیہا نے خود ہی فرمایا :کہ یہ ان کی ذاتی ملکیت ہے :

قالت لأبي بكر الصديق رضي الله عنه اعطني فدك فقد جعلها رسول الله صلى الله عليه وسلم لي

جناب فاطمہ ع نے  ابوبکر سے کہا : پيامبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فدک مجھے ہی دیا ہے اور یہ میری ملکیت ہے ۔

البلاذري، أحمد بن يحيي بن جابر (متوفاى279هـ)، فتوح البلدان، ج ۱ ص ۳۵، تحقيق: رضوان محمد رضوان، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت – 1403هـ.

 

تیسرا نکتہ : «ثم قبضه جعله للذى يقوم بعده فرأيت أن أرده على المسلمين»

روایت کے اس حصے کو ابوبکر اپنے نفع میں اس طرح نقل کرتا ہے : پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ارث ان کے بعد ان کے جانشین کے اختیار میں ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ بہت سی روایات کے مطابق پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حقیقی جانشین حضرت علی علیہ السلام ہیں؛ جیساکہ حدیث   «من کنت مولاه فعلي مولاه»، «فَهُوَ أَوْلَي النَّاسِ بِكُمْ بَعْدِي»، «عليٌ ولي كل مؤمن بعدي»، «فانه وليكم بعدي» اور اس قسم کی دوسری روایات کہ جو واضح طور پر حضرت علی علیہ السلام کے حقیقی جانشین ہونے کو بیان کرتی۔ لہذا یہاں بھی ابوبکر نے نہ چاہتے ہوئے یہ اعتراف کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وراثت حضرت علی علیہ کو ہی ملے گی ،نہ کسی اور کو  ۔

چوتھا نکته: « فقالت فَأَنْتَ وما سَمِعْتَ من رسول اللَّهِ أَعْلَمُ»

اس سلسلے میں ایک قابل توجہ نکتہ یہ ہے کہ اس روایت کے مطابق حضرت زہراء سلام اللہ علیہا نے ابوبکر کی بات کی تصدیق کی اور اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ سلم کی حدیث کا عالم جانا ہے ۔جبکہ یہ تاریخی حقائق کے خلاف ہے۔

روایت میں ہے کہ جب حضرت زہرا سلام اللہ علیہا نے ابوبکر سے اپنے حق کا مطالبہ کیا تو اس نے حدیث  « لَا نُورَثُ ما تَرَكْنَا..» پیش کر کے انہیں ان کا حق نہیں دیا ۔ لیکن حضرت زہراء سلام اللہ علیہا نے نہ صرف اس کی بات کو قبول نہیں کیا بلکہ آخری عمر تک ناراضگی کی حالت میں رہیں اور اس سے بات تک نہیں کی.

حدثنا عبد الْعَزِيزِ بن عبد اللَّهِ حدثنا إِبْرَاهِيمُ بن سَعْدٍ عن صَالِحٍ عن بن شِهَابٍ قال أخبرني عُرْوَةُ بن الزُّبَيْرِ أَنَّ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ رضي الله عنها أَخْبَرَتْهُ أَنَّ فَاطِمَةَ عليها السَّلَام ابْنَةَ رسول اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَأَلَتْ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ بَعْدَ وَفَاةِ رسول اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَقْسِمَ لها مِيرَاثَهَا ما تَرَكَ رسول اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِمَّا أَفَاءَ الله عليه فقال أبو بَكْرٍ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قال لَا نُورَثُ ما تَرَكْنَا صَدَقَةٌ لافَغَضِبَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ رسول اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَهَجَرَتْ أَبَا بَكْرٍ فلم تَزَلْ مُهَاجِرَتَهُ حتى تُوُفِّيَتْ

ابن شهاب نے عروه بن زبير سے ،اس نے عائشه سے نقل کیا ہے :  فاطمه (عليها سلام) دختر رسول الله( صلي الله عليه و آله) رسول خدا ص کی وفات کے بعد ابوبکر سے مطالبہ کیا کہ اللہ کی طرف سے جو رسول اللہ ص کو عطاء ہوئی اور ان کے لئے فئی قرار دیا ،اس کو تقسیم کرئے،لیکن ابوبکر نے کہا :رسول اللہ ص نے فرمایا ہے :ہم انبیاء کوئی چیز ارث چھوڑ کر نہیں جاتے جو چھوڑے جاتے ہیں وہ صدقہ ہے۔ اس پر جناب فاطمہ غضنباک ہوئی اور اٹھ کر چلی گئی اور اس سے بات کرنا ہی چھوڑ دیا اور اسی مکمل بائیکاٹ کی حالت میں دنیا سے چلی گئیں 

 البخاري الجعفي، ابوعبدالله محمد بن إسماعيل (متوفاى256هـ)، صحيح البخاري، ج 3 ، ص 1126تحقيق د. مصطفي ديب البغا، ناشر: دار ابن كثير، اليمامة - بيروت، الطبعة: الثالثة، 1407 - 1987.

صحيح بخاري کی اس حدیث کے مطابق حضرت زهرا عليها السلام، «لانورث» کی حدیث  نقل کے سلسلے میں ابوبکر کی تصدیق نہیں کرتیں ۔لہذا کیسے یہ کہا جائے گا کہ حضرت زہراء علیہا السلام نے ابوبکر کو پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی روایات کا سب سے زیادہ عالم انسان کہا ہو اور ابوبکر کی روایت کو قبول کیا ہوا؟  

لہذا بہت سے دوسرے شواہد کے مطابق " فَأَنْتَ وما سَمِعْتَ من رسول اللَّهِ أَعْلَمُ" کا معنی یہ بھی ہوسکتا ہے " تو جانے تیرا کام کام جانے" میری طرف سے حجت تمام ہے ۔

جیساکہ صحیح بخاری اور مسلم کی صحیح سند احادیث اور دوسرے بہت قرائین کی روشنی میں یہی معنی صحیح ہے ، اگر ایسا نہ ہوتا جو حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہ اور امیر المومنین علیہ السلام بعد میں اس کا مطالبہ جاری نہ رکھتے ۔۔۔

خود حضرت فاطمہ علیہا السلام بھی مطابہ کرتی رہیں۔۔۔

وَكَانَتْ فَاطِمَةُ تَسْأَلُ أَبَا بَكْرٍ نَصِيبَهَا مِمَّا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ خَيْبَرَ وَفَدَكٍ وَصَدَقَتِهِ بِالْمَدِينَةِ فَأَبَى أَبُو بَكْرٍ عَلَيْهَا ذَلِكَ۔۔۔۔۔

صحیح مسلم ۔۔  - كتاب الجهاد والسير  - باب قول النبي صلى الله عليه و سلم ( لا نورث  ۔۔۔

قَالَتْ وَكَانَتْ فَاطِمَةُ تَسْأَلُ أَبَا بَكْرٍ۔۔ صحيح البخاري ۔۔ کتاب خمس ۔۔۔ 1 - باب فرض الخمس 2926

۔آپ ابوبکر سے بار بار مطالبہ کرتی رہیں"  کانت جب فعل مضارع سے پہلے آئے تو یہ ماضی استمراری پر دلالت کرتا ہے۔۔۔

جیساکہ  امیر المؤمنین علیہ السلام نے بھی خلیفہ اول اور دوم کے دور میں یہی مطالبہ جاری رکھا اور جناب فاطمہ علیہا السلام کے موقف کی حمایت کیں۔۔۔۔۔

خلیفہ دوم کہتا ہے: علی میرے  پاس اپنی بیوی کی ان کے باپ سے میراث کا مطالبہ کرنے آئے۔

، جِئْتَنِى تَسْأَلُنِى نَصِيبَكَ مِنِ ابْنِ أَخِيكَ ، وَأَتَى هَذَا يَسْأَلُنِى نَصِيبَ امْرَأَتِهِ مِنْ أَبِيهَا

صحيح البخارى  کتاب النفقات ۔3 - باب حَبْسِ نَفَقَةِ الرَّجُلِ ۔۔ مسند أحمد (4/ 213):  وَمِنْ مُسْنَدِ بَنِي هَاشِمٍ  ۔۔  حَدِيثُ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

وَيَطْلُبُ هَذَا مِيرَاثَ امْرَأَتِهِ مِنْ أَبِيهَا، ۔۔۔۔۔ثُمَّ جِئْتَنِي أَنْتَ وَهَذَا وَأَنْتُمَا جَمِيعٌ وَأَمْرُكُمَا وَاحِدٌ، ۔۔۔

صحیح مسلم ۔۔  - كتاب الجهاد والسير  - باب 15 - بَابُ حُكْمِ الْفَيْءِ۔۔

لہذا جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ معاملہ ختم ہوا تھا اور حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا  ابوبکر کی بات سن کر خاموش ہوگئ تھیں اور پھر دنیا سے جانے کے بعد ان کا جنازہ بھی خلیفہ نے ادا کیا ۔یہ ساری کہانی جناب فاطمہ اور مولا علی علیہما السلام کے موقف کو کمزور کرنے اور شیعہ منطق سے لوگوں کو دور رکھنے کے لئے بنائی گئی داستانیں ہیں ۔۔۔

 

نتيجه

  ابوبکر نے حضرت زهرا عليها السلام کو  فدک سے محروم کردیا ، لیکن معتبر روایت کی رو سے یہ اعتراف بھی کیا کہ  اهل بيت اور حضرت زهرا عليها السلام ہی  پيامبر صلي اله عليه و آله سے ارث لے سکتے ہیں.

 

 شبہات کے جواب دینے والی ٹیم

حقيقاتي ادارہ ،حضرت ولي عصر (عجل الله تعالي فرجه الشريف)
 




Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی