2022 January 21
شیعہ علماءکونسل افغانستان کے ایک وفد نے طالبان کی عبوری حکومت کے نائب وزیراعظم سے ملاقات میں "امارت اسلامی"کے ساتھ شیعہ تعلقات کو برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور
مندرجات: ٢١٥٩ تاریخ اشاعت: ١٣ December ٢٠٢١ - ١٤:٤٧ مشاہدات: 267
خبریں » پبلک
شیعہ علماءکونسل افغانستان کے ایک وفد نے طالبان کی عبوری حکومت کے نائب وزیراعظم سے ملاقات میں "امارت اسلامی"کے ساتھ شیعہ تعلقات کو برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور

شیعہ علماءکونسل افغانستان کے ایک وفد نے طالبان کی عبوری حکومت کے نائب وزیراعظم سے ملاقات میں "امارت اسلامی"کے ساتھ شیعہ تعلقات کو برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے افغانستان کے اسلامی نظام میں شیعوں کے تحفظ کا مطالبہ کیا ہے۔

شیعہ علماء کونسل کے وفد میں استاد محمد اکبری،سید حسین عالمی بلخی،نعمت اللہ غفاری،محمد اسلم شیوا،محراب علی دانش اور جواد صالحی شامل تھے۔ملاقات میں ملک کی سیاسی،سیکیورٹی اور سماجی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

استاد اکبری نے اس ملاقات میں کہا کہ ہمیں خوشی ہے کہ ہمارا ملک ایک دشوار مرحلے سے گزر کر آزاد ہوا اور آج ہمارے پاس اسلامی نظام موجود ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان کے شیعہ علماء امارت اسلامی کے ساتھ کھڑے اور ملک میں استحکام اور باہمی اعتماد کے لئے کوشاں ہیں۔

شیعہ علماء کونسل افغانستان کے رہنما عالمی بلخی نے بھی اس ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان مزید جنگ کا متحمل نہیں ہوسکتا، ہمیں سوچ سمجھ اور تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔ہم چاہتے ہیں کہ امارت اسلامی کے ساتھ شیعوں کا رابطہ مضبوط ہو اور شیعوں کا بھی اسلامی نظام میں کردار اور مقام ہو۔

ملاقات کے اختتام پر طالبان کی عبوری حکومت کے نائب وزیر اعظم عبدالسلام حنفی نے یقین دلایا کہ"امارت اسلامی"کی آمد کے ساتھ ہی امن و امان اور سیکورٹی کے خدشات دور ہو چکے ہیں اور فسادات کا خاتمہ کردیا گیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ امارت اسلامی تمام افغانوں کا گھر ہے، اسلامی قانون میں سب کو مساوی حیثیت حاصل ہے اور جبر و استبداد کا خاتمہ ہو گیا ہے۔ہم حکومتی اور انسانی امداد میں،تمام صوبوں اور لوگوں کو ایک ہی نظر سے دیکھیں گے۔





Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی