2021 November 29
شیعہ لاپتہ افراد کے خانوادگان کا سوال کرنا جرم
مندرجات: ٢١٣٢ تاریخ اشاعت: ١٤ November ٢٠٢١ - ٢٠:١٠ مشاہدات: 84
خبریں » پبلک
شیعہ لاپتہ افراد کے خانوادگان کا سوال کرنا جرم

لاپتہ ہونیوالوں کا جرم صرف یہ ہے کہ انہوں نے دہشتگردی میں حصہ نہیں لیا، یہ ریاست اور ریاستی اداروں پر حملوں میں ملوث نہیں رہے، شائد ان کی یہی حب الوطنی ہی ان کا جرم ہے۔ یہاں تو جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا قانون نافذ ہے۔

تحریر: ابوفجر لاہوری
بشکریہ:اسلام ٹائمز


لاپتہ افراد کے خانوادگان نے گذشتہ روز کراچی میں کور کمانڈر آفس کے باہر احتجاج کیا۔ احتجاج کرنیوالوں میں خواتین اور بچے شامل تھے۔ معصوم بچے، جن کی عمر تین سے آٹھ سال کے درمیان ہوں گی۔ ان کا مطالبہ کیا تھا؟؟ وہ کور کمانڈر سے استعفے لینے نہیں آئے تھے۔ وہ پاک فوج کے جوانوں کے سر بھی نہیں مانگ رہے تھے کہ انہیں فٹبال کھیلنا تھا۔ یہ بچے تو کھیلنا ہی بُھول چکے ہیں۔ ان بچوں کو تو صرف اپنے ’’پاپا‘‘ کے پیار کی ضرورت ہے۔ یہ بچے تو صرف اتنا چاہتے ہیں کہ ان کے پاپا کو کیوں بے گناہ لاپتہ کر دیا گیا؟ ان کے پاپا نے کوئی جرم کیا ہے تو اُسے عدالتوں میں لایا جائے، قانون ہے نا، قانون اسے سزا دے، یہ صبر کر لیں کہ جرم کیا تھا، سزا مل گئی۔ جب جرم ہی کوئی نہیں، تو پھر قید تنہائی کیوں؟ یہ جبر ناروا کیوں۔؟

وہ جنہوں ںے جی ایچ کیو سے مہران بیس تک کوئی فوجی املاک نہیں چھوڑی کہ جس پر حملہ نہ کیا ہو، جنہوں ںے فوجیوں کے سروں سے فٹبال کھیلا، وہ تو ’’پیارے‘‘ اور ’’لاڈلے‘‘ ٹھہرے اور جنہوں ںے گلشن کے تحفظ کی قسم کھائی ہے، ان کیلئے زندگی وبال بنا دی گئی ہے۔ کئی ایسے لاپتہ افراد گھروں کو واپس بھی آئے، پوچھا کیوں لے گئے تھے، جواب ملا، پتہ نہیں، نہ غائب ہونیوالوں کو پتہ ہے کہ کیوں لاپتہ ہو رہے ہیں، نہ لاپتہ کرنیوالوں کو علم ہے کہ کیوں اٹھا رہے ہیں۔ تو یہ کیا کھیل ہے؟؟ اسے واضح تو کیا جائے؟ کراچی میں اپنی ماوں کیساتھ گرفتار ہونیوالے بچے کل ریاست اور فوج کے بارے میں کیا ذہن بنا کر بڑے ہوں گے؟؟ کیا کور کمانڈر کراچی یہ بتائیں گے کہ جن بچوں اور خواتین کی گرفتاری کا حکم صادر کیا گیا، ان کا جرم کیا تھا۔؟؟

ہمارے ہاں متعدد بار عدالتوں میں ججز کے منہ سے پولیس کے حوالے سے یہ جملہ سننے کو ملتا ہے کہ ملک میں 90 فیصد جرائم کی ذمہ دار پولیس ہے، یہ شریف بندے اٹھا کر جیلوں میں ڈال دیتی ہے، وہ جیلوں سے جرائم پیشہ بن کر باہر آتے ہیں۔ کل کراچی میں جن معصوم ذہنوں کو گرفتار کیا گیا، کل بڑے ہو کر وہ ’’امن پسند اور محب وطن‘‘ شہری بنیں گے؟؟ کبھی وردی کے خمار سے باہر نکل کر ایک باپ بن کر سوچیئے گا، اگر سوچ سے عاری ہیں تو کسی ماہر نفسیات سے پوچھ لیجئے گا کہ اس فعل کے اثرات بچوں کے ذہن پر کیا پڑیں گے؟؟ ماہر نفسیات سے بھی تسلی نہ ہو تو اپنے بچوں کیساتھ ایسا کرکے دیکھ لیجئے گا، ردعمل یقیناً آپ کو چونکا دے گا۔ احتجاج آئینی و قانونی حق ہے۔ اس سے کسی کو محروم نہیں کیا جا سکتا۔

لاپتہ ہونیوالوں کا جرم صرف یہ ہے کہ انہوں نے دہشتگردی میں حصہ نہیں لیا، یہ ریاست اور ریاستی اداروں پر حملوں میں ملوث نہیں رہے، شائد ان کی یہی حب الوطنی ہی ان کا جرم ہے۔ یہاں تو جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا قانون نافذ ہے۔
میرؔ کیا سادہ ہیں، بیمار ہوئے جس کے سبب
اسی  عطار  کے  لونڈے  سے  دوا  لیتے  ہیں
ملت جعفریہ بھی سادہ قوم ہے، یہ جس عطار کے لونڈے کی وجہ سے بیمار ہوتے ہیں، دوا بھی اسی سے لینے پہنچ جاتے ہیں۔ یہ نہیں جانتے کہ یہاں صرف ڈنڈا اٹھانے والے کی سنی جاتی ہے۔ تحریک لبیک کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ تحریک لبیک اپنے قیام سے لیکر اب تک سات بار پُرتشدد مظاہرے کرچکی ہے۔ ان مظاہروں میں ہلاکتیں بھی ہوئیں، پولیس اہلکار شدید زخمی بھی ہوئے، کئی اہلکاروں کے جسمانی اعضاء تک کاٹ دیئے گئے۔

لیکن ہر بار لبیک والوں کو ’’کلین چٹ‘‘ دیدی گئی۔ انہیں معافیاں مل گئیں۔ بھارتی ایجنٹی کے الزام بھی دھو دیئے گئے۔ اب کے آخری بار بھی یہی ہوا، 6 پولیس اہلکار اپنی جانوں سے گئے۔ مگر ریاست نے انہیں ’’عام معافی‘‘ دیدی۔ کیا جاں بحق ہونیوالے 6 پولیس اہلکار انسان نہیں تھے، ان کے بچے، بیویاں، مائیں اور بہن بھائی نہیں تھے؟؟ لیکن چلیں حکومت کہتی ہے، قیام امن کیلئے کڑوا گھونٹ بھر لیا اور صلح ہوگئی۔ مان لیتے ہیں، آپ بجا فرما رہے ہیں، امن کیلئے کوئی بھی قیمت دی جا سکتی ہے، مگر ہر بار، بلکہ بار بار یہ کہانی دہرائی جاتی ہے۔ یہ کیسا امن ہے کہ چند دنوں کیلئے ہوتا ہے، پھر بدامنی کا ’’جن‘‘ باہر نکل آتا ہے، چھ سات پولیس اہلکاروں کا خون پیتا ہے، سیکڑوں گاڑیاں توڑ دیتا ہے، سرکاری و غیر سرکاری املاک کو روند ڈالتا ہے، کاروبار اور معیشت کو تباہ و برباد کر دیتا ہے، حکومت معاہدہ کرتی ہے تو واپس اپنی کھچار میں جا سوتا ہے۔

اس کے برعکس جنہوں نے درجن درجن جنازے اٹھائے، کئی کئی روز لاشیں رکھ کر پُرامن احتجاج کیا، وہ ’’مجرم‘‘ سمجھے جاتے ہیں، وہی مشکوک بھی ہیں۔ شیعہ بھی عجیب قوم ہے، احتجاج کرتی ہے، گملا تک نہیں توڑتی، کوئی گاڑی ٹوٹتی ہے، نہ کوئی پولیس والا مرتا ہے۔ کسی جی ایچ کیو پر حملہ کرتی ہے نہ مہران ایئربیس کو نشانہ بناتی ہے، فوجیوں کے سروں سے فٹبال کھیلتی ہے، نہ جیلوں کو توڑ کر دہشتگردوں کو فرار کرواتی ہے۔ پھر بھی پُرتقصیر ہے۔ اسی لئے تو اسیر ہے۔

راقم یہ نہیں کہتا ہے کہ شیعہ قوم اُٹھے اور وہ دہشتگردوں والا راستہ اختیار کر لے، نہیں، ہرگز نہیں۔ پاکستان بنانے والے ہی جانتے ہیں کہ پاکستان  کو کیسے بچانا ہے، شیعوں کا جرم یہی ہے کہ انہوں نے پاکستان بنایا تھا، آج بھی اگر شیعہ نشانہ ہیں، تو پاکستان بنانے کے جرم کی ہی سزا دی جا رہی ہے۔ جو قیام پاکستان کے مخالف تھے، جو قائداعظم کو کافر اعظم کہتے تھے، آج وہ پاکستان میں ملک کے ٹھیکیدار بنے ہوئے ہیں۔ اگر جینا ہے تو عزت سے جینا ہوگا، اپنے اندر وحدت پیدا کریں، متحد ہو کر آواز بلند کریں گے تو آواز سنی بھی جائے گی۔ ڈیڑھ ڈیڑھ اینٹ کی الگ الگ مسجدیں بنا کر بیٹھ جاو گے تو
کوئی ہاتھ تک نہ ملائے گا جو گلے ملو گے تپاک سے
یہ نئے مزاج  کا  شہر  ہے، ذرا  فاصلے  سے  ملا  کرو

اپنی آواز کو توانا بنائیں۔ یہ اس صورت میں ہی ممکن ہے، جب پوری قوم ایک پیج پر ہوگی۔ علامہ ساجد علی نقوی، علامہ راجہ ناصر عباس، علامہ سید جواد نقوی اور علامہ حامد علی موسوی کو ایک پیج پر آنا ہوگا۔ اتحاد ہوگا تو ملت کا وقار ہوگا، موثر آواز بنے گی تو سنی جائے گی۔ یہ ہمارا وطن ہے، ہم نے اس کی حفاظت کرنی ہے، دشمن منظم انداز میں ملک کیخلاف سازشوں میں مصروف ہے، یہ سازشیں اسی صورت میں پنپ رہی ہیں کہ ملک کے محافظ تقسیم ہیں۔ ملک بنانے والے خاموش ہیں۔ بانیانِ پاکستان کی یہی خاموشی ملک کی جڑوں کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے۔

پاکستان کیخلاف بہ یک وقت کئی محاذ کھلے ہوئے ہیں، کوئی یکساں نصاب کی آڑ میں نسل نوء کی فکری گمراہی کا سامان کرنے میں لگا ہوا ہے، تو کوئی مذہب کے نام پر دینی عقائد بگاڑنے کا ٹھیکہ لئے بیٹھا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کبھی درُود تبدیل کر دیا جاتا ہے، تو کبھی کلمہ ادھورا چھاپ دیا جاتا ہے۔ بدعات کا ایک بازار ہے، جو نصاب میں گرم کیا گیا ہے، مگر نصاب پر نظر رکھنے والوں سے لے کر پڑھانے والوں تک، سب نے چپ کا روزہ رکھا ہوا ہے۔ ایک محاذ فرقہ واریت کا ہے، ایک محاذ معاشی بدحالی پھیلانے کا ہے، ایک محاذ ثقافتی یلغار کا ہے۔ ٹی وی ڈراموں کے ذریعے ہماری پہلی تربیت گاہ کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ خواتین (ماوں) کو فکری گمراہی کا شکار بنایا جا رہا ہے کہ وہ نسل نوء کی دینی اصولوں پر تربیت ہی نہ کرسکیں۔ ساغر صدیقی نے کہا تھا کہ
بے  وجہ  تو  نہیں  ہیں  چمن  کی  تباہیاں
کچھ باغباں ہیں برق و شرر سے ملے ہوئے

ہمارے چمن کے کچھ باغباں بھی غیروں کے ایجنڈے کی تکیمل میں مصروف ہیں، اس لئے اپنے اندر وحدت پیدا کرکے دشمن کی سازشیں ناکام بنائیں۔ یہاں ملت تشیع کیخلاف صف آراء لوگ اس قوم کے دشمن نہیں، بلکہ ان کے پیچھے چھپا ہوا دشمن کوئی اور ہے۔ یہ تو سادہ لوح لوگ ہیں، جو اس کے ایجنٹ کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ اس لئے ملت جعفریہ اگر اپنی بقاء چاہتی ہے تو اسے وحدت کے پیج پر آنا ہوگا۔ بصورت دیگر حضرت اقبالؒ کے شعر کو اگر اس ترمیم کیساتھ پڑھا جائے تو قوم کیلئے کافی ہوگا کہ
نہ سمجھو گے تو مٹ جاو گے اے ’’علیؑ‘‘ والو
تمہاری داستاں  تک نہ ہو گی  داستانوں میں




Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی