2021 December 5
مسلمانوں کے خون سے حولی کھیلنے کے لئے ۔ ۔سعودی عرب کو نئے امریکی ہتھیاروں کی فروخت
مندرجات: ٢١٢٩ تاریخ اشاعت: ٠٧ November ٢٠٢١ - ١٧:٤٧ مشاہدات: 145
خبریں » پبلک
مسلمانوں کے خون سے حولی کھیلنے کے لئے ۔ ۔سعودی عرب کو نئے امریکی ہتھیاروں کی فروخت

یمن چھ سال سے زائد عرصے سے سعودی اتحاد کے وحشیانہ حملوں کا نشانہ بنا ہوا ہے۔ امریکہ نے سعودی عرب کو ہتھیارون کی فراہمی کا اعلان کرکے مغربی ایشیاء میں اپنی پالیسیوں میں ایک بار پھر اپنی معیشت کو ترجیح دی ہے۔۔۔
 
تحریر: ڈاکٹر راشد عباس نقوی
بشکریہ:اسلام ٹائمز


ایک ایسے وقت جب ایران کے حکام نے امریکہ کو دنیا میں تباہی اور متعدد جنگوں کا ذمہ دار ٹھرایا ہے، امریکہ کے محکمہ خارجہ نے سعودی عرب کو 650 ملین ڈالر مالیت کے فضاء سے فضاء میں مار کرنے والے میزائل اور متعلقہ آلات فروخت کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ واشنگٹن نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی عرب کو میزائلوں کی فروخت سے سرحد پار ڈرون حملوں کے دفاع میں مدد ملے گی، جو سعودی اور امریکی فوجی اہلکاروں کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔ امریکی ڈیفنس سکیورٹی کوآپریشن ایجنسی نے جمعرات کو ایک خط میں کانگریس کو بھی آگاہ کیا کہ ہتھیاروں کی فروخت سے امریکی خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کو تقویت ملے گی۔ خط میں سعودی عرب کو ایک "دوست ملک" قرار دیا گیا ہے، جو "مشرق وسطیٰ میں اقتصادی اور سیاسی تبدیلی کے لیے ایک اہم قوت ہے۔" سعودی عرب کو نئے امریکی ہتھیاروں کی فروخت امریکی صدر جو بائیڈن کے یمن میں جنگ کے خاتمے اور سعودیوں کو جارحانہ ہتھیاروں کی فراہمی روکنے کے وعدے کے خلاف ہے۔

سعودی جنگجوؤں کی طرف سے یمن میں شہری اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے امریکی ہتھیاروں کے استعمال نے انسانی حقوق کے محافظوں کے لیے کئی تنقیدوں اور خدشات کو جنم دیا ہے۔ ہتھیاروں کے معاہدے کو جواز بنانے کی کوشش میں بائیڈن حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ صرف سعودی عرب کو اپنے میزائلوں کے ذخیرے کو بھرنے میں مدد فراہم کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور میزائل زمین پر اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال نہیں کیے جائیں گے۔ بائیڈن انتظامیہ کے واشنگٹن-ریاض تعلقات پر نظرثانی اور یمن کے تناظر میں سعودی حکومت کے خلاف پابندیوں کے ابتدائی دعووں کے باوجود، مغربی ایشیائی خطے میں امریکی طویل المدتی جغرافیائی سیاسی مفادات نے واشنگٹن کو ریاض کے بارے میں اپنا موقف بتدریج تبدیل کرنے پر مجبور کیا ہے۔

موجودہ صدر جو بائیڈن کے جنوری 2021ء میں عہدہ سنبھالنے اور ان کے کچھ اعلیٰ سرکاری عہدیداروں، جیسا کہ سیکرٹری آف سٹیٹ انتھونی بلنکن کے واشنگٹن ریاض تعلقات پر نظرثانی کے اعلان کے بعد بعض بنیادی تبدیلیوں کی توقع تھی، لیکن اب یہ واضح ہوگیا ہے کہ ان وعدوں کے باوجود خلیج فارس اور مغربی ایشیاء میں امریکہ کے اہم اتحادیوں میں سے ایک اہم سعودی عرب ہے، جس کو امریکہ کبھی تنہا نہیں چھوڑ سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ سعودی عرب کے بارے میں امریکہ کی مجموعی پالیسی  اس کی جامع حمایت اور اس کے دفاع کے گرد گھوم رہی ہے۔ اس لیے دونوں ممالک کے درمیان فوجی امداد اور تعاون کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ ایک عرب سیاسی ماہر طحہ العنی نے کہا ہے "اگرچہ بائیڈن انتظامیہ نے ٹرمپ انتظامیہ کے مقابلے میں سعودی عرب کے بارے میں مختلف پالیسی اپنانے کی بات کی ہے اور وہ خلیجی ریاستوں کے ساتھ اپنے تعلقات پر نظرثانی کرنے کی کوشش کر رہی ہے، تاہم ریاض کے ساتھ فوجی مشقوں کا سلسلہ کبھی رکا نہیں۔

اگرچہ بائیڈن حکومت نے یمن میں جاری سعودی اتحاد کی جنگ کی وجہ سے عارضی طور پر سعودی عرب کو ہتھیاروں کی ترسیل معطل کر دی تھی، لیکن نام نہاد پابندیوں کا اطلاق صرف جارحانہ ہتھیاروں پر ہوتا ہے۔ دوسری طرف امریکہ کی بائیڈن حکومت سعودی حکومت کو ہر ممکن حد تک مضبوط کرتی رہتی ہے۔ بائیڈن نے سعودیوں کو ہتھیاروں کی فروخت کی معطلی کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’امریکہ اپنے اصولوں کو کبھی بھی تیل خریدنے اور ہتھیاروں کی فروخت کے بدلے تبدیل نہیں کرے گا۔ تاہم یہ وعدہ فضا سے زمین پر حملہ کرنے والے ہتھیاروں کی فروخت کو معطل کرنے تک محدود دکھائی دیتا ہے۔ سعودی عرب اپنی تیل اور اسٹریٹجک تنصیبات کے دفاع کے بہانے ریاض اور واشنگٹن کے درمیان تعلقات کو از سر نو استوار کرنا چاہتا ہے۔ بائیڈن انتظامیہ کا ریاض کی درخواست پر مثبت ردعمل ظاہر کرتا ہے کہ واشنگٹن جنگ زدہ ملک یمن میں سب سے بڑی انسانی تباہی اور انسانی المیے کو نظر انداز کر رہا ہے۔

یمن چھ سال سے زائد عرصے سے سعودی اتحاد کے وحشیانہ حملوں کا نشانہ بنا ہوا ہے۔ امریکہ نے سعودی عرب کو ہتھیارون کی فراہمی کا اعلان کرکے مغربی ایشیاء میں اپنی پالیسیوں میں ایک بار پھر اپنی معیشت کو ترجیح دی ہے۔ امریکہ کی اسی تاریخ کو بیان کرتے ہوئے سپاہ پاسداران کے کمانڈر نے کہا ہے کہ دنیا کے چالیس ملکوں اور علاقوں میں چالیس سے زائد جنگوں کا براہ راست ذمہ دار امریکہ ہے۔ ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے کمانڈر میجر جنرل حسین سلامی نے جمعرات کے روز ایران میں عالمی سامراج  کے خلاف جدوجہد کے قومی دن کی مناسبت سے تہران میں منعقدہ ایک اجتماع سے خطاب کیا۔ اس موقع پر انہوں نے دنیا میں امریکہ کی مہم جوئی اور جنگ پسندی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ جرائم پیشہ امریکہ نے یورپ، افریقہ، جنوبی امریکہ، مشرق بعید، مغربی ایشیاء اور روس سمیت مختلف علاقوں میں مختلف جنگیں مسلط کیں اور وحشیانہ جارحیت کا ارتکاب کیا، جس کے نتیجے میں اسّی لاکھ سے زائد افراد مارے گئے کہ جن کی موت کا ذمہ دار خود امریکہ ہے۔

انھوں نے کہا کہ امریکہ نے دنیا کے مختلف ملکوں کے اندرونی معاملات میں دو سو سے زائد بار مداخلت کی بلکہ بغاوت کی حد تک مداخلت کی، اقتصادی بائیکاٹ کیا، لشکر کشی کی اور فتنہ و اختلافات پیدا کئے اور یہ سب امریکہ کی سیاسی حیات میں درج  سیاہ کارنامے ہیں۔ جنرل حسین سلامی نے کہا کہ امریکہ ہر چیز کو طاقت کے ذریعے حل کرنے یا حاصل کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ امریکہ نے دنیا میں سات سو پچاس فوجی اڈے قائم کرکے ساری دنیا پر اپنا تسلط جمانے کی بھرپور کوشش کی۔ بہرحال امریکہ نے آل سعود کو شکست سے بچانے کے لئے جدید ہتھیار دینے کا اعلان کیا ہے، لیکن اب یہ ہتھیار بھی سعودی عرب کو شکست سے نہین بچا سکیں گے، ان شاء اللہ۔




Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی