2021 December 3
امامت اور خلافت کے شیعہ اور اھل سنت کے تصور میں فرق :
مندرجات: ٢١٢٨ تاریخ اشاعت: ٠٧ November ٢٠٢١ - ١٧:٠٩ مشاہدات: 173
یاداشتیں » پبلک
امامت اور خلافت کے شیعہ اور اھل سنت کے تصور میں فرق :

امامت اور خلافت  کے شیعہ اور اھل سنت کے تصور میں فرق :

مطالب کی فہرست :

 مقدمہ

امامت اور خلافت  کے بارے میں شیعوں کا عقیدہ :

 شیعہ مخالفین کے  نزدیک خلافت کا تصور :

 شیعہ مخالفین کے تصور خلافت کے منطقی  نتائج

 اھل سنت کا تصور خلافت قصہ کہانی کی مانند ہے ۔

  

 مقدمہ

 شیعہ اور اھل سنت کے درمیان بنیادی اختلاف خلافت کے مسئلے میں ہے ،اس سلسلے میں شیعہ اور اھل سنت کی ایمانیات کی کتابوں کا مطالعہ یہ بتاتا ہے کہ شیعہ اور اھل سنت کے نظریہ خلافت میں بنیادی اختلاف موجود ہے ۔  

 شیعہ نظریہ خلافت پر ہونے والے اشکالات اور اعتراضات کی بنیادی وجہ اھل سنت کے اپنے نظریہ کو معیار قرار دینا ہے ۔ اگر شیعہ نظریہ خلافت کو صحیح سے سمجھنے کی کوشش کرئے تو بہت سے اعتراضات اور شبھات خود بخود ختم ہوجاتے ہیں۔  

  شیعہ تصور خلافت کا یہ امتیاز ہے کہ یہ خلافت کے حقیقی معنی اور مقام نبوت اور نبی کے ساتھ مناسب ہے  ۔ اس نظریہ کے مطابق خلافت کا نظریہ ایک تاریخی نظریہ نہیں ہے بلکہ یہ آج بھی زندہ اور ہماری دینی زندگی سے متعلق ہے ۔ 

لیکن اکثر طور پر یہ دیکھنے کو ملتا ہے کہ شیعہ نظریہ خلافت اور اہل سنت کے نظریہ کو ایک جیسا تصور کرتے ہیں اور اس کی دلیل کے طور پر شیعہ علماﺀ کی طرف سے پیش کردہ بعض تعاریف کو پیش کرتے ہیں ،شیعہ نظریہ خلافت اور امامت کے بارے اس غلط تصور کی بنیادی وجہ اس موضوع سے متعلق تمام موضوعات پر توجہ نہ دینا ہے ۔  

شیعہ اور اھل سنت کے نظریہ خلافت کو سمجھنے کے لئے کم از کم چار موضوعات پر توجہ ضروری ہے ۔  

الف : خلافت اور امامت کی تعریف۔      ب : خلافت اور امامت کی ضرورت ۔     

ج : خلیفہ کے فراٰئض اور ذمہ داریاں۔        د : خلیفہ اور امام کی صفات اور شرائط۔ 

ہم دیکھتے ہیں کہ ظاہری طور پر خلافت اور امامت کی تعریف میں یکسانیت کے باوجود اھل سنت کے علماﺀ خلیفہ کی صفات اور فرائض کی بحث میں اپنی طرف سے پیش کردہ تعاریف کی پابندی نہیں کرتے ۔ 

لہذا  ان تمام موضوعات کو دیکھنے کے بعد ہی شیعہ اور اھل سنت کے تصور خلافت کو سمجھ سکتا ہے ۔  

امامت اور خلافت  کے بارے میں شیعوں کا عقیدہ :

یہاں اس نکتے کی وضاحت انتہائی ضروری ہے کہ خلافت سے شیعہ کیا مراد لیتے ہیں؟ اور ظاہری خلافت نہ ملنے کے باوجود شیعہ کیوں اہل بیت ؑکی خلافت پر عقیدہ رکھتے ہیں؟

شیعوں کے نزدیک جانشینی کا مطلب صرف کسی کا  حکومت سنبھالنا نہیں ہےکیونکہ رسول اللہ ؐ ہر چیز سے پہلے دین کے ہادی اور پیشوا تھے۔دین کی حفاظت اور نشر و اشاعت ، سب سے زیادہ دین کی معرفت رکھنا ،سب سے زیادہ  دین کے ساتھ مخلص اور اس پر عمل پیرا ہوناآنحضرتؐ کی بنیادی خصوصیات اور ذمہ داریوں میں سے تھا ۔[1]

لہذا  آپ کے جانشین کے لئے بھی ان تمام  بنیادی خصوصیات کاحامل ہونا ضروری ہے۔ کیونکہ ان خصوصیات کے بغیر جانشینی بے معنی ہے۔ مثال کے طور پر جب کسی اہم پوسٹ کا مالک چلا جاتا ہے تو  اس کا جانشین کہلانے کا مستحق وہی ہو سکتا ہے جو اس  کی ذمہ داریوں کو نبھانے کا اہل ہو  اور  یہ اس وقت ممکن کہ  جب تک جانشین  اور نائب  اپنے سے پہلے والے شخص جیسی خصوصیات اور کمالات کا مالک ہو  یا کم از کم دوسروں کی نسبت سے ان خصوصیات میں اس کے ساتھ زیادہ نزدیک ہو  جس کا یہ جانشین بن رہا ہے  ۔

لہذا پیغمبر کا جانشین وہی ہوسکتا ہے جو  آنحضرتؐ کے بعد اسلامی معاشرے کی ہدایت اور  رہبری،معارف دین کی تفسیر اور تبیین کا ذمہ دار اور اس عہدے کی اہلیت  رکھتا ہو ، خواہ  حکومت اس کے ہاتھ میں ہو یا نہ ہو وہ رسول پاکؑ کا حقیقی جانشین کہلائے گا۔ جیساکہ شیعہ علماء کی ایمانیات کتابیں اس بات پر شاہد ہیں  کہ شیعہ علماء نے خلافت اور جانشینی کے اسی معنی پر ہمیشہ زور دیا ہے  اور اسی معنی کے  دفاع میں  دلائل پیش کئے ہیں۔2]

یہاں ایک اور نکتہ قابل غور ہے کہ اس قسم کی خصوصیات کے  مالک شخص کی پہچان، انتخاب وغیرہ کے ذریعے ممکن نہیں ہے ۔لہذا شیعوں کا عقیدہ ہے کہ رسول پاکؐ نے خود  ہی اپنے بعد  کے  جانشین کا تعین فرمایا تھا۔

لہذا خواہ  لغوی اور  عرفی استعمال کے  اعتبار سے ہو یا عقلی اور  احادیث کے  اعتبار سےہو ، اس وقت تک کسی کو حقیقی جانشین نہیں کہا جاسکتا جب تک اس میں اپنے سے پہلے والے کی  ذمہ داریوں کو  انجام دینے کے لئے تمام  ضروری خصوصیات نہ ہوں۔اسی بنا پر  رسول پاک ؐ کی جانشینی کے مسئلے  میں بھی  آپ کا   حقیقی جانشین اسی کو ہی کہا جاسکتا ہے جو امت میں سب سے زیادہ دین شناس ہو، سب سے زیادہ قرآن مجید کی تفسیر اور تبیین سے آشنا ہو  ، سب سے زیادہ دین پر عمل کرنے والا اور دینی تعلیمات کی حفاظت میں کوشاں ہو۔ لہذا اس قسم کی خصوصیات  کے بغیر کسی  کو آنحضرتؐ کا حقیقی جانشین کہنا آپ کی شان اور مقام سے نا آشنائی کی دلیل ہے ۔

شیعہ مخالفین کے  نزدیک خلافت کا تصور :

اہل سنت کے نزدیک جانشینی کا مطلب آپ کے بعد حکومت سنبھالنا ہے ۔ خلافت کا معنی  دینی پیشوا ہونا اور ہادی ہونا نہیں ہے ۔ جن لوگوں کو خلیفے کے عنوان سے تاریخ  نے یاد کیا ہے وہ اس بات پر بہترین شاہد ہیں ۔ علاوہ ازین  اہل سنت کے علماﺀ کی طرف سے اس سلسلے میں لکھی ہوئی عقائد کی کتابیں اس بات پر بہترین گواہ ہیں کہ ان کے نزدیک خلافت اور جانشینی سے مراد صرف  حاکم اور لوگوں پر حکومت کرنا ہے ،خواہ طاقت  کے بل بوتے پر  حکومت پر   قابض ہوا ہو  یا کسی اور  طریقے  سے  اس منصب پر پر قابض ہوا ہو ، و ہ  خلیفہ کہلائے گا ، خواہ   وہ فاسق و فاجر  ہی کیوں نہ  ہو تب بھی اس کی اطاعت  کرنا ضروری ہوگا ‏[3]۔

جیساکہ علم و دانش اور  دینی پیشوائی کے مسئلے  میں اہل سنت کے علماء نہ صرف ان خصوصیات کو خلیفہ کے لئے ضروری نہیں جانتے بلکہ  خلفاء کا ان خصوصیات  کے  مالک نہ ہونے کو اس سلسلے میں شیعوں کے نظریے کے  بطلان پر دلیل کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ 

شیعہ مخالفین کے تصور خلافت کے منطقی  نتائج 

اس تصور کے مطابق مندرجہ ذیل چیزیں لازم آتی ہیں۔    

۱: جیساکہ بیان ہوا: واقعی خلیفہ  وہ ہے جو اس مقام کے مالک کی ذمہ داریوں کو  انجام دینے کا اہل اور اس سلسلے میں ضروری خصوصیات کے  مالک ہوں،لیکن شیعہ مخالف  ان چیزوں کو خلیفہ کے لئے  ضروری نہیں جانتے  لہذا  ایسے شخص کو خلیفہ کہنا ہی درست نہیں ہے۔

2 : خلافت کا یہ معنی در حقیقت مقام نبوت کو ایک ظاہری دنیوی مقام  اور  پیغمبر اکرمؐ کو ایک عام حاکم کی طرح تصور کرنے کی  مانند ہے جو  مقام نبوت  اور خود پیغمبر اکرم ؐ کی شان میں توہین کے مترادف ہے۔

3: خلافت کے اس معنی کے مطابق ظالم ، جابر  ، جاہل   اور  گمراہ لوگوں کا  پیغمبر  اکرمؐ  کا جانشین ہونا  لازم  آئے گا  اور  اگر  ان کی خلافت پر ایمان  سب کے لئے  ضروری  قرار دیا جائے  تو اس صورت میں سب کو یزید جیسے لوگوں پر بھی  پیغمبر اکرم ؐ کے  جانشین کے طور  پر ایمان  رکھنا پڑے گا  کیونکہ ان سب نے خلافت کے اسی  معنی کے مطابق لوگوں پر حکومت کی ہے،  ان میں سے بعض کو  خلیفہ ماننا اور بعض کو نہ ماننا  خود خلافت کے اس معنی کے بے بنیاد ہونے کی دلیل ہے ۔

4: اس معنی کے مطابق  کسی کی خلافت  پر اعتقاد اور ایمان رکھنے کے معنی یہ نہیں کہ  ان خلفاء کی سیرت اور  ان کی تعلیمات  پر  عمل کرنا بھی  ہمارے لئے  ضروری ہو بلکہ  عملی میدان میں ان کی سیرت اور تعلیمات پر عمل کرنا ممکن  ہی نہیں  ہوگا ۔ کیونکہ جب خلیفے کے لئے دینی پیشوا  اور  ہادی ہونا  اور  اس سلسلے کی ضروری خصوصیات کے  مالک ہونے کی شرط بھی نہ ہو تو ایسے خلفاء کی سیرت اور کردار دوسروں کے لئے نمونہ عمل ہونا کوئی معنی نہیں رکھتا  بالخصوص  جب  ان  خلفاء میں سے بعض  نے ایک دوسرے کے خلاف جنگیں لڑی ہوں اور ان کی سیرت اور افکار  میں شدید اختلاف ہو ۔لہذا خلافت کے اس معنی کے مطابق   خلافت کا مسئلہ صرف ایک تاریخی مسئلہ بن کر رہے گا اور یہ بالکل ایسا ہے کہ گویا  گزشتہ زمانے کے  حاکموں اور بادشاہوں کی حکومت پر ایمان اور اعتقاد کو ضروری قرار دیا جائے۔

5: خلافت کے اس معنی کے مطابق جانشینی  کے مسئلے  میں   دین،  بحث کا  محور  قرار نہیں پائے گا بلکہ دین  کو ثانوی حیثیت  حاصل ہوگی ۔   دینی ہدایت  اور  دینی  تعلیمات   حاشیے میں چلی جائیں گی  ،خلافت کی بحث میں دین کی حفاظت اور لوگوں کی دینی ہدایت کے  بجائےدوسروں کی حکومت  اور  اقتدار کی رسہ کشی کی بحثیں ہی  خلافت کے مسئلے  میں سب سے نمایان بحث قرار پائیں گی۔ لہذا  گزشتہ زمانے میں کسی کی حکومت اور اقتدار سے دفاع،  دین سے  دفاع  اور دین کو  حاصل کرنے کے  سرچشمے سے بحث پر مقدم  ہوگا ۔

6: خلافت کے اس معنی کے مطابق جانشینی کے  عرب جاہلی تصور  کو  خلافت  اور جانشینی   کے اسلامی تصور پر فوقیت  حاصل ہوگی ۔کیونکہ  عرب جاہلیت  میں  جانشینی کا تصور  حکومت اور اقتدار سنبھالنا ہی تھا ۔ جبکہ رسول پاکؐ کی احادیث  اور   رسول پاکؐ کے  مقام  اور ذمہ داری کی  روشنی میں  خلافت کو دینی پیشوائی اور دینی  ہدایت   سے جدا تصور ممکن ہی  نہیں ۔

7: جانشینی  کے اس معنی  کے مطابق کسی کی  خلافت پر ایمان  کا  مطلب یہ ہے کہ جسے گزشتہ  زمانے کے لوگوں نے  انتخاب کیا ہو یا وہ خود تخت  حکومت  پر قابض ہوا ہو۔ اس کی خلافت پر بعد والوں کے لئے بھی  اعتقاد رکھنا ضروری  ہوگا ۔ جبکہ اس قسم کی باتیں ہر قسم کی منطق اور دلیل سے عاری ہیں، کیونکہ  جب  اللہ  اور  اس کے رسول کی  طرف سے اس کا خلیفہ ہونا ثابت نہ ہو  تو کسی اور کے بنائے ہوئے حکمرانوں پر ایمان اور اس پر اعتقاد کو  بعد والوں کے لئے بھی ضروری جاننا  بے معنی ہے ۔

8: اس معنی کے  مطابق  خلافت کا عقیدہ رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ رسول پاکؐ اپنی  جانشینی کے مسئلے  میں امت کی رہنمائی  کیے بغیر، انھیں  سرگرداں حالت میں چھوڑ کر دنیا سے چلے گئے۔ اس کا   مطلب یہ ہے کہ بالخصوص خلیفہ  اول اور دوم  رسول پاکؐ سے زیادہ دین اور امت کے درد مند تھے۔  کیونکہ رسول پاکؐ تو امت کو سرگرداں چھوڑ گئے لیکن ان خلفاء کو یہ چیز ناگوار گزری لہذا اپنے جانشین کا اہتمام کر کے دنیا سے گئے۔ 

اھل سنت کا تصور خلافت قصہ کہانی کی مانند ہے ۔

 

اہل تشیع جب خلافت کے  مسئلہ سے بحث کرتے ہیں تو اس سے ان کی مراد  یہ دیکھنا ہے کہ حضورصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم  کے بعد لوگوں کا دینی پیشوا کون ہیں؟  کون سے لوگ ان کی بنیادی ترین  ذمہ داری  [مرجعت دینی ]کو نبھانے کی  اہلیت رکھتے  تھے۔جبکہ اہل سنت کے نذدیک  حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم  کی جانشینی کا مسئلے میں صرف یہ دیکھنا ہے کہ  ان کے بعد  کن لوگوں نے حکومت کی بھاگ دوڑ سمنبھالی ہے ،چاہے وہ جاہل ، فاسق اور ظالم  ہی کیوں نہ ہو۔

دوسرے الفاظ میں، شیعہ کیونکہ خلافت اور امامت کو نبوت کی طرح ایک الہی مقام سمجھتے ہیں اور امام کو اللہ کی طرف سے حجت اور واجب الاطاعت سمجھتے ہیں۔ لہذا شیعہ آج بھی نظریہ امامت کے ساتھ زندگی کرتے اور زندگی گزارتے  ہیں ، شیعہ اپنے بچوں سے یہ کہتے ہیں کہ ہمارے امام بارہ ہیں ،ہمیں ان کی اطاعت کرنی چاہئے ۔

لیکن اہل سنت کے نظریہ خلافت ایک قسم کی تاریخی قصہ کہانی ہے ،اہل سنت کیونکہ خلافت کو حکومت اور خلیفہ کو وراثت میں حکومت ملنے کے قائل ہیں ۔ لہذا  خلفاﺀ کی خلافت اور ان کا دور حکومت ختم ہوا ۔

اب یہاں گذشتہ دور کے حاکموں کی حکومت پر ایمان کو ضروری سمجھنا اور ان کے کردار پر عمل کو ضروری سمجھنا غیر منطقی ہے کیونکہ اھل سنت، خلفاﺀ کے لئے ایسی صفات کا حامل ہونا ضروری نہیں سمجھتے کہ جن سے خلیفہ کا حجت اور سب کے لئے واجب الاطاعۃ ہونا لازم آئے ۔

لہذا اھل سنت کا تصور خلافت قصہ کہانی کی مانند ہے جبکہ شیعہ ، نظریہ خلافت کے ساتھ جیتے اور زندگی کرتے ہیں۔ جس طرح نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم  آج بھی نبی اور واجب الاطاعۃ ہیں ۔نبی کا جانشین بھی ایسا ہی ہے ۔

جبکہ اھل سنت والے منطقی طور پر دیکھے تو  خلفاﺀ کو ہمارے خلفاﺀ نہیں کہہ سکتے۔ 

اھل سنت کے پاس خلفاﺀ کی خلافت پر ایمان کو ضروری سمجھنے اور ان کی اطاعت کو لازمی قرار دینے کا علمی جواز نہیں ہے اور اگر ایسا سمجھے تو یزید کی خلافت پر ایمان اور اس کی اطاعت بھی واجب ہونا لازم آئے گا کیونکہ اس نے بھی خلافت کے اسی معنی کے مطابق لوگوں پر حکومت کی ہے ۔ لہذا یزید کو اس قانون سے استثناﺀ سمجھنے کا کوئی منطقی جواز نہیں ہے ۔  

 



[1]۔ وَ أَنزَلْنَا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيَّن لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَيهْمْ وَ لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُون ( النحل- ۴۴(إِنَّمَاأَنْتَمُنْذِرٌوَلِكُلِّقَوْمٍهَادٍ   (الرعد : 7) وَ أُوحِىَ إِلی هَذَا الْقُرْءَانُ لِأُنذِرَكُم بِهِ وَ مَن بَلَغَ (انعام- 19) هُوَ الَّذِى بَعَثَ فىِ الْأُمِّيِّنَ رَسُولًا مِّنهْمْ يَتْلُواْ عَلَيهْمْ ءَايَاتِه (جمعه- 2)

[2]- ہم یہاں نمونے کے طور پر چند عبارتوں کو نقل کرتےہیں۔

 علامه حلی ؛ أن الإمام يجب أن يكون أفضل من رعيته‏  اتفقت الإمامية على ذلك/  نهج الحق و كشف الصدق، ص: 168- 

 يجب أن يكون أفضل من جميع امته من كل جهة/  الاقتصاد فيما يتعلق بالاعتقاد   ص : 307 قواعد المرام في علم الكلام..  ص : 180-  النجاة في القيامة  55 

 يدل عليه قوله تعالى (أَ فَمَنْ يَهْدِي إِلَى الْحَقِّ أَحَقُّ أَنْ يُتَّبَعَ أَمَّنْ لا يَهِدِّي إِلَّا أَنْ يُهْدى‏ فَما لَكُمْ كَيْفَ تَحْكُمُونَ) و يدخل تحت هذا الحكم كون الإمام أفضل في العلم و الدين و الكرم و الشجاعة و جميع الفضائل النفسانية و البدنية/   كشف المراد  ص : 66

  

صاحب کتاب عقائد امامیه لکھتے ہیں :   

 

 

نعتقد أنّ الإمام كالنبيّ يجب أن يكون أفضل الناس في صفات الكمال من شجاعة و كرم و عفة و صدق و عدل، و من تدبير و عقل و حكمة و خلق/  عقائد الامامية: ص : 67 

شیخ مفید لکھتاہے:  

و اتفقت الإمامية على أن إمام الدين لا يكون إلا معصوما من الخلاف لله تعالى عالما بجميع علوم الدين كاملا في الفضل بائنا من الكل بالفضل/  اوائل المقالات :ص  39    

شیخ طوسی لکھتاہے:   

 يدل على كونه عالما بجميع الشرع أنا قد دللنا على كونه حافظا للشرع فلو لم يكن عالما بجميعه لجوزنا أن يكون وقع فيه خلل من الناقلين أو تركوا بعض ما ليس الامام عالما به فيؤدي الى ان لا يتصل بنا ما هو مصلحة لنا، و لا تنزاح علتنا في التكليف لذلك و ذلك باطل بالاتفاق/  الاقتصاد فيما يتعلق بالاعتقاد : ص :312    

عبد اللّه شبر لکھتاہے:   

 ان الإمام يجب أن يكون حافظا للشرع عالما بجميع أحكام اللّه تعالى المودعة في كتابه لانقطاع الوحي بموت النبي صلّى اللّه عليه و آله و سلّم و قصور ما يفهمه الناس من الكتاب و السنة عن جميع الأحكام، فلا بد من إمام منصوب من اللّه تعالى عالم بجميع أحكام اللّه تعالى منزه عن الزلل في الاعتقاد و القول و العمل / حق اليقين في معرفة اصول الدين :ص192  - 

علامه مجلسی لکھتاہے:  

و الحاصل أن من لم يكن عالما بجميع الأحكام و كان ممن يجوز عليه الخطأ فهو أيضا محتاج إلى خليفة آخر لرفع جهله، و النزاع الناشئ بينه و بين غيره.... - مرآة العقول    ج‏3    68 

[3]۔ وَقَالَ جَمَاهِير أَهْل السُّنَّة مِنْ الْفُقَهَاء وَالْمُحَدِّثِينَ وَالْمُتَكَلِّمِينَ : لَا يَنْعَزِل بِالْفِسْقِ وَالظُّلْم وَتَعْطِيل الْحُقُوق ، ۔شرح النووي على مسلم [6 /314]

 

صاحب العقائد النسفية :و لا ينعزل الامام بالفسق) / شرح العقائد النسفية ص 100 

يجب طاعة الإمام ما لم يخالف حكم الشرع. سواء كان عادلا أو جائرا. ... و لا ينعزل الإمام بالفسق ۔ 

/تفتازاني شرح المقاصد  ج‏5 ص 233     

اس سلسلے میں مندرجہ ذیل کتابوں کی طرف رجوع کرسکتے ہیں۔

قاضي عبدالجبار اسد آبادي، المغني ج۲۰، ص41.

باقلاني محمد بن طيب، تمهيدالاوائل ، ص477.

الآمدي، سيف الدين ، غاية المرام، ص382.

سعد الدين تفتازاني،شرح  العقائد  النسفية لعمر بن محمد(م 537)ص 101

  ابن اثير،إسماعيل بن عمر،  البداية والنهاية ،ج8 ص245 

[4]-  شرح المواقف، ج۸، ص3۵۰. / شرح المقاصد، ج۵، ص24۹

 






Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی