2021 November 29
سقیفہ کے مخالفین کیوں خاموش ہوئے ؟
مندرجات: ٢١٢٥ تاریخ اشاعت: ٣٠ October ٢٠٢١ - ٢٠:٠٠ مشاہدات: 185
یاداشتیں » پبلک
سقیفہ کے مخالفین کیوں خاموش ہوئے ؟

سقیفہ کے مخالفین کیوں خاموش ہوئے ؟

مسلحانہ اقدام کیوں نہیں کیا ؟

کسی بھی تاریخی واقعے کے بارے میں  نظر دینے ، نتیجہ گیری کرنے  اور فیصلہ صادر کرنے سے پہلے اس دور کے  حالات اور ماحول کا بھی دقیق جائزہ لینا نہایت  ضروری ہے ،  جب تک  اس حوالے سے  صحیح شناخت حاصل  نہ ہو اس وقت تک  اس واقعے کے بارے میں نظر دینا علمی اور منطقی اعتبار سے درست  نہیں ہے۔  یہی وجہ ہے کہ بعض واقعات بعض لوگوں کی نگاہ میں افسانہ بن جاتے ہیں جبکہ دوسرے  بعض کی نگاہ میں عین حقیقت۔

اسی طرح  یہ بھی  ایک تاریخی حقیقت ہے کہ  قوم و  ملت کی زندگی میں بعض ایسے واقعات پیش آتے ہیں  کہ  اس قوم کے ذمہ دار افراد  اپنے اعلی  اہداف کی خاطر نہ صرف اپنے ضائع شدہ حق کو لینے کے لئے  ہتھیار  ہاتھ میں نہیں لیتے  بلکہ  بعض  اوقات  بعض چیزوں میں  اپنے رقیب  کی مدد کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتے تاکہ اعلی و  ارفع اہداف  اور مصلحتیں  اپنی رقابتوں کی نذر نہ ہو ہوپائیں ، رسول پاک ؑ کی وفات کے بعد پیش آنے والے بعض  واقعات  میں بھی  کچھ ایسی  ہی  داستانیں موجود ہیں ۔

جس وقت رسول پاکؐ  نے وفات پائی اور  ایک’’  فلتہ‘‘ کی وجہ سے  خلیفہ کا انتخاب عمل  میں آیا ۔  اس وقت اسلامی دنیا خاص کر مرکز اسلام  مدینہ  بہت  سے اندرونی اور بیرونی  مشکلات سے دوچار  تھا  ان میں سے چند مندرجہ ذیل ہیں ۔

الف : خانہ  جنگی  اور   خون خرابے  کا خطرہ اندرونی طور پر مرکز اسلام کو نابود  کرنے کے لئے  مدینہ  رسول  کے  سر پر منڈلا  رہا  تھا  ۔قبائلی  رنجشوں کی آگ کا  دوبارہ شعلہ ور ہونا  اور اس کے نتیجے میں  خلیفے  کا انتخاب خود اس  خطرناک صورت حال کی عکاسی کرتا ہے ۔ اسی لئے خلیفہ دوم نے کہا :   اللہ نے اس  کے شر سے محفوظ رکھا ، ابوسفیان  کہتا تھا : میں ایسے حالات دیکھ رہا ہوں کہ سواے  خون خرابے کے   کوئی اور چیز اس کو  پُر نہیں کرسکتی ’’ إني لأرى فتقا لايرتقه إلا الدم[1]اسی لئے ہتھیار  مہیا کر نے اور  سقیفے  کے خلاف  اقدام کرنے کی پیش کش کی تھی[2]۔اس نازک صورت حال  میں  سقیفے  کے مخالفین کی طرف سے ہتھیار ہاتھ میں لینا  مسلمانوں کے درمیان داخلی جنگ  کا آغاز  ہونا تھا ۔

لہذا امام علیؑ نے فرمایا :

میں نےدیکھا کہ جوحالت پیش آئی اس پر صبرکرنا مسلمانوں کے اتحاد کو ختم کرنےاور مسلمانوں کا  خون بہانے سےبہتر ہے ،کیونکہ لوگ تازہ مسلمان تھے دین بھی نومولود بچے کی مانند تھا اور  ابھی مستحکم نہیں ہوا تھا،اسی نے ہی امام علی ؑ کے پاس آکر لشکر اور معمولی سی سستی اسے نابود  کرسکتی تھی ۔[3]

ب:   منافقین  کی  طرف  سے اسلام سے انتقام کی فکر  سے غفلت  ان منافقین  کے  ناپاک  عزائم کو عملی جامعہ پہنانے کے لئے کافی تھی ۔جیساکہ  اللہ نے خود ان دشمنوں کے وجود  سے رسول پاک ؐ کو آگاہ فرمایا[4]  یہ  منافقین  مسلمانوں  میں جنگ کی آگ کو بھڑکاکر   ان کی نابود کی آرزو میں دن گزار رہے تھے [5]۔

ج :   رسول پاکؐ کی وفات  اور سقیفہ  کی خبریں سننے کے بعد بہت سے لوگ مرتد ہوئے اور  اسلام اور مسلمانوں کے دشمن بن گئے ،یہاں تک کی مدینے  پر چڑھائی کی سازشیں کرنے لگے۔  ارتداد کا مسئلہ اس حد تک  سخت مسئلہ تھا کہ بہت سے لوگوں نے  ’’ لما ارتدت العرب ‘‘(یعنی جب عرب مرتد ہوئے) کی   تعبیر استعمال کی ہے [6] لہذا  خود  یہ  تعبیر اس وقت  کے خطرناک  ماحول کی عکاسی کرتی ہے۔  ایسے میں اگر مسلمان ان دشمنوں  کے مقابلے میں متحد ہونے کے بجائے خود ایک دوسرے کے جانی دشمن بن جاتے تو  ان زخم خوردہ دشمنوں  کی انتقامی کاروائی سے محفوظ  نہیں رہ سکتے۔ 

د :    خارجی دشمن بھی موقع کی تلاش میں تھے تاکہ اپنی شکست کا بدلہ لینے کے لئے پیکر اسلام پر کاری ضرب لگا سکیں۔  اسی لئے  رسول پاکؐ  آخری  وقت تک ان دشمنوں سے جنگ کے لئے لشکر  کی روانگی پر تاکید کرتے رہے ۔ اگر ان دشمنوں کو  مسلمانوں کی اندرونی خانہ جنگی اور  نزاع کا علم ہوتا تو   ہمیشہ کے لئے اپنے  سب سے اہم دشمن کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے لئے  مدینہ اور مکہ پر چڑھائی  کرتے۔

حساس لمحات میں ذمہ دار لوگ اقتدار کی جنگ نہیں لڑتے

یقینا ایسے ماحول میں  خلافت کی خاطر مسلمانوں کا ایک دوسرے   کے خلاف ہتھیار اٹھا کر داخلی جنگ کا شکار ہونا  اسلام کے  داخلی اور خارجی دشمنوں  کے لئے  بہترین  فرصت تھی ،  اس  راہ میں ذرا  سی بھی  غفلت  اسلام کی نابودی   کا سبب بن سکتی تھی۔ لہذا  انہی  صورت حال میں ہتھیار ہاتھ میں لے کر اپنے رقیبوں سے  اقتدار  کی جنگ لڑنا ،  اسلام کا  درد  رکھنے والوں  اور اس راہ میں ہر قسم کی قربانی سے دریغ نہ کرنے والوں کے لئے غیر ممکن تھا۔ 

 

حقیقت میں ایسی   صورت حال  نے سقیفہ  کے حمایتی لوگوں کو اپنے   اس انتخاب   کے سامنے دوسروں کو   تسلیم کرانے کا موقع فراہم کیا، مخالفین  نے  بھی ان حالات کی وجہ سے داخلی  جنگ  سے بچنے اور اسلام کو درپیش  خطرات  سے نمٹنے کے لئے مصلحت   اسی میں دیکھی کہ  پیش آنے والے  حالات  کو بدلنے کے لئے  مسلحانہ اقدام نہ کیا جائے  ۔

کیا نبی پاک ص امت کو سرگرداں چھوڑ کر جاسکتے ہیں ؟

 اس وقت کی صورت حال کو دیکھے تو یہ  بات بھی روشن ہوجاتی ہے کہ یہ کہنا  رسول پاکؐ کی شان میں توہین ہے کہ آپ نے  اس قسم کے  ماحول میں اپنے جانشین   کو معین کرنے کے لئے کو ئی اقدام نہیں کیا اور اس سلسلے میں ضروری  ہدایت دئے  بغیر اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔ جبکہ آپ اس وقت کے ماحول سے بھی بخوبی  آگاہ تھے اور اپنی عنقریب موت کی خبر بھی دے رہے تھے۔

یقینا اس قسم کی سوچ رسول پاکؐ کی شان کے خلاف ہے ، نہ یہ باتیں عقل  ومنطق کے مطابق ہیں اور  نہ ہی دین اور امت سے آپ کی دردمندانہ  طرز عمل ۔ کیسے ممکن ہے کہ آپ نے اس اہم چیز کو اہمیت دئے بغیر  امت کو سرگرداں حالت میں  چھوڑ گئے ہوں؟ 

لہذا  اس قسم کی باتیں خصوصا ان لوگوں کی جانب سے بہت ہی تعجب  انگیز ہیں کہ جو یہ کہتے  ہیں :  خلافت کا مسئلہ اتنا اہم تھا کہ جناب ابوبکر اور عمر وغیرہ  رسول پاکؐ کے جنازے کو بھی چھوڑ کر اس کے پیچھے چلے گئے۔  یہاں تک کہ  خود  خلفاء اپنے بعد  خلیفہ معین کر کے یا  اس کے لئے راہ حل مشخص کر کے  اس دنیا سے چلے گئے اور وہ  امت کو سرگردان چھوڑنے کی جرات نہ کرسکے جبکہ ان کے زمانے کے  حالات اور  رسول پاکؐ کے زمانے کے  حالات آپس میں قابل مقایسہ نہیں۔

اس قسم کی سوچ  کا مطلب یہ کہ خلفا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے زیادہ دین اور امت کے ساتھ مخلص تھے [نعوذ باللہ ]

 



[1]۔أنساب الأشراف (1/ 254،)

[2]۔ والله لئن شئتَ لأضرمنها عليه من أقطارها ولأملاَنها عليه خيلاً ورجالاً، فقال له علي: إنك طال ما غششت الله ورسوله والإسلام ۔ أنساب الأشراف (1/ 254،

[3].الغدیر ج۹ ، ص۳۸۱

[4]۔ {َمِمَّنْ حَوْلَكُمْ مِنَ الْأَعْرَابِ مُنَافِقُونَ وَمِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ مَرَدُوا عَلَى النِّفَاقِ لَا تَعْلَمُهُمْ نَحْنُ نَعْلَمُهُمْ..[التوبة: 101]

[5]۔ : عَائِشَةَ قَالَتْ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَوْ نَزَلَ بِالْجِبَالِ الرَّاسِيَاتِ مَا نزل بَابي لَهَا ضها اشْرَأَبَّ النِّفَاقُ بِالْمَدِينَةِ وَارْتَدَّتِ الْعَرَبُ / مصنف ابن أبي شيبة (7/ 434) السنن الكبرى: (8/ 199) تاريخ بن خياط ص: 102 فتوح البلدان (ص: 100) تاريخ الإسلام (3/ 28

[6]۔ أنساب الأشراف ج 1 ص 253 - تاريخالخلفاء - ج1 ص58 - البدءوالتاريخج1 ص304- تاريخمدينةدمشق - ج30 ص 310-





Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی