2021 December 3
اہل بیت علیہم السلام اور خلفاء کی بیعت
مندرجات: ٢١١٨ تاریخ اشاعت: ٢٥ October ٢٠٢١ - ١٩:٥٣ مشاہدات: 231
یاداشتیں » پبلک
اہل بیت علیہم السلام اور خلفاء کی بیعت

اہل بیت علیہم السلام  اور  خلفاء  کی بیعت ، حقیقت   کیا ہے  ؟ :

ہم بحث کے اس مرحلے میں امام علیؑ کی شخصیت اور اس دور کے نزاکتوں سے نا آشنا لوگوں کے بعض مغالطوں کی طرف  اشارہ کرینگے ۔

 

شیعہ مخالفین کیا کہتےہیں ؟

بعض لوگ کہتے ہیں اگر خلافت کے مسئلے میں شیعوں کی باتیں صحیح ہوتی  تو امام علی ؑ ہرگز  خلفاء کی بیعت نہ کرتے  اور ان  کے ساتھ تعاون نہ کرتے کیونکہ  امام علی ؑ اگر دوسروں  کو  غاصب اور خود کو ہی  خلافت کا حقدار سمجھتے اور اس کے باوجود آپ نے  دوسروں  کی بیعت اور  بعض کاموں میں ان کے ساتھ  تعاون کیا تو اس کا معنی  یہ ہے کہ نعوذ باللہ آپ بذدل تھے ،  آپ باطل کی حمایت کرتے تھے  اور آپ نے  مخالفین  کو  دھوکھ دئے کر ظاہری اور بناوٹی بیعت کے ذریعے جان بچائی، جبکہ  اس قسم کی باتیں امام برحق  کے شایان شان نہیں ہیں .

 

شیعوں کا جواب :

 

شیعہ مخالفین اس قسم کی مغالطوں کے ذریعے شیعوں پر یہ الزام لگاتے ہیں کہ شیعہ اہل بیت کی شان میں گستاخی کرتے ہیں اور اپنے مقصد کی خاطر اہل بیت کے نام سے غلط استفادہ کرتے ہیں.  

یہ بات شیعہ نظریات کے مسلمات میں ہے کہ امیر المومنین علیہ السلام نے کسی صور ت میں بھی دوسروں کی خلافت کو شرعی حیثیت سے قبول نہیں کیا۔

 امام علی ؑ کی طرف سے بعض کاموں میں خلفاء  کے ساتھ تعاون  اور ان کی طرف سے  مسالت آمیز طرز زندگی اپنانے کو  دوسروں کی خلافت پر رضایت مندی  سے تعبیر کرنا  جہالت کی نشانی  ہے .

لیکن کیونکہ  امام کا موقف خلفاء  کی خلافت  کو مشروعیت  دینے کے لیے انتہائی اہم ہے ۔ لہذا ایسی جعلی باتیں گھڑی گئیں ، جنکا مقصد  یہ بتانا ہے کہ  امام نے بے چون و چرا  ان کی خلافت کو قبول کیا۔ لہذا اہل بیت کا وہی موقف تھا جو دوسرےلوگوں کا تھا.

ہم اس قسم کی شبہات کے جواب میں  چند مطلب یہاں نقل کرتے ہیں ؛

 

ا  : کس کا مغلوب ہونا اس کے باطل پر ہونے  یا  بذدل ہونے کی دلیل نہیں ہے ۔ اگر ایسا ہے  تو انبیاء اور اوصیاء اکثر طور پر کفار اور مشرکین  کے ظلم و ستم کا نشانہ بنیں اور مغلوب رہیں. اللہ نے  اپنے انبیاء اور اولیاء کو صبر و تحمل سے کام لے کر عام فطری اسباب  کے مطابق چلنے کا حکم دیا ہے ۔ لہذا  جب تک حق پر ہو اس کا مغلوب  اور مظلوم ہونا کوئی عیب نہیں ہے ۔

 

2:   بعض خاص موارد میں کسی  کی طرف سے آنے والے شر سے بچنے کی خاطر حق کے خلاف  بات کا اظہار  کرنے  کو منافقت ، جھوٹ  اور بذدلی نہیں کہہ سکتا ،کیونکہ  یہ عمل قرآن  و سنت  اور اصحاب کی سیرت  کے مطابق ہے ۔ تاریخ میں اس چیز کے بہت سے نمونے  موجود ہیں کہ انبیاء ،  اوصیاء  اور اصحاب  نے اس دینی ، فطری  اور عقلی دستور پر بہت سے موارد میں عمل کیا ۔ جیساکہ  جناب ابراھیم ؑ نے خوف کی وجہ سے اپنی بیوی کو بہن کہہ کر جان بچائی


[1] صحابی پیغمبر جناب ابو ایوب انصاری ، معاویہ کی بیعت کو  گمراہی  کہتے تھے  ،  جناب ام سلمہ نے  جان بچانے کی خاطر  بیعت کرنے کا مشہورہ دیا، جناب ابو ایوب انصاری  نے مجبور ہوکر بیعت کی[2] صحابی پیغمبر جناب زید بن ارقم امام علیؑ کے دشمنوں کی خوف سے حدیث غدیر کو نقل نہیں کرتے تھے۔[3] اسی طرح  اصحاب میں سے  جناب حذیفہ[4] عبدالله بن مسعود[5] أبوالدرداء[6]،عبد الله بن عمر [7] وغیرہ بھی بعض جگہوں پر حق  کی خاطر اپنی جان کو خطرہ میں ڈالنے کے مخالف تھے، جیساکہ قرآن مجید نے بھی متعدد موقعوں پر  اس  کام کی تائید کی ہے   مثلا : من كفر بالله من بعد إيمانه إلا من أكره وقلبه مطمئن بالإيمان [سورہنحل آیت: ١٠٦]  اس  آیہ شریفہ کے ضمن میں جناب عمار یاسر کا واقعہ مشہور ہے کہ آپ نے ظالموں کی شر سے بچنے کے لئے کفر کے کلمات کو اپنی زبان پر جاری کیا لیکن کیونکہ آپ دل سے ایمان رکھتے تھے لہذا اللہ نے جان بچانے کے لئے  اسی ظاہری زبانی اقرار کی مذمت نہیں کی  ، قرآن میں اس کے اور بھی بہت سے نمونے موجود ہیں[8] ۔

لہذا اگر کوئی جان  اور عزت کی خاطر حق  کے خلاف   کوئی ایسا کام کردئے جس سے اس کی جان بچ جائے تو اس کو  ڈرپوک،  منافق وغیرہ کہنا ان اصحاب کی شان میں گستاخی  اور قرآنی تعلیمات سے جہالت کی علامت ہے اور  یہاں  جس کے شر سے محفوط رہنے کے لئے حق کو چھپایا جاتا  ہے اس کے  کافر ہونے   کی  شرط لگانا بھی انتہائی سادہ لوحی  ہے کیونکہ  جو چیز ایسے  موارد  میں اہمیت کا حامل ہے وہ   مسلمان کی جان اور عزت  کا محفوظ رہنا  ہے ، نہ کفار  کے سامنے باطل کا اظہار  کرنا [دقت کریں].

 

3: بعض موارد میں جب اہم و مہم میں  ٹکراو  پیش آتا ہے  اور جب کسی ایک چیز پر اصرار کی وجہ سے اعلی و  ارفع مصلحتیں اور اہداف خطرے سے دوچار ہوتے ہیں  تو ایسے موارد میں بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جو اعلی اہداف کی راہ میں خود کو قربان کرتے ہیں،  ظلم و ستم  سہتے ہیں لیکن کسی صورت میں اپنے عظیم مصلحتوں کو ضائع ہوتے دیکھنے کو تحمل نہیں کرتے .

 

4 : شجاع اور طاقتور ہونے کا معنی یہ نہیں ہے کہ کبھی مظلوم  اور مغلوب  واقع نہ ہو اور زندگی میں پیش آنے والے ہر مشکل میں  ہتھیار لے کر دشمن  کے خون سے زمین کو سیراب کرئے لہذا خطرناک طوفانوں  کے سامنے سینہ تان کر  خود کو طوفان کے بے رحم  موجوں کے حوالے کر دینے  کو  شجاعت کہنا شجاعت کے حقیقی مفہوم سے  نا آشنائی کی دلیل ہے، خطرناک  ماحول میں   صبر و تحمل  ،دور اندیشی اور تدبیر  سے کام لے کر اپنی اور دوسروں کی نجات کا سامان فراہم کرنے والوں کو  بذدل کہنا  بہت بڑا ظلم ہے ۔

 

5: کسی کے خلاف احتجاج اور باطل سے مقابلہ ہمیشہ  قدرت کا استعمال کر کے نہیں کیا جاتا ،بہت سے موارد میں مظلومیت  حق سے دفاع اور باطل کی نشاندھی میں وہ رول ادا کرتی ہے جو  ظاہری قدرت اور طاقت کے  استعمال سے ادا  نہیں ہوتی .

 

6: صرف کسی کی بیعت کرنے کا یہ مطلب نہیں کہ وہ لوگ اس بیعت پر  راضی بھی ہو  جیساکہ  جناب ابو ایوب انصاری کا واقعہ شاہد  ہے  کہ آپ معاویہ کی  بیعت کو گمراہی سمجھتے تھے لیکن جان بچانے کی خاطر  بیعت کی، کوئی یہاں یہ نہیں کہہ سکتا کہ کیونکہ انہوں نے بیعت کی ہے اسی لئے آپ اس پر  بیعت پر راضی بھی تھے جیساکہ طلحہ اور زبیر نے امام علیؑ کی بیعت کرنے کے بعد جب اس کو توڑ کر آپ  کے خلاف بغاوت کی تو  یہ ادعا کیا کہ  ہم  مجبور تھے[9]۔

 لہذا زبردستی انجام پانے والے باقی معاملوں کی طرح اگر مجبوری کی وجہ سے کسی کی بیعت کی ہو تو وہ حقیقت میں بیعت نہیں ہے ۔

 

7: جناب ابو بکر کی بیعت میں یہ چیز مسلم ہے کہ  یہ  بیعت  اس عنوان سے نہیں تھی  کہ ابوبکر  اللہ اور اللہ کے رسولؐ کی طرف سے انتخاب شدہ  یا  ان کے حکم سے خود لوگوں کا  انتخاب کیا ہوا خلیفہ ہو۔۔  لہذا  ان کی بیعت  حقیقت میں اسی ’’فلتہ[10] ‘‘کے نتیجے میں انتخاب شدہ  حاکم کے اعتبار سے ہی تھی، اس بنا پر   کوئی اگر انہیں خلیفہ نہ ماننے تو اسے  اللہ اور اللہ کے رسولؐ کا نافرمان کہنے کے بجائے  ’’فلتہ ‘‘  کا ہی مخالف کہا جائے گا ،ورنہ نعوذ باللہ  جناب فاطمہؑ وغیرہ کا اللہ اور اللہ کے رسولؐ  کا نافرمان ہونا لازم آئے گا اور اسی طرح کسی نے  کسی بھی وجہ سے  اسی فلتہ کے نتیجے میں انتخاب ہونے والے خلیفہ کی بیعت کی ہو تو  اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ  خلیفہ کو شرعی طور پر  حق اور سب سے افضل سمجھ کر  بیعت کرنے والوں نے بیعت کی ہو . جیساکہ  اصحاب میں سے بعض نے  معاویہ کے ظالم کمانڈروں کے خوف سے یزید کی  بیعت کی تو یہاں یہ نہیں کہا جائے گا کہ یذید اصحاب سے افضل تھے یا  یزید شرعی طور پر خلیفہ برحق تھا .

 

8: بیعت لینے کے لئے جناب فاطمہ ؑ کے گھر  میں زور سے داخل ہونا  اور گھر کو آگ لگانے کی دھمکی دینا  کوئی معمولی واقعہ نہیں ہے، جبکہ رسول پاکؐ نے امت کو  اہل بیت کے احترام اور ان سے اچھے انداز میں پیش آنے کی بار بار سفارش کی تھی[11] خود رسول پاکؑ کے فرمان کی رو سے ان کی ذریت کا احترام خود  ان کا احترام کرنا تھا [12] یہاں تک کہ  رسول اللہ ؐ خصوصی طور پر ان کے احترام کی   سفارش نہ بھی کرتے تب بھی اس گھر کی حرمت اور تقدس کا خیال رکھنا چاہے تھا کیونکہ  جو احترام اس گھر کو حاصل تھی وہ کسی اور گھر کے لئے نہیں تھا[13] لہذا رسول  اللہ ؐ  کے سب سے زیادہ عزیز بیٹی [14] کے ساتھ پیش آنے والے اس  واقعہ کو معمولی واقعہ سمجھ کر گذر جانا ان کی عظمت سے جھالت کی دلیل ہے۔

جیساکہ بیان ہوا  کہ جناب  فاطمہ  زہراء ؑ کے گھر پر حملےکا  واقعہ اتنا سخت  اور گراں تھا کہ خلیفہ اول آخری جانگنی کی حالت میں بھی اس کام کی وجہ سے افسوس اور ندامت  کا اظہار کر رہا تھا .

 

مندرجہ بالا مطالب کی روشنی میں ہم اہل بیت ؑ کی جانب سے خلفاء کی بیعت کے مسئلے میں چند  باتوں  کو یہاں اختصار کے ساتھ ذکر کرتے ہیں.

 

الف:  یہ بات واضح ہے کہ جناب فاطمہؑ  نے ہرگز  ابوبکر کو خلیفہ تسلیم نہیں کیا صحیحین کی روایات کے مطابق آپ مکمل بائیکاٹ کی حالت میں دنیا سے چلی گئ ہیں۔

 

ب : جیساکہ  بعض  موارد میں امام علی ؑ  کی طرف سے  ابوبکر کی  بیعت کرنے کی جو  باتیں نقل ہوئی ہیں وہ خود  مختلف ہیں،  کسی میں امام علیؑ کی جانب سے  فوری بیعت کا  ذکر ہے [15]کسی میں چھے مہینے تک بیعت نہ کرنے کا ذکر موجود ہے [16]جیساکہ جناب عایشہ سے بھی یہی بات نقل ہوئی ہے کہ جناب فاطمہؑ کی وفات کے بعد امام نے مصالحت کی پیش کش کی اور بیعت کی کیونکہ اب لوگوں نے آپ سے اعتراض کرنا شروع کیا تھا اور آپ سے لوگ منہ پھیر لیتے تھے [17]۔

 

ج : جیساکہ بہت سے تاریخی اسناد کے مطابق بیعت نہ کرنے والوں ،خاص کر امام علیؑ کو  بیعت سے روگردانی کی صورت میں قتل کی دھکی دی گئی تھی اس بنا پر  بہت سےشواہد  بتاتی ہیں کہ امام نے اس دور کے حالات کی وجہ  سے   مجبور ہوکر یہ بیعت کی ہے۔

ہم ذیل میں گذشتہ کی مطالب کی تکمیل کے لئے چند مزید شواہد طرفین کی کتابوں سے نقل کرتے ہیں۔

 

 1: انساب اشراف میں ابن عباس سے مروی ہے کہ جب امام نےجناب  ابوبکر کی بیعت سے انکار کردیا تو ابوبکر نے عمر بن خطاب کو بھیجا اور کہا کہ انہیں زبردستی میرے پاس لے آو اور جب آپ آگئے تو ان کے درمیان گفتگو ہوئی اور امام نے  عمر بن خطاب سے کہا : خلافت کا صرف اتنا دودھ دوھو جتنا تمہارا حصہ ہے، اللہ کی قسم آج خلافت پر اس لئے جان دئے رہے ہو کہ تم کل اس خلافت کے مالک بن جاؤ.... پھر آپ نے ابوبکر کی بیعت کر لی [18]۔

 

2:  انساب اشراف  کی ایک اور نقل کے مطابق خلیفہ دوم آگ لے کر جناب فاطمہؑ کے دروازے پر آیا اور جناب فاطمہ ؑ کہنے لگی؛  اے  ابن خطاب کیا دروازہ جلا کر مجھ پر  گرانا چاہتا ہے ؟ خلیفہ نے کہا؛  جی ایسا کرنا چاہتا ہوں اس کے بعد امام علی ؑ نے مسجد میں ابوبکر کی بیعت کی ۔[19]

 

3: جب خلیفہ دوم نے حضرت زہراءؑ کے گھر پر حملہ کیا تو  اسی دوران جناب زہراء ؑ کی چیخ و بکاء کی آواز لوگوں نے سنی تو بہت سے  لوگ روتے ہوئے وہاں سے چلے گئے اور خلیفہ دوم  کے ساتھ کچھ  لوگ رہے اور امام علیؑ کو  باہر بیعت کے لئے گئے [20]،

آپ نے واضح  طور پر فرمایا؛میں تم لوگوں کی بیعت نہیں کرونگا  میں اس کا سب سے زیادہ مستحق ہوں، تم لوگوں کو چاہے کہ میری بیعت کرئے [21] لیکن  جب بیعت نہ کرنے کی صورت میں آپ کو قتل کی دھمکی دی گئی تو جناب ہارون  کی طرح آپ نے بھی اس آیہ کی تلاوت کی’’بإِنَّ الْقَوْمَ اسْتَضْعَفُونِي وَ كادُوا يَقْتُلُونَنِي‘‘[22]  

 

4: معاویہ نے امام ؑ سے جبری بیعت لینے کی تصویر کشی کرتے ہوئے امام  کا مزاق اڑھانا چاہا تو آپ نے اس کے جواب میں لکھا  ؛ اور تمہارا یہ کہنا کہ میں اس طرح کھینچا جارہا تھا جس طرح نکیل  ڈال کر  اونٹ کو کھینچا جاتا ہے تاکہ بیعت لی جائے تو اللہ کی قسم تم نے میری مذمت کرنا چاہی اور نادانستہ طور پر تعریف کر بیٹھے اور مجھے رسوا کرنا چاہا مگر خود  رسوا  ہوا ،مسلمانوں کے لئے اس بات میں کوئی عیب نہیں کہ وہ مظلوم ہو جائے جب تک کہ وہ  دین کے معاملے میں شک میں مبتلا نہ ہو[23] ۔

 

5: مسعودی نے اپنی تاریخ میں اس بیعت  کی یوں تصویر کشی کی ہے جب آپ  کو مسجد میں لے گئے اور آپ سے بیعت کرنے کا کہا تو آپ نے فرمایا میں ایسا نہیں کرونگا  اس پر آپ کو قتل کی دھمکی دی اور  آپ کے  ہاتھ کھینچنے لگے  آپ نے مٹھی  بند کر کے رکھا اور جب نہ کھول سکے تو ابوبکر کے ہاتھ کو آپ کے  ہاتھ سے مسح کیا  جبکہ آپ کی مٹھی بند تھی[24]۔

 

اگر ہم اس سلسلے میں شیعہ کتب کی طرف مراجعہ کرئے تو  اس بات کو اور زیادہ تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے کہ امام سے یہ بیعت زور سے لیا گیا تھا ہم ذیل میں اس قسم کی چند نمونے پیش کرتے ہیں ۔

الف : جیساکہ اس سلسلے میں امام علیؑ سے  بھی  نقل ہوا ہے :آپ  جنگ نہروان کے بعد کسی مجلس میں اپنے دوستوں کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے، گفتگو کے دوران  کسی نے سوال کیا ،جس طرح آپ نے طلحہ،زبیر اور معاویہ کے ساتھ جنگ کی ، کیوں ابوبکر اور عمر کے ساتھ جنگ نہیں کی ؟ آپ نے فرمایا  میں ہمیشہ مظلوم اور اپنے حق سے محروم رہا ہوں ،اسی اثنا میں اشعث بن قیس نے  پوچھا ؛   یا  امیر المئومنین  کیوں آپ نے  تلوار کے ذریعہ اپنے حق کو طلب نہیں کیا؟ امام نے فرمایا : اے اشعث؛ تم نے ایک بات کہہ دی اس کا جواب بھی سن اور بات کو سمجھ  ، مجھے چھ انبياء صلوات الله عليهم أجمعين.کے ساتھ شباہت حاصل ہے  .

جناب نوح ؑ جس طرح انہوں نے کہا : پروردگار میں مغلوب ہوگیا ہوں میری مدد فرما ( القمر: 10)  جناب لوط ؑ ، جس طرح انہوں نے کہا : کاش میرے پاس قوت ہوتی یا میں کسی مضبوط قلعہ میں پناہ لے سکتا[هود: 80]   جناب إبراهيم خليل اللہ ؑ،جس طرح انہوں نے کہا : میں آپ لوگوں سے اور جن کو آپ خدا کے سوا پکارا کرتے ہیں ان سے کنارہ کرتا ہوں اور اپنے پروردگار ہی کو پکارتا ہوں[مريم: 48] جناب موسى ؑ، جس طرح انہوں نے کہا : تو جب مجھے تم سے ڈر لگا تو تم میں سے بھاگ گیا [الشعراء: 21] جناب  ہارون ؑ  جب انہوں نے کہا : بھائی جان لوگ تو مجھے کمزور سمجھتے تھے اور قریب تھا کہ قتل کردیں [الأعراف: 150]

میرے بھائی جناب محمد خير البشرکے ساتھ کہ مجھے اپنے بستر پر سلا کر آپ غار میں چلے گیے.

ان سب میں  امام نے یہ فرمایا کہ  اگر کوئی کہے کہ  انہوں نے یہ باتیں اور یہ کام  خوف کی وجہ سے نہیں کئے ہیں  تو اس نے کفر اختیار کیا ہے اگر  خوف کی وجہ سے کئے ہیں تو وصی [ یعنی خود امام علیؑ ] کا عذر زیادہ ہے.[یعنی اگر  مجبوری کی وجہ سے انجام دینے والے کسی کام کی وجہ سے میرے اوپر کسی کو اعتراض ہے تو  یہ لوگ ان انبیاء ؑپر بھی اعتراض کرئے]

جب امام نے اس طرح جواب دیا تو لوگ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے: يا أمير المؤمنين ہم نے جان لیا  ہے کہ  آپ کی بات صحیح ہے ہم نے غلطی کی ہے اور ہم معافی مانگتے ہیں خدا آپکے عذر کو قبول کرے[25]

 

ب : شیخ صدوق کی  کتاب ’’خصال ‘‘ میں یوں نقل ہوا ہے کہ جن اصحاب نے ابوبکر کے انتخاب کے خلاف آواز بلند کی ان میں سے ایک گروہ نے آپس میں مشورہ کیا کہ مسجد میں جاکر ابوبکر کو منبر سے اتار دیا جائے یہ لوگ بعد میں امام علی ؑ کے پاس مشورہ لینے آئے تو آپ نے فرمایا؛ اگر تم لوگ ایسا کروگے تو ان کے لئے جنگ کرنے کا موقع ملے گا اور تم لوگ کھانے میں نمک کی طرح خاتم  ہوجائے گا ۔۔۔۔۔لہذا اللہ کی قسم تم ایسا کرگزرتے تو وہ لوگ اپنی تلواروں کو کھینچ کر تم سے جنگ  وجدال کے لئے تیار ہونگےاور تمہارے ساتھ وہی برتاؤکرے گا جو میرے ساتھ کیا ہے مجھ پر یہاں تک زور ڈالا کہ بیعت کرو ورنہ ہم تمہارے سر قلم کر دیں گے اور میرے پاس اس قوم سے اپنا دفاع کرنے کے علاوہ  کوئی چارہ کار باقی نہیں رہ گیا تھا اور اس وقت مجھے  رسول اللہؐ کا یہ قول یاد آیا  ؛ اے علی ؑ یہ قوم تم سے عہد شکنی کرے گی اور تمہارے بارے میں میری بات کی نافرمانی کر کے تم پر ظلم  و تشدد کرے گی لہذا حکم الہٰی کے پہنچنے تک صبر کرنا ....  تم ان کو خون بہانے کا موقع نہ دینا کیونکہ یہ امت میرے بعد تم سے غداری کرے گی[26]۔

جیساکہ شیعہ مخالفین کی کتابوں میں  اس قسم کی باتوں کا کثرت  اور زیادہ تفصیل سے نقل نہ ہونا ۔ ایک طبعی چیز ہے کیونکہ مخالفین کی بنیاد ہی سقیفہ کی داستان سے  مربوط ہے۔ ایسے مطالب  جو سقیفہ کی بنیاد کو ہی ہلا دینے والے ہوں  ان کا مخالفین کی کتابوں میں ہونا اپنے مکتب پر کاری ضرب شمار ہوتا ہے اور کوئی بھی کلہاڑی اپنے پیروں پر مارنے کو پسند نہیں کرتے ۔لہذا شیعہ مخالفین کو اپنی  کتابوں  سے ہی مطالب نقل کرنے پر اصرار کرنے  کا حق نہیں ہے کیونکہ  ان کی کتابیں  مذہبی تعصبات کے زور پکڑنے اور امت اسلامی دو مختلف گروہوں میں بٹنے کے بعد   لکھی  گئی ہے،  اسی لئے   یہ کتابیں اہل بیت  کے علمی آثار سے تقریبا خالی ہے جسکا ایک نمونہ بعد کی  فصل میں بیان ہوگی .

ہم ذیل میں اب تک کے مطالب کی روشنی میں چند چیزوں کو نتیجے کے طور پر بیان کرتے ہیں۔

 

 1 : یہ بات مسلم ہے کہ  جناب فاطمہؑ  نے تو خلیفہ کو قبول ہی نہیں کیا  اسی طرح بھی خود اہل سنت کی معتبر  کتابوں  کے مطابق امام علیؑ نے چھے مہینے تک بیعت نہیں کی ،  یہاں ان دو عظیم شخصیتوں کے بارے میں یہ کہنا ان  کی شان میں گستاخی کہ انہوں نے حق کی مخالفت یا حق کی تشخیص میں غلطی کی اور باطل پر  اصرار کرتے رہے.اگر رسول پاکؐ کے دامن میں پلے ان کے  سب سے ممتاز ان دو شاگروں کے بارے  اس قسم کی باتیں کی جائے تو دوسروں کے بارے کیا توقع رکھ سکتا ہے ۔

 

2 :   رسول پاک ؐ کی معتبر احادیث  کی رو سے  اگر کوئی اپنے زمانے کے امام کی معرفت، اطاعت اور بیعت  کے بغیر مرے  تو اس کی موت جہالت کی موت شمار ہوگئی[27] تو کیا  جنت کے عورتوں کی سردار  کے بارے میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ آپ  نے خلیفہ اول کی مخالفت اور ان کی بیعت سے روگردانی کر کے رسول پاکؐ کے ان احادیث پر عمل نہیں کی اور اپنے امام کی پہچان کے بغیر اس دنیا سے چلی گئی ؟ فما لکم کیف تحکمون ؟ اگر  ایسا کہے تو یہ جناب فاطمہ ؑ کی شان میں گستاخی ہے اگر ایسا نہ کہے تو  اس کا مطلب یہ ہے کہ اس قسم کی بیعت کو  شرعی بیعت کہہ کر  اس کی مخالفت  کرنے والے کو  اللہ اور اللہ کے رسول ؐ کے حکم کا نافرمان کہنا بھی صحیح  نہیں  ہے ۔

 

3  : اگر امام علی ؑ نے بعد میں خلیفہ کی بیعت کی بھی تو بھی یہاں یہ بات  واضح ہے کہ  آپ  خود کو ہی حقیقی جانشین اور  سقیفہ کے انتخاب کو اہل بیتؑ  کے حق کے خلاف قیام  قرار دیتے تھے اور بقول  خلیفہ دوم سقیفہ کا  انتخاب ایک فلتہ ہی تھا لہذا  یہاں  بیعت کا معنی بھی اسی  اعتبار سے  ہے ، یہاں بیعت، خلیفہ کا اللہ اور اللہ کے رسولؐ کی طرف سے منتخب ہونے کے عنوان سے نہیں تھی  اسی طرح خاص کر امام علی ؑ کی طرف سے ان کی  بیعت،  ان  کے افضل ہونے کی وجہ سے نہیں تھی  اگر آپ کے نذدیک ابوبکر ہی سب سے افضل ہوتا اور آپ  جناب ابوبکر  کو ہی خلافت کا مستحق سمجھتے تو ہرگز  بیعت سے انکار بھی  نہیں کرتے.

4 : امام علیؑ  نے خلفاء کے بارے  مختلف مناسبتوں میں  واضح طور پر  اپنے موقف کا اعلان فرمایا  [28]لہذا  ان کی بیعت کرنے کو  منافقت اور  حقیقت کے خلاف عمل سے تعبیر کرنا انتہائی غیر  منطقی طرز عمل ہے کیونکہ امام کے موقف سے  سب آگاہ تھے، حتی خلیفہ دوم نے اس کا اعترف بھی کیا، اسی طرح آپ نے عملی طور پر بھی  خلیفہ دوم  کی طرف سے ان کا جانشین بنانے کے لئے بنائی ہوئی کمیٹی کے سامنے  خلفاء  کے کاموں اور سیرت پر عمل کرنے سے انکار کر کے خلافت سے ہاتھ کھینچ لئے.

 

5 : جیساکہ رسول پاکؐ کی جانشینی کو حکومت کے مسئلہ میں ہی منحصر کرنا آپ  کے حقیقی مقام سے جہالت  اور   خلافت کے حقیقی معنی سے دوری کی   نشانی ہے لہذا اگر کوئی خلافت کو حکومت کے مساوی قرار دے کر جانشینی کے مسئلہ میں حضور  کے  حقیقی مقام کو نظر انداز کرئے تو یہ حقیقت  میں حقیقی جانشین نہیں ہے لہذا  خلافت کے اسی تصور کے  مطابق کسی  کی بیعت  کیجائے تو یہ خلافت کے اسی معنی کے اعتبار سے ہی بیعت شمار ہوگی نہ حقیقی معنی کے اعتبار سے،  اسی لئے  حضرت علی ؑ نے بیعت کی بھی ہو تو یہاں  یہ ثابت کرنا انتہائی نامعقول ہے  کہ آپ بھی خلفاء کو  رسول پاکؑ کا حقیقی  جانشین مانتے تھے.

 

6 : امام علیؑ  کے بیانات کی روشنی میں، بیعت اور حکومت وقت کے ساتھ تعاون  کرنے  کا بنیادی مقصد  ابوبکر کی افضلیت اور انہیں اس مقام کا سب سے زیادہ اہل سمجھنے کی وجہ سے نہیں تھا بلکہ آپ کا  اصل ہدف  اسلام اور مسلمانوں کی نصرت تھی[29]لیکن بعض لوگ مظالطہ سے کام لے کر اس کو امام کی طرف سے جناب ابوبکر کی خلافت کو  شرعی طور پر قبول کرنے سے تعبیر کرتے ہیں۔

 

7: امام ؑ کے بیانات  کا نتیجہ یہ ہے کہ امام علیؑ نے حکومت کے مسئلہ میں دوسروں سے جھگڑا نہ کرنے میں اسلام ،مسلمان اور اہل بیت ؑ کی مصلحت دیکھی، اپنے حق کی حصول کے لئے جد و جہد کو ان حالات میں اسلام  اور مسلمانوں کو مزید  تباہی کی طرف دھکیلنے  کے مانند سمجھا ،لہذا حالات کی وجہ سے  ایک ایسا طرز عمل اپنایا کہ جس سے کم نقصان اٹھا کر زیادہ نقصان اٹھانے سے بچ سکتا تھا ،واضح سی بات ہے کہ ایسے حالات میں ہر عاقل اور مدبر انسان کم نقصان اٹھا کر زیادہ نقصان اٹھانے سے دوری کی راہ کو اپناتے ہیں اور یہاں تک کہ  ایسا نہ  کرنا قابل مذمت ہے نہ برعکس ۔

 

8:  جیساکہ صحیح مسلم اور بخاری کی روایت کا مفہوم یہ ہے کہ بیعت نہ کرنے کی وجہ  سے لوگوں کی نظر میں آپ گر رہے تھے اور آپ اجتماعی امور میں کوئی قابل توجہ خدمت  کرنےسے محروم ہورہے تھے ۔ لہذا آپ معاشرے سے کٹے اپنے رقیب سے نزاع کی حالت میں کوئی خدمت انجام نہ دئے سکنے  اور معاشرے  میں  خدمات انجام دینے میں  سے ایک کے  انتخاب کرنے پر مجبور تھے اور  کیونکہ آپ کا  مطلقا معاشرے سے کٹ کر رہنا اور حکومت کے ساتھ منفی طرز عمل اپنائے رکھنا بھی  اسلام و مسلمانوں کی مصلحت میں نہ تھی ۔ اس طرح  آپ نے اپنے لئے  اسلام اور مسلمانوں کی خدمت کرنے کا موقع فراہم کیا تاکہ اسلامی قوانین کے نفاذ کی راہ میں ہونے  والے غلطیوں کا ازالہ  اور  سیاسی اور اجتماعی طور پر بھی مسلمانوں کو اسلام دشمن طاقتوں کے مقابلے میں طاقت ور  بنا سکے۔ لیکن بعض لوگ مغالطہ کرتے ہوئے امام علی ؑ کا  اسلام  اور مسلمانوں کی خاطر مسالت آمیز طرز زندگی اپنانے اور حکومت وقت کے ساتھ بعض کاموں میں تعاون  کا یہ مطلب لیتے ہیں کہ آپ دوسروں  کی خلافت کو بر حق جانتے تھے   اور  آپ کو  اس سلسلے میں کسی قسم کا اعتراض نہیں تھا۔

 

9: اگر یہاں یہ کہا جائے کہ شیعوں کی باتیں صحیح ہوں تو امام علیؑ نے بیعت لینے آپ کے گھر پر حملہ کرنے والوں سے کیوں  مقابلہ نہیں کیا  اور اپنی بیوی سے دفاع کرنے کے لئے تلوار ہاتھ میں کیوں  نہیں لی  جبکہ آپ  شیر خدا اور سب سے زیادہ شجاع اور غیرت مند  انسان تھے؟ 

ہم گذشتہ کی مطالب کی روشنی میں اس قسم کی شبہات کے  شکار  لوگوں سے سوال کرتے ہیں؛  کیا امام علیؑ کا اس جھگڑے میں شہید ہوجانا اسلام اور مسلمانوں کے حق میں بہتر تھا یا ان حالات میں صبر و تحمل سے کام لینا ؟ دوسری لفظوں میں اگر ایک  بہت بڑے دینی  رہبر  کے ساتھ  ایسا مسئلہ پیش آئے کہ  وہ   غیرت اور شجاعت دیکھانے   یا صبر تحمل   میں  سے ایک کا انتخاب کرنے میں مجبور ہو  اور  ساتھ ہی صبر و تحمل سے کام لینے  سے اسلام اور مسلمانوں کی مصلحت وابستہ ہو تو ایسے حالات  میں اس رہبر  سے کیا توقع رکھا جاسکتا ہے ؟  کیا  شجاعت اور غیرت کےنام سے  اپنے کو خطرے میں ڈال کر اسلام اور مسلمانوں  کو ناقابل جبران  مشکلات سے دوچار کرنے والے کو شجاع اور غیرت مند کہا جاسکتا ہے، کیا ایسے رہبر  کی مدح و سرائی کی جاسکتی  ہے؟

 

10: امام ؑ  دیکھ رہے تھے کہ  دوسرے نہ اقتدار سے ہاتھ اٹھا لیں گے  اور نہ آپ رسول پاک ؐ کی دستورات کے مطابق معاشرے کو چلانے کے لئے قدرت  کا استعمال کرسکتے ہیں لہذا  آپ نے  اپنے اس فرمان کے مفاد  پر  عمل فرمایا  کہ  جب خوارج نے یہ نعرہ’’إِنَّهُ لا حُكْمَ إِلا لِلَّهِ،‘‘ لگایا تو آپ نے فرمایا :

كَلِمَةُ حَقٍّ يراد بهاباطل ۔۔۔ يَقُولُونَ إِنَّهُ لا إِمْرَةً وَلا بُدَّ مِنْ أَمِيرٍ يعمل في امرته المؤمن ويستمتع الْفَاجِرُ[30]

یعنی معاشرے  میں حاکم کا ہونا ضروری ہے، معاشرے کی باگ دوڑ   اس کے اہل کے ہاتھ میں نہ ہو  تو اس کا معنی یہ نہیں کہ  معاشرے  میں حرج مرج ہواور  ہر کوئی اپنا راز چلائے۔

لہذا امام ؑ جس صورت حال سے دوچار تھے اس میں اپنے رقیب  کی وجود کو  حاکم کے عنوان سے قبول کرنے  یا خانہ جنگی اور حرج و مرج  میں سے  ایک کے انتخاب میں مجبور تھے، کوئی بھی عاقل اور  معاشرے کا درد رکھنے والا رہبر ایسے ماحول میں اپنے  رقیب   کے وجود کو معاشرے کو جنگل میں تبدیل ہونے پر ترجیح دیتے ہیں لہذا امام ؑ بھی اس صورت حال میں دوسروں کی حکومت کو تحمل کرنے میں مجبور تھے جیساکہ اس کے بہت سے شواہد خود امام کے کلمات سے پہلے نقل ہوئے۔

لہذا اس  کو  حق و باطل میں سے حق کا انتخاب کہنا صحیح نہیں ہے ، بلکہ  یہ  امنیت اور حرج و مرج میں سے امنیت کا انتخاب کرنا تھا۔

11  : آپ نے اس وقت کی خاص شرائط میں ایک ایسا طرز عمل اپنانے کو ترجیح دی جس سے آپ اپنے رقیب  کی نظروں میں رہ کر  آپ کے خلاف اقدام   کے لئے بہانا دینے کے بجائے  ، دوسروں  کو اپنی نظروں میں رکھنے اور دوسروں کو  شرعی مسائل میں آپ کی طرف رجوع کرنے کا موقع  فراہم کیا تاکہ اسلامی معاشرے کو درپیش  مشکلات اور  انحرافات کو کم سے کم کیا جاسکے اسی طرز عمل کا نتیجہ تھا کہ دوسرے جب بھی کسی مسئلہ میں پھس جاتے یا  جب آپ  دیکھتےکہ  دوسرے جہالت کی وجہ سے انحراف کا شکار ہورہے ہیں تو فورا میدان میں حاضر ہوکر اس  مشکل کو حل کرتے تھے اسی لئے خلیفہ دوم بار بار اس چیز کا  اعلان کرتا تھا کہ علی ابن ابی طالبؑ اگر نہ ہوتے تو عمر ہلاک ہوجاتا اور یہ دعا کرتا  تھا؛  اللہ مجھے ایسا دن نہ دکھائے کہ میں مشکل میں  پڑ جاوں، لیکن اس کو حل کرنے کے ابو الحسن علی ؑ نہ ہو’’کان عمر یتعوذ بالله من مُعضِلة لیس لها أبو حسن.[31]

 

 12 : جو لوگ شیعوں پر اعتراض کرتے ہیں کہ اگر  بیعت لینے کے لئے جناب فاطمہ ؑ کے گھر پر حملہ ہوا ہو اور اس دوران  بعض لوگ جناب فاطمہؑ کی  شان میں گستاخی کے مرکتب ہوئے ہو تو کیوں حضرت علی ؑ خاموش رہے، کیوں انہو ں نے شجاعت کا مظاہرہ نہیں کیا ؟ ہم اس قسم کی اعتراض کرنے والوں سے کہتے ہیں  کہ کیا آپ لوگوں کی کتابوں میں نہیں ہے کہ حاکم چاہے ظالم اور فاسق ہی کیوں نہ ہو اس کے خلاف قیام نہیں کرنی چاہے اور اس سلسلے میں  آپ لوگوں کی کتابوں میں  موجود روایتیں [32] صحیح ہوں تو  کیا امام علی ؑ کی خاموشی کو  انہیں روایات کے ذریعے سے توجیہ نہیں کی جاسکتی اور اگر یہ روایتیں غلط ہو تو آپ لوگوں نے کس بنا پر یہ عقیدہ بنا رکھے ہیں کہ حاکم کے خلاف قیام جائز نہیں ہے چاہے  وہ ظالم ہی کیوں نہ ہو[33] ؟

 

ان مطالب کی روشنی میں ہم یہ کہتے ہیں کہ   اگر امام علیؑ تلوار اٹھاکر دوسروں کے قتل یا اپنے قتل ہونے میں اسلام اور مسلمانوں کی مفاد اور مصلحت دیکھتے تو  یقینا ایسا ہی کرتے اور  مظلومیت کے ساتھ اپنے حق کے  ضائع ہونے اور گھر پر حملہ ہونے کو تحمل نہیں کرتے ۔

لہذا اس دور  کی  حالات اور وجوہات کی وجہ سے  امام کی طرف سے طاقت کا استعمال نہ کرنے اور  مجبوری کی حالت میں بیعت کرنے کو  ذلت ، بذدلی وغیرہ سے تعبیر  کرنا امام علی ؑ کی شخصیت   اور  اس دور کے حالات  سے ناآشنا ،  شجاعت  و  بہادری اور  ذلت و بذدلی کے حقیقی مفہوم سے جاہل لوگ ہی کہہ سکتا ہے   اور  اس قسم کی سوچ  حقیقت  میں امام علی ؑ کی سوچ نہیں ہے بلکہ معاویہ جیسے لوگوں کی سوچ ہے کیونکہ مجبور ہوکر بیعت کو بہانا بنا کر  معاویہ نے امام علی ؑ کی سرزنش کرنا چاہا تو امام نے فرمایا کہ تم مجھے رسوا کرنا چاہتا تھا لیکن تم خود  رسوا ہوا کیونکہ مظلوم ہونا عیب نہیں ہے ظالم بننا باعث نگ و عار ہے ۔

 

ان حقائق  کا مطلب یہ ہے کہ  امام ایسی صورت حال سے دوچار تھے کہ اگر اپنے حق کو لینے کے لیے قیام کرتے تو اسلام اور مسلمانوں کو اندورنی اور بیرونی طور پر  ناقابل جبران نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ، امام کے ساتھ نہ ہی اتنے یار  و یاور تھے کہ بغیر کسی فتنہ و فساد کے اپنے حق کو لے لیتے اور نہ ہی  بغیر یار و  یاور کے قیام کر سکتے تھے ، کئی مرتبہ آپ کو قتل کی دھمکی بھی  دی گئی.  امام اور اہل بیت کا قتل ہونا  کسی صورت میں بھی اسلام اور مسلمانوں  کی مصلحت میں نہ تھا۔

 لہذا امام نے  اسلام اور مسلمانوں کی مصلحت کے پیش نظر مسالمت آمیز طرز زندگی اپنا کر  ایک طرف سے  دوسروں  کو  اپنے خلاف کسی قسم کی  خطرناک  اقدام کرنے کا بہانا  نہیں دیا  ،دوسری  طرف سے  اس طرز عمل کے ذریعے اپنے لئے اسلام اور مسلمانوں کو درپیش چلینجوں  کے مقابلے  کی   فرصت فراہم کی ، تاکہ دین مقدس اسلام کو  درپیش خطرات  کو کم سے کم  حالت میں لایا جاسکے[34]

لہذا ایسی حالات میں کوٗی امام ؑ کی جیسی صورت حال سے دوچار ہو اور امام جیسی طرز زندگی نہ  اپناے تو ایسے شخص پر اعتراض کرنا چاہے نہ  برعکس ۔

 

یہی صورت حال  امام حسنؑ  کا معاویہ سے صلح  اور اس کی بیعت  کا بھی ہے معاویہ نے امام سے حکومت چھین لیا تھا   اور امام نے رضایت کے ساتھ  اس صلح نامے پر دستخط  نہیں  کیا تھا ،  امام اگر صلح یا بیعت نہ کرتے تو  نہ معاویہ انہیں آزاد چھوڑتا  اور اگر  امام مجبور  نہ ہوتے تو اس سے صلح کرتے یا اس کی بیعت کرتے. اگر کوئی یہ کہے کہ امام مجبور نہ تھے تو یہ تاریخی  حقائق  کے خلاف ہے  اور اس کو   امام حسن ؑ کی رضایت سے تعبیر کرنا  مغالطہ  سے کام لینا ہے یہاں یہ کہنا امام کی شان میں گستاخی ہے کہ آپ  معاویہ کو اس کا اہل سمجھتے تھے۔

لہذامجبور ہوکر انجام دینے والے  اس قسم کی  صلح کو بزدلی اور رضایت کہنا  یا  مد مقابل  کی حقانیت کی دلیل قرار دینا  کسی صورت میں منطقی نہیں ہے،کوئی اسلحہ کے زور پر  کسی  سے  کوئی چیز چھین لے  اور  کسی معاہدے پر دستخط  کرائے تو یہ نہیں کہہ سکتا  کہ مجبور شخص نے رضایت کے ساتھ یہ کام انجام  دیا ہے اور دستخط لینے والے اس کا حقدار ہوگا .جیساکہ  جناب ابو ایوب انصاری  جب معاویہ کے ظالم کمانڈر کی خوف سے ام المئومنین ام سلمہ کے پاس پناہ لینے آیا تو اس وقت یہ کہہ رہے تھے کہ مجھے جان کا خطرہ ہے جبکہ  معاویہ کی بیعت کرنا گمراہی  ہے [35] لیکن جان  بچانے کی خاطر  معاویہ  کی بیعت کی،یہاں  کوئی یہ نہیں  کہہ سکتا ہے کہ جناب ابو ایوب  انصاری معاویہ  کی خلافت پر راضی تھے اور  انہیں شرعی خلیفہ مانتے تھے. 

 



[1] ۔  - ، وَقَالَ بَيْنَا هُوَ ذَاتَ يَوْمٍ وَسَارَةُ إِذْ أَتَى عَلَى جَبَّارٍ مِنَ الْجَبَابِرَةِ فَقِيلَ لَهُ إِنَّ هَا هُنَا رَجُلاً مَعَهُ امْرَأَةٌ مِنْ أَحْسَنِ النَّاسِ ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ ، فَسَأَلَهُ عَنْهَا . فَقَالَ مَنْ هَذِهِ قَالَ أُخْتِى ، 9صحيح البخاري،ج3، ص1225، ح 3358،كِتَاب الْأَنْبِيَاءِ، بَاب قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى «وَاتَّخَذَ الله إبراهيم خَلِيلًا»

[2] - يا أماه ! إني خشيت على دمي و هذه بيعة ضلالة ۔۔  تاريخ الطبري [3 /153]الكامل في التاريخ [2 /100] البداية والنهاية [7 /322] المنتظم [2 /128] التاريخ الصغير  بخاری (1/ 141)

’’ فبايع بسر بن أرطاة لمعاوية كارھا السيرة لابن حبان [ص 548]

[3] ۔ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ ، قَالَ : أَتَيْتُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ ، فَقُلْتُ لَهُ : إِنَّ خَتَنًا لِي ، حَدَّثَنِي عَنْكَ بِحَدِيثٍ ، فِي شَأْنِ عَلِيٍّ ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، يَوْمَ غَدِيرِ خُمٍّ ، فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أَسْمَعَهُ مِنْكَ ، فَقَالَ : إِنَّكُمْ مَعْشَرَ أَهْلِ الْعِرَاقِ فِيكُمْ مَا فِيكُمْ ، فَقُلْتُ لَهُ : لَيْسَ عَلَيْكَ مِنِّي بَأْسٌ/  مسند أحمد بن حنبل (4/ 368)

[4] ۔: «وقد كان حذيفة رضي الله عنه ممن يستعمل التقية على ما روي أنه يداري رجلاً ، فقيل له : إنّك منافق !! فقال : لا ، ولكني اشتري ديني بعضه ببعض مخافة أن يذهب كلّه». المبسوط كتاب الاِكراه | 24 ،

[5] ۔ ما من ذي سلطان يريد أن يكلفني كلاماً يدرأ عني سوطاً أو سوطين إلاّ كنت متكلماً به».

، وقال : «ولا يعرف له من الصحابة رضي الله عنهم مخالف ۔۔المحلّى | ابن حزم 8 : 336 مسألة 1409

[6] ۔ ۔ إنا لنكشر في وجوه أقوام وإن قلوبنا لتلعنهم۔ صحيح البخاري (5/ 2270) شعب الإيمان (10/ 430)

[7] ۔ سَمِعْتُ الْحَجَّاجَ، يَخْطُبُ، فَذَكَرَ كَلَامًا أَنْكَرْتُهُ فَأَرَدْتُ أَنْ أُغَيِّرَهُ فَذَكَرْتُ قَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَنْبَغِي لِلْمُؤْمِنِ أَنْ يَذِلَّ نَفْسَهُ» ، قَالُوا: وَكَيْفَ يَذِلُّ نَفْسَهُ؟ قَالَ: «يَتَعَرَّضُ مِنَ الْبَلَاءِ مَا لَا يُطِيقُ»۔۔۔أمثال الحديث لأبي الأصبهاني (ص: 187) المعجم الأوسط (5/ 294)

[8] ۔ [ غافر۔28] [سورہ آل عمران آیت:  ٢8]

[9] ۔ فكان (الزبير) يقول:۔۔۔۔ بايعت مكرها. أنساب الأشراف للبلاذري (2/ 207)

[10] ۔ یعنی ایسا کام جو کسی سوچ بچار  کے  بغیر اتفاقی طور پر عمل میں آیا ہو۔

[11] ۔ فرمان پیغمبر: وَأَحِبُّوا أهل بيتى بحبى/  سنن الترمذى [12 /260]. المعجم الكبير [3 /46]   

إِنِّي قَدْ تَرَكْتُ فِيكُمُ الثَّقَلَيْنِ ۔، كِتَابُ اللَّهِ تَعَالَى، وَعِتْرَتِي، فَانْظُرُوا كَيْفَ تَخْلُفُونِي فِيهِمَا، فَإِنَّهُمَا لَنْ يَتَفَرَّقَا حَتَّى يَرِدَا عَلَيَّ الْحَوْضَ /  المستدرك على الصحيحين (3/ 118) سنن الترمذي (5/ 663)

 وَإِنِّي سَائِلُكُمْ حِينَ تَرِدُونَ عَلَيَّ عَنِ الثَّقَلَيْنِ، فَانْظُرُوا كَيْفَ تَخْلُفُونِي فِيهِمَا؟ المعجم الكبير للطبراني (3/ 67)

[12] ۔

[13] ۔ أن النبي صَلَّى الله عَلَيه وسَلَّم سد أبواب الناس في المسجد وفتح باب علي فقال الناس في ذلك فقال : ما أنا فتحته ولكن الله فتحه ./ اتحاف الخيرة المهرة (7/ 200)   مسند البزار (2/ 174،  سنن الترمذى (12/ 194)

[14] ۔ عَنْ جُمَيْعِ بْنِ عُمَيْرٍ التَّيْمِيِّ قَالَدَخَلْتُ مَعَ عَمَّتِي عَلَى عَائِشَةَ فَسُئِلَتْ أَيُّ النَّاسِ كَانَ أَحَبَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ فَاطِمَةُ فَقِيلَ مِنْ الرِّجَالِ قَالَتْ زَوْجُهَا /  سنن الترمذى [12 /375]

[15]۔  أنساب الأشراف للبلاذري (1/ 585) 

[16] ۔ جیساکہ  صحیح مسلم اور بخاری وغیرہ کی روایت کے مطابق جناب فاطمہ جب تک زندہ رہی  امام علی نے بیعت نہیں کی اور ان روایتوں کے مطابق جناب فاطمہ حضور کی وفات کے چھے مہینہ بعد وفات پائی ۔ وَعَاشَتْ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- سِتَّةَ أَشْهُرٍ صحيح مسلم (5/ 155) صحيح البخاري (4/ 1549)

[17] ۔ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ:لَمْ يُبَايِعْ عَلِيٌّ أَبَا بَكْرٍ حَتَّى مَاتَتْ فَاطِمَةُ بَعْدَ سِتَّةِ أَشْهُرٍ. فَلَمَّا مَاتَتْ، ضَرَعَ إِلَى صُلْحِ أَبِي بَكْرٍ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ أَنْ يَأْتِيَهُ. أنساب الأشراف للبلاذري (1/ 586)

[18] ۔ بعث أبو بكر عمرَ بن الخطاب إلى علي رضي الله عنهم حين قعد عن بيعته وقال: ائتني به بأعنف العنف، فلما أتاه، ۔۔..ثم أتاه فبايعه. أنساب الأشراف (1/ 253 )

 

 . فَجَاءَ عُمَرُ، ومعه فتيلة  . فتلقته فاطمة على الباب، فقالت فاطمة: [يا ابن الْخَطَّابِ، أَتُرَاكَ مُحَرِّقًا عَلَيَّ بَابِي؟ قَالَ: نَعَمْ، . وَجَاءَ عَلِيٌّ، فَبَايَعَ.[19] أنساب الأشراف للبلاذري (1/ 586)۔

[20] ۔ فلما سمع القوم صوتها و بكائها انصرفو باكين و كادت قلوبهم تنصدع و اكباد هم تنفطر و بقي عمر و معه قوم فاخرجوا علياً فمضوا به الي ابي بكر  الامه و السياسه ج1 ص 13   اعلام النساء، ج4 ص 155

ابوبكر جوهري   ۔۔۔۔۔۔۔   ثم دخل عمر فقال لعلي : قم فبايع فتلكأ واحتبس  فأخذ بيده وقال : قم فأبى ان يقوم ، فحمله ودفعه كما دفع الزبير ثم امسكهما خالد ، وساقهما عمر ومن معه سوقا عنيفا ، واجتمع الناس ينظرون ، وامتلأت شوارع المدينة بالرجال ، ورأت فاطمة ما صنع عمر . فصرخت وولولت ، واجتمع معها نساء كثير من الهاشميات وغيرهن ، فخرجت الى باب حجرتها ، ونادت ، يا أبا بكر ، ما أسرع ما أغرتم على أهل بيت رسول الله ، والله لا أكلم عمر حتى ألقى الله / . السقيفة وفدك (6/ 2)

[21] ۔ انا احقّ بهذا الامر منکم لا ابایعکم و انتم اولی بالبیعه لی/ شرح نهج البلاغه6/10

[22] ۔ ۔الإمامة والسياسة [1 /17] شرح نهج البلاغة - ابن ابي الحديد [ص 3134]

[23]۔ قُلْتَ إِنِّي كُنْتُ أُقَادُ كَمَا يُقَادُ اَلْجَمَلُ اَلْمَخْشُوشُ حَتَّى أُبَايِعَ وَ لَعَمْرُ اَللَّهِ لَقَدْ أَرَدْتَ أَنْ تَذُمَّ فَمَدَحْتَ وَ أَنْ تَفْضَحَ فَافْتَضَحْتَ وَ مَا عَلَى اَلْمُسْلِمِ مِنْ غَضَاضَةٍ فِي أَنْ يَكُونَ مَظْلُوماً مَا لَمْ يَكُنْ شَاكّاً فِي دِينِهِ وَ لاَ مُرْتَاباً بِيَقِينِهِ /  التذكرة الحمدونية، ج 7، ص 165- 166/ نهج البلاغة، ج 15، ص  106/ نهاية الأرب في فنون الأدب، ج 7، ص184 - صبح الأعشي في كتابة الإنشا، ج 1، ص 276۔

[24] ۔ اخذوه بالبیعه فامتنع و قال لا افعل فقالوا: نقتلک. فقال: ان تقتلونی فانا عبد الله و اخو رسوله و بسطوا یده فقبضها و عسر علیهم فتحا فمسحو علیها و هی مضمونه . / . اثبات الوصیة، مسعودی شافعی: 124، فی خلافة ابابکر و عمر بن الخطاب.

 

[25] -- الاحتجاج  ص 280 -281

[26] ۔ کتاب ’’خصال ص 461

[27] ۔ ( من مات وليس في عنقه بيعة مات ميتة جاهلية )

مَاتَ وَلَيْسَ لَهُ إِمَامٌ ، مَاتَ مِيتَةَ جَاهِلِيَّةٍ.

إتحاف الخيرة المهرة [5 /60] صحيح ابن حبان [10 /434] مسند أبي يعلى- [6 /403]السنة لأبي بكر بن الخلال [1 /13] مجمع الزوائد ومنبع الفوائد [5 /405]

من مات بغير إمام مات ميتة جاهلية

مسند أحمد بن حنبل [4 /96]إطراف المسند المعتلي بأطراف المسند الحنبلي [5 /334] مسند الطيالسي [ص 259] مجمع الزوائد ومنبع الفوائد [5 /393]المعجم الكبير [19 /388] حلية الأولياء [3 /224] مسند الشاميين للطبراني [5 /277]

من مات ولم يعرف إمام زمانه مات ميتة جاهلية

ينابيع المودة ج:3 ص:372. طبقات الحنفية ص:457.المغني    ج‏20(امامت‏1   

 

[28] ۔ مثلا خلیفہ سوم کے دور میں آپ نے فرمایا ؛ فقال قائلهم : يابن أبى طالب ، إنك على هذا الامر لحريص ، فقلت : أنتم أحرص منى وأبعد ، أينا أحرص ، أنا الذى طلبت ميراثي وحقى الذى جعلني الله ورسوله أولى به ، أم أنتم إذ تضربون وجهى دونه ، وتحولون بينى وبينه ! فبهتوا والله لا يهدى القوم الظالمين/  . شرح نهج البلاغة (6/ 96)

[29] ۔  فأمسكت يدى ، ورأيت أنى أحق بمقام محمد صلى الله عليه في الناس ممن تولى الامر من بعده ، فلبثت بذاك ما شاء الله حتى رأيت راجعة من الناس رجعت عن الاسلام ، يدعون إلى محق دين الله وملة محمد صلى الله عليه ، فخشيت إن لم أنصر الاسلام وأهله أن أرى فيه ثلما وهدما يكون المصاب بهما على أعظم من فوات ولاية أموركم ، التى إنما هي متاع أيام قلائل ، ثم يزول ما كان منها كما يزول السراب ، وكما يتقشع السحاب ، فمشيت عند ذلك إلى أبى بكر فبايعته ، ونهضت في تلك الاحداث ، حتى زاغ الباطل وزهق ، وكانت كلمة الله هي العليا ، ولو كره الكافرون /  ۔شرح نهج البلاغة ابن ابی الحدیید  (6/ 95)

[30] ۔ أنساب الأشراف للبلاذري (2/ 352)

[31] . امام احمد حنبل، فضائل الصحابة، ج2،ص803، ح1100/  اسد الغابة في معرفة الصحابة، ج3، ص596 ،  ذخائر العُقبی في مناقب ذوي القربی، ج1، ص395،   

[32] ۔ اس سلسلے کے  دو  نمونے ملاحظہ کریں ۔

      الف : سأل سلمة بن يزيد الجعفي رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال يا نبي الله أرأيت إن قامت علينا أمراء يسألونا حقهم ويمنعونا حقنا فما تأمرنا ؟ فأعرض عنه ثم سأله فأعرض عنه ثم سأله في اثانية أو في الثالثة فجذبه الأشعث بن قيس وقال ( اسمعوا وأطيعوا فإنما عليهم ما حملوا وعليكم ما حملتم ) صحيح مسلم  کتاب الامارہ ، باب 13 (3/ 1474)

ب :  قال حذيفة بن اليمان قلت يا رسول الله إنا كنا بشر فجاء الله بخير فنحن فيه فهل من وراء هذا الخير شر ؟ قال ( نعم ) قلت هل من وراء ذلك الشر خير ؟ قال ( نعم ) قلت فهل من وراء ذلك الخير شر ؟ قال ( نعم ) قلت كيف ؟ قال ( يكون بعدي أئمة لا يهتدون بهداي ولا يستنون بسنتي وسيقوم فيهم رجال قلوبهم قلوب الشياطين في جثمان إنس ) قال قلت كيف أصنع ؟ يا رسول الله إن أدركت ذلك ؟ قال ( تسمع وتطيع للأمير وإن ضرب ظهرك وأخذ مالك فاسمع وأطع ) سابقہ ایڈرس ۔

[33] ۔ ، والحق أنه يجب طاعة أولي الأمر مطلقاً وإن جاروا وظلموا أوخذوا أموالنا وجلدوا ظهورنا / منهج الشيخ محمد رشيد رضا في العقيدة (ص: 795)

بعد والی فصل میں ’’شیعہ مخالفین کے نذدیک خلافت کا تصور‘‘ کی بحث میں دیکھیں۔

[34] ۔آپ کا  یہ  کردار اس  داستان کی مثل ہے خلیفہ دوم کے زمانے   میں  آپ کے پاس دو خاتون کا ایک بچے کے بارے میں جگڑے  کا مسئلہ لایا گیا یہ دونوں بچے کے بارے میں  دعوی کر رہی تھیں ،امام  نے نصیحت  کے ذریعے معاملے کو حل کرنا چاہا لیکن جب  وہ دونوں اپنے دعوے  پر  اکڑی رہیں اس وقت آپ نے ایک آری لانے کا حکم دیا اس وقت ان میں سے ایک کہنے لگی آپ اس آری کے ساتھ  کیا کرنا چاہتے ہیں  اس وقت  امام نے فرمایا میں چاہتا ہوں ؛  بچے کوآدھا آدھا کر دوں  اس وقت  ایک خاموش رہی دوسرے نے   چیخ مار کر کہی کہ اے ابو الحسن   میں اس سے ہاتھ اٹھاتی ہوں  میں اس چیز پر راضی نہیں ہوں کہ  میرا بچہ  مر جاے ۔  [تسترى ،حاج شيخ محمد تقى، قضاوتهاى اميرالمومنين على عليه السلام - ص 18]

امام بھی بالکل اسی طرح دیکھ رہے تھے کہ اہل سقیفہ کسی صورت میں اپنے کئے سے ہاتھ اٹھانے والے نہیں ہیں اس صورت حال میں آپ کا مسلحانہ اقدام کرنا خود اسلام کے لئے خطرے کا باعث بن جاتا .

[35] - يا أماه ! إني خشيت على دمي و هذه بيعة ضلالة  السيرة لابن حبان [ص 548] تاريخ الطبري [3 /153]الكامل في التاريخ [2 /100] تاريخ اليعقوبي [ص 186] البداية والنهاية [7 /322] المنتظم [2 /128] الوافي في الوفيات [ص 1372]

 

تحریر :  غلام محمد ملکوتی ۔۔۔

 





Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی