2021 November 29
جناب عمر بن خطاب کی زبانی سقیفہ کا ماجرا [ صحیح بخاری کی روایت پ
مندرجات: ٢١١٥ تاریخ اشاعت: ٢٥ October ٢٠٢١ - ١٨:٢٩ مشاہدات: 201
یاداشتیں » پبلک
جناب عمر بن خطاب کی زبانی سقیفہ کا ماجرا [ صحیح بخاری کی روایت پ

صحیح بخاری‘‘  میں’’ عمر بن خطاب‘‘ کی زبانی سقیفہ کا ماجرا۔

صحیح بخاری ،جلد نمبر۸،صفحہ ۲۶،حدیث ۶۸۳۰،کتاب الحدود،باب ۳۱ میں ایک طولانی روایت ہے جو خود خلیفہ دوم عمر بن الخطاب سے نقل ہوئی ہے،کہ جس میں خلیفہ دوم نے سقیفہ بنی سعدہ کا ماجرا بیان کیا ہے۔
تاریخ کی مختلف کتابیں جیسے تاریخ طبری، ابن اثیر، بلاذری ابن اسحاق ، ابن هشام ، وغیرہ میں سقیفہ کا واقعہ نقل تو ہوا ہے لیکن کسی ایسے شخص سے نہیں جو خود وہاں موجود ہو ۔ ایسا پہلی بار ہوا کہ کسی ایسے شخص کے ذریعہ سقیفہ کا ماجرا بیان ہوا ہو جو خود وہاں موجود تھا اور وہ بھی کوئی اور نہیں خود خلیفہ دوم نے واقعہ بیان کیا ہے۔تقریبا سن ۲۳ہجری  میں خلیفہ دوم نے اپنی عمر کے آخری دنوں میں یہ ماجرا بیان فرمایا ،یعنی سقیفہ کے ماجرے کے ۱۰ یا ۱۲ سال بعد، اور اس روایت  کے راوی  جناب ابن عباس  ہیں،جو سبھی کے نزدیک معتبر  ہیں۔
اس روایت کا پس منظر کچھ اس طرح سے ہے کہ:

 

خلیفہ دوم عمر بن الخطاب مکہ میں تھے،اصحاب میں سے کچھ نے کہا منجملہ ’’جناب عمار‘‘ ، کہ اگر عمر بن الخطاب مر جائیں تو ہم علی بن ابی طالبؑ کے ساتھ بیعت کر لیں گے،

یہ بات جب خلیفہ دوم  کو پتہ چلی تو  بہت ناراض ہوئے اور چاہا کہ وہیں مکہ مکرمہ میں تقریر کریں اور ’عمار‘ کو جواب دیں لیکن بعض افراد کے منع کرنے پر رک گئے اور جب مدینہ واپس آئے تو  نماز جمعہ کے خظبہ میں حمد و ثنائے الٰھی کے بعد، کہا:

بعض لوگ کہہ رہے ہیں:[ لو مات عمر بايعت] اگر عمر  مر جائے تو ہم فلاں  کے ساتھ بیعت کر لیں گے اور  عمر اور ابوبکر کی  بیعت ایک  ناگہانی بغیر مشورت کے شر آفرین کام تھا۔ (البتہ عمر خود یہ کہ چکے تھے کہ:[ كانت بيعت ابي بكر فلتة و قي الله شرّها] یعنی : ابو بکر کی بیعت فلتة تھی خدا اسکے شر سے  محفوظ رکھے۔ (فلتة کہتے ہیں کسی ایسے کام کو جو ایک دم سے ناگہانی طور پر  بغیر مشورت  کےہو جائے اور وہ کام  جوشر آفرین ہو،ایسا کام جسکی بنیاد نہ ہو۔)
پھر عمر کہتے ہیں:

إِنَّهُ قَدْ كَانَ مِنْ خَبَرِنَا حِينَ تَوَفَّى اللَّهُ نَبِيَّهُ صلى الله عليه وسلم إِلاَّ أَنَّ الأَنْصَارَ خَالَفُونَا وَاجْتَمَعُوا بِأَسْرِهِمْ فِي سَقِيفَةِ بَنِي سَاعِدَةَ،]

 

 جب پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وفات ہو گئی  تب سارے کے سارے انصار  میرے مخالف ہو گئے اور  میری مخالفت میں سقیفہ  بنی ساعدہ میں جمع ہو گئے۔
[
وَخَالَفَ عَنَّا عَلِيٌّ وَالزُّبَيْرُ وَمَنْ مَعَهُمَا وَاجْتَمَعَ الْمُهَاجِرُونَ إِلَى أَبِي بَكْر] علی اور زبیر اور  انکے ساتھیوں نے بھی میری مخالفت کی اور مھاجرین ابو بکر کے ساتھ ہو گئے۔


(
البتہ یہ ایک ظریف بات ہے جو بخاری نے نقل کی  ہے کہ جناب عمر کہتے ہیں’’ علی اور زبیر اور  انکے ساتھیوں نے بھی میری مخالفت کی اور مھاجرین ابو بکر کے ساتھ ہو گئے ‘‘ جب کے علی اور زبیر مھاجرین میں سے تھے لیکن ابو بکر کے ساتھ نہیں ہوئے تھے

خلیفہ دوم  مزیدکہتے ہیں: یہاں تک کہ میں اور ابوبکر  نے سقیفہ کی طرف جانے کا عزم کیا اور چل دئے ،راستہ میں دو اور صالح لوگوں سے ملاقات ہوئی (بخاری نے ان دو لوگوں کے نا م حديث 2421پر بیان کئے ہیں) ہم سب وہاں پہنچ گئے  ،میں نے ایک مقالہ وہاں پڑھنے کے لئے تیار کیا تھا لیکن ابو بکر نے پڑھنا  شروع کر دیا  جب ہم وہاں پہنچے تو  دیکھا۔

[مُزَمَّلٌ بَيْنَ ظَهْرَانَيْهِمْ ...فَنَحْنُ أَنْصَارُ اللَّهِ وَكَتِيبَةُ الإِسْلاَمِ وَأَنْتُمْ مَعْشَرَ الْمُهَاجِرِينَ رَهْطٌ ، وَقَدْ دَفَّتْ دَافَّةٌ مِنْ قَوْمِكُمْ فَكَرِهْتُ أَنْ أُغْضِبَهُ، فَتَكَلَّمَ أَبُو بَكْر]
ایک شخص لحاف میں لپٹا ہوا ہے ۔ہم نے پوچھا ’’من ھذا‘‘ یہ لحاف میں لپٹ ہوا شخص کون ہے ؟ بتایا گیا کہ یہ  ’سعد بن عبادہ ‘ہے انہیں بہت شدید بخار ہے۔ ہم وہاں بیٹہ گئے یہاں تک کہ انصار میں سے ایک اٹھا اور تقریر شروع کی اور کہا : ہم انصار اللہ ہیں ہم اسلام کی اساس ہیں ،اور تم مہاجرین کم اور پست ہو تم کو تمہاری قوم نے  مکہ سےنکال دیا اور ہماری حکومت کو چھین نا چاہا۔
جب اسکی بات ختم ہوئی تو میں نے بولنا چاہا ویسے ہی ابوبکر نے مجھے روک دیا اور خود بولنا شروع کیا،مجھے اچھا نہیں لگا کہ ابوبکر کی مخالفت کروں ۔

 

ابو بکر نے کہا:[ فقَالَ مَا ذَكَرْتُمْ فِيكُمْ مِنْ خَيْر فَأَنْتُمْ لَهُ أَهْلٌ وَلَنْ يُعْرَفَ هَذَا الأَمْرُ إِلاَّ لِهَذَا الْحَىِّ أَوْسَطُ الْعَرَبِ نَسَبًا وَدَارًا]

جو باتیں  آپ نے فرمائیں اپنے  بارے میں وہ سب درست ہیں اور ان فضائل کے حق دار ہیں ،لیکن یہ امر خلافت سوائے قریش کے کسی اور کے لئے نہیں ہے، یہ قریش خاندانی اور نسلی شرف رکہتے ہیں تمام عرب پر۔

[...وَقَدْ رَضِيتُ لَكُمْ أَحَدَ هَذَيْنِ الرَّجُلَيْنِ] ابوبکر کہتے ہیں : میں ان دو لوگوں کی تجویز پیش کرتا ہوں  ایک ’’ابو عبیدہ جراح‘‘ دوسرے ’’عمر ابن خطاب‘‘ ان دونوں میں سے جسکی چاہے  بیعت کرئیے اور رسول اکرم کا خلیفہ معین کریئے۔

 

عمر مزید بیان کرتے ہیں[فَلَمْ أَكْرَهْ مِمَّا قَالَ غَيْرَهَا... كَانَ وَاللهِ أَنْ أُقدَّمَ فَتُضْرَبَ عُنُقِي]

ابو بکر کی ساری باتیں اچھی تھیں کوئی بات مجھے بری نہیں لگی مگر یہ بات کہ ’عمر یا ابو عبیدہ کو بیعت کے لئے انتخاب کیا جائے‘،خدا کی قسم  مجھے ڈر ہے کہ اگر میں خلیفہ بننے کے لئے آگے بڑھا  اور لوگوں سے بیعت لے لی تو مجھے قتل کر دیا جائے گا۔
[
فَكَثُرَ اللَّغَطّ وَارْتَفَعَتِ الاَصْوَاتُ]
جب بات یہاں تک پہنچی تو مہاجرین اور انصارمیں لڑائی شروع ہو گئی اور انصار نے اعتراض شروع کر دیا اور چی میگویاں اتنی بڑہ گئیں کہ آوازیں بلند ہو گئیں ۔
قارئین گرامی ! یہاں پر ایک سوال ذہن میں آتا ہے اور وہ یہ کہ جب رسول اکرم [ص] ابو بکر کو خلیفہ بنا چکے تھے تو یہ  اختلاف خلیفہ تعیین کرنے پر کیوں وجود میں آیا؟

اور جس طرح سے کہا جاتا ہے کہ سقیفہ میں بزرگان جمع ہوئے  تھے تاکہ  مسائل حل کئے جائیں اور ابو بکر کو خلیفہ انتخاب کیا گیا تو ،یہ تو خود صحیح بخاری کی روایت ہے جو بتا رہی ہے کہ وہاں شدید اختلافات ہوئے۔
عمر بن خطاب کہتے ہیں: یہاں تک کہ بحث اور لڑائی زیادہ ہونے لگی تو مجھے ایسا لگا کہیں یہ اور زیادہ نہ ہو جائے تو میں نے[ فَرِقْتُ مِنَ الاِخْتِلاَفِ فَقُلْتُ ابْسُطْ يَدَكَ يَا أَبَا بَكْر] ابوبکر سے کہا اپنا ہاتھ آگے بڑھائےتاکہ میں بیعت کروں، انہونے ہاتھ آگےبڑھایا اور میں نے بیعت کی میرے بعد مہاجرین نے بیعت کر لی اور انکے بعد انصار نے بیعت کر لی۔
اور  پھر[وَ نَزَوْنَا عَلَي سَعْدِ بْنِ عُبَادَهَ] ہم سب سعد بن عبادہ (کہ جو انصار کی طرف سے خلیفہ بننے کے لئے  کھڑا ہوا تھا)پر حملہ آور ہو گئے،یہاں تک کہ کسی نے کہا [فَقَالَ قَائِلٌ مِنْهُمْ قَتَلْتُمْ سَعْدَ بْنَ عُبَادَه] کہ تمہارے حملے سے سعد بن عبادہ مر گیا،تو میں نے کہا [فَقُلْتُ قَتَلَ اللَهُ سَعْدَ بْنَ عُبَادَه] خدا مارڈالے سعد بن عبادہ کو۔
قارئین گرامی!

 جو حضرات بعض صحابہ کے لئے بڑی بڑی باتیں کر تے ہیں آئیں اور دیکھیں کس طرح  یہ ایک دوسرے کے ساتھ مار پیٹ کر رہے ہیں  اور کوس رہے ہیں یہاں تک کہ عمر خود کہہ رہے ہیں’’ وَ نَزَوْنَا عَلَي سَعْدِ بْنِ عُبَادَهَ فَقُلْتُ قَتَلَ اللَهُ سَعْدَ بْنَ عُبَادَه ‘‘ ۔

فیصلہ صاحبانِ حق و انصاف خود کریں۔

 

ابوبکر کا خلیفہ منتخب ہونا  پہلے سے تیار شدہ ایک پروگرام اور سازش کا نتیجہ تھا  :


اہل سنت کے علماء میں سے ایک مشہور مصری عالم نے اپنی کتاب حياة الخليفة عمر بن الخطاب میں  کتاب [و ما لقيه من صحابة الرسول، صفحه 373  ] سے نقل کیا ہے ۔

سقیفہ  بنی ساعدہ کا واقعہ اچانک اور ایک دو گھنٹے میں انجام پانے والا واقعہ نہیں ہے۔

 ابوبکر کی خلافت  چند مہاجرین اور انصار کے درمیان انجام پانے والے ایک ناگہانی امر کا نتیجہ نہیں تھا ۔ بلکہ اس کے لئے پہلے سے پلان تیار کیا ہوا تھا اور ایک طے  شدہ ساش کا نتیجہ تھا:  
و إنما كان وليد مؤامرات سرّية مبرمة حيكت أصولها و ربت أطرافها، بكل عناية و إحكام و إن أبطال هذه المؤامرة: أبو بكر، عمر بن الخطاب، أبو عبيدة بن الجراح و من أنصار هذا الحزب: عائشة و حفصة.
سقیفہ کا واقعہ ایک اندرونی اور سری سازش کا نتیجہ تھا،پہلے سے ہی یہ طے ہوچکا تھا کہ ابوبکر کو خلافت کے مقام پر بٹھانا ہے ، اس سازش اور پلان کے اصلی لیڈر جناب  ابوبکر ،عمر ابوعبیدہ تھے، اور پیچھے سے جناب عائشہ اور حفصہ اس کام میں مدد کر رہی تھیں ۔ ۔

مع رجال الفكر للسيد مرتضى الرضوي، ج2، ص106 - من حياة الخليفة عمر بن الخطاب لعبد الرحمن أحمد البكري، ص181

اگر اھل سنت اس سلسلے میں ہم پر اعتراض کرتے ہیں تو یہ اعتراض ہم پر نہیں ہے بلکہ  اعتراض اھل سنت کے ہی علماء پر ہے ہم نے تو صرف نقل کیا ہے ۔۔۔

 

قابل توجہ نکات :

جیساکہ اسی اعتراف میں خود خلیفہ دوم یہی کہہ رہا ہے کہ سقیفہ میں جانے سے پہلے

مہاجرین ابوبکر کی حمایت پر کمر بستہ تھے اور اس سلسلے میں بات چیت مکمل ہوگئی تھی اور جناب ابوبکر کو خلیفہ بنانے پر اتفاق راے قائم ہوچکی تھی ۔۔۔۔

لیکن حضرت علی علیہ السلام ،جناب زبیر اور ان کے ساتھی اور سارے انصار اس چیز کے مخالف تھے ۔۔۔

اور جیساکہ انصار کی طرف سے سقیفہ میں اجتماع کی بنیادی وجہ یہی مسئلہ تھا کیونکہ انصار  کو  اس وقت کی حالات اور واقعات کے تناظر میں اس بات پر یقین تھا کہ خلافت اب بنی ھاشم تک نہیں پہنچے گی ۔انصار یہ احساس کر رہے تھے کہ  اگر انصار قریش کے مقابلے میں حرکت میں نہ آئے تو حکومت قریش کے ہاتھ میں چلی جائے گی  اور ایسی صورت میں انہیں یہ خوف لاحق تھا کہ کہیں قریش کے  ایسے لوگ اقتدار کو ہاتھ میں نہ لے کہ جن کے بزرگوں کو انصار نے اسلام اور کفر کی جنگ میں مار ڈالے تھے ۔۔۔۔

لہذا انصار نے سقیفہ میں انہیں خیالات کا اظہار بھی کیا ۔

 

روایت کا عربی متن :

صحيح البخارى (22/ 374، بترقيم الشاملة آليا) :

6830 - حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنِى إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ صَالِحٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كُنْتُ أُقْرِئُ رِجَالاً مِنَ الْمُهَاجِرِينَ مِنْهُمْ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ ، فَبَيْنَمَا أَنَا فِى مَنْزِلِهِ بِمِنًى ، وَهْوَ عِنْدَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فِى آخِرِ حَجَّةٍ حَجَّهَا ، إِذْ رَجَعَ إِلَىَّ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَقَالَ لَوْ رَأَيْتَ رَجُلاً أَتَى أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ الْيَوْمَ فَقَالَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ هَلْ لَكَ فِى فُلاَنٍ يَقُولُ لَوْ قَدْ مَاتَ عُمَرُ لَقَدْ بَايَعْتُ فُلاَنًا ، فَوَاللَّهِ مَا كَانَتْ بَيْعَةُ أَبِى بَكْرٍ إِلاَّ فَلْتَةً ، فَتَمَّتْ . فَغَضِبَ عُمَرُ ثُمَّ قَالَ إِنِّى إِنْ شَاءَ اللَّهُ لَقَائِمٌ الْعَشِيَّةَ فِى النَّاسِ ، فَمُحَذِّرُهُمْ هَؤُلاَءِ الَّذِينَ يُرِيدُونَ أَنْ يَغْصِبُوهُمْ أُمُورَهُمْ . قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَقُلْتُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ لاَ تَفْعَلْ فَإِنَّ الْمَوْسِمَ يَجْمَعُ رَعَاعَ النَّاسِ وَغَوْغَاءَهُمْ ، فَإِنَّهُمْ هُمُ الَّذِينَ يَغْلِبُونَ عَلَى قُرْبِكَ حِينَ تَقُومُ فِى النَّاسِ ، وَأَنَا أَخْشَى أَنْ تَقُومَ فَتَقُولَ مَقَالَةً يُطَيِّرُهَا عَنْكَ كُلُّ مُطَيِّرٍ ، وَأَنْ لاَ يَعُوهَا ، وَأَنْ لاَ يَضَعُوهَا عَلَى مَوَاضِعِهَا ، فَأَمْهِلْ حَتَّى تَقْدَمَ الْمَدِينَةَ فَإِنَّهَا دَارُ الْهِجْرَةِ وَالسُّنَّةِ ، فَتَخْلُصَ بِأَهْلِ الْفِقْهِ وَأَشْرَافِ النَّاسِ ، فَتَقُولَ مَا قُلْتَ مُتَمَكِّنًا ، فَيَعِى أَهْلُ الْعِلْمِ مَقَالَتَكَ ، وَيَضَعُونَهَا عَلَى مَوَاضِعِهَا . فَقَالَ عُمَرُ أَمَا وَاللَّهِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ لأَقُومَنَّ بِذَلِكَ أَوَّلَ مَقَامٍ أَقُومُهُ بِالْمَدِينَةِ . قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَقَدِمْنَا الْمَدِينَةَ فِى عَقِبِ ذِى الْحَجَّةِ ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ عَجَّلْنَا الرَّوَاحَ حِينَ زَاغَتِ الشَّمْسُ ، حَتَّى أَجِدَ سَعِيدَ بْنَ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ جَالِسًا إِلَى رُكْنِ الْمِنْبَرِ ، فَجَلَسْتُ حَوْلَهُ تَمَسُّ رُكْبَتِى رُكْبَتَهُ ، فَلَمْ أَنْشَبْ أَنْ خَرَجَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، فَلَمَّا رَأَيْتُهُ مُقْبِلاً قُلْتُ لِسَعِيدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ ، لَيَقُولَنَّ الْعَشِيَّةَ مَقَالَةً لَمْ يَقُلْهَا مُنْذُ اسْتُخْلِفَ ، فَأَنْكَرَ عَلَىَّ وَقَالَ مَا عَسَيْتَ أَنْ يَقُولَ مَا لَمْ يَقُلْ . قَبْلَهُ فَجَلَسَ عُمَرُ عَلَى الْمِنْبَرِ ، فَلَمَّا سَكَتَ الْمُؤَذِّنُونَ قَامَ فَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ قَالَ أَمَّا بَعْدُ فَإِنِّى قَائِلٌ لَكُمْ مَقَالَةً قَدْ قُدِّرَ لِى أَنْ أَقُولَهَا ، لاَ أَدْرِى لَعَلَّهَا بَيْنَ يَدَىْ أَجَلِى ، فَمَنْ عَقَلَهَا وَوَعَاهَا فَلْيُحَدِّثْ بِهَا حَيْثُ انْتَهَتْ بِهِ رَاحِلَتُهُ ، وَمَنْ خَشِىَ أَنْ لاَ يَعْقِلَهَا فَلاَ أُحِلُّ لأَحَدٍ أَنْ يَكْذِبَ عَلَىَّ ، إِنَّ اللَّهَ بَعَثَ مُحَمَّدًا - صلى الله عليه وسلم - بِالْحَقِّ وَأَنْزَلَ عَلَيْهِ الْكِتَابَ فَكَانَ مِمَّا أَنْزَلَ اللَّهُ آيَةُ الرَّجْمِ ، فَقَرَأْنَاهَا وَعَقَلْنَاهَا وَوَعَيْنَاهَا ، رَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - وَرَجَمْنَا بَعْدَهُ ، فَأَخْشَى إِنْ طَالَ بِالنَّاسِ زَمَانٌ أَنْ يَقُولَ قَائِلٌ وَاللَّهِ مَا نَجِدُ آيَةَ الرَّجْمِ فِى كِتَابِ اللَّهِ ، فَيَضِلُّوا بِتَرْكِ فَرِيضَةٍ أَنْزَلَهَا اللَّهُ ، وَالرَّجْمُ فِى كِتَابِ اللَّهِ حَقٌّ عَلَى مَنْ زَنَى إِذَا أُحْصِنَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ ، إِذَا قَامَتِ الْبَيِّنَةُ أَوْ كَانَ الْحَبَلُ أَوْ الاِعْتِرَافُ ، ثُمَّ إِنَّا كُنَّا نَقْرَأُ فِيمَا نَقْرَأُ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ أَنْ لاَ تَرْغَبُوا عَنْ آبَائِكُمْ ، فَإِنَّهُ كُفْرٌ بِكُمْ أَنْ تَرْغَبُوا عَنْ آبَائِكُمْ ، أَوْ إِنَّ كُفْرًا بِكُمْ أَنْ تَرْغَبُوا عَنْ آبَائِكُمْ ، أَلاَ ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - قَالَ « لاَ تُطْرُونِى كَمَا أُطْرِىَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ وَقُولُوا عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ » . ثُمَّ إِنَّهُ بَلَغَنِى أَنَّ قَائِلاً مِنْكُمْ يَقُولُ وَاللَّهِ لَوْ مَاتَ عُمَرُ بَايَعْتُ فُلاَنًا . فَلاَ يَغْتَرَّنَّ امْرُؤٌ أَنْ يَقُولَ إِنَّمَا كَانَتْ بَيْعَةُ أَبِى بَكْرٍ فَلْتَةً وَتَمَّتْ أَلاَ وَإِنَّهَا قَدْ كَانَتْ كَذَلِكَ وَلَكِنَّ اللَّهَ وَقَى شَرَّهَا ، وَلَيْسَ مِنْكُمْ مَنْ تُقْطَعُ الأَعْنَاقُ إِلَيْهِ مِثْلُ أَبِى بَكْرٍ ، مَنْ بَايَعَ رَجُلاً عَنْ غَيْرِ مَشُورَةٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ فَلاَ يُبَايَعُ هُوَ وَلاَ الَّذِى بَايَعَهُ تَغِرَّةً أَنْ يُقْتَلاَ ، وَإِنَّهُ قَدْ كَانَ مِنْ خَبَرِنَا حِينَ تَوَفَّى اللَّهُ نَبِيَّهُ - صلى الله عليه وسلم - إِلاَّ أَنَّ الأَنْصَارَ خَالَفُونَا وَاجْتَمَعُوا بِأَسْرِهِمْ فِى سَقِيفَةِ بَنِى سَاعِدَةَ ، وَخَالَفَ عَنَّا عَلِىٌّ وَالزُّبَيْرُ وَمَنْ مَعَهُمَا ، وَاجْتَمَعَ الْمُهَاجِرُونَ إِلَى أَبِى بَكْرٍ فَقُلْتُ لأَبِى بَكْرٍ يَا أَبَا بَكْرٍ انْطَلِقْ بِنَا إِلَى إِخْوَانِنَا هَؤُلاَءِ مِنَ الأَنْصَارِ . فَانْطَلَقْنَا نُرِيدُهُمْ فَلَمَّا دَنَوْنَا مِنْهُمْ لَقِيَنَا مِنْهُمْ رَجُلاَنِ صَالِحَانِ ، فَذَكَرَا مَا تَمَالَى عَلَيْهِ الْقَوْمُ فَقَالاَ أَيْنَ تُرِيدُونَ يَا مَعْشَرَ الْمُهَاجِرِينَ فَقُلْنَا نُرِيدُ إِخْوَانَنَا هَؤُلاَءِ مِنَ الأَنْصَارِ . فَقَالاَ لاَ عَلَيْكُمْ أَنْ لاَ تَقْرَبُوهُمُ اقْضُوا أَمْرَكُمْ . فَقُلْتُ وَاللَّهِ لَنَأْتِيَنَّهُمْ . فَانْطَلَقْنَا حَتَّى أَتَيْنَاهُمْ فِى سَقِيفَةِ بَنِى سَاعِدَةَ ، فَإِذَا رَجُلٌ مُزَمَّلٌ بَيْنَ ظَهْرَانَيْهِمْ فَقُلْتُ مَنْ هَذَا فَقَالُوا هَذَا سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ . فَقُلْتُ مَا لَهُ قَالُوا يُوعَكُ . فَلَمَّا جَلَسْنَا قَلِيلاً تَشَهَّدَ خَطِيبُهُمْ ، فَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ثُمَّ قَالَ أَمَّا بَعْدُ فَنَحْنُ أَنْصَارُ اللَّهِ وَكَتِيبَةُ الإِسْلاَمِ ، وَأَنْتُمْ مَعْشَرَ الْمُهَاجِرِينَ رَهْطٌ ، وَقَدْ دَفَّتْ دَافَّةٌ مِنْ قَوْمِكُمْ ، فَإِذَا هُمْ يُرِيدُونَ أَنْ يَخْتَزِلُونَا مِنْ أَصْلِنَا وَأَنْ يَحْضُنُونَا مِنَ الأَمْرِ .

فَلَمَّا سَكَتَ أَرَدْتُ أَنْ أَتَكَلَّمَ وَكُنْتُ زَوَّرْتُ مَقَالَةً أَعْجَبَتْنِى أُرِيدُ أَنْ أُقَدِّمَهَا بَيْنَ يَدَىْ أَبِى بَكْرٍ ، وَكُنْتُ أُدَارِى مِنْهُ بَعْضَ الْحَدِّ ، فَلَمَّا أَرَدْتُ أَنْ أَتَكَلَّمَ قَالَ أَبُو بَكْرٍ عَلَى رِسْلِكَ . فَكَرِهْتُ أَنْ أُغْضِبَهُ ، فَتَكَلَّمَ أَبُو بَكْرٍ فَكَانَ هُوَ أَحْلَمَ مِنِّى وَأَوْقَرَ ، وَاللَّهِ مَا تَرَكَ مِنْ كَلِمَةٍ أَعْجَبَتْنِى فِى تَزْوِيرِى إِلاَّ قَالَ فِى بَدِيهَتِهِ مِثْلَهَا أَوْ أَفْضَلَ مِنْهَا حَتَّى سَكَتَ فَقَالَ مَا ذَكَرْتُمْ فِيكُمْ مِنْ خَيْرٍ فَأَنْتُمْ لَهُ أَهْلٌ ، وَلَنْ يُعْرَفَ هَذَا الأَمْرُ إِلاَّ لِهَذَا الْحَىِّ مِنْ قُرَيْشٍ ، هُمْ أَوْسَطُ الْعَرَبِ نَسَبًا وَدَارًا ، وَقَدْ رَضِيتُ لَكُمْ أَحَدَ هَذَيْنِ الرَّجُلَيْنِ ، فَبَايِعُوا أَيَّهُمَا شِئْتُمْ . فَأَخَذَ بِيَدِى وَبِيَدِ أَبِى عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ وَهْوَ جَالِسٌ بَيْنَنَا ، فَلَمْ أَكْرَهْ مِمَّا قَالَ غَيْرَهَا ، كَانَ وَاللَّهِ أَنْ أُقَدَّمَ فَتُضْرَبَ عُنُقِى لاَ يُقَرِّبُنِى ذَلِكَ مِنْ إِثْمٍ ، أَحَبَّ إِلَىَّ مِنْ أَنْ أَتَأَمَّرَ عَلَى قَوْمٍ فِيهِمْ أَبُو بَكْرٍ ، اللَّهُمَّ إِلاَّ أَنْ تُسَوِّلَ إِلَىَّ نَفْسِى عِنْدَ الْمَوْتِ شَيْئًا لاَ أَجِدُهُ الآنَ . فَقَالَ قَائِلٌ مِنَ الأَنْصَارِ أَنَا جُذَيْلُهَا الْمُحَكَّكُ ، وَعُذَيْقُهَا الْمُرَجَّبُ ، مِنَّا أَمِيرٌ ، وَمِنْكُمْ أَمِيرٌ ، يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ . فَكَثُرَ اللَّغَطُ ، وَارْتَفَعَتِ الأَصْوَاتُ حَتَّى فَرِقْتُ مِنَ الاِخْتِلاَفِ . فَقُلْتُ ابْسُطْ يَدَكَ يَا أَبَا بَكْرٍ . فَبَسَطَ يَدَهُ فَبَايَعْتُهُ ، وَبَايَعَهُ الْمُهَاجِرُونَ ، ثُمَّ بَايَعَتْهُ الأَنْصَارُ ، وَنَزَوْنَا عَلَى سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ فَقَالَ قَائِلٌ مِنْهُمْ قَتَلْتُمْ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ . فَقُلْتُ قَتَلَ اللَّهُ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ . قَالَ عُمَرُ وَإِنَّا وَاللَّهِ مَا وَجَدْنَا فِيمَا حَضَرْنَا مِنْ أَمْرٍ أَقْوَى مِنْ مُبَايَعَةِ أَبِى بَكْرٍ خَشِينَا إِنْ فَارَقْنَا الْقَوْمَ وَلَمْ تَكُنْ بَيْعَةٌ أَنْ يُبَايِعُوا رَجُلاً مِنْهُمْ بَعْدَنَا ، فَإِمَّا بَايَعْنَاهُمْ عَلَى مَا لاَ نَرْضَى ، وَإِمَّا نُخَالِفُهُمْ فَيَكُونُ فَسَادٌ ، فَمَنْ بَايَعَ رَجُلاً عَلَى غَيْرِ مَشُورَةٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ فَلاَ يُتَابَعُ هُوَ وَلاَ الَّذِى بَايَعَهُ تَغِرَّةً أَنْ يُقْتَلاَ .

منبع :  اصل مقالے کو

https://ur.btid.org/node/2494

سے لیا ہے اور اس میں کچھ اضافات کیے ہیں ۔





Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی