2021 September 28
آئی ایس آئی چیف جنرل فیض حمید افغانستان سے پوچھنے گئے ہیں کہ لشکر جھگنوی اور ٹی ٹی پی کا مستقبل کیا ہوگا؟
مندرجات: ٢٠٥٦ تاریخ اشاعت: ٠٩ September ٢٠٢١ - ١٦:٣٦ مشاہدات: 80
خبریں » پبلک
آئی ایس آئی چیف جنرل فیض حمید افغانستان سے پوچھنے گئے ہیں کہ لشکر جھگنوی اور ٹی ٹی پی کا مستقبل کیا ہوگا؟

سلام ٹائمز کیساتھ اپنے خصوصی انٹرویو میں معروف کالم نگار کا کہنا تھا کہ آئی ایس آئی چیف جنرل فیض حمید افغانستان سے پوچھنے گئے ہیں کہ لشکر جھگنوی اور ٹی ٹی پی کا مستقبل کیا ہوگا؟ امریکہ افغانستان سے خود تو نکل گیا لیکن پاکستان، چین، ایران اور روس کو گھیروانا چاہتا ہے، جو دوست امریکہ کے جانے پر خوش ہیں، وہ دوحہ معاہدہ پڑھ لیں، امریکہ طالبان کو افغانستان میں باندھ کر گیا، پنجشیر کو کبھی کسی نے فتح نہیں کیا، چاہے وہ امریک حیدر جاوید سید 1973ء سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں، وہ مصنف اور کالم نگار ہیں، بنیادی تعلق سرائیکی وسیب کے علاقے ملتان سے ہے، انہوں نے ذوالفقار علی بھٹو، ضیاء الحق، محترمہ بینظیر بھٹو شہید، نواز شریف، پرویز مشرف کے ادوار دیکھے ہیں، ضیاء الحق کے دور میں جیل کی ہوا بھی کھا چکے ہیں، مختلف سماجی و سیاسی ایشوز پر اپنا اظہار خیال کھل کر کرتے ہیں، عالمی حالات پر بھی خاص نگاہ ہے۔ اسلام ٹائمز نے حیدر جاوید سید سے حالیہ فرقہ وارانہ واقعات کے پیچھے اصل اہداف اور افغانستان کی صورتحال پر خصوصی انٹرویو کیا، جو حاضر خدمت ہے۔ قارئین و ناظرین محترم آپ اس ویڈیو سمیت بہت سی دیگر اہم ویڈیوز کو اسلام ٹائمز کے یوٹیوب چینل کے درج ذیل لنک پر بھی دیکھ اور سن سکتے ہیں۔(ادارہ)
معروف صحافی، کالم نگار اور تجزیہ نگار حیدر جاوید سید نے کہا ہے کہ ہمارے جو دوست افغانستان کے ایشو پر خوشیوں کے ڈھول بجا رہے ہیں، مبارکبادیں دے رہے ہیں، اُنہیں یہ بات سمجھنی چاہیئے کہ ہم وہ بات کریں جو اپنے لیے پسند کریں، ہمیں بطور پاکستانی سوچنا چاہیئے کہ جتنا افغانستان میں ہم نے نقصان اُٹھایا، کیا اتنا کسی اور نے بھی اُٹھایا۔؟ ہم نے ستر ہزار جانوں کی قربانی دی ہے، پاکستان کی شروع دن سے ہی افغانستان کے لیے خارجہ پالیسی غلط تھی، امریکہ افغانستان سے شکست کھا کر بھاگا نہیں بلکہ دوحہ معاہدے کے تحت وہاں سے نکلا ہے، جو یہ کہتے ہیں کہ امریکہ افغانستان سے شکست کھا کر نکلا ہے، وہ دوحہ معاہدہ پڑھ لیں، امریکہ طالبان کو افغانستان میں باندھ کر گیا، کچھ جذباتی دوست کہتے ہیں کہ افغانستان میں غیبی طاقت نے شکست دی میں، کہتا ہوں کہ یہ غیبی طاقت بیس سال پہلے کہاں تھی۔؟ طالبان کو اپنے ماضی کے رویئے سے انحراف کرنا ہوگا، اگر وہ متحدہ طالبان کو آگے لے کر بڑھنا چاہتے ہیں، افغانستان کی تمام اکائیوں کو ساتھ لے کر چلنا ہوگا، طالبان کا ماضی اچھا نہیں، عاشور کے موقع پر طالبان کا ظاہری طور پر رویہ اچھا رہا ہے، لیکن ہم طالبان کے ماضی کو کیسے بھول جائیں؟ اب اگر اُنہوں نے کچھ سیکھ لیا ہے تو اچھی بات ہے۔

جن مکاتب فکر کی عمر 200 سال بھی نہیں، وہ کبھی بھی 1400 سو سالہ قدیمی مکاتب کو ختم نہیں کرسکتے، پنجشیر کو کبھی کسی نے فتح نہیں کیا، چاہے وہ امریکہ ہے یا روس، اس وقت پنجشیر میں مزاحمت جاری ہے اور طالبان کو مسلسل نقصان ہو رہا ہے، طالبان کو جنگ کی بجائے دوحہ معاہدے کے تحت مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا چاہیئے، امریکہ افغانستان سے خود تو نکل گیا ہے، لیکن اسی افغانستان میں پاکستان، چین، ایران اور روس کو گھیروائے گا، افغانستان میں طالبان کے جیتنے کے فوری بعد پاکستان میں طالبان کے حامیوں نے ایک نئی جنگ شروع کر دی ہے اور تکفیر شروع کر دی ہے، دیکھنا ہے کہ طالبان کا مستقبل میں کیا رویہ ہوگا۔ جنداللہ، لشکر جھنگوی العالمی، لشکر جھنگوی، اسلامک موومنٹ آف ازبکستان، اسلامی موومنٹ آف ترکستان کے ساتھ کیا رویہ ہوگا، کیا اب ان کو افغانستان میں جگہ ملے گی یا انہیں وہاں سے نکالے گا۔؟ 

آئی ایس آئی کے چیف جنرل فیض حمید افغانستان میں صرف ایک بات پوچھنے گئے ہیں کہ لشکر جھگنوی اور ٹی ٹی پی کا مستقبل کیا ہوگا؟، کیا اب بھی ان سپورٹ کیا جائے گا، کیونکہ ہم ستر ہزار افراد دے چکے ہیں، اب مزید نہیں۔ اسی طرح ایران اور چین نے بھی افغان طالبان سے گارنٹی مانگی ہے، پاکستان کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ لیاقت علی خان کے دور سے یہ دیوبندی ریاست ہے، حالانکہ پاکستان میں صوفی سنی کی تعداد زیادہ ہے، اب بدقسمتی سے صوفی سنیوں کا ایک گروہ اُن انتہاء دیوبندیوں کے ساتھ مل گیا ہے، جو کبھی ریاست کے آلہ کار کے طور پر پاکستان میں تخریب کاریاں کرتے تھے، کافر کافر کے نعرے لگاتے تھے، اب اُن کا آپس میں الائنس ہوگیا ہے، ریاست پاکستان کے اداروں کو صرف افغانستان نہیں بلکہ ان تنظیموں کے بارے میں کام کرنا چاہیئے، گذشتہ دنوں کراچی میں کالعدم سپاہ صحابہ کی ایک کانفرنس ہوئی ہے، جس میں دوسرے مکتب کی تضحیک کی گئی ہے، پاکستان میں صرف اہل تشیع کی اذانوں پر پابندی کیوں، پھر سب کی اذانوں پر پابندی لگا دیں، پھر مندر کا گھنٹا بھی نہیں بجے گا۔ پاکستان میں تمام شہریوں کو مساوی حقوق دیئے جائیں۔
 




Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی