2021 October 21
انبیاء علیہم السلام اور اولیاء اللہ کے مزاروں کی زیارت : سلف کی سیرت کیا تھی ؟؟؟
مندرجات: ٢٠٥١ تاریخ اشاعت: ٠٧ September ٢٠٢١ - ١٥:٤٦ مشاہدات: 174
یاداشتیں » پبلک
انبیاء علیہم السلام اور اولیاء اللہ کے مزاروں کی زیارت : سلف کی سیرت کیا تھی ؟؟؟

 

انبیاء علیہم السلام  اور اولیاء اللہ کے مزاروں کی زیارت :

   ہمارا عقیدہ ہے کہ:پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ،ائمہ اہل بیت علیہم السلام ،عظیم علماء ،دانشمندوں اور راہ حق کے شہیدوں کے مزارات کی زیارت سنت موکدہ ہے۔اس سلسلے  میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ائمہ اہل بیتؑ کی  بے شمار روایات موجود ہیں  [1].

زیارت کو غیر خدا کی عبادت کہنا کسی صورت میں درست نہیں، زیارت اور عبادت کے درمیان فرق ہے،عبادت و پرستش خدا کے لئے مخصوص ہے جبکہ زیارت کا مقصد بزرگان دین کا احترام ،ان کی یاد کو زندہ رکھنا ہے اور خدا کے حضور ان سے شفاعت طلب کرنا ہے۔ یہ کام نماز روزہ اور دوسرے دینی امور کی طرح ایک نیک عمل ہے [2] اور  یہ قیامت کی یاد دلانے  ،پرہیزگاری اور دین سے  وابستگی کے  اظہار کا ایک بہترین وسیلہ  ہے   ۔

جیساکہ اہل سنت کی معتبر  کتابوں میں  بھی قبور کی زیارت  کے سلسلے میں     رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے : رزُورُوا الْقُبُورَ، فَإِنَّهَا تُذَكِّرُكُمْ الْآخِرَةَ[3]۔  قبور کی زیارت کیا کرو  کیونکہ اس کی وجہ سے آخرت یاد رہتی  ہے ۔  

  مدینہ میں اپنی زیارت کے بارے میں فرمایا: مَنْ زَارَ قَبْرِي بَعْدَ مَوْتِي كَانَ كَمَنْ زَارَنِي فِي حَيَاتِي[4]۔  جو میری موت  کے بعد  میری قبر کی زیارت کرے گا  ، گوایا ایسا ہے کہ اس نے  میری زندگی میں میری زیارت کی ہو ۔

   اہل ایمان اور اہل اسلام  کی قبروں پر  حاضر ہو کر  انہیں سلام  اور ان کے لئے  دعا کرنے کے سلسلے میں  آپ سے نقل ہوا ہے: السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الدِّيَارِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُسْلِمِينَ وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ لَلاَحِقُونَ أَسْأَلُ اللَّهَ لَنَا وَلَكُمُ الْعَافِيَةَ[5].

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے  فرامین اور سیرت  کی بنا پر   اصحاب  ، تابعین  اور بعد کی نسلیں، انبیا اور  اولیا کے قبور کی تعمیر کرتے،  ان کی قبروں پر حاضری دیتے  ۔ اپنے اور صاحب قبر کے لئے دعا کرتے اور  اپنی حاجات کے سلسلے میں انہیں ویسلہ قرار   دیتے  تھے  [6]اور  یہ  سب در واقع  ان تعلیمات اور  سیرت کا  تسلسل تھا  جو   رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کے  شاگردوں کے  وسیلے سے بعد کی نسلوں تک منتقل  ہوا  تھا ۔ اسی لئے مختلف اسلامی ممالک میں ان مزاروں کی تعمیر اور ان پر بنائی عمارتیں  اسلامی تہذیب اور ثقافت کا  حصہ ہیں ۔

قابل توجہ بات  یہ ہے کہ  ان میں سے کوئی کسی کو اس حوالے سے  بدعت گزار اور مشرک قرار نہیں دیتے  تھے  ۔ جبکہ   اس سلسلے میں موجود آیات اور روایات  ان کے سامنے تھیں  ۔  عصر پیامبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زیادہ نذدیک  ہونے کی بنا پر  اسلامی تعلیمات  کو سمجھنے   اور ان کی تفسیر کرنے کا زیادہ سزوار بھی یہی لوگ   تھے  ۔

سلف  کی سیرت سے دوری :

بہت  سے شواہد  کی رو  سے یہ بات  ثابت ہے  کہ اہل قبور ، خاص کر انبیا  اور  اولیا  کے قبروں  کی زیارت سلف صالح کی سیرت تھی ۔ لیکن بعد کی صدیوں میں  بعض لوگوں نے  سلف کی اس  سیرت اور روش  کو شرک اور بت پرستی کی علامت اور اپنی سوچ  اور سمجھ کو  ہی  اسلامی تعلیمات  کی صحیح تفسیر قرار  دینے  اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دور سے موجود  اس اسلامی رسم  کے خلاف  اپنی مہم کو  کفر اور بت پرستی کے خلاف  جہاد قرار  دینے  کا سلسلہ شروع کیا اور انبیا ؑ٫ و  اولیا٫  ؑ کے  قبور  کی بے حرمتی  اور  کفر و شرک کے فتاوے  دے کر  بے گناہ اہل قبلہ اور گلمہ گوں کے  خون سے ہولی کھیلنے  کا سلسلہ شروع کیا ۔یہاں  تک کہ اپنے اس کام  کو  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دور کے مشرکوں  سے جہاد سے  زیادہ   اہم   اور قبور  کی زیارت کرنے اور اولیا  سے  توسل کرنے والوں   کو  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دور کے مشرکوں سے زیادہ اسلام  کے لئے خطرہ   قرار دینے لگے ۔ یہ لوگ  یہ  تصور دینے کی کوشش کرتے  ہیں  کہ گویا سارے اسلامی ممالک میں  بت پرستی اور شرک  کا رواج  ہوچکا ہے  اور امت اسلامی کو یہود  ونصارا  سے زیادہ  ان  مشرکوں  سے خطرہ ہے ۔ جبکہ رسول اللہ    فرماگئے ہیں  : وَإِنِّى وَاللَّهِ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمْ أَنْ تُشْرِكُوا بَعْدِى ، وَلَكِنْ أَخَافُ عَلَيْكُمْ أَنْ تَنَافَسُوا فِيهَا۔ مجھے امت کے بارے میں مشرک ہونے کا خوف نہیں ہے[7]. لیکن  اس قسم کے سوچ کے لوگ جہاں توحید کے دوسرے پہلوں سے سے غافل ہو کر صرف  توحید در عبادت کو  قبروں اور مزاروں تک محدود  کرتے ہیں وہاں یہ لوگ  قرٓان  کی تصریح کے مطابق  اسلام کے بڑے دشمن  مخصوصا یہود  سے  بر سر پیکار ہونے کے بجاے  خود  اہل قبلہ اور کلمہ گو مسلمانوں کو  مشرک اور   کافر ثابت کرنے اور  اپنے  اس خام خیال  کے مطابق اسلامی سرزمینوں  کو ان مشرکوں سے پاک کرنے کے جہادی عمل میں مصروف ہیں ۔ ہیں  اور حقیقت  میں  یہی خون خرابہ کا عمل  ہی  رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کے اس  خوف وَلَكِنْ أَخَافُ عَلَيْكُمْ أَنْ تَنَافَسُوا فِيهَا کی عملی تفسیر ہے ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم امت کے بارے میں جس چیز سے  خوف زدہ تھے وہ یہی  اختلاف اور  خون خرابے کی لہر تھی  جس میں  آج بھی امت اسلامی مبتلاہے۔

یہ گروہ اپنے کو سلفی {  یعنی اصحاب تابعین اور ان کے عصر کے نذدیک  والوں کی روش پر چلنے والے }  کہتے۔لیکن اگر سلف سے ان  کی  مراد  بنی امیہ کے حکام اور  پیرو کار ہوں تو یہ بات کسی حد تک ٹھیک ہے اور اگر اس سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کے بزرگ اصحاب اور ان کی سیرت اور روش پر چلنے والے ہوں تو  یہ سلف  کی مخالفت  میں سلف کے نام کو استعمال کرنا ہے۔

ہم یہاں اس سلسلے میں  سلف کی روش کے چند نمونے نقل کرتے ہیں ؛

  مروان نے دیکھا کوئی  روضہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم  پر  اپنا منہ رکھا ہوا  ہے  ۔ جاکر  اس کا  گردن پکڑ ا اور  کہا  : جانتے ہو کیا کر رہے  ہو؟  اس  نے کہا: جی  ، دیکھا یہ   تو  صحابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم جناب ابو ایوب انصاری  ہیں  اور   مروان  سے یوں مخاطب ہوئے  : جِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ آتِ الْحَجَرَ[8]۔ جی میں جانتا ہوں ؛ میں رسول  خدا صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کے حضور میں آیا  ہوا ہوں  کسی پتھر کے پاس نہیں آیا ہوں ۔

بنی مروان کے خلیفہ  عبدالمالک کے گورنر  حجاج بن یوسف ثقفی  نے بھی اسی قسم کی گستاخی  کی اور  رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کی قبر کی زیارت کرنے والوں  کے بارے میں کہا: یہ لوگ مر جائے کہ بوسیدہ ہڈیوں کے گرد چکر لگاتے ہیں  کیوں یہ لوگ عبد المالک کے قصر کا چکر نہیں لگاتے یہ تو  ان سے بہتر ہے ۔حجاج کی اس گستاخی کے مقابلے میں  علما نے اس کے کفر کا فتوا دیا [9]۔

جیساکہ  زیارت کے لئے سفر   سے منع کے لئے  دلیل کے طور پر پیش کیجانے والی جعلی حدیث’’ لَاتُشَدُّ الرِّحَالُ إلَّا إلَي‌ ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ[10]بھی انہیں حاکموں کی سیاست  کو عملی شکل دینے کے مقصد سے بنائی گئی ۔اگر یہ  صحیح حدیث بھی ہو تو اس کا مطلب زیارت  کے لئے سفر کی نفی نہیں ہے کیونکہ بطور کلی سوای تین مساجد ، مسجد حرام ، مسجد نبوی اور بیت المقدس  کے ،باقی ساری جگہوں کی طرف سفر کا منع  ہونے سے  دوسری ساری مسافرتوں کا  حرام ہونا لازم آئے گا  ، جبکہ ایسا نہیں ہے  اور اگر مراد ،ان تین   مساجد کے علاوہ باقی مساجد   کی طرف سفر کا حرام  ہونا ہو تو ایک تو  یہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم  کی سیرت کے خلاف ہے ،دوسرا یہ کہ اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم اور ائمہ دین اور اللہ کے مقرب بندوں  کی  قبروں  کی زیارت کے لئے مسافرت کا  حرام ہونا لازم نہیں  آتا کیونکہ یہ مساجد نہیں  ہیں ، بلکہ قبریں ہیں ۔ زیارت کے لئے جانے سے  یہ مسجد نہیں بنتیں ۔لیکن  ابن تیمیہ جیسے لوگوں نے انہیں احادیث کو دلیل بنا کر حتی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کی قبر کی زیارت کو بھی حرام قرار دینے کی کوشش کی ہے [11]۔

 لہذا  خاص کر جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم  کی قبر  کی زیارت کی مخالفت  بنی امیہ اور بنی  مروان  کی سوچ کا نتیجہ ہے اور  ان قبور  کی  زیارت  رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کی سنت اور ابو ایوب انصاری جیسے اصحاب کی سیرت پر عمل کا نتیجہ ہے  ۔اس بنا پر جہاں خود  ساختہ  رسومات کو زیارت کے نام پر لوگوں میں رواج  دینے اور لوگوں کے دینی احساسات سے  غلط فائدہ اٹھانے جیسے امور  کا روک تھام ضروری ہے   ، وہاں  زیارت  کے بارے موجود  اصحاب اور  ان کے شاگردوں کی روش کو  شرک اور بت پرستی  کہہ کر ان  قبور اور مزارات کے خلاف  چلائی گئی مھم  کا  خاتمہ  بھی ضروری ہے  ۔

 

 



[1]  دیکھیں  کامل الزیارات ۔

[2] ۔برگزیدہ از کتاب ۔ہمارے عقائد ،مکارم شیرازی .

[3] ۔ سنن ابن ماجه۔  أَبْوَابُ الْجَنَائِزِ. بَابُ مَا جَاءَ فِي زِيَارَةِ الْقُبُورِ۔

[4] ۔ سنن البيهقى . كتاب الحج.  باب زِيَارَةِ قَبْرِ النَّبِىِّ - (2/ 249)      المعجم الكبير للطبراني (12/ 406)

[5] . صحيح مسلم – الجنائز . باب مَا يُقَالُ عِنْدَ دُخُولِ الْقُبُورِ وَالدُّعَاءِ لأَهْلِهَا. (2302)

[6] ۔ اس سلسلے کے بہت سے نمونے  فریقین کی کتابوں میں موجود ہیں ۔ انہیں میں سے ایک اہل سنت کے مشہور عالم  ابن حبّان کا امام رضاؑ کی  قبر کی زیات کرنا اور وہاں پر اپنی حاجات

کے          لئے دعا کرنا ہے ۔ قد زرته مرَارًا كَثِيرَة وَمَا حلت بِي شدَّة فِي وَقت مقَامي بطوس فزرت قبر عَليّ بن مُوسَى الرِّضَا صلوَات الله على جده وَعَلِيهِ ودعوت الله إِزَالَتهَا عَنى إِلَّا أستجيب لي وزالت عَنى تِلْكَ الشدَّة وَهَذَا شَيْء جربته مرَارًا .   الثقات لابن حبان (8/ 457)

[7] ۔ صحيح البخارى  ،کتاب ، الرقاق باب فِى الْحَوْضِ۔ (8/ 121) ح۔ 6590 .

[8] . مسند أحمد بن حنبل [5 /422]- المستدرك على الصحيحين [4 /560/   مجمع الزوائد ومنبع الفوائد [3 /667].

[9] ۔ مبرد(متوفاى 286هجري)،   الكامل فى اللغة والأدب، ج 1، ص222 ، چاپ نهضت مصر.

[10] .  مروانی  حاکم عبد المالک  کی  طرف  سے    کعبہ  کے بجاے  لوگوں کی  توجہ بیت المقدس  کی طرف  کرنے کی کوشش  کے سلسلے میں  اس کو رسول اللہﷺ کی طرف نسبت دی گئی۔

[11] ۔ و هذا قول إبن تیمیه حیث منع من زیاره النبی (ص) هی من أبشع المسائل المنقوله عن ابن تیمیه». ابن حجر عسقلانی شافعی، فتح الباری بشرح صحیح البخاری: ج ۳، ص ۷۹-۸۰، کتاب فضل الصلاه،‌باب فضل الصلاه فی مسجد مکه و المدینه، شرح احادیث ۱۱۸۸، ۱۱۸۹ و ۱۹۰٫

 
تحریر :۔ غلام محمد ملکوتی
 




Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی