2021 September 25
ملک کو تحویل میں لینا اور حکومت کرنا مختلف باتیں ہیں، طالبان کو اپنے وعدوں پر عمل کرکے دکھانا ہوگا، ۔۔۔۔ شیعہ راینما کریم خلیلی
مندرجات: ٢٠٤٣ تاریخ اشاعت: ٢١ August ٢٠٢١ - ١٨:٥٤ مشاہدات: 128
خبریں » پبلک
ملک کو تحویل میں لینا اور حکومت کرنا مختلف باتیں ہیں، طالبان کو اپنے وعدوں پر عمل کرکے دکھانا ہوگا، ۔۔۔۔ شیعہ راینما کریم خلیلی

  افغانستان کے سابق نائب صدر اور حزب وحدت اسلامی کے سربراہ کریم خلیلی کا کہنا ہے
 
کہ افغان طالبان کے سربراہ ملا ہیبت اللہ کے ساتھ باہمی احترام کا رشتہ ہے۔ کسی ایک گروہ کی بنائی گئی حکومت کام نہیں کرسکے گی۔ اسلام آباد نئی افغان حکومت کی تشکیل اور مذاکرات کیلئے کردار ادا کرسکتا ہے۔ ایک نجی ٹی وی کے پروگرام میں خصوصی طور پر گفتگو کرتے ہوئے افغانستان کے سابق نائب صدر نے کہا ہے کہ سابق صدر اشرف غنی حکومت کا حصہ نہیں تھا، میں حزب اختلاف میں تھا۔ افغان انتظامیہ میں قیادت کا فقدان تھا، افغانستان کا بڑا حصہ بغیر مزاحمت طالبان کے پاس چلا گیا۔ اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اقرار کرتا ہوں کہ اشرف غنی اہل لیڈر نہیں تھے۔ سابق صدر ہر محاذ پر ناکام ہوئے۔ وہ کرپشن میں ڈوبے ہوئے تھے۔ اشرف غنی افغانستان کی تاریخ کے بدنام ترین صدر ہیں۔

کریم خلیلی کا کہنا تھا کہ طالبان کی پیش قدمی سب کیلئے فکر کی بات ہے۔ افغانستان میں تمام نسلی گروہ فکر مند اور پریشان ہیں۔ امید ہے کہ طالبان نے ماضی سے سبق سیکھا ہے۔ ترجمان طالبان کی پریس کانفرنس مثبت تھی۔ مخلوط حکومت پوری افغان قوم کی خواہش ہے۔ کسی ایک گروہ کی بنائی گئی حکومت کام نہیں کرسکے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ جامع حکومت ہی افغان تنازع کا واحد حل ہے، کسی ایک نسلی گروہ کی حکومت بنی تو مزید بحران پیدا ہوں گے، ملک کو تحویل میں لینا اور حکومت کرنا مختلف باتیں ہیں۔ طالبان کو اپنے وعدوں پر عمل کرکے دکھانا ہوگا۔ عالمی برادری افغان عوام کیساتھ تعاون جاری رکھے، ملا ہیبت اللہ کے ساتھ باہمی احترام کا رشتہ ہے، افغان عوام نے بہت قربانیاں دی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان کے نازک موڑ پر دورہ پاکستان سے خوش ہوں۔ پاکستان کے ساتھ پائیدار تعلقات کے خواہش مند ہیں، وزیراعظم عمران خان، آرمی چیف سےجامع بات چیت ہوئی۔ پاکستان افغانستان میں امن کیلئے اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ پاکستان افغان سیاستدانوں کے درمیان ڈائیلاگ کیلئے کردار ادا کرے۔ کریم خلیلی کا کہنا تھا کہ پاکستان کی قیادت کا نقطہ نظر مثبت ہے۔ اسلام آباد نئی افغان حکومت کی تشکیل اور مذاکرات کیلئے کردار ادا کرسکتا ہے۔ امید ہے خطے کے ممالک افغان صورتحال پر اہم کردار ادا کریں گے۔ ہمسایہ ممالک منفی کے بجائےمثبت کردار ادا کریں۔




Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی