2021 October 21
معاویہ کے فضائل کی حقیقت ۔
مندرجات: ٢٠٢٧ تاریخ اشاعت: ٠١ August ٢٠٢١ - ٢٠:١٨ مشاہدات: 370
یاداشتیں » پبلک
معاویہ کے فضائل کی حقیقت ۔

معاویہ کے فضائل کا انکار کرنے والے اہل سنت کے بزرگ محدثین اور علم حدیث کے ماہرین ہیں ۔۔۔

 معاویہ کے فضائل کی حقیقت ۔

 

اھل سنت کے مایہ نازل محدثیں اور علماء کا اعتراف ۔۔۔ معاویہ کی فضیلت میں کوئی صحیح سند حدیث نہیں ہے ۔

عجیب بات ہے کہ سلفی اموی فکر والے کہتے ہیں۔رافضی معاویہ کے فضائل کا انکار کرتے ہیں رافضی ۔۔۔۔رافضی ۔۔۔۔

جبکہ یہ رافضیوں سے پہلے اہل سنت کے ہی مایہ ناز علماء کی راے ہے ۔۔ لیکن کیونکہ اس حقیقت کا انکار نہیں کرسکتے اور اپنے علماء کی ٹانگیں کھینچنا بھی آسان نہیں لہذا حقیقت چھپانے کے لئے اس کو شیعوں کا نظریہ کہہ کر فضائل معاویہ کے انکار کو شیعوں کی طرف نسبت دیتے ہیں ۔۔۔۔

ہم ذیل میں اہل سنت کے علماء کی نگاہ میں فضائل معاویہ کی حقیقت کے سلسلے میں کچھ مطالب نقل کرتے ہیں تاکہ یہ حقیقت کھل کر سامنے آئے کہ معاویہ کی فضیلت کے منکر شیعوں سے پہلے خود اہل سنت کے ہی بڑے بڑے محدثین اور علماء ہیں ۔

1. أَنْبَأَنَا زَاهِرُ بْنُ طَاهِرٍ، أَنْبَأَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْبَيْهَقِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُوْ عَبْدِ اللهِ الْحَاكِمُ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْعَبَّاسِ مُحَمَّدَ بْنَ يَعْقُوْبَ بْنِ يُوْسُفَ، يَقُوْلُ: سَمِعْتُ أَبِي يَقُوْلُ: سَمِعْتُ إِسْحَاقَ بْنَ إِبْرَاهِيْمَ الْحَنْظَلِيَّ، يَقُوْلُ: لَا يَصِحُّ عَنِ النَّبِيِّ فِي فَضْلِ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ شَيْءٌ.

ہمیں زاہربن طاہرنے بیان کیا، اُنہوں نے کہا: ہمیں احمدبن حسین بیہقی نے بیان کیا، اُنہیں ابو عبد اللہ الحاکم نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں: میں نے محمدبن یعقوب بن یوسف کوبیان کرتے ہوئے سنا، انہوں نے کہا: میں نے اپنے والدسے سنا، انہوں نے کہا: میں نے امام اسحاق بن ابراہیم الحنظلی کو کہتے ہوئے سنا: حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے معاویہ بن ابوسفیان   کی فضیلت میں کوئی صحیح چیز منقول نہیں ہوئی ہے۔

ذكره ابن عساكر في تاريخ مدينه دمشق، 59/106

2. أَنْبَأَنَا هِبَةُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ الْجَرِيْرِيُّ، أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْفَتْحِ، أَنْبَأَنَا الدَّارَقُطْنِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَبْدُ اللهِ بْنُ إِبْرَاهِيْمَ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ نَيَّارٍ الْبَزَّازُ، حَدَّثَنَا أَبُوْ سَعِيْدِ بْنُ الْحَرَفِيِّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، قَالَ: سَأَلْتُ أَبِي فَقُلْتُ: مَا تَقُوْلُ فِي عَلِيٍّ رضی اللہ عنہ وَمُعَاوِيَةَ رضی اللہ عنہ ؟ فَأَطْرَقَ ثُمَّ قَالَ: أَيْش أَقُوْلُ فِيْهِمَا؟ إِنَّ عَلِيًّا رضی اللہ عنہ كَانَ كَثِيْرَ الأَعْدَاءِ فَفَتَّشَ أَعْدَاؤُهُ لَهُ عَيْباً فَلَمْ يَجِدُوْا، فَجَاءُوْا إِلَى رَجُلٍ قَدْ حَارَبَهُ وَقَاتَلَهُ فَأَطْرَوْهُ كِيَادًا مِّنْهُمْ لَهُ.

ہمیں ہبۃاللہ بن احمد جریری نے بیان کیا ہے، اُنہیں محمد بن علی الفتح نے بیان کیا ہے، اُنہیں امام دار قطنی نے بیان کیا ہے، اُنہیں ابو الحسین عبد اللہ بن ابراہیم بن جعفربن نیار البزاز نے بیان کیا ہے، اُنہیں ابو سعیدبن الحرفی نے بیان کیا ہے، اُنہیں عبد اللہ بن احمدبن حنبل نے بیان کیا ہے، وہ فرماتے ہیں: میں نے اپنے والد محترم (امام احمد بن حنبل) سے عرض کیا: آپ سیدنا علی المرتضیٰ علیہ السلام  اور معاویہ کے متعلق کیا فرماتے ہیں؟ اس پر انہوں نے (سوچنے کے انداز میں ) اپنا سر جھکا لیا، پھر سر اُٹھا کر فرمایا: میں اُن دونوں کے بارے میں کیا کہوں؟ سیدنا علی  علیہ السلام  کثیر الاعداء (بہت دشمنوں والے ) تھے، ان کے دشمنوں نے اُن کے عیب تلاش کیے انہیں کچھ ہاتھ نہ آیا۔ پھروہ اُس شخص کی طرف متوجہ ہوئے جس نے اُن سے جنگ اور لڑائی کی تھی سو انہوں نے اپنی طرف سے سازش کے تحت ان کی تعریف میں مبالغہ آرائی شروع کر دی۔

ذكره ابن حجر العسقلاني في فتح الباري، 7/104

3. قَالَ الإْمَامُ عَبْدُ الْحَيِّ بْنُ الْعِمَادِ الْحَنْبَلِيُّ فِي تَرْجَمَةِ النَّسَائِيِّ مَا نَصُّهُ: قَالَ ابْنُ خَلِّكَانَ فِي ‹‹وَفَيَاتِ الْأَعْيَانِ››: قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَقَ الْأَصْبَهَانِيُّ: سَمِعْتُ مَشَايِخَنَا بِمِصْرَ يَقُوْلُوْنَ: إِنَّ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ (النَّسَائِيَّ) فَارَقَ مِصْرَ فِي آخِرِ عُمُرِهِ وَخَرَجَ إِلَى دِمَشْقَ، فَسُئِلَ عَنْ مُعَاوِيَةَ وَمَا رُوِيَ مِنْ فَضَائِلِهِ فَقَالَ: أَمَا يَرْضَى مُعَاوِيَةُ أَنْ يَخْرُجَ رَأْسًا بِرَأْسٍ حَتَّى يُفَضَّلَ، وِفِي رِوَايَةٍ: مَا أَعْرِفُ لَهُ فَضِيْلَةً إِلَّا: «لَا أَشْبَعَ اللهُ بَطْنَهُ».

امام عبد الحي بن عماد الحنبلی امام نسائی کے حالات میں لکھتے ہیں کہ علامہ ابن خلکان نے ’’وفیات الأعیان‘‘ میں لکھاہے کہ محمدبن اسحاق اصبہانی نے بیان کیاہے: میں نے مصرمیں اپنے مشائخ کو فرماتے ہوئے سناہے کہ امام ابو عبد الرحمٰن النسائی نے مصر کو اپنی آخری عمر میں چھوڑا تھا اور دمشق چلے گئے تھے، اُن سے معاویہ اور جوکچھ اُن کے فضائل میں روایت کیا گیاہے اُس کے متعلق سوال کیاگیاتواُنہوں نے فرمایا: کیا معاویہ اس بات پر راضی نہیں کہ وہ برابر برابر نکل جائیں چہ جائیکہ انہیں فضیلت دی جائے، اور دوسری روایت میں ہے کہ اُنہوں نے فرمایا: میں اُن کی کوئی فضیلت نہیں جانتا، سوائے اس حدیث کے کہ ’’ اللہ اُن کے پیٹ کو نہ بھرے۔ ‘‘

ذكره ابن خلكان في وفيات الأعيان، 1/77

رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي صَحِيْحِهِ فِي كِتَابِ الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالآدَابِ.

اس حدیث کو امام مسلم نے اپنی ’’الصحیح ‘‘کی ’’کتاب البروالصلۃ‘‘ میں روایت کیا ہے۔

أخرجه مسلم في الصحيح، كتاب البر والصلة، باب من لعنه النبي أوسبه أو دعا عليه وليس هو أهلا لذلك كان له زكاة وأجرا ورحمة، 4/2010، الرقم/2604

فَمَا زَالُوْا يُدَافِعُوْنَهُ فِي خُصْيَتَيْهِ وَدَاسُوْهُ، ثُمَّ حُمِلَ إِلَى مَكَّةَ فَتُوَفِّيَ بِهَا وَهُوَ مَدْفُوْنٌ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ. وَقَالَ الْحَافِظُ أَبُوْ نُعَيْمٍ الْأَصْبَهَانِيُّ: لَمَّا دَاسُوْهُ بِدِمَشْق مَاتَ بِسَبَبِ ذَلِكَ الدَّوْسِ وَكَانَ صَنَّفَ كِتَابَ الْخَصَائِصِ فِي فَضْلِ الإِمَامِ عَلِيِّ ابْنِ أَبِي طَالِبٍ رضی اللہ عنہ وَأَهْلِ الْبَيْتِ، وَأَكْثَرَ رِوَايَتَهُ فِيْهِ عَنِ الإِمَامِ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ رضی اللہ عنہ فَقِيْلَ لَهُ: أَلَّا صَنَّفْتَ فِي فَضْلِ الصَّحَابَةِ رضی اللہ عنہم كِتَابًا، فَقَالَ: دَخَلْتُ دِمَشْقَ وَالْمُنْحَرِفُ عَنْ عَلِيٍّ كَثِيْرٌ فَأَرَدْتُ أَنْ يَّهْدِيَهُمُ اللهُ بِهَذَا الْكِتَابِ، وَكَانَ إِمَامًا فِي الْحَدِيْثِ ثِقَةً ثَبْتًا حَافِظًا. اِنْتَهْى كَلاَمُ ابْنِ الْعِمَادِ.

(امام نسائی چونکہ محب اہلِ بیت تھے اس لیے) وہ لوگ انہیں زدوکوب کرنے لگے، مسلسل اُن کے فوطوں پر ضربیں لگاتے اور بدن پرپاؤں سے ٹھوکریں مارتے رہے۔ پھر انہیں اسی حالت میں اٹھا کر مکہ مکرمہ لے جایا گیا جہاں ان کی شہادت ہو گئی، آپ صفا و مروہ کے درمیان مدفون ہیں۔ حافظ ابونعیم اصبہانی فرماتے ہیں: جب اُنہیں لاتوں سے مارا گیا تو وہ اسی مار سے شہید ہو گئے، اور اس کاسبب یہ تھا کہ اُنہوں نے سیدنا علی بن ابی طالب کرم اللہ وجہہ اور اہل بیت کرام f کی شان میں ’’کتاب الخصائص‘‘ تصنیف فرمائی تھی اور اُس میں اکثر روایات امام احمدبن حنبل سے نقل فرمائیں تو اُن سے پوچھاگیا: کیا آپ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی شان میں بھی کوئی کتاب لکھی ہے؟ اُنہوں نے فرمایا: میں دمشق میں آیا تو بہت سے لوگوں کو سیدنا علی المرتضیٰ علیہ السلام  سے منحرف پایا، سو میں نے چاہا کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو اس کتاب کے ذریعے ہدایت دے۔ آپ حدیث کے امام تھے، ثقہ تھے، مضبوط تھے اور حافظ تھے۔ ابن العماد کا کلام اختتام پذیر ہوا۔

ذكره العكري في الشذرات الذهب، 4/17-18، وابن خلكان في وفيات الأعيان، 1/77-78

4. وَذَكَرَ الذَّهَبِيُّ فِي تَذْكِرَةِ الْحُفَّاظِ فِي تَرْجَمَةِ النَّسَائِيِّ أَنَّهُ قَالَ: دَخَلْتُ دِمَشْقَ وَالْمُنْحَرِفُ عَنْ عَلِيٍّ رضی اللہ عنہ بِهَا كَثِيْرٌ، فَصَنَّفْتُ كِتَابَ الْخَصَائِصِ رَجَوْتُ أَنْ يَّهْدِيَهُمُ اللهُ، ثُمَّ إِنَّهُ صَنَّفَ بَعْدَ ذَلِكَ ‹‹فَضَائِلَ الصَّحَابَةِ›› فَقِيْلَ لَهُ: أَلَّا تُخَرِّجَ فَضَائِلَ مُعَاوِيَةَ؟ فَقَالَ: أَيُّ شَيْءِ أُخَرِّجُ، حَدِيْثَ: «اللَّهُمَّ لَا تُشْبِعْ بَطْنَهُ»؟ فَسَكَتَ السَّائِلُ. وَأَمَّا اتِّهَامُهُمْ لَهُ بِالتَّشَيُّعِ فَلَيْسَ صَحِيْحًا، إِذْ إِنَّهُمُ اتَّهَمُوْهُ بِذَلِكَ لِقَوْلِهِ: لَمْ يَصِحَّ فِي فَضَائِلَ مُعَاوِيَةَ إِلَّا: «لَا أَشْبَعَ اللهُ بَطْنَهُ»، وَلِأَنَّهُ أَلَّفَ فِي فَضْلِ عَلِيٍّ وَلَمْ يُصَنِّفْ فِي مَنَاقِبِ غَيْرِهِ بِالتَّخْصِيْصِ.

امام ذہبی ’’تذکرة الحفاظ‘‘ میں امام نسائی کے حالات میں لکھتے ہیں کہ اُنہوں نے فرمایا: میں دمشق میں داخل ہوا تو وہاں کے لوگ سیدنا علی علیہ السلام  سے بہت زیادہ منحرف تھے، جس پر میں نے اس امیدسے ’’کتاب الخصائص‘‘ تصنیف کی کہ اللہ تعالیٰ اُس کے ذریعے اُنہیں ہدایت عطا فرمائے۔ پھر اُنہوں نے ’’فضائل الصحابة‘‘ کتاب لکھی۔ اُن سے پوچھا گیا کہ کیا آپ فضائل معاویہ میں کچھ روایت نہیں کریں گے؟ فرمایا: میں کیا چیز روایت کروں ؟ کیا یہ حدیث: ’’اے اللہ! اس کے پیٹ کو نہ بھرنا؟ ‘‘ اس پر سائل خاموش ہو گیا۔ رہ گیا اُن پر شیعیت کا الزام تو وہ درست نہیں ہے، یہ تہمت لوگوں نے اُن پر اس لیے لگائی تھی کہ اُنہوں نے فرمایا تھا:حضرت معاویہ کے فضائل میں ’’لا أشبع اﷲ بطنه‘‘ کے سوا کوئی حدیث نہیں ہے، اور اس لیے کہ اُنہوں نے فضائل علی علیہ السلام  میں کتاب تصنیف فرمائی تھی اور اُن کے علاوہ کسی اور کی شان میں کوئی مخصوص کتاب نہیں لکھی تھی۔

ذكره الذهبي في تذكرة الحفاظ، 2/699، والمزي في تهذيب الكمال، 1/38

5. قَالَ الذَّهَبِيُّ فِي ‹‹سِيَرِ أَعْلَامِ النُّبَلَاءِ›› مَا نَصُّهُ: ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، عَنْ أَبِيْهِ، عَنِ الْوَلِيْدِ بْنِ دَاوُدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ عَنِ ابْنِ عَمِّهِ عُبَادَةَ بْنِ الْوَلِيْدِ، قَالَ: كَانَ عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ رضی اللہ عنہ مَعَ مُعَاوِيَةَ   فَأَذَّنَ يَوْمًا فَقَامَ خَطِيْبٌ يَمْدَحُ مُعَاوِيَةَ   وَيُثْنِي عَلَيْهِ، فَقَامَ عُبَادَةُ رضی اللہ عنہ بِتُرَابٍ فِي يَدِهِ، فَحَثَاهُ فِي فَمِ الْخَطِيْبِ، فَغَضِبَ مُعَاوِيَةُ  ، فَقَالَ لَهُ عُبَادَةُ رضی اللہ عنہ : إِنَّكَ لَمْ تَكُنْ مَعَنَا حِيْنَ بَايَعْنَا رَسُوْلَ اللهِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بِالْعَقَبَةِ، عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فِي مَنْشَطِنَا ومَكْرَهِنَا ومَكْسَلِنَا، وأَثَرَةٍ عَلَيْنَا، وَأَلَّا نُنَازِعَ الأَمْرَ أَهْلَهُ، وَأَنْ نَقُوْمَ بِالْحَقِّ حَيْثُ كُنَّا لَا نَخَافُ فِي اللهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ. وَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: «إذَا رَأَيْتُمُ الْمَدَّاحِينَ، فَاحْثُوْا فِي أَفْوَاهِهِمُ التُّرَابَ».

امام ذہبی ’’سیر أَعلام النبلاء‘‘ میں لکھتے ہیں: ابن ابی اویس اپنے والد سے، انہوں نے ولید بن داود بن محمد بن عبادہ بن صامت سے، اُنہوں نے اپنے چچا زاد عبادہ بن ولید سے روایت کیاہے کہ اُنہوں نے فرمایا: حضرت عبادہ بن صامت  حضرت معاویہ کے ساتھ تھے، ایک دن اُنہوں نے اذان کہی تو ایک خطیب کھڑے ہو کر حضرت معاویہ کی شان میں تعریف کرنے لگا۔ حضرت عبادہ اُٹھے اور خاک کی ایک مٹھی بھر کر خطیب کے منہ میں ٹھونس دی۔ اس پر حضرت معاویہ   غضبناک ہوئے، جس پر عبادہ نے انہیں کہا: تم (یعنی حضرت معاویہ) اس وقت نہیں تھے جب ہم نے عقبہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت کی تھی کہ ہم اپنی پسند اور نا پسند، سستی اور کاہلی (ہر حالت) میں بھی سمع و اطاعت بجا لانے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان اقدس کو ہر امر پر ترجیح دیں گے، اہل امر کے ساتھ ناحق تنازعہ نہیں کریں گے، ہرحال میں حق کی خاطر کھڑے ہوں گے اور اللہ تعالیٰ کے معاملہ میں کسی ملامت کرنے والے کی پرواہ نہیں کریں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا: جب تم خوشامد کرنے والوں کو دیکھو تو اُن کے منہ میں مٹی بھر دینا۔

ذكره الذهبي في سير أعلام النبلاء، 2/7

6. وَعَنْ بُحَيْرٍ، عَنْ خَالِدٍ قَالَ: وَفَدَ الْمِقْدَامُ بْنُ مَعْدِيْكَرَبَ وَعَمْرُو بْنُ الأَسْوَدِ وَرَجُلٌ مِنْ بَنِي أَسَدٍ مِنْ أَهْلِ قِنَّسْرِيْنَ إِلَى مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ لِلْمِقْدَامِ: أَعَلِمْتَ أَنَّ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ تُوَفِّيَ؟ فَرَجَّعَ الْمِقْدَامُ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: أَتَرَاهَا مُصِيْبَةً؟ قَالَ لَهُ: وَلِمَ لَا أَرَاهَا مُصِيْبَةً وَقَدْ وَضَعَهُ رَسُوْلُ اللهِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فِي حِجْرِهِ، فَقَالَ: هَذَا مِنِّي وَحُسَيْنٌ مِنْ عَلِيٍّ؟ فَقَالَ الْأَسَدِيُّ: جَمْرَةٌ أَطْفَأَهَا اللهُ u، قَالَ: فَقَالَ الْمِقْدَامُ: أَمَّا أَنَا، فَلَا أَبْرَحُ الْيَوْمَ حَتَّى أُغِيْظَكَ وَأُسْمِعَكَ مَا تَكْرَهُ، ثُمَّ قَالَ: يَا مُعَاوِيَةُ، إِنْ أَنَا صَدَقْتُ فَصَدِّقْنِي، وَإِنْ أَنَا كَذِبْتُ فَكَذِّبْنِي، قَالَ: أَفْعَلُ.

قَالَ: فَأَنْشُدُكَ بِاللهِ، هَلْ سَمِعْتَ رَسُوْلَ اللهِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم يَنْهَى عَنْ لُبْسِ الذَّهَبِ؟ قَالَ: نَعَمْ.

قَالَ: فَأَنْشُدُكَ بِاللهِ، هَلْ تَعْلَمُ أَنَّ رَسُوْلَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نَهَى عَنْ لُبْسِ الْحَرِيْرِ؟ قَالَ: نَعَمْ.

قَالَ: فَأَنْشُدُكَ بِاللهِ، هَلْ تَعْلَمُ أَنَّ رَسُوْلَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نَهَى عَنْ جُلُوْدِ السِّبَاعِ وَالرُّكُوْبِ عَلَيْهَا؟ قَالَ: نَعَمْ.

قَالَ: فَوَاللهِ، لَقَدْ رَأَيْتُ هَذَا كُلَّهُ فِي بَيْتِكَ، يَا مُعَاوِيَةُ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ: قَدْ عَلِمْتُ أَنِّي لَنْ أَنْجُوَ مِنْكَ يَا مِقْدَامُ، قَالَ خَالِدٌ: فَأَمَرَ لَهُ مُعَاوِيَةُ بِمَا لَمْ يَأْمُرْ لِصَاحِبَيْهِ، وَفَرَضَ ِلابْنِهِ فِي الْمِئَتَيْنِ، فَفَرَّقَهَا الْمِقْدَامُ عَلَى أَصْحَابِهِ، وَلَمْ يُعْطِ الْأَسَدِيُّ أَحَدًا شَيْئًا مِمَّا أَخَذَ، فَبَلَغَ ذَلِكَ مُعَاوِيَةَ، فَقَالَ: أَمَّا الْمِقْدَامُ فَرَجُلٌ كَرِيْمٌ بَسَطَ يَدَهُ، وَأَمَّا الْأَسَدِيُّ فَرَجُلٌ حَسَنُ الإِمْسَاكِ لِشَيْئِهِ.

رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ فِي السُّنَنِ وَهَذا حَدِيْثٌ صَحِيْحٌ.

حضرت بُحیر حضرت خالد سے روایت کرتے ہیں، اُنہوں نے فرمایا: حضرت مقدام بن معدیکرب عمرو بن اسود اور اہل قنسرین سے بنو اسد کا ایک شخص معاویہ بن ابی سفیان کے پاس آئے۔ معاویہ نے مقدام سے کہا: کیا تم جانتے ہو کہ حضرت حسن بن علی وفات پاگئے؟ اس پر مقدام نے ’’إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ ‘‘ کہا، اس پر کسی شخص نے اُنہیں کہا: کیا تم اس کو مصیبت سمجھتے ہو؟ اُنہوں نے اُس کو فرمایا: میں اس بات کو کیوں نہ مصیبت سمجھوں جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اُنہیں اپنی گود میں بٹھا کر فرمایا تھا: ’’یہ مجھ سے ہے اور حسین، علی سے ہے‘‘۔ اس پر اسَدی نے کہا: وہ ایک انگارہ تھا جسے اللہ نے بجھا دیا۔ خالد کہتے ہیں: اس پر حضرت مقدام نے معاویہ سے کہا: آج میں تم کو اُس وقت تک نہیں چھوڑوں گا جب تک تمہیں غصہ نہ دلاؤں اور وہ کچھ نہ سناؤں جو تمہیں ناگوار ہو۔ پھر فرمایا: اے معاویہ! میں بات شروع کرتا ہوں، اگر میں سچ کہوں تومیری تصدیق کرنا اور اگر میں جھوٹ بولوں تو میری تردید کر دینا۔ معاویہ نے کہا: میں ایسا ہی کروں گا۔

مقدام نے کہا: میں تمہیں اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں: کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوناپہننے کی ممانعت سنی تھی؟اُنہوں نے کہا: ہاں۔

حضرت مقدام رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں تمہیں اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں: کیا تم جانتے ہوکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ریشم پہننے سے منع فرمایا تھا؟ اُنہوں نے کہا: ہاں۔

حضرت مقدام رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں تمہیں اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں: کیا تم جانتے ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے درندوں کی کھال کا لباس پہننے اور ا ُس پر بیٹھنے سے منع فرمایا تھا؟ اُنہوں نے کہا: ہاں۔

اس پر حضرت مقدام رضی اللہ عنہ نے فرمایا: خداکی قسم! اے معاویہ! میں یہ سب کچھ تمہارے گھر میں دیکھتا ہوں۔ اس پر معاویہ نے کہا: اے مقدام! مجھے معلوم ہے، آج میں تم سے جان نہیں چھڑا سکتا۔ خالد کہتا ہے: اس کے بعد معاویہ نے حضرت مقدام رضی اللہ عنہ کے لیے اتنے مال و دولت کا حکم دیاکہ اتنا اُن کے دوسرے دو ساتھیوں کے لیے نہ دیا تھا، اور اُن کے بیٹے کا وظیفہ دو سو دینار کر دیا۔ حضرت مقدام رضی اللہ عنہ نے (خود قبول کرنے کے بجائے) وہ سب کچھ اپنے ساتھیوں میں تقسیم کر دیا۔ خالد کہتا ہے: اسدی کو جو ملا تھا وہ اس نے کسی کو نہ دیا۔ یہ خبر معاویہ کو پہنچی تو اس نے کہا: مقدام ایک سخی شخص ہیں، اُنہوں نے اپنے ہاتھ کھول دیے۔ رہا اسَدی تو وہ اپنی چیز کو اچھے طریقے سے سنبھالنے والا ہے۔

اسے امام ابو داود نے ’السنن‘ میں روایت کیا ہے اور یہ حدیث صحیح ہے۔

أخرجه أبو داود في السنن، كتاب اللباس، باب في جلود النمور والسباع، 4/68، الرقم/4131

7. قَالَ الْحَافِظُ ابْنُ حَجَرٍ بَعْدَ هَذَا الْكَلَامِ: فَأَشَارَ بِهَذَا إِلَى مَا اخْتَلَقُوْهُ لِمُعَاوِيَةَ مِنَ الْفَضَائِلِ مِمَّا لَا أَصْلَ لَهُ. وَقَدْ وَرَدَ فِي فَضَائِلِ مُعَاوِيَةَ أَحَادِيْثُ كَثِيْرَةٌ لَكِنْ لَيْسَ فِيْهَا مَا يَصِحُّ مِنْ طَرِيْقِ الإْسْنَادِ، وَبِذَلِكَ جَزَمَ إِسْحَقُ بْنُ رَاهْوَيْهِ وَالنَّسَائِيُّ وَغَيْرُهُمَا.

حافظ ابن حجرعسقلانی اس کلام کونقل کرنے کے بعدفرماتے ہیں: اس سے اُنہوں نے اُن بے اصل روایات کی طرف اشارہ کیاہے جو لوگوں نے معاویہ کے فضائل میں گھڑی تھیں۔ فضائلِ معاویہ میں بکثرت روایات وارد ہوئی ہیں لیکن ان میں سے کوئی روایت ایسی نہیں ہے جس کی سند صحیح ہو، یہی امام اسحاق بن راھویہ، امام نسائی اور دوسرے علماءِ حدیث کا قطعی قول ہے۔

ابن حجر العسقلاني في فتح الباري، 7/104.

اسکین دیکھیں ۔۔

 

 

 

8. رَوَى الْبَلَاذُرِيُّ عَنِ الْإِمَامِ ابْنِ الْمُبَارَكِ، قَالَ: وَحَدَّثَنِي الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْأَسَوَدَ، عَنْ بيَحْيَى، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، قَالَ: هَاهُنَا قَوْمٌ يَسْأَلُوْنَ عَنْ فَضَائِلِ مُعَاوِيَةَ، وَبِحَسْبِ مُعَاوِيَةَ أَنْ يُتْرَكَ كَفَافًا.

علامہ بلاذری نے اپنی سند کے ساتھ امام عبد اللہ بن مبارک سے روایت کیا ہے، کہا کہ مجھے حسین بن علی بن اسود نے بیان کیا، اُنہوں نے یحییٰ سے روایت کیا، اُنہوں نے امام عبد اللہ بن مبارک سے بیان کیا ہے کہ اُنہوں نے فرمایا: کچھ لوگ فضائلِ معاویہ کے متعلق سوال کرتے ہیں، حالانکہ معاویہ کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ اُنہیں چھوڑ دیا جائے (یعنی ان کے حوالے سے کوئی بات نہ کی جائے)۔

البلاذري في أنساب الأشراف، 5/129

9. وَقَالَ الْعَلَّامَةُ بَدْرُ الدِّيْنِ الْعَيْنِيُّ الْحَنَفِيُّ: فَإِنْ قُلْتَ: قَدْ وَرَدَ فِي فَضِيْلَتِهِ أَحَادِيْثُ كَثِيْرَةٌ. قُلْتُ: نَعَمْ، وَلَكِنْ لَيْسَ فِيْهَا حَدِيْثٌ يَصِحُّ مِنْ طَرِيْقِ الإِسْنَادِ، نَصَّ عَلَيْهِ إِسْحَاقُ بْنُ رَاهَوَيْه وَالنَّسَائيُّ وَغَيْرُهُمَا، فَلِذَلِكَ قَالَ: بَابُ ذِكْرِ مُعَاوِيَةَ، وَلَمْ يَقُلْ فَضِيْلَةً وَلَا مَنْقَبَةً.

علامہ بدر الدین عینی حنفی فرماتے ہیں: اگر تم نے یہ کہو کہ معاویہ کی شان میں تو بہت سی احادیث وارد ہوئی ہیں، تو میں جواب میں یہ کہوں گا: جی ہاں، لیکن اُن احادیث میں سند کے اعتبار سے کوئی حدیث بھی صحیح نہیں ہے، اسی موقف کو امام اسحاق بن راہویہ، امام نسائی اور دیگر محدثین نے بیان کیا ہے۔ اسی لیے امام بخاری نے ذکر معاویہ کا باب، کہا ہے، فضیلت اور منقبت معاویہ کا باب نہیں کہا۔

العيني في عمدة القاري، 16/343

10. وَقَالَ الْعَلَّامَةُ ابْنُ تَيْمِيَّةَ: وَمُعَاوِيَةُ لَيْسَتْ لَهُ بِخَصُوْصِهِ فَضِيْلَةٌ فِي الصَّحِيْحِ.

ابن تیمیہ بیان کرتے ہیں کہ خصوصاً معاویہ کی کوئی فضیلت کسی صحیح حدیث میں بیان نہیں ہوئی۔

ابن تيمية في منهاج السنة النبوية، 7/40

11. وَقَالَ أَيْضًا: وَطَائِفَةٌ وَضَعُوْا لِمُعَاوِيَةَ فَضَائِلَ وَرَوَوْا أَحَادِيْثَ عَنِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فِيْ ذَلِكَ كُلُّهَا كَذِبٌ.

ابن تیمیہ ہی ایک اور مقام پر لکھتے ہیں: ایک گروہ نے معاویہ کے لیے فضائل گھڑے ہیں اور اُنہوں نے اس سلسلے میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے احادیث روایت کی ہیں جو سب کی سب من گھڑت اور جھوٹی ہیں۔

ابن تيمية في منهاج السنة النبوية، 4/400

12. وَقَالَ الْعَلَّامَةُ ابْنُ الْقَيِّمِ: وَمِنْ ذَلِكَ مَا وَضَعَهُ بَعْضُ جَهَلَةِ أَهْلِ السُّنَّةِ فِيْ فَضَائِلِ مُعَاوِيَةَ ابْنِ أَبِي سُفْيَانَ. قَالَ إِسْحَاقُ بْنُ رَاهَوَيْهِ: لَا يَصِحُّ فِيْ فَضْائِلِ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِيْ سُفْيَانَ عَنِ النَّبِيّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شَيْءٌ.

علامہ ابن قیم بیان کرتے ہیں: انہی(موضوعات) میں وہ روایات بھی ہیں جو معاویہ بن ابی سفیان کے فضائل میں اہل سنت کے بعض نادانوں نے وضع کی تھیں۔ امام اسحاق بن راہویہ فرماتے ہیں: فضیلتِ معاویہ بن ابی سفیان میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کوئی صحیح چیز ثابت نہیں ہے۔

ابن القيم في المنار المنيف في الصحيح والضعيف/116

13. وَقَالَ الْإِمَامُ السُّيُوْطِيُّ: بَابُ ذِكْرِ مُعَاوِيَةَ: لَمْ يَقُلْ وَلَا مَنْقَبَةٌ، لِأَنَّهُ لَمْ يَصِحَّ فِيْ فَضَائِلِهِ شَيْءٌ، كَمَا قَالَهُ ابْنُ رَاهَوَيْهِ.

امام سیوطی فرماتے ہیں: امام بخاری نے ذکرِ معاویہ کا باب قائم کیاہے منقبت (فضیلتِ معاویہ) کا باب قائم نہیں کیا،کیونکہ معاویہ کے فضائل میں کوئی چیز صحیح نہیں ہے، امام اسحاق بن راہویہ نے بھی یہی فرمایا ہے۔

السيوطي في التوشيح شرح الجامع الصحيح، 6/2379

14. وَقَالَ أَيْضًا فِي تَارِيْخِ الْخُلَفَاءِ عَنْ مُعَاوِيَةَ: وَقَدْ وَرَدَ فِي فَضْلِهِ أَحَادِيْثُ قَلَّمَا تَثْبُتُ.

امام سیوطی نے ہی ’’تاریخ الخلفاء‘‘ میں معاویہ کے بارے میں کہا ہے: معاویہ  کے فضائل میں وارد شدہ احادیث میں سے بہت ہی کم(صحیح) ثابت ہوئی ہیں۔

السيوطي في تاريخ الخلفاء، 1/194

15. وَقَالَ الشَّيْخُ عَبْدُ الْحَقِّ الدِّهْلَوِيُّ الْحَنَفِيُّ: وَاعْلَمْ أَنَّ الْمُحَدِّثِيْنَ قَالُوْا: لَمْ يَصِحَّ فِيْ فَضَائِلِ مُعَاوِيَةَ حَدِيْثٌ، وَكَذَا قَالَ السُّيُوْطِيُّ.

شیخ عبد الحق محدث دہلوی بیان کرتے ہیں: جان لیجئے! محدثین کرام نے فرمایاہے: فضائل معاویہ میں کوئی حدیث صحیح نہیں ہے، اور ایسا ہی امام سیوطی نے کہا ہے۔

الشيخ عبد الحق في لمعات التنقيح شرح مشكاة المصابيح، 9/775

16. وَقَالَ الْعَجْلُوْنِيُّ: وَبَابُ فَضَائِلَ مُعَاوِيَةَ لَيْسَ فِيْهِ حَدِيْثٌ صَحِيْحٌ.

علامہ عجلونی بیان کرتے ہیں: معاویہ کے فضائل کے باب میں کوئی حدیث صحیح نہیں ہے۔

العجلوني في كشف الخفاء ومزيل الإلباس، 2/565

 

https://www.minhajbooks.com/urduہم نے یہ مطالب

 والی سائیٹ سے کچھ رد و بدل کے ساتھ یہاں نقل کرتے ہیں

 





Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی