2022 August 10
کیا شیعہ بھی انبیاء کی مالی وراثت کے قائل نہیں؟
مندرجات: ٢٠١٣ تاریخ اشاعت: ٢٠ December ٢٠٢١ - ١٣:٢٧ مشاہدات: 1892
یاداشتیں » پبلک
کیا شیعہ بھی انبیاء کی مالی وراثت کے قائل نہیں؟

 
 کیا شیعہ بھی انبیاء کی مالی وراثت کے قائل نہیں؟

اہل سنت کا شبھہ :

 انبیائے کرام کی میراث نہیں ہوتی۔ یہ فرمان نبوی متفق علیہ بین الفرقین ہے ۔جیساکہ شیعوں کی سب سے معتبر کتاب اصول کافی میں یہ حدیث موجود ہے :

مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى عَنْ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ خَالِدٍ عَنْ أَبِي اَلْبَخْتَرِيِّ عَنْ أَبِي عَبْدِ اَللَّهِ عَلَيْهِ اَلسَّلاَمُ قَالَ: إِنَّ اَلْعُلَمَاءَ وَرَثَةُ اَلْأَنْبِيَاءِ وَ ذَاكَ أَنَّ اَلْأَنْبِيَاءَ لَمْ يُورِثُوا دِرْهَماً وَ لاَ دِينَاراً وَ إِنَّمَا أَوْرَثُوا أَحَادِيثَ مِنْ أَحَادِيثِهِمْ فَمَنْ أَخَذَ بِشَيْءٍ مِنْهَا فَقَدْ أَخَذَ حَظّاً وَافِراً فَانْظُرُوا عِلْمَكُمْ هَذَا عَمَّنْ تَأْخُذُونَهُ فَإِنَّ فِينَا أَهْلَ اَلْبَيْتِ فِي كُلِّ خَلَفٍ عُدُولاً يَنْفُونَ عَنْهُ تَحْرِيفَ اَلْغَالِينَ وَ اِنْتِحَالَ اَلْمُبْطِلِينَ وَ تَأْوِيلَ اَلْجَاهِلِينَ .

الاصول الکافی الجزء الأول  كِتَابُ فَضْلِ اَلْعِلْمِ  بَابُ صِفَةِ اَلْعِلْمِ وَ فَضْلِهِ وَ فَضْلِ اَلْعُلَمَاءِ۔

لہذا شیعہ اور اہل سنت دونوں کےہاں یہ روایت موجود ہے کہ انبیاء مالی وراثت چھوڑ کر نہیں جاتے ۔ اسی لئے یہ متفقہ فیصلہ ہے لیکن شیعہ اپنی کتاب کی روایات کو بھی نہیں مانتے ۔

جواب :   

 اس شبھہ  کا سادہ جواب ایک ادبی تحلیل کے ساتھ ہم دیتے ہیں۔

 {أَنَّ اَلْأَنْبِيَاءَ لَمْ يُورِثُوا دِرْهَماً وَ لاَ دِينَاراً وَ إِنَّمَا "أَوْرَثُوا ۔۔۔۔اب { لَمْ يُورِثُوا اور أَوْرَثُوا  } یہ دونوں فعل  متعدی ہیں اور  وہ بھی  دو مفعولی ۔    اس کا ایک  مفعول ۔۔۔ درھما و دینارا ہے دوسرا مفعول ۔ علماء یا علماء کی طرف پلٹنی والی ضمیر ہے ۔ اب  اس کا معنی یہ ہے کہ  علماء انبیاء کے وارث ہیں ،انبیاء علماء کو درھم  اور  دینار وراثت میں دے کر نہیں جاتے بلکہ انبیاء علماء کو احادیث  اور علم وراثت میں دے کر جاتے ہیں ۔

اگر بات یہ ہوتی کہ انبیاء کسی کو بھی وراثت میں کچھ چھوڑ کر نہیں جاتے تو بات ایک حد تک ٹھیک ہوسکتی تھی لیکن یہاں تو علماء کو وراثت میں درہم و دینا چھوڑ کر نہ جانے کی بات ہورہی ہے  نہ کسی کو بھی کسی قسم کی وراثت  چھوڑ کر نہ جانے کی بات ۔ لہذا اس کا اولاد کی مالی  وراثت کی بحث سے دور کا تعلق بھی نہیں۔

 جیساکہ اسی قسم کی احادیث خود اہل سنت کی کتابوں میں بھی موجود ہیں ،کچھ نمونے؛

بخارى  کتاب علم  ، بَاب الْعِلْمُ قبل الْقَوْلِ وَالْعَمَلِ، میں ہے :

أَنَّ الْعُلَمَاءَ هُمْ وَرَثَةُ الأَنْبِيَاءِ - وَرَّثُوا الْعِلْمَ - مَنْ أَخَذَهُ أَخَذَ بِحَظٍّ وَافِرٍ.

علماء انبیاء کے وارث ہیں ، علماء کو ان سے علم کی وراثت ملتی ہے، جس کو یہ وراثت نصیب ہو  اس نے بہت زیادہ فائدہ اٹھایا ہے ۔    صحيح البخاري، ج 1، ص 37، كتاب العلم، بَاب الْعِلْمُ قبل الْقَوْلِ وَالْعَمَلِ،

 سنن میں ہیں : إِنَّ الْعُلَمَاءَ هُمْ وَرَثَةُ الْأَنْبِيَاءِ لَمْ يَرِثُوا دِينَارًا وَلَا دِرْهَمًا وَإِنَّمَا وَرِثُوا الْعِلْمَ

علماء، انبیاء کے وارث ہیں،علماء کو انبیاء سے درہم اور دینا ارث میں نہیں ملتا ۔ علماء انبیاء کے علم کے وارث ہیں ۔

 جیساکہ یہ حدیث سنن الترمذى میں { بَاب فَضْلِ الْعُلَمَاءِ وَالْحَثِّ عَلَى طَلَبِ الْعِلْمِ }  میں ذکر ہوئی ہے۔

اسی طرح سنن أبى داود - باب الْحَثِّ عَلَى طَلَبِ الْعِلْمِ. } میں ،سنن ابن ماجه  { بَاب فَضْلِ الْعُلَمَاءِ وَالْحَثِّ عَلَى طَلَبِ الْعِلْمِ۔} میں یہ حدیث  ذکر ہوئی ہے ۔

 

 

قابل توجہ نکات: دونوں کا مضمون اور مقصود الگ ۔

الف :  اہل سنت کے علماء نے شیعہ علماء کی طرح  علم اور عالم  کی فضیلت سے متعلق ابواب  میں اس قسم کی احادیث کو ذکر کیا ہے، کسی نے بھی اس قسم کی احادیث کو  مالی وراثت والے باب میں ذکر نہیں کیا ہے ۔ اگر ان علماء کے نذدیک  اس قسم کی احادیث  کا مالی وراثت والے موضوع سے  بھی کوئی تعلق ہوتی اور علماء یہ سمجھتے کہ  اس قسم کی احادیث انبیاء کی مالی وراثت کی نفی پر بھی دلیل ہے  تو  کم از کم  مالی وراثت سے متعلق کسی باب میں ان احادیث  کو ذکر کرتے  اور اس کی طرف اشارہ کرتے ۔

ب :  کسی  محدث اور شارح نے بھی اس کی وہ  شرح  نہیں کی ہے جو  ارث  کے باب میں موجود {نحن معاشر  الانبیاء لا نورث۔۔}جیسی احادیث کی شرح کرتے ہیں ۔ لہذا محدثین اور شارحین کے فھم   کو چھوڑ کر ان  سے زیادہ حدیث شناسی کا دعوا کرنا  عقلمندی نہیں ۔

ج :    شیعہ  عالم مرحوم کلینی نے بھی  مذکورہ  حدیث کو  كِتَابُ فَضْلِ اَلْعِلْمِ  بَابُ صِفَةِ اَلْعِلْمِ وَ فَضْلِهِ وَ فَضْلِ اَلْعُلَمَاءِ۔ میں ذکر کیا ہے   ۔ کسی شیعہ عالم نے اس کو ارث سے متعلق ابواب میں ذکر نہیں کیا  اور کسی شیعہ عالم نے اس قسم کی احادیث کو انبیاء کی  مالی وراثت کی نفی کی دلیل کے طور پر پیش نہیں کیا ہے ۔

 اب اہل سنت کے  مناظر  حضرات  کو آگر  دوسروں کے علماء کی  طرف سے اس قسم کی احادیث کے پیش کردہ  فھم اور تشریح  پسند نہیں ہے تو  کم از کم اپنے ہی علماء کے فھم اور سوچ کو  پسند  کرئے  اور اپنے آپ کو اپنے ہی   محدثیں اور  صحاح کے شارحین سے  زیادہ حدیث شناس کہنا چھوڑ دئے ۔

لہذا شیعہ کتاب میں موجود  "إِنَّ اَلْعُلَمَاءَ وَرَثَةُ اَلْأَنْبِيَاءِ کا تعلق  اہل سنت کی کتابوں میں موجود " إِنَّ الْعُلَمَاءَ هُمْ وَرَثَةُ الْأَنْبِيَاءِ "  والی  حدیث سے ہے یہ دونوں آپس میں ہم معنی ہیں ۔ اس قسم کی  احادیث اور حدیث "نحن الانبیاء لا نورث" کے درمیان کوئی ربط  نہیں۔یہ دو الگ الگ موضوع سے متعلق احادیث ہیں ۔ان کے  مضمون ، منطوق  اور ان کے الفاظ  سب الگ الگ ہیں ۔

    دونوں کے  الفاظ  الگ۔

ملاحظہ کریں علم اور علماء کی فضیلت والی احادیث ۔

شیعہ کتابوں میں  :

إِنَّ اَلْعُلَمَاءَ وَرَثَةُ اَلْأَنْبِيَاءِ وَ ذَاكَ أَنَّ اَلْأَنْبِيَاءَ لَمْ يُورِثُوا دِرْهَماً وَ لاَ دِينَاراً وَ إِنَّمَا أَوْرَثُوا أَحَادِيثَ مِنْ أَحَادِيثِهِمْ۔۔۔۔

اھل سنت کی کتابوں میں

 إِنَّ الْعُلَمَاءَ هُمْ وَرَثَةُ الْأَنْبِيَاءِ لَمْ يَرِثُوا دِينَارًا وَلَا دِرْهَمًا وَإِنَّمَا وَرِثُوا الْعِلْمَ ۔۔

مالی وراثت کی نفی والی احادیث کے الفاظ ۔۔۔  لَا نُورَثُ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ  یا «إِنَّا مَعْشَرَ الْأَنْبِيَاءِ لَا نُورَثُ، مَا تَرَكْنَا فَهُوَ صَدَقَةٌ»

دقت کریں   :

ان دونوں قسم کی  احادیث  میں آسمان اور زمین کا فرق  ہے۔

ایک ظاہری طور پر بطور عام ،مالی وراثت سے متعلق ہے   اور  ماترک کو صدقہ قرار دینے سے متعلق الفاظ پر مشتمل ہے ۔ دوسری  خاص ہے اور علماء اور علم کی فضیلت سے متعلق  الفاظ پر مشتمل ہے ۔

جیساکہ  علماء کو وارث قرار دینے والی احادیث میں "الا صدقہ"  کا ذکر  موجود نہیں ہے ۔اب اگر دونوں قسم کی احادیث ایک ہی معنی اور مقصود کو بیان کرنے کے لئے ہیں  تو "الا صدقہ"   والا جملہ {إِنَّا مَعْشَرَ الْأَنْبِيَاءِ لَا نُورَثُ } والی احادیث میں تو ٹھیک ہوسکتی ہے جبکہ دوسری قسم { إِنَّ الْعُلَمَاءَ هُمْ وَرَثَةُ} کی    احادیث میں اس کا کوئی معنی ہی نہیں بنتا ،اگر  اس حصے کو علماء کی وراثت والی حدیث کے ساتھ ملائے تو عجیب و غریب معنی سامنے آتا ہے ۔مثلا علماء انبیاء کے وارث ہیں، ان کو وراثت میں علم ملتا  ہے اور یہ ماترک { علمی وراثت } صدقہ ہے ۔۔۔ اور پھر مسلمانوں کے بیت المال کا حصہ ہوگا ۔۔۔۔

     اس سلسلے کہ  ایک اہم بات یہ ہے کہ  علمی وراثت ان کی زندگی میں ہی منتقل ہوتی ہے ،لیکن مالی وراثت کا اطلاق وہاں ہوتا ہے جہاں وراثت چھوڑنے والا  دنیا سے چلا جائے ۔

          اسی طرح لفظ وراثت کا مالی وراثت میں استعمال اس لفظ کا اپنے حقیقی معنی میں استعمال ہونا ہے لہذا کسی قسم کی قرینہ لانے کی ضرورت نہیں ۔ لیکن علماء کے بارے میں اس لفظ کا استعمال مجازی ہے  ،لہذا  "لَمْ يُورِثُوا دِرْهَماً ۔۔۔ إِنَّمَا أَوْرَثُوا أَحَادِيثَ ۔۔۔۔ قرینہ کے طور پر  یہاں ذکر ہوا۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ دونوں قسم کی احادیث الگ الگ مضامین پر مشتمل ہیں ۔لہذا  علماء  کو انبیاء  سے علم وراثت میں ملنا،  نبی کی مالی وراثت نہ ہونے اور  نبی کی  بیٹی کو باپ کی زمین اور باقی حقوق سے محروم کرنے  پر  دلیل  کے طور پر پیش  کرنا علمی کمزوری کی دلیل ہے ۔

 ذاتی تاویلات  کے ساتھ اس حدیث کا  ایسا معنی کرنا کہ جو اس حدیث کے سیاق اور الفاظ  کے خلاف ہو  اور اس کو ایسی احادیث کے ساتھ ہم معنی سمجھنا جو الفاظ اور مضمون کے اعتبار سے آپس میں مطابقت نہ رکھتی ہوں  تو یہ علمی خیانت  اور فقر علمی کی واضح دلیل ہے  ۔

   عجیب بات ہے کہ دوسروں سے کہتے ہیں  کہ ہماری احادیث کو ہمارے علماء ہی بہتر سمجھتے ہیں ، لیکن جب دوسروں کی باری آئے تو دوسروں کے علماء پر خیانت کا  الزام لگا کر خود ہی دوسروں کی احادیث کا شارح، قاضی ،مفتی  اور  دوسروں سے زیادہ حدیث شناس ہونے کا دعوا کرتا ہے ۔ یہاں تک کہ اپنے ہی علماء کے فہم اور سوچ کو غلط کہنے سے بھی نہیں کراتا اور اپنے منفرد فھم کو ہی ان احادیث کا حقیقی معنی قرار دینے پر مصر ہے ۔

 اگر  فرض کرئے ؛  اصول کافی والی حدیث کا بھی  وہی معنی ہو جو  مالی وراثت  والی حدیث کا ہے اور یہ انبیاء کی مالی وراثت کی نفی پر دلیل ہے ، تو  پھر ہم اس صورت میں اس معنی  کو قبول نہیں کریں گے کیونکہ آئمہ اہل بیت  علیہم السلام  نے واضح طور پر فرمایا ہے کہ ہماری طرف منسوب حدیث اگر  قرآنی تعلیمات  سے ٹکراتی ہو تو اس حدیث کو دیوار پر دئے مارو  ۔لہذا اس روایت کے مذکورہ معنی کو نہیں مان سکتے کیونکہ یہ قرآن کے خلاف ہے ۔  

نتیجہ

بعض لوگ ڈھوپتے کو تنکے کا سہارا کی مانند ،اصول کافی میں موجود مذکورہ حدیث کو جناب ابوبکر کی حدیث کی توجیہ کے لئے پیش کرتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ انبیاء علیہم السلام کی مالی وراثت نہ ہونا شیعہ اور اہل سنت کا متفقہ مسئلہ ہے ، جبکہ یہ ایک مغالطہ ہے ،اس حدیث کا ابوبکر کی حدیث سے کوئی تعلق نہیں ۔دونوں کا مضمون اور الفاظ الگ الگ ہیں۔

 لہذا اس حدیث کو الزامی جواب کے طور پر پیش کرنا ،فقر علمی اور تعصب میں اندھا پنی سے کام لینے کی واضح دلیل ہے ۔




Share
1 | نوررحمان | | ٢٠:٠٨ - ٠٣ January ٢٠٢٢ |
شیعہ مذھب کے اصول اربعہ کی اوّل کتاب اصول کافی میں موجود ہے : محمد بن يحيى، عن أحمد بن محمد بن عيسى، عن محمد بن خالد، عن أبي البختري، عن أبي عبد الله عليه السلام قال: إن العلماء ورثة الأنبياء وذاك أن الأنبياء لم يورثوا درهما ولا دينارا، وإنما أورثوا أحاديث من أحاديثهم، فمن أخذ بشئ منها فقد أخذ حظا وافرا، فانظروا علمكم هذا عمن تأخذونه؟ فإن فينا أهل البيت في كل خلف عدولا ينفون عنه تحريف الغالين، وانتحال المبطلين، وتأويل الجاهلين ۔
ترجمہ : امام جعفر صادق (رضی الله تعالی عنہ) نے فرمایا کہ علماء وارث انبیاء ہیں ، اور یہ اس لئے کہ انبیاء کسی کو وارث نہیں بناتے درہم یا دینار کا ، وه صرف اپنی احادیث وراثت میں چھوڑتے ہیں ۔ پس جس نے ان (احادیث) سے کچھ لے لیا ، اس نے کافی حصہ پا لیا ۔ تم دیکھو کہ تم اس علم کو کس سے لیتے ہو ۔ ہم اہل بیت کےخلف میں ہمیشہ ایسے لوگ ہوں گے جو عادل ہوں گے اور رد کریں گے غالیوں کی تحریف اور اہل باطل کے تغیرات اورجابلوں کی تاویلوں کو ۔ (اصول الکافی الشیخ الکلینی جلد نمبر 1 صفحہ نمبر 17،چشتی)
یہی روایت شیعہ کے جیّد عالم شیخ مفید نے اپنی کتاب “الخصاص” میں بھی بیان کی ہے : وعنه، عن محمد بن الحسن بن أحمد، عن محمد بن الحسن الصفار، عن السندي بن محمد، عن أبي البختري، عن أبي عبد الله عليه السلام قال: إن العلماء ورثة الأنبياء وذلك أن العلماء لم يورثوا درهما ” ولا دينارا ” وإنما ورثوا أحاديث من أحاديثهم فمن أخذ بشئ منها فقد أخذ حظا وافرا “، فانظروا علمكم هذا عمن تأخذونه فإن فينا أهل البيت في كل خلف عدولا ينفون عنه تحريف الغالين وانتحال المبطلين وتأويل الجاهلين ۔
ترجمہ : امام جعفر صادق رضی الله تعالی عنہ نے فرمایا کہ علماء وارث انبیاء بیں اور یہ اس لئے کہ انبیاء کسی کو وارث نہیں بنانے دربم یا دینار کا، وه صرف اپنی احادیث وراثت میں چھوڑتے ہیں۔ پس جس نے ان (احادیث) سے کچھ لے لیا، اس نے کافی حصہ پا لیا۔ تم دیکھو کہ تم اس علم کو کس سے لیتے ہو۔ ہم اہل بیت کے خلف میں ہمیشہ ایسے لوگ ہوں گے جو عادل ہوں گے اور رد کریں گے غالیوں کی تحریف اور اہل باطل کے تغیرات اور جابلوں کی تاویلوں کو ۔ (كتاب الاختصاص – الشيخ المفيد – الصفحة 16)

شیعہ مذھب کی کتاب اصول الکافی میں موجود ہے جس میں نبی کریم سے واضح الفاظ میں مروی ہے کہ انبیاء کرام درہم و دینار وراثت میں نہیں چھوڑتے :محمد بن الحسن وعلي بن محمد، عن سهل بن زياد، ومحمد بن يحيى، عن أحمد بن محمد جميعا، عن جعفر بن محمد الأشعري، عن عبد الله بن ميمون القداح، وعلي بن إبراهيم، عن أبيه، عن حماد بن عيسى، عن القداح، عن أبي عبد الله عليه السلام قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله: من سلك طريقا يطلب فيه علما سلك الله به (3) طريقا إلى الجنة وإن الملائكة لتضع أجنحتها لطالب العلم رضا به (4) وإنه يستغفر لطالب العلم من في السماء ومن في الأرض حتى الحوت في البحر، وفضل العالم على العابد كفضل القمر على سائر النجوم ليلة البدر، وإن العلماء ورثة الأنبياء إن الأنبياء لم يورثوا دينارا ولا درهما ولكن ورثوا العلم فمن أخذ منه أخذ بحظ وافر ۔
ترجمہ : رسول الله صلى الله علیہ وسلم نے فرمایا دین کے عالم کی فضیلت عابد پر ایسی ہے جس طرح ستاروں پر چاند کی فضیلت اور چاندنی رات پر فضیلت ہے اور علماء وارث انبیاء ہیں اور انبیاء نہیں چھوڑتے اپنی امت کے لئے درہم و دینار ، بلکہ وہ وراثت میں چھوڑتے ہیں علم دین کو۔ پس جس نے اس کو حاصل کیا ، اس نے بڑا حصہ پا لیا ۔ (کتاب اصول الكافي – الشيخ الكليني – ج ۱ – الصفحة ۱۹) ، اصول الکافی کی اس حدیث کو خمینی نے بھی صحیح تسلیم کیا ہے ۔

شیعہ مذھب کی مشہور کتاب قرب الاسناد میں موجود ہے اور علامہ الحمیری القمی نے بحار الانوار کے حوالے سے بیان کی ہے : جعفر، عن أبيه: أن رسول الله صلى الله عليه وآله لم يورث دينارا ولا درهما، ولا عبدا ولا وليدة، ولا شاة ولا بعيرا، ولقد قبض رسول الله صلى الله عليه وآله وإن درعه مرهونة عند يهودي من يهود المدينة بعشرين صاعا من شعير، استسلفها نفقة لأهله ۔
ترجمہ : حضرت ابو جعفر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کو درھم و دینار یا غلام یا باندی یا بکری یا اونٹ کا وارث نہیں بنایا، بلاشبہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی روح اس حال میں قبض ہوئی جب کہ آپ کی زرہ مدینہ کے ایک یہودی کے پاس صاع جو کے عیوض رہن تھی، آپ نے اس سے اپنے گھر والوں کے لئے بطور نفقہ یہ جو لئے تھے ۔ (قرب الاسناد الحمیری القمی ص 91,92،چشتی)(بحوالہ المجلسي في البحار 16: 219 / 8)

کلینی نے الکافی میں ایک مستقل باب اس عنوان سے لکھا ہے ۔ باب (ان النساء لا يرثن من العقار شيئا) علي بن إبراهيم، عن محمد بن عيسى ، عن يونس، عن محمد بن حمران، عن زرارة عن محمد بن مسلم، عن أبي جعفر عليه السلام قال: النساء لا يرثن من الأرض ولا من العقار شيئا ۔ عورتوں کو غیر منقولہ مالِ وراثت میں سے کچھ بھی نہیں ملتا ۔ اس عنوان کے تحت اس نے متعدد روایات بیان کی ہیں ، ان کے چوتھے امام ابو جعفر سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا : عورتوں کو زمین اور غیر منقولہ مالِ وراثت میں سے کچھ بھی نہیں ملے گا ۔ (الفروع من الکافی کتاب المواریث ج ۷ ص ۱۳۷،چشتی)

يونس بن عبد الرحمان عن محمد بن حمران عن زرارة ومحمد بن مسلم عن أبي جعفر عليه السلام قال: النساء لا يرثن من الأرض ولا من العقار شيئا ۔
ترجمہ : حضرت امام باقر (رضی اللہ عنہ) نے فرمایا عورت زمین و جائیداد میں سے کسی کی وارث نہیں ۔ (کتاب تھذیب الاحکام الشیخ الطوسی ج 9 ص 254)

جہاں تک ان کے حقوق غصب کرنے کا سوال ہے ، اس بارے میں مجلسی باوجود شدید نفرت و کراہت کے یہ بات کہنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ : ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جب دیکھا کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا خفا ہوگئیں تو ان سے کہنے لگے : میں آپ کے فضل اور رسول اللہ علیہ السلام سے آپ کی قرابت کا منکر نہیں۔ میں نے صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی تعمیل میں فدک آپ کو نہیں دیا ۔ میں اللہ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ علیہ السلام کو یہ کہتے سنا ہے: ہم انبیاء کا گروہ، مالِ وراثت نہیں چھوڑتے ۔ ہمارا ترکہ کتاب و حکمت اور علم ہے ۔ اس مسئلے میں میں تنہا نہیں، میں نے یہ کام مسلمانوں کے اتفاق سے کیا ہے۔ اگر آپ مال و دولت ہی چاہتی ہیں تو میرے مال سے جتنا چاہیں لے لیں، آپ اپنے والد کی طرف سے عورتوں کی سردار ہیں، اپنی اولاد کے لیے شجرۂ طیبہ ہیں، کوئی آدمی بھی آپ کے فضل کا انکار نہیں کرسکتا ۔ (حق الیقین‘‘ ص ۲۰۱، ۲۰۲ ترجمہ از فارسی)

جواب:
سلام علیکم :
 
جناب پہلی بات تو یہ ہے کہ ارث کا قانون ایک عمومی قانون ہے اس میں نبی اور غیر نبی میں فرق نہیں  ہے ۔۔
شریعت نے دین اولاد کو والدین کی ارث سے محروم قرار دیا ہے ،
 ولد الزنا ْْ۔۔ والدین کا قاتل ۔۔۔۔ کافر اولاد۔۔
 
ان وراثت سے محروم کرنا ایک قسم کی سزا ، عیب اور معاشرے کو برائیوں سے دور رکھنے کے لئے شریعت کی طرف سے چارہ جوئی ہے۔۔۔ انبیا کی اولاد کا کیا جرم ہے ؟ کیا ان کو وراثت کی ضرورت نہیں ؟ کیا انبیا کی وراثت بیت المال کا حصہ بننے اور فقرا میں تقسیم ہونے پر انبیا کی تاریخ سے کوئی ایک نمونہ دکھا سکتے ہو۔۔۔۔۔۔
 
 دوسری بات :
قرآن میں ارث کےحکم کو بتانے والی دس سے زیادہ آیات موجود ہیں لیکن ایک آیت بھی انبیا کی مالی وراثت کی نفی پر نہیں ہے لہذا یہ حکم قرآن کے حکم کے خلاف ہے۔۔۔۔
ہم قرآنی حکم کے خلاف کوئی حدیث ہو تو اس کو قبول نہیں کرتے کیونکہ ہمارے ائمہ  قرآن کے خلاف نہیں بولتے ۔۔
تیسری بات :
آپ نے اپنے مقصد کو حاصل کرنے کے لئے اصول کافی کی حدیث کا معنی غلط کیا ہے ۔ایک سادہ ادبی تحلیل کے ذریعے یہ مسئلہ حل ہوجاتا ہے ۔۔۔۔۔
دیکھیں : إن العلماء ورثة الأنبياء وذاك أن الأنبياء لم يورثوا درهما۔۔۔۔ آپ نے اس کا ترجمہ کیا ہے :۔۔۔ وارث انبیاء ہیں ، اور یہ اس لئے کہ انبیاء کسی کو وارث نہیں بناتے درہم یا دینار کا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس ترجمہ میں (کسی کو وارث نہیں بناتے) غلط ترجمہ ہے ۔۔۔۔ صحیح ترجمہ ۔۔۔ انبیاء علماء کو درھم و دینار ارث میں چھوڑ کر نہیں جاتے بلکہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 
 
لہذا آپ نے اپنے مقصد کے لئے ( لم يورثوا) کا دوسرا مفعول کسی کو کیا ہے جبکہ اس کا دوسرا مفعول العلماء  کی طرف پلٹنے والی ضمیر ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 ہم نے اس سلسلے میں تفصیل جواب  اسی مقالے میں دیا ہے ۔۔۔ اگر مطالعہ کرتے تو تکراری بات نہ کرتے ۔۔۔۔
 
چھوتھی بات :
 
یہ حدیث علم اور عالم کی فضیلت سے متعلق ہے اس کا مالی وراثت سے کوئی تعلق نہیں ۔۔۔ یہی حدیث آپ کی کتابوں میں بھی ہے لیکن آپ کے کسی محدث اور صحاح ستہ کے مصنف نے اس کو ارث کے باب میں ذکر نہیں کیا ہے بلکہ سب نے اصول کافی کے مصنف کی طرح اس کو علم و عالم کی فضیلت کے ابواب میں ذکر کیا ہے ۔۔۔ اگر آپ اپنے بزرگوں کے فھم و درک کے خلاف استدلال کرنا چاہئے تو ہم آپ کو نہیں روکتے ۔۔
 
 
 
پانچویں بات :
 
قرب الاسناد کی روایت : ن رسول الله صلى الله عليه وآله لم يورث دينارا ولا درهما، ولا عبدا ولا وليدة، ولا شاة ولا بعيرا، ولقد قبض رسول الله صلى الله عليه وآله وإن درعه مرهونة عند يهودي من يهود المدينة بعشرين صاعا من شعير، استسلفها نفقة لأهله ۔۔
 
 
پہلا نکتہ : تو یہ ہے کہ اس کی سند میں حسین بن علوان ہے یہ سنی راوی ہے اور ہمارے علما نے اس کی توثیق نہیں کی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔
اگر کسی نے توثیق کی ہے تو یہ روایت قرآن کے خلاف ہے ۔۔۔۔
 
دوسرا نکتہ : اس روایت میں انبیاء کی مالی وراثت کی نفی نہیں ہوئی ہے بلکہ مندرجہ چیزوں کو وراثت میں چھوڑ کر جاننے کی نفی کی ہے ۔۔۔۔ ۔
 
 
  چھٹی بات :
 کلینی نے الکافی میں ایک مستقل باب اس عنوان سے لکھا ہے ۔ باب (ان النساء لا يرثن ۔
  عورتوں کو زمین اور غیر منقولہ مالِ وراثت میں سے کچھ بھی نہیں ملے گا ۔
 
۔۔۔۔ اس سلسلے میں موجود شبھہ کا بھی ہم نے تفصیلی جواب دیا ہے ۔۔۔۔۔
یہ بیوی سے متعلق موضوع ہے ،ہمارا آپ لوگوں سے  نزاع بیٹی کی وراثت کے بارے میں ہے ۔۔
 
تفصیل دیکھیں ْْْwww.valiasr-aj.com/urdu/shownews.php
 
   
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی