2021 August 5
صلوات کا طریقہ ۔ آپ ابتر درود کیوں پڑھتے ہو؟
مندرجات: ٢٠١٢ تاریخ اشاعت: ١٤ July ٢٠٢١ - ١٨:٥٣ مشاہدات: 129
یاداشتیں » پبلک
صلوات کا طریقہ ۔ آپ ابتر درود کیوں پڑھتے ہو؟

 

صلوات کا طریقہ

اعتراض: شیعہ صلوات میں قرآن اور تمام مسلمانوں کی سیرت کے خلاف لفظ آل محمد کا اضافہ کرتے ہیں۔ جبکہ قرآن میں صلوات فقط پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم  "  کے لئے ہے۔ کیونکہ قرآن فرما رہا ہے: "  إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا؛ بیشک اللہ اور اس کے ملائکہ رسول پر صلٰوات بھیجتے ہیں تو اے صاحبانِ ایمان تم بھی ان پر صلٰوات بھیجتے رہو اور سلام کرتے رہو۔{سورہ احزاب، آیۃ/ 56۔}

قاضی عیاض لکھتے ہیں: سلام و صلوات رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم  اور بقیہ تمام انبیاء  علیہم السلام سے مخصوص ہے۔ اور کوئی بھی اس امر میں ان کا شریک نہیں ہے۔ جیسا کہ خداوند متعال  نے حکم دیا ہے: (صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا) دوسروں کے لئے ہمیں پروردگار سے اس کی مغفرت اور رضاکو طلب کرنا چاہیے۔ جیسا کے پروردگار نے فرمایا ہے: " وَالَّذِينَ جَاؤُوا مِن بَعْدِهِمْ يَقُولُونَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ؛{ سورہ حشر، آیۃ/ 10} اور جو لوگ ان کے بعد آئے اور ان کا کہنا یہ ہے کہ خدایا ہمیں معاف کردے اور ہمارے ان بھائیوں کو بھی جنہوں نے ایمان میں ہم پر سبقت کی ہے۔۔ اسی طرح مہاجرین و انصار اور تابعین سے پہلے والے لوگوں کے بارے میں فرماتا ہے۔" رَّضِيَ اللّهُ عَنْهُمْ وَرَضُواْ"خدا ان سے راضی ہوگیا اور وہ خدا سے راضی ہوگئے۔{ سورہ مائدہ، آیۃ/ 119۔}

وہ آگے لکھتے ہیں: صلوات میں پیغمبر ص کے علاوہ دوسروں کا اضافہ کرنا یہ شیعوں کی طرف سے گڑھا گیا ہے کہ جس کی مخالفت ہونا ضروری ہے۔{ الشفا بتحریف حقوق المصطفیٰ، ج 2؛ ص 192/191}

کبھی کہتے ہیں کہ تمام مسلمان صحابہ کے لئے  رضی اللہ عنہ  کے عنوان سے استفادہ کرتے ہیں اور علی علیہ السلام کیونکہ انھوں نے بتوں کے سامنے سر نہیں جھکایا تھا اس لئے ان کا نام کرم اللہ وجھہ کے ساتھ لیتے ہیں۔ لیکن شیعہ اصحاب کا نام محترم الفاظ کے ساتھ نہیں لیتے لیکن اپنے اماموں کا اتنا زیادہ احترام کرتے ہیں کہ انھیں پیغمبر ص کے برابر قرار دیتے ہیں۔ اور ان کے نام کے بعد علیہ السلام اور علیہ الصلواۃ و السلام کے عنوان کا استعمال کرتے ہیں۔ جبکہ قرآن کی دلیل کی بنیاد پر اس طرح کے عنوان فقط پیغمبر ص کی ذات سے مخصوص ہیں۔

اس اعتراض کے جواب میں چند نکتے قابل ذکر ہیں:

پہلا نکتہ: "صلوات" "صلاۃ" کی جمع ہے جو دعا کے معنی میں ہے۔ نماز کو صلاۃ اس لئے کہتے ہیں کیونکہ یہ دعا اور استغفار پر مشتمل ہوتی  ہے ۔ {لسان العرب، ج14؛ ص465/466۔}

اصطلاح  میں صلوات  یہ مشہور ذکر  "اللھم صلی علی محمد و  آل محمد" ہے۔جس کا مطلب بارگاہ خداوندی میں محمد و آل محمد کے لئے تقرب اور بلندی درجات کی درخواست ہے۔ شیعہ اور اہل سنت کے درمیان سب سے زیادہ اختلاف صلوات کی کیفیت میں ہے۔ شیعہ چاہے نماز میں   ہو یا  اس کے علاوہ ہو اس میں آل محمد کا اضافہ کرتے ہیں۔لیکن اہل سنت عام طور پر صلی علیہ و سلم پڑھتے ہیں  اور اگر آل محمد کا اضافہ کرتے بھی ہیں تو اس میں ازواج و اصحاب کا بھی ذکر کرتے ہیں۔ شافعی اور حنبلی نماز کے تشھد میں آل محمد کو  پڑھنا ضروری سمجھتے ہیں۔ لیکن مالکی اور حنفی تشھد میں صلوات کو مستحب مانتے ہیں۔

دوسرا نکتہ: جب یہ کہا جاتا ہے کہ خدا صلوات بھیجتا ہے تو اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ خدا کی صلوات کلام اور لفظ کی جنس سے ہے بلکہ اس ے مراد فعل خدا ہےاور یہ فقط پیغمبر ص سے مخصوص نہیں ہے بلکہ خداوند مومنین پر بھی صلوات بھیجتا ہے جیسا کہ قرآن میں ذکر ہے:"هُوَ الَّذِي يُصَلِّي عَلَيْكُمْ وَمَلَائِكَتُهُ لِيُخْرِجَكُم مِّنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ وَكَانَ بِالْمُؤْمِنِينَ رَحِيمًا ؛ { سورہ احزاب، آیۃ/43۔} وہی وہ ہے جو تم پر رحمت نازل کرتا ہے اور اس کے فرشتے بھی تاکہ تمہیں تاریکیوں سے نکال کر نور کی منزل تک لے آئے اور وہ صاحبان هایمان پر بہت زیادہ مہربان ہے۔

اس آیت سے استفادہ  ہوتا ہے کہ صلوات خدا کی طرف سے ایک  خاص رحمت ہے جو ہدایت پر ختم ہوتی ہے۔ دلچسپ بات یہ کہ صلوات خدا کی طرف سے یدایت کا نور ہے جو معمولی انسان کو تاریل سے نور کی طرف لے جاتی ہے جیسا کہ اس سلسلہ میں ارشاد ہوا ہے: "يُخْرِجُهُم مِّنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّوُر؛  لیکن پیغمبر ص اور اہل بیت علیہم السلام جو خود نور ہیں ان کے لئے  يُخْرِجُهُم مِّنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّوُرِ؛ کی تعبیر نہیں آئی ہے بلکہ صلوات ان کے لئے نور ہدایت کے ارتقاء اور قرب الہی کا ذریعہ ہے۔

قرآن مصیبت زدہ لوگوں کے لئے فرماتا ہے:" الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُم مُّصِيبَةٌ قَالُواْ إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ۔ أُولَـئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَوَاتٌ مِّن رَّبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ وَأُولَـئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُونَ{ سورہ بقرۃ، آیۃ/156/157 }

جو مصیبت پڑنے کے بعد یہ کہتے ہیں کہ ہم اللہ ہی کے لئے ہیں اور اسی کی بارگاہ میں واپس جانے والے ہیں ۔کہ ان کے لئے پروردگار کی طرف سے صلوات اور رحمت ہے اور وہی ہدایت یافتہ ہیں۔

اس آیت اور " وَأُولَـئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُونَ؛ کے قرینہ سے یہ استفادہ ہوتا ہے کہ صلوات پروردگار کی جانب سے ایک طرح کی رحمت ہے جو انسان کی ہدایت پر تمام ہوتی ہے۔لیکن انسان کی طرف سے صلوات دعا  کے معنیٰ میں ہے۔یعنی انسان خدا کی بارگاہ میں دعا کرتا ہے کہ محمد و آل محمد ص کے درجات کو اعلی کرے۔ اور اس طرح کی درخواست ان عظیم ہستیوں کے مقام کی تکریم کے ساتھ ساتھ ایک طرح سے ان کی زحمات کا تشکر  ہے اور درحقیقت اس آیت پر عمل  ہے: "قُل لَّا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَى؛{ سورہ شوریٰ، آیۃ/ 23۔} آپ کہہ دیجئے کہ میں تم سے اس تبلیغ رسالت کا کوئی اجر نہیں چاہتا علاوہ اس کے کہ میرے اقربا سے محبت کرو۔

تیسرا نکتہ: اگر صلوات میں لفظ "و آل محمد" قرآن کے خلاف ہے  تو  "و علی صحبہ و ازواجہ"کہ جسے وہابی اضافہ کرتے ہیں  کا  اضافہ کرنا بھی قرآن کے خلاف ہے ۔ اور اگر ذکر صلوات پیغمبر ص سے مخصوص ہے تو پھر وہابی کیوں اس میں ازواج اور اصحاب کو شامل کرتے ہیں؟

یہ اس وقت ہے کہ جب شیعہ مومنین میں سے  صلوات میں فقط اہل بیت  علیہم السلام کو شامل کرتے ہیں ۔

چوتھا نکتہ:جو کچھ قرآن میں مختلف فقہی ابواب میں جیسے طھارت، نماز، روزہ،  حج اور جہاد کے سلسلہ میں بیان ہوا ہے وہ  بہت ہی کلی اور مجمل ہے اور جس کے جزئیات کو بیان کرنا پیغمبر ص کے عہدہ پر ہے۔ بطور مثال قرآن میں  فقط رکوع و سجود  اور طہارت کا ذکر ہے لیکن ان کے جزئیات جیسے ذکر رکوع و سجود ، قرائت،قیام متصل بہ رکوع اور ان کی تعداد کی طرف اشارہ نہیں ہوا ہے۔ بلکہ یہ سب چیزیں پیغمبر ص کے اقوال میں آئی ہیں۔ اور مسلمانوں نے بھی جزئیات کو پہلے ہی دن سے پیغمبر ص سے لیا ہے۔

صلوات کے سلسلہ میں بھی ایسا ہی ہے قرآن میں فقط صلوات کا ذکر ہے اس کی جزئیات اور کیفیت اور الفاظ آحایث پیغمبر ص میں بیان ہوئے ہیں۔

قرآنی آیت کے مطابق احکام اور جزئیات کو  اخذ کرنے  میں   پیغمبر ص کی اطاعت  "اطیعوا الرسول" اور "  وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ ؛ اور جو کچھ بھی رسول تمہیں دیدے اسے لے لو اور جس چیز سے منع کردے اس سے رک جاؤ؛ واجب ہے۔)کی بنیاد پر واجب ہے ۔ اور ان تمام موارد میں آپ کی اطاعت قرآن کی اطاعت  محسوب ہوگی۔اس بنا پر یہ نہیں کہا جاسکتا کیونکہ یہ چیز قرآن میں نہیں ہے اس لئے اس کا دین میں  شمار نہیں ہوگا اور یہ بدعت ہے؟ بلکہ ایسے بہت سے احکام کے جزئیات ہیں جو قرآن میں نہیں ہیں لیکن  ان کا شمار شرعی احکام میں ہوتا ہے۔

پانچواں نکتہ: اس کے علاوہ اہل سنت کی اہم کتابوں میں  وسیع پیمانہ پر ذکر ہے کہ مسلمانوں نے پیغمبر ص سے صلوات کے الفاظ کے بارے میں سوال کیا  توپیغمبر ص نے لفظ آل محمد کو اس میں پڑھا۔

اسی طرح صحیح بخاری اور صحیح مسلم نے نقل کیا ہے کہ کعب بن عجزہ کہتے ہیں:  میں پیغمبر ص کی خدمت میں بیٹھا ہوا  تھا۔ ایک شخص آیا اس نے آپ سے پوچھا  یا رسول اللہ (ص) ہم یہ تو جانتے ہیں کہ آپ کو سلام کیسے کریں لیکن یہ نہیں جانتے آپ پر صلوات کیسے بھیجیں؟ ہمیں صلوات کا طریقہ بتائیں۔؟

پیغمبر ص نے جواب میں فرمایا: کہو: "

فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ الصَّلاَةُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الْبَيْتِ فَإِنَّ اللَّهَ قَدْ عَلَّمَنَا كَيْفَ نُسَلِّمُ . قَالَ « قُولُوا اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ ، اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ ، وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ » {صحيح البخارى - التفسير باب قَوْلِهِ ( إِنَّ اللَّهَ وَمَلاَئِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِىِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ۔۔}

جیسا کہ ملاحظہ ہوتا ہے کہ اس عبارت میں لفظ و آل محمد کو صلوات کا جزء مانا گیا ہے جبکہ لفظ صحبہ کہ جسے وہابی اضافہ کرتے ہیں ، کا کہیں ذکر تک نہیں ہے۔

اسی طرح ایک دوسری روایت میں پیغمبر س نے فرمایا ہے: "لا تصلواعلی الصلاۃ البتراء۔ قالوا: و ما الصلاۃ البتراء؟ قال: تقولون : صل علی محمد و تسکتون بل قولوا: اللھم صلی علی محمد و علی آل محمد۔ میرے  اوپر ناقص صلوات نہ بھیجو لوگوں نے سوال کیا ناقص صلوات کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : اللھم صلی علی محمد کہہ کر خاموش ہوجانا ۔ بلکہ اس طرح سے کہو: اللھم صلی علی محمد و علی آل محمد۔{ الصواعق المحرقہ، ص 146}

جلال الدین سیوطی نے در المنثور میں پیغمبر صسے 18  حدیثیں نقل کی ہیں جن میں لفظ و آل محمد ذکر ہوا ہے۔{ الدر المنثور فی تفسیر الماثور، ج5، ص 218۔}

ابن حجر ہیثمی لکھتے ہیں: کیفیت صلوات کے سلسلہ میں جس روایت پر تمام علماء متفق ہیں وہ یہ ہے کہ صلوات  اس طرح بھیجا جائے۔ اللھم صلی علی محمد و علی آل محمد۔{ الصواعق المحرقہ، ص 146؛}

چھٹا نکتہ: ان سب مطالب کو مدنظر رکھتے ہوئے جب پروردگار نے پیغمبر ص کو مفسر قرآن معرفی کیا اور فرمایا :" وَأَنزَلْنَا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَيْهِمْ؛ {سورہ نحل، آیت/ 44۔}

ہے اور آپ کی طرف بھی ذکر کو (قرآن)نازل کیا ہے تاکہ ان کے لئے ان احکام کو واضح کردیں جو ان کی طرف نازل کئے گئے ہیں۔ تو آپ نے آیت " صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا؛ کی تفسیر اس ذکر " اللھم صلی علی محمد و علی آل محمد؛ کی ہے۔ ان دو مقدموں کا نتیجہ یہ ہےکہ لفظ  "وآل محمد" پیغمبر ص پر بھیجی جانے والی صلوات کا جزء ہے۔ اور یہ بطور مستقیم حکم پروردگار سے ہے۔

اسی بنا پر  اہل بیت علیہم کے نام کے ساتھ علیہ السلام اور علیہ الصلاۃ والسلام لانا مناسب ہے کیونکہ وہ پیغمبر ص کی  ذریت ہیں۔ بلکہ اہل بیت علیہم السلام کے لئے یہ تعبیر پیغمبر ص  کی   آیہ صلوات کی تفسیر کے مطابق ہے ۔

جیسا کہ آیہ مباہلہ میں  علی علیہ السلام کو نفس پیغمبر کہا گیا ہے  اس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ اگرچہ آیت کے ظاہر کو دیکھتے ہوئے صلوات نبی کے علاوہ کسی دوسرے کو شامل نہیں ہے۔ لیکن پیغمبر ص کے ذریعہ آیت کی تفسیر کو مدنظر رکھتے ہوئے ۔ آیت کا حکم  تمام اہل بیت علیہم السلام کو شامل ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ بخاری نے صلوات کے بارے میں جو  بعض روایتیں نقل کی ہیں ان  میں  "ذریتہ" کی تعبیر بھی آئی ہے{ صحیح بخاری، ج 7، ص 157۔}

نتیجہ:

آیات وروایات سے استفادہ ہوتا ہے کہ لفظ و آل محمد صلوات کا جزء ہے اور لفظ "و علی صحبہ" صلوات میں شامل نہیں ہے۔ اس بنا پر سوال یہ پیدا ہوتا ہے اس قدر صحیح روایات ہونے اور واضح طور پر ناقص صلوات بھیجنے سے منع کرنے کے باوجود  بعض لوگ کیوں صلوات میں وآل محمد کہنے سے پرہیز کرتے ہیں؟

 





Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی