2021 August 5
اہل سنت کی کتابیں اسرائیلیات {یہودی قصے کہانی } سے لبریز ۔
مندرجات: ٢٠٠٨ تاریخ اشاعت: ١٠ July ٢٠٢١ - ١٩:٤١ مشاہدات: 144
مضامین و مقالات » پبلک
اہل سنت کی کتابیں اسرائیلیات {یہودی قصے کہانی } سے لبریز ۔

 

 

 اہل سنت کی کتابیں اسرائیلیات {یہودی قصے کہانی } سے لبریز ۔

اہل سنت کی حدیثی ،تاريخى  اور تفسيرى کتابوں میں بعض قصے ،کہانیاں ایسی ہیں کہ جو اسلام کے چہرے کو بگاڑنے اور تاریخ کے صحیح واقعات کو ایک غلط انداز میں پیش کرنے کا سبب بنی ہیں ۔اسی وجہ سے حقیقت کو تشخیص دینا اور حق بات کو واضح کرنا سخت کام بن گیا ہے اور  تحقیق کرنے والوں کی ناکامی کا سبب بنا ہے  ۔
ابن خلدون لکھتا ہے : شروع کے عرب مسلمان علم اور کتابت سے دور تھے لہذا دنیا کی خلقت ،کائینات میں موجود رموز اور اسرار وغیرہ کو  يهودی اور مسیحی علماء اور اهل تورات  اور انجیل سے لیتے تھے  اور
كعب الأحبار، وهب بن منبه، وعبد الله بن سلام وغیرہ سے یہ لوگ پوچھتے تھے۔ ابن خلدون آگے لکھتا ہے :

«فامتلأت التفاسير من المنقولات عندهم وتساهل المفسّرون في مثل ذلك وملأوا كتب التفسير بهذه المنقولات ، وأصلها كلّها كما قلنا من التوراة أو ممّا كانوا يفترون» (مقدمة ابن خلدون: 439)

اهل سنت کی تفسیر کی کتابیں  يهود  اور نصارى کی باتوں سے لبریز ہیں،اہل سنت کے مفسروں نے بھی سہل انگاری سے کام لیا اور اپنی تفسیری کتابوں کو ان کی باتوں سے بھر دی ہیں  ،ان سب باتوں کی اصلی جڑ وہی تورات کی باتیں یا  يهود اور  نصارى کی جعلی اور گڑھی ہوئیں باتیں ہیں ۔

اهل سنّت کی سب سے مشہور اور معتبر کتابیں صحيح بخارى  اورمسلم بھی اس بیماری سے پاک نہیں اور افسوس کا مقام ہے کہ ان میں بھی یہود و نصاری کی باتیں ہیں اور یہ افکار ان کتابوں کے ذریعے مسلمانوں میں بھی رائج ہوچکی ہیں ۔اس سلسلے کے نمونے  ۔

«عن أبي هريرة عن رسول اللّه صلّى اللّه عليه وسلّم قال: يَنْزِل اللّه إلى السماء الدنيا كلّ ليلة حين يمضي ثلث الليل الأوّل فيقول: أنا الملك، أنا الملك، من ذا الذي يدعوني فأستجيب له، من ذا الذي يسألني فأعطيه، من ذا الذي يستغفرني فأغفر له، فلا يزال كذلك حتّى يضيء الفجر» (صحيح مسلم: 2/175، سنن ابن ماجة: 1/435، سنن الترمذي: 1/277)
ابو هريره  عن رسول اللّه {ص}  يَنْزِلُ اللَّهُ إِلَي السَّمَاءِ الدُّنْيَا كُلَّ لَيْلَةٍ حِينَ يَمْضِي ثُلُثُ اللَّيْلِ الأَوَّلُ فَيَقُولُ أَنَا الْمَلِكُ أَنَا الْمَلِكُ مَنْ ذَا الَّذِي يَدْعُونِي فَأَسْتَجِيبَ لَهُ مَنْ ذَا الَّذِي يَسْأَلُنِي فَأُعْطِيَهُ مَنْ ذَا الَّذِي يَسْتَغْفِرُنِي فَأَغْفِرَ لَهُ فَلاَ يَزَالُ كَذَلِكَ حَتَّي يُضِيءَ الْفَجْرُ۔۔ و صحيح بخاري، ج 2، ص 47، ح 1145 و ج 7، ص 149، ح 6321

اللہ ہر روز رات کی ایک تہائی حصہ ختم ہونے کے بعد زمین کے آسمان پر آتا ہے اور   طلوع فجر تک آواز دیتا رہتا ہے: کہ کون ہے جو مجھے پکارے اور مجھ سے کسی چیز کا مطالبہ کرئے اور مجھ سے بخشش طلب کرئے ،تاکہ میں اس کی حاجات پوری کردوں ۔
اس سلسلے کی بعض روایات میں ہے : 
«فإذا طلع الفجر صعد إلى عرشه» (فتح البارى: 13/390) کا لفظ ہے ۔
طلوع فجر کے بعد دوبارہ عرش پر جاکے بیٹھ جاتا ہے ۔
اب شاید پہل زمانے میں اس قسم کی الٹی سیدھی باتوں کو کوئی سنتا اور اہمیت دیتا لیکن آج کے علمی ترقی اور عقلی ترقی کے دور میں  لوگ ایسی باتیں سن کر مزاق اڑھاتے ہیں ،کیونکہ زمین گول ہے لہذا ہر لمحے زمین کے ایک حصے میں رات شروع ہوتی ہے اور ایک میں طلوع فجر ۔لہذا اگر ایسا ہی ہے تو اللہ زمین کے آسمان پر آئے گا اور پھر دوبارہ واپس عرش پر نہیں جائے گا ۔
ہم دیکھتے ہیں کہ اہل سنت کے بزرگ علماء اس روایت کی توجیہ اور تاویل سے عاجز ہوگئے ہیں۔
(دیکھیں  تفسير القرطبي: 4/39، فتح البارى: 13/390)

جی ہاں اس کی بنیادی وجہ رسول اللہ  صلى الله عليه وآله وسلم کی وصیت کو اہمیت  نہ دینا  اور اهل بيت عصمت و طهارت سے منہ موڑناہے،رسول اكرم(ص) کی وصیت کے مطابق ثقلین سے تمسّك نہ کرنے کی وجہ سے اس قسم  مشکلات سے اہل سنت دوچار ہوئے ہیں۔

ایک اور نمونہ ملاحظہ کریں۔۔

 

 

 حَدَّثَنِي سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَا حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي إِسْمَعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ عَنْ أَيُّوبَ بْنِ خَالِدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِي فَقَالَ خَلَقَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ التُّرْبَةَ يَوْمَ السَّبْتِ وَخَلَقَ فِيهَا الْجِبَالَ يَوْمَ الْأَحَدِ وَخَلَقَ الشَّجَرَ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَخَلَقَ الْمَكْرُوهَ يَوْمَ الثُّلَاثَاءِ وَخَلَقَ النُّورَ يَوْمَ الْأَرْبِعَاءِ وَبَثَّ فِيهَا الدَّوَابَّ يَوْمَ الْخَمِيسِ وَخَلَقَ آدَمَ عَلَيْهِ السَّلَام بَعْدَ الْعَصْرِ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ فِي آخِرِ الْخَلْقِ فِي آخِرِ سَاعَةٍ مِنْ سَاعَاتِ الْجُمُعَةِ فِيمَا بَيْنَ الْعَصْرِ إِلَى اللَّيْلِ۔۔

 صحيح مسلم (13/    50 - كتاب صفات المنافقين وأحكامهم

376):

  ابوھریرہ کہتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا اور فرمایا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہاں اس حدیث کے مطابق زمین کی خلقت سات دنوں میں ہوئی ہے ۔۔۔

امام بخاری کے نذدیک یہ روایت اسرائیلیات میں سے ہے ۔ وروى إسماعيلُ بْن أُمَيَّة، عَنْ أَيوب بْن خَالِد الأَنصاريّ، عَنْ عَبد اللهِ بْن رَافِعٍ، عَنْ أَبي هُرَيرةَ، عَن النبيِّ صَلى اللَّهُ عَلَيه وسَلم، قَالَ: خَلَقَ اللَّه التُّربَةَ يَومَ السَّبتِ.

وقَالَ بعضُهم: عَنْ أَبي هُرَيرةَ، عَنْ كَعب، وهو أصح.

التاريخ الكبير للبخاري بحواشي محمود خليل (1/ 413

اب دیکھیں قرآن نے واضح طور پر کہا ہے کہ زمین اور آسمان کی خلقت چھے دنوں میں ہوئی ہے ۔۔

سورہ الاعراف 7۔ آیت 54
اِنَّ رَبَّكُمُ اللّٰهُ الَّذِىۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ فِىۡ سِتَّةِ اَيَّامٍ ثُمَّ اسۡتَوٰى عَلَى الۡعَرۡشِ يُغۡشِى الَّيۡلَ النَّهَارَ يَطۡلُبُهٗ حَثِيۡثًا ۙ وَّالشَّمۡسَ وَالۡقَمَرَ وَالنُّجُوۡمَ مُسَخَّرٰتٍۢ بِاَمۡرِهٖ ؕ اَلَا لَـهُ الۡخَـلۡقُ وَالۡاَمۡرُ‌ ؕ تَبٰرَكَ اللّٰهُ رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ‏ ﴿۵۴
کچھ شک نہیں کہ تمہارا پروردگار خدا ہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ ایام میں پیدا کیا پھر عرش پر جا ٹھہرا۔ وہی رات کو دن کا لباس پہناتا ہے کہ وہ اس کے پیچھے دوڑتا چلا آتا ہے۔ اور اسی نے سورج اور چاند ستاروں کو پیدا کیا سب اس کے حکم کے مطابق کام میں لگے ہوئے ہیں۔ دیکھو سب مخلوق بھی اسی کی ہے اور حکم بھی (اسی کا ہے) ۔ یہ خدا رب العالمین بڑی برکت والا ہے ﴿۵۴

سورہ یونس 10۔آیت 3

اِنَّ رَبَّكُمُ اللّٰهُ الَّذِىۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ فِىۡ سِتَّةِ اَيَّامٍ ثُمَّ اسۡتَوٰى عَلَى الۡعَرۡشِ‌ يُدَبِّرُ الۡاَمۡرَ‌ؕ مَا مِنۡ شَفِيۡعٍ اِلَّا مِنۡۢ بَعۡدِ اِذۡنِهٖ‌ ؕ ذٰ لِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمۡ فَاعۡبُدُوۡهُ‌ ؕ اَفَلَا تَذَكَّرُوۡنَ‏ ﴿۳

تمہارا پروردگار تو خدا ہی ہے جس نے آسمان اور زمین چھ دن میں بنائے پھر عرش (تخت شاہی) پر قائم ہوا وہی ہر ایک کا انتظام کرتا ہے۔ کوئی (اس کے پاس) اس کا اذن حاصل کیے بغیر کسی کی سفارش نہیں کرسکتا، یہی خدا تمہارا پروردگار ہے تو اسی کی عبادت کرو۔ بھلا تم غور کیوں نہیں کرتے ﴿۳

سورہ ہود 11۔ آیت 7

وَ هُوَ الَّذِىۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ فِىۡ سِتَّةِ اَ يَّامٍ وَّكَانَ عَرۡشُهٗ عَلَى الۡمَآءِ لِيَبۡلُوَكُمۡ اَيُّكُمۡ اَحۡسَنُ عَمَلًا ؕ وَلَٮِٕنۡ قُلۡتَ اِنَّكُمۡ مَّبۡعُوۡثُوۡنَ مِنۡۢ بَعۡدِ الۡمَوۡتِ لَيَـقُوۡلَنَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اِنۡ هٰذَاۤ اِلَّا سِحۡرٌ مُّبِيۡنٌ‏ ﴿۷

اور وہی تو ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں بنایا اور (اس وقت) اس کا عرش پانی پر تھا۔ (تمہارے پیدا کرنے سے) مقصود یہ ہے کہ وہ تم کو آزمائے کہ تم میں عمل کے لحاظ سے کون بہتر ہے اور اگر تم کہو کہ تم لوگ مرنے کے بعد (زندہ کرکے) اٹھائے جاؤ گے تو کافر کہہ دیں گے کہ یہ تو کھلا جادو ہے ﴿۷
سورہ الفرقان 25۔ آیت 59

اۨلَّذِىۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ وَمَا بَيۡنَهُمَا فِىۡ سِتَّةِ اَيَّامٍ ثُمَّ اسۡتَوٰى عَلَى الۡعَرۡشِ ‌ۛۚ اَلرَّحۡمٰنُ فَسۡـَٔـــلۡ بِهٖ خَبِيۡرًا‏ ﴿۵۹

جس نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے چھ دن میں پیدا کیا پھر عرش پر جا ٹھہرا وہ (جس کا نام) رحمٰن (یعنی بڑا مہربان ہے) تو اس کا حال کسی باخبر سے دریافت کرلو ﴿۵۹

 

 





Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی