2021 August 5
حديث علي مع الحق کے بارے میں ابن تیمیہ کی فضول اور غیر علمی ادعا
مندرجات: ١٩٨٥ تاریخ اشاعت: ١٧ June ٢٠٢١ - ١٩:٥٦ مشاہدات: 321
مضامین و مقالات » پبلک
حديث علي مع الحق کے بارے میں ابن تیمیہ کی فضول اور غیر علمی ادعا

ابن تیمیہ کے نظریے کا رد اور اس حدیث کے مختلف اسناد کا بیان

 حديث علي مع الحق کے بارے میں ابن تیمیہ کی فضول اور غیر علمی ادعا

  پہلی حدیث :  « اَلْحَقُّ مَعَ ذَا »

   دوسری حدیث : «أَنْتَ مَعَ الْحَقِّ وَالْحَقُّ مَعَكَ»

  تیسری حدیث : «عَلِيٌّ مَعَ الْحَقِّ وَالْحَقُّ مَعَ عَلِيٍّ»

  چوتھی حدیث : « اَللَّهُمَّ أَدِرِ الْحَقَّ مَعَهُ»

  پانچویں حدیث : عَلِيٌّ على الْحَقِّ مَنِ اتَّبَعَهُ اتَّبَعَ الْحَقَّ

  چھٹی حدیث : « عَلِيٌّ مَعَ الْقُرْآنِ، وَالْقُرْآنُ مَعَ عَلِيٍّ»

 

حديث علي مع الحق کے بارے میں ابن تیمیہ کی بے ہودہ گفتگو

 ابن تيميه نے منهاج السنة میں لکھا ہے : على مع الحق والحق معه يدور حيث دار ولن يفترقا حتى يردا على الحوض من أعظم الكلام كذبا وجهلا؛ فإن هذا الحديث لم يروه أحد عن النبي صلى الله عليه وسلم لا بإسناد صحيح ولا ضعيف

حديث «علی حق کے ساتھ اور حق علی کے ساتھ والی حدیث بہت بڑا جھوٹ اور جہالت ہے ؛ کیونکہ اس حدیث کو کسی نے بھی رسول اللہ (ص) سے نقل نہیں کیا ہے ،‌ نه صحيح سند کے ساتھ و نه ضعيف سند کے ساتھ ؛ لہذا کیسے شیعہ یہ ادعا کرتے ہیں کہ سب نے اس حدیث کو نقل کیا ہے ؟

منهاج السنة ج4، ص238.

 علی حق کے ساتھ اور حق علی کے ساتھ والی احاديث

 پہلی حدیث :  « اَلْحَقُّ مَعَ ذَا »

ابويعلى موصلى متوفاي 307 نے اپنی مسند میں نقل کیا ہے :

وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، عَنْ صَدَقَةَ بْنِ الرَّبِيعِ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غُزَيَّةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ بَيْتِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي نَفَرٍ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ، فَخَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ، فَقَالَ صلى الله عليه وسلم : أَلاَ أُخْبِرُكُمْ بِخِيَارِكُمْ ؟ قَالُوا : بَلَى قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسَلَّمَ : فَإِنَّ خِيَارَكُمُ الْمُوفُونَ الْمُطَيَّبُونَ ، إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْخَفِيَّ التَّقِيَّ قَالَ : وَمَرَّ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَقَالَ صلى الله عليه وسلم : الْحَقُّ مَعَ ذَا ، الْحَقُّ مَعَ ذَا

از ابو سعيد سے نقل ہوا ہے  كه رسول خدا (ص) اپنے گھر کے سامنے مهاجرين اور انصار کے ایک گروہ سے گفتگو کر رہے تھے ، اتنے میں على بن أبى طالب وہاں سے گذرے تو آپ نے فرمایا : : «اَلْحَقُّ مَعَ ذَا، اَلْحَقُّ مَعَ ذَا» حق ان کے ساتھ ہے ،حق ان کے ساتھ ہے .

مسند أبي يعلي، ج2، ص318، ح1052.

  ابن حجر متوفای 852هـ اور دوسروں نے اس روایت کو صحیح قرار دیا ہے .

 المطالب العالية ج16، ص147، ح3945.

سند کی تحقیق :

 هيثمي، متوفای  807 هـ گفته است : رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

... اس روايت کو ابويعلى نے نقل کیا ہے اور اس کے راوی بھی ثقہ ہیں .

مجمع الزوائد ج7، ص235.

 مسند أبي يعلى   کے محقق نے کہا ہے : قال حسين سليم أسد : صدقة بن الربيع وثقه ابن حبان والهيثمي وباقي رجاله ثقات۔

 مسند أبي يعلى (2/ 318):

 

 دوسری حدیث  : «أَنْتَ مَعَ الْحَقِّ وَالْحَقُّ مَعَكَ»

ابن عساكر متوفای 571 نے سَعْد بن ابي وقاص سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے کہا : میں نے پبامبر اكرم (ص) کو علي (ع) کے بارے میں یہ فرماتے سنا : «أَنْتَ مَعَ الْحَقِّ وَالْحَقُّ مَعَكَ حَيْثُ مَا دَارَ» «حق آپ کے ساتھ ہے اور آپ حق کے ساتھ ،حق جہاں بھی ہو ».

تاريخ مدينة دمشق ج20، ص361،

معاويه نے سعد بن وقاص کی نقل کردہ حدیث سننے کے بعد کہا ،: «لَوْ سَمِعْتُ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ (ص) لَكُنْتُ خَادِمًا لِعَلِيٍّ حَتَّى أَمُوتَ»  اگر میں یہ حدیث رسول خدا صلي الله عليه وآله سے سنتا، تو مرتے دم تک على (عليه السلام) کی خدمت کرتا۔

روایت کی سند کی تحقیق:

اس روایت کے تمام راوی ثقہ ہیں ،اگر کوئی اس سلسلے میں تحقیق کرنا چاہتے ہیں تو ولی العصر سائٹ کی طرح مراجعہ کریں

۔ https://www.valiasr-aj.com/persian/shownews.php?idnews=7964

  تیسری حدیث : «عَلِيٌّ مَعَ الْحَقِّ وَالْحَقُّ مَعَ عَلِيٍّ»

 ابن عساكر متوفای 571  نے ام سلمه سے نقل کیا ہے کہ  رسول خدا (ص)  کو یہ فرماتے سنا ہوں :

«عَلِيٌّ مَعَ الْحَقِّ وَالْحَقُّ مَعَ عَلِيٍّ وَلَنْ يَتَفَرَّقَا حَتَّى يَرِدَا عَلَيَّ الْحَوْضَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ»

علی حق کے ساتھ ہیں اور حق علی کے ساتھ ،یہ ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوں گے ،یہاں تک کہ حوض کوثر پر مجھ سے آملے ۔

  روايت چهارم : « اَللَّهُمَّ أَدِرِ الْحَقَّ مَعَهُ»

حاكم نيشابورى نے حضرت علي (ع) نقل کیا ہے کہ پيامبر اكرم (ص) نے فرمایا:

قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: رَحِمَ اللَّهُ عَلِيًّا اَللَّهُمَّ أَدِرِ الْحَقَّ مَعَهُ حَيْثُ دَارَ .

 : اللہ علی پر رحمت کرے، اے اللہ ! جہاں علی ہو حق کو بھی اسی طرف قرار دئے   . حاکم نیشاپوری اس حدیث کی سند کے بارے میں کہتے ہیں :

هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ

یہ حدیث مسلم کی شرط کے مظابق صحیح السند ہے لیکن انہوں نے اس کو نقل نہیں کیا ہے ۔

المستدرك ج3، ص134

فخر الدين رازى، کہ جو اھل سنت کے مشہور مفسر ہیں ،آپ اس بارے میں کہتے ہیں:

 «وَمَنِ اقْتَدَى فِي دِينِهِ بِعَلِيِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ فَقَدِ اهْتَدَى»

جو بھی اپنے دین کے سلسلے میں علی ابن ابی طالب کی اقتدا کرے وہ یقینا ہدایت پائے گا ۔

کیونکہ رسول خدا صلى الله عليه وآله نے ان کے بارے میں فرمایا ہے :

«اللَّهُمَّ أَدِرِ الْحَقَّ مَعَ عَلِيٍّ حَيْثُ دَارَ».

اے اللہ !جہاں علی ہو حق کو بھی اسی ظرف پلٹا دئے ۔

التفسير الكبير ج1، ص168، نشر: دار الكتب العلمية - بيروت.

  پانچویں روایت  : «عَلِيٌّ على الْحَقِّ مَنِ اتَّبَعَهُ اتَّبَعَ الْحَقَّ»

طبراني نے  پيامبر اكرم (ص) کی زوجہ  ام سلمه سے نقل کیا ہے :

كان عَلِيٌّ على الْحَقِّ مَنِ اتَّبَعَهُ اتَّبَعَ الْحَقَّ وَمَنْ تَرَكَهُ تَرَكَ الْحَقَّ عَهْدًا مَعْهُودًا قبل يَوْمِهِ هذا.

علی حق پر ہیں جو بھی ان کی اتباع کرئے گا وہ حق پر ہے ،جس نے بھی ان کو چھوڑا اس نے حق کو چھوڑا ،یہ اللہ کا عہد و پیمان ہے۔

المعجم الكبير ، ج 23 ص 330 ح 758  نشر: مكتبة الزهراء – الموصل.

ام سلمہ سے ایک اور روایت :

: والله إنَّ عَلِيّاَ عَلَى الْحَقِّ قَبْلَ الْيَوْمِ وَبَعْدَ الْيَوْمِ ، عَهْداً مَعْهُوداً وَقَضَاءً مَقْضِيّاً.

اللہ کی قسم علي (ع) پہلے اور بعد میں حق پر ہیں اور یہ اللہ کا عہد اور حتمی فیصلہ ہے ۔

تاريخ دمشق ، ج 42 ص 449 .

  چھٹی روایت  : «عَلِيٌّ مَعَ الْقُرْآنِ، وَالْقُرْآنُ مَعَ عَلِيٍّ»

حاكم نيشابورى نے  ام سلمه سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے رسول خدا صلّى اللّه عليه و آله کو یہ فرماتے سنا ہے :

عَلِيٌّ مَعَ الْقُرْآنِ، وَالْقُرْآنُ مَعَ عَلِيٍّ لَنْ يَتَفَرَّقَا حَتَّى يَرِدَا عَلَيَّ الْحَوْضَ ". هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الإِسْنَادِ.

المستدرك على الصحيحين  ج 3   ص 134

  على عليه السّلام قرآن کے ساتھ ہیں اور  قرآن بھی على عليه السّلام کے ساتھ. کبھی بھی على عليه السّلام قرآن سے اور  قرآن على عليه السّلام، سے جدا نہیں ہوگا ، یہاں تک کہ حوض کوثر کے کنارے مجھ سے آملے ۔

 خلاصہ اور نتیجہ :

ابن تیمیہ کا جھوٹ اور امیر المومنین علیہ السلام کے فضائل چھپانے کی ناکام کوشش سب پر آشکار ہوئی ۔

اللہ مولی علی علیہ السلام سے دشمنی کرنے والوں کو ہمیشہ رسوا کرئے ۔                   

   آمین یا رب العالمین۔

 

 

 

 

 





Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی