2021 November 28
کیا رسول اللہ {ص} نے جنگ جمل ، صفین اور نہروان میں امیر المومنین {ع} کی حمایت کا حکم دیا تھا ؟
مندرجات: ١٩٨٤ تاریخ اشاعت: ١٧ June ٢٠٢١ - ١٩:٠٤ مشاہدات: 761
سوال و جواب » امام حسین (ع)
کیا رسول اللہ {ص} نے جنگ جمل ، صفین اور نہروان میں امیر المومنین {ع} کی حمایت کا حکم دیا تھا ؟

 

 کیا رسول اللہ {ص} نے جنگ جمل ، صفین اور نہروان میں امیر المومنین {ع} کی حمایت کا حکم دیا تھا ؟

 موضوعات کی فہرست :

            رسول اللہ {ص} کا حضرت امیر {ع} اور اصحاب کو خاص حکم۔

روایات کی پہلی قسم : امیر المومنین علیہ السلام سے منقول۔

               روایات کی دوسری قسم : عمار بن ياسر سے منقول

تیسری قسم کی روایات : عبد الله بن مسعود سے منقول

چوتھی قسم کی روایات : ابو ايوب انصاري منقول

پانچوئیں قسم کی روایات : خزيمة ذوالشهادين سے منقول

چھٹی قسم کی روایات : سعيد خدري سے منقول

        عائشه کو امیر المومنین (ع) سے جنگ سے منع کرنا :

      طلحہ اور زبیر کو اميرالمؤمنین (عليه السلام) سے جنگ سے منع کرنا :

       اھم سوال : رسول اللہ {ص} سے جنگ کرنے والے کا حکم کیا ہونا چاہئے  :

جواب :

   رسول اللہ {ص} کا حضرت امیر {ع} اور اصحاب کو خاص حکم۔

رسول خدا صلي الله عليه وآله نے اللہ کی طرف سے عطاء شدہ  علوم کے ذریعے اپنے بعد رونما ہونے والے واقعات کی خبر دی تھی اور ان جنگوں میں اصحاب کی ذمہ داریوں کا تعین فرمایا تھا۔

اس سلسلے میں موجود روایات کے مطابق  کبھی آپ نے اميرالمؤمنین عليه السلام کو عائشه، طلحه، زبير اور معاويه  سے جنگ کرنے کا حکم دیا اور کبھی اصحاب کو یہ حکم  دیا کہ ناكثين، قاسطين اور مارقين سے جنگ کرنا تم لوگوں کی ذمہ داری ہے . کبھی اپنی ازواج کو اپنے بعد جنگ جمل اور جنگ صفین کے رونما ہونے کی خبر دیتے ہوئے  انہیں ان جنگوں میں حاضر نہ ہونے کا حکم دیا  ۔۔

اس قسم کی روایات حضرت امیر المومنین علیہ السلام کی حقانیت اور آپ کے مد مقابل کے باطل پر ہونے کی واضح دلیل ہیں ۔

اميرالمؤمنین (ع) کو ناكثين، قاسطين اور مارقين سے جنگ کرنے کا حکم رسول اللہ (ص)نے ہی دیا تھا ۔  

اهل سنت کی کتابوں میں موجود مطالب کے مطابق ،حضرت امیر المومنین علي بن أبي طالب عليه السلام  ،عائشه، طلحه، زبير اور معاويه سے جنگ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم  کی طرف سے آپ کے ذمہ لگائی ہوئی شرعی ذمہ داری سمجھتے تھے ، یہاں تک کہ ان سے نہ لڑنے کو کفر سمجھتے تھے ۔

اهل سنت کی کتابوں میں اس سلسلے میں بہت سی روایات موجود ہیں کہ جو  حضرت اميرالمؤمنین عليه السلام، جناب ابوايوب انصاري، عمار بن ياسر، عبد الله بن مسعود، خزيمة بن ثابت انصاري اور ابو سعيد خدري، سے نقل ہوئی ہیں ۔ ہم  ان کا خلاصہ یہاں نقل کرتے ہیں :

ان میں سے اکثر روايات سند کے اعتبار سے بھی ٹھیک ہیں ؛ جیساکہ ابن عبد البر قرطبي نے اس سلسلے میں لکھا ہے :

ولهذه الأخبار طرق صحاح قد ذكرناها فِي موضعها.

وروي من حديث علي، ومن حديث ابْن مَسْعُود، ومن حديث أَبِي أَيُّوب الأَنْصَارِيّ: أَنَّهُ أمر بقتال الناكثين، والقاسطين، والمارقين.

وروي عَنْهُ، أَنَّهُ قَالَ: مَا وجدت إلا القتال أو الكفر بما أنزل الله، يَعْنِي: والله أعلم قوله تعالي: «وَجَاهِدُوا فِي اللَّهِ حَقَّ جِهَادِهِ».

یہ احادیث  صحیح طرق اور صحیح اسناد رکھتی ہیں اور ان کو ہم نے اپنے محل میں ذکر کیا ہے اور یہ  امیر المومنین ،ابن مسعود ، ابو ایوب انصادی سے نقل ہوئی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم  نے آپ ناکثین ،قاسطین  اور مارقین سے جنگ کرنے پر مامور فرمایا  ۔ آپ علیہ السلام سے نقل ہے کہ میں ان سے جنگ کرنے یا اللہ نے جو نازل فرمایا ہے اس کے بارے کفر اختیار میں سے ایک کو انجام دینے میں مختار ہوں آپ کا مقصد یہ آیت تھی كه «اللہ کی راہ میں جو جھاد کرنے کا حق ہے اسی طرح جہاد کرئے »

إبن عبد البر، يوسف بن عبد الله بن محمد بن عبد البر النمري (متوفاي463هـ)، الاستيعاب في معرفة الأصحاب، ج3، ص 1117، تحقيق علي محمد البجاوي، ناشر: دار الجيل - بيروت، الطبعة: الأولي، 1412هـ.

روایات کی پہلی قسم :

امیر المومنین علیہ السلام سے کئی اسناد کے ساتھ اھل سنت کی بہت سی کتابوں میں نقل ہوئی ہے ،ہم ان میں سے بعض کو یہاں نقل کرتے ہیں؛

بزار نے اپنی  مسند میں نقل کیا ہے :

حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَ: ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سَعْدٍ، قَالَ: ثنا سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ عَلِي بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ عَلِي، قَالَ: " عَهِدَ إِلَي رَسُولُ اللَّهِ (ص) فِي قِتَالِ النَّاكِثِينَ، وَالْقَاسِطِينَ، وَالْمَارِقِينَ ".

علي (عليه السلام) نے فرمایا : رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے، ناكثين ، قاسطين اور مارقين سے جنگ کرنے کا عہد و پیمان لیا ہے اور وصیت فرمائی ہے .

البزار، أبو بكر أحمد بن عمرو بن عبد الخالق (متوفاي292 هـ)، البحر الزخار (مسند البزار)، ج3، ص26ـ 27، ح774، تحقيق: د. محفوظ الرحمن زين الله، ناشر: مؤسسة علوم القرآن، مكتبة العلوم والحكم - بيروت، المدينة الطبعة: الأولي، 1409 هـ.

طبراني نے المعجم الأوسط میں لکھا ہے :

حَدَّثَنَا مُوسَي بْنُ أَبِي حُصَيْنٍ، قَالَ: نا جَعْفَرُ بْنُ مَرْوَانَ السَّمُرِي، قَالَ: نا حَفْصُ بْنُ رَاشِدٍ، عَنْ يَحْيَي بْنِ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي صَادِقٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ نَاجِدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا، يَقُولُ: " أُمِرْتُ بِقِتَالِ النَّاكِثِينَ، وَالْقَاسِطِينَ، وَالْمَارِقِينَ "

مجھے ناکثین ، قاسطین اور مارقین سے جنگ کرنے کا حکم دیا ہے ۔

الطبراني، ابوالقاسم سليمان بن أحمد بن أيوب (متوفاي360هـ)، المعجم الأوسط، ج 8، ص213، ح8433، تحقيق: طارق بن عوض الله بن محمد، عبد المحسن بن إبراهيم الحسيني، ناشر: دار الحرمين - القاهرة - 1415هـ.

هيثمي نے اس روایت کو نقل کرنے کے بعد لکھا ہے :

رواه البزار والطبراني في الأوسط وأحد إسنادي البزار رجاله رجال الصحيح غير الربيع بن سعيد ووثقه ابن حبان.

اس روایت کو بزار اور طبراني نے نقل کیا ہے اور بزار کے نقل کردہ دو سندوں میں سے ایک کی سند کے راوی بخاری کے راوی ہیں ، سوای ربیع بن سعید کے ،ابن حبان نے اس کو ثقہ کہا ہے .

الهيثمي، أبو الحسن علي بن أبي بكر (متوفاي 807 هـ)، مجمع الزوائد ومنبع الفوائد، ج7، ص 238، ناشر: دار الريان للتراث/ دار الكتاب العربي - القاهرة، بيروت - 1407هـ.

خطيب بغدادي نے تاريخ بغداد میں نقل کیا ہے :

أَخْبَرَنِي الأَزْهَرِي، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُظَفَّرِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ: وَجَدْتُ فِي كِتَابِ جَدِّي مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتٍ: حَدَّثَنَا أَشْعَثُ بْنُ الْحَسَنِ السُّلَمِي، عَنْ جَعْفَرٍ الأَحْمَرِ، عَنْ يُونُسَ بْنِ أَرْقَمَ، عَنْ أَبَانَ، عَنْ خُلَيْدٍ الْعَصْرِي، قَالَ: سَمِعْتُ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ عَلِيًّا يَقُولُ يَوْمَ النَّهْرَوَانِ: أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ (ص) " بِقِتَالِ النَّاكِثِينَ، وَالْمَارِقِينَ، وَالْقَاسِطِينَ "

خليد عصري نے نقل کیا ہے : نھروان کے دن  امير المؤمنين علي عليه السلام کو یہ فرماتے سنا : رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے ناكثين ، قاسطين اور مارقين سے جنگ کرنے کا حکم دیا ہے .

البغدادي، أحمد بن علي ابوبكر الخطيب (متوفاي463هـ)، تاريخ بغداد، ج8، ص 340، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت.

مقدسي نے البدأ والتاريخ میں نقل کیا ہے :

فقال علي عليه السلام دعوهم حتي يأخذوا مالا ويسفكوا دما وكان يقول أمرني رسول الله صلي الله عليه وسلم بقتال الناكثين والقاسطين والمارقين فالناكثون أصحاب الجمل والقاسطون أصحاب صفين والمارقون الخوارج.

امير المؤمنين علي عليه السلام فرماتے تھے : جب تک مال غارت نہ کرئے اور کسی کا ناحق خون نہ بہائے اس وقت تک انہیں چھوڑ دئے۔ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں  ناكثين ، قاسطين اور مارقين سے جنگ کروں . ناکثین وہ لوگ ہیں جو جنگ جمل کا باعث بنے اور قاسطین وہ ہیں جو جنگ صفین کا باعث بنے اور مارقین ،خوارج ہیں .

المقدسي، مطهر بن طاهر (متوفاي507 هـ)، البدء والتاريخ، ج5، ص 224، ناشر: مكتبة الثقافة الدينيةـ بورسعيد.

ابن المقري، نے اسی روایت کو ایک اور سند کے ساتھ ذکر کیا ہے :

حَدَّثَنَا هُذَيْلٌ، ثنا أَحْمَدُ، حَدَّثَنَا أَحْوَصُ، حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي صَادِقٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ نَاجِدٍ، عَنْ عَلِي قَالَ: " أُمِرْتُ بِقِتَالِ النَّاكِثِينَ، وَالْقَاسِطِينَ، وَالْمَارِقِينَ "

أبو بكر بن المقرئ (متوفاي381هـ)، معجم ابن المقرئ، ج1، ص405، تحقيق: محمد صلاح الفلاح، ناشر: الجامعة الإسلامية (دكتوراة) / مكتبة الرشد ـ المدينة المنورة، الطبعة: الأولي.

ابن عقده نے اسی روایت کو  علقمة بن قيس کے واسطے سے  اميرالمؤمنین عليه السلام سے نقل کیا ہے :

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ حَمَّادٍ، أَخْبَرَنَا أَبِي، أَخْبَرَنَا يَحْيَي بْنُ حُزَابَةَ أَبُو زِيَادٍ الْفُقَيْمِي، وَحَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ عَمْرٍو، وَنَافِعُ بْنُ عَمْرٍو الْفُقَيْمِي بن عبد الله، قثنا فُضَيْلُ بْنُ عَمْرٍو، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَي إِبْرَاهِيمَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ، فَقَالَ: إِنِّي مُحَدِّثُكُمْ حَدِيثًا، فَإِنْ عِشْتُ فَاكْتُمُوهُ عَلَي، وَإِنْ مِتُّ فَحَدِّثُونَهُ، سَمِعْتُ عَلْقَمَةَ بْنَ قَيْسٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَلِيًّا، يَقُولُ: «أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ (ص) بِقِتَالِ النَّاكِثِينَ وَالْقَاسِطِينَ وَالْمَارِقِينَ».

فضيل بن عمرو کہتا ہے : جس وقت ابراھیم جانکنی کی حالت میں تھا میں اس وقت اس کے پاس پہنچا تو انہوں نے مجھ سے کہا : میں ایک حدیث نقل کرتا ہوں اگر میں زندہ رہا تو اس کو چھپانا اور اگر میں دنیا سے چلا گیا تو اس کو نقل کرنا ، میں نے علقمة بن قيس سے سنا ہے ،انہوں  نے علي (عليه السلام) سے سنا ہے ،آپ فرمارہے تھے : رسول خدا (ص) نے مجھے ناكثين، قاسطين اور مارقين سے جنگ کرنے کا حکم دیا ہے .

الكوفي، ابو العباس أحمد بن محمد بن سعيد بن عقدة (متوفاي332هـ)، جزء من حديث ابي العباس بن عقدة، ص20، تحقيق: قسم المخطوطات بشركة أفق للبرمجيات، ناشر: شركة أفق للبرمجيات ـ مصر، الطبعة: الأولي، 2004هـ

خطيب بغدادي نے موضح الأوهام میں ، ابن عساكر نے تاريخ مدينه دمشق میں اور  ابن كثير نے البداية والنهاية میں لکھا ہے :

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِسْحَاقَ الْبَغَوِي، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ أَبِي هَارُونَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَرَاسَةَ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ عُقَيْصَا، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا، يَقُولُ: " أُمِرْتُ بِقِتَالِ ثَلاثَةٍ: النَّاكِثِينَ، وَالْقَاسِطِينَ، وَالْمَارِقِينَ، قَالَ: فَالنَّاكِثِينَ الَّذِينَ فَرَغْنَا مِنْهُمْ، وَالْقَاسِطِينَ الَّذِينَ نَسِيرُ إِلَيْهِمْ، وَالْمَارِقِينَ لَمْ نَرَهُمْ بَعْدُ "، قَالَ: وَكَانُوا أَهْلَ النَّهْرِ.

ابوسعید سے نقل ہوا ہے ؛ میں نے علی علیہ السلام کو کہتے سنا :مجھے تین جنگوں کا حکم دیا ہے ،ناکثین ،قاسطین اور مارقین سے جنگ ، اور فرمایا : ناکثین وہ لوگ ہیں جن سے ہم فارغ ہوکر آئے ہیں ،قاسطین کی طرف ہم جارہے ہیں ،مارقین کی نوبت ابھی نہیں آئی ہے  اور کہا : وہ اھل نھروان ہیں ،

البغدادي، ابوبكر أحمد بن علي بن ثابت الخطيب (متوفاي463هـ)، موضح أوهام الجمع والتفريق، ج 1، ص393، تحقيق : د. عبد المعطي أمين قلعجي، ناشر : دار المعرفة - بيروت، الطبعة : الأولي 1407هـ ؛

ابن عساكر الدمشقي الشافعي، أبي القاسم علي بن الحسن إبن هبة الله بن عبد الله (متوفاي571هـ)، تاريخ مدينة دمشق وذكر فضلها وتسمية من حلها من الأماثل، ج 42، ص469،تحقيق: محب الدين أبي سعيد عمر بن غرامة العمري، ناشر: دار الفكر - بيروت - 1995؛

ابن كثير الدمشقي، ابوالفداء إسماعيل بن عمر القرشي (متوفاي774هـ)، البداية والنهاية، ج 7، ص306، ناشر: مكتبة المعارف - بيروت.

بلاذري نے الأنساب الأشراف میں نقل کیا ہے :

حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ الأَعْيَنُ، وَغَيْرُهُ، قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، حَدَّثَنَا فِطْرُ بْنُ خَلِيفَةَ، عَنْ حَكَمِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَلْقَمَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا، يَقُولُ: " أُمِرْتُ بِقِتَالِ النَّاكِثِينَ وَالْقَاسِطِينَ وَالْمَارِقِينَ "، وَحُدِّثْتُ أَنَّ أَبَا نُعَيْمٍ، قَالَ لَنَا: النَّاكِثُونَ أَهْلُ الْجَمَلِ، وَالْقَاسِطُونَ أَصْحَابُ صِفِّينَ، وَالْمَارِقُونَ أَصْحَابُ النَّهْر

ابراھیم کہتا ہے : میں نے علقمہ سے سنا ہے : وہ کہتا تھا :میں نے علی علیہ السلام سے سنا ہے : مجھے ناکثین ، قاسطین اور مارقین سے جنگ کرنے کا حکم دیا ہے ، ابونعیم نے کہا ہے : ناکثین سے  مراد ؛ اھل جمل،قاسطین سے مراد اھل صفین اور مارقین سے مراد نہروان والے ہیں ۔

البلاذري، أحمد بن يحيي بن جابر (متوفاي279هـ)، أنساب الأشراف، ج 1، ص286، طبق برنامه الجامع الكبير.

 روایات کی دوسری قسم : 

  وہ روایات کی جن کو  عمار بن ياسر رحمةالله عليه نے نقل کیا ہے:

 أبو يعلي نے اپنی مسند میں نقل کیا ہے :

حَدَّثَنَا الصَّلْتُ بْنُ مَسْعُودٍ الْجَحْدَرِي، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا الْخَلِيلُ بْنُ مُرَّةَ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: سَمِعْتُ عَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ، يَقُولُ: «أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاكِثِينَ، وَالْقَاسِطِينَ، وَالْمَارِقِينَ».

عمار ياسر کہتے تھے : مجھے یہ حکم دیا ہے کہ میں ناكثين، قاسطين اور مارقين سے جنگ کروں .

أبو يعلي الموصلي التميمي، أحمد بن علي بن المثني (متوفاي307 هـ)، مسند أبي يعلي، ج3، ص 194، ح1623، تحقيق: حسين سليم أسد، ناشر: دار المأمون للتراث - دمشق، الطبعة: الأولي، 1404 هـ - 1984م.

دولابي نے الكني والأسماء نے اسی روایت کو عمار یاسر سے نقل کیا ہے :

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِي بْنِ عَفَّانَ قَالَ: ثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَطِيَّةَ قَالَ: ثَنَا أَبُو الأَرْقَمِ، عَنْ أَبِي الْجَارُودِ، عَنْ أَبِي الرَّبِيعِ الْكِنْدِي، عَنْ هِنْدَ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: سَمِعْتُ عَمَّارًا، يَقُولُ: " أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ (ص) أَنْ أُقَاتِلَ مَعَ عَلِي النَّاكِثِينَ وَالْقَاسِطِينَ وَالْمَارِقِينَ "

عمار سے سنا ہوں ،آپ کہہ رہے تھے : رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے علی علیہ السلام کے ساتھ ملکر ناكثين ، قاسطين اور مارقين سے جنگ کرنے کا حکم دیا ہے .

الدولابي، الإمام الحافظ أبو بشر محمد بن أحمد بن حماد (متوفاي310هـ)، الكني والأسماء، ج1، ص 360، ح641، تحقيق: أبو قتيبة نظر محمد الفاريابي، ناشر: دار ابن حزم - بيروت/ لبنان، الطبعة: الأولي، 1421 هـ ـ 2000م.

تیسری قسم کی روایات :

 وہ روایات جن کو عبد الله بن مسعود نے نقل کیا ہے۔

شاشي نے اپنی مسند میں نقل کیا ہے :

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ زُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ، نا عَبْدُ السَّلامِ بْنُ صَالِحٍ أَبُو الصَّلْتِ، نا عَائِذُ بْنُ حَبِيبٍ، نا بَكْرُ بْنُ رَبِيعَةَ، وَكَانَ ثِقَةً، نا يَزِيدُ بْنُ قَيْسٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّي اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَي آلِهِ وَسَلَّمَ عَلِيًّا «أَنْ يُقَاتِلَ النَّاكِثِينَ وَالْقَاسِطِينَ وَالْمَارِقِينَ».

عبد الله بن مسعود کہتے تھے : رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت علی علیہ السلام کو  ناكثين ، قاسطين اور مارقين سے جنگ کرنے کا حکم دیا تھا .

الشاشي، أبو سعيد الهيثم بن كليب (متوفاي335هـ)، مسند الشاشي، ج1، ص 342، ح322، تحقيق: د. محفوظ الرحمن زين الله، ناشر: مكتبة العلوم والحكم - المدينة المنورة، الطبعة: الأولي، 1410هـ.

طبراني نے بھی اسی روایت کو عبد الله بن مسعود سے نقل کیا ہے :

حدثنا محمد بن هِشَامٍ الْمُسْتَمْلِي ثنا عبد الرحمن بن صَالِحٍ ثنا عَائِذُ بن حَبِيبٍ ثنا بُكَيْرُ بن رَبِيعَةَ ثنا يَزِيدُ بن قَيْسٍ عن إبراهيم عن عَلْقَمَةَ عن عبد اللَّهِ قال أَمَرَ رسول اللَّهِ صلي اللَّهُ عليه وسلم بِقِتَالِ النَّاكِثِينَ وَالْقَاسِطِينَ وَالْمَارِقِينَ.

عبد الله بن مسعود کہتے تھے : رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت علی علیہ السلام کو  ناكثين ، قاسطين اور مارقين سے جنگ کرنے کا حکم دیا تھا .

الطبراني، سليمان بن أحمد بن أيوب أبو القاسم (متوفاي360هـ)، المعجم الكبير، ج10، ص 91، ح10054، تحقيق: حمدي بن عبدالمجيد السلفي، ناشر: مكتبة الزهراء - الموصل، الطبعة: الثانية، 1404هـ - 1983م.

حَدَّثَنَا هَيْثَمُ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْمُحَارِبِي، ثَنَا الْوَلِيدُ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحَارِثِي، عَنْ مُسْلِمٍ الْمُلائِي، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: " أُمِرَ عَلَي بِقِتَالِ النَّاكِثِينَ، وَالْقَاسِطِينَ، وَالْمَارِقِينَ "،

الطبراني، ابوالقاسم سليمان بن أحمد بن أيوب (متوفاي360هـ)، المعجم الأوسط، ج 9، ص165، تحقيق: طارق بن عوض الله بن محمد، عبد المحسن بن إبراهيم الحسيني، ناشر: دار الحرمين - القاهرة - 1415هـ.

الطبراني، ابوالقاسم سليمان بن أحمد بن أيوب (متوفاي360هـ)، المعجم الكبير، ج 10، ص91، ح10054، تحقيق: حمدي بن عبدالمجيد السلفي، ناشر: مكتبة الزهراء - الموصل، الطبعة: الثانية، 1404هـ - 1983م.

چوتھی قسم کی روایات :

 وہ روایات جو ابو ايوب انصاري سے نقل ہوئی ہیں :

حاكم نيشابوري نے اسی روایت کو  ابو ايوب انصاري سے نقل کیا ہے :

حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ الثَّقَفِي، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِي بْنِ شَبِيبٍ الْمَعْمَرِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ، ثنا سَلَمَةُ بْنُ الْفَضْلِ، حَدَّثَنِي أَبُو زَيْدٍ الأَحْوَلُ، عَنْ عِقَابِ بْنِ ثَعْلَبَةَ، حَدَّثَنِي أَبُو أَيُّوبَ الأَنْصَارِي فِي خِلافَةِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِي اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: " أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّي اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلِي بْنَ أَبِي طَالِبٍ بِقِتَالِ النَّاكِثِينَ، وَالْقَاسِطِينَ، وَالْمَارِقِينَ "

ابو ايوب انصاري نے جناب عمر کے دور حکومت میں نقل کیا ہے : رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت علی علیہ السلام کو  ناكثين ، قاسطين اور مارقين سے جنگ کرنے کا حکم دیا ہے .

النيسابوري، محمد بن عبدالله أبو عبدالله الحاكم (متوفاي405 هـ)، المستدرك علي الصحيحين، ج3، ص 150، ح4674، تحقيق: مصطفي عبد القادر عطا، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت، الطبعة: الأولي، 1411هـ - 1990م.

طبراني نے المعجم الكبير میں لکھا ہے :

حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْجَرْجَرَائِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ حَصِيرَةَ، عَنْ أَبِي صَادِقٍ، عَنْ مِحْنَفِ بْنِ سُلَيْمٍ، قَالَ: أَتَيْنَا أَبَا أَيُّوبَ الأَنْصَارِي وَهُوَ يَعْلِفُ خَيْلا لَهُ بِصَنْعَاءَ، فَقُلْنَا عِنْدَهُ، فَقُلْتُ لَهُ: أَبَا أَيُّوبَ قَاتَلْتُ الْمُشْرِكِينَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ (ص) ثُمَّ جِئْتَ تُقَاتِلُ الْمُسْلِمِينَ، قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ (ص) " أَمَرَنِي بِقِتَالِ ثَلاثَةٍ النَّاكِثِينَ، وَالْقَاسِطِينَ، وَالْمَارِقِينَ "، فَقَدْ قَاتَلْتُ النَّاكِثِينَ، وَقَاتَلْتُ الْقَاسِطِينَ، وَأَنَا مُقَاتِلٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ الْمَارِقِينَ بِالشُّعُفَاتِ بِالطُّرُقَاتِ بِالنَّهْرَاواتِ، وَمَا أَدْرِي مَا هُمْ.

راوی کہتا ہے : میں يمن کے شھر صنعاء میں ابو ايوب انصاري کے پاس گیا ،آپ اپنے گھوڑے کو گاس کھلا رہے تھے ،میں نے ان سے کہا : اے ابا ايّوب! آپ نے رسول خدا صلّي اللّه عليه و آله کے زمانے میں مشرکوں سے جنگ کی، (اب یہ کہا ہوا) مسلمانوں سے جنگ کرنے لگے ہو؟! ابو ايوب نے جواب میں فرمایا : رسول خدا صلّي اللّه عليه و آله نے مجھے تین گروہ سے لڑنے کا حکم دیا ہے : ناکثین ، قاسطین اور مارقین ۔لہذا آپ کے حکم سے ناکثین اور قاسطین کے ساتھ جنگ کرچکا ہوں اور اگر اللہ نے چاہا تو مارقین سے بھی جنگ کروں گا کہ جو کھجور کے باغات اور نھروں کے کنارے ہوں گے ، لیکن ابھی معلوم نہیں ہے یہ لوگ ابی کہاں ہیں ۔

الطبراني، ابوالقاسم سليمان بن أحمد بن أيوب (متوفاي360هـ)، المعجم الكبير، ج 4، ص172، ح4049، تحقيق: حمدي بن عبدالمجيد السلفي، ناشر: مكتبة الزهراء - الموصل، الطبعة: الثانية، 1404هـ - 1983م.

خطيب بغدادي نے تاريخ بغداد میں، ابن عساكر نے تاريخ مدينه دمشق میں ، كمال الدين أبي جراده نے بغية الطلب میں اور  ابن كثير نے  البداية والنهاية میں اسی روایت کو تفصیل کے ساتھ نقل کیا ہے  :

أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ عَلِي بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُقْرِئُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمَطِيرِي، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُؤَدِّبُ، بِسُرَّ مَنْ رَأَي، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُعَلَّي بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، بِبَغْدَادَ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مِهْرَانَ الأَعْمَشُ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ، عَنْ عَلْقَمَةَ، وَالأَسْوَدِ، قَالا: أَتَيْنَا أَبَا أَيُّوبَ الأَنْصَارِي عِنْدَ مُنْصَرَفِهِ مِنْ صِفِّينَ، فَقُلْنَا لَهُ: يَا أَبَا أَيُّوبَ، إِنَّ اللَّهَ أَكْرَمَكَ بِنُزُولِ مُحَمَّدٍ (ص) وَبِمَجِيءِ نَاقَتِهِ تَفَضُّلا مِنَ اللَّهِ وَإِكْرَامًا لَكَ، حَتَّي أَنَاخَتْ بِبَابِكَ دُونَ النَّاسِ، ثُمَّ جِئْتَ بِسَيْفِكَ عَلَي عَاتِقِكَ تَضْرِبُ بِهِ أَهْلَ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ؟ فَقَالَ: يَا هَذَا، إِنَّ الرَّائِدَ لا يَكْذِبُ أَهْلَهُ، وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ (ص) أَمَرَنَا بِقِتَالِ ثَلاثَةٍ مَعَ عَلِيٍّ: بِقِتَالِ النَّاكِثِينَ، وَالْقَاسِطِينَ، وَالْمَارِقِينَ، فَأَمَّا النَّاكِثُونَ: فَقَدْ قَاتَلْنَاهُمْ أَهْلَ الْجَمَلِ طَلْحَةَ وَالزُّبَيْرَ، وَأَمَّا الْقَاسِطُونَ: فَهَذَا مُنْصَرَفُنَا مِنْ عِنْدِهِمْ، يَعْنِي: مُعَاوِيَةَ وَعَمْرًا، وَأَمَّا الْمَارِقُونَ: فَهُمْ أَهْلُ الطَّرْفَاوَاتِ، وَأَهْلُ السُّعَيْفَاتِ، وَأَهْلُ النُّخَيْلاتِ، وَأَهْلُ النَّهْرَوَانَاتِ، وَاللَّهُ مَا أَدْرِي أَيْنَ هُمْ، وَلَكِنْ لا بُدَّ مِنْ قِتَالِهِمْ إِنْ شَاءَ اللَّهُ.

  علقمه اور اسود سے نقل ہوا ہے  : جس وقت  ابو ايوب صفین سے لوٹ رہے تھے ،اس وقت ہم ان سے ملیں اور ان سے کہا: اے ابا ايّوب! اللہ نے آپ کو عزت دی ہے اور حضرت محمد صلّي اللّه عليه و آله کو آپ کا مھمان بنایا ۔کیونکہ ان کے اونٹ آپ کے گھر کے سامنے زمین پر بیٹھ گیا  اور یہ آپ کے مقام اور منزلت کی وجہ سے تھی جو کسی اور کو نصیب نہیں ہوئی ۔

اب یہ کیا ہورہا ہے کہ اپنی تلوار کو  «لا اله إلا الله» کہنے والوں کے خلاف نیام سے نکال کر جنگ کر رہے ہیں ؟ (آپ سے اس کی توقع نہیں تھی ).

ابو ايوب نے جواب میں ایک ضرب المثل پیش کی : «انّ الرائد لا يكذب اهله»؛ قافلہ سالار قافلہ والوں سے جھوٹ نہیں بولتا . بتحقیق پيغمبر اكرم صلّي اللّه عليه و آله ، نے ہمیں علي عليه السّلام  کے ساتھ مل کر تین گروہ سے جنگ کرنے کا حکم دیا ہے، «ناكثن»، «قاسطن» اور «مارقن» سے . ناکثین ،طلحه اور زبیر کے پیروکار لوگ ہیں کہ جنہوں نے جنگ جمل کی آگ بڑھکائی، ہم نے ان سے جنگ کی ہیں، قاسطین بھی معاويه اور عمرو عاص کے پیروکار ہیں ، ہم نے ان سے بھی جنگ کی ہیں اور ابھی اسی گروہ سے جنگ کر کے واپس پلٹے ہیں اور مارقین بھی راستے میں ہمارے منتظر ہیں وہ  کھجور کے باغات اور نھروں کے کنارے ہوں گے ۔ مجھے معلوم نہیں ابھی وہ لوگ کہاں ہیں ۔ لیکن ہم ان شاء اللہ  اس گروہ  سے بھی جنگ کریں گے ۔

البغدادي، ابوبكر أحمد بن علي بن ثابت الخطيب (متوفاي463هـ)، تاريخ بغداد، ج 13، ص186، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت؛

ابن عساكر الدمشقي الشافعي، أبي القاسم علي بن الحسن إبن هبة الله بن عبد الله (متوفاي571هـ)، تاريخ مدينة دمشق وذكر فضلها وتسمية من حلها من الأماثل، ج 42، ص472، تحقيق: محب الدين أبي سعيد عمر بن غرامة العمري، ناشر: دار الفكر - بيروت - 1995؛

كمال الدين عمر بن أحمد بن أبي جرادة (متوفاي660هـ)، بغية الطلب في تاريخ حلب، ج 1، ص292، تحقيق : د. سهيل زكار، ناشر : دار الفكر ـ بيروت؛

ابن كثير الدمشقي، ابوالفداء إسماعيل بن عمر القرشي (متوفاي774هـ)، البداية والنهاية، ج 7، ص307، ناشر: مكتبة المعارف - بيروت.

پانچوئیں قسم کی روایات :

وہ روایات جو  خزيمة ذوالشهادين نے نقل ہوئی ہیں  :

خزيمه ذو الشهادتين، ان اصحاب میں سے ایک ہیں جو جنگ صفين میں حاضر ہوئے اور اسی جنگ میں شھید ہوگئے ۔

خطيب بغدادي نے ان سے نقل کیا ہے :  آپ کہتے تھے کہ آپ، رسول خدا صلي الله عليه وآله کے حکم سے اس جنگ میں شریک ہوئے ہیں :

أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ عَلِي الْجَوْهَرِي، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُظَفَّرِ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ الْوَاسِطِي، حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ عَبْدُ الرَّحَمْنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مَنْصُورٍ الْحَارِثِي، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ حَمَّادٍ الْقَنَّادُ، حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ نَصْرٍ، عَنِ السُّدِّي، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَي، قَالَ: كُنْتُ بِصِفِّينَ، فَرَأَيْتُ رَجُلا رَاكِبًا مُلْتَثِمًا، قَدْ أَخْرَجَ لِحْيَتَهُ مِنْ تَحْتِ عِمَامَتِهِ، فَرَأَيْتُهُ يُقَاتِلُ النَّاسَ قِتَالا شَدِيدًا يَمِينًا، وَشِمَالا، فَقُلْتُ: يَا شَيْخُ، تُقَاتِلُ النَّاسَ يَمِينًا، وَشِمَالا؟ فَحَسَرَ عَنْ عِمَامَتِهِ، ثُمّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ (ص) يَقُولُ: " قَاتِلْ مَعَ عَلِي، وَقَاتِلْ ". وَأَنَا خُزَيْمَةُ بْنُ ثَابِتٍ الأَنْصَارِي ".

  عبد الرحمن بن أبي ليلي سے نقل ہوا ہے کہ میں صفین میں تھا میں نے ایک سوار کو دیکھا جس نے عمامہ باندھا ہوا تھا اور اپنا چہرہ چھپایا ہوا تھا،لیکن دھاڑی عمامہ سے باہر نکلی ہوئی تھی؛ میں نے دیکھا وہ بہت ہی زبردست جنگ کرتا ہے، دائیاں بائیان، دونوں طرف سے دشمن پر حملہ کرتا ہے؛ میں نے اس سے کہا : اے شيخ ! دائیاں ،بائیاں دونوں طرف سے دشمن پر حملہ کرتے ہو ؟ اس شخص نے عمامہ ہٹایا اور کہا : رسول خدا صلي الله عليه وآله سے سنا ہے کہ آپ فرمارہے تھے: علی کے ساتھ ملکر جنگ کرئے اور جنگ کرئے ۔ میں خزيمة بن ثابت انصاري ہوں .

اس کے بعد خطيب بغدادي لکھتا ہے :

قَالَ الْخَطِيبُ: وَلَيْسَ فِي الصَّحَابَةِ مَنِ اسْمُهُ خُزَيْمَةُ وَاسْمُ أَبِيهِ ثَابِتٌ سِوَي ذِي الشَّهَادَتَيْنِ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.

اصحاب کے درمیان جس کا نام خزيمه ہو اور اس کے باپ کا نام  ثابت ہو وہ ذوالشهادتين ہی ہیں .

البغدادي، ابوبكر أحمد بن علي بن ثابت الخطيب (متوفاي463هـ)، موضح أوهام الجمع والتفريق، ج 1، ص265، تحقيق : د. عبد المعطي أمين قلعجي، ناشر : دار المعرفة - بيروت، الطبعة : الأولي 1407هـ.

چھٹی قسم کی روایات :

 سعيد خدري سے نقل ہوئی ہے :

ابن عساكر نے تاريخ مدينه دمشق میں ، ابن اثير نے اسد الغابه میں اور ابن كثير نے البداية والنهايه میں ، اسی روایت کو ابوسعيد خدري سے نقل کیا ہے :

أَنْبَأَنَا أَرْسلانُ بْنُ بعانَ الصُّوفِي، حَدَّثَنَا أَبُو الْفَضْلِ أَحْمَدُ بْنُ طَاهِرِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمِيهَنِي، أَنْبَأَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ خَلَفٍ الشِّيرَازِي، أَنْبَأَنَا الْحَاكِمُ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، أَنْبَأَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِي بْنِ دُحَيْمٍ الشَّيْبَانِي، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَكَمِ الْحِيرِي، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبَانٍ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الأَزْدِي، عَنْ أَبِي هَارُونَ الْعَبْدِي، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِي، قَالَ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ (ص) بِقِتَالِ النَّاكِثِينَ وَالْقَاسِطِينَ وَالْمَارِقِينَ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ (ص) أَمَرْتَنَا بِقِتَالِ هَؤُلاءِ فَمَعْ مَنْ؟ فَقَالَ: " مَعَ عَلِي بْنِ أَبِي طَالِبٍ، مَعَهُ يُقْتَلُ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ ".ابوسعيد خدري سے نقل ہوا ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم  نے ہمیں ناكثين، قاسطين اور مارقين سے جنگ کرنے کا حکم دیا ہے ، میں نے سوال کیا : یا رسول اللہ ! کیا آپ نے یہ حکم دیا ہے کہ ہم ان لوگوں سے جنگ کریں، تو ہم کسی کے رکاب اور پرچم تلے ان سے چند کریں ؟ فرمایا : علي بن أبي طالب کے پرچل تلے رہے ، عمار بھی ان کے ساتھ ہوں گے ۔ابن عساكر الدمشقي الشافعي، أبي القاسم علي بن الحسن إبن هبة الله بن عبد الله (متوفاي571هـ)، تاريخ مدينة دمشق وذكر فضلها وتسمية من حلها من الأماثل، ج 42، ص471،تحقيق: محب الدين أبي سعيد عمر بن غرامة العمري، ناشر: دار الفكر - بيروت - 1995.

ابن أثير الجزري، عز الدين بن الأثير أبي الحسن علي بن محمد (متوفاي630هـ)، أسد الغابة في معرفة الصحابة، ج 4، ص124، تحقيق عادل أحمد الرفاعي، ناشر: دار إحياء التراث العربي - بيروت / لبنان، الطبعة: الأولي، - 1996 م؛

ابن كثير الدمشقي، ابوالفداء إسماعيل بن عمر القرشي (متوفاي774هـ)، البداية والنهاية، ج 7، ص306، ناشر: مكتبة المعارف - بيروت.

یہ روایات کہ جو متعبر سند کے ساتھ نقل ہوئی ہیں ،یہاں تک کہ تواتر کا ادعا بھی کرسکتے ہیں ۔ لہذا ان روایات کی روشنی میں یہ ثابت ہوتی ہے کہ ان جنگوں میں امیر المومنین علیہ السلام اور ان کے ساتھ دینے والے رسول خدا صلي الله عليه وآله کے حکم سے اس جنگ میں شریک تھے اور یہ سب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دستور پر عمل کر رہے تھے ۔

لہذا ان روایات کہ روشنی میں ان لوگوں کا حکم بلکل واضح ہے کہ جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حکم اور دستور کے مطابق شریک اصحاب سے جنگ کی۔

 اب ان روایات کو دیکھنے کے بعد کوئی جاہل ہی کہہ سکتا ہے کہ جو اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ  و آلہ وسلم کے حکم سے جن لوگوں سے جنگ کر رہے تھے وہ اصحاب حق پر نہ ہوں اور ان بزرگ اصحاب کے مقابلے میں ان سے لڑنے والے حق پر ہو۔

لہذا یہ روایات اھل حق اور اھل باطل کی پہچان کا بہترین معیار ہیں۔

 

  عائشه کو امیر المومنین (ع) سے جنگ سے منع کرنا :

 

اهل سنت  کی کتابوں میں ایسی صحيح السند روایات موجود ہیں کہ  جن کے مطابق رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی ازواج کو جنگ جمل کے واقع ہوانے کی خبر دی اور انہیں اس جنگ میں شرکت سے منع فرمایا اور وہ بھی خاص کر جناب عائشه سے خطاب میں فرمایا : اے حميرا ! خبردار تم وہی شخص نہ ہو.

لیکن جناب عائشه نے اللہ کی طرف سے پیغام لانے والے اس عظیم شخصیت کی وصیت کو پس پشت ڈال کر جنگ میں شرکت کی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دستور کے خلاف ، شرعی خلیفہ سے جنگ کرنے نکلی  .

احمد بن حنبل نے اپنی مسند میں نقل کیا ہے :

ثنا يحيي عن إِسْمَاعِيلَ ثنا قَيْسٌ قال لَمَّا أَقْبَلَتْ عَائِشَةُ بَلَغَتْ مِيَاهَ بني عَامِرٍ لَيْلاً نَبَحَتِ الْكِلاَبُ قالت أي مَاءٍ هذا قالوا مَاءُ الْحَوْأَبِ قالت ما أظنني الا أني رَاجِعَةٌ فقال بَعْضُ من كان مَعَهَا بَلْ تَقْدَمِينَ فَيَرَاكِ الْمُسْلِمُونَ فَيُصْلِحُ الله عز وجل بَيْنِهِمْ قالت ان رَسُولَ اللَّهِ صلي الله عليه وسلم قال لها ذَاتَ يَوْمٍ كَيْفَ بأحداكن تَنْبَحُ عليها كِلاَبُ الْحَوْأَبِ.

جب جناب عايشه بني عامر کے پانی کی جگہ پہچی، تو حوأب کے کتے بھونگنے لگے۔ عائشه نے کہا : یہ کہاں کا پانی ہے ؟ کہا : حوأب کی جگہ کا پانی . کہا : اب میں پلٹنے پر مجبور ہوں، ان کے ساتھ موجود بعض لوگوں نے کہا : آپ ہمارے ساتھ ضرور آئے اور مسلمانوں کے درمیان صلح کریں . جناب عائشہ نے جواب دیا  : رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم  نے ایک دن مجھ سے فرمایا :

تم میں سے وہ کون ہے جس پر حوأب کے کتے بھونکیں گے؟

الشيباني، ابوعبد الله أحمد بن حنبل (متوفاي241هـ)، مسند أحمد بن حنبل، ج 6، ص52، ح24299، ناشر: مؤسسة قرطبة - مصر.

اسی روایت کو ابن أبي شيبه كوفي نے كتاب المصنف میں نقل کیا ہے، اسحاق بن راهويه نے اپنی مسند میں، حاكم نيشابوري نے المستدرك میں ، بيهقي نے دلائل النبوة میں ، ابو يعلي موصلي نے اپنی  مسند میں، ابن حبان نے اپنی الصحيح میں اور دسوں اھل سنت کے علماء نے اس کو نقل کیا ہے ؛

إبن أبي شيبة الكوفي، ابوبكر عبد الله بن محمد (متوفاي235 هـ)، الكتاب المصنف في الأحاديث والآثار، ج 7، ص536، ح37771، تحقيق: كمال يوسف الحوت، ناشر: مكتبة الرشد - الرياض، الطبعة: الأولي، 1409هـ 

الحنظلي، إسحاق بن إبراهيم بن مخلد بن راهويه (متوفاي 238هـ)، مسند إسحاق بن راهويه، ج 3، ص891، ح1569، تحقيق: د. عبد الغفور بن عبد الحق البلوشي، ناشر: مكتبة الإيمان - المدينة المنورة، الطبعة: الأولي، 1412هـ - 1991م؛

الحاكم النيسابوري، ابو عبدالله محمد بن عبدالله (متوفاي 405 هـ)، المستدرك علي الصحيحين، ج 3، ص129، ح4613، تحقيق: مصطفي عبد القادر عطا، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت الطبعة: الأولي، 1411هـ - 1990م؛

البيهقي، أبي بكر أحمد بن الحسين بن علي (متوفاي458هـ)، دلائل النبوة، ج 6، ص129، طبق برنامه الجامع الكبير؛

أبو يعلي الموصلي التميمي، أحمد بن علي بن المثني (متوفاي307 هـ)، مسند أبي يعلي، ج 8، ص282، ح4868، تحقيق: حسين سليم أسد، ناشر: دار المأمون للتراث - دمشق، الطبعة: الأولي، 1404 هـ - 1984م؛

التميمي البستي، محمد بن حبان بن أحمد ابوحاتم (متوفاي354 هـ)، صحيح ابن حبان بترتيب ابن بلبان، ج 15، ص126، ح6732، تحقيق: شعيب الأرنؤوط، ناشر:مؤسسة الرسالة - بيروت، الطبعة: الثانية، 1414هـ ـ 1993م.

شمس الدين ذهبي نے سير أعلام النبلاء نے اس کے بارے میں لکھا ہے:

هذا حديث صحيح الإسناد ولم يخرجوه.

یہ  صحيح سند حدیث ہے لیکن صحاح کے لکھنے والوں نے اس کو نقل نہیں کیا ہے .

الذهبي الشافعي، شمس الدين ابوعبد الله محمد بن أحمد بن عثمان (متوفاي 748 هـ)، سير أعلام النبلاء، ج 2، ص178، تحقيق : شعيب الأرناؤوط , محمد نعيم العرقسوسي، ناشر : مؤسسة الرسالة - بيروت، الطبعة : التاسعة، 1413هـ.

  ابن كثير دمشقي سلفي نے بھی لکھا ہے :

وهذا إسناد علي شرط الصحيحين ولم يخرجوه.

اس روایت کی سند صحیح مسلم اور بخاری کی شرائط کے مطابق صحیح ہے   لیکن اس کو انہوں نے نقل نہیں کیا ہے .

ابن كثير الدمشقي، ابوالفداء إسماعيل بن عمر القرشي (متوفاي774هـ)، البداية والنهاية، ج 6، ص212، ناشر: مكتبة المعارف - بيروت.

هيثمي نے بھی اس روایت کے بارے میں لکھا ہے :

رواه أحمد وأبو يعلي والبزار ورجال أحمد رجال الصحيح۔

اس روایت کو احمد ، ابویعلی اور بزار نے نقل کیا ہے اور احمد کی سند میں موجود راوی سب صحیح بخاری کے راوی ہیں ۔

الهيثمي، ابوالحسن نور الدين علي بن أبي بكر (متوفاي 807 هـ)، مجمع الزوائد ومنبع الفوائد، ج 7، ص234، ناشر: دار الريان للتراث/ دار الكتاب العربي - القاهرة، بيروت - 1407هـ.

ابن حجر عسقلاني نے اس کے بارے میں لکھا ہے :

وأخرج هذا أحمد وأبو يعلي والبزار وصححه بن حبان والحاكم وسنده علي شرط الصحيح.

اس روايت کو احمد، ابويعلي، بزار، نے نقل کیا ہے اور ابن حبان اور حاكم نے اس کی سند کو صحیح قرار دیا ہے اور اس کی سند صحیح بخاری کی شرائط کے مطابق ہے ۔

العسقلاني الشافعي، أحمد بن علي بن حجر ابوالفضل (متوفاي852 هـ)، فتح الباري شرح صحيح البخاري، ج 13، ص55، تحقيق: محب الدين الخطيب، ناشر: دار المعرفة - بيروت.

یہی روایت ابن عباس سے بھی معتبر سند کے ساتھ نقل ہوئی ہے؛ جیساکہ ابن حجر نے بخاری کی شرح میں لکھا ہے :

من طريق عصام بن قدامة عن عكرمة عن بن عباس ان رسول الله صلي الله عليه وسلم قال لنسائه أيتكن صاحبة الجمل الأدبب بهمزة مفتوحة ودال ساكنة ثم موحدتين الأولي مفتوحة تخرج حتي تنبحها كلاب الحوأب يقتل عن يمينها وعن شمالها قتلي كثيرة وتنجو من بعد ما كادت.

ابن عباس سے نقل ہوا ہے : رسول خدا صلّي اللّه عليه و آله نے اپنی ازواج سے فرمایا: تم میں سے کون ہے جو زیادہ بال والے اونٹ ہر سوار ہوگی اور خروج کرئے گی اور حوآب کے کتنے اس پر بھونکیں گے اور بہت سے لوگ اس کے دائیں ،بائیں مارے جائیں گے اور آخر کار وہ نجات پائے گی ؟.

اس روایت کو نقل کرنے کے بعد لکھا ہے :

وهذا رواه البزار ورجاله ثقات.

اس روايت کو بزار نے نقل کیا ہے اور اس کے راوی ثقہ ہیں .

العسقلاني الشافعي، أحمد بن علي بن حجر ابوالفضل (متوفاي852 هـ)، فتح الباري شرح صحيح البخاري، ج 13، ص55، تحقيق: محب الدين الخطيب، ناشر: دار المعرفة - بيروت.

اسی روایت کو أبي شيبه نے المصنف میں ، طحاوي حنفي نے شرح مشكل الآثار میں ، ابو منصور الأزهري نے تهذيب اللغة میں، ابو الحسن ماوردي نے أعلام النبوة میں، ابن عبد البر نے الإستيعاب میں اور ... نقل کیا ہے :

إبن أبي شيبة الكوفي، ابوبكر عبد الله بن محمد (متوفاي235 هـ)، الكتاب المصنف في الأحاديث والآثار، ج 7، ص538، ح37785، تحقيق: كمال يوسف الحوت، ناشر: مكتبة الرشد - الرياض، الطبعة: الأولي، 1409هـ؛

الطحاوي الحنفي، ابوجعفر أحمد بن محمد بن سلامة (متوفاي321هـ)، شرح مشكل الآثار، ج 14، ص265، ح5611، تحقيق شعيب الأرنؤوط، ناشر: مؤسسة الرسالة - لبنان/ بيروت، الطبعة: الأولي، 1408هـ - 1987م؛

الأزهري، ابومنصور محمد بن أحمد (متوفاي: 370هـ)، تهذيب اللغة، ج 14، ص54، تحقيق: محمد عوض مرعب، ناشر: دار إحياء التراث العربي - بيروت، الطبعة: الأولي، 2001م؛

الماوردي البصري الشافعي، أبو الحسن علي بن محمد بن حبيب (متوفاي450هـ)، أعلام النبوة، ج 1، ص181، تحقيق : محمد المعتصم بالله البغدادي، ناشر : دار الكتاب العربي - بيروت - لبنان، الطبعة : الأولي، 1407هـ ـ 1987م؛

ابن عبد البر النمري القرطبي المالكي، ابوعمر يوسف بن عبد الله بن عبد البر (متوفاي 463هـ)، الاستيعاب في معرفة الأصحاب، ج 4، ص1885، تحقيق: علي محمد البجاوي، ناشر: دار الجيل - بيروت، الطبعة: الأولي، 1412هـ.

بيهقي نے اسی واقعے کو کچھ تفصیل کے ساتھ نقل کیا ہے :

أَبُو نُعَيْمٍ قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْن العباس الهمداني، عَنْ عَمَّارٍ الدُّهْنِي، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: ذَكَرَ النَّبِي (ص) خُرُوجَ بَعْضِ نِسَائِهِ أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ، فَضَحِكَتْ عَائِشَةُ، فَقَالَ: " انْظُرِي يَا حُمَيْرَاءُ، أَنْ لا تَكُونِي أَنْتَ "، ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَي عَلِي، فَقَالَ: يَا عَلِي، " وُلِّيتَ مِنْ أَمْرِهَا شَيْئًا فَارْفُقْ بِهَا ".

ام سلمه سے نقل ہوا ہے کہ رسول خدا (ص) نے بعض ازواج کے خروج کی خبر دی ۔ عائشہ یہ خبر سن کر ہنسنے لگی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے عائشہ سے فرمایا : «اے حميراء کہیں ایسا نہ ہو ،وہی تم ہو » پھر حضرت علي عليه السّلام کی طرف رخ کر کے فرمایا : «اے ابو الحسن اس کے ساتھ مسئلہ پیش آئے اور آپ پر کوئی  ذمہ داری آجائے تو اس کے ساتھ مدارا کرنا اورسختی نہ کرنا  ».

البيهقي، أبي بكر أحمد بن الحسين بن علي (متوفاي458هـ)، دلائل النبوة، ج 6، ص411، طبق برنامه الجامع الكبير.

بيهقي نے اپنی دوسری کتاب میں اسی روایت کو یوں نقل کیا ہے :

وقال الزهري : لما سارت عائشة ومعها طلحة والزبير، رضي الله عنهم، في سبع مائة من قريش كانت تنزل كلّ منزل فتسأل عنه حتي نبحتها كلاب الحوأب فقالت : ردوني، لا حاجة لي في مسيري هذا، فقد كان رسول الله، صلي الله عليه وسلم، نهاني فقال : كيف أنت يا حميراء لو قد نبحت عليك كلاب الحوأب أو أهل الحوأب في مسيرك تطلبين أمراً أنت عنه بمعزل ؟ فقال عبد الله بن الزبير : ليس هذا بذلك المكان الذي ذكره رسول الله، صلي الله عليه وسلم، ودار علي تلك المياه حتي جمع خمسين شيخاً قسامةً فشهدوا أنه ليس بالماء الذي تزعمه أنه نهيت عنه، فلما شهدوا قبلت وسارت حتي وافت البصرة، فلما كان حرب الجمل أقبلت في هودج من حديد وهي تنظر من منظر قد صُيّر لها في هودجها، فقالت لرجل من ضبّة وهو آخذ بخطام جملها أو بعيرها : أين تري علي بن أبي طالب، رضي الله عنه ؟ قال : ها هوذا واقف رافع يده إلي السماء، فنظرت فقالت : ما أشبهه بأخيه قال الضبي : ومن أخوه ؟ قالت : رسول الله، صلي الله عليه وسلم، قال : فلا أراني أقاتل رجلاً هو أخو رسول الله، صلي الله عليه وسلم، فنبذ خطام راحلتها من يده ومال إليه.

زهري نے  کہا ہے : جب عائشه، طلحه اور زبير نے قریش کے 700 افراد کے ساتھ خروج کیا ، عائشه جہاں سے گزرتی اس جگہ کے بارے میں سوال کرتی ، یہاں تک کہ حوأب کے کتے ان پر بھونکنے لگے ؛ پھر انہوں نے کہا : مجھے واپس لے چلو ، اب آگے سفر جاری رکھنے کی ضرورت نہیں، حقیقت یہ ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے اس کام سے منع کیا ہے اور فرمایا ہے :اے حميرا،  اس وقت کیا حالت ہوگی کہ جب حوأب کے کتے بھونکیں گیے اور حوأب والے تہمارے راستے میں ہوں گے اور تم سے ایسی چیز کا مطالبہ کریں گے کہ جس میں تم حق پر نہیں ہوگی؟ (اگر ایسا ہوا تو پھر سفر جاری نہ رکھنا ).

عبد الله بن زبير نے کہا : یہ وہ جگہ نہیں ہے جس کے بارے میں رسول خدا (ص) نے آپ سے فرمایا ہے . عبد الله ادھر ادھر گیا اور 50 بندوں کو جمع کر کے لایا ،تاکہ وہ لوگ یہ قسم کھائے کہ یہ وہ پانی  نہیں ہے کہ جس کا وہ خیال کرتی ہے ،جب ان لوگوں نے قسم کھائی تو جناب عائشہ مطمئن ہوگی اور آگے سفر جاری رکھی اور بصرہ میں داخل ہوگی۔ جب جنگ شروع ہوئی تو لوہے کے بنے ہوئے ایک کجاوہ میں سوار ہوکر میدان میں آئی اور جنگ کا منظر دیکھنے لگی ۔ جس بندے نے ان کے اونٹ کا لجام پکڑا ہوا تھا، اس سے کہا : علی کہیں نظر آرہا ہے ؟ اس نے کہا : وہ وہی ہیں جو کھڑے ہیں اور ہاتھوں کو آسمان کی طرف کیے ہوئے ہیں ۔ جناب عائشہ نے ان کی طرف نگاہ کی اور کہا : کتنا اپنے بھائی کے شبیھہ ہیں!! ضبي نے کہا : اس کا بھائی کون ہے ؟ عائشه نے کہا : رسول خدا (ص). اس مرد نے کہا : میں اس سے جنگ نہیں کروں گا جو رسول خدا (ص) کے بھائی ہو ،یہ کہہ کر لجام چھوڑا اور حضرت علي بن أبي طالب عليه السلام کے ساتھ آملا.

البيهقي، إبراهيم بن محمد (متوفاي بعد 320هـ)، المحاسن والمساوئ، ج 1، ص43، تحقيق : عدنان علي، ناشر : دار الكتب العلمية - بيروت/ لبنان، الطبعة : الأولي، 1420هـ - 1999م

اس روایت میں لوہے کے اس کجاوہ کے بارے میں عجیب  اور قابل توجہ نکتہ یہ ہے اگر  جناب عائشہ جنگ کرنا نہیں چاہتی تھی تو کیوں کجاوہ پر سوار ہوکر میدان جنگ میں آئی ؟

اگر امت میں اصلاح چاہتی تھی اور جنگ کرنا نہیں چاہتی تھی تو کیوں اس لوہے کے کجاوہ میں سوار ہوئی ؟ اس کی ضرورت ہی کیا تھی ؟

جناب عائشہ کے اس آھنی کجاوے کے بارے میں اھل سنت کے دوسرے علماء نے بھی نقل کیا ہے ؛ مثلا  ابن قتيبه دينوري نے الإمامة والسياسة میں لکھا ہے ۔

فلما أتي عائشة خبر أهل الشام أنهم ردوا بيعة علي وأبوا أن يبايعوه أمرت فعمل لها هودج من حديد وجعل فيه موضع عينيها ثم خرجت ومعها الزبير وطلحة وعبد الله بن الزبير ومحمد بن طلحة.

جب عائشہ کو یہ خبر ملی کہ شام والوں نے حضرت علی علیہ السلام کی بیعت نہیں کی ہے تو جناب عائشہ نے اپنے لئے ایک آھنی کجاوہ بنانے کا حکم دیا اور یہ کہا ہے کہ اس کے دونوں طرف باھر دیکھنے کے لئے جگہ ہو اور جب پھر خروج کیا تو طلحہ ،زبیر ، عبد اللہ بن زبیر اور محمد بن طلحہ بھی ساتھ تھے .

الدينوري، ابومحمد عبد الله بن مسلم ابن قتيبة (متوفاي276هـ)، الإمامة والسياسة، ج 1، ص48، تحقيق: خليل المنصور، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت - 1418هـ - 1997م.

  شهاب الدين آلوسي نے معتبر تفسير روح المعاني میں لکھا ہے :

وكان معها إبن أختها عبدالله بن الزبير وغيره من أبناء أخواتها أم كلثوم زوج طلحة وأسماء زوج الزبير بل كل من معها بمنزلة الأبناء في المحرمية وكانت في هودج من حديد.

  عائشه ایک آھنی کجاوہ میں تھی .

الآلوسي البغدادي الحنفي، أبو الفضل شهاب الدين السيد محمود بن عبد الله (متوفاي1270هـ)، روح المعاني في تفسير القرآن العظيم والسبع المثاني، ج 22، ص10، ناشر: دار إحياء التراث العربي - بيروت.

ابن ربه اندلسي نے اپنی  كتاب العقد الفريد میں لکھا ہے :

وكان جملها يدعي عسكرا حملها عليه يعلي بن منية وهبه لعائشة وجعل له هودجا من حديد وجهز من ماله خمسمائة فارس بأسلحتهم وأزودتتهم وكان أكثر أهل البصرة مالا.

جس اونٹ پر عائشہ سوار تھی اس کا نام عسكر تھا ، يعلي بن منيه نے اسے  عائشه کو هديه میں دیا تھا ۔ اس کے لئے آھنی کچاوا بنایا تھا . اسی يعلي بن منبه نے 500 سپاہوں کو مسلح کر کے تیار کیا تھا ،بصرہ کے لوگوں میں سے اس کے پاس مال زیادہ تھا ۔

الأندلسي، احمد بن محمد بن عبد ربه (متوفاي: 328هـ)، العقد الفريد، ج 4، ص303، ناشر: دار إحياء التراث العربي - بيروت / لبنان، الطبعة: الثالثة، 1420هـ - 1999م.

ان روایات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ جناب عائشہ نے امت میں اصلاح کے لئے بغاوت نہیں کی تھی بلکہ شروع کے دن سے ہی ان کا قصد اميرالمؤمنین عليه السلام سے جنگ کرنا اور اسلامی حکومت کے خلاف بغاوت کرنا تھا ، اگر ایسا قصد نہیں تھا تو آھنی کچاوہ بنانے اور میدان جنگ میں حاضر ہونے کی ضرورت ہی کیا تھی.

اھل سنت کے علماء نے ایک اور روایت نقل کیا ہے جس کے مطابق جناب حذیفہ نے جنگ جمل سے کئی سال پہلے لوگوں کو جناب عائشہ کی حرکت اور اپنے بیٹوں سے جنگ کرنے کی خبر دی تھی ۔ لوگ بھی اس روایت کو سن کر تعجب کرنے لگے تھے اور اس کو قبول نہیں کررہے تھے :

أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَمْدَانَ الْجَلابُ بِهَمْدَانَ، ثَنَا هِلالُ بْنُ الْعَلاءِ الرَّقِّي، ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ خَيْثَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: " كُنَّا عِنْدَ حُذَيْفَةَ رَضِي اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ بَعْضُنَا: حَدِّثْنَا يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّي اللَّهُ عَلَيْهِ وَآَلِهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَوْ فَعَلْتُ لَرَجَمْتُمُونِي، قَالَ: قُلْنَا: سُبْحَانَ اللَّهِ، أَنَحْنُ نَفْعَلُ ذَلِكَ؟ قَالَ: أَرَأَيْتَكُمْ لَوْ حَدَّثْتُكُمْ أَنَّ بَعْضَ أُمَّهَاتِكُمْ تَأْتِيكُمْ فِي كَتِيبَةٍ كَثِيرٍ عَدَدُهَا، شَدِيدٍ بَأْسُهَا، صَدَقْتُمْ بِهِ؟ قَالُوا: سُبْحَانَ اللَّهِ، وَمَنْ يُصَدِّقُ بِهَذَا؟ ثُمَّ قَالَ حُذَيْفَةُ: " أَتَتْكُمُ الْحُمَيْرَاءُ فِي كَتِيبَةٍ يَسُوقُهَا أَعْلاجُهَا، حَيْثُ تَسُوءُ وُجُوهَكُمْ، ثُمَّ قَامَ فَدَخَلَ مَخْدَعًا ".

  خيثمة بن عبد الرحمن سے نقل ہوا ہے کہ ہم حذيفه کے پاس تھے، ہم میں سے بعض نے ان سے یہ تقاضا کیا کہ رسول خدا (ص) سے کوئی حدیث سنی ہے تو ہمارے لئے نقل کرئے ، حذیفہ نے کہا : اگر وہ بات جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنی ہے ،اسے تم لوگوں کو نقل کروں تو مجھے سنگسار کرو گے ۔

ہم نے کہا: سبحان اللّه! ہم ایسا کام بھی کرسکتے ہیں ؟! حذيفه سے کہا : اگر میں یہ خبر دوں کہ تمہاری ماوں{امھات مومنین} میں سے ایک، ایک بڑے اور طاقور لشکر کے ساتھ تمہاری طرف آئے گی اور تم لوگوں سے جنگ کرئے  گی تو کیا تم لوگ قبول کرو گے  ؟

لوگوں نے کہا : سبحان اللّه! کون اس پر یقین کرئے گا ؟.

حذيفه نے کہا : لیکن تم لوگوں کی ماں حميراء ایک لشکر کے ساتھ تم لوگوں کی طرف آئے گی حالت یہ ہوگی کہ قوی ھیکل والے لوگ  ان کی ہمراہی کر رہے ہوں گے اور تم لوگوں پریشان ہوں گے .

حاكم نيشابوري نے اس روایت کو نقل کرنے کے بعد کہا ہے  :

هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَي شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخْرِجَاهُ.

الحاكم النيسابوري، ابو عبدالله محمد بن عبدالله (متوفاي 405 هـ)، المستدرك علي الصحيحين، ج 4، ص517، ح8453، تحقيق: مصطفي عبد القادر عطا، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت الطبعة: الأولي، 1411هـ - 1990م.

اسی روایت کو  فُلْفُلَةَ الْجُعْفِي سے بھی نقل کیا ہے :

الطبراني، ابوالقاسم سليمان بن أحمد بن أيوب (متوفاي360هـ)، المعجم الأوسط، ج 2، ص35، ح1154، تحقيق: طارق بن عوض الله بن محمد، عبد المحسن بن إبراهيم الحسيني، ناشر: دار الحرمين - القاهرة - 1415هـ.

جلال الدين سيوطي نے الخصائص الكبري میں اور صالحي شامي نے سبل الهدي و الرشاد میں لکھا ہے :وأخرج الحاكم وصححه والبيهقي وأبو نعيم عن حذيفة أنه قيل له حدثنا ما سمعت من رسول الله صلي الله عليه وسلم قال لو فعلت لرجمتموني...

پھر آگے لکھتے ہیں :

قال البيهقي، أخبر بهذا حذيفة ومات قبل مسير عائشة.

بيهقي کہتا ہے : اس روایت کو حذيفه نے عائشہ  کے جنگ جمل جانے سے پہلے نقل کیا اور خود دنیا سے چلے گئے .

السيوطي، جلال الدين أبو الفضل عبد الرحمن بن أبي بكر (متوفاي911هـ)، الخصائص الكبري، ج 2، ص233، ناشر:دار الكتب العلمية - بيروت - 1405هـ - 1985م؛

الصالحي الشامي، محمد بن يوسف (متوفاي942هـ)، سبل الهدي والرشاد في سيرة خير العباد، ج 10، ص149، الباب التاسع في اخباره (ص) بوقعة الجمل وصفين والنهروان وقتال عائشة والزبير عليا رضي الله تعالي عنهم أجمعين وبعث الحكمين، تحقيق: عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت، الطبعة: الأولي، 1414هـ.

ابوبكر بزار نے حذيفه کی اس روایت کو نقل کیا ہے :

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَي الْكُوفِي، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو غَسَّانَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ حُرَيْثٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ حَوْلَ حُذَيْفَةَ، إِذْ قَالَ: «كَيْفَ أَنْتُمْ وَقَدْ خَرَجَ أَهْلُ بَيْتِ نَبِيِّكُمْ فِي فِئَتَيْنِ يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ وُجُوهَ بَعْضٍ بِالسَّيْفِ؟، فَقُلْنَا: يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ، وَإِنَّ ذَلِكَ لَكَائِنٌ، قَالَ: أَي وَالَّذِي بَعَثَ مُحَمَّدًا بِالْحَقِّ إِنَّ ذَلِكَ لَكَائِنٌ، فَقَالَ بَعْضُ أَصْحَابِهِ: يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ، فَكَيْفَ نَصْنَعُ إِنْ أَدْرَكْنَا ذَلِكَ الزَّمَانَ؟، قَالَ: انْظُرُوا الْفِرْقَةَ الَّتِي تَدْعُو إِلَي أَمْرِ عَلِي رَضِي اللَّهُ عَنْهُ فَالْزَمُوهَا فَإِنَّهَا عَلَي الْهُدَي».

  زيد بن وهب سے نقل ہوا ہے  : جب ہم حذيفه کے اردگرد جمع ہوئے ، انہوں نے کہا : اس وقت تم لوگوں کی کیا حالت ہوگی کہ جب  پيغمبر (ص) کے گھر والوں میں سے ایک خروج کرئے گا اور لوگ دو گروہوں میں بٹ جائیں گے ،ایک گروہ اس کا ساتھ دیں گے اور ایک گروہ اس کے خلاف تلوار اٹھائیں گے اور ایک دوسرے کے خون بہائیں گے ؟

ہم نے کہا : اے عبد الله ! کیا واقعا ایسا ہی ہوگا ؟ کہا : اس ذات کی قسم جس نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو مبعوث کیا ،ایسا ہی ہوگا ۔

وہاں موجود بعض لوگوں نے کہا : اے ابا عبد الله! اگر ایسا ہوا تو ہماری ذمہ داری کیا ہے ؟ جواب دیا :

تم لوگوں کی ذمہ داری اس گروہ کا ساتھ دینا ہے جو  لوگوں کو حضرت علي عليه السّلام کی طرف دعوت دیتے ہوں گے ۔ اس میں شک ہی نہیں ہے ہدایت والا راستہ وہی ہوگا  جس پر علي عليه السّلام اور ان کے ساتھی ہوں گے ۔.

البزار، ابوبكر أحمد بن عمرو بن عبد الخالق (متوفاي292 هـ)، البحر الزخار (مسند البزار)، ج 7، ص236، ح2810، تحقيق: د. محفوظ الرحمن زين الله، ناشر: مؤسسة علوم القرآن، مكتبة العلوم والحكم - بيروت، الطبعة: الأولي، 1409 هـ.

هيثمي نے اس روایت کو نقل کرنے کے بعد لکھا ہے :

رواه البزار ورجاله ثقات.

بزار نے اس روایت کو نقل کیا ہے اور اس کے راوی بھی قابل اعتماد ہیں ۔

الهيثمي، ابوالحسن نور الدين علي بن أبي بكر (متوفاي 807 هـ)، مجمع الزوائد ومنبع الفوائد، ج 7، ص236، ناشر: دار الريان للتراث/ دار الكتاب العربي - القاهرة، بيروت - 1407هـ.

ابن حجر عسقلاني نے بھی اسی روایت کو صحيح بخاري کی شرح میں نقل کیا ہے :

العسقلاني الشافعي، أحمد بن علي بن حجر ابوالفضل (متوفاي852 هـ)، فتح الباري شرح صحيح البخاري، ج 13، ص55، تحقيق: محب الدين الخطيب، ناشر: دار المعرفة - بيروت.

یہ روایت بتاتی ہے کہ عائشہ اور ان کے ساتھ والے باطل پر تھے  اور اس جنگ میں قتل اور خونریزی کا گناہ ،اس جنگ کی آگ بڑھاکانے والوں خاص کر طلحہ اور زبیر کے گردن پر ہے۔

 طلحہ اور زبیر کو اميرالمؤمنین (عليه السلام) سے جنگ سے منع کرنا :

 اھل سنت کی کتابوں میں موجود دوسری روایات کے مطابق  رسول خدا صلي الله عليه وآله نے جنگ جمل سے کئی سال پہلے زبير بن عوام کو اميرالمؤمنین عليه السلام سے جنگ سے منع کیا تھا اور یہاں تک کہ اس کو ظالم بھی قرار دیے تھے ۔۔

 

 

أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَوَّارٍ الْهَاشِمِي الْكُوفِي، حَدَّثَنَا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الأَجْلَحِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ يَزِيدَ الْفَقِيرِ، وَقَالَ مِنْجَابُ: وَسَمِعْتُ الْفَضْلَ بْنَ فَضَالَةَ، يُحَدِّثُ أَبِي، عَنِ أَبِي حَرْبِ بْنِ الأَسْوَدِ الدُّؤَلِي، عَنْ أَبِيهِ، دَخَلَ حَدِيثُ أَحَدِهِمَا فِي حَدِيثِ صَاحِبِهِ، قَالَ: لَمَّا دَنَا عَلِي وَأَصْحَابُهُ مِنْ طَلْحَةَ وَالزُّبَيْرِ، وَدَنَتِ الصُّفُوفُ بَعْضُهَا مِنْ بَعْضٍ، خَرَجَ عَلِي وَهُوَ عَلَي بَغْلَةِ رَسُولِ اللَّهِ (ص) فَنَادَي: ادْعُوا لِي الزُّبَيْرَ بْنَ الْعَوَّامِ، فَإِنِّي عَلِي، فَدُعِي لَهُ الزُّبَيْرُ، فَأَقْبَلَ حَتَّي اخْتَلَفَتْ أَعْنَاقُ دَوَابِّهِمَا، فَقَالَ عَلِيٌّ: يَا زُبَيْرُ، نَشَدْتُكَ بِاللَّهِ أَتَذْكُرُ يَوْمَ مَرَّ بِكَ رَسُولُ اللَّهِ (ص) وَنَحْنُ فِي مَكَانِ كَذَا وَكَذَا؟، فَقَالَ: يَا زُبَيْرُ، " تُحِبُّ عَلِيًّا؟ "، فَقُلْتُ: أَلا أُحِبُّ ابْنَ خَالِي وَابْنَ عَمِّي وَعَلَي  دِينِي، فَقَالَ: يَا عَلِي، " أَتُحِبُّهُ؟ "، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلا أُحِبُّ ابْنَ عَمَّتِي وَعَلَي دِينِي، فَقَالَ: يَا زُبَيْرُ، " أَمَا وَاللَّهِ لَتُقَاتِلَنَّهُ وَأَنْتَ لَهُ ظَالِمٌ "، قَالَ: بَلَي، وَاللَّهِ لَقَدْ نَسِيتُهُ مُنْذُ سَمِعْتُهُ مِنْ قَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ (ص) ثُمَّ ذَكَرْتُهُ الآنَ، وَاللَّهِ لا أُقَاتِلُكَ، فَرَجَعَ الزُّبَيْرُ عَلَي دَابَّتِهِ يَشُقُّ الصُّفُوفَ، فَعَرَضَ لَهُ ابْنُهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ، فَقَالَ: مَا لَكَ؟، فَقَالَ: ذَكَّرَنِي عَلِي حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ (ص) سَمِعْتُهُ يَقُولُ: لَتُقَاتِلَنَّهُ وَأَنْتَ لَهُ ظَالِمٌ، فَلا أُقَاتِلُهُ، قَالَ: وَلِلْقِتَالِ جِئْتَ؟ إِنَّمَا جِئْتَ تُصْلِحُ بَيْنَ  النَّاسِ وَيُصْلِحُ اللَّهُ هَذَا الأَمْرَ، قَالَ: قَدْ حَلَفْتُ أَلا أُقَاتِلَهُ، قَالَ: فَأَعْتِقْ غُلامَكَ جِرْجِسَ وَقِفْ حَتَّي تَصْلُحَ بَيْنَ النَّاسِ، فَأَعْتَقَ غُلامَهُ، وَوَقَفَ فَلَمَّا اخْتَلَفَ أَمْرُ النَّاسِ ذَهَبَ عَلَي فَرَسِهِ.

  ابو الاسود دئلي نے نقل کیا ہے کہ، جب حضرت علي عليه السّلام اور ان کے ساتھی ،طلحه اور زبير کے قریب ہوئے اور جنگ صفین کے لئے تیار ہوئے تو اس وقت علي عليه السّلام ، رسول خدا صلّي اللّه عليه و آله کی سواری پر سوار تھے ، آپ نے فریاد بلند کی اور زبیر کو آواز دی ۔ جب زبیر آیا تو حضرت علی عليه السّلام نے فرمایا: اے زبير! تمہیں اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں، کیا وہ دن یاد ہے کہ میں اور تم اور فلان ایک جگہ پر تھے ، رسول خدا صلّي اللّه عليه و آله کا وہاں سے گزر ہوا اور تم سے مخاطب ہوکر فرمایا: اے زبير! کیا علي (عليه السّلام) سے محبت کرتے ہو ؟ جواب میں تم نے کہا : کیسے ممکن ہے کہ اپنے مامو اور مامی کے بیٹے کو جو میرا ہم مسلک ہے ،ان سے محبت نہ کروں ؟ پھر رسول اللہ صلی علیہ و آلہ وسلم نے تم سے مخاطب ہو کر فرمایا: اے زبير! اللہ کی قسم تعجب کی بات یہ ہے کہ تم ان سے جنگ کرو گے اور اس تم ظالم ہوگا !

زبیر نے کہا : جی ہاں ، اللہ کی قسم ! یہ حدیث میں نے رسول خدا صلّي اللّه عليه و آله سے سنی ہے اور میں اس کو بھول گیا تھا اور ابھی یاد آیا اللہ کی قسم میں تم سے جنگ نہیں کروں گا ۔یہ کہہ کر اپنے ارادے سے منصرف ہوا اور واپس پلٹا ۔

زبیر کے بیٹے، عبد اللہ بن زبیر نے کہا: آپ کا ارادہ کیوں تبدیل ہوا؟ زبير نے کہا: علي عليه السّلام نے مجھے رسول خدا صلّي اللّه عليه و آله کی ایک حدیث یاد دلائی کہ جو میں نے سنی ہوئی تھی آپ نے فرمایا تھا : تم علی سے جنگ کرو گے جبکہ تم ظالم ہوگا ، اسی لئے اب میں نے ان سے جنگ نہیں کروں گا . بیٹے نے کہا :  آپ کیا ان سے جنگ کرنے آئے ہو ؟ نہیں آپ لوگوں کے درمیان صلح کرنے آئے ہیں ، اللہ بھی آپ کی مدد کرئے گا اور لوگوں کے درمیان صلح ہوجائے گی .

زبير نے جواب میں کہا : میں نے اللہ سے قسم کھائی ہے کہ میں علي عليه السّلام سے جنگ نہیں کروں گا  !. عبد الله نے مشھورہ دیا : (قسم کے کفارے کے طور پر اپنے غلام ،جرجيس کو آزاد کرو ) کچھ دیر اور صبر کرئے تاکہ معاملات ٹھیک ہوجائے ۔

زبير نے بیٹے کے مشھورہ پر عمل کیا اور اپنے غلام کو آزاد کیا اور ٹھیر گیا اور جب لوگوں نے مخالفت کی تو اپنے گھوڑے پر سوار ہوکر چلا گیا.

البيهقي، أبي بكر أحمد بن الحسين بن علي (متوفاي458هـ)، دلائل النبوة، ج 6، ص415، طبق برنامه الجامع الكبير.

حاكم نيشابوري نے اس روایت کو نقل کرنے کے بعد لکھا ہے :

وَقَدْ رُوِي إِقْرَارُ الزُّبَيْرِ لِعَلِي رَضِي اللَّهُ عَنْهُمَا بِذَلِكَ مِنْ غَيْرِ هَذِهِ الْوُجُوهِ وَالرِّوَايَاتِ

زبیر نے حضرت علي عليه السّلام کے بارے میں جو اعتراف کیا ،یہ اعتراف روایت کے اسی حصے سے مخصوص نہیں ہے بلکہ اس پر اور بھی دلائل اور شواہد موجود ہیں ۔

الحاكم النيسابوري، ابو عبدالله محمد بن عبدالله (متوفاي 405 هـ)، المستدرك علي الصحيحين، ج 3، ص413، ح5575، تحقيق: مصطفي عبد القادر عطا، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت الطبعة: الأولي، 1411هـ - 1990م.

شمس الدين ذهبي نے تلخيص المستدرك میں لکھا ہے :

هذه أحاديث صحاح.

یہ صحیح سند احادیث ہیں۔

المستدرك علي الصحيحين و بذيله التلخيص للحافظ الذهبي، ج3، ص366ـ 367، طبعة مزيدة بفهرس الأحاديث الشريفة، دارالمعرفة، بيروت،1342هـ.

اسی روایت کو اھل سنت کے دوسرے بزرگوں نے بھی نقل کیا ہے جیسے  ابن أبي شيبه کی  كتاب المصنف میں ، ابن عساكر نے  تاريخ مدينه دمشق میں ، ابن كثير دمشقي نے البداية والنهاية میں ، ابن حجر عسقلاني نے صحيح بخاري کی  شرح اور المطالب العالية میں ، ابن خلدون نے مقدمه ابن خلدون میں ، جلال الدين سيوطي نے  الخصائص الكبري میں ، صالحي شامي نے سبل الهدي والرشاد میں اور دوسروں نے بھی اس کو نقل کیا ہے  :

إبن أبي شيبة الكوفي، ابوبكر عبد الله بن محمد (متوفاي235 هـ)، الكتاب المصنف في الأحاديث والآثار، ج 7، ص545، ح 37827، تحقيق: كمال يوسف الحوت، ناشر: مكتبة الرشد - الرياض، الطبعة: الأولي، 1409هـ؛

ابن عساكر الدمشقي الشافعي، أبي القاسم علي بن الحسن إبن هبة الله بن عبد الله (متوفاي571هـ)، تاريخ مدينة دمشق وذكر فضلها وتسمية من حلها من الأماثل، ج 18، ص410، تحقيق: محب الدين أبي سعيد عمر بن غرامة العمري، ناشر: دار الفكر - بيروت - 1995؛

ابن كثير الدمشقي، ابوالفداء إسماعيل بن عمر القرشي (متوفاي774هـ)، البداية والنهاية، ج 6، ص213، ناشر: مكتبة المعارف - بيروت.

العسقلاني الشافعي، أحمد بن علي بن حجر ابوالفضل (متوفاي852 هـ)، فتح الباري شرح صحيح البخاري، ج 13، ص55، تحقيق: محب الدين الخطيب، ناشر: دار المعرفة - بيروت.

العسقلاني الشافعي، أحمد بن علي بن حجر ابوالفضل (متوفاي852هـ)، المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية، ج 18، ص134، تحقيق: د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشتري، ناشر: دار العاصمة/ دار الغيث، الطبعة: الأولي، السعودية - 1419هـ.

إبن خلدون الحضرمي، عبد الرحمن بن محمد (متوفاي808 هـ)، مقدمة ابن خلدون، ج 2، ص616، ناشر: دار القلم - بيروت - 1984، الطبعة: الخامسة.

السيوطي، جلال الدين أبو الفضل عبد الرحمن بن أبي بكر (متوفاي911هـ)، الخصائص الكبري، ج 2، ص234، ناشر:دار الكتب العلمية - بيروت - 1405هـ - 1985م.

الصالحي الشامي، محمد بن يوسف (متوفاي942هـ)، سبل الهدي والرشاد في سيرة خير العباد، ج 10، ص149، تحقيق: عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت، الطبعة: الأولي، 1414هـ.

اب زبیر کا مقصد امت میں اصلاح کرنا ہی ہوتا اور حضرت علی علیہ السلام سے جنگ کرنا نہ ہوتا تو کیا رسول خدا صلي الله عليه وآله کا انہیں ظالم کہنا مناسب تھا ؟

 جیساکہ تاریخ طبری کی صحیح سند روایت بتاتی ہے کہ ان لوگوں کا مقصد حضرت علی علیہ السلام سے جنگ کرنا ہی تھا :

حدثني أحمد بن زهير قال حدثنا أبي قال حدثنا وهب بن جرير بن حازم قال سمعت أبي قال سمعت يونس بن يزيد الأيلي عن الزهري قال ثم ظهرا يعني طلحة والزبير إلى مكة بعد قتل عثمان رضي الله عنه بأربعة أشهر وابن عامر بها يجر الدنيا وقدم يعلى بن أمية معه بمال كثير وزيادة على أربعمائة بعير فاجتمعوا في بيت عائشة رضي الله عنها فأرادوا الراي فقالوا نسير إلى علي فنقاتله فقال بعضهم ليس لكم طاقة بأهل المدينة ولكنا نسير حتى ندخل البصرة والكوفة ولطلحة بالكوفة شيعة وهوى وللزبير بالبصرة هوى ومعونة فاجتمع رأيهم على أن يسيروا إلى البصرة وإلى الكوفة فأعطاهم عبد الله بن عامر مالا كثيرا وإبلا فخرجوا۔۔۔۔۔

 الطبري، محمد بن جرير أبو جعفر ، تاريخ الطبري (3/ 9  -الناشر : دار الكتب العلمية - بيروت الطبعة الأولى ، 1407

طلحه اور زبير، عثمان کے قتل کے چار مہینے تک مکہ میں مقیم رہیں. ابن عامر وہاں دنیا کے مال کے پیچھے تھا، يعلي بن أميه نے بہت سے مال۴۰۰اونٹ کے ساتھ وہاں آیا  سب مکہ میں جناب عائشہ کے گھر پر جمع ہوئے اور لوگوں نے یہ راے دی کہ ہم علی ابن ابی طالب سے کی طرف جاتے ہیں اور ان سے جنگ کرتے ہیں ،بعض لوگوں نے کہا : تم لوگوں میں اھل مدینہ سے لڑنے کی طاقت نہیں ہے لیکن بصرہ اور کوفہ کی طرف چلیں کیونکہ کوفہ میں طلحہ کی حمایت کرنے والے ہیں اور بصرہ میں زبیر کی حمایت کرنے والے لہذا سب نے اس پر اتفاق کیا کہ کوفہ اور بصرہ کی طرف پہلے حرکت کرئے ،لہذا عبد الله بن عامر،نے بہت سے مال اور بہت سے اونٹ انہیں دئے  ...

اھم سوال : رسول اللہ {ص} سے جنگ کرنے والے کا حکم کیا ہونا چاہئے ؟

جب یہ سب واضح ہوا کہ صحیح سند روایات کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خود ہی اپنے خاص اصحاب کو اھل جمل ،اھل صفین اور اھل نہروان سے جن کرنے اور ان جنگوں میں حضرت امیر المومنین علیہ السلام کی حمایت کا حکم دیا تھا ۔۔۔اور امیر المومنین علیہ السلام کے مقابل میں کھڑے لوگ بھی ان سے جنگ کرنے ہی نکلے تھے تو اب یہاں پھر بھی کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ یہ سب حق پر تھے ؟

کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حکم سے جنگ کرنے والے کو جنگ طلب اور ان کے مقابل میں جنگ کرنے والوں کو اھل حق کہہ سکتا ہے ؟

کیا ان سب حقائق کے باوجود رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حکم کے مقابلے میں امیر المومنین علیہ السلام کے مقابلے میں آنے کو اجتہادی غلط کہہ کر آرام سے ہزاروں مسلمانوں اور بہت سے اصحاب کے خون بہانے کی توجیہ کرسکتے ہیں ؟

جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے واضح طور پر امیرا المومنین اور دوسرے اصحاب کو اھل جمل ، اھل صفین اور اھل نہروان سے جنگ کرنے کا حکم دیا ۔۔اور دوسری صحیح سند روایات کے مطابق آپ نے امیر المومنین علیہ السلام سے جنگ کو خود آپ سے جنگ قرار دی ہے ۔۔۔۔

۔۔۔۔ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لِعَلِيٍّ ، وَفَاطِمَةَ ، وَحَسَنٍ ، وَحُسَيْنٍ عَلَيْهِمُ السَّلامُ : أَنَا حَرْبٌ لِمَنْ حَارَبَكُمْ ، سِلْمٌ لِمَنْ سَالَمَكُمْ۔۔

 النيسابوري، محمد بن عبدالله أبو عبدالله الحاكم، المستدرك على الصحيحين (3/ 161:حاربكم: الناشر : دار الكتب العلمية – بيروت، الطبعة الأولى ، 1411 – 1990

الطبراني، ، سليمان بن أحمد بن أيوب أبو القاسم،  الْمُعْجَمُ الصَّغِيْرُ لِلطَّبْرَانِيِّ،  (2/ 53): الناشر : المكتب الإسلامي , دار عمار - بيروت , عمان الطبعة الأولى ، 1405هـ=1985م

 کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے جنگ کرنے والے اھل حق اور مجہتد مخطی ہوسکتے ہیں؟

 التماس دعا ۔۔۔۔۔۔۔

 

شبھات کے جواب دینے والی ٹیم 

تحقیقاتی ادارہ ، حضرت ولي عصر (عج)





Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی