2021 August 5
سوال: کیا حدیث عشره مبشره کی سند صحیح ہے ؟
مندرجات: ١٩٨٢ تاریخ اشاعت: ١٧ June ٢٠٢١ - ١٧:١٤ مشاہدات: 327
سوال و جواب » امام حسین (ع)
سوال: کیا حدیث عشره مبشره کی سند صحیح ہے ؟

  سوال:   کیا حدیث عشره مبشره کی سند صحیح ہے ؟

جواب :

حدیث عشره مبشره کے مطابق پیامبر صلی الله علیه و آله نے 10 اصحاب کے بارے میں بہشت کا وعدہ دیا ہے؛

اس حدیث کی سند سے بحث سے ہٹ کر بھی اس کے مضمون اور دلالت پر کئی قسم کے اعتراضات اور اشکالات ہیں کہ جس کو یہاں ذکر کریں گے ۔

1:۔  اس وعدے سے اس میں مذکور افراد کی لاعلمی:

اہل سنت کے علماء کے مطابق انہیں دس افراد میں سے ایک سعد بن ابي وقاص ہے؛ لیکن خود سعد بن ابي وقاص حديث عشره مبشره کو نہیں مانتا ہے ؛ کیونکہ اس  نے  خود ہی  پيامبر صلي الله عليه و آله سے نقل کیا ہے:

حَدَّثَنِى زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى حَدَّثَنِى مَالِكٌ عَنْ أَبِى النَّضْرِ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبِى يَقُولُ مَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَقُولُ لِحَىٍّ يَمْشِى أَنَّهُ فِى الْجَنَّةِ إِلاَّ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلاَمٍ

النيسابوري أبو الحسين مسلم بن الحجاج   الناشر : دار الجيل بيروت + دار الأفاق الجديدة ـ ج 7 ص 160

   سعد بن ابي وقاص سے نقل ہوا ہے کہ : میں نے پيامبر صلي الله عليه وآله سے زمین پر چلنے والے زندوں میں سے سوای عبد اللَّه بن سلام کے کسی اور کے بارے میں یہ نہیں سنا ہے کہ وہ بہشتی ہے۔

اس حدیث کے مطابق پيامبر صلي الله عليه و آله نے فقط ایک شخص کو جنت کا وعدہ دیا ہے اور وہ عبد الله بن سلام ہے، اب اهل سنت والوں کو چاہئے کہ یا  صحیح  مسلم کو صحیح کہنا چھوڑ دے یا یہ کہے کہ عبد الله بن سلام کے بارے میں نقل شدہ حدیث جھوٹی ہے۔ يا کہے کہ عشره مبشره والی حدیث جھوٹی ہے۔ کیسے ممکن ہے کہ پيامبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ، سعد بن ابي وقاص اور دوسرے 9 افراد کو جنت کی بشارت تو دے دیں لیکن خود سعد کو اس کا علم نہ ہو.

2 :   عشره مبشره کے ہی افراد کے درمیان جنگ اور خونريزي:

عشره مبشره کے ہاتھوں جناب عثمان کا قتل :

اس حدیث پر ہونے والے اعتراضات میں سے ایک یہ ہے کہ اس میں شامل افراد کے کردار اس چیز کی گواہی دیتا ہے کہ یہ لوگ ایک دوسرے کے جنتی ہونے پر ایمان نہیں رکھتے تھے ،بلکہ یہ تو ایک دوسرے کے اسلام میں شک کرتے تھے ،یہاں تک کہ یہ ایک دوسرے کے خون بہانا کو جائز سمجھتے تھے .

مثال کے طور پر طلحه اور زبير كہ جو عشره مبشره میں سے ہیں ،لیکن جناب عثمان کی مخالفت میں سب سے آگے تھے اور عثمان بھی اس حدیث کے مطابق عشره مبشره میں سے ایک ہے ،انہوں نے عثمان کی اس حد تک مخالفت کردی کہ آخر کار عثمان قتل ہوا اور تین دن تک عثمان کا جنازہ زمین پر بغیر دفن پڑا رہا ،یہاں تک کہ جنازے کو مسلمانوں کی قبرستان میں بھی دفن ہونے نہیں دیا ۔

ذیل کی لینک میں جناب عثمان کے قتل میں جناب طلحہ کا کردار دیکھیں۔

https://www.valiasr-aj.com/urdu/shownews.php?idnews=1979

 

3عشره مبشره کو جناب عمر نے قتل کی دھمکی دی :

عمر بن خطاب نے جانشيني کے مسئلے میں ایک نیا طریقہ کار اپنایا کہ جو  نہ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا طریقہ تھا اور نہ ابوبکر  کا طریقہ ۔

عمر نے اپنے بعد خلیفہ انتخاب کرنے کے سلسلے میں یہ حکم دیا: حضرت علي عليه السلام ، عثمان ، طلحه ، زبير اور سعد بن ابي وقاص ، عبد الرحمن بن عوف سے مشورہ کرئے اور اپنے میں سے کسی ایک کو خلیفہ کے طور پر انتخاب کرے ۔

اس واقعے میں ہمارے موضوع سے متعلق اہم نکتہ  عمر کا کے یہ دستورات ہیں۔

فان اجتمع خمسة ورضوا رجلا وأبى واحد فاشدخ رأسه أو اضرب رأسه بالسيف وان اتفق أربعة فرضوا رجلا منهم وأبى اثنان فاضرب رؤسهما فان رضى ثلاثة رجلا منهم وثلاثة رجلا منهم فحكموا عبد الله بن عمر فأي الفريقين حكم له فليختاروا رجلا منهم فإن لم يرضوا بحكم عبد الله بن عمر فكوتوا مع الذين فيهم عبد الرحمن بن عوف واقتلوا الباقين

تاريخ الطبري - محمد بن جرير الطبري - ج 3 ص 294

ان میں سے ۵ ایک کو انتخاب کرئے اور ایک بندہ مخالفت کرئے تو اس مخالفت کرنے والے کی گردن اڑا دی جائے۔اگر ان میں سے ۴ ایک کو انتخاب کرئے اور دو ان کی مخالفت کرئے تو ان دو کی گردن اڑا دی جائے اور اگر ان میں سے ۳ ایک طرف اور ۳ دوسری طرف ہوں تو جس طرف عبدالرّحمن بن عوف ہو تو اسی کو خلافت کے لئے ترجیح دی جائے اور بقیہ مخالفت کرئے تو  بقیہ تینوں کی گردن اڑا دی جائے اور تین دن گزرنے کے بعد یہ لوگ کسی نتیجے تک نہ پہنچے تو ان سب کی گردنیں اڑھا دی جائے تاکہ دوسرے مسلمان خود ہی اپنے لئے خلیفہ انتخاب سکے۔

اب اگر یہ افراد  عشره مبشره میں سے ہوں اور پيامبر صلي الله عليه و‌ آله نے  ان کے بهشتی ہونے کی خبر دی ہو تو عمر کیوں اس طرح دستور دیتا ہے کہ اگر یہ ہوا تو اس کی گردن ، یہ ہوا تو ان کی گردن اڑا دو ؟

کیا عمر کسی ایسے کی گردن اڑانے کا حکم دیتا ہے جس کو  پيامبر صلي الله عليه و آله نے جنت کا وعدہ دیا ہے ؟

4  :  خلفاء بھی حديث عشره مبشره کےمعتقد نہیں تھے:

اس حدیث پر ہونے والے اعتراضات میں سے ایک یہ ہے کہ خلفاء میں سے کوئی اس کے معتقد نہیں تھے۔ لہذا یہ کہنا صحیح ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم سے یہ حدیث نقل ہی نہیں ہوئی ہے۔ کیونکہ اگر یہ رسول اللہ کا فرمان ہوتا تو خلفاء جہاں اس کی ضرورت تھی وہاں اس سے فائدہ اٹھاتے اور اپنے حق میں اس سے استدلال کرتے ؛ مثلا سقیفہ میں مہاجرین میں سے کم تعداد میں لوگ حاضر تھے اور یہ لوگ انصار سے خلیفہ انتخاب کرنے کے مسئلے میں بحث اور اختلاف کر رہے تھے ۔ یہاں تک کہ اسی کشمکش میں سعد بن عبادہ کو روندڈالا۔ خلیفہ کے لئے یہاں اس حدیث سے فائدہ اٹھانے کا بہترین موقع تھا ، خلیفہ کہہ سکتا تھا ہم تو وہ ہیں جن کو اللہ نے جنت کی بشارت دی ہے لہذا ہم بہشتی لوگ خلافت کے زیادہ مستحق ہیں ۔

اسی طرح خلیفہ سوم کے دور حکومت میں جب لوگ اس وقت کے حاکموں کے ظلم و ستم سے تنگ تھے اور کچھ اصحاب اور تابعین نے جناب عائشہ وغیرہ  کے اکسانے پر عثمان کے گھر کا محاصرہ کر کے خلیفہ کو قتل کرنے کا ارادہ کیا۔ اب یہاں جناب عثمان یہ کہہ سکتا تھا کہ تم لوگ کیسے ایسے شخص کو قتل کرنے کے درپے ہوں جس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جنت کا وعدہ دیا ہے؟

  انسان جب کسی سخت حالات سے دوچار ہو جائے اور لوگ اس کو قتل کرنے کے درپے ہوں تو ہر ممکن طریقے سے اپنے کو بچانے کی کوشش کرتا ہے،یہاں تک کہ قتل سے بچنے کے لئے معمولی راہوں کا بھی سہارا لیتا ہے۔ اب اس موقع پر جناب عثمان کے لئے حدیث عشرہ مبشرہ سے استناد کرنے کا کم از کم فائدہ یہ ہوتا کہ حملہ آور لوگ ان کے بارے میں کچھ سوچتے اور انہیں قتل کے بجائے خلافت سے بے دخل کرنے پر ہی اکتفاء کرتے۔

لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ اس حدیث سے نہ خلیفہ اول اور دوم نے سقیفہ میں استدلال کیا اور نہ خلیفہ سوم نے محاصرے کے دوران اس سے استدلال کیا۔لہذا یہ خود اس حدیث کے جعلی ہونے  کی دلیل ہے۔

5: خلفاء کی آرزوئیں :

اس حدیث پر ہونے والے اعتراضات میں سے ایک اس حدیث کا خلفاء کی آرزوئوں کے بیان پر مشتمل روایات سے ٹکراو ہے مثلا ابوبکر یہ آرزو کرتا تھا:

عن الضحاك قال رأى أبو بكر الصديق طيرا واقعا على شجرة فقال طوبى لك يا طير والله لوددت أني كنت مثلك تقع على الشجرة وتأكل من الثمر ثم تطير وليس عليك حساب ولا عذاب والله لوددت أني كنت شجرة إلى جانب الطريق مر علي جمل فأخذني فادخلني فاه فلاكني ثم ازدردني ثم أخرجني بعرا ولم أكن بشرا

المصنف - ابن أبي شيبة الكوفي - ج 8 ص 144

ضحاک نقل کرتا ہے:ابوبکر نے درخت پر ایک پرندے کو دیکھا اور کہا:خوش نصیب ہو، اللہ کی  قسم مجھے یہ پسند تھا کہ میں بھی تجھ جیسا ایک پرندہ ہوتا، درخت پر بیٹھتا ،درخت کے پھل کھاتا ،اڑھتا اور کسی قسم کے حساب و کتاب بھی نہ دیتا ۔ اللہ کی قسم مجھے یہ پسند تھا کہ اللہ مجھے راستے کے کنارے کا ایک درخت بناتا اور ایک اونٹ میرے پاس سے گزرتا ۔ وہ مجھے اپنے منہ میں لیتا اور مجھے نگل لیتا اور پھر گوبر کی شکل میں اس کے پیٹ سے نکلتا، لیکن انسان نہ ہوتا !!! .

 اس روایت میں جناب ابوبکر  واضح طور پر حساب و کتاب اور عذاب سے ڈرنے کا اظہار کرتا ہے ۔جبکہ ایسا انسان جس کو بہشت کا وعدہ دیا ہوا ہو اس کو مرنے سے نہیں ڈرنا چاہئے اور حساب و کتاب سے خائف نہیں ہونا چاہئے ،اسے تو  اللہ سے ملاقات کا مشتاق ہونا چاہئے ۔

جناب عمر نے بھی اپنی آرزوں کے اظہار میں یہی باتیں کی ہے:

فقال عمر رضي الله عنه يا ليتني كنت كبش أهلي سمنوني ما بدا لهم حتى إذا كنت كأسمن ما يكون زارهم بعض من يحبون فذبحوني لهم فجعلوا بعضي شواء وبعضه قديدا ثم أكلوني ولم أكن بشرا

شعب الإيمان - أحمد بن الحسين البيهقي - ج 1 ص 485

جناب عمر بھی کہتا تھا :کاش میں گھر میں ایک موٹا مینڈھا ہوتا اور گھر والے میرے بدن کے بعض حصوں کو کباب بنا کر اور بعض حصوں کو خشک کر کے کھالیتے اور پھر پاخانے کی شکل میں باہر آتا اور میں انسان ہی خلق نہ ہوتا۔

ابودرداء کے نقل کے مطابق عمر کہتا تھا: کاش میں ایک درخت ہوتا اور مجھے کاٹ لیتااور میں انسان خلق نہ ہوتا۔  

اب ایسا انسان جو اللہ سے ملاقات کرنا چاہتا ہے اور وہ بھی بہشت کے وعدے کے ساتھ ۔اس کو تو اللہ کا ہزار مرتبہ شکر ادا کرنا چاہئے، کیونکہ اللہ نے اسے انسان بنایا اور وہ کمال کی منزل طے کر کے اب جنت میں داخل ہونے اور جنت میں رہنے جارہا ہے ۔

لیکن یہ خوف اور اپنے انسان ہونے پر اظہار پشیمانی اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اللہ کی طرف سے ایسے بندے کا حساب و کتاب بہت سخت ہوگااور اس کے لئے سخت قسم کے عذاب ملے گا ۔

جیساکہ اس کے برعکس ،جناب علی ابن ابی طالب علیہ السلام سے نقل ہوا ہے ؛ جب ابن ملجم نے آپ پر تلوار کا وار کیا اور آپ کے سر پر تلوار لگی تو آپ نے فرمایا : فَلَمَّا ضَرَبَهُ ابْنُ مُلْجَمٍ لَعَنَهُ اللَّهُ قَالَ فُزْتَ‏ وَ رَبِ‏ الْكَعْبَة  ۔

رب کعبہ کی قسم میں کامیاب ہوگیا ۔

  شريف الرضى، محمد بن حسين‏ {متوفی 406 ق‏} خصائص الأئمة عليهم السلام( خصائص أمير المؤمنين عليه السلام) ؛ ص63  ناشر: آستان قدس رضوى‏ مكان چاپ: مشهد  سال چاپ: 1406 ق‏۔

اس جملے میں  واضح طور پر یہ مطلب موجود ہے کہ آپ کو حساب و کتاب کا کوئی خوف اور ٹن شین نہیں تھا ۔

جیساکہ ابن اثير جزري ، اسد الغابة میں لکھتا ہے:

عن عمرو ذي مر قال: لما أُصيب علي بالضربة، دخلتُ عليه وقد عَصَب رأْسه، قال قلت: يا أَمير المؤمنين، أَرني ضربتك. قال: فحلَّها، فقلت: خَدْشٌ وليس بشيء. قال: إِني مفارقكم. فبكت أَم كلثوم من وراء الحجاب، فقال لها: اسكتي، فلو ترين ماذا أَري لما بكيت. قال فقلت: يا أَمير المؤمنين، ما تري؟ قال: هذه الملائكة وفود، والنبييون، وهذا محمد يقول: يا علي، أَبْشِر، فما تصير إِليه خَيرٌ مما أَنت فيه.

عمرو ذي مر کہتا ہے: جب علي عليه السلام پر ضربت لگی تو میں ان کے پاس گیا ، ان کا سر باندھا ہوا تھا میں نے ان سے عرض کیا : یا امیر المومنین تلوار کی زخم کی جگہ مجھے دیکھا دیں :انہوں نے سر پر باندھا رومال اتارا۔ میں نے کہا:  امیر المومنین یہ چھوٹا زخم ہے۔ آپ نے فرمایا : میں اپ تمہارے پاس سے جارہا ہوں۔ ام الکلثوم جو اس وقت پیچھے بیٹھی ہوئی تھی ، رونے لگی ۔امام نے فرمایا : آرام سے رہو اور خاموش ہوجاو۔ اگر وہ چیز جو میں دیکھ رہا ہوں تم بھی دیکھتی تو تم نہ روتی۔ میں نے کہا :یا امیر المومنین ،آپ کیا دیکھ رہے ہیں ؟ آپ نے فرمایا: یہاں پر بعض فرشتے اور انبیاء علیہم السلام تشریف فرما ہیں اور یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی فرمارہے ہیں: تجھے خوش خبری ہو ابھی جو  آگے آپ کے منتظر ہیں وہ ان سے بھی بہتر ہیں۔

 الجزري، عز الدين بن الأثير أبي الحسن علي بن محمد (متوفاي630هـ)، أسد الغابة في معرفة الصحابة، ج 4، ص 131، تحقيق عادل أحمد الرفاعي، ناشر: دار إحياء التراث العربي - بيروت / لبنان، الطبعة: الأولي، 1417 هـ - 1996 م.

زمخشري،ربيع الأبرار میں نقل کرتا ہے:

أسماء بنت عميس: أنا لعند علي بن أبي طالب بعد ما ضربه ابن ملجم، إذ شهق شهقة ثم أغمي عليه، ثم أفاق فقال: مرحباً، مرحباً، الحمد لله الذي صدقنا وعده، وأورثنا الجنة، فقيل له: ما تري؟ قال: هذا رسول الله، وأخي جعفر، وعمي حمزة، وأبواب السماء مفتحة، والملائكة ينزلون يسلمون علي ويبشرون، وهذه فاطمة قد طاف بها وصائفها من الحور، وهذه منازلي في الجنة. لمثل هذا فليعمل العاملون.

اسماء بنت عميس سے نقل ہے: جب علي عليه السلام پر ابن ملجم نے ضربت لگائی   اور آپ زخمی ہوئے تو اس وقت میں آپ کے پاس تھی ۔ آپ نے اچانک چیخ ماری اور بے ھوش ہوگِے۔پھر ھوش میں آیا اور فرمایا:خوش آمدید ،خوش آمدید ،اس اللہ کا شکر ہےجس کا وعدہ سچا ہے اور ہمیں جنت کے وارث بنایا ہے۔ آپ سے پوچھنے والے نے پوچھا: آپ کیا دیکھ رہے ہیں ؟ فرمایا : یہ دیکھو یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہیں اور یہ میرا بھائی جعفر  اور یہ میرا چچا جناب حمزہ ہیں ،آسمان کے دروازے کھلے ہیں اور فرشتے نازل ہورہے ہیں مجھے سلام اور بشارت دے رہے ہیں اور یہ فاطمہ(س) ہیں کہ جو حور العین کے جرمٹ میں ہیں اور یہ بہشت میں میرا مقام ہے{ایسی ہی (نعمتوں) کے لئے عمل کرنے والوں کو عمل کرنے چاہئیں۔}

 الزمخشري، أبو القاسم محمود بن عمرو بن أحمد جار الله (متوفاي538هـ) ربيع الأبرار، ج 1، ص 438، طبق برنامه الجامع الكبير، الإصدار الرابع.

 

5  :  امیرالمومنین علیه السلام اس حدیث کو قبول نہیں کرتے تھے:

سلیم بن قیس هلالی نے اپنی کتاب میں امیرالمومنین علیه السلام اور زبیر کے درمیان اسی "حدیث عشره مبشره " کے بارے میں ایک گفتگو نقل کیا ہے :

أصحاب الجمل ملعونون على لسان رسول الله صلى الله عليه وآله فقال عليه السلام : نشدتكما بالله ، أتعلمان وأولوا العلم من آل محمد وعائشة بنت أبي بكر ( أن أصحاب الجمل وأهل النهروان ملعونون على لسان محمد صلى الله عليه وآله ) وقد خاب من افترى ؟ فگقال الزبير : كيف نكون ملعونين ونحن من أهل الجنة ؟ فقال علي عليه السلام : لو علمت أنكم من أهل الجنة لما استحللت قتالكم . فقال الزبير : أما سمعت رسول الله يقول يوم أحد : ( أوجب طلحة الجنة ، ومن أراد أن ينظر إلى شهيد يمشي على الأرض حيا فلينظر إلى طلحة ) ؟ أوما سمعت رسول الله يقول : ( عشرة من قريش في الجنة ) ؟ رد أمير المؤمنين عليه السلام حديث العشرة المبشرة فقال علي عليه السلام : فسمهم . قال : فلان وفلان وفلان ، حتى عد تسعة ، فيهم أبو عبيدة بن الجراح وسعيد بن زيد بن عمرو بن نفيل . فقال علي عليه السلام : عددت تسعة ، فمن العاشر ؟ قال الزبير : أنت فقال علي عليه السلام : أما أنت فقد أقررت أني من أهل الجنة ، وأما ما ادعيت لنفسك وأصحابك فإني به لمن الجاحدين . والله إن بعض من سميت لفي تابوت في جب في أسفل درك من جهنم ، على ذلك الجب صخرة إذا أراد الله أن يسعر جهنم رفع تلك الصخرة

کتاب سلیم بن قیس – سلیم بن قیس الهلالی الکوفی – ص 327 و 328

جنگ جمل کے دوران امیر المؤمنین علی علیه السلام  نے طلحہ اور زبیر کو بلایا اور فرمایا: تمہیں معلوم ہے کہ جمل والے ملعون ہیں؟ زبیر نے کہا :یہ کیسے ؟ ہم تو بہشتی ہیں۔

امام نے فرمایا:اگر میں تمہیں بہشتی جاننتا تو تم لوگوں سے جنگ کو جائز ہی نہیں سمجھتا ۔زبیر نے کہا : کیا سعید بن عمرو بن نفیل کی نقل شدہ حدیث نہیں سنی ہے کہ جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے قریش کے دس بندوں کو بہشتی کہا ہے ؟ امام نے فرمایا : ہاں سعید نے اس حدیث کو عثمان کے دور میں اس کے لئے نقل کیا ہے۔ زبیر نے کہا : کیا یہ جھوٹی ہے ؟

امام نے فرمایا : جب تک تو ان کے نام نہ لے کچھ نہیں کہوں گا۔ زبیر نے ۹ کے نام لیا ۔ امام نے فرمایا : دسواں کون ہے؟ زبیر نے کہا : خود آپ۔ امام نے فرمایا: پس تو نے یہ اعتراف کیا کہ میں بہشتی ہوں، لیکن جس چیز کا تو نے اپنے اور اپنے ساتھیوں کے بارے ادعا کیا ہے میں اس کا منکر ہوں۔ زبیر نے کہا : کیا یہ گمان کرتے ہو سعید نے جھوٹ بولا ہے ؟ امام نے فرمایا : گمان نہیں بلکہ یقین سے کہتا ہوں کہ یہ حدیث جھوٹی ہے۔پھر فرمایا : ان میں سے بعض تابوت  میں اور جہنم کے سب سے نیچلے درجے کے  ایسی کوئیں میں ہیں کہ جس کے اوپر ایک پھتر ہے ، اللہ جب اہل جنہم کو عذاب دینا چاہتا ہے تو اسی پتھر کے ذریعے عذاب دیتا ہے اور یہ بات میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنی ہے۔  

اس روایت میں امیرالمومنین علیه السلام  نے واضح طور پر اس قسم کی کسی حدیث کے رسول اللہ صلی الله علیه و آله سے صادر ہونے کا انکار کیا اور امام نے "عشرہ مبشرہ " والی حدیث پر ہونے والے ایک اعتراض کا بھی ذکر فرمایا : یعنی اگر یہ حدیث صحیح ہے اور ہم دونوں بہشتی ہیں تو کیوں ہم ایک دوسرے سے جنگ کررہے ہیں اور ایک دوسرے سے جنگ کو جائز سمجھتے ہیں ؟

6:   "عشره مبشره" والی یہ حدیث ان دس کے تعین سے بھی عاجز:

اس حدیث پر ہونے والے اشکالات میں سے ایک یہ ہے کہ اس حدیث میں بشارت والے دس افراد واضح نہیں ہے ، اگر اس میں موجود سارے افراد کو بشارت والے قرار دے  تو یہ تعداد تو دس سے زیادہ ہوجاتی ہے  مثلا اس حدیث کے ایک نقل میں ابو عبیدہ بن الجراح بھی دس میں سے ایک ہے۔

قال رسول الله صلى الله عليه وسلم « أَبُو بَكْرٍ فِى الْجَنَّةِ وَعُمَرُ فِى الْجَنَّةِ وَعُثْمَانُ فِى الْجَنَّةِ وَعَلِىٌّ فِى الْجَنَّةِ وَطَلْحَةُ فِى الْجَنَّةِ وَالزُّبَيْرُ فِى الْجَنَّةِ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ فِى الْجَنَّةِ وَسَعْدٌ فِى الْجَنَّةِ وَسَعِيدٌ فِى الْجَنَّةِ وَأَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ فِى الْجَنَّةِ ».

 سنن الترمذی – الترمذی – ج 5 ص 311

عبد الرحمن بن عوف بہشت میں ہے .

لیکن حاکم نیشابوری نے  مستدرک میں جو روایت نقل کیا ہے اس میں ابن الجراح  کے بجاے، ابن مسعود کا نام ذکر ہوا ہے .

قال رسول الله صلى الله عليه وآله عشرة في الجنة فذكر أبا بكر وعمر وعثمان وعليا وطلحة والزبير وعبد الرحمن بن عوف وسعد بن أبي وقاص وسعيد بن زيد وعبد الله ابن مسعود رضي الله عنهم

المستدرک علی الصحیحین – الحاکم النیسابوری – ج 3 ص 316 و 317

سنن ابن ماجه اور سنن ابی داود میں نقل شدہ روایت کے مطابق، ابو عبیده اور ابن مسعود کا نام ہی ذکر نہیں ہے ؛ بلکہ ان کی جگہ پر خود پیامبر صلی الله علیه و آله کا ذکر ہوا ہے :

كان رسول الله صلى الله عليه وسلم عاشر عشرة فقال أبو بكر في الجنة وعمر في الجنة وعثمان في الجنة وعلى في الجنة وطلحة في الجنة والزبير في الجنة وسعد في الجنة وعبد الرحمن في الجنة فقيل له من التاسع؟ قال أنا

سنن ابن ماجه – محمد بن یزید القزوینی – ج 1 ص 48

اسی طرح سنن ابی داود میں اس طرح نقل ہوا ہے :

« عَشْرَةٌ فِى الْجَنَّةِ النَّبِىُّ فِى الْجَنَّةِ وَأَبُو بَكْرٍ فِى الْجَنَّةِ وَعُمَرُ فِى الْجَنَّةِ وَعُثْمَانُ فِى الْجَنَّةِ وَعَلِىٌّ فِى الْجَنَّةِ وَطَلْحَةُ فِى الْجَنَّةِ وَالزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ فِى الْجَنَّةِ وَسَعْدُ بْنُ مَالِكٍ فِى الْجَنَّةِ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ فِى الْجَنَّةِ ». وَلَوْ شِئْتَ لَسَمَّيْتُ الْعَاشِرَ. قَالَ فَقَالُوا مَنْ هُوَ فَسَكَتَ قَالَ فَقَالُوا مَنْ هُوَ فَقَالَ هُوَ سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ.

 سنن أبی داود – سلیمان بن الأشغث السجستانی – ج 2 ص 401 و 402

 

روای کہتا ہے کہ اگر چاہتے ہو تو دسوئیں کا بھی نام بتادوں؟ لوگوں نے دسوئیں کے بارے سوال کیا تو خاموش ہوا ۔لوگوں نے کہا : وہ کون ہے؟ کہا: وہ سعید بن زید ہے۔

سنن ابی داود کی ایک روایت میں سعد بن مالک عشره مبشره میں سے میں شمار ہوا ہے لیکن اسی کتاب کی دوسری روایت میں سعد بن ابی وقاص کو  عشره مبشره میں سے قرار دیا ہے :

فأشهد على التسعة إنهم في الجنة ولو شهدت على العاشر لم إثم قال ابن إدريس والعرب تقول آثم قلت ومن التسعة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو على حراء أثبت حراء إنه ليس عليك إلا نبي أو صديق أو شهيد قلت ومن التسعة قال رسول الله صلى الله عليه وسلم وأبو بكر وعمر وعثمان وعلى وطلحة والزبير وسعد بن أبي وقاص و عبد الرحمن بن عوف قلت ومن العاشر فتلكأ هنية ثم قال أنا

سنن أبی داود – سلیمان بن الأشغث السجستانی – ج 2 ص 401

6: اپنے حق میں حدیث جعل کرنے کا امکان :

اس حدیث کی حقانیت کے بارے میں شک وشبہہ پیدا کرنے کی وجوہات میں سے ایک اس روایت کے راوی عبد الرحمن بن عوف اور سعید بن زید کا اس روایت کے راویوں میں سے ہونا اور  انہیں کا بہشت کی بشارت ملنے والے افراد میں سے ہونا ہے۔ جبکہ اس روایت میں جن کو بہشت کی  بشارت دی ہے، ان دونوں کے علاوہ کسی نے اس روایت کو نقل نہیں کیا ہے۔ اسی سے یہ احساس ہوتا ہے کہ اس روایت کو بھی بنی امیہ کے فضائل بنانے والی فیکٹری میں تیار کیا ہے۔

یہاں یہ کہنا ممکن ہے کہ ،ان کی طرف روایت کی نسبت دینے والوں نے اپنے لئے فضیلت کسب کرنے کی خاطر اس کو جعل کیا ہو۔

عبد الله بن عمر کہ جو اس حدیث کے نقل کرنے والوں میں سے ایک ہے اس کی روح کو بھی اس روایت کی خبر نہ تھی لہذا اس روایت کی نسبت ان کی طرف جھوٹی ہے۔

یا شاید اس نے اپنے باپ کے لئے فضیلت بنانے کی خاطر ایسا کیا ہو لیکن اس میں غور نہ کیا ہو کہ اس قسم کی روایت اور فضیلت تراشی کا کیا نتیجہ نکلے گا ۔

کیونکہ اس کے نتائج میں سے ایک عبد اللہ بن عمر کے لئے یہ ہے کہ اس کو امیر المومنین کی بیعت کرنی چاہئے تھی کیونکہ آپ بھی تو عشرہ مبشرہ میں سے ایک ہے۔لیکن اس نے تو امیر المومنین کی بیعت سے انکار کیا۔ لہذا عبد اللہ بن عمر کا اس حدیث کے لوازم کے پابند نہ ہونا اس حدیث کے جعلی ہونے کی ایک اور دلیل ہے۔

7  :  اھل سنت والوں کے بقول قرآن نے تو سارے اصحاب کو جنتی کہا ہے۔

  اس حدیث کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تو دس کو خوشخبری دی، جبکہ شیعہ مخالفین کا یہ کہنا ہے کہ سارے اصحاب جنتی ہیں ، کم از کم  سابقون الاولون کے بہشتی ہونے کو سارے اھل سنت والے مانتے ہیں ۔ اب یہاں پر صرف دس کا ذکر کیوں ہوا؟

حدیث کی سند پر اعتراض

حدیث عشرہ مبشرہ پر شیعوں نے سند کے اعتبار سے کئی اعتراض وارد کئے ہیں جن میں بعض مندرجہ ذیل ہیں:

  • یہ حدیث اہل سنت کے اہم ترین حدیثی منابع صحیح بخاری و صحیح مسلم میں ان دس حضرات کے مقام و مرتبہ اور فضایل کے ضمن میں ذکر نہیں ہوئی ہے۔ ایسا اس صورت میں ہے کہ ان دونوں کتابوں میں ان کے سلسلہ میں ایسی احادیث کا ذکر ملتا ہے جو اس حدیث سے بمراتب کمتر فضیلت کی حامل ہیں۔ لہذا یہ احتمال پایا جاتا ہے کہ ان دونوں کتابوں کے مولفین اس حدیث کو سند کے اعتبار سے معتبر نہیں مانتے تھے۔
  • یہ حدیث سنن ترمذی اور مسند احمد بن حنبل میں حمید بن عبد الرحمن سے نقل ہوئی ہے اور ان دونوں کتابوں کے دعوی کے مطابق انہوں نے یہ حدیث اپنے والد عبد الرحمن بن عوف سے سنی ہے۔ جبکہ معتبر تاریخی منابع کے مطابق ان کے والد کے انتقال کے وقت حمید بچہ تھے جن کی عمر ایک برس سے بھی کم تھی۔[

 ابن حجر، تهذیب التهذب، ج ۳، ص ۴۱ - ۴۰ و ج ۶، ص ۲۲۲.3]

 

  • عبد الرحمن بن عوف و سعید بن زید جنہوں نے یہ حدیث نقل کی ہے خود دونوں کا شمار ان افراد میں ہے جنہیں اس حدیث میں جنت کی بشارت دی گئی ہے۔ ایسا اس صورت میں ہے کہ حدیث میں موجود دوسرے افراد میں سے کسی اور نے اسے نقل نہیں کیا ہے اور نہ ہی ان کے علاوہ کسی اور نے جو اس واقعہ یا حدیث کے گواہ رہے ہوں، اسے نقل نہیں کیا ہے۔{اقتباس اس https://ur.wikishia.net/view
 

 

"عشره مبشّره" کے اصلی راوی عبدالرّحمن‌ بن‌ عوف، اور سعید‌ بن‌ زید، ہیں، عبدالرّحمن، کی سند، متّصل نہیں ہے ، سعید‌بن‌زید، نے بھی روایت کو پہلی دفعہ  معاویه کی خلافت کے زمانے میں کوفه میں نقل کیا ،اسی لئے یہ حدیث مشکوک ہے .

لہذا یہ ایک ایسی حدیث کے کہ جو سند اور متن دونوں لحاظ سے قابل اعتراض ہے اور قابل استدلال نہیں ہے۔

 

 

شبہات اور سوالات کے جواب دینے والی ٹیم ۔

 

تحقیقاتی ادارہ ؛ حضرت ولی عصر (عجل الله تعالی فرجه الشریف)




Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی