2021 August 5
خلیفہ سوم کا قاتل بھی صحابہ قاتل سے انتقام لینے والا بھی صحابہ
مندرجات: ١٩٧٩ تاریخ اشاعت: ١٦ June ٢٠٢١ - ١٧:٣٧ مشاہدات: 313
مضامین و مقالات » پبلک
خلیفہ سوم کا قاتل بھی صحابہ قاتل سے انتقام لینے والا بھی صحابہ

 

بزرگ صحابی جناب طلحه بن عبيد الله کا جناب عثمان کے قتل میں کیا کردار تھا ؟

طلحة بن عبيد الله سب سے پہلے اسلام لانے والوں میں سے تھا؛ لہذا یقینی طور پر «السابقون الأولون»میں ان کا شمار ہوتا ہے؛ لیکن دوسری طرف سے ان کا شمار ان لوگوں میں بھی ہوتا ہے جنہوں نے خلیفہ سوم کو قتل کرنے میں اہم کردار اداء کیا۔ یہ بھی اسلامی سرزمین کے مختلف علاقوں میں رہنے والوں کو خط لکھتا اور لوگوں کو خلیفہ کے خلاف ابھارتا۔جناب خلیفہ سوم کے گھر کے محاصرے کے دوران بھی یہ ان لوگوں میں سے تھا جو خلیفہ کے گھر پانی لے جانے سے بھی روکتا تھا۔ اسی لئے مروان بن حکم نے جنگ جمل کے دوران ایک تیر مار کر اس کو قتل کیا اور عثمان کے قتل کا بدلہ لیا.

عبد الرحمن بن عديس، طلحه کے دستور کے مطابق عمل کرتا تھا :

طبري نے اپنی کتاب میں لکھا ہے :

حدثني عبد الله بن عباس بن أبي ربيعة قال دخلت علي عثمان رضي الله عنه فتحدثت عنده ساعة فقال يا ابن عباس تعال فأخذ بيدي فأسمعني كلام من علي باب عثمان فسمعنا كلاما منهم من يقول ما تنتظرون به ومنهم من يقول انظروا عسي أن يراجع فبينا أنا وهو واقفان إذ مر طلحة بن عبيد الله فوقف فقال أين ابن عديس فقيل هاهو ذا قال فجاءه ابن عديس فناجاه بشئ ثم رجع ابن عديس فقال لأصحابه لا تتركوا أحدا يدخل علي هذا الرجل ولا يخرج من عنده. قال فقال لي عثمان هذا ما أمر به طلحة بن عبيد الله ثم قال عثمان اللهم اكفني طلحة بن عبيد الله فإنه حمل علي هؤلاء وألبهم والله إني لأرجو ا أن يكون منها صفرا وأن يسفك دمه انه انتهك مني ما لا يحل له سمعت رسول الله صلي الله عليه وسلم يقول لا يحل دم امرئ مسلم الا في إحدي ثلاث رجل كفر بعد اسلامه فيقتل أو رجل زني بعد احصانه فيرجم أو رجل قتل نفسا بغير نفس ففيم أقتل قال ثم رجع عثمان قال ابن عباس فأردت أن أخرج فمنعوني حتي مر بي محمد بن أبي بكر فقال خلوه فخلوني.

عبد الله بن عباس بن ابوربيعه نقل کرتا ہے: میں عثمان کے پاس گیا اور ان سے گفتگو کی،عثمان نے میرا ہاتھ پکڑا اور گھر سے باہر لوگوں کی باتیں سننے کا کہا ۔ ان میں سے بعض کہہ رہے تھے : ہمیں کس چیز کا انتظار ہے؟ بعض کہہ رہے تھے : منتظر رہیں شاید پلٹ کر آئے۔ اسی دوران طلحه بن عبيد الله آیا ، اور کہا : ابن عديس کہاں ہے ؟ جواب دیا : یہاں ہی ہے، طلحہ نے آہستہ اس کو کچھ کہا، ابن عديس نے اپنے دوستوں سے کہا : کسی بھی صورت میں کسی کو اس گھر میں داخل ہونے یا گھر سے نکلنے کی اجازت نہ دینا.

عثمان نے کہا : یہ  طلحه بن عبيد الله کا حکم ہے، پھر کہا : اے اللہ مجھے اس شخص کے شر سے محفوظ فرمایا، اس نے لوگوں کو اکسایا ہے۔ اللہ سے امید رکھتا ہوں کہ اس کو فقر و تنگدستی کا شکار کرئے اور اس کا خون بہادیا جائے اور وہ مر جائے۔ کیونکہ وہ ایسا خون بہانا چاہتا ہے جس کو بہانا اس پر حرام ہے۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے سنا ہے ،آپ نے فرمایا:مسلمان کا خون بہانا صرف تین صورت میں جائز ہے۔مسلمان ہونے کے بعد کوئی کافر ہو،کوئی مرد زنا کرئے اور اس کی بیوی بھی ہو،کوئی کسی بے گناہ کو قتل کرئے۔ پھر عثمان نے کہا: میرا جرم کیا ہے کہ یہ لوگ مجھے قتل کرنے کے درپے ہیں؟

ابن عباس کہتا ہے : نکلتے وقت مجھے گھر سے نکلنے کی اجازت نہیں دے رہے تھے ،لیکن محمد بن ابی بکر کے حکم سے مجھے نکلنے کی اجازت ملی ۔

الطبري، محمد بن جرير (متوفاي310هـ)، تاريخ الطبري، ج 3، ص 411، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت؛

الشيباني، أبو الحسن علي بن أبي الكرم محمد بن محمد بن عبد الكريم (متوفاي630هـ)، الكامل في التاريخ، ج 3، ص 174، تحقيق عبد الله القاضي، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت، الطبعة الثانية، 1415هـ.

طلحه جناب عثمان تک پانی لے جانے کی اجازت نہیں دیتا تھا :

بلاذري نے انساب الأشراف میں لکھا ہے :

حرس القوم عثمان ومنعوا من أجل أن يدخل عليه، وأشار عليه بن العاص بأن يُحرم ويلبي ويخرج فيأتي مكة فلا يُقدم عليه، فبلغهم قوله فقالوا: والله لئن خرج لا فارقناه حتي يحكم الله بيننا وبينه، واشتد عليه طلحة بن عبيد الله في الحصار، ومنع من أجل أن يدخل إليه الماء حتي غضب عليّ بن أبي طالب من ذلك، فأدخلت علي روايا الماء.

نگہبان اور محافظ گھر کی حفاظت کر رہے تھے اور کسی کو گھر میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دیتے تھے، ابن عاص نے یہ مشورہ دیا کہ احرام کا لباس پہن لیا جائے اور لوگ لبیک کہتے ہوئے مکہ کی طرف حرکت کرئے تاکہ اس طرح عثمان کی جان محفوظ رہ جائے۔ یہ مشورہ مخالفوں کی کانوں تک جب پہنچا تو انہوں نے یہ قسم کھائی ؛ اگر یہ گھر سے نکلا تو پھر ہم نہیں چھوڑیں گے ۔ یہاں تک کہ اللہ ہمارے  اور اس کے درمیان فیصلہ کر دئے{قتل کرنے کی طرف اشارہ ہے}۔ طلحه بن عبيد الله نے محاصرہ کو اور سخت کیا اور وہاں تک پانی پہنچانے بھی نہیں دیا ، حضرت علی علیہ السلام اس حالت کو دیکھ کو غصہ آیا۔ ۔۔۔۔۔

 البلاذري، أحمد بن يحيي بن جابر (متوفاي279هـ) أنساب الأشراف، ج 2، ص 285.

ابن قتيبه دينوري لکھتا ہے :

ثم أقبل الأشتر النخعي من الكوفة في ألف رجل وأقبل ابن أبي حذيفة من مصر في أربع مئة رجل فأقام أهل الكوفة وأهل مصر بباب عثمان ليلا ونهارا وطلحة يحرض الفريقين جميعا علي عثمان ثم إن طلحة قال لهم إن عثمان لا يبالي ما حصرتموه وهو يدخل إليه الطعام والشراب فامنعوه الماء أن يدخل عليه.

مالك اشتر نخعي ہزار لوگوں کے ساتھ کوفہ سے اور ابن أبي حذيفه چار ہزار لوگوں کے ساتھ مصر سے مدینہ آیا اور عثمان کے گھر کا محاصرہ کیا ۔ طلحہ نے دونوں گروہوں کو عثمان کے خلاف اکسایا ۔وہ  کہتا تھا : تمہارے محاصرے سے اس کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا،گھر میں غذا اور پانی لے جایا جارہا ہے۔ پانی لے جانے نہ دیا جائے.

الدينوري، أبو محمد عبد الله بن مسلم ابن قتيبة (متوفاي276هـ)، الإمامة والسياسة، ج 1، ص 36، تحقيق: خليل المنصور، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت - 1418هـ - 1997م.

طلحه نے مصر کے لوگوں کو خط لکھا تھا :

ابن قتيبه دينوري، طلحه کی طرف مصر والوں کے نام لکھے خط کو اس طرح نقل کرتا ہے:

بسم الله الرحمن الرحيم من المهاجرين الأولين وبقية الشوري إلي من بمصر من الصحابة والتابعين أما بعد أن تعالوا إلينا وتداركوا خلافة رسول الله قبل أن يسلبها أهلها فإن كتاب الله قد بدل وسنة رسوله قد غيرت وأحكام الخليفتين قد بدلت

فننشد الله من قرأ كتابنا من بقية أصحاب رسول الله والتابعين بإحسان إلا أقبل إلينا وأخذ الحق لنا وأعطاناه فأقبلوا إلينا إن كنتم تؤمنون بالله واليوم الآخر وأقيموا الحق علي المنهاج الواضح الذي فارقتم عليه نبيكم وفارقكم عليه الخلفاء غلبنا علي حقنا واستولي علي فيئنا وحيل بيننا وبين أمرنا وكانت الخلافة بعد نبينا خلافة نبوة ورحمة وهي اليوم ملك عضوض من غلب علي شيء آكله.

یہ خط شروع کے مہاجرین اور شوری میں موجود باقی رہنے والے افراد کی طرف سے مصر میں موجود صحابہ اور تابعین کے نام ہے۔

ہمارے پاس آئیں تاکہ خلافت کو نالائق لوگوں کے ہاتھ لگنے سے نجات دے سکے۔ اللہ کی کتاب میں تبدیلی کی ہے اور رسول اللہ کی سنت کو بدل دیا ہے۔ اور پچھلے دو خلفاء کے احکام  بھی بدل دیے ہیں۔

اصحاب اور تابعین میں جو بھی باقی ہو ،انہیں اللہ کی قسم دے کر ہم کہتے ہیں:ہمارے پاس آئیں تاکہ حق کو واپس لیا جائے۔لہذا اگر اللہ اور قیامت پر ایمان ہو تو ہماری طرف حرکت کریں۔ تاکہ حق کو اسی راستے پر دوبارہ لگاسکے حس راستے پر رسول اللہ کے دور میں تھا اور جس حالت میں خلفاء کو ہم نے چھوڑا اسی حالت اور راستے کی طرف واپس پلٹا دیا جائے۔ کیونکہ ابھی صورت حال ہے کہ حق کو پامال کیا گیا ہے ۔ بیت المال پر قبضہ جمائے ہوئے ہیں اور خلافت کہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد جو نبوت اور رحمت کی جانشینی تھی اب یہ ایسی بادشاہت میں تبدیل ہوئی ہے کہ جس کو جو ملے ہڑپ  کر جاتا ہے۔

الدينوري، أبو محمد عبد الله بن مسلم ابن قتيبة (متوفاي276هـ)، الإمامة والسياسة، ج 1، ص 34، تحقيق: خليل المنصور، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت - 1418هـ - 1997م.

طلحہ کی طرف سے عثمان کو قتل کرنے کا اعتراف :

ابن عبد البر نے الإستعاب میں لکھا ہے:

روي عبد الرحمن بن مهدي عن حماد بن زيد عن يحيي بن سعيد قال قال طلحة يوم الجمل

ندمت ندامة الكسعي لما شريت رضا بني جرم برغمي

اللهم خذ مني لعثمان حتي يرضي.

طلحه جنگ جمل میں کہتا تھا : میں اس کام سے پشیمان ہوں جس کے ذریعے سے بنی حزم کی خوشنودی حاصل کی گئی.

اے اللہ ! عثمان کے خون کا بدلہ ہم سے لے لے۔

إبن عبد البر، يوسف بن عبد الله بن محمد (متوفاي463هـ)، الاستيعاب في معرفة الأصحاب، ج 2، ص 766، تحقيق علي محمد البجاوي، ناشر: دار الجيل - بيروت، الطبعة: الأولي، 1412هـ؛

الجزري، عز الدين بن الأثير أبي الحسن علي بن محمد (متوفاي630هـ)، أسد الغابة في معرفة الصحابة، ج 3، ص 85، تحقيق عادل أحمد الرفاعي، ناشر: دار إحياء التراث العربي - بيروت / لبنان، الطبعة: الأولي، 1417 هـ - 1996 م.

محمد بن سعد نے الطبقات الكبري میں لکھا ہے :

أن مروان بن الحكم رمي طلحة يوم الجمل، وهو واقف إلي جنب عائشة بسهم فأصاب ساقه، ثم قال: والله لا أطلب قاتل عثمان بعدك أبدا، فقال طلحة لمولي له: أبغني مكانا. قال: لا أقدر عليه. قال: هذا والله سهم أرسله الله، اللهم خذ لعثمان حتي يرضي، ثم وسد حجرا فمات.

مروان حكم نے جنگ جمل  میں طلحه کو جناب عائشه کے پاس کھڑا دیکھا، ایک تیر مارا ، یہ تیر طلحہ کی پنڈلی میں لگا اور کہا : اللہ کی قسم اس کے بعد عثمان کے قاتل کے پیچھے نہیں جاوں گا، طلحه نے اپنے غلام سے کہا : مجھے کسی امن والی جگہ پر لے جائے،  اور کہا : یہ ایسا تیر تھا جو اللہ کی طرف سے آیا ، اے اللہ ! عثمان کا انتقام مجھ سے لے لینا اور مجھ  سے راضي رہنا ، پھر سر کے نیچے ایک پتھر رکھا اور دنیا سے چلا گیا۔

الزهري، محمد بن سعد بن منيع أبو عبدالله البصري (متوفاي230هـ)، الطبقات الكبري، ج 3، ص 223، ناشر: دار صادر - بيروت؛

المزي، يوسف بن الزكي عبدالرحمن أبو الحجاج (متوفاي742هـ)، تهذيب الكمال، ج 13، ص 422، تحقيق د. بشار عواد معروف، ناشر: مؤسسة الرسالة - بيروت، الطبعة: الأولي، 1400هـ - 1980م.

بلاذري نے أنساب الأشراف میں نقل ہے:

قال مروان يوم الجمل: لا أطلب بثأري بعد اليوم، فرمي طلحة بسهم فأصاب ركبته فكان الدم يسيل فإذا أمسكوا ركبته انتفخت فقال: دعوه فإنما هو سهم أرسله الله، اللهم خذ لعثمان مني اليوم حتي ترضي.

مروان نے جنگ جمل کے دن کہا : آج کے بعد خون کا انتقام لینے کے کوشش نہیں کروں گا، ایک تیر عثمان کی طرف پھینکا اور پھر ،تیر اس کے  گھٹنے پر لگا، خون بہنے لگا زخم کو باندھا لیکن خون اچھل کر نکلنے لگا، طلحه نے کہا : مجھے چھوڑ دو ، یہ ایسا تیر ہے جو اللہ کی طرف سے آیا ہے، اے اللہ! عثمان کے خون کا بدلہ مجھ سے لے لے اور مجھ پر راضی رہے.

البلاذري، أحمد بن يحيي بن جابر (متوفاي279هـ) أنساب الأشراف، ج 1، ص 311.

بلاذري نے مندرجہ بالا بات کو نقل کرنے کے بعد لکھا ہے:

وكان طلحة شديداً علي عثمان فلما كان يوم الجمل قال: إنا داهنا في أمر عثمان فلا نجد اليوم شيئاً أفضل من أن نبذل له دماءنا اللهم خذ لعثمان مني حتي يرضي.

طلحه ،عثمان کے خلاف سخت موقف رکھتا تھا ؛ لیکن جنگ جمل کے دوران اس نے کہا : عثمان کے بارے میں کوتاہی اور غلطی کی ہے،اج بہتریں کام یہی ہے کہ  اس کی خاطر اپنا خون بہا دوں اور یہ کہا : اے اللہ ! عثمان کے خون کا انتقام مجھ سے لے لینا اور مجھ پر راضی رہنا .

البلاذري، أحمد بن يحيي بن جابر (متوفاي279هـ) أنساب الأشراف، ج 3، ص 311.

ذهبي نے بھی سير أعلام النبلاء میں بلکل اسی مطلب کو ذکر کیا ہے اور لکھا ہے:

قال إبن سعد أخبرني من سمع إسماعيل بن أبي خالد عن حكيم بن جابر قال قال طلحة إنا داهنا في أمر عثمان فلا نجد اليوم أمثل من أن نبذل دماءنا فيه اللهم خذ لعثمان مني اليوم حتي ترضي.

  حكيم بن جبير سے نقل ہوا ہے : ہم نے عثمان کے قتل کے  مسئلے میں ہم نے حق پوشی ،دھوکہ اور فریب دہی سے کام لیا۔ آج ان کے حق میں بہترین کام یہ ہے کہ ہم اپنا خون ان کے لئے بہا دئے  ۔پھر کہا : اے اللہ! آج عثمان کے خون کے بدلے میں اس حد تک مجھ سے خون نکال لینا یہاں تک کہ آپ مجھ سے راضی ہوجائے۔

الذهبي، شمس الدين محمد بن أحمد بن عثمان، (متوفاي748هـ)، سير أعلام النبلاء، ج 1، ص 35، تحقيق: شعيب الأرناؤوط، محمد نعيم العرقسوسي، ناشر: مؤسسة الرسالة - بيروت، الطبعة: التاسعة، 1413هـ.

امير مؤمنین عليه السلام عثمان کے قتل میں طلحہ کو قصوروار سمجھتے تھے:

امير مؤمنن عليه السلام نهج البلاغه میں فرماتے ہیں :

وَاللَّهِ مَا اسْتَعْجَلَ مُتَجَرِّداً لِلطَّلَبِ بِدَمِ عُثْمَانَ إِلَّا خَوْفاً مِنْ أَنْ يُطَالَبَ بِدَمِهِ، لأَنَّهُ مَظِنَّتُهُ، وَلَمْ يَكُنْ فِي الْقَوْمِ أَحْرَصُ عَلَيْهِ مِنْهُ، فَأَرَادَ أَنْ يُغَالِطَ بِمَا أَجْلَبَ فيهِ، لِيَلْتَبِسَ الأَمْرُ، وَيَقَعَ الشَّكُّ.

اور خدا کی قسم اس شخص نے خون عثمان کے مطالبہ کے ساتھ تلوار کھینچنے میں صرف اس لئے جلد بازی سے کام لیا ہے کہ کہیں اسی سے اس خون کا مطالبہ نہ کردیا جائے کہ اس امر کا گمان غالب ہے اور قوم میں اس سے زیادہ عثمان کے خون کا پیاسا کوئی نہ تھا۔اب یہ اس فوج کشی کے ذریعہ لوگوں کو مغالطہ میں رکھنا چاہتا ہے اور مسئلہ کو مشتبہ اورمشکوک بنا دینا چاہتا ہے 

نهج البلاغه، خطبه 174.

طلحہ کا قتل عثمان کے خون کے انتقام لینے کے لئے ہوا:

ابن أبي شيبه اپنی کتاب  المصنف میں ، ابن عبد البر نے الإستيعاب میں اور ابن حجر نے تهذيب التهذيب میں نقل کیا ہے:

حدثنا وَكِيعٌ عن إسْمَاعِيلَ عن قَيْسٍ قال كان مَرْوَانُ مع طَلْحَةَ يوم الْجَمَلِ قال فلما اشْتَبَكَتْ الْحَرْبُ قال مَرْوَانُ َلاَ أَطْلُبُ بِثَأْرِي بَعْدَ الْيَوْمِ قال ثُمَّ رَمَاهُ بِسَهْمٍ فَأَصَابَ رُكْبَتَهُ فما رَقَأَ الدَّمُ حتي مَاتَ قال وقال طَلْحَةُ دَعَوْهُ فَإِنَّمَا هو سَهْمٌ أَرْسَلَهُ اللَّهُ.

مروان جنگ جمل میں  طلحه ساتھ تھا ، جس وقت جنگ شروع ہوئی، مروان نے کہا : آج کے بعد عثمان کے خون کا بدلہ لینے کی کوشش نہیں کروں گا ،یہ کہا اور ایک تیر طلحہ کی پھر پھینکا ،تیر طلحہ کے گھٹنے پر آلگا، طلحه نے کہا : یہ تیر اللہ کی طرف سے آیا ہے ، اس کے گھٹنے سے خون نکلتا رہا اور وہ مرگیا ۔

إبن أبي شيبة الكوفي، أبو بكر عبد الله بن محمد (متوفاي235 هـ)، الكتاب المصنف في الأحاديث والآثار، ج 7، ص 542، ح 37803، تحقيق: كمال يوسف الحوت، ناشر: مكتبة الرشد - الرياض، الطبعة: الأولي، 1409هـ؛

إبن عبد البر، يوسف بن عبد الله بن محمد (متوفاي463هـ)، الاستيعاب في معرفة الأصحاب، ج 2، ص 769، تحقيق علي محمد البجاوي، ناشر: دار الجيل - بيروت، الطبعة: الأولي، 1412هـ.

العسقلاني الشافعي، أحمد بن علي بن حجر أبو الفضل (متوفاي852هـ) تهذيب التهذيب، ج 5، ص 19، ناشر: دار الفكر - بيروت، الطبعة: الأولي، 1404هـ - 1984م.

اس روایت کی سند کی تحقیق:

وكيع بن الجراح: ثقة حافظ عابد من كبار التاسعة.

تقريب التهذيب، ج 2، ص 284، رقم: 7441.

اسماعيل بن ابوخالد: ثقة ثبت من الرابعة مات سنة ست وأربعين.

تقريب التهذيب، ج 1، ص 93، رقم: 439.

قيس بن ابوحازم: ثقة من الثانية مخضرم ويقال له رؤية.

تقريب التهذيب، ج 2، ص 32، رقم: 5583.

ابن عبد البر  الإستيعاب میں لکھتا ہے:

وإن الذي رماه مروان بن الحكم بسهم فقتله فقال لا أطلب بثأري بعد اليوم وذلك أن طلحة فيما زعموا كان ممن حاصر عثمان واستبد عليه ولا يختلف العلماء الثقات في أن مروان قتل طلحة يومئذ وكان في حزبه.

مروان نے طلحہ پر ایک تیر سے حملہ کیا اور اس کو مار دیا ، اور کہا: آج کے بعد میں عثمان کے خون کا بدلہ لینے کی کوشش نہیں کروں گا ؛ کیونکہ  طلحه ان لوگوں میں سے تھا جنہوں نے عثمان کے گھر کا محاصره کیا اور ان کے ساتھ سختی سے پیش آیا۔

ابن عبد البر  آگے لکھتا ہے : ثقہ علماء کا اس میں اختلاف نہیں ہے کہ طلحہ کو مروان نے قتل کیا جبکہ دونوں ایک ہی لشکر میں تھے{دونوں جناب عثمان کے خون کا انتقام لینے جناب امیر المومنین سے مقابلے میں کھڑے تھے۔}

إبن عبد البر، يوسف بن عبد الله بن محمد (متوفاي463هـ)، الاستيعاب في معرفة الأصحاب، ج 2، ص 766، تحقيق علي محمد البجاوي، ناشر: دار الجيل - بيروت، الطبعة: الأولي، 1412هـ..

ابن حجر نے فتح الباري میں لکھا ہے:

وقتل طلحة يوم الجمل سنة ست وثلاثين رمي بسهم جاء من طرق كثيرة ان مروان بن الحكم رماه فأصاب ركبته فلم يزل ينزف الدم منها حتي مات.

طلحه  36 ہجری کو قتل ہوا ، اس کا قاتل مروان حكم تھا۔ اسی کے تیر سے نکلے خون کی وجہ سے وہ مر گیا اور یہ بات متعدد طرق سے نقل ہوئی ہے۔

العسقلاني الشافعي، أحمد بن علي بن حجر أبو الفضل (متوفاي852هـ)، فتح الباري شرح صحيح البخاري، ج 7، ص 82، تحقيق: محب الدين الخطيب، ناشر: دار المعرفة - بيروت.

ذهبي نے سير اعلام النبلاء میں لکھا ہے :

وكيع حدثنا إسماعيل بن أبي خالد عن قيس قال رأيت مروان بن الحكم حين رمي طلحة يومئذ بسهم فوقع في ركبته فما زال ينسح حتي مات رواه جماعة عنه ولفظ عبد الحميد بن صالح عنه هذا أعان علي عثمان ولا أطلب بثأري بعد اليوم.

قيس کہتا ہے : جس وقت مروان بن حكم طلحہ کی طرف تیر مار رہا تھا میں اس کو دیکھ رہا تھا؛ یہ تیر طلحہ کے گھٹنے پر لگا اور اس حد تک خون نکلا کہ وہ مرگیا ۔

ایک اور نقل کے مطابق: (مروان نے کہا:( یہ ایسا آدمی ہے کہ جس نے عثمان کے خلاف لوگوں کی مدد کی ؛ ( میں نے عثمان کے خون کا انتقام اس سے لیا ) اور آج کے بعد پھر عثمان کے خون کا بدلہ لینے کی کوشش نہیں کروں گا۔

الذهبي، شمس الدين محمد بن أحمد بن عثمان، (متوفاي748هـ)، سير أعلام النبلاء، ج 1، ص 35 ـ 36، تحقيق: شعيب الأرناؤوط، محمد نعيم العرقسوسي، ناشر: مؤسسة الرسالة - بيروت، الطبعة: التاسعة، 1413هـ.

مروان نے عثمان کے بیٹے سے کہا : میں نےتیرے باپ کے بعض قاتلوں کو سزا دے دیا ہے:

ابن أثير جزري نے اسد الغابه میں نقل کیا ہے:

وكان سَبَبُ قَتْلِ طَلْحَةَ أن مروان بن الحكم رماه بسهم في ركبته، فجعلوا إذا أمسكوا فَمَ الجرح انتفخت رجله، وإذا تركه جري، فقال: دعوه فإنما هو سهم أرسله الله تعالي، فمات منه. وقال مروان: لا أطلب بثأْري بعد اليوم، والتفت إلي أبان بن عثمان، فقال: قد كفيتك بعض قتلة أبيك.

طلحہ کے مرنے کا سبب ، مروان بن حکم کا وہ تیر تھا جو طلحہ کے گھٹنے پر آلگا اور جب زخم کو باندھا جاتا تو زخم خراب ہوجاتا اور جب کھولتا تو خون نکلنا شروع ہوتا ۔ طلحہ نے کہا : مجھے چھوڑ دو، یہ ایسا تیر ہے جو اللہ کی طرف سے آیا ہے۔طلحہ اسی زخم کی وجہ سے دنیا سے چلا گیا ۔مروان نے کہا: آج کے بعد عثمان کے خون کا انتقام لینے کی کوشش نہیں کروں  گا اور مروان نے ابان بن عثمان سے کہا : میں نے تیرے باپ کے بعض قاتلوں سے انتقام لیا ۔

الجزري، عز الدين بن الأثير أبي الحسن علي بن محمد (متوفاي630هـ)، أسد الغابة في معرفة الصحابة، ج 3، ص 86، تحقيق عادل أحمد الرفاعي، ناشر: دار إحياء التراث العربي - بيروت / لبنان، الطبعة: الأولي، 1417 هـ - 1996 م.

ابن عبد البر،الإستيعاب میں لکھتا ہے :

رمي مروان طلحة بسهم ثم التفت إلي أبان بن عثمان فقال قد كفيناك بعض قتلة ابيك.

مروان نے  طلحه کی طرف تیر مارا اور پھر ابان ابن عثمان سے مخاطب ہو کر کہا : میں نے تجھے تیرے باپ کے بعض قاتلوں سے رہائی دلائی۔

إبن عبد البر، يوسف بن عبد الله بن محمد (متوفاي463هـ)، الاستيعاب في معرفة الأصحاب، ج 2، ص 768، تحقيق علي محمد البجاوي، ناشر: دار الجيل - بيروت، الطبعة: الأولي، 1412هـ؛

الذهبي، شمس الدين محمد بن أحمد بن عثمان، (متوفاي748هـ)، سير أعلام النبلاء، ج 1، ص 36، تحقيق: شعيب الأرناؤوط، محمد نعيم العرقسوسي، ناشر: مؤسسة الرسالة - بيروت، الطبعة: التاسعة، 1413هـ؛

الذهبي، شمس الدين محمد بن أحمد بن عثمان، (متوفاي748هـ)، تاريخ الإسلام ووفيات المشاهير والأعلام، ج 3، ص 487، تحقيق د. عمر عبد السلام تدمري، ناشر: دار الكتاب العربي - لبنان/ بيروت، الطبعة: الأولي، 1407هـ - 1987م.

سودان نے عثمان کو  طلحه کے حکم سے قتل کیا :

عن سعيد بن عبد الرحمن بن أبزي عن أبيه قال رأيت اليوم الذي دخل فيه علي عثمان فدخلوا من دار عمرو بن حزم خوخة هناك حتي دخلوا الدار فناوشوهم شيئا من مناوشة ودخلوا فوالله ما نسينا أن خرج سودان بن حمران فأسمعه يقول أين طلحة بن عبيد الله قد قتلنا ابن عفان.

سعيد بن عبد الرحمن بن ابزي نے اپنے باپ سے نقل کیا ہے: میں دیکھ رہا تھا کہ لوگ عمرو بن حزم  کے گھر کے دوازے سے عثمان کے گھر میں داخل ہورہے تھے۔ اللہ کی قسم میں یہ بھول نہیں کرسکتا ؛سودان بن حمران عثمان کے گھر سے باہر نکلا اور میں نے اس کو یہ کہتے سنا :طلحہ کہاں ہے؟ {اس کو یہ بتائے }ہم نے عفان کے بیٹے کو قتل کیا ہے ۔

الطبري، أبي جعفر محمد بن جرير (متوفاي310هـ)، تاريخ الطبري، ج 2، ص 669، ناشر: دار الكتب العلمية 




Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی