2021 August 5
متعہ کی شرعی حیثیت {اھل سنت کی کتابوں سے }
مندرجات: ١٩٧٥ تاریخ اشاعت: ١٤ June ٢٠٢١ - ١٨:٠٢ مشاہدات: 315
مضامین و مقالات » پبلک
متعہ کی شرعی حیثیت {اھل سنت کی کتابوں سے }

 

 

 

متعہ کی شرعی حیثیت اھل سنت کی کتابوں کی روشنی میں۔

بسم اللّه الرحمن الرحيم

مطالب کی فہرست

متعه کیا ہے ؟

شیعہ اور اھل سنت کے ہاں متعہ کی تعریف اور اس کو بھی ازدواج کہنا ۔

 متعہ اسلام کی شروع کے ایام میں جائز ہونے پر اجماع ۔

 متعہ جائز ہونے کے مسئلہ میں اختلاف کہاں پر ہے ؟

متعہ کے حلال ہونے کے دلائل :

 اهل سنت کی کتابوں میں اس کے مدارک کیا ہیں ؟
   صحابہ کی راے اور ان کی عملی سیرت :

تابعین اور اھل سنت کے علماء  میں سے متعہ کو حلال سمجھتے والے}

کیا متعہ کا حکم نسخ ہوا ہے :

کیا متعہ خیبر کے دن حرام ہوا ہے ؟

کیا آپ یہ قبول کرتے ہیں کہ آپ کی ماں یا بہن سے کوئی متعہ کرئے؟

شیعہ کتابوں میں متعہ کو حرام قرار دینے والی روایتوں کی تحقیق :

 

 

متعه کیا ہے ؟

  متعه يا ازدواج موقت کا مسئلہ ایسے مسائل میں سے ہے کہ جس میں شیعہ اور اھل سنت کے درمیان شدید اختلاف نظر موجود ہے اھل سنت والے اس کو شیعوں کے خلاف ایک حربے کے طور پر استفادہ کرتے ہیں اور اسی بہانے شیعوں کے خلاف خوب تبلیغ کرتے ہیں ۔

شیعہ اور اھل سنت کا متعہ کی تعریف اور اس کو بھی ازدواج کہنا ۔

 سب سے پہلے اس نکتے کی طرف اشارہ ضرری ہے کہ شیعہ اور اھل سنت اس بات پر متفق ہے کہ "متعہ " ایک وقتی اور محدود مدت کے لئے انجام پانے والی ایک قسم کی شادی ہی ہے ۔اس میں عقد کے لئے ایک مددت کو معین کرتے ہیں اور اس مددت کے ختم ہونے کے بعد اب ایک دوسرے کی نسبت سے محرمیت ختم ہوجاتی ہے اور طلاق دینے کی ضرورت بھی نہیں ہوتی ".

قال أبو عمر (بن عبد البر) لم يختلف العلماء من السلف والخلف أنّ المتعة نكاح إلي أجل لا ميراث فيه ، والفرقةتقع عند انقضاء الأجل من غير طلاق. وقال ابن عطية : وكانت المتعة أن يتزوج الرجل المرأة بشاهدين وإذن الوليإلي أجل مسمّي ، وعلي أن لا ميراث بينهما ، ويعطيها ما اتفقا عليه ، فإذا انقضت المدة فليس له عليها سبيل و يستبرئ رحمها : لان الولد لا حق فيه بلا شك ، فإن لم تحمل حلت لغيره۔

تفسير قرطبي ج5 ص132

ابو عمر (بن عبد البر) نے کہا ہے : سلف اور سابقہ علماء میں سے کسی نے اس چیز میں اختلاف نہیں کیا ہے کہ متعہ ایک ازدواج ہے اس میں ارث نہیں ہے مددت ختم ہونے کے بعد یہ ایک دوسرے سے جدا ہوں گے اور طلاق دینے کی ضرورت نہیں ہوگی ۔

ابن عطیہ نے کہا ہے : متعہ یہ ہے کہ ایک شخص کسی عورت سے شادی کرتا ہے ،دو گواہ اور ولی کا اذن اس میں ہونا چاہئے اور وقت ختم ہونے کی مددت کا تعین بھی ہوگا، ان کے درمیان ارث نہیں ہوگی اور جتنے پر راضی ہو اس کو مھر قرار دئے۔ اب جب وقت ختم ہوجائے تو پھر مرد اس عورت کو ہاتھ نہیں لگا سکتا، عورت کو جدا ہونے کے بعد دائمی نکاح کی طرح یہاں بھی عدت  کا خیال رکھنا ضروری ہے کیونکہ متعہ سے پیدا شدہ فرزند بھی اپنے باپ سے ہی ملحق ہوگا

اور اگر عورت حاملہ نہ ہونے والی عورت ہو  تو عدت بھی نہیں ہے لہذا دوسرے کے لئے اس سے ازدواج کرنا جائز اور حلال ہے ۔

تفسير طبري ج5 ص 12 سوره نساء ذيل آيه 24 نيز همين مطلب را مي گويد .

  متعہ اسلام کی شروع کے ایام میں جائز ہونے پر اجماع ۔

 

شیعہ اور اھل سنت کا اس بات پر اجماع کہ متعہ اسلام کے شروع کے ایام میں کچھ مدت جائز تھا ۔

ولا شك أنه كان مشروعا في ابتداء الإسلام

اس میں شک ہی نہیں کہ متعہ شروع میں جائز تھا ۔

تفسير ابن كثير ج1 ص475

 پس ادعاي حليت اضطراري آن مانند حليت گوشت مرده و خون در حال اضطرار نيز معني ندارد . زيرا ضرورت ، در هر زماني حكم حرمت را - در هر موضوعي كه باشد - بر مي دارد و مختص به زمان رسول خدا نيست .

لہذا اس کو ضرورت کے وقت مردار کھانا یا خون پینے کے جائز ہونے سے تشبیہہ دینا بھی صحیح نہیں ہے ۔ کیونکہ ضرورت کی صورت میں جس وقت بھی ہو یہ ضرورت پیش آئے یہ شرعی حکم کو اٹھا دیتی ہے ۔ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانے کے ساتھ مختص نہیں ہے ۔لہذا یہ تشبیہ اگر صحیح ہو تو جس طرح ضرورت کے وقت مردار کھانا جائز ہے ،ضرورت کے وقت متعہ بھی جائز ہے ۔

 

متعہ کے بارے میں شیعہ اور اھل سنت کا بنیادی اختلاف کہاں پر ہے ؟

اصلی اختلاف یہاں پر ہے کہ کیا یہ حکم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانے میں ہی نسخ اور ختم ہوچکا تھا ؟ یا یہ ان کی وفات کے بعد کسی اور نے اس کو حرام قرار دیا ہے ؟

مشہور اھل سنت پہلے والے قول کو مانتے ہیں  ،جبکہ شیعوں کا اجماع دوسرے قول پر ہے  .

متعہ حلال ہونے کے قرآنی دلائل :

متعہ کی حلیت کو ثابت کرنے کے لئے اجماع کے علاوہ کہ جس کو اھل سنت کے علماء بھی اسلام کے شروع کے ایام میں مانا ہے ،اس اجماع کے علاوہ قرآنی ایات اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی روایات سے بھی اس کو ثابت کرسکتے ہیں

 1- كلام خداوند متعال :

فَمَا اسْتَمْتَعْتُمْ بِهِ مِنْهُنَّ فَآتُوهُنَّ أجُورَهُنَّ فَرِيضَةًسوره نساء آيه 24 )

 پس جو بھی ان عورتوں سے تمتع کرے ان کی اجرت انہیں بطور فریضہ دے دے اور فریضہ کے بعد آپس میں رضا مندی ہوجائے تو کوئی حرج نہیں ہے بیشک اللہ جاننے بھی ہے اور حکمت بھی ہے۔

آیت کا متعہ کے بارے نازل ہونے  کا اثبات :

الف) اس سلسلے میں مفسرین کے کلمات :

شيعه  اور اھل سنت اس بات پر تقریبا اتفاق نظر رکھتے ہیں کہ یہ آیت متعه کے بارے میں نازل ہوئی ہے ۔لہذا اس سے متعہ کا حلال ہونا ثابت ہوگا اب اس کے حرام ہونے کو ثابت کرنے کے لئے نسخ کرنے والی آیت یا کسی اور دلیل کو پیش کرنا ہوگا ۔

1- وقال الجمهور : المراد نكاح المتعة الذي كان في صدر الإسلام

جمهور علما( مشهور علما) نے کہا ہے : اس سے مراد متعہ ہی ہے کہ جو اسلام کے ابتدائی ایام میں جائز تھا ۔

تفسير القرطبي ج 5 ص 130

2- وإلي ذلك ذهبت الإمامية والآية أحد أدلتهم علي جواز المتعة وأيدوا استدلالهم بها بأنها في حرف أبي فما استمعتم به منهن إلي أجل مسمي وكذلك قرأ ابن عباس وابن مسعود رضي الله تعالي عنهم والكلام في ذلك شهير ولا نزاع عندنا في أنها أحلت ثم حرمت

شیعہ اس بات کے قائل ہیں کہ یہ آیت متعہ کے جائز ہونے کی دلیلوں میں سے ایک ہے اور اپنے نظرئے کی تائید کے لئے کہتے ہیں کہ  أبيّ اور ابن عباس کی قرائت کے مطابق "إلي أجل مسمي" کے ساتھ ہے ۔ اس سلسلے میں بات مشہور ہے اور ہم بھی اس کو قبول کرتے ہیں کہ متعہ اسلام  کے شروع کے ایام میں جائز تھا اور حرام ہوا۔

روح المعاني ج5/ص5

3- وقد استدل بعموم هذه الآية علي نكاح المتعة ولا شك أنه كان مشروعا في ابتداء الإسلام ثم نسخ بعد ذلك وقد ذهب الشافعي وطائفة من العلماء إلي أنه أبيح ثم نسخ ثم أبيح ثم نسخ مرتين وقال آخرون أكثر من ذلك وقال آخرون إنما أبيح مرة ثم نسخ ولم يبح بعد ذلك وقد روي عن بن عباس وطائفة من الصحابة القول بإباحتها للضرورة وهو رواية عن الإمام أحمد وكان بن عباس وأبي بن كعب وسعيد بن جبير والسدي يقرؤون فما استمتعتم به منهن إلي أجل مسمي فآتوهن أجورهن فريضة وقال مجاهد نزلت في نكاح المتعة

اس آیت سے نکاح متعہ کے حلال پرنے پر استدلال کرتے ہیں اور اس میں شک نہیں ہے کہ متعہ شروع میں حلال تھا اور بعد میں یہ حکم نسخ ہوا ہے ، امام شافعي کی راے بھی یہی ہے لیکن بعض نے کہا ہے : شروع میں جائز ہوا ،پھر حکم نسخ ہوا اور پھر دوبارہ جائز ہوا ،پھر حکم نسخ ہوا ۔بعض نے اس سے زیادہ مرتبہ جائز اور پھر حکم نسخ ہونے کا کہا ہے ، بعض نے کہا ہے یہ صرف ایک مرتبہ جائز ہوا اور پھر یہ حرام ہوا پھر دوبارہ جائز نہیں ہوا ۔

  اور اس کا جائز اور مباح ہونا ضرورت کی وجہ سے تھی ،ابن عباس اور بعض اصحاب سے نقل ہوا ہے اور احمد بن حنبل نے اس روایت کو نقل کیا ہے ۔ ابن عباس ، أبي بن كعب،  سعيد بن جبير اور سدي نے مذکورہ آیت کو  " إلي أجل مسمي ..." کے ساتھ تلاوت کی ہے اور مجاھد نے بھی یہی کہا ہے کہ آیت متعہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے ۔

تفسير ابن كثير ج1/ص475

مندرجہ ذیل کتابوں میں بھی یہی مطلب مختلف الفاظ کے ساتھ نقل ہے :

فتح القدير ج 1 ص499 - جامع البيان ج 5 ص18 بتحقيق صدقي جميل العطار چاپ دار الفكر بيروت - تفسير أبيحيّان ج 3 ص 218- در المنثور ج2 ص140، چاپ مطبعة الفتح جدّة - نواسخ القرآن ابن الجوزي ص 124تفسيرالثعالبي ج 2 ص215 - تفسير الرازي ج3 ص200

ب) بہت سے بزرگ اصحاب کی قرآئت:

 اھل سنت کی روایت کے مطابق بہت سے اصحاب اور تابعین نے  ؛جیسے ابن عباس ، ابي بن كعب ، مجاهد ،سعيد بن جبير ، ابن مسعود ،  سدي اور دوسروں نے آیت کی اس طرح تلاوت کی ہیں :

 

"فَمَا استَمتَعتُم بِهِ مِنهُنَّ إليَ أجَلٍ مُسَمًّي فَآتُوهُنَّ أجُورَهُنَّ"

1- أخبرنا أبو زكريا العنبري حدثنا محمد بن عبد السلام حدثنا إسحاق بن إبراهيم أنبأ النضر بن شميل أنبأ شعبة حدثنا أبو سلمة قال سمعت أبا نضرة يقول قرأت علي بن عباس رضي الله عنهما فما استمتعتم به منهن فآتوهن أجورهن فريضة قال بن عباس فما استمتعتم به منهن إلي أجل مسمي قال أبو نضرة فقلت ما نقرأها كذلك فقال بن عباس والله لأنزلها الله كذلك هذا حديث صحيح علي شرط مسلم ولم يخرجاه

ابونضره کو کہتے سنا ہے کہ میں نے اس آیت کی ابن عباس کے پاس تلاوت کی  : وہ عورتیں جن سے متعہ کیا ہے ان کے اجر کو واجب اور فریضہ کے عنوان سے ادا  کرئے ۔ ابن عباس نے کہا : جن عورتوں کے ساتھ خاص وقت تک کے لئے متعہ کیا ہے ۔  ابو نضره کہتا ہے : ہم آیت کو اس طرح تلاوت نہیں کرتے .ابن عباس نے کہا اللہ کی قسم آیت اسی طرح نازل ہوئی ہے  .

یہ حدیث مسلم کی شرائط کے مطابق صحیح ہے  لیکن مسلم اور بخاری نے اس کو نقل نہیں کیا ہے

المستدرك علي الصحيحين ج2 ص334 شماره 3192

ان کی یہ قرائت درج ذل کتابوں میں بھی ذکر ہوئی ہے  :

جامع البيان ج 5 ص19 - المصنف لعبد الرزاق الصنعاني ج 7 ص 497 و 498- شرح النووي علي صحيح مسلم ج 9 ص 179- الكشاف للزمخشري ج 1 ص519- أحكام القرآن للجصاص ج 2 ص 185- تفسير القرطبي ج5 ص130- تفسير ابن كثير ج1 ص486 - الدر المنثور ج 2 ص 139و 140 و...

یقینا ابن عباس کا مقصد یہ نہیں تھا کہ یہ آیت اسی طرح قرآن میں نازل ہوئی ہے کیونکہ اس سے تو قرآن میں تحریف ہونا لازم آتا ہے اور کیونکہ تمام مسلمانوں کا قرآن میں تحریف نہ ہونے پر اجماع ہے۔ بلکہ یہاں نزول سے سے مراد اللہ کی طرف سے اس آیت کی تفسیر ہے،یعنی اللہ نے اس آیت کو نازل کرنے کے ساتھ اس کی تفسیر اور آیت کے مصداق کو بھی ذکر کیا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر وحی کیا ہے ۔ لہذا آیت سے مراد ازدواج موقت اور وہی متعہ ہے اور یہ{ إلي أجل مسمي}  لفظ استمتاع کے علاوہ ایک اور دلیل ہے جس سے یہاں مراد متعہ ہونے کو ثابت کیا جاسکتا .

2- عمر نے دو متعہ سے منع کیا :

جن چیزوں سے متعہ کے حلال ہونے کو ثابت کیا جاسکتا ہے ان میں سے ایک خلیفہ دوم جناب عمر بن خطاب کا یہ قول ہے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور میں دو متعے حلال تھے اور میں ان دونوں سے روکتا ہوں اور جو ان دونوں کو انجام دینے والے کو سزا دوں گا۔

اگر متعہ کے نسخ کے سلسلے میں رسول خدا صلي الله عليه وآله وسلم کی کوئی حدیث ہوتی تو یقینا عمر اسی کو شاہد کے طور پر پیش کرتا لیکن خلیفہ نے ایسا نہیں کیا لہذا خلیفہ کا یہی جملہ اس بات پر دلیل ہے کہ متعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانے میں حلال تھا اور اس کو حرام قرار دینا خود عمر شخصی حکم ہے ۔   

اھل سنت کی کتابوں میں اس حکم کے اسناد و مدارک  :


سرخی نے اپنی دو کتابوں میں اس کو ان روایات میں سے قرار دیا ہے جو عمر سے صحیح سند نقل ہوئی ہے ۔

وقد صحّ أنّ عمر رضي اللّه عنه نهي الناس عن المتعة فقال: متعتان كانتا علي عهد رسول اللّه صلي اللّه عليهوسلم وأنا أنهي الناس عنهما ؛متعة النساء، ومتعة الحج .

صحیح سند کے ساتھ عمر سے نقل ہوا ہے کہ انہوں نے لوگوں کو متعہ سے منع کیا اور کہا    :  رسول خدا صلي الله عليه وآله وسلم کے زمانے میں دو متعے حلال تھے ،  عورتوں سے متعہ ، حج تمتع کا متعہ ۔

المبسوط للسرخسي ج4 ص27 - أصول السرخسي ج2 ص6

یہ روایت درج ذیل کتابوں میں نقل ہوئی ہے ۔

مسند أحمد بن حنبل ج3 ص325 ش 14519 - المغني ج7 ص136چاپ دار الفكر 1405- أحكام القرآن للجصاص ج1 ص347 چاپ دار احياء التراث العربي - تفسير القرطبي ج2 ص392 - تذكرة الحفاظ ج1 ص366 - التفسير الكبير ج5 ص130 چاپ اول دار الكتب العلميه بيروت - بداية المجتهد ج1 ص244 چاپ دار الفكر بيروت - وفيات الأعيان وأنباء أبناء الزمان ج6 ص150 دار الثقافة لبنان

يحيي بن اكثم  کی روایت:   

اسی سلسلے میں یحیی بن اکثم سے  ایک روایت نقل ہوئی ہے جو قابل توجہ ہے ۔

 قال يحيي بن أكثم لشيخ بالبصرة: بمن اقتديت في جواز المتعة؟ قال: بعمر بن الخطاب رضي اللّه عنه. قال: كيفوعمر كان أشدّ الناس فيها؟ قال: لأنّ الخبر الصحيح أنّه صعد المنبر فقال: إنّ اللّه ورسوله قد أحلاّ لكم متعتينوإنّي محرّمهما عليكم وأعاقب عليهما. قبلنا شهادته ولم نقبل تحريمه.

 محاضرات الأدباء ج3 ص214

يحيي بن أكثم، بصره کے شيوخ میں سے ایک ہے، ان سے  کہا : متعہ کے بارے میں کسی کی اتباع کرتے ہو ؟ کہا عمر کی ۔ کہا : وہ کیسے جبکہ عمر متعہ کے بارے میں سخت ترین افراد میں سے تھا ؟ کہا : کیونکہ عمر کی ہی صحیح  سند روایت کہتی ہے کہ عمر ممبر پر گیا اور کہا : اللہ اور اللہ کے رسول نے متعہ کو حلال قرار دیا ہے لیکن میں اس کو حرام قرار دیتا ہوں اور متعہ کرنے والے کو سزا دوں گا ۔لہذا ہم متعہ کے حلال ہونے کے بارے میں جناب عمر کی گواہی کو قبول کرتے ہیں لیکن خود عمر کی طرف سے حرام قرار دینے کو قبل نہیں کرتے  ۔

خليفه مامون عباسي اور متعہ والی روایت  :

اسی طرح مامون عباسی کہ جس کو یہ لوگ امير المومنين کہتے ہیں ،اس سے بھی اس قسم کی ایک خوبصورت واقعہ نقل ہوا ہے ۔

  مامون بے ایک دن متعہ حلال ہونے کے حکم کا اعلان کرایا ۔ محمد بن منصور اور ابو العيناء جو اس وقت کے درباری فقہاء میں سے تھے یہ دونوں منصور کی راے کو بدلنے کے لئے اس کے پاس گیے، مامون مسواک لگایا رہا تھا اور غصہ کی حالت میں کہہ رہا تھا : عمر نے کہا ہے :

" رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور  ابو بكر کے زمانے میں دو متعے حلال تھےمیں ان دونوں کو حرام قرار دئے رہا ہوں !!!"

اے ٹیڑی آنکھیں والا تم کون ہوتا ؛ جس چیز کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور ابوبکر حلال قرار دیتے تھے ، اس کو تو آکر حرام قرار دئے ؟

اس وقت محمد بن منصور مامون سے بات کرنا چاہتا تھا لیکن ابو العيناء نے اس سے کہا :جو عمر کے بارے میں اس انداز میں بات کرتا ہے ہم اس کو کیا کہیں گے ؟

اسی وقت يحيي بن اكثم اس کے پاس آیا اور اکیلے میں اس سے گفتگو کی اور آخر کار اس کو اس دستور کو واپس کرنے پر راضی کر لیا ۔

تاريخ بغداد ج 14 ص 203- تاريخ مدينة دمشق ج 64 ص 71- تهذيب الكمال ج 31 ص 214- وفيات الأعيان ج 5 ص 197

3- اھل سنت کی کتابوں میں متعہ کو حلال قرار دینے والی روایاتیں :

بہت سی روایات میں بہت سے اصحاب نے واضح طور پر کہا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور ابوبکر کے دور میں اور خود عمر کی خلافت کے شروع کے دور میں متعہ حلال تھا اور وہ لوگ اس کو جائز سمجھتے تھے  :

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُول كُنَّا نَسْتَمْتِعُ بِالْقَبْضَةِ مِنْ التَّمْرِ وَالدَّقِيقِ الْأَيَّامَ عَلَي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّي اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ حَتَّي نَهَي عَنْهُ عُمَرُ فِي شَأْنِ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ

  جابر بن عبد الله الأنصاري کہتے تھے  : ہم رسول اللہ ص اور ابوبکر کے زمانے میں مٹھی بر کھجور یا آٹے دے کر متعہ کرتے تھے یہاں تک کہ عمر نے عمرو بن حريث کے واقعے کے بعد اس کو حرام قرار دیا  .

صحيح مسلم ج2 ص 1023 باب نكاح المتعة

الجمع بين الصحيحين ج2 ص399 - سنن البيهقي الكبري ج7 ص237 - مسند أبي عوانة ج3 ص33- مصنف عبد الرزاق ج7 ص500 - معرفة السنن والآثار ج5 ص375 - التمهيد لابن عبد البر ج10 ص112 - عون المعبود ج6 ص101 و...

اسی قسم کی روایت مسند احمد بن حنبل اور دوسری کتابوں میں نقل ہوئی ہے ۔

مسند أحمد بن حنبل ج1 ص52 و ج3 ص325 و...

4- امير المومنین علیہ السلام  اور  ابن عباس کا قول  :

 اگر عمر متعہ سے منع نہ کرتا تو بدبخت انسان کے علاوہ کوئی اور زنا نہ کرتا ۔

اس مطلب کو  جرير طبري اور سيوطي نے اپنی تفسیروں میں امام علي عليه السلام سے نقل کیا ہے :

لولا أنّ عمر رضي اللّه عنه نهي عن المتعة ما زني إلاّ شقي.

 اگر عمر متعہ سے منع نہ کرتا تو بدبخت انسان کے، کوئی اور زنا نہ کرتا ۔{لوگ زنا کے بجائے متعہ کرتے }

تفسير الطبري ج5 ص13 چاپ دار الفكر بيروت - الدر المنثور ج2 ص486 دار الفكر بيروت

عبد الرزاق نے المصنف (ج7 ص500 شماره14029) میں ایسی ہی روایت کو امیر المومنین ع سے نقل کیا ہے ۔

قرطبي نے بھی اپنی  تفسير کی ج 5 ص 130 (چاپ دار الشعب قاهره) میں اسی قسم کی روایت ابن عباس سے نقل کی ہے ۔


5- صحابہ کی راے اور ان کی عملی سیرت :


غیر قابل انکار ادلہ میں سے ایک اصحاب اور تابعین کی سیرت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد بھی متعہ کے حکم پر عمل کرنا ہے ۔ متعہ پر عمل کی سیرت اس حد تک ان میں زیادہ اور مشہور ہے کہ اس کو دیکھ کر متعہ کے حکم نسخ ہونے اور یا ان سارے اصحاب ،تابعین اور اھل سنت کے علماء کا اس کے حکم سے جاھل ہونے کی بات قابل قبول نہیں ہے۔

 

وقد ثبت علي تحليلها بعد رسول اللّه صلي اللّه عليه وسلم جماعة من السلف رضي اللّه عنهم منهم من الصحابةرضي اللّه عنهم: أسماء بنت أبي بكر الصديق . وجابر بن عبد اللّه . وابن مسعود . وابن عباس. ومعاوية بن أبيسفيان ، وعمرو بن حريث . وأبو سعيد الخدري . وسلمة . ومعبد أبناء أميّة بن خلف ، ورواه جابر بن عبد اللّه عنجميع الصحابة مدّة رسول اللّه صلي اللّه عليه وسلم . ومدّة أبي بكر . وعمر إلي قرب آخر خلافة عمر.

واختلف في إباحتها عن ابن الزبير . وعن علي فيها توقّف . وعن عمر بن الخطاب أنّه إنّما أنكرها إذا لم يشهد عليهاعدلان فقط وأباحها بشهادة عدلين.

ومن التابعين طاوس . وعطاء . وسعيد بن جبير . وسائر فقهاء مكّة أعزها اللّه

المحلي ج 9 ص 519

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد سلف میں سے ایک گروہ متعہ کو حلال سمجھتے تھے ، ان میں سے بعض اصحاب اور تابعین  بھی ہیں ؛ اصحاب میں سے مثلا ابوبکر کی بیٹی  اسماء، جابر بن عبد الله الانصاري ،  ابن مسعود ، ابن عباس ، معاويه ، عمرو بن حريث ،  ابو سعيد خدري، سلمه ، معبد امية بن خلف کی اولاد  .

جابر نے متعہ حلال ہونے کو تمام اصحاب کی طرف نسبت دی ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور ابوبکر کے دور میں اور عمر کے دور خلافت کے آخری ایام تک متعہ کے حلال ہونے کو تمام اصحاب کے نظریے کے طور پر نقل کیا ہے ۔

  ابن زبير کی نظر میں متعہ حلال ہونے کے بارے میں اختلاف ہے اسی طرح امام علی علیہ السلام سے اس سلسلے میں خاموشی اور توقف نقل ہوا ہے۔

اور  عمر سے بھی نقل ہوا ہے کہ وہ صرف دو گواہ نہ ہونے کی صورت میں متعہ کرنے پر اعتراض کرتا تھا لیکن اگر دو گواہ موجود ہو تو اس کو جائز سمجھتا تھا ۔

  قرطبي نے "الجامع لأحكام القرآن قرطبي ج 5 ص133" میں  متعہ حلال ہونے کے فتوا کو مکہ اور یمن کے فقہاء کا فتوا قرار دیا ہے ۔

دوسری طرف ہم دیکھتے ہیں کہ اھل سنت کے بزرگ علماء بھی متعہ کے بارے میں مخالفت نہیں کرتے تھے بلکہ برعکس ان میں سے بہت سے اس کام کے انجام دینے کی طرف رغبت بھی دکھاتے تھے ۔

مثلا عبد العزيز بن عبد الملك بن جريج کہ جو اموی دور کے بزرگ علماء میں سے ہے اور اپنے زمانے میں مکہ کے فقیہ اور عالم  اور روایت کے اصلی ارکان شمار ہوتا تھا ۔ جیساکہ صحاح ستہ میں سے ان سے بہت سی روایات نقل ہوئی ہیں ۔ان کی 90 متعہ والی بیویاں تھیں  :

1- قال أبو غسان زنيج سمعت جريرا الضبي يقول كان ابن جريج يري المتعة تزوج بستين إمرأة وقيل إنه عهد إلي أولاده في أسمائهن لئلا يغلط أحد منهم ويتزوج واحدة مما نكح أبوه بالمتعة

 جرير  کہتا ہے : ابن جريج کی نظر میں متعہ حلال تھا اس نے ۶۰ عورتوں سے متعہ کیا ،کہتے ہیں ؛ اس نے اہنی بیویوں کے نام اپنی اولاد کو بتایا تاکہ غلطی سے اپنے بابا کی  بیویوں میں سے کسی سے شادی نہ کر بیٹھے !!!

سير أعلام النبلاء ج6/ص331

2- وقال محمد بن عبد الله بن عبد الحكم سمعت الشافعي يقول استمتع ابن جريج بتسعين امرأة حتي إنه كان يحتقن في الليل بأوقية شيرج طلبا للجماع

سير أعلام النبلاء ج6/ص333

شافعی سے سنا ہے  : ابن جريج نے ۹۰ عورتوں سے متعہ کیا ؛ یہاں تک کہ نقل ہوا ہے وہ رات کو کنجد کا ایک ڈبہ تیل سے اپنے تنقیہ کرتا تاکہ وہ اپنی بیویوں سے مباشرت کرنے کی طاقت حاصل کر سکے ۔

 اسی طرح مالك بن أنس  اور أحمد بن حنبل کہ جو اھل سنت کے دو بڑے فقہاء میں سے ہیں  ان سے بھی متعہ جائز ہونے کا قول نقل ہوا ہے :

مالك بن أنس:

1- وَتَفْسِيرُ الْمُتْعَةِ أَنْ يَقُولَ لِامْرَأَتِهِ : أَتَمَتَّعُ بِكَ كَذَا مِنْ الْمُدَّةِ بِكَذَا مِنْ الْبَدَلِ ، وَهَذَا بَاطِلٌ عِنْدَنَا جَائِزٌ عِنْدَ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ وَهُوَ الظَّاهِرُ مِنْ قَوْلِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ

متعه کی تفسیر یہ ہے کہ کسی عورت سے کہا جائے میں تمہارے ساتھ  فلان مدت اور فلان مال کے ساتھ متعہ کرتا ہوں  یہ نظریہ ہمارے نذدیک باطل ہے ،مالک بن انس اس کو جائز سمجھتا تھا گویا ابن عباس کا نظریہ بھی یہی تھا ۔

المبسوط للسرخسي ج5 ص152


2- وفي أن النهي للتحريم أو الكراهة قولان لمالك

گدھے کا گوشت اور متعہ سے نہی کے معنی مکروہ یا حرام ہونے کے بارے میں مالک کے دو قول ہیں ۔  شرح الزرقاني ج3 ص198


 
3- وَقَالَ مَالِكٌ : هُوَ جَائِزٌ ؛ لِأَنَّهُ كَانَ مَشْرُوعًا فَيَبْقَي إلَي أَنْ يَظْهَرَ نَاسِخُه وَاشْتَهَرَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ تَحْلِيلُهَا وَتَبِعَهُ عَلَي ذَلِكَ أَكْثَرُ أَصْحَابِهِ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ وَمَكَّةَُ

مالك بن أنس نے  متعه کو جائز قرار دیا ہے ۔کیونکہ یہ شروع میں حلال تھا لہذا یہ حکم اسی حالت میں باقی رہے گا یہاں تک نسخ ہونا مشخص ہو  ،مشہور یہی ہے کہ ابن عباس بھی اس کو جائز سمجھتا تھا اور مکہ اور مین والے اس کے ساتھی اور شاگرد بھی اس کو جائز سمجھتے تھے ۔

تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق فخر الدين ابو محمد عثمان بن علي زيلعي كتاب النكاح باب المتعة

احمد بن حنبل :

وقال أبو بكر فيها رواية أخري أنها مكروهة غير حرام لأن ابن منصور سأل أحمد عنها فقال يجتنبها أحب إلي قال فظاهر هذا الكراهة دون التحريم

  ابن قدامه نے نقل کیا ہے :  ابوبكر نے کہا : دوسری روایت کے مطابق متعہ مکروہ ہے ،حرام نہیں ہے ۔کیونکہ ابن منصور نے اس کے بارے میں  احمد سے پوچھا ،تو احمد نے جواب دیا : میری نظر میں اس سے اجتناب کرنا بہتر ہے ۔  احمد بن حنبل کے اس کلام سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ متعہ کرنا حرام نہیں ہے بلکہ مکروہ ہے ۔

المغني ج7 ص136

یہی مطلب کتاب " الكافي في فقه ابن حنبل ج3 ص57  اور  "شرح الزركشي ج2 ص399 " میں بھی آیا ہے .

وہ اصحاب کہ جو متعہ کرتے تھے اور متعہ کو حلال سمجھتے تھے ۔


اب ہم یہاں پر اصحاب میں سے بعض کے نام لیتے ہیں کہ جو متعہ کو حلال سمجھتے تھے ۔

  

جابر بن عبداللَّه انصاري :

و حَدَّثَنَا الْحَسَنُ الْحُلْوَانِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ قَالَ عَطَاءٌ

قَدِمَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ مُعْتَمِرًا فَجِئْنَاهُ فِي مَنْزِلِهِ فَسَأَلَهُ الْقَوْمُ عَنْ أَشْيَاءَ ثُمَّ ذَكَرُوا الْمُتْعَةَ فَقَالَ نَعَمْ اسْتَمْتَعْنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ

صحيح مسلم ج2 ص1022 باب نكاح المتعه چاپ دار إحياء التراث العربي بيروت

مصنف عبد الرزاق ج7 ص499 باب المتعة چاپ المكتب الإسلامي بيروت

عمدة القاري ج17 ص 246 باب غزوة خيبر چاپ دار إحياء التراث العربي بيروت

شرح الزرقاني ج3 ص 199 چاپ دار الكتب العلمية بيروت كتاب النكاح باب نكاح المتعة

عمران بن حصين خزاعي :

4518 - حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ عِمْرَانَ أَبِى بَكْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو رَجَاءٍ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ - رضى الله عنهما - قَالَ أُنْزِلَتْ آيَةُ الْمُتْعَةِ فِى كِتَابِ اللَّهِ فَفَعَلْنَاهَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم ، وَلَمْ يُنْزَلْ قُرْآنٌ يُحَرِّمُهُ ، وَلَمْ يَنْهَ عَنْهَا حَتَّى مَاتَ قَالَ رَجُلٌ بِرَأْيِهِ مَا شَاءَ . طرفه 1571 - تحفة 10872

صحيح بخاري ج 4 ص 1642 چاپ دار ابن كثير بيروت 1407 كتاب التفسير باب "فمن تمتع بالعمرة إلي الحج" (بقره أيه 196)

مسند أحمد بن حنبل ج4 ص 436 چاپ موسسه قرطبه مصر

المحبر ص 289 باب من كان يري المتعة من أصحاب النبي

التفسير الكبير ج10 ص41 چاپ دار الكتب العلميه بيروت سوره نساء ذيل آيه "فَمَا اسْتَمْتَعْتُمْ بِهِ مِنْهُنَّ فَئَاتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ فَرِيضَةً"

تفسير قرطبي ج5 ص 133چاپ دار الشعب قاهره

ابو سعيد خدري :

المحلي ج9 ص 519چاپ دار الآفاق بيروت

شرح الزرقاني ج3 ص 199 چاپ دار الكتب العلمية بيروت كتاب النكاح باب نكاح المتعة

عمدة القاري ج17 ص 246 باب غزوة خيبر چاپ دار إحياء التراث العربي بيروت

 عبداللَّه بن مسعود :

المحلي ج9 ص 519چاپ دار الآفاق بيروت

شرح الزرقاني ج3 ص 199 چاپ دار الكتب العلمية بيروت كتاب النكاح باب نكاح المتعة

سلمة بن اكوع :

المحبر ص 289 باب من كان يري المتعة من أصحاب النبي

شرح الزرقاني ج3 ص 199 چاپ دار الكتب العلمية بيروت كتاب النكاح باب نكاح المتعة

مصنف عبد الرزاق ج7 ص 498 ش 14023 باب المتعة چاپ المكتب الإسلامي بيروت

كنز العمال ج 16 ص 219 ح 45731 چاپ دار الكتب العلمية بيروت

 امير المومنين علي بن ابي طالب عليه السلام :

التفسير الكبير ج10 ص43چاپ دار الكتب العلمية بيروت ذيل آيه متعه سوره نساء

 ( امیر المومنین علیہ السلام نے عمر کی طرف سے اس سے منع والی روایت نقل کی ہے ):

الدر المنثور ج2 ص486 دار الفكر بيروت - تفسير الطبري ج 5 ص13 چاپ دار الفكر بيروت - المصنف ج7 ص500 شماره 14029 - كنز العمال ج16 ص219ح 45728 چاپ دار الكتب العلمية بيروت

ابن حزم نے بھی نقل کیا ہے کہ امیر المومنین علیہ السلام سے متعہ کے بارے میں مختلف قسم کی روایتیں نقل ہوئی ہے  (بعض جائز ہونے کو بتاتی ہے اور بعض حرام ہونے کو ):

المحلي ج9 ص 520 چاپ دار الآفاق بيروت

 

سعد بن أبي وقاص:

2152 - و حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ جَمِيعًا عَنْ الْفَزَارِيِّ قَالَ سَعِيدٌ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ عَنْ غُنَيْمِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ سَأَلْتُ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ الْمُتْعَةِ فَقَالَ فَعَلْنَاهَا وَهَذَا يَوْمَئِذٍ كَافِرٌ بِالْعُرُشِ يَعْنِي بُيُوتَ مَكَّةَ

 صحيح مسلم ج2 ص 898 كتاب الحج باب جواز التمتع چاپ دار احياء التراث العربي بيروت

مسند أحمد بن حنبل ج1 ص181 چاپ موسسة قرطبه مصر و...

اشكال : سعد سے اس سلسلے میں نقل شدہ روایات متعہ حج کے بارے میں ہے ،متعہ نساء کے بارے میں نہیں ہے  .

جواب  : ان کی روایت میں متعہ کا لفظ استعمال ہوا ہے ،اھل سنت کے علماء نے اس روایت کو متعۃ حج {حج تمتع} سے مربوط قرار دیا ہے ،لیکن خود سعد نے اس روایت میں کہا ہے : ہم نے اس وقت متعہ کیا جس وقت معاویہ کافر تھا ،سب کو معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا حج تمتع حجۃ الوداع کے سال انجام پایا اور معاویہ نے اس سال اسلام قبول کیا تھا ۔

لہذا یہ روایت اس سے پہلے والے زمانے سے متعلق ہے اور اس سے مراد متعہ نساء ہے ،متعۃ الحج مراد نہیں ہے ۔

ابوموسی  اورعمرو بن حريث (حويرث) :

المحلي ج9 ص 519چاپ دار الآفاق بيروت

شرح الزرقاني ج3 ص 199 چاپ دار الكتب العلمية بيروت كتاب النكاح باب نكاح المتعة

مصنف عبد الرزاق ج7 ص 497 ش 14021 و ص 499 ش 14025 و ص500 ش 14028 و 14029 باب المتعة چاپ المكتب الإسلامي بيروت

كنز العمال ج 16 ص 217 ح 45712 چاپ دار الكتب العلمية بيروت

فتح الباري ج9 ص172چاپ دار المعرفة بيروت

سنن كبري بيهقي ج7 ص237 چاپ مكتبة دار الباز مكة المكرمة

أخبار المدينة ابن شبه ج1ص 381 ش 1194چاپ دار الكتب العلمية بيروت

معاوية بن ابي سفيان:

معاويه نے فتح مکہ کے وقت اسلام لایا . اس نے  فتح طائف کے وقت ایک معانه نامی عورت سے متعہ کیا اور یہ عورت معاویہ کی حکومت کے دور تک زندہ تھی، معاویہ بھی ھر سال اس کے لئے ھدیہ بھیجتا رہتا تھا لہذا متعہ کا فتح خیبر کے وقت یا اس کے بعد یا فتح مکہ کے موقع پر حرام ہونا کا ادعا صحیح نہیں ہے ۔

المحلي ج9 ص 519چاپ دار الآفاق بيروت

شرح الزرقاني ج3 ص 199 چاپ دار الكتب العلمية بيروت كتاب النكاح باب نكاح المتعة

مصنف عبد الرزاق ج7 ص 497 ش 14021 و ص 499 ش 14026 باب المتعة چاپ المكتب الإسلامي بيروت

سلمة بن أميّة:

مصنف عبد الرزاق ج7 ص 498 ش 14024 باب المتعة چاپ المكتب الإسلامي بيروت

جمهرة انساب العرب ابن حزم ص 159 ذيل بحث بنو جمح

الإصابة حرف السين المهملة القسم الأول

المحلي ج9 ص 519چاپ دار الآفاق بيروت

فضالة بن جعفر بن أمية:

أخبار المدينة ابن شبه ج1ص 381 ش 1194چاپ دار الكتب العلمية بيروت

ربيعة بن أمية:

موطأ مالك ج2 ص542، ح1130 باب نكاح المتعة چاپ دار احياء التراث العربي مصر

الدر المنثور ج2 ص486 چاپ دار الفكر بيروت

سنن البيهقي الكبري ج7 ص206 ش 13950 باب نكاح المتعه چاپ مكتبة دار الباز مكه

الإصابة في تمييز الصحابة ج2 ص521 چاپ دار الجيل بيروت

الأم ، ج 7 ص 235 چاپ دار المعرفة بيروت

كنز العمال ج 16 ص 217 ح 45717 چاپ دار الكتب العلمية بيروت

أخبار المدينة ابن شبه ج1ص 382 ش 1197چاپ دار الكتب العلمية بيروت

معبد بن أمية:

المحلي ج9 ص 519چاپ دار الآفاق بيروت

مصنف عبد الرزاق ج7 ص 499 ش 14027 باب المتعة چاپ المكتب الإسلامي بيروت

عبد الله بن أبي عوف بن جبيرة:

أخبار المدينة ابن شبه ج1ص 381 ش 1194چاپ دار الكتب العلمية بيروت

عمرو بن حوشب:

مصنف عبد الرزاق ج7 ص 500 ش 14031 باب المتعة چاپ المكتب الإسلامي بيروت

أبي بن كعب:

یہ بھی ان لوگوں میں سے تھے جو متعہ والی آیت کو " إلي أجل مسمي " کے ساتھ تلاوت کرتے  اور یہ والی قرائت متعہ کے حلال ہونے کو واضح طور پر بیان کرتی ہے  ۔

التفسير الكبير ج10 ص43 چاپ دار الكتب العلمية بيروت

الدر المنثور ج2 ص484 چاپ دار الفكر بيروت

تفسير الطبري ج5 ص13 چاپ دار الفكر بيروت

فتح القدير ج1 ص449 چاپ دار الفكر بيروت

نيل الأوطار ج6 ص270 چاپ دار الجيل بيروت

و...۔

زيد بن ثابت :

المحبر ص 289 باب من كان يري المتعة من أصحاب النبي

اسماء دختر ابوبكر:

المحلي ج9 ص 519چاپ دار الآفاق بيروت

شرح الزرقاني ج3 ص 199 چاپ دار الكتب العلمية بيروت كتاب النكاح باب نكاح المتعة

مسند طيالسي ص227 ح1637 چاپ دار المعرفة بيروت

محاضرات الأدباء راغب ج2 ص234 - باب جواز المتعة چاپ دار القلم بيروت- میں نقل ہوا ہے :

ابن زبير  نے ابن عباس سے کہا : کیوں متعہ حلال ہونے کا فتوا دیتے ہو ؟ جواب دیا : اپنی ماں  (أسماء) سے پوچھنا تمہارا حمل کیسے ٹھیرا تھا ۔ اس نے بھی اپنی ماں سے سوال کیا تو ماں نے جواب دیا : تمہیں متعہ کے ذریعے میں نے جنا ہے ۔

اسی مطلب  کا خلاصہ درج ذیل کتابوں میں نقل ہوا ہے ۔

زاد المعاد ج2 ص206 چاپ موسسة الرسالة بيروت ۔۔   التمهيد لابن عبد البر ج8 ص 208 ۔۔۔  الاستذكار ابن عبد البر ج4 ص61 چاپ دار الكتب العلمية بيروت و..

یہ گفتگو کامل شکل میں شیعہ کتابوں میں اس طرح نقل ہوا ہے :

ابوالقاسم كوفي کہتا : بعض شیعہ علماء نے نقل کیا ہے ؛ جب ابن عباس مكه میں داخل ہوا  اور اس وقت عبداللَّه بن زبير ممبر پر خطبہ دے رہا تھا ، جب اس کی نظر ابن عباس پر پڑی ( وہ بھی اس وقت نابینا تھا ) تو کہا : اے لوگو ایک اندھا شخص تمہارے درمیان آیا ہے ،اللہ نے اس کے دل کو بھی اندھا کیا ہے ۔ وہ  امّ المؤمنين عائشہ کو گالی دیتا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے قریبی اصحاب پر لعن کرتا ہے ،متعہ کو حلال قرار دیتا ہے جبکہ یہ صرف ایک زنا ہے .

ابن زبیر کی یہ باتیں ابن عباس پر گراں گزری۔ اس کے غلام عکرمہ نے اس کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا ،اس سے کہا : مجھے ابن زبیر کے پاس لے جاو ، ابن زبیر کے نذدیک گیا اور  سامنے جاکر ایک شعر پڑھا جس کا مضمون یہ ہے : میں جب کسی گروہ سے ٹکراتا ہوں تو اس گروہ کو پاش پاش کرتا ہوں ۔

... اس طرح اس کو جواب دیتا گیا اور اس سے کہا : یہ کہ تم کہتے ہو متعہ ایک زنا ہی ہے اور میں اس کو حلال سمجھتا ہوں۔ اللہ کی قسم رسول خداصلي الله عليه وآله کے زمانے میں اس پر عمل ہوتا تھا ان کے بعد کوئی پیغمبر بھی نہیں آیا۔اس کے جائز ہونے کی دلیل بھی ضحاک کا یہ قول ہے : رسول خداصلي الله عليه وآله کے زمانے میں دو متعے حلال تھے میں ان دونوں کو حرام قرار دیتا ہوں اور انجام دینے والوں کو سزا دوں گا ۔

ہم اس کی متعہ جائز ہونے کی گواہی کو قبول کرتے ہیں لیکن اس کی طرف سے حرام قرار دینے کو قبول نہیں کرتے اور تم بھی متعہ سے ہی متولد ہوا ہے جب اس لکڑی { ممبر} سے نیچے اتر آیا تو اپنی ماں سے عوسچہ کے کپڑوں  کے بارے میں سوال کرنا ۔ عبداللَّه بن عباس چلا گیا اور  عبداللَّه بن زبير جلدی سے اترا اور اپنی ماں کی طرف چلا گیا اور کہا: عوسجہ کے کپڑوں کے بارے میں مجھے بتانا اور غصے سے اس کا تکرار کیا  تو اس کی ماں نے کہا : تیرا باپ رسول خداصلي الله عليه وآله کے ساتھ تھا ، عوسجه نامی ایک شخص نے دو قمیص اس کو تحفہ دیا ۔ تیرے والد نے بیوی نہ ہونے کے بارے میں پيامبرصلي الله عليه وآله کے سامنے شکایت کی اس وقت آپ نے ان دو قمیصوں میں سے ایک اس کو دیا ۔ تیرا باپ میرے پاس آیا اور اس قمیص کے عوض مجھ سے متعہ کیا ، کچھ عرصے کے بعد ایک اور قمیص ساتھ لایا اور اس کے بدلے مجھ سے متعہ کیا ۔ تیرا حمل ٹھیرا ،لہذا تم متعہ کی پیداوار ہو ، اب بتاو یہ خبر کس طرح تجھ تک پہنچی ؟ اس نے کہا : ابن عباس سے یہ خبر سنی ۔ ماں نے کہا : کیا میں نے تجھے بنی ھاشم سے ملنے سے منع نہیں کیا تھا ، کیا یہ نہیں کہا تھا کہ ان سے ہوشیار رہنا ،ان کی زبانیں قابل تحمل نہیں ہے ۔

كتاب الاستغاثه ، ص 145 ، مستدرك الوسائل ، ج 14 ، ص 450

ابن زبیر کی تقریر کا ایک حصہ صحیح مسلم باب متعہ  میں ذکر ہے جس میں کسی سے ابن زبیر کی جر وبحث کا تذکرہ ہے لیکن ابن عباس کا نام ذکر نہیں۔

درج ذیل کتابوں میں واضح طور پر اس گفتگو کو نقل کیا ہے اور اس شخص کا نام عبد اللہ بن عباس ذکر کیا ہے ۔

سنن البيهقي الكبري ج7 ص205 ش 13943 باب نكاح المتعه چاپ مكتبة دار الباز مكه

جمهرة خطب العرب ج2 ص 125 چاپ المكتبة العلمية بيروت

سمط النجوم العوالي ج3 ص237 چاپ دار الكتب العلمية بيروت

امّ عبداللَّه بنت ابي خيثمه:

كنز العمال ج 16 ص 218 ح 45726 چاپ دار الكتب العلمية بيروت

سعد بن أبي سعد بن أبي طلحة:

أخبار المدينة ابن شبه ج1ص 381 ش 1194چاپ دار الكتب العلمية بيروت

عبداللَّه بن عباس بن عبد المطّلب :

صحيح مسلم ج2 ص 1028 ش 1407 باب نكاح المتعة چاپ دار احياء التراث العربي بيروت

مصنف عبد الرزاق ج7 ص 497 ش 14021 و ص499 ش 14027 و ص 501 ش 14032 و ص 502 ش 14033 و 14035 باب المتعة چاپ المكتب الإسلامي بيروت

المحلي ج9 ص 519چاپ دار الآفاق بيروت

المحبر ص 289 باب من كان يري المتعة من أصحاب النبي

التفسير الكبير ج10 ص43 چاپ دار الكتب العلمية بيروت

الدر المنثور ج2 ص484 چاپ دار الفكر بيروت

تفسير الطبري ج5 ص13 چاپ دار الفكر بيروت

فتح القدير ج1 ص449 چاپ دار الفكر بيروت

سير أعلام النبلاء ج15 ص243 چاپ موسسة الرسالة بيروت

سنن البيهقي الكبري ج7 ص205 ش 13943 باب نكاح المتعه چاپ مكتبة دار الباز مكه

کیا ابن عباس نے اپنا نظریہ بدل دیا تھا ؟

سوال : بعض لوگوں نے ادعا کیا ہے کہ  امیر المومنین علیہ السلام اس سلسلے میں ابن عباس کے ساتھ سختی سے پیش آیا اسی لئے ابن عباس نے حلال ہونے کے فتوا کے بجائے حرام ہونے کا فتوا دینا شروع کیا ۔ اب کیا یہ ادعا صحیح ہے یا نہیں ؟  

جواب  : ابوبکر کی بیٹی اسماء کے متعہ کے بارے میں جو گفتگو نقل ہوئی ہے اس میں تواتر کے ساتھ ابن عباس نے ابن زبیر کے ساتھ گفتگو میں متعہ کے حلال ہونے کا فتوا دیا ہے .

 یہ روایت عبد اللہ بن زبیر کے دور حکومت کی ہے ،واضح سی بات ہے اس کی حکومت سے کئی سال پہلے امیر المومنین علیہ السلام کی شہادت ہوچکی تھی .

 اس سے معلوم ہوتا ہے امیر المومنین علیہ السلام کی طرف سے ابن عباس کو متعہ کے حلال ہونے سے منع کرنے والی روایت جعلی ہے، ورنہ معنی نہیں بنتا کہ حضرت امیر نے ابن عباس سے کہا ہو : رسول اللہ ص نے متعہ سے منع کیا ہے اور تو متعہ کو حلال قرار دیتا ہے لیکن پھر بن ابن عباس اپنی زندگی کے آخری ایام تک متعہ کو حلال ہی قرار دیتے رہے ہو اور اپنی اسی سابقہ نظریے کے پابند رہے ہو ۔

لہذا یہ والی روایت اھل سنت کی طرف سے جعل شدہ ہے اور  ابن عباس کا نسخ متعہ کے بارے میں علم نہ ہونے کی احتمال کو بھی باطل کرتا ہے ۔

سمير ( شاید یہ وہی سمرة بن جندب ہے ):

الاصابه ذيل عنوان سمير والد سليمان۔

ابن عمر :

ابن عمر سے متعہ کے بارے سوال ہوا  : اس نے کہا : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانے میں زنا نہیں کرتے تھے  ( متعه زنا نہیں ہے ؛ کیونکہ متعہ  اگر زنا ہو تو ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ  وآلہ وسلم کے زمانے میں زنا کرتے تھے ۔ البتہ ان سے اس کے خلاف بھی روایت نقل ہوئی ہے )

مسند أحمد بن حنبل ج2/ص95، ح 5694 چاپ موسسة قرطبه

تابعین اور اھل سنت کے علماء  میں سے متعہ کو حلال سمجھتے والے}

 

مالك بن انس:

ان کے بارے میں تفصیل سے بحث ہوئی ۔

 

احمد بن حنبل :

ان کے بارے میں بھی پہلے بحث ہوئی ۔

سعيد بن جبير :

المحلي ج9 ص 520 چاپ دار الآفاق بيروت

مصنف عبد الرزاق ج7 ص 496 ش 14020 باب المتعة چاپ المكتب الإسلامي بيروت

الدر المنثور ج2 ص484 چاپ دار الفكر بيروت

عبدالملك بن عبدالعزيز بن جريج :

ان کے بارے میں بھی پہلے تفصیلی بحث ہوئی ۔

عطاء بن ابي رباح:

المحلي ج9 ص 520 چاپ دار الآفاق بيروت

المغني ج7 ص136 چاپ دار الفكر بيروت باب "ولا يجوز نكاح المتعة"

طاووس يماني:

المحلي ج9 ص 520 چاپ دار الآفاق بيروت

المغني ج7 ص136 چاپ دار الفكر بيروت باب "ولا يجوز نكاح المتعة"

مجاهد بن جبر :

تفسير الطبري ج5 ص12 چاپ دار الفكر بيروت

تفسير ابن كثير ج1 ص475 چاپ دار الفكر بيروت

سدّي:

تفسير الطبري ج5 ص12 چاپ دار الفكر بيروت

تفسير ابن كثير ج1 ص475 چاپ دار الفكر بيروت

حَكَم بن عتيبه :

تفسير الطبري ج5 ص13 چاپ دار الفكر بيروت

ابن ابي مليكه :

الحاوي الكبير ج 11 ص 449

زفر بن اوس بن حدثان مدني :

البحر الرائق ابن نجيم ج 3 ص 115 چاپ دار المعرفة بيروت

طلحة بن مصرّف اليامي :

الكشف و البيان ، ج 3 ص 286

فقهاي اهل مكه :

المحلي ج9 ص 520 چاپ دار الآفاق بيروت

سير أعلام النبلاء ج7 ص131

تفسير قرطبي ج 5 ص 133چاپ دار الشعب قاهره

فتح الباري ، ج 9 ، ص 173 چاپ دار المعرفة بيروت

فقهاي اهل يمن:

تفسير قرطبي ج 5 ص 133چاپ دار الشعب قاهره

فتح الباري ، ج 9 ، ص 173 چاپ دار المعرفة بيروت

اهل بيت اور تابعين کا ایک گروہ :

تفسير البحر المحيط ج3 ص226 چاپ دار الكتب العلمية بيروت

کیا متعہ کا حکم نسخ ہوا ہے :

اھل سنت کے علماء کہتے ہیں کہ متعہ شروع میں مباح تھا لیکن بعد میں اس کا حکم نسخ ہوا ہے اور اس سلسلے میں تین قول ذکر ہوا ہے ۔

1- سوره مومنون  کی آیت سے نسخ :

بعض کہتے ہیں کہ متعہ اس آیت کے نازل ہونے کے بعد نسخ ہوا ہے ۔

وَالَّذِينَ هُم لِفُرُوجِهِم حَافِظُونَ إلَّا عَلَي أزوَاجِهِِم أو مَا مَلَكَت أيمَانُهُم (سوره مومنون آيات 5و6)

مگر اپنی بیویوں سے یا (کنیزوں سے) جو ان کی مِلک ہوتی ہیں کہ (ان سے) مباشرت کرنے سے انہیں ملامت نہیں

یہاں یہ ادعا کیا ہے کہ اس آیت میں صرف اپنی بیوی اور اپنی کنیزوں سے مباشرت اور ہمبستری کو حلال قرار دیا اور متعہ والی عورت کا تعلق ان دونوں سے نہیں ہے لہذا متعہ حرام ہے ۔

نكاح متعه ( یہ بھی ازدوج ہے  ) :

یقینی طور پر اس آیت کے زریعے متعہ والی آیت کے نسخ ہونے پر استدلال غلط اور بے اساس ہے ۔جیساکہ پہلے بیان ہوا کہ متعہ بھی اھل سنت ہی کے علماء کے اقرار کے مطابق ازدواج اور شادی ہی ہے  لہذا اسی آیت کے مضمون کے مطابق یہ حلال ہے ۔ .

سورہ مومنون کی آیت مکی  ہے جبکہ متعہ والی آیت مدنی ہے ۔

سابقہ نکتے کے علاوہ یہ بھی یہاں کہنا صحیح ہے کہ مومنون والی آیت مکی ہے جبکہ متعہ والی آیت مدنی ہے  ۔لہذا مکی والی آیت مدنی آیت کے لئے ناسخ نہیں ۔

اھل سنت کی بعض روایتیں واضح طور پر نسخ کو رد کرتی ہیں ۔

سابقہ ادلہ کے علاوہ  ( مثلا خود  عمر کا قول  اور صحابہ کا عمل  ) وہ ادلہ کی جو غزوہ خیبر کی بحث میں پیش کیے جائے گے ،ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ نسخ والی بات بے بنیاد ہے ۔

2- آیت میراث کے ذریعے سے نسخ  :

یہ ادعا کیا ہے کہ متعہ والی بیوی کے لئے ارث نہیں ہے  ؛ لہذا میراث والی آیت کہ جو بیوی کے لئے میراث کو ثابت کرتی ہیں ،یہ ایت متعہ والی آیت کو نسخ کرتی ہے ۔

جواب:

متعہ والی عورت کے لئے ارث نہ ملنے کا حکم سارے شیعہ فقہاء کی راے نہیں ہے  :

بلکہ بعض نے تو میراث کو مطلق طور پر اور بعض نے مشروط قبول کیا ہے  {مشروط یعنی اگر ارث لینے کی شرط کے ساتھ متعہ کرئے تو ارث مل جائے گا ۔.

قاضي ابن براج وغیرہ نے بطور مطلق میراث ملنے کا فتوا دیا ہے  :

جامع الشتات ميرزاي قمي ج 4 ص 390

آيت الله خويي  اور  آيت الله اراكي جیسے علماء نے شرط کی صورت میں میراث ملنے کا فتوا دیا ہے  :

توضيح المسائل آيت الله خويي ص434 شماره 2434

توضيح المسائل آيت الله اراكي ص 448 شماره 2439

لہذا ان کے فتوے کے مطابق ارث والی آیت ، متعہ والی آیت کے لئے ناسخ نہیں ہے  بلکہ  متعه میں بھی ارث کے حکم کو مشروط طور ثابت کرتے ہیں  .

متعہ والے دلائل کو ارث کے دلائل کے لئے ناسخ اور مخصص قرار دے سکتے ہیں۔

جو روایت ہم بعد میں ارث والی بحث میں پیش کریں گے ،یہ روایات اس بات پر دلیل ہیں کہ متعہ والے دلائل، ازدواج موقت میں ارث کے حکم کے دلائل کے لئے یا  ناسخ ہیں یا مخصص۔ لہذا ایسا نہیں ہے کہ جو اھل سنت کے علماء یہاں پر کہتے ہیں ۔

اھل سنت کے نظریے کے مطابق ارث سارے ازواج کے لئے مطلق طور پر ثابت نہیں ہے ۔

اھل سنت خود ہی بہت سی ازواج کے لئے ارث کو باطل قرار دیتے ہیں۔

مثلا اگر ایک مسلمان اھل کتاب کی کسی عورت سے شادی کردئے اور مسلمان شوہر مر جائے تو سارے مسلمانوں کا اتفاق ہے کہ یہ عورت ارث نہیں لے سکے گی۔یا کوئی بیوی اپنے شوہر کو قتل کر دئے تو اپنے شوھر سے ارث نہیں لے سکے گی۔لہذا ارث لینے کا حکم ازدواج کے لوازمات میں سے اس طرح نہیں ہے کہ اس کے نہ ملنے سے شادی کا حکم باطل ہوتا ہو۔ یہ نکاح کے فرعی مسائل میں سے ہے ، نکاح کے اصلی مسائل میں سے نہیں ہے ۔

یہ آیتیں متعہ والی آیت سے پہلے نازل ہوئی ہیں لہذا یہ اس آیت کے لئے ناسخ نہیں  :

 

  اهل سنت کے ہاں موجود روایات واضح طور پر نسخ کو رد کرتی ہیں :

یہ گذشتہ بیان شدہ دلائل کے علاوہ ہیں اور یہ بعد میں غزوہ خیبر میں متعہ نسخ ہونے کی بحث میں بیان ہوگی ، یہ دلائل واضح طور پر نسخ نہ ہونے کو بیان کرتے ہیں ۔

  رسول خدا صلي الله عليه وآله وسلم کی طرف سے  غزوه خيبر میں نسخ یا نھی :

بعض کہتے ہیں کہ متعہ غزوہ خیبر کے وقت یا اس کے بعد رسول خدا صلي الله عليه وآله وسلم رسول اللہ ص کے فرمان سے نسخ ہوا ہے ، بعض نے تو یہاں کئی دفعہ جائز ہونے اور حکم نسخ ہونے کا ادعا کیا ہے ۔

تفسير القرطبي ج 5 ص 130

اصحاب اور خود  عمر کے کلام سے ظاہر ہوتا ہے کہ متعہ کا حکم رسول خدا )ص( کے توسط سے نسخ نہیں ہوا ہے بلکہ یہ خود عمر کے حکم سے نسخ ہوا ہے !!!

جیساکہ عمر بن خطاب کے کلام سے بھی یہی ظاہر ہوتا ہے کہ نسخ رسول اللہ )ص( کے زمانے میں نہیں ہوا تھا بلکہ خود ان کی توسط سے یہ حکم نسخ ہوا ہے ،کیونکہ خود خلیفہ کہہ رہا ہے : دو متعے رسول اللہ )ص( کے زمانے میں حلال تھا اور میں ان دونوں کو حرام قرار دئے رہا ہوں ۔لہذ خلیفہ کا یہ جملہ ہمارے مدعا کو واضح طور پر ثابت کرتا ہے .

اور اگر رسول خدا صلي الله عليه وآله وسلم کے زمانے میں یہ حکم نسخ ہوچکا ہوتا تو خلیفہ کم از کم  یہ کہتے ؛ میں ان دونوں کو حرام قرار دئے رہا ہوں کیونکہ رسول اللہ )ص( نے ان دونوں کو حرام قرار دیا ہے اور آپ لوگوں کو اس حکم کا علم نہیں ۔ یا مثلا یہ کہتے کہ قرآن میں اس کو نسخ کرنے والی آیت ہے لیکن لوگوں کو اس کا علم نہیں لہذا اگر کوئی اس کو انجام دئے تو میں اس کو سزا دوں گا ۔ جیساکہ ابوبکر نے رسول اللہ )ص(  سے ارث کسی کو نہ ملنے کے بارے میں ایسا ہی کیا ،ایک ایسی روایت ذکر  کیا جس کو کسی اور نے نہیں سنی تھی یا خود خلیفہ دوم نے رجم کے بارے میں ایسا ہی ادعا کیا اور اس کام سے صحابہ کو منع کرنے کے لئے رسول اللہ )ص( کی حدیث یاد دلائی ۔  

جناب عمر کے کام کی توجیہ  کے لئے فخر رازی کا کام  :

فخر رازي اھل سنت کے متعصب علماء میں سے ہے ۔ وہ کہتے ہیں : کہ ہم اس چیز پر مجبور ہے کہ ہم عمر کے کلام  کے ظاہر سے ہاتھ اٹھائے اور یہ کہے کہ متعہ کے حکم کا نسخ اور رسول اللہ )ص( کی طرف سے اس کی نہی کا حکم صرف عمر کو معلوم تھا اور باقی صحابہ ؛ جیسے  علي بن أبي طالب ، ابن عباس ،ابن مسعود ،ابي بن كعب ، جابر سعد بن أبي وقاص و... وغیرہ کو اس کے حکم کا علم نہیں تھا !!! کیونکہ اس طرح اگر ہم نہ کہے تو یہ ہمیں اس چیز کے معتقد ہونا ہوگا کہ عمر نے دین کے احکام میں حیر پھیر کیا ہے اور یہ اس کے تکفیر کا باعث ہوگا ۔

تفسير كبير ، ج 10 ص 53 

اب فخر رازی کی یہی بات ہمارے مدعا کی دلیل ہے کیونکہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ یہ حکم بزرگ اصحاب سے مخفی رہا ہو ؟

رسول اللہ ص کی طرف سے اس کے نسخ کو بتانے والی روایت کا راوی کون ہے؟

قابل توجہ بات یہ ہے کہ اس قسم کی روایت زیادہ تر  سبرة نامی ایک راوی تک پہنچتی ہے  اور کسی بھی رجالی اور تاریخی کتاب میں اس کا ذکر ہی نہیں ہے، صرف جب متعہ کی بحث ہوتی ہے تو کہتے ہیں کہ سیرۃ کی روایت متعہ کے حکم کے نسخ ہونے پر دلیل ہے اور جب سبرة کا نام آتا ہے تو کہتے ہیں کہ یہ متعہ کے نسخ کی روایت کے راوی ہے .

اس روایت کا نسخ نہ ہونے والی روایات سے ٹکراو ۔

جو روایتیں نسخ کو بتاتی ہیں یہ روایتیں ان روایتوں سے ٹکراتی ہیں کہ جو واضح طور پر نسخ نہ ہونے کو بتاتی ہیں ۔ کیونکہ ان روایتوں میں ہے کہ نہ قرآن میں کسی قسم کا نسخ آیا ہے نہ رسول اللہ )ص( نے اس سے منع کیا ہے ۔ بلکہ عمر نے شخصی راے سے اس کو حرام قرار دیا ہے  ۔

4246 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا يَحْيَي عَنْ عِمْرَانَ أَبِي بَكْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو رَجَاءٍ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَال أُنْزِلَتْ آيَةُ الْمُتْعَةِ فِي كِتَابِ اللَّهِ فَفَعَلْنَاهَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّي اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يُنْزَلْ قُرْآنٌ يُحَرِّمُهُ وَلَمْ يَنْهَ عَنْهَا حَتَّي مَاتَ قَالَ رَجُلٌ بِرَأْيِهِ مَا شَاءَ

متعہ والی آیت قرآن میں ذکر ہوئی ہے اور ہم نے  رسول خدا صلي الله عليه وآله وسلم کے دور میں اس کو انجام دیا ہے اور قرآن میں بھی کوئی ایسی آیت نازل نہیں ہوئی ہے کہ جو اس کو حرام قرار دئے ۔ رسول اللہ )ص( نے بھی اس سے منع نہیں کیا ہے ،یہاں تک کہ ایک شخص نے اپنی مرضی چلائی اور اس کو حرام قرار دیا ۔  

صحيح بخاري ، ج4ص1642 كتاب التفسير باب قوله تعالي«يا أيّها الذين آمنوا لا تحرّموا طيّبات ما أحل اللّه لكم»(المائدة 87)


اس روایت کے بہت سے شارحین نے کہا ہے کہ اس میں "رجل" سے مراد عمر بن خطاب ہے انہوں نے اپنی ہی راے سے اس کو حرام قرار دیا ہے  :

غوامض الأسماء المبهمة ج2 ص792 - الجمع بين الصحيحين ج1 ص349 - شرح النووي علي صحيح مسلم ج8 ص205- فتح الباري ج3 ص433 و ج8 ص186چاپ دار المعرفة بيروت و ...

جیساکہ اس سے پہلے جابر کی روایت بھی نقل ہوئی کہ جس میں واضح طور پر یہ بیان ہوا ہے کہ ہم رسول اللہ )ص( کے دور اور ابوبکر اور عمر کے دور حکومت کے شروع میں متعہ کرتے تھے ،لیکن عمر نے اس سے منع کیا  .

لہذ اللہ اور اللہ کے رسول )ص( نے اس سے منع نہیں کیا ہے ۔

  حكم بن عتيبة  کہ جو  تابعين کے مشهور فقهاء میں سے ہے ،ان سے نقل ہوا ہے کہ متعہ والی آیت نسخ نہیں ہوئی ہے ۔

حدثنا محمد بن المثني قال ثنا محمد بن جعفر قال ثنا شعبة عن الحكم قال سألته عن هذه الآية والمحصنات من النساء إلا ما ملكت أيمانكم إلي هذا الموضع فما استمتعتم به منهن أمنسوخة هي قال لا۔۔۔۔

شعبہ کہتا ہے میں نے حكم بن عتيبة  سے متعہ والی آیت کے بارے سوال کیا ؛ کہ کیا یہ نسخ ہوئی ہے یا نہیں ؟ تو انہوں نے جواب دیا : نسخ نہیں ہوئی ہے ۔

تفسير الطبري ج5 ص13

عمر کی دوسری روایت بھی نسخ نہ ہونے کو بتاتی ہے ۔

جیساکہ عمران بن سوادة نے عمر سے جو روایت نقل کی ہے اس میں واضح طور پر نسخ نہ ہونے کو بیان کیا ہے اور حرام قرار دینے کو عمر کا اپنا اجتہاد کہا ہے ۔

عيسي بن يزيد بن دأب عن عبدالرحمن بن أبي زيد عن عمران بن سوادة قال صليت الصبح مع عمر فقرأ سبحان وسورة معها ثم انصرف وقمت معه فقال أحاجة قلت حاجة قال فالحق قال فلحقت فلما دخل أذن لي فإذا هو علي سرير ليس فوقه شيء فقلت نصيحة فقال مرحبا بالناصح غدوا وعشيا قلت عابت أمتك منك أربعا قال فوضع رأس درته في ذقنه ووضع أسفلها علي فخذه ثم قال هات قلت ذكروا أنك حرمت العمرة في أشهر الحج ولم يفعل ذلك رسول الله ولا أبو بكر رضي الله عنه وهي حلال قال هي حلال لو أنهم اعتمروا في أشهر الحج رأوها مجزية من حجهم فكانت قائبة قوب عامها فقرع حجهم وهو بهاء من بهاء الله وقد أصبت قلت وذكروا أنك حرمت متعة النساء وقد كانت رخصة من الله نستمتع بقبضة ونفارق عن ثلاث قال إن رسول الله أحلها في زمان ضرورة ثم رجع الناس إلي السعة ثم لم أعلم أحدا من المسلمين عمل بها ولا عاد إليها فالآن من شاء نكح بقبضة وفارق عن ثلاث بطلاق وقد أصبت

عمران بن سواده کہتا ہے: صبح کی نماز عمر کے ساتھ پڑھی، عمر نے سوره اِسراء اور دوسری  سوره پڑھا جب فارغ ہوا میں بھی ان کے ساتھ اٹھا . میرے طرف رخ کر کے کہا : کیا کوئی کام ہے  ؟ میں نے کہا : ہاں ، کہا : پس میرے ساتھ آو ، جب گھر میں داخل ہوا تو چارپائی پر بیٹھ گیا ،چار پائی پر بھی کچھ نہیں تھا ۔ میں نے کہا : ایک نصیحت کرنا چاہتا ہوں ۔ جواب دیا : صبح اور شام نصیحت کرنے والے سے محبت کرتا ہوں ، میں نے کہا : امت آپ پر چار اعتراض چیزوں کے بارے میں کرتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔

لوگ کہتے ہیں : تو نے حج کے مہینوں میں عمرہ کو حرام قرار دیا ہے جبکہ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور ابوبکر نے ایسا نہی کہا اور یہ حلال کام ہے ۔۔۔۔۔

متعہ نساء کو آُپ نے حرام قرار دیا ہے ، جبکہ آپ )ص(  نے اس کو جائز قرار دیا ہے ،جبکہ ہم ایک مٹھی بر خرمہ دے کر متعہ کرتے تھے اور تین مٹھی خرمہ دے کر جدا ہوتے تھے ۔  

عمر نے کہا : رسول خداصلي الله عليه وآله نے وقت کی ضرورت اور اضطرار کی وجہ سے اس کو حلال قرار دیا تھا ،لیکن اب لوگ مال دار اور سکون کی حالت میں ہے اب کسی مسلمان کو نہیں جانتا ہوں جو اس کام کو انجام دئے اور متعہ کی طرف پلٹے اب صورت حال یہ ہے،لوگ ایک مٹھی خرمہ کے مقابلے دائمی نکاح کرسکتے ہیں اور تین مٹھی کے مقابلے جدا ہوسکتے ہیں  اب لوگوں نے متعہ سے ہاتھ اٹھایا ہے ،لہذا میری راے صحیح ہے ۔

تاريخ الطبري ج2 ص 579 چاپ دار الكتب العلمية بيروت

پس نسخ والی بات ہی ختم ہوجاتی ہے کیونکہ خود عمر نسخ کو قبول نہیں کرتا ہے ۔

کیا متعہ خیبر کے دن حرام ہوا ہے ؟

کیا یہ روایت صحیح ہے کہ امیر المومنین علیہ السلام نے فرمایا ہو ؛ متعہ خیبر کے دن حرام ہوا ہے ؟

اب کیونکہ نسخ نہ ہونا ثابت ہو ،لیکن خلیفہ دوم سے دفاع کرنے والے بعض لوگوں نے خلیفہ کی عزت بچانے کے لئے ایک روایت جعل کی ہے اور کہتے ہیں کہ امیر المومنین عليه السلام نے فرمایا ہے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خیبر کے دن متعہ النساء سے منع فرمایا !!! یہ روایت کو صحیح مسلم اور بخاری میں بھی ذکر ہے  !!!

صحيح بخاري ج4 ص1544 كتاب المغازي باب غزوة خيبر - صحيح مسلم ج2 ص1027باب نكاح المتعه

لہذا یہاں مناسب یہ ہے کہ ہم بحث کو مکمل کرنے کے لئے خیبر کے دن متعہ سے منع کرنے والے ادعا کے بارے میں اھل سنت کے ہی بعض علماء کے اقوال کو یہاں نقل کریں  ۔

اس روایت کا جواب  :

مع ما وقع في خيبر من الكلام حتي زعم ابن عبد البر أن ذكر النهي يوم خيبر غلط والسهيلي أنه شيء لا يعرفه أحد من أه السير ولا رواة الأثر

متعہ حرام ہونے کے بارے میں سوای خیبر والی روایت کے کوئی اور صحیح اور صریح روایت موجو موجود نہیں ہے ،لیکن اس خیبر والی والی روایت میں بھی اشکال۔ یہاں تک کہ ابن عبد البر کا نظریہ یہ تھا کہ خیبر کی روایت میں متعہ سے نہی والی بات غلط ہے ۔ سهيلي کا بھی یہی نظریہ تھا کہ خیبر کے دن متعہ سے منع کرنے والی بات ایسی بات ہے جس کو کوئی بھی سیرت نگار اور روایت نقل کرنے والے راوی نہیں جانتے !!!

شرح الزرقاني ج3 ص198

یہی مطلب 'عمدة القاري ج17/ص247  اور  نصب الراية ج3/ص 178 میں نقل کیا ہے اور سب نے کہا ہے کہ ،ظاہر غلطی اس کے راوی یعنی زہری سے ہوئی ہے ۔

لہذا ایسا لگتا ہے کہ رسول خدا صلي الله عليه وآله وسلم کی طرف سے خیبر کے دن متعہ سے منع والی روایت ،جعلی روایتوں میں سے ہے ؛ اور یہ جناب عمر کے قول کی توجیہ کے لئے بنائی گئی ہے ۔

کیا آپ یہ قبول کرتے ہیں کہ آپ کی ماں یا بہن سے کوئی متعہ کرئے؟

جو بھی دلائل اور نص کو رد کرنے سے عاجر ہو اور منطق اور برھان و استدلال سے عاری ہو وہ ایک غرق ہونے والے شخص کی طرح ہاتھ پاوں مارتا ہے ۔

بلکل یہاں بھی ایسا شخص جب متعہ جائز سمجھنے والے سے کہتا ہے : کیا آپ یہ پسند کرتے ہو کہ آپ کی عورتیں متعہ کرئے ؟!

 یہ لوگ جب منطق اور استدلال سے عاجز ہوتے ہیں تو آخری اور  اپنے حساب سے سب سے مستحکم اور دوسروں کو لاجواب کرنے والے دلیل کے طور پر سوال یہی سوال کرتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ اب اس کا دشمن شکست کھائے گا اور لاجواب ہوگا ۔

جیساکہ متعہ کے جائز ہونے کے مخالفین نے اسی حربے کا استعمال کیا ؛ جیسے عبداللَّه بن معمر ( عمر ) ليثي اور ابو حنيفه  وغیرہ ،ان کی گفتگو کچھ اس طرح کی ہے :

1 - امام باقر عليه السلام  اور  ليثي :

آبی کہتا ہے : نقل ہوا ہے کہ  عبداللَّه بن معمر ليثي نے امام باقرعليه السلام سے کہا : مجھے یہ کہا گیا ہے کہ آپ متعہ کے حلال ہونے کا فتوا دیتے ہیں ؟ امام نے فرمایا : اللہ نے اپنی کتاب میں اس کو حلال قرار دیا ہے اور اللہ کے رسول نے اس کو سنت قرار دیا ہے اور آپ کے اصحاب نے بھی اس پر عمل کیا ہے .

عبداللَّه نے کہا : لیکن عمر نے اس سے منع کیا ہے .

امام باقرعليه السلام نے فرمایا : آپ تم اپنے صاحب کے نظریے پر عمل کرو اور میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے فرمان کے مطابق عمل کرتا ہوں ،

عبداللَّه نے کہا : کیا آپ کو یہ پسند پے کہ آپ کی بیٹوں سے متعہ کیا جائے  ؟

امام نے جواب دیا : اے بیوقف کیوں بیٹیوں کے نام لیتے ہو  ؟ جس نے متعہ کو اپنی کتاب میں لوگوں کے لئے مباح اور حلال قرار دیا ہے، وہ تم سے اور اس سے کہ جو بغیر دلیل کے متعہ سے منع کرتا ہے غیرت مند ہے  اور کیا تمہیں یہ پسند ہے کہ تیری بیٹی کسی حائک{ سے ازدواج کر لے ؟ اس نے کہا : نہیں ۔ آپ نے فرمایا : کیوں اللہ کے حلال شدہ چیز کو حرام سمجھتے ہو ؟

اس نے کہا : حرام نہیں جانتا ہوں . لیکن وہ شخص ہماری شان کے مطابق نہیں .

آپ نے فرمایا : اللہ نے اس کام کو پسند کیا ہے اور اس کے انجام دینے کو ترغیب دلائی ہے اور اس کو انجام دینے والے کے لئے جنت میں حور العین سے شادی کرئے گا ، اب کیا اللہ نے جس چیز کے بارے میں تشویق کی ہے اور ترغیب دلائی ہے کیا تم اس سے دور بھاگتے ہو ؟ جو کام بہشت کے حور العین ملنے کا موجب ہو کیا اس سے تکبر کرتے ہو اور دور بھاگتے ہو ؟

عبداللَّه نے مسکرا کر کہا : آپ لوگوں کے سینوں میں علم کی جڑھیں ہیں، اس کے پھلیں  آپ لوگوں کے لئے ہیں اور اس کے پتے لوگوں کے لئے ۔

نثر الدرر ، ج 1 ، ص 344 ؛ الهيئة المصرية العامة للكتاب ، كشف الغمة ، ص 362 ؛ بحارالانوار ، ج 46 ، ص 356

قابل توجہ بات یہ ہے کہ ، مرحوم  كليني نے اس روایت کو نقل کیا ہے ،مجلسی نے بھی اس کی سند کو حسن قرار دیا ہے اور اس مین جب یہ کہا : کہ کیا آپ کو یہ پسند ہے کہ آپ کی بیٹیاں ۔۔۔۔ جب بیوی اور بیٹی کی بات درمیان میں آئی تو امام نے اس سے منہ پھیر لیا۔

كافي ، ج 5 ، ص 445 ، ح 4 ، تهذيب الاخبار ، ج 7 ، ص 250 ، ح 6 ، وسائل الشيعه ، ج 21 ، ص 6 ، باب 1 ، ح 4 ؛ بحار الانوار ، ج 100 ، ص 217 ؛ مستدرك الوسائل ، ج 14 ، ص 449 ، باب 1 ، ح 11 ؛ مرآة العقول ، ج 20 ، ص 229

2 -   ابو حنيفه  اور  مؤمن طاق کی گفتگو  :

مرحوم كليني کہتے ہیں: علي بن ابراهيم نے کہا ہے : ابو حنيفه نے  ابوجعفر محمد بن نعمان صاحب طاق سے سوال کیا : اے ابو جعفر ، متعہ کے بارے میں کیا کہتے ہو  ؟ کیا اس کو حلال جانتے ہو ؟ کہا: ہاں ۔

کہا : تو پھر اپنی عورتوں کو متعہ کرنے اور درآمد کس کرنے سے منع کرتے ہو ؟

ابو جعفر نے جواب دیا : جو بھی حلال ہو اس میں یہ ضروری نہیں ہے کہ انسان کو اس کے انجام دینے کا شوق بھی ہو ، ہر ایک کے پاس اپنا معیار اور ترازو ہے اور اپنے معیارات کی پابندی کرتے ہیں ۔ لیکن اے ابوحنیفہ نبیذ کے بارے میں کیا فتوا دیتے ہو کیا یہ حلال نہیں ہے ؟

ابو حنیفہ نے کہا : ہاں یہ حلال ہے ۔ ابوجعفر نے کہا: پس کیوں اپنی بیویوں کو در آمد کسب کرنے کے لئے شراب فروشی کی دکان میں نہیں رکھتے ؟

 ابو حنيفه نے کہا : ایک ایک ،لیکن تیرا جواب زیادہ مستحکم ہے .

اور پھر کہا : اے ابو جعفر. « سَأَلَ سائِلٌ » ( سوره معارج کی  آيه292) متعہ کو حرام قرار دیتی ہے ، پيامبرصلي الله عليه وآله کی روایت بھی آیت کے نسخ کو بتانے کے لئے ہے .

ابو جعفر نے جواب دیا : سوره « سَأَلَ سائِلٌ » مكي ہے  اور متعه  والی آیت مدني ہے. اور روایت بھی شاذّ و نادر ہے.

اس وقت  ابو حنيفه نے کہا :  ميراث والی آیت بھی متعہ کے نسخ ہونے ہر دلالت کرتی ہے۔

ابو جعفر نے کہا : یہ نكاح ( متعه ) ارث کے بغیر ہے .

ابو حنيفه نے کہا : یہ کیسے ممکن ہے  ؟ ( کہ شادی اور ازدواج تو ہو لیکن ارث نہ ہو  ؟ )

ابو جعفر نے جواب دیا : اکر مسلمان مرد اھل کتاب کی کسی عورت سے شادی کرئے اور مرد مر جائے، تو اس عورت کے بارے میں کیا کہتے ہو ؟  

کہا : اھل کتاب والی بیوی مسلمان مرد سے ارث نہیں لے سکے گی .

ابوجعفر نے کہا : پس ارث کے بغیر بھی ازدواج اور شادی ہے .

پھر دونوں ایک دوسرے سے جدا ہوئے ... .

الكافي ج 5 ص 450 أبواب المتعة

اللہ ہمیں ان لوگوں میں سے قرار نہ دئے جو ذاتی میلانات اور خواہشات کی وجہ سے اللہ کے حلال کو حرام اور اللہ کے حرام کو حلال قرار نہ دئے ۔

**********************

دوست عزيز به نام يزدان ، سؤالاتي پيرامون عقد موقت از كتاب هاي شيعه مطرح كرده اند كه ما سؤالات وي را به همراه پاسخ هايش در اين جا اضافه مي كنيم :

شیعہ کتابوں میں متعہ کو حرام قرار دینے والی روایتوں کی تحقیق :

فتح خيبر کے وقت متعہ کا حرام ہونا  :

طوسي نے كتاب التهذيب 2/186  اور الاستبصار 3/142 میں  الحر العاملي نے وسائل شيعه 14/441 میں نقل کیا ہے :

 زید بن علی نے اپنے اباء و اجداد سے اور انہوں نے حضرت علی علیہ السلام نے نقل کیا ہے : کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خیبر کے دن گدھے کا گوشت اور متعہ النساء اور متعہ کو حرام قرار دیا ۔

 

جواب  :

جہاں بھی یہ روایت نقل ہوئی ہے وہاں اس کا جواب بھی نقل ہوا ہے ؛ جیساکہ" تهذيب " میں شیخ نے اس کو نقل کرنے کے بعد کہا ہے  :

 

فان هذه الرواية وردت مورد التقية وعلي ما يذهب إليه مخالفوا الشيعة ، والعلم حاصل لكل من سمع الاخبار ان من دين أئمتنا عليهم السلام إباحة المتعة فلا يحتاج إلي الاطناب فيه .

 تهذيب الأحكام ج 7 ص 251

  كتاب استبصار  میں  بھی شیخ نے فرمایا ہے  :

 فالوجه في هذه الرواية أن نحملها علي التقية لأنها موافقة لمذاهب العامة والاخبار الأولة موافقة لظاهر الكتاب وإجماع الفرقة المحقة علي موجبها فيجب أن يكون العمل بها دون هذه الرواية الشاذة .الاستبصار ج 3 ص 142

یعنی یہ روایت تقیہ کے طور پر صادر ہوئی ہے اور یہ دوسری روایات کے مقابل میں شاذ روایت ہے۔ بہت ساری روایات کو چھوڑ کر شاذ روایت کو نہیں لیا جاتا ۔

 جیساکہ ، اهل سنت کے علماء ،متعہ حلال ہونے کو اہل بیت میں سے بہت ساروں کا نظریہ جانتے ہیں لہذا اس روایت کا مضمون شیعہ اور اھل سنت کی باتوں کے مخالف ہے ۔

 اس کے علاہ ، خیبر کے موقع پر متعہ کے حرام ہونے کا نہ شیعہ علماء قائل ہیں نہ اہل سنت کے بزرگان ،یہاں تک کہ جس روایت کو امیر المومنین علیہ السلام کی طرف نسبت دی ہے اس کو زھری کی غلطی قرار دی ہے ،لہذا یہ روایت یقینا تقیہ کی حالت میں نازل ہوئی ہے اور  جیساکہ روایت کا مضمون وہی زہری والی جھوٹی روایت کی طرح ہے ۔

  اسی طرح یہ بھی قابل توجہ ہے کہ اس والی روایت میں گدھے کا گوشت حرام قرار دیا ہے جبکہ شیعہ علماء کا اس بات پر اجماع ہے شیعہ اس کو مکروہ سمجھتے ہیں  .

  { اس روایت کے سلسلے میں  ایک ہم نکتہ یہ بھی ہے کہ اس کے دو راوی  {یعنی حسین بن علوان  اور  عمرو بن خالد } کا تعلق شیعہ مخالفین سے ہیں ۔} مترجم ۔۔۔

جب دائمی نكاح  ہے تو موقتی نماز کی ضرورت نہیں ۔

محمد بن يعقوب كليني نے الكافي میں علي بن يقطين سے نقل ہوا ہے کہ انہوں نے امام موسی کاظم علیہ السلام سے متعہ کے حلال ایا حرام ہونے کے بارے میں سوال کیا ۔انہوں نے جواب دیا : تم لوگوں کو اس کی ضرورت نہیں ،اللہ نے دائمی نکاح کے ذریعے اس سے بے نیاز کیا ہے ۔(الفروع من الكافي 2/43  اور وسائل الشيعه 14/449)

متعہ حلال ہونے کے حکم کو اس روایت کے مطابق دیکھے تو کیا راہ حل ہوگا؟۔

جواب  :

اگر اس روایت کو تحریف کے بغیر مکمل نقل کرئے تو اس سوال کا جواب بھی واضح ہوگا ۔

 

 - عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ أَبِي عُمَيْرٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَقْطِينٍ قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا الْحَسَنِ مُوسَى ع عَنِ الْمُتْعَةِ فَقَالَ وَ مَا أَنْتَ وَ ذَاكَ فَقَدْ أَغْنَاكَ‏ اللَّهُ‏ عَنْهَا قُلْتُ إِنَّمَا أَرَدْتُ أَنْ أَعْلَمَهَا فَقَالَ هِيَ فِي كِتَابِ عَلِيٍّ ع فَقُلْتُ نَزِيدُهَا وَ تَزْدَادُ فَقَالَ وَ هَلْ يَطِيبُهُ إِلَّا ذَاك۔ الكافي (ط - الإسلامية) ؛ ج‏5 ؛ ص452

  علي بن يقطين اپنے زمانے کے مالدار لوگوں میں سے تھا اور حضرت موسي بن جعفر عليه السلام کے حکم سے هارون الرشيد کے دربار میں وزارت کا عہدہ سنبھالا ہوا تھا تاکہ جتنا ہوسکے شیعوں پر ظلم کو کم اور شیعوں کی مدد کی کرسکے۔  ان سے نقل ہوا ہے کہ میں نے امام موسي بن جعفر عليه السلام سے  متعه کے بارے سوال کیا ، آپ نے جواب دیا : تمہیں اب متعہ سے کیا کام ،کیونکہ اللہ نے تمہیں اس سے بے نیاز کیا ہے ،{تمہارے پاس تو بہت سے مال،  کئی بیویاں اور کنیزیں ہیں ،اب تم ہھر کیوں متعہ کے بارے پوچھتے ہو اور متعہ کی چکر میں ہو ؟}

 علی بن یقطین نے جواب دیا  : میں جاننا چاہتا ہوں  ؛ آپ نے فرمایا  : یہ امیر المومنین علیہ السلام کی کتاب میں موجود ہے۔{یعنی ہماری نگاہ میں یہ حلال ہے}

 سوال کیا  : کیا چار سے زیادہ سے متعہ ہوسکتا ہے{جتنا چاہئے تعداد پڑھا سکتے ہیں ؟

فرمایا : متعہ کی خوبی یہی ہے ۔

لہذا یہ روایت خاص کر علی ابن یقطین جیسے لوگوں کو ان چکروں میں نہ پڑنے کے لئے ہے ،متعہ کو حرام قرار دینے کے لئے نہیں ہے ۔

 فاجزہ عورتیں متعہ کے مرتکب ہوتی ہیں ۔

هشام بن حكم نے ابو عبدالله سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا : فاجر اور فاسق عورتیں متعہ کرتی ہیں ،پاکدامن عورتیں متعہ نہیں کرتیں. (بحار الانوار 100/ 318 و السرائر 483). اب اس روایت کا جواب کیا ہوگا ؟

  ایک اور روایت عبدالله بن سنان نے بھی نقل کی ہے ؛ وہ کہتا ہے : میں نے امام صادق علیہ السلام  سے متعہ کے بارے میں سوال کیا، امام نے فرمایا :اپنے کو گندا اور کچرے سے بچائے (بحار الانوار 100/318 و السرائر 66)

جواب  :

جیساکہ بیان ہوا کہ متعہ حلال ہونے کا حکم ائمہ اھل بیت علیہم السلام اور شیعوں کا مورد قبول نظریہ ہے اور یہ حکم مشہور اور معروف ہے ۔لہذا جو روایات اس مسلم حکم کے خلاف ہو  اس کو مکتب اھل بیت کے شاگرد تقیہ کے پر حمل کرتے ہیں ۔ کیونکہ متواتر روایات اور شاذ و نادر روایات میں ٹکراو ہو تو متواتر روایات کو ہی لیتے ہیں اور یہ سارے مکاتب کے ہاں مسلم قانون ہے ۔

دوسری بات یہ ہے کہ شاید یہ اس وقت کے ماحول کے مطابق ہو کیونکہ بدگردار عورتیں جسم فروشی کے کام میں ملوث ہو تو یہ چیز متعہ کرنے والے مرد اور عورت کی بدنامی کا باعث بن سکتی ہے لہذا امام نے اس طرح اپنے اصحاب اور دوستوں کو اس کام سے دور رہنے کے لئے ایسا فرمایا ہو ۔

«فما استمتعتم ... » والی آیت متعہ کے بارے میں نہیں ہے  :

 

  "فَمَا اسْتَمْتَعْتُم بِهِ مِنْهُنَّ فَآتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ فَرِيضَةً" .یہ آیت ازدواج موقت کے بارے میں نہیں ہے کیونکہ یہ اس آیت کا جز ہے کہ جو دائمی نکاح کے بیان میں ہے اس جملے کے شروع میں  "ف" کا آنا اس بات کی دلیل ہے ۔

 جواب  :

آیت کا یہ حصہ متعہ کے بارے میں ہی نازل ہوئی ہے اور اس پر تمام  صدر اسلام کے مفسرین  کا اجماع ہے اور دوسرے مفسرین کے درمیان بھی یہ مشہور ہے  اس سلسلے میں صحیح سند روایات ہیں  جن کو ہم نے اس مقالے کے شروع میں نقل کیا ہے ۔

 اور یہ بات بھی صحیح نہیں ہے کہ اس جملے کے شروع میں موجود فاء دائمی نکاح کے حکم کو بیان کرنے کے لئے ہے۔ کیونکہ ؛

 

الف ) آیت کی شروع میں ہے  :

 

 الْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ كِتَابَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ وَأُحِلَّ لَكُمْ مَا وَرَاءَ ذَلِكُمْ أَنْ تَبْتَغُوا بِأَمْوَالِكُمْ مُحْصِنِينَ غَيْرَ مُسَافِحِينَ فَمَا اسْتَمْتَعْتُمْ بِهِ مِنْهُنَّ فَآَتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ فَرِيضَةً وَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا تَرَاضَيْتُمْ بِهِ مِنْ بَعْدِ الْفَرِيضَةِ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمًا

 

اورتم پر حرام ہیں شادی شدہ عورتیں- علاوہ ان کے جو تمہاری کنیزیں بن جائیں- یہ خدا کا کھلا ہوا قانون ہے اور ان سب عورتوں کے علاوہ تمہارے لئے حلال ہے کہ اپنے اموال کے ذریعہ عورتوں سے رشتہ پیدا کرو عفت و پاک دامنی کے ساتھً سفاح و زنا کے ساتھ نہیں پس جو بھی ان عورتوں سے تمتع کرے ان کی اجرت انہیں بطور فریضہ دے دے اور فریضہ کے بعد آپس میں رضا مندی ہوجائے تو کوئی حرج نہیں ہے بیشک اللہ علیم بھی ہے اور حکیم بھی ہے...

 

اب سوال یہ ہے کہ آیت میں فاء سے پہلے کہاں نکاح دائمی کا حکم بیان ہوا ہے  ؟

 

ب) یہ فاء اضراب والا فاء بھی ہوسکتا ہے  ؛ یعنی اس میں پہلے والی بحث سے خاموشی اختیار کر کے ایک اور بحث شروع کی ہو ،یعنی اگر یہ بھی کہا جائے پہلے دائمی کی بحث ہو تو بھی یہ کہنا صحیح ہے کہ اس حصے میں متعہ کا حکم بیان ہوا ہے اور یہ پہلے والے پر عطف ہے .

 ایسی عورت سے متعہ صحیح نہیں ہے کہ جو ایک شریف گھرانے کی ہو    :

 شيخ طوسي نے فتوا دیا ہے :"اگر کوئی عورت کسی شریف گھرانے کا ہو تو اس کے لئے متعہ کرنا صحیح نہیں ہے کیونکہ یہ کام اس کے خاندان والوں کے لئے بھی عیب اور برا ہے اور خود اس کی عزت اور آبرو کے لئے بھی صحیح نہیں ہے۔

 (تهذيب الاحكام جلد هفتم ص 253)

 اب مسئلہ کا جواب کیا ہے ؟

 جواب  :

 یہ بھی ان جھوٹی  نبستوں میں سے ہے جس کو اہل سنت کے علماء نے شیخ طوسی کی طرف نسبت دی ہے لہذا بہتر یہ ہے کہ ہم خود ان کی کتاب سے ہی اس کو نقل کرتے ہیں ۔

 

14 - واما ما رواه أحمد بن محمد عن أبي الحسن عن بعض أصحابنا يرفعه إلي أبي عبد الله عليه السلام قال : لا تتمتع بالمؤمنة فتذلها . فهذا حديث مقطوع الاسناد شاذ ، ويحتمل أن يكون المراد به إذا كانت المرأة من أهل بيت الشرف فإنه لا يجوز التمتع بها لما يلحق أهلها من العار ويلحقها هي من الذل ويكون ذلك مكروها دون أن يكون محظورا۔۔

 تهذيب الأحكام ج 7 ص 253

 

 امام صادق علیہ السلام : مئومنہ عورت سے متعہ نہ کرئے۔ کیونکہ اس کام سے وہ ذلیل ہوجاتی ہے ۔

 اس روایت کی سند منقطع ہے اور اس کے راوی مشخص نہیں ہے، یہ شاذ روایت ہے اور مشہور کے مخالف ہے ۔شاید روایت کا معنی یہ ہو کہ اگر کوئی شریف خاندان سے ہو تو اس سے متعہ نہ کرئےکیونکہ یہ اس کے خاندان کے لئے باعث عار  اور اس کی ذلت اور خواری کا باعث ہے اگر ایسا ہو تو یہ متعہ مکروہ ہے لیکن پھر بھی حرام نہیں ہے کیونکہ حرام ہونے پر یہ روایت دلالت نہیں کرتی

بلکل واضح ہے کہ  مرحوم شيخ طوسي یہاں متعہ حرام ہونے کو ثابت نہیں کررہے ہیں ۔ بلکہ اس روایت کے ذریعے سے متعہ حرام پر استدلال کو رد کر رہے ہیں آپ ان الفاظ کے ذریعے اشکال کرنے والے کی بات کی توجیہ کررہے ہیں اور ساتھ ہی یہ کہہ رہے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ یہ مکروہ ہونے کی بات ہوسکتی ہے لیکن بعد میں مکروہ ہونے کو بھی رد کرتے ہیں ۔

زيديه ، متعہ کو حرام سمجھتے ہیں:

امام سجاد  کا بیٹا زید رحمهما الله بھی متعہ کو حرام سمجھتا تھا (شرح فقه الكبير کی کتاب کی طرف رجوع کریں ). زيديه اور  اسماعيليه دونوں متعہ کو حرام سمجھتے ہیں اور ساتھ ہی ایک یا دو صحابی جن تک متعہ حرام ہونے کا حکم نہیں پہنچا ہے ،ان کی وجہ سے متعہ حرام ہونے پر موجود اجماع نہیں توٹ سکتا ۔  

 

اس شبھہ کا کیا جواب ہے ؟

جواب  :

زید نے اپنی امامت کا بھی ادعا کیا ہے ،اب کیا زید کے سارے ادعا کو قبول کیا جائے ؟ شیعہ اور اھل سنت میں سے کوئی بھی زید کے اپنی امامت کے ادعا کو قبول نہیں کرتے لہذا یہ والا ادعا  بھی ایسا ہی ہوگا ۔

عقد موقت میں کیوں ارث اور طلاق نہیں ہے ؟

 سوره مومنون کی 5 سے  7 تک کی آيات میں آزاد عورتوں سے دائمی نکاح اور اسی طرح کنیزوں سے نکاح کو جائز قرار دیا ہے ، اب شیعہ علماء کہتے ہیں کہ ازواجھم دائمی اور موقت دونوں کو شامل ہے ، اگر ایسا ہے تو پھر قرآن کی دوسری آیات کے مطابق زوجین ایک دوسرے سے ارث لیتے ہیں اور اسی طرح ان کے درمیان طلاق بھی ہے ،اسی طرح بچے بھی والدین سے ارث لیتے ہیں،جبکہ قرآن کی دوسری آیات کے مطابق زوجین ایک دوسرے سے ارث لیتے ہیں ، ان کے درمیان طلاق بھی ہے ، بچے بھی والدین سے ارث لیتے ہیں، چار عورتوں سے زیادہ نہیں لے سکتا جبکہ نکاح متعہ میں ایسا نہیں ہے ۔

   

اب اس اشکال کے باوجود متعہ حلال ہونے کو کیسے ثابت کر سکتا ہے ۔

 

جواب  :

 

ان سوالوں کا جواب بھی گزشتہ مطالب میں موجود ہے لیکن ہم دوبارہ مختصر طور پر بیان کرتے ہیں ؛

 

1- سوره مومنون کی آیت میں صرف زنا کی حرمت کو ثابت کیا ہے اور یہ کہا ہے کہ نکاح صرف ھمسر یا کنیز سے جائز ہےاور شیعہ سنی علماء نے متعہ کو بھی ازدواج کہا ہے اور اس ازدواج میں عورت کو مرد کی بیوی کہتے ہیں ۔

2- قرآن نے مطلق طور پر مرد اور عورت کی جدائی کے لئے طلاق کو ہی ذکر نہیں کیا ہے اور یہ طلاق ازدواج دائمی کے بعض ازدواجوں میں ہے ۔ مثلا کوئی مرد مرتد ہوجائے تو عورت خود بخورد اس سے جدا ہوتی ہے ۔ یہاں صیغہ طلاق جاری کرنے کی ضرورت نہیں ہے، ارث کے مسئلہ کی بھی یہی صورت حال ہے ،اس کے علاوہ بعض شیعہ علماء نے متعہ کے مسئلے میں بھی ارث کا فتوا دیا ہے، لہذا ایسے علماء پر پھر اس جہت سے اعتراض وارد نہیں ہے  اور انہیں ان سوالوں کے جواب دینے کی ضرورت نہیں۔ 

 





Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی