2021 August 5
کیا امام مھدی علیہ السلام جدید کتاب،جدید سنت اور جدید دین کے ساتھ تشریف لائیں گے ؟
مندرجات: ١٩٧٣ تاریخ اشاعت: ١٣ June ٢٠٢١ - ٢٣:٥٢ مشاہدات: 361
سوال و جواب » امام حسین (ع)
کیا امام مھدی علیہ السلام جدید کتاب،جدید سنت اور جدید دین کے ساتھ تشریف لائیں گے ؟

 

کیا امام مھدی علیہ السلام جدید کتاب،جدید سنت اور جدید دین کے ساتھ تشریف لائیں گے ؟

مطالب کی فہرست

بعض شبھہ والی روایات

مختصر جواب:

تفصیلی جواب :

آپ قرآن و سنت کی تعلیمات کو ہی زندہ کریں گے

شيعه کتابوں سے  بعض روایات

اهل سنت کتابوں سے بعض روایات  

قرآن و سنت کے فراموش شدہ احکام  کو زندہ کرنا

قرآن کے بارے  غلط نظریات کا سد باب ۔

رسول اللہ (ص) کے دور میں رائج قرآن کی تلاوت کو رائج کرنا

قرآن کی شان نزول کے ساتھ تلاوت کے طریقے کا احیاء

حضرت امیر المومنین علیہ السلام کے جمع شدہ قرآن کا آشکار ہونا

ممکن ہے قرآن لانے سے قرآن کی تاویل مراد ہو ۔

مٹی ہوئی سنتوں کو آشکار کرنا ۔

 نتیجہ اور خلاصہ

 

بعض شبھہ والی روایات

 ائمہ اہل بیت علیہم السلام سے بعض ایسی روایات نقل ہوئی ہیں کہ جن میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ امام مھدی علیہ السلام ایک جدید کتاب ،جدید سنت اور جدید دین کے ساتھ تشریف لائیں گے ۔ ان روایات کو بہانا بنا کر وہابی شیعہ دشمنی میں شیعوں کے خلاف تبلیغ کرتے ہیں اور یہ شبھہ بیان کرتے کہ شیعوں کا امام مھدی علیہ السلام قرآن اور سنت پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مقابلے میں جدید کتاب اور جدید سنت لے کر آئے گا اور لوگوں کو گمراہ کرئے گا ۔

ہم ذیل میں اس قسم کی چند روایات کو نقل کرنے کے بعد ان شبھات کے جواب دیں گے :

 نعماني نے اپنی کتاب " الغيبه" میں امام باقر عليه السلام سے نقل کیا ہے :

...... عن أبي جعفر محمد بن علي...  قال عليه السلام: إذا خرج يقوم بأمر جديد ، وكتاب جديد ، وسنة جديدة ، وقضاء جديد...

امام قیام کریں گے تو جدید امر، جدید کتاب اور جدید قضاوت کے ساتھ قیام کریں گے ۔

النعماني ،محمد بن إبراهيم ،(متوفاي 380)،‌ كتاب الغيبة، ص 264، تحقيق : فارس حسون كريم، قم ناشر : أنوار الهدى ، سال چاپ : 1422، چاپ : الأولى

غیبۃ نعماني میں ہی ایک روایت یوں نقل ہوئی ہے :

 بن يعقوب الجعفي أبو الحسن ، قال : حدثنا إسماعيل بن مهران ، قال : حدثنا الحسن بن علي بن أبي حمزة ، عن أبيه ووهيب بن حفص ، عن أبي بصير ، عن أبي عبد الله ( عليه السلام ) ، قال : إنه قال لي أبي ( عليه السلام ) : لا بد لنار من أذربيجان لا يقوم لها شئ ، وإذا كان ذلك فكونوا أحلاس بيوتكم ، وألبدوا ما ألبدنا ، فإذا تحرك متحركنا فاسعوا إليه ولو حبوا والله لكأني أنظر إليه بين الركن والمقام يبايع الناس على كتاب جديد على العرب شديد ، وقال : ويل لطغاة العرب من شر قد اقترب

ابو بصير نے امام صادق عليه السّلام سے نقل کیا ہے کہ امام باقر عليه السلام نے فرمایا : آذربايجان کی طرف سے ضروری ایک آگ بڑھک اٹھے گی کہ کوئی بھی اس کا مقابلہ نہیں کرسکے گا اور اگر ایسا ہوا تو جس طرح ہم گھروں میں ہیں تم لوگ بھی اسی طرح گھروں میں رہیں اور جب کوئی شخص ہماری طرف سے قیام کا آغاز کرئے گا تو اس کی طرف جانا ،یہاں تک کہ تم لوگ خانہ نشینی کی حالت میں ہی کیوں نہ اور تم لوگوں کو ہاتھوں اور زانو کی مدد سے راستہ چلنا ہی کیوں نہ پڑے ۔ اللہ کی قسم گویا میں دیکھ رہا ہوں وہ رکن اور مقام کے درمیان میں کھڑے ہیں اور لوگ جدید کتاب پر ان کی بیعت کر رہے ہیں اور وہ عرب پر شدید ہوں گے۔ عرب کے طغیانگروں پر عنقریب رونما ہونے والے فتنہ و فساد کی وجہ سے افسوس ہو ۔

النعماني ،محمد بن إبراهيم ،(متوفاي 380)،‌ كتاب الغيبة، ص 200، تحقيق : فارس حسون كريم، قم ناشر : أنوار الهدى ، سال چاپ : 1422، چاپ : الأولى

مختصر جواب:

مختصر اور اجمالی طور پر جواب یہ ہے کہ  بہت سی روایات کے مطابق  حضرت مهدي عليه السلام اسی قرآن پر ہی عمل کریں گے جو ان کے جد بزرگوار حضرت رسول خدا صلي الله عليه و آله پر نازل ہوا ہے اور پیغمبر (ص) کی سنت اور دين اسلام کو ہی معاشرے میں عملی جامعہ پہنائیں گے اور ہر جگہ دین اسلام ہی حاکم ہوگا ۔ اب اگر بعض روایات میں جدید کتاب اور جدید سنت اور جدید دین اور جدید امر کی بات ہوئی ہو تو اس کا ہر گز یہ معنی نہیں ہے کہ آپ پیغمبر (ص) پر نازل شدہ قرآن کے مقابلے میں کوئی اور قرآن ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سنت  اور دین کے مقابلے میں کوئی اور سنت اور دین لے کر آئیں گے ۔

لہذا اس قسم کی روایات میں تجدید احکام سے مراد اللہ کی کتاب کے تعطیل شدہ احکام کو زندہ کرنا ، انہیں معاشرے میں لاگو کرنا اور لوگوں کے افکار اور غلط نظریات کی اصلاح کرنا ہے ۔ کیونکہ جس وقت آپ ظہور فرمائیں گے اس وقت قرآن کا صرف رسم اور خط باقی ہوگا اور سنت کا بھی نام ہی باقی ہوگا اور جب آپ ظہور فرمائیں گے تو آپ قرآن اور سنت کو صاف و شفاف طور پر ،اصلی حالت میں پیش کریں گے اور قرآن و سنت کے نام پر ایجاد شدہ بدعتوں اور انحرافات کے گرد وغبار کو قرآن و سنت سے ہٹائیں گے لہذا لوگ یہ تصور کریں گے کہ کوئی نیا قرآن نئی سنت اور نیا دین لے کر آئے ہیں ۔

تفصیلی جواب :

آپ قرآن و سنت کی تعلیمات کو ہی زندہ کریں گے

حضرت مهدي عليه السلام ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر نازل شدہ قرآن اور ان کی سنت پر ہی عمل کریں گے اور اسی راہ میں ہی جد وجہد کریں گے

شیعہ اور اھل سنت کی کتابوں میں بہت سی روایات موجود ہیں کہ جن کے مطابق امام مھدی علیہ السلام جب ظہور فرمائیں گے تو آپ  قرآن اور سنت کو ہی بنیاد قرار دیں گے ۔ اسی مطلب کے بیان میں روایات میں مختلف تعبیریں استعمال ہوئی ہیں ؛ مثلا قرآن کا احیاء ،قرآن پر عمل ،قرآن کی طرف دعوت ،قرآن کی بنیاد پر قضاوت،جیسے الفاظ کے استعمال کے ذریعے اسی حقیقت کی طرف اشارہ ہوا ہے۔

 لہذا امام مهدي عليه السلام کسی بھی صورت میں قرآن کريم کو چھوڑ کر نئی کتاب اور آئین کی تبلیغ نہیں کریں گے ، قرآن مجید کے مقابلے میں کسی اور کتاب کو لانے کی کوشش نہیں کریں گے ۔اب ہم انہیں روایات میں سے بعض کو یہاں نقل کرتے ہیں:

شيعه کتابوں سے  بعض روایات

پہلی روايت

شيخ صدوق نے عيون اخبار الرضا میں اميرمؤمنین عليه السلام سے نقل کیا ہے کہ  ائمه عليهم السلام، پيامبر صلي الله عليه و آله پر نازل شدہ قرآن سے جدا نہیں یوں گے :

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ زِيَادِ بْنِ جَعْفَرٍ الْهَمَدَانِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ هَاشِمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عُمَيْرٍ عَنْ غِيَاثِ‏ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الصَّادِقِ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيهِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ أَبِيهِ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ عَنْ أَبِيهِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ عليه السلام قَالَ‏ : سُئِلَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ عليه السلام عَنْ مَعْنَى قَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صلي الله عليه وآله إِنِّي مُخَلِّفٌ فِيكُمُ‏ الثَّقَلَيْنِ‏ كِتَابَ اللَّهِ وَعِتْرَتِي مَنِ الْعِتْرَةُ؟ فَقَالَ: أَنَا وَالْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ وَالْأَئِمَّةُ التِّسْعَةُ مِنْ وُلْدِ الْحُسَيْنِ تَاسِعُهُمْ مَهْدِيُّهُمْ وَقَائِمُهُمْ لَا يُفَارِقُونَ كِتَابَ اللَّهِ وَلَا يُفَارِقُهُمْ حَتَّى يَرِدُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلي الله عليه وآله حَوْضَه.

امام صادق عليه السلام نے نقل کیا ہے : امير المؤمنين علیہ السلام سے حضرت رسول صلى اللَّه عليه و آله کی حدیث: «انّى مخلّف فيكم الثقلين كتاب اللَّه و عترتى» کے بارے میں یہ سوال ہوا کہ اس میں عترت سے کیا مراد ہے ؟ اور یہ کون لوگ ہیں ؟ آپ نے جواب میں فرمایا :  عترت سے مراد ،میں اور حسن و حسین علیہم السلام اور ،حسین علیہ السلام کی نسل سے نو فرزند ہیں ،ان میں سے نواں مهدى اور قائم ہیں اور یہ سب قرآن سے جدا نہیں ہوں گے  اور قرآن بھی ان سے جدا نہیں ہوں گے ،یہاں تک کہ حوض پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے آملے۔

الصدوق، محمد بن علي (متوفاي381هـ)، عيون أخبار الرضا عليه السلام، ج2، ص60، مؤسسة الأعلمي ـ بيروت.

جیساکہ یہ روایت ثابت کرتی ہے کہ آئمہ اھل بیت علیہم السلام قرآن سے جدا نہیں ہوں گے۔

اس روایت کی سند بھی صحيح ہے. اور ہم ذیل میں اس کی سند کی تحقیق بھی پیش کرتے ہیں :

اس روایت کی سند کی تحقیق :

احمد بن زياد بن جعفر همداني:

آپ شيخ صدوق رحمت الله عليه کے استادوں میں سے ہیں اور شیخ صدوق نے ان کو عظیم اور بزرگ آدمی قرار دیا ہے ۔

وكان رجلا ثقة دينا فاضلا رحمة الله عليه ورضوانه.

«آپ ثقہ ، دین دار  اور فاضل آدمی تھا، اللہ کی رحمت اور رضوان ان ہر ہو۔

كمال الدين وتمام النعمة، ص369

علامه حلي نے بھی کہا ہے :

كان رجلا ثقة دينا فاضلا رضي الله عنه

الخلاصةللحلي ص‏19

علي بن ابراهيم بن هاشم:

نجاشی نے ان کے ثقہ ہونے کے بارے میں کہا ہے :

قال النجاشي: القمي، ثقة في الحديث، ثبت، معتمد، صحيح المذهب.

آپ قمي اور روایت نقل کرنے میں ثقه ، ثابت، معتمد، اور صحيح المذهب شخص تھے ۔

معجم رجال الحديث، ج 12 ص 212، رقم: 7830.

 ابراهيم بن هاشم:

حضرت آيت الله خوئي نے ان کے بارے میں لکھا ہے :

أقول: لا ينبغي الشك في وثاقة إبراهيم بن هاشم، ويدل على ذلك عدة أمور:

 1. أنه روى عنه ابنه علي في تفسيره كثيرا، وقد التزم في أول كتابه بأن ما يذكره فيه قد انتهى إليه بواسطة الثقات. وتقدم ذكر ذلك في (المدخل) المقدمة الثالثة.

2. أن السيد ابن طاووس ادعى الاتفاق على وثاقته، حيث قال عند ذكره رواية عن أمالي الصدوق في سندها إبراهيم بن هاشم: " ورواة الحديث ثقات بالاتفاق ". فلاح السائل: الفصل التاسع عشر، الصفحة 158.

3. أنه أول من نشر حديث الكوفيين بقم. والقميون قد اعتمدوا على رواياته، وفيهم من هو مستصعب في أمر الحديث، فلو كان فيه شائبة الغمز لم يكن يتسالم على أخذ الرواية عنه، وقبول قوله.

میں کہتا ہوں: ان کی وثاقت میں شک نہیں کرنی چاہئے کیونکہ ان کی وثاقت کی دلیل مندرجہ ذیل امور ہیں ۔

1. علي بن ابراهيم نے اپنی تفسیر میں ان سے بہت سی روایات نقل کی ہیں ؛ جبکہ علی بن ابراھیم نے اپنی کتاب کے شروع میں یہ کہا ہے کہ جو بھی روایت اس نے اس کتاب میں نقل کی ہے وہ ثقہ راویوں سے ہے۔۔۔۔

2. سيد بن طاووس نے ان کی وثاقت کے بارے میں اتفاق کا دعوا کیا ہے جیساکہ انہوں نے ایک ایسی روایت کو نقل کیا ہے کہ جس کی سند میں ابراهيم بن هاشم موجود ہے اور پھر  یہ کہا ہے : اس سند کے تمام راویوں کے ثقہ ہونے پر علماء کا اتفاق نظر موجود ہے.

3. وہ پہلا آدمی ہے کہ جس نے کوفہ والوں کی حدیثوں کو قم میں نقل کیا اور قم والوں نے ان کی روایات پر اعتماد کیا اور جیساکہ قم والوں میں ایسے لوگ تھے کہ جو روایات کے بارے میں سخت گیری سے کام لیتے تھے۔لہذا ان کے بارے میں کوئی اشکال ہوتا تو قم والے اس سے روایت نقل کرنے پر اتفاق نہ کرتے۔

معجم رجال الحديث، ج 1 ص 291، رقم: 332.

 

محمد بن ابي‌ عمير:

آپ اصحاب اجماع میں سے ہیں ۔

نجاشي نے آپ کے بارے میں کہا ہے :

قال النجاشي: جليل القدر، عظيم المنزلة فينا وعند المخالفين...

آپ شیعہ اور شیعہ مخالفین کے نذدیک جلیل القدر اور عظم مرتب انسان ہیں ۔

رجال النجاشي ص‏327

کشی نے کہا ہے :

أجمع أصحابنا على تصحيح ما يصح عن هؤلاء و تصديقهم و أقروا لهم بالفقه و العلم و هم ستة نفر آخر دون الستة نفر الذين ذكرناهم في أصحاب أبي عبد الله ع منهم يونس بن عبد الرحم

ان لوگوں کے نقل کردہ روایات کے صحیح ہونے پر ہمارے علماء کا اجماع ہے۔۔۔۔۔۔۔۔

رجال‏ الكشي ص‏556

  کشی نے ہی ان کے بارے میں کہا ہے ۔

ثقة

رجال الطوسي ص‏365

شیخ طوسی نے ان کے بارے میں کہا ہے ؛

كان من أوثق الناس عند الخاصة و العامة

آپ شیعہ اور اھل سنت کے نذدیک ثقہ آدمی ہیں۔

فهرست ‏الطوسي ص‏405

غياث بن ابراهيم التميمي الأسدي:

نجاشی نے ان کے بارے میں کہا ہے :

ثقة

              رجال النجاشي ص‏305۔

دوسری روایت :

شيخ صدوق رضوان الله عليه نے اپنی کتاب" کمال الدين" میں اس روايت کو اس طرح نقل کیا ہے :

63ـ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ الْوَلِيدِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الصَّفَّارُ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ حَمَّادِ بْنِ عِيسَى عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُمَرَ الْيَمَانِيِّ عَنْ سُلَيْمِ بْنِ قَيْسٍ الْهِلَالِيِّ عَنْ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ عليه السلام قَالَ:

إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وتَعَالَى طَهَّرَنَا وعَصَمَنَا وجَعَلَنَا شُهَدَاءَ عَلَى خَلْقِهِ وحُجَجاً فِي أَرْضِهِ وجَعَلَنَا مَعَ الْقُرْآنِ وجَعَلَ الْقُرْآنَ مَعَنَا لَا نُفَارِقُهُ ولَا يُفَارِقُنَا.

سليم بن قيس هلالى نے امير المؤمنين عليه السلام سے نقل کیا ہے  كه آپ نے فرمایا: بے شک  اللہ نے ہمیں پاک اور معصوم قرار دیا ہے، ہمیں اپنی مخلوقات اور زمین پر حجت قرار دیا ہے اور ہمیں قرآن کے ساتھ اور قرآن کو ہمارےساتھ قرار دیا ہے، نہ ہم قرآن سے جدا ہوں گے اور نہ قرآن ہم سے جدا ہوگا ۔

الصدوق، ابوجعفر محمد بن علي بن الحسين (متوفاى381هـ)، كمال الدين و تمام النعمة، ص240، تحقيق: علي اكبر الغفاري، ناشر: مؤسسة النشر الاسلامي (التابعة) لجماعة المدرسين ـ قم، 1405هـ

جیساکہ حضرت علي عليه السلام نے اس روایت میں واضح طور پر بیان فرمایا ہے کہ ائمہ اهل بيت عليهم السلام (که امام زمان عجل الله تعالي فرجه الشريف بھی ان میں سے ایک ہیں) ہمیشہ قرآں کے ساتھ ہوں گے اور کبھی قرآن ان سے اور آپ لوگ قرآن سے جدا نہیں ہوں گے۔

اس روایت کی سند بھی صحیح ہے

سند کی تحقیق

محمد بن الحسن بن وليد:

نجاشی نے ان کو ثقہ کہا ہے

شيخ القميين و فقيههم و متقدمهم و وجههم

قم کے علماء کے استاد اور ان کے فقیہ تھے ، ان سب سے مقدم اور جانی پہچانی شخصیت تھی ۔

رجال النجاشي ص‏383  الخلاصةللحلي /ص‏147

شیخ طوسی ان کے بارے کہتے ہیں:

جليل القدر بصير بالفقه ثقة

             رجال الطوسي ص‏439

 

محمد بن الحسن الصفار:

نجاشی نے ان کے بارے میں لکھا ہے ۔

كان وجها في أصحابنا القميين ثقة عظيم القدر راجحا

آپ علماء قم میں ایک مشہور اور جانی پہچانی شخصیت تھی ، آپ قابل اعتماد اور عظیم مقام کا مالک تھا ۔

رجال النجاشي ص‏354 الخلاصةللحلي /ص‏157

 

احمد بن محمد بن عيسي:

نجاشی نے ان کے بارے میں کہا ہے :

أبو جعفر رحمه الله شيخ القميين و وجههم و فقيههم

شيخ طوسي نے بھی لکھا ہے :

ثقة

رجال الطوسي ص‏351

 

الحسين بن سعيد

شيخ طوسي نے فهرست میں کہا ہے:

ثقة

         فهرست ‏الطوسي ص‏150

انہوں نے اپنی کتاب رجال میں لکھا ہے :

الأهوازي ثقة

رجال الطوسي ص‏355

حماد بن عيسي:

نجاشي نے کہا ہے :

كان ثقة في حديثه صدوقا

آپ ثقہ اور حدیث نقل کرنے میں سچا آدمی تھا ۔

رجال النجاشي ص‏143

شيخ طوسي کہتے ہیں:

ثقة

             فهرست ‏الطوسي ص‏157

انہوں نے اپنی کتاب رجال میں لکھا ہے :

ثقة

رجال الطوسي ص‏334

سليم بن قيس الهلالي:

سليم بن قيس هلالي، پانچ اماموں کے یار و اصحاب میں سے ہیں ،آيت الله خوئي نے ان کی زندگی نامے میں لکھا ہے :

سليم بن قيس: قال النجاشي في زمرة من ذكره من سلفنا الصالح في الطبقة الأولى: (سليم بن قيس الهلالي له كتاب، يكنى أبا صادق.

آیت اللہ خوئي رضوان الله تعالي عليہ آگے ان کے بارے میں لکھتے ہیں؛

الأولى: أن سليم بن قيس - في نفسه - ثقة جليل القدر عظيم الشأن، ويكفي في ذلك شهادة البرقي بأنه من الأولياء من أصحاب أمير المؤمنين عليه السلام، المؤيدة بما ذكره النعماني في شأن كتابه، وقد أورده العلامة في القسم الأول وحكم بعدالته.

سليم بن قيس هلالي.. نجاشي نے انہوں سلف صالح اور طبقه اول کے رایوں میں سے قرار دیا ہے ...

سليم بن قيس هلالي  خود خود ایک ثقه، جليل القدر اور بلند مرتبہ انسان ہے . اس بات کو ثابت کرنے کے لئے  برقی کی یہ گواہی کافی ہے کہ آپ  حضرت امیر المومنین عليه السلام کے اصحاب کے اولیاء میں سے ہیں . اسی مطلب کی تائید نعماني کی اس گفتار سے بھی ہوتی ہے جو انہوں نے سلیم کی کتاب کے بارے میں کہا ہے، علامه حلي نے بھی ان کی عدالت کا حکم دیا ہے ۔

معجم رجال الحديث، ج 9، ص 226، رقم: 5401.

لہذا ان دو روايتوں سے یہ بات روشن ہوگئی کہ  اهل بيت عليهم السلام  اور ان میں سے امام مهدي عجل الله تعالي فرجه الشريف قرآن مجید سے جدا نہیں ہوں گے ۔ لہذا امام مھدی علیہ السلام کے بارے میں یہ کہنا بے بنیاد بات ہے کہ  آپ رسول اللہ صلي الله عليه و آله پر نازل شدہ کتاب کے بجائے کوئی اور کتاب لے کر آئیں گے  ۔.

مندجہ بالا روایات کے علاوہ اور بھی اس سلسلے میں روایات موجود ہیں ہم مختصر طور پر ان میں سے بعض کو  یہاں نقل کرتے ہیں ۔

تیسری روایت

کليني نے ایک روایت نقل کی ہے جس میں اس بات کی طرف اشارہ موجود  ہے کہ  امام مهدي عليه السلام ، اللہ کی کتاب، قرآن مجید پر عمل کریں گے :

الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَشْعَرِيُّ عَنْ مُعَلَّى بْنِ مُحَمَّدٍ عَنِ الْوَشَّاءِ عَنْ أَبِي بَصِيرٍ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ ع وَ أَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ لَهُ إِنَّكُمْ أَهْلُ بَيْتِ رَحْمَةٍ اخْتَصَّكُمُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَ تَعَالَى بِهَا فَقَالَ لَهُ كَذَلِكَ نَحْنُ وَ الْحَمْدُ لِلَّهِ لَا نُدْخِلُ أَحَداً فِي ضَلَالَةٍ وَ لَا نُخْرِجُهُ مِنْ هُدًى إِنَّ الدُّنْيَا لَا تَذْهَبُ حَتَّى يَبْعَثَ اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ رَجُلًا مِنَّا أَهْلَ الْبَيْتِ يَعْمَلُ بِكِتَابِ اللَّهِ‏ لَا يَرَى‏ فِيكُمْ‏ مُنْكَراً إِلَّا أَنْكَرَهُ.

احمد بن عمر کہتا ہے : امام باقر عليه السّلام نے ایک شخص کے جواب میں فرمایا {اس شخص نے کہا تھا :آپ رحمت والے خاندان سے ہیں اور اللہ نے یہ خصوصیت آپ لوگوں کے لئے مختص کیا ہے ۔۔آپ نے اس کے جواب میں فرمایا : جی ہم ایسا ہی ہیں ،اللہ کا شکر ہے کہ ہم نے کسی کو بھی گمراہ نہیں کیا اور سیدھے راستے سے کسی کو نہیں ہٹایا ،دنیا اس وقت تک ختم نہیں ہوگی جب تک اللہ ہم اہل بیت میں سے ایک شخص کو مبعوث نہ کرئے کہ جو اللہ کی کتاب پر عمل کرئے گا وہ تم میں جو بھی برائی دیکھے گا اس کا انکار کرئے گا۔{منع کرئے گا }

الكليني الرازي، أبو جعفر محمد بن يعقوب بن إسحاق (متوفاى328 هـ)، الأصول من الكافي، ج 8 ص 396،ناشر: اسلاميه‏، تهران‏، الطبعة الثانية،1362 هـ.ش.

چوتھی روایت

امام باقر عليه السلام سے نقل ہوا ہے کہ حضرت مهدي (ع) قرآن اور سنت پيامبر (ص‌)کے عالم ہیں :

وَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ (حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْكُوفِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبَرْمَكِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَالِك عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِنَانٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ شِمْرٍ عَنْ جَابِرٍ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ ع قَالَ :إِنَّ الْعِلْمَ بِكِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ وَ سُنَّةِ نَبِيِّهِ ص ليَنْبُتُ فِي قَلْبِ مَهْدِيِّنَا كَمَا يَنْبُتُ الزَّرْعُ عَنْ أَحْسَنِ نَبَاتِه

جابر نے امام باقر عليه السّلام سے نقل کیا ہے : جس طرح نباتات بہترین انداز میں نشو و نما پاتے ہیں، اللہ کی کتاب اور پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سنت پر علم ہمارے مھدی کے قلب میں نشو و نما پاتا ہے ۔

الصدوق، ابوجعفر محمد بن علي بن الحسين (متوفاى381هـ)، كمال الدين و تمام النعمة،ص 653، تحقيق: علي اكبر الغفاري، ناشر: مؤسسة النشر الاسلامي ( التابعة ) لجماعة المدرسين ـ قم، 1405هـ . (مكتبه اهل بيت)

پانچویں روایت :

روایت میں ہے کہ امام کے ظہور سے عورتیں بھی اپنے گھروں میں اللہ کی کتاب اور رسول اللہ (ص) کی سنت کے مطابق عمل کرئے گیں۔‌ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ امام مهدي عليه السلام قرآن اور پیغمبر  کی سنت (ص) کے مطابق ہی عمل کریں گے .

نعماني نے امام مهدي عليه السلام کی نشانی اور کردار کے بارے میں امام باقر عليه السلام سے ایک روایت نقل کی ہے؛

...رَجُلٌ مِنَّا أَهْلَ الْبَيْتِ فَيُعْطِيكُمْ فِي السَّنَةِ عَطَاءَيْنِ وَ يَرْزُقُكُمْ فِي الشَّهْرِ رِزْقَيْنِ وَ تُؤْتَوْنَ الْحِكْمَةَ فِي زَمَانِهِ حَتَّى إِنَّ الْمَرْأَةَ لَتَقْضِي فِي بَيْتِهَا بِكِتَابِ اللَّهِ تَعَالَى وَ سُنَّةِ رَسُولِ اللَّه‏

 حمران بن أعين نے امام باقر عليه السّلام سے روایت نقل کی ہے کہ: ہمارے خاندان میں سے ایک شخص سال میں تم لوگوں کو دو مرتبہ عطاء کریں گے ۔ اس  کے دور میں تم لوگ حکمت سے بہرہ مند ہوں گے، یہاں تک کہ گھر میں موجود عورتیں بھی اللہ کی کتاب اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سنت کے مطابق عمل کرئے گیں۔

النعماني، محمد بن إبراهيم متوفاي 380، كتاب الغيبة، ص 245، تحقيق : فارس حسون كريم، چاپ : الأولى، سال چاپ : 1422، چاپخانه : مهر – قم، ناشر : أنوار الهدى

 المجلسي، محمد باقر (متوفاى 1111هـ)، بحار الأنوار الجامعة لدرر أخبار الأئمة الأطهار، ج 52 ص 352.،تحقيق: محمد الباقر البهبودي، ناشر: مؤسسة الوفاء - بيروت - لبنان، الطبعة: الثانية المصححة، 1403هـ - 1983م.

چھٹی روایت

شیخ صدوق نے جابر سے پيامبر صلي الله عليه و اله کی ایک روایت نقل کی ہے کہ جس کے مطابق آپ نے فرمایا: امام مهدي موعود عليه السلام  ،پیغمبر (ص) کی سنت کے مطابق عمل کریں گے ۔

عن عبد الله بن المغيرة عن سفيان بن عبد المؤمن الأنصاري ، عن عمرو ابن شمر ، عن جابر قال ... وقال رسول الله صلى الله عليه وآله وهو رجل مني اسمه كاسمي يحفظني الله فيه ويعمل بسنتي يملأ الأرض قسطا وعدلا ونورا بعد ما تمتلي ظلما وجورا وسوءا

 آںحضرت صلی اللہ نے فرمایا : وہ شخص ہم میں سے ہوگا اور میرا ہمنام ہوگا، اللہ میرے امر کی اس کے زریعے حفاظت کرئے گا، میری سنت پر عمل کرے گا. زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا۔ جس طرح زمین ظلم و جور اور برائیوں سے بھر چکی ہوگی ۔

الصدوق، ابوجعفر محمد بن علي بن الحسين (متوفاى381هـ)، علل الشرائع ، ج 1 ص 161تحقيق : السيد محمد صادق بحر العلوم، ناشر: المكتبة الحيدرية ـ النجف ، 1385هـ ـ 1966م

اس قسم کی متعدد طرق سے منقول روایات کے مطابق جس قرآن پر حضرت مهدي عليه السلام کے دور میں عمل ہوگا وہ یہی قرآن ہے کہ جو پیغمبر اکرم صلي الله عليه و آله پر نازل ہوا ہے ۔اسی طرح اس دور میں رسول اللہ صلي الله عليه و آله کی سنت پر ہی  عمل ہوگا .

اهل سنت کتابوں سے بعض روایات  

اھل سنت کی معتبر روایات کے مطابق بھی جضرت مهدي عليه السلام ظہور کے بعد پيامبر (ص) کی سنت کے مطابق لوگوں سے رفتار کریں گے اور دين اسلام کو ہی لاگو کریں گے ؛

پہلی روايت

ابويعلي نے ایک معتبر روایت نقل کی ہے جس کے مطابق حضرت مهدي عليه السلام ،پیغمبر صلي الله عليه  و آله کی سنت پر ہی عمل کریں گے:

حدثنا أبو هشام الرفاعي حدثنا وهب بن جرير حدثنا هشام بن أبي عبد الله عن قتادة عن صالح أبي الخليل عن صاحب له وربما قال صالح عن مجاهد عن أم سلمة زوج النبي صلى الله عليه وسلم قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ..فيخرج رجل من قريش من أهل المدينة... فيقسم بين الناس فيئهم ويعمل فيهم سنة نبيهم ويلقي الإسلام بجرانه إلى الأرض

قریش کا ایک مرد کہ جو اهل مدينه سے ہوگا ۔یہ لوگوں کے درمیان رسول اللہ صلي الله عليه و آله کی سیرت کے مطابق اموال کو تقسیم کریں گے اور اسلام کو مکمل طور پر لاگو کریں گے ۔

أبو يعلي الموصلي التميمي، أحمد بن علي بن المثني (متوفاى307 هـ)، مسند أبي يعلي، ج 12   ص 369 تحقيق: حسين سليم أسد، ناشر: دار المأمون للتراث - دمشق، الطبعة: الأولى، 1404 هـ – 1984م.

کتاب کا محقق کہتا ہے :

إسناده من طريق مجاهد حسن

أبو يعلي الموصلي التميمي، أحمد بن علي بن المثني (متوفاى307 هـ)، مسند أبي يعلي، ج 12   ص 369 تحقيق: حسين سليم أسد، ناشر: دار المأمون للتراث - دمشق، الطبعة: الأولى، 1404 هـ – 1984م.

ابن ماجه نے بھی اسی روایت کو معمولی اختلاف کے ساتھ نقل کیا ہے  :

...فَيَقْسِمُ الْمَالَ وَيَعْمَلُ في الناس بِسُنَّةِ نَبِيِّهِمْ صلى الله عليه وسلم وَيُلْقِي الْإِسْلَامُ بِجِرَانِهِ إلى الأرض

آپ لوگوں کے درمیان پیغمبر صلي الله عليه و آله کی سنت کے مطابق عمل کریں گے اور دین اسلام کو مکمل طور پر زمین پر لاگو کریں گے ۔

السجستاني الأزدي،  ابوداود سليمان بن الأشعث (متوفاى 275هـ)، سنن أبي داود، ج 4   ص 107 تحقيق: محمد محيي الدين عبد الحميد، ناشر: دار الفكر.

ابن  قيم نے اس روایت کو نقل کرنے کے بعد لکھا ہے ؛

ورواه أبو يعلى الموصلي في مسنده من حديث قتادة عن صالح أبي الخليل عن صاحب له وربما قال صالح عن مجاهد عن أم سلمة والحديث حسن ومثله مما يجوز أن يقال فيه صحيح

الزرعي الدمشقي الحنبلي، شمس الدين ابوعبد الله محمد بن أبي بكر أيوب (مشهور به ابن القيم الجوزية ) (متوفاى751هـ)، المنار المنيف في الصحيح والضعيف ، ج 1   ص 145 تحقيق : عبد الفتاح أبو غدة ، ناشر : مكتب المطبوعات الإسلامية – حلب، الطبعة : الثانية ، 1403هـ .

ابن حجر نے اس روایت کے بارے میں کہا ہے :

وصح أنه صلى الله عليه وسلم قال ( يكون اختلاف

الهيثمي، ابوالعباس أحمد بن محمد بن علي ابن حجر (متوفاى973هـ)، الصواعق المحرقة علي أهل الرفض والضلال والزندقة، ج 2   ص 476 تحقيق عبد الرحمن بن عبد الله التركي - كامل محمد الخراط، ناشر: مؤسسة الرسالة - لبنان، الطبعة: الأولى، 1417هـ - 1997م.

شارحين نے اس روایت کے سلسلے میں کہا ہے کہ یہ شخص وہی امام مهدي ہیں کہ جو حضرت محمد صلي الله عليه و آله کی شریعت کے مطابق عمل کریں گے ۔

ملا علي قاري نے اس سلسلے میں کہا ہے :

أي المهدي في الناس ( بسنة نبيهم ) أي شريعته

مهدي لوگوں کے درمیان حضرت محمد (ص) کی شریعت کے مطابق عمل کریں گے ۔

ملا علي القاري، نور الدين أبو الحسن علي بن سلطان محمد الهروي (متوفاى1014هـ)، مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، ج 10   ص 94 تحقيق: جمال عيتاني، ناشر: دار الكتب العلمية - لبنان/ بيروت، الطبعة: الأولى، 1422هـ - 2001م .

عظيم آبادي نے بھی تقریبا ایسی ہی تفسیر کی ہے:

ويعمل ) أي المهدي ( في الناس بسنة نبيهم ) فيصير جميع الناس عاملين بالحديث ومتبعيه

مهدي لوگوں کے درمیان پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سنت کے مطابق عمل کریں گے لہذا سارے لوگ احادیث پر عمل کریں گے ۔

العظيم آبادي، محمد شمس الحق (متوفاى1329هـ)، عون المعبود شرح سنن أبي داوود، ج 11   ص 255 ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت، الطبعة: الثانية، 1995م.

دوسری روايت

طبراني نے اس طرح نقل کیا ہے :

حدثنا أحمد قال حدثنا أبو جعفر قال حدثنا محمد بن سلمة عن أبى الواصل عن أبي الصديق الناجي عن الحسن بن يزيد السعدي أحد بني بهدلة عن أبي سعيد الخدري قال سمعت رسول الله يقول يخرج رجل من أمتي يقول بسنتي

میری امت سے ایک شخص خروج کرئے گا اور وہ میری سنت کے مطابق بات کرئے گا .

الطبراني، ابوالقاسم سليمان بن أحمد بن أيوب (متوفاى360هـ)، المعجم الأوسط، ج 2 ص 15  تحقيق: طارق بن عوض الله بن محمد،‏عبد المحسن بن إبراهيم الحسيني، ناشر: دار الحرمين - القاهرة – 1415هـ.

تیسری روايت

کتاب " السنن الواردة في الفتن ۔۔" میں اس قسم کی ایک اور روایت اس طرح نقل ہوئی ہے ۔اس کے مطابق امام مھدی علیہ السلام ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سنت کے مطابق ہی عمل کریں گے ۔

حدثنا عبدالله بن عمرو  حدثنا عتاب بن هارون حدثنا الفضل بن عبيدالله حدثنا عبدالله بن عمرو  حدثنا محمد بن سلمة  حدثنا أبو الواصل 4 عن أبي أمية الحبطى  عن الحسن بن يزيد  السعدي  عن أبي سعيد الخدري قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم يخرج رجل من أمتى  يعمل بسنتي ينزل الله له البركة من السماء

المقرئ الداني ،أبو عمرو عثمان بن سعيد الوفاة: 444 ،السنن الواردة في الفتن وغوائلها والساعة وأشراطها ج 5 ص 1063، دار النشر : دار العاصمة - الرياض - 1416 ، الطبعة : الأولى ، تحقيق : د. ضاء الله بن محمد إدريس المباركفوري

المقدسي الشافعي السلمي، جمال الدين، يوسف بن يحيي بن علي (متوفاى: 685 هـ)، عقد الدرر في أخبار المنتظر، ج 1 ص 229، طبق برنامه الجامع الكبير.

لہذا امام مھدی علیہ السلام جب ظہور فرمائیں گے تو اسی قرآن پر عمل کریں گے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سنت کے مطابق حکم کریں گے اور دین اسلام کے قوانین کو زمین پر لاگو کریں گے ۔

قرآن و سنت کے فراموش شدہ احکام  کو زندہ کرنا

طول تاریخ میں ظالم ،فاسق اور فاجر حاکموں نے اسلامی تعلیمات  میں اس حد تک بگاڑ پیدا کیا ہے اور دین اسلام کو اصلی حالت سے ہٹا کر کچھ اس طرح سے لوگوں کے لئے پیش کیا کہ حضرت مهدي عليه السلام اگر لوگوں کے پاس رائج اسلام سے انہیں دور کرنا اور قرآن اور اسلام کی حقیقت کو دکھانا چاہئے تو لوگ یہ تصور کرئیں گے کہ امام مھدی علیہ السلام  نے جدید قرآن اور جدید اسلام لایا ہے ۔ جبکہ آپ اسی اسلام کے مطابق عمل کریں گے جو ان کے جد بزرگوار حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ نے وحی کے توسط سے لایا تھا ، جیساکہ روایات میں  بھی اسی مطلب کی طرف واضح اشارہ موجود ہے ۔

 امام زمان عليه السلام سے متعلق روایات اور دعاوں میں آپ کو  قرآن کے تعطیل شدہ احکام کی تجدید اور احیاء کرنے والے کے طور پر یاد کیا ہے اور اس میں شک نہیں ہے کہ ان سب میں تجدید کتاب سے مراد قرآن کے معطل شدہ احکام کی تجدید اور احیاء ہی مراد ہے ۔  

ابن المشهدي نے مشہور دعای عہد میں نقل کیا ہے ؛

واجعله مفزعا للمظلوم من عبادك ، وناصرا لمن لا يجد ناصرا غيرك ، ومجددا لما عطل من احكام كتابك ، ومشيدا لما ورد من اعلام دينك وسنن نبيك صلى الله عليه وآله واجعله اللهم ممن حصنته من بأس المعتدين .

اے اللہ ! انہیں اپنے مظلوم بندوں کے  لئے پناہ اور مددگار گاہ قرار دے جن کے لئے تیرے سوا کوئی ناصر و مددگار نہیں ہے اور انہیں اپنی کتاب کے معطل شدہ احکام کے زندہ اور تجدید کرنے والے قرار دے، اور اپنے دین کی نشانیوں اور اپنے پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ کی سنتوں اور روشوں کو راسخ و مستحکم بنانے والا قرار دیں ۔

المشهدي الحائري، الشيخ أبو عبد الله محمد بن جعفر بن علي (متوفاى610هـ)، المزار،- ص 665 ، تحقيق: جواد القيومي الأصفهاني، ناشر: مؤسسة النشر الاسلامي، الطبعة : الأولى ، رمضان المبارك 1419هـ .

الكفعمي، متوفاي( 905 ) المصباح  552، بيروت، ناشر : مؤسسة الأعلمي للمطبوعات، چاپ : الثالثة، سال چاپ : 1403 - 1983م

اس دعا کو علامہ مجلسی نے نقل کیا ہے اور اس کی سند کو معتبر قرار دیتے ہوئے اس کے بارے میں لکھا ہے:

مَا رُوِيَ بِالْأَسَانِيدِ الْمُعْتَبَرَةِ عَنِ الصَّادِقِ ع أَنَّهُ قَالَ: مَنْ دَعَا إِلَى اللَّهِ تَعَالَى أَرْبَعِينَ صَبَاحاً بِهَذَا الْعَهْدِ كَانَ مِنْ أَنْصَارِ قَائِمِنَا فَإِنْ مَاتَ قَبْلَهُ أَخْرَجَهُ اللَّهُ مِنْ قَبْرِهِ وَ أَعْطَاهُ بِكُلِّ كَلِمَةٍ أَلْفَ حَسَنَةٍ وَ مَحَا عَنْهُ أَلْفَ سَيِّئَةٍ وَ هُوَ اللَّهُمَ‏ رَبَ‏ النُّورِ الْعَظِيمِ‏ الدُّعَاء

بحار الأنوار (ط - بيروت) ؛ ج‏53 ؛ ص327

جیساکہ پیغمبر صلي الله عليه و آله سے اس سلسلے میں نقل بھی ہوا ہے  :

.. إِنَّ الثَّانِيَ عَشَرَ مِنْ وُلْدِي يَغِيبُ حَتَّى لَا يُرَى وَ يَأْتِي عَلَى أُمَّتِي زَمَنٌ لَا يَبْقَى مِنَ الْإِسْلَامِ إِلَّا اسْمُهُ وَ لَا مِنَ الْقُرْآنِ‏ إِلَّا رَسْمُهُ‏ فَحِينَئِذٍ يَأْذَنُ اللَّهُ لَهُ بِالْخُرُوجِ فَيُظْهِرُ الْإِسْلَامَ وَ يُجَدِّدُ الدِّينَ

میرے بارویں فرزند غایب ہوں گے اور دکھائی نہیں دیں گے اور اس وقت ظاہر ہوں گے کہ جب اسلام کا صرف نام ہی باقی رہ گیا ہو ہوگا اور قرآن کے رسوم {الفاظ} ہی باقی ہوں گے ۔ اس وقت اللہ انہیں اجازت دے گا اور آپ اسلام کو ظاہر کریں گے اور دین کی احیاء اور دین  کی تجدید فرمائیں گے ۔

الخزاز القمي الرازي ، أبي القاسم علي بن محمد بن علي، كفاية الأثر في النص على الأئمة الاثني عشر ، ص15، تحقيق: السيد عبد اللطيف الحسيني الكوه كمري الخوئي، ناشر: انتشارات ـ قم، 140هـ .

خود امام مهدي عليه السلام سے منقول روایت میں اس طرح نقل ہوا ہے :

  اللَّهُمَّ جَدِّدْ بِهِ مَا امْتَحَى مِنْ‏ دِينِكَ‏ وَ أَحْيِ‏ بِهِ مَا بُدِّلَ مِنْ كِتَابِكَ وَ أَظْهِرْ بِهِ مَا غُيِّرَ مِنْ حُكْمِكَ حَتَّى يَعُودَ دِينُكَ بِهِ وَ عَلَى يَدَيْهِ غَضّاً جَدِيداً خَالِصاً مُخْلِصاً لَا شَكَّ فِيهِ ۔

 مصباح المتهجد و سلاح المتعبد / ج‏1 / 408 / خطبة أخرى ..... ص : 384

اے اللہ ! امام مهدي عليه السلام  کے ذریعے سے آپ محو شدہ دینی احکام کی تجديد اور احیاء فرمائے ۔ ان کے ذریعے اپنی کتاب کے بدلے ہوئے احکام کو زندہ کرئے، ان کے ذریعے اپنے دین کے تبدیل اور تغیر کیے ہوئے احکام کو آشکار فرمایا تاکہ آپ کا دین اسی اصلی حالت میں پلٹ کر آئے ، یہاں تک کہ ان کے ہاتھ سے آپ کے دین تر و تازہ اور تجدید ہو اور  دین ہر قسم کے انحراف اور بدعت سے پاک وپاکیزہ ہو اور کوئی شک و شبہہ باقی نہ رہے ۔

محمد بن الحسن بن علي بن الحسن ، مصباح المتهجد، ص 408 ، بيروت، مؤسسة فقه الشيعة - لبنان چاپ  الأولى ، سال چاپ : 1411 - 1991 م

شيخ طوسي نے ایک اور جگہ امام  رضا عليه السلام سے اس طرح نقل کیا ہے :

رَوَى يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ‏ أَنَّ الرِّضَا ع كَانَ يَأْمُرُ بِالدُّعَاءِ لِصَاحِبِ الْأَمْرِ بِهَذَا...  اللَّهُمَّ طَهِّرْ مِنْهُمْ بِلَادَكَ وَ اشْفِ‏ مِنْهُمْ‏ عِبَادَكَ وَ أَعِزَّ بِهِ الْمُؤْمِنِينَ وَ أَحْيِ بِهِ سُنَنَ الْمُرْسَلِينَ وَ دَارِسَ حُكْمِ النَّبِيِّينَ وَ جَدِّدْ بِهِ مَا امْتَحَى مِنْ دِينِكَ وَ بُدِّلَ مِنْ حُكْمِكَ حَتَّى تُعِيدَ دِينَكَ بِهِ وَ عَلَى يَدَيْهِ جَدِيداً غَضّاً مَحْضاً صَحِيحاً لَا عِوَجَ فِيهِ وَ لَا بِدْعَةَ مَعَهُ

اے اللہ !(کفار، جبار،ملحدين) کے وجود سے اپنے شہروں کو پاک کرئے اور ان کو ختم کرنے کے ذریعے اپنے مومن بندوں کے دلوں کو تشفی دئے اور انہیں عزت دے ۔ ان {امام مھدی علیہ السلام}کے وسیلے سے پرانہ سمجھے ہوئے  احکام کو  زندہ کرئے۔ان کے ذریعے سے جو چیز بھی آپ کے دین سے محو  اور تبدیل ہوئی ہوں ، انہیں زندہ کرئے یہاں تک کہ ان کے وسیلے سے آپ کا دین دوبارہ اصلی حالت پر پلٹ کر آئے ، آپ کا دین ان کے وسیلے سے تر و تازہ ہو اور ہر قسم کی ناخالصی اور بدعتوں اور انحرافات سے پاک و منزہ ہو ۔۔

الطوسي، الشيخ ابوجعفر محمد بن الحسن بن علي بن الحسن ، مصباح المتهجد، ص 410، بيروت، مؤسسة فقه الشيعة - لبنان چاپ  الأولى ، سال چاپ : 1411 - 1991 م

  امام مهدي عليه السلام کی غیبت کے دوران پڑھی جانے والی ایک دعا کو  شيخ صدوق نے اس طرح نقل کیا ہے :

وَتُطَهِّرَ مِنْهُمْ بِلَادَكَ وَ اشْفِ مِنْهُمْ صُدُورَ عِبَادِكَ وَ جَدِّدْ بِهِ مَا امْتَحَى مِنْ دِينِكَ‏ وأَصْلِحْ‏ بِهِ‏ مَا بُدِّلَ‏ مِنْ‏ حُكْمِكَ‏ وَ غَيِّرْ مِنْ سُنَّتِكَ حَتَّى يَعُودَ دِينُكَ بِه

الصدوق، ابوجعفر محمد بن علي بن الحسين (متوفاى381هـ)، كمال الدين و تمام النعمة، ج‏2 ؛ ص514، تحقيق: علي اكبر الغفاري، ناشر: مؤسسة النشر الاسلامي ( التابعة ) لجماعة المدرسين ـ قم، 1405هـ . (مكتبه اهل بيت)

  امام حسن عسگري عليه السلام کی زیارت نامے میں اس طرح نقل ہوا ہے کہ آپ کا فرزند دین کی تجدید اور دین کو احیاء کریں گے۔

علامه مجلسي نے سيد بن طاووس سے اس سلسلے میں نقل کیا ہے:

السلام عليك يا أبا الإمام المنتظر ، الظاهرة للعاقل حجته ، والثابتة في اليقين معرفته المحتجب عن أعين الظالمين ، والمغيب عن دولة الفاسقين ، والمعيد ربنا به الاسلام جديدا بعد الانطماس ، والقرآن غضا بعد الاندراس۔

 اے امام منتظر کے والد گرامی آپ پر درود و سلام ہو{ وہ امام منتظر کہ جس کا حجت ہونا عاقل کے لئے ظاہر اور آشکار ہے ۔۔۔ وہی شخص کہ جو ظالموں کی دید سے پنھان ہے۔ وہی شخص کہ ہمارے رب ، دین کو محو ہونے اور بگڑنے کے بعد ان کے وسیلے سے دوبارہ زندہ کرئے گا اور قرآن کو بوسیدہ ہونے کے بعد دوبارہ تازگی دئے گا۔

المجلسي، محمد باقر (متوفاى 1111هـ)، بحار الأنوار الجامعة لدرر أخبار الأئمة الأطهار، ج 99 ص 67، تحقيق: محمد الباقر البهبودي، ناشر: مؤسسة الوفاء - بيروت - لبنان، الطبعة: الثانية المصححة، 1403هـ - 1983م.

ایک اور روایت میں اشارہ ہوا ہے کہ حضرت مهدي عليه السلام جدید چیز کی طرف دعوت دیں گے اور یہ جدید ہونا اسلام کی غربت کی وجہ سے ہے ۔

نعماني نے اس طرح نقل کیا ہے :

 حدثنا أحمد بن محمد بن سعيد بن عقدة ، قال : حدثني علي بن الحسن التيملي ، قال : حدثني أخواي محمد وأحمد ابنا الحسن ، عن أبيهما ، عن ثعلبة بن ميمون وعن جميع الكناسي ، جميعا ، عن أبي بصير ، عن كامل ، عن أبي جعفر ( عليه السلام ) أنه قال إن قائمنا إذا قام دعا الناس إلى أمر جديد كما دعا إليه رسول الله ( صلى الله عليه وآله ) ، وإن الإسلام بدأ غريبا وسيعود غريبا كما بدأ ، فطوبى للغرباء

ابو بصير نے امام باقر عليه السّلام سے نقل کیا ہے کہ آپ نے فرمایا : «جب ہمارے قائم قیام کریں گے تو لوگوں کو ایک نئی چیز کی طرف دعوت دیں گے ۔جیساکہ  رسول اللہ صلّى اللَّه عليه و آله نے دعوت دی ، اسلام کا آغاز غریبانہ تھا اور پھر بعد میں بھی غریب ہوگا ۔ غریبوں کے لئے مبارک ہو ۔

النعماني ،محمد بن إبراهيم ،(متوفاي 380)،‌ كتاب الغيبة، ص ص 336، تحقيق : فارس حسون كريم، قم ناشر : أنوار الهدى ، سال چاپ : 1422، چاپ : الأولى

شيخ مفيد نے  امام‏ صادق عليه‏السلام سے نقل کیا ہے

وَ رَوَى مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع قَال‏ اذا قام‏القائم دعاالناس الى ‏الاسلام جديدا و هداهم الى امر قد دثر و ضل عنه‏الجمهور و انما سمى‏ القائم مهديا لانه يهدى الى امر مضلول عنه و سمى‏القائم لقيامة بالحق‏ ۔

 امام صادق عليه السلام نے فرمایا: جب ہمارے قائم قیام فرمائیں گے تو پھر سے لوگوں کو اسلام کی طرف دعوت دیں گے اور انہیں ایسی چیز کی طرف راہ نمائی کریں گے جو پرانی ہوچکی ہو اور اس کے نشان مٹ گیا ہو اور عام لوگ اس کی وجہ سے گمراہ ہوئے ہوں {تو امام مہدی علیہ السلام لوگوں کو اصلی اور حقیقی اسلام کی طرف دعوت دیں گے }ہمارے قائم کا نام مھدی ہے کیونکہ آپ لوگوں کو ایسی چیز کی طرف ہدایت کریں گے کہ جس کی نسبت سے لوگ غافل اور گمراہ ہوں گے ۔ قائم کو قائم اس لئے کہا ہے کیونکہ آپ حق کے ساتھ قیام کریں گے ۔

الشيخ المفيد، محمد بن محمد بن النعمان ابن المعلم أبي عبد الله العكبري البغدادي (متوفاى413 هـ)، الإرشاد في معرفة حجج الله علي العباد، ج 2 ص 383، تحقيق: مؤسسة آل البيت عليهم السلام لتحقيق التراث، ناشر: دار المفيد للطباعة والنشر والتوزيع - بيروت - لبنان، الطبعة: الثانية، 1414هـ - 1993 م.

امام مهدي عليه السلام سے متعلق ایک روایت میں نقل ہوا ہے کہ آپ قرآن کے تبدیل شدہ احکام کو زندہ کریں گے ۔   

اللهم ! جدد به ما امتحى من دينك وأحي به ما بدل من كتابك وأظهر به ما غير من حكمك حتى يعود دينك به وعلى يديه غضا جديدا خالصا مخلصا لا شك فيه وَ لَا شبهة معه ولا باطل عنده ولا بدعة لديه‏۔

اے اللہ !ان کے وسیلے سے آپ کے فراموش شدہ دین کو اور آپ کی کتاب کے تبدیل شدہ احکام کو پھر سے زندہ کرئے اور آپ کے تبدیل شدہ احکام کو ان کے وسیلے سے آشکار کردئے ، تاکہ آپ کا دین ان کے ہاتھوں پھر سے تازہ ، شاداب اور ہر طرح سے خالص ہو اور کوئی شک و شبھہ باقی نہ رہے ،یہاں تک کہ دین کے پاس باطل کا گزر بھی نہ ہو اور کوئی بدعت بھی باقی نہ رپے۔

الطوسي، الشيخ ابوجعفر محمد بن الحسن بن علي بن الحسن ، مصباح المتهجد،  - ص 408 ، بيروت، مؤسسة فقه الشيعة - لبنان چاپ  الأولى ، سال چاپ : 1411 - 1991 م

    الصدوق، ابوجعفر محمد بن علي بن الحسين (متوفاى381هـ)، كمال الدين و تمام النعمة، ج‏ 2 ؛ ص 514 تحقيق: علي اكبر الغفاري، ناشر: مؤسسة النشر الاسلامي ( التابعة ) لجماعة المدرسين ـ قم، 1405هـ . (مكتبه اهل بيت)

 

قرآن کے بارے  غلط نظریات کا سد باب ۔

بعض روایات میں ہے کہ امام مهدي عليه السلام  لوگوں کے غلط نظریات اور غلط افکار کو تبدیل کرنے کے ذریعے قرآن کو زندہ کریں گے جیساکہ حضرت علي عليه السلام نے امام مهدي عليه السلام  کے بارے خصوصی پر طور پر فرمایا ہے:

وَيَعْطِفُ الرَّأْيَ عَلَى الْقُرْآنِ إِذَا عَطَفُوا الْقُرْآنَ عَلَى الرَّأْيِ. وَ يُحْيِي مَيِّتَ الْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ.

جس وقت لوگ قرآن کو اپنے نظریات کے مطابق اور اپنے نظریات کر قرآن پر ٹھونسنے کی کوشش کریں گے تو آپ لوگوں کی راے اور نظریات کو قرآن کی طرف پلٹا دیں گے (یعنی لوگوں کے نظریات کو قرآن کی تفسیر کے لئے معیار قرار دینے کے بجائے، قرآن کے مطابق نظریات کی تصحیح کریں گے ،لوگوں کو اپنے غلط نظریات پر عمل کرنے سے منع کریں گے اور قرآن پر عمل کرنے کی دعوت دیں گے ) آپ کتاب اور سنت سے مٹائے ہوئے احکام کو دوبارہ زندہ کریں گے ۔

 نهج البلاغه خطبه 138.

لہذا نئی کتاب لانے کا مطلب لوگوں کے نظریات کو قرآن کے مطابق ڈالنا ہے۔ 

رسول اللہ (ص) کے دور میں رائج قرآن کی تلاوت کو رائج کرنا

ممکن ہے یہ بھی کہا جائے کہ قرآن کی تجدید سے مراد اسی قرائت قرآن کو زندہ کرنا ہو جو رسول اللہ (ص) کے دور میں رائج تھی ۔

  اسلام کے شروع میں پيامبر صلي الله عليه و آله ، اهل بيت اور اصحاب کی خاص قرائت تھی لہذا ممکن ہے تجدید سے مراد اسی پہلی والی قرائت کا احیاء ہو اور اسی کو لوگوں میں رواج دینا ہو ،جیساکہ اھل سنت کے علماء نے اسی قرآئت کی طرف اشارہ بھی کیا ہے ۔

ثعلبي نے اس سلسلے میں لکھا ہے :

 (مالك يوم الدين) اختلف القراء فيه من عشرة أوجه : الوجه الأول : مالك - بالألف وكسر الكاف - على النعت وهو قراءة النبي صلى الله عليه وسلم وأبي بكر وعمر وعثمان وعلي وطلحة والزبير وسعد وعبد الرحمن بن عوف وابن مسعود وأبي بن كعب ومعاذ بن جبل وابن عباس وأبي ذر وأبي هريرة وأنس ومعاوية ومن التابعين وأتباعهم عمر بن عبد العزيز ومحمد بن شهاب الزهري ومسلمة بن زيد والأسود بن يزيد وأبو عبد الرحمن السلمي وسعيد بن جبير وأبو رزين وإبراهيم وطلحة بن عوف وعاصم بن أبي النجود و . . . . . بن عمر...

«مالک يوم الدين» کی قرائت کے سلسلے میں دس اقوال ہیں، ان میں سے پہلی قرآئت مالک کو الف اور مالک کے کاف کو کسرہ کے ساتھ پڑھنا اور اس کو رب کے لئے صفت قرار دینا ہے ،یہ قرآئت ،پيامبر (ص) صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ،أبي بكر، عمر عثمان، علي ، طلحة، الزبير، سعد، عبد الرحمن بن عوف، ابن مسعود، أبي بن كعب، معاذ بن جبل، ابن عباس، أبي ذر، أبي هريرة، أنس، معاوية،   اور  تابعين  اور تابعين تابعين میں سے عمر بن عبد العزيز، محمد بن شهاب، مسلمه،اسود، ابوعبد الرحمان، سعيد بن جبير، أبو رزين، إبراهيم، طلحة بن عوف ، عاصم و ابن عمر، کی قرائت ہے ۔

الثعلبي النيسابوري، ابوإسحاق أحمد بن محمد بن إبراهيم (متوفاى427هـ)، الكشف والبيان، ج 1 ص 112 تحقيق: الإمام أبي محمد بن عاشور، مراجعة وتدقيق الأستاذ نظير الساعدي، ناشر: دار إحياء التراث العربي - بيروت، الطبعة: الأولى، 1422هـ-2002م.

تفسير قشيري میں( فَرَوْحٌ وَرَيْحَانٌ ) کے بارے میں پيامبر (صلي الله عليه وآله) کی قرائت کے مطابق «الروح»کی راء کو ضمہ اور پیش کے ساتھ پڑھنا ہے ۔

قشری لکھتا ہے :

وقيل : كانت قراءة النبي ( الرُّوح ) بضم

یہ کہا گیا ہے کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم «الروح» کے  را کو ضمہ کے ساتھ قرائت کرتے تھے ۔

القشيري النيسابوري الشافعي، ابوالقاسم عبد الكريم بن هوازن بن عبد الملك ، (متوفاى465هـ)، تفسير القشيري المسمي لطائف الإشارات، ج 3   ص 281 تحقيق: عبد اللطيف حسن عبد الرحمن، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت /لبنان، الطبعة: الأولى، 1420هـ ـ 2000م.

اسی طرح حضرت علي عليه السلام کی اپنی خاص قرئت تھی ۔

نحاس لکھت ہے۔:

( فرهان مقبوضة ) هذه قراءة علي بن أبي طالب رضي

" فرهان مقبوضه" پڑھنا حضرت علي عليه السلام کی قرائت کے مطابق ہے ۔

النحاس المرادي المصري، أبو جعفر أحمد بن محمد بن إسماعيل (متوفاى338هـ)، إعراب القرآن ،، ج 1   ص 348  تحقيق : د. زهير غازي زاهد ، ناشر : عالم الكتب - بيروت ، الطبعة : الثالثة ، 1409هـ ـ 1988م.

ایک اور جگہ پر لکھتا ہے :

وهي المعروفة من قراءة علي بن أبي طالب ۔۔۔۔

النحاس المرادي المصري، أبو جعفر أحمد بن محمد بن إسماعيل (متوفاى338هـ)، إعراب القرآن، ج 4   ص 170، تحقيق : د. زهير غازي زاهد ، ناشر : عالم الكتب - بيروت ، الطبعة : الثالثة ، 1409هـ ـ 1988م.

ایک اور جگہ پر لکھتا ہے :

خاتمه مسك ) وزعم أن هذه القراءة قراءة علي بن أبي طالب

النحاس المرادي المصري، أبو جعفر أحمد بن محمد بن إسماعيل (متوفاى338هـ)، إعراب القرآن، ج 5   ص 181تحقيق : د. زهير غازي زاهد ، ناشر : عالم الكتب - بيروت ، الطبعة : الثالثة ، 1409هـ ـ 1988م.

ثعلبي نے بھی حضرت علي عليه السلام کی قرائت کی طرف اس طرح اشارہ کیا ہے :

إنَّ الذين فرَّقوا دينهم ( قرأ حمزة والكسائي : فارقوا بالألف أي خرجوا من دينهم وتركوه وهي قراءة عليّ بن أبي طالب كرّم

الثعلبي النيسابوري، ابوإسحاق أحمد بن محمد بن إبراهيم (متوفاى427هـ)، الكشف والبيان، ج 4   ص 181 تحقيق: الإمام أبي محمد بن عاشور، مراجعة وتدقيق الأستاذ نظير الساعدي، ناشر: دار إحياء التراث العربي - بيروت، الطبعة: الأولى، 1422هـ-2002م.

شنقيطي نے بھی اس سلسلے میں لکھا ہے :

( أمرنا ) بالتشديد . وهي قراءة على رضي الله عنه .

الجكني الشنقيطي، محمد الأمين بن محمد بن المختار (متوفاى 1393هـ.)، أضواء البيان في إيضاح القرآن بالقرآن، ج 3 ص 77 تحقيق: مكتب البحوث والدراسات، ناشر: دار الفكر للطباعة والنشر. - بيروت. - 1415هـ - 1995م.

اب جب یہ معلوم ہوا ہے کہ اسلام کے شروع کے دور میں مختلف قرائتیں رائج تھیں اور اس اختلاف سے معنی میں بھی خلل نہیں پڑتا تھا اور یہ تحریف بھی شمار نہیں ہوتا ۔لہذا یہاں یہ بھی کہنا اور احتمال دینا صحیح ہے کہ حضرت مهدي عليه السلام کی طرف سے جدید کتاب اور قرآن سے مراد اسی قرآئت کو زندہ کرنا ہو، جو رسول اللہ (صلي الله عليه وآله) کے دور میں مرسوم تھی اور بعد والے اس قرآئت سے آشنا اور مانوس نہیں ہیں لہذا لوگ یہ خیال کریں گے کہ ایک جدید قرآن لایا ہے ۔  

قرآن کی شان نزول کے ساتھ تلاوت کے طریقے کا احیاء

روایات کے مطابق رسول اللہ صلي الله عليه و آله کے زمانے میں جب قرآن کی تلاوت ہوتی تھی تو صحابہ شان نزول کے ساتھ تلاوت کرتے تھے ،جیساکہ آیۃ تبلیغ کہ جو حضرت حضرت علی علیہ السلام کے بارے یں نازل ہوئی تھی، لوگ اس آیت کی تلاوت کے وقت آپ کا نام لیتے تھے، لہذا ممکن ہے جدید قرآن سے  مراد شان نزول کے ساتھ قرآن کی تلاوت ہو ۔

سيوطي نے اس بارے میں لکھا ہے ۔:

وأخرج ابن مردويه عن ابن مسعود قال : كنا نقرأ على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم ) يا أيها الرسول بلغ ما أنزل إليك من ربك ( ان عليا مولى المؤمنين ) وإن لم تفعل فما بلغت رسالته والله يعصمك من الناس

السيوطي، جلال الدين أبو الفضل عبد الرحمن بن أبي بكر (متوفاى911هـ)، الدر المنثور، ج 3   ص 117، ناشر: دار الفكر - بيروت – 1993.

الآلوسي البغدادي الحنفي، أبو الفضل شهاب الدين السيد محمود بن عبد الله (متوفاى1270هـ)، روح المعاني في تفسير القرآن العظيم والسبع المثاني،  ج 6   ص 193، ناشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت.

ابن مردويه، أبي بكر أحمد بن موسى الأصفهاني، متوفاي 410، مناقب علي بن أبي طالب (ع) وما نزل من القرآن في علي (ع) ص 240، تحقيق : جمعه ورتبه وقدم له : عبد الرزاق محمد حسين حرز الدين،‌چاپ : الثانية، سال چاپ : 1424 - 1382ش

اسی طرح ابن مردويه نے ایک اور جگہ پر  پیغمبر (ص) کے دور میں اس آیت کی تلاوت کے بارے میں لکھا ہے:

ابن مردويه ، عن ابن عباس : كنا نقرأ على عهد رسول الله : كفى الله المؤمنين القتال بعلي .

ابن مردويه نقل کرتے ہیں کہ اين عباس نے کہا :  ہم عصر پیغمبر صلي الله عليه و آلہ میں اس طرح تلاوت کرتے تھے کہ اللہ نے علی علیہ السلام کے واسطے سے مومنوں کو بے نیاز کیا ہے  ۔

ابن مردويه، أبي بكر أحمد بن موسى الأصفهاني، متوفاي 410، مناقب علي بن أبي طالب (ع) وما نزل من القرآن في علي (ع) مناقب علي بن أبي طالب (ع) وما نزل من القرآن في علي (ع) - أبي بكر أحمد بن موسى ابن مردويه الأصفهاني - ص 300 ، حقيق : جمعه ورتبه وقدم له : عبد الرزاق محمد حسين حرز الدين،‌چاپ : الثانية، سال چاپ : 1424 - 1382ش

سيوطي نے نقل کیا ہے کہ ابن مسعود اس آیت کی اسطرح تلاوت کرتا تھا۔

وأخرج ابن أبي حاتم وابن مردويه وابن عساكر عن ابن مسعود رضي الله عنه أنه كان يقرأ هذا الحرف ) وكفى الله المؤمنين القتال ( بعلي بن أبي طالب

السيوطي، جلال الدين أبو الفضل عبد الرحمن بن أبي بكر (متوفاى911هـ)، الدر المنثور، ج 6  ص 590، ناشر: دار الفكر - بيروت1993.

الآلوسي البغدادي الحنفي، أبو الفضل شهاب الدين السيد محمود بن عبد الله (متوفاى1270هـ)، روح المعاني في تفسير القرآن العظيم والسبع المثاني، ج 21 ،ص 175، ناشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت.

لہذا یہ احتمال دیا جاسکتا ہے کہ قرآن اور جدید کتاب سے قرآن کو شان نزول کے ساتھ تلاوت کرنا بھی مراد ہو ۔

حضرت امیر المومنین علیہ السلام کے جمع شدہ قرآن کا آشکار ہونا

ممکن ہے اس سےحضرت علي عليه السلام کی طرف سے  ترتيب نزول کے ساتھ  جمع شدہ قرآن کا آشکار کرنا مراد ہو ۔

روایات کے مطابق حضرت امام مھدی علیہ السلام جب ظہور فرمائیں گے تو آپ اسی قرآن کے مطابق حکم کریں گے کہ جو ان کے جد بزرگوار امام علی السلام نے جمع فرمایا تھا اور وہ قرآن حقیقت میں یہی قرآن ہے لیکن ترتیب نزول کے ساتھ جمع ہوا ہے ۔لہذا لوگ جب اس قرآن کو دیکھے تو خیال کرئیں گے کہ یہ کوئی جدید قرآن ہے ۔جبکہ یہ وہی قرآن ہے جو رائج ہے لیکن وہ ترتیب نزول کے مطابق ہے ۔

جیساکہ ابن حجر اس سلسلے میں لکھتا ہے :

علي أنه جمع القرآن على ترتيب النزول عقب موت النبي صلى الله عليه وسلم

علي عليه السلام نے پیغمبر (ص) کی رحلت کے بعد قرآن کو ترتیب نزول کے مطابق جمع فرمایا :

العسقلاني الشافعي، أحمد بن علي بن حجر ابوالفضل (متوفاى852 هـ)، فتح الباري شرح صحيح البخاري، ج 9  ص 52، تحقيق: محب الدين الخطيب، ناشر: دار المعرفة – بيروت

اسی طرح وہ لکھتا ہے :

إن مصحف على كان على ترتيب النزول أوله اقرأ ثم المدثر ثم ن والقلم ثم المزمل

علي عليه السلام  کا مصحف ترتيب نزول کے مطابق تھا ،یعنی اس طرح تھا کہ پہلے سورہ اقراء ،پھر سورہ مدثر،پھر ن والقلم ، پھر سورہ مزمل ۔

العسقلاني الشافعي، أحمد بن علي بن حجر ابوالفضل (متوفاى852 هـ)، فتح الباري شرح صحيح البخاري، ج 9   ص 42. تحقيق: محب الدين الخطيب، ناشر: دار المعرفة – بيروت

ابن سيرين نے بھی اسی کا اعتراف کیا ہے :

قال ابن سيرين فبلغنى أنه كتب على تنزيله ولو أصيب ذلك الكتاب لوجد فيه علم كثير

مجھ تک یہ بات پہنچی ہے کہ حضرت علي عليه السلام نے قرآن کو ترتیب نزول کے مطابق جمع کیا تھا،اگر ایسا ہو تو پھر یقینا اس میں بہت سے علوم ہوں گے ۔  

ابن عبد البر النمري القرطبي المالكي، ابوعمر يوسف بن عبد الله بن عبد البر (متوفاى 463هـ)، الاستيعاب في معرفة الأصحاب،  ج 3   ص 974، تحقيق: علي محمد البجاوي، ناشر: دار الجيل - بيروت، الطبعة: الأولى، 1412هـ.

الطبري، ابوجعفر محب الدين أحمد بن عبد الله بن محمد (متوفاى694هـ)، الرياض النضرة في مناقب العشرة، ج 2 ، ص 217، تحقيق عيسي عبد الله محمد مانع الحميري، ناشر: دار الغرب الإسلامي - بيروت، الطبعة: الأولى، 1996م.

الصفدي، صلاح الدين خليل بن أيبك (متوفاى764هـ)، الوافي بالوفيات، ج 17   ص 167، تحقيق أحمد الأرناؤوط وتركي مصطفى، ناشر: دار إحياء التراث - بيروت - 1420هـ- 2000م.

جیساکہ شیعہ کتابوں میں صحیح سند روایات موجود ہیں کہ جنکے مطابق امام مھدی علیہ السلام ،حضرت علی علیہ السلام کے جمع کردہ قرآن کے مطابق حکم کریں گے ۔

پہلی روايت

کليني نے اس سلسلے میں صحیح سند روایت نقل کی ہے :

محمد بن يحيى ، عن محمد بن الحسين، عن عبد الرحمن بن أبي هاشم ، عن سالم بن سلمة قال : قرأ رجل على أبي عبد الله ( عليه السلام ) وأنا أستمع حروفا من القرآن ليس على ما يقرؤها الناس ، فقال أبو عبد الله ( عليه السلام ) : كف عن هذه القراءة اقرأ كما يقرأ الناس حتى يقوم القائم فإذا قام القائم ( عليه السلام ) قرأ كتاب الله عز وجل على حده وأخرج المصحف الذي كتبه علي ( عليه السلام )

کسی نے امام صادق (ع) کے سامنے قرآن کے کچھ جملوں کی تلاوت کی اور اور میں سن رہا تھا وہ اسی طرح سے قرآئت نہیں کر رہا تھا جو طریقہ لوگوں میں رائج تھا ۔  امام صادق (ع) نے اس سے کہا : اس قرآئت سے اجتناب کرو اور اسی طرح قرائت کرو جس طرح لوگ تلاوت کرتے ہیں،یہاں تک کہ ہمارا قائم ظہور فرمائیں گے ۔تو آپ قرآن مجید کی اپنے طور پر تلاوت کریں گے ۔ آپ امام  علی علیہ سلام کے مصحف کو باہر نکالیں گے ۔

الكليني الرازي، أبو جعفر محمد بن يعقوب بن إسحاق (متوفاى328 هـ)، الأصول من الكافي، ج 2 ص 633، ناشر: اسلاميه‏، تهران‏، الطبعة الثانية،1362 هـ.ش.

سند کی تحقیق

محمد بن يحيي أبو جعفر العطار القمي

نجاشي نے ان کے بارے میں کہا ہے :                     

946 - محمد بن يحيى أبو جعفر العطار القمي

شيخ أصحابنا في زمانه ثقة عين كثير الحديث. له كتب منها: كتاب مقتل الحسين [عليه السلام‏] و كتاب النوادر أخبرني عدة من أصحابنا عن ابنه أحمد عن أبيه بكتبه.

محمد بن  يحيي اپنے زمانے کے ہمارے اصحاب کے بزرگوں میں سے ہیں آپ ثقہ اور قابل فخر شخصیت ہیں ۔

رجال النجاشي/باب‏الميم/353

شيخ طوسي نے کہا ہے :

  محمد بن يحيى العطار روى عنه الكليني قمي كثير الرواية.

محمد بن يحيي کثير الروايه میں سے ہیں ۔

رجال الطوسي/باب‏ذكرأسماء.../باب‏الميم/439

ابن داود نے بھی کہا ہے :

محمد بن يحيى أبو جعفر العطار لم [جخ‏] روى عنه الكليني و هو [قمي‏] كثير الرواية ثقة.

آپ  کثر الروايه اور ثقہ ہیں۔

رجال ابن ‏داود/الجزءالأول‏من.../باب‏الميم/340

علامہ حلي نے بھی کہا ہے :

محمد بن يحيى أبو جعفر العطار القمي شيخ من أصحابنا في زمانه ثقة عين كثيرا۔

محمد بن يحيي اپنے زمانے میں ہمارے اصحاب کے شیخ تھے آپ ثقہ اور جانی پہچانی شخصیت تھے ۔

الخلاصة للحلي/ الفصل‏الثالث‏و.../الباب‏الأول‏محمد/157

محمد بن الحسين أبي الخطاب:

نجاشي کہتے ہیں :

جليل من أصحابنا، عظيم القدر، كثير الرواية، ثقة، عين، حسن التصانيف، مسكون إلى روايته...

آپ شیعہ علماء میں بہت زیادہ عظیم المرتبت کے مالک ہیں ،آپ بہت زیادہ روایت نقل کرنے والوں میں سے اور ثقہ اور نمایاں شخصیت ہیں ۔ آپ نے بہت سی کتابیں تالیف کی ہیں اور اطمنان بخش روایتیں نقل کی ہیں ۔

رجال النجاشي، ص334.

شيخ طوسي نے ان کو «کوفي ثقه» کے عنوان سے یاد کیا ہے :

كوفي، ثقة.

رجال الطوسي، ص379؛ معجم رجال الحديث، ج16، ص308 ـ 309، رقم: 10581

عبد الرحمن بن محمد بن أبي هاشم البجلي أبو محمد :

نجاشي نے اس کے بارے میں لکھا ہے :

جليل من أصحابنا ثقة ثقة

آپ جلیل القدر اور ثقہ آدمی ہیں ۔

     رجال النجاشي/باب‏العين/236

علامه حلي نے لکھا ہے :

جليل من أصحابنا ثقة ثقة

الخلاصةللحلي /ص‏114

سالم بن سلمة:

ان کا نام سالم بن مكرم ہیں . نجاشي نے ان کے بارے میں کہا ہے:

أبو خديجة و يقال: أبو سلمه الكناسي. يقال صاحب الغنم مولى بني أسد الجمال. يقال: كنيته كانت أبا خديجة و أن أبا عبد الله عليه السلام كناه أبا سلمه ثقة ثقة

وہ ثقہ ہیں ،ثقہ  ہیں ۔

      رجال‏ النجاشي/باب‏السين/188

لہذا یہ روایت بلکل صحیح روایت ہے ۔

دوسری روايت  

مرحوم طبرسي نے حضرت علي عليه السلام کے قرآن کے بارے میں ایک طولانی روایت نقل کی ہے اور اس میں یہ کہا ہے کہ حضرت مهدي عليه السلام اسی قرآن کے مطابق حکم کریں گے ۔

فقال عليه السلام : نعم إذا قام القائم من ولدي ، يظهره وَ يَحْمِلُ‏ النَّاسَ‏ عَلَيْه‏ فتجري السنة به صلوات الله عليه ۔

حضرت علي عليه السلام نے عمر کی طرح سے آپ کے نسخے کو لینے سے انکار کیا تو ، آپ نے فرمایا : جب میری اولاد میں سے قائم ظہور کریں گے تو لوگوں کو قرآن ہر عمل کرنے کا حکم دیں گے اور سنت کو لاگو کریں گے ۔

الطبرسي، أبي منصور أحمد بن علي بن أبي طالب (متوفاى 548هـ)، الاحتجاج، ج 1 ص 228، تحقيق: تعليق وملاحظات: السيد محمد باقر الخرسان، ناشر: دار النعمان للطباعة والنشر - النجف الأشرف، 1386 - 1966 م.

تیسری روايت

امام باقر عليه السلام سے اس طرح نقل ہوا ہے :

وروى جابر ، عن أبي جعفر عليه السلام أنه قال : إذا قام قائم آل محمد عليه السلام ضرب فساطيط لمن يعلم الناس القرآن على ما أنزل الله جل جلاله فأصعب ما يكون على من حفظه اليوم ، لأنه يخالف فيه التأليف

امام باقر (ع) نے فرمایا : جب ہمارے قائم آل محمد (ع) قيام فرمائیں گے تو قرآن سیکھنے والوں کے لئے خیمے نصب کریں گے اور لوگ قرآن کو اسی ترتیب سے سیکھیں گے جس ترتیب سے  اللہ نے نازل فرمایا تھا ‏اور اس کو حفظ کرنا سخت ہوگا کیونکہ یہ ترتیب نزول کے مطابق ہوگا۔

الشيخ المفيد، محمد بن محمد بن النعمان ابن المعلم أبي عبد الله العكبري البغدادي (متوفاى413 هـ)، الإرشاد في معرفة حجج الله علي العباد، ج 2 ص 386، تحقيق: مؤسسة آل البيت عليهم السلام لتحقيق التراث، ناشر: دار المفيد للطباعة والنشر والتوزيع - بيروت - لبنان، الطبعة: الثانية، 1414هـ - 1993 م.

المجلسي، محمد باقر (متوفاى 1111هـ)، بحار الأنوار الجامعة لدرر أخبار الأئمة الأطهار، ج 52 ص 339، تحقيق: محمد الباقر البهبودي، ناشر: مؤسسة الوفاء - بيروت - لبنان، الطبعة: الثانية المصححة، 1403هـ - 1983م.

لہذا ممکن ہے امام مھدی علیہ السلام  کی طرف سے جدید کتاب لانے کا معنی حضرت علي عليه السلام کا ترتیب نزول کے مطابق لکھا ہوا قرآن پیش کرنا مراد ہو اور یہ قرآن ، آیات کی شان نزول ، تفسیر اور تاویل کے ساتھ ہوگا ، اس میں بہت سے علوم ہوں گے ،جیساکہ اھل سنت کی کتابوں میں بھی اس طرح اشارہ موجود ہے ۔

ممکن ہے قرآن لانے سے قرآن کی تاویل مراد ہو ۔

ممکن ہے جدید کتاب لانے سے قرآن کی تاویل مراد ہو ۔ (هل ينظرون إلا تأويله يوم يأتي تأويله) من الآيات التي تأويلها بعد تنزيلها قال:ذلك بعد قيام القائم۔۔۔۔۔۔۔

القمي، أبي الحسن علي بن ابراهيم (متوفاى310هـ) تفسير القمي، ج 1 ص 235، تحقيق: تصحيح وتعليق وتقديم: السيد طيب الموسوي الجزائري، ناشر: مؤسسة دار الكتاب للطباعة والنشر - قم، الطبعة: الثالثة، صفر 1404.

إلزام الناصب في إثبات الحجة الغائب - الشيخ علي اليزدي الحائري - ج 1 ص 59

یہاں تاویل سے مراد اھل بیت علیہ السلام کے بارے میں موجود فضائل والی آیات کی تاویل ہے جیساکہ  پیغمبر صلي الله عليه و آله نے ایک روایت کے مطابق  حضرت علي عليه السلام سے فرمایا :

حدثنا عبد اللَّهِ حدثني أبي ثنا حُسَيْنُ بن مُحَمَّدٍ ثنا فِطْرٌ عن إِسْمَاعِيلَ بن رَجَاءٍ الزبيدي عن أبيه قال سمعت أَبَا سَعِيدٍ الخدري يقول كنا جُلُوساً نَنْتَظِرُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَخَرَجَ عَلَيْنَا من بَعْضِ بُيُوتِ نِسَائِهِ قال فَقُمْنَا مَعَهَ فَانْقَطَعَتْ نَعْلُهُ فَتَخَلَّفَ عليها علي يَخْصِفُهَا فَمَضَى رسول اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَمَضَيْنَا معه ثُمَّ قام يَنْتَظِرُهُ وَقُمْنَا معه فقال ان مِنْكُمْ من يُقَاتِلُ على تَأْوِيلِ هذا الْقُرْآنِ كما قَاتَلْتُ على تَنْزِيلِهِ فَاسْتَشْرَفْنَا وَفِينَا أبو بَكْرٍ وَعُمَرُ فقال لاَ وَلَكِنَّهُ خَاصِفُ النَّعْلِ قال فَجِئْنَا نَبَشِّرُهُ قال وَكَأَنَّهُ قد سَمِعَهُ

ابوسعيد خدري نقل کرتے ہیں کہ ہم آنحضرت کے انتظار میں تھے اتنے میں آپ صلّى اللّه عليه و آله اپنی ازواج میں سے کسی کے حجرے سے باہر تشریف لائے ، اچانک آپ کے جوتے کا بند ٹوٹ گیا. على عليه السّلام نے جوتا لیا اور سینا شروع کیا . رسول خدا صلّى اللّه عليه و آله آگے چلنے لگے اور ہم بھی آپ کے ساتھ چل رہے تھے ، رسول خدا صلّى اللّه عليه و آله رک گئے، ہم بھی رگ گئے اور آپ صلّى اللّه عليه و آله ، حضرت على عليه السّلام کے آنے کے انتظار کرنے لگے اور آپ نے فرمایا: تم میں سے ایک قرآن کی تأويل کے لئے جنگ کریں گے ،جس طرح میں نے قرآن کی تنزيل کی خاطر جنگ کی . ابو بكر اور عمر نے کہا : کیا ہم وہی لوگ ہیں ؟ پيغمبر صلّى اللّه عليه و آله نے فرمایا : نه، بلکہ وہ جو جوتے کو سی رہا ہے ،ہم على عليه السّلام کی ملاقات کے لئے گیے ۔ ہم انہیں ان کی آئندہ کی ماموریت اور ذمہ داری کی خبر دینا اور ‏خوشخبری دینا چاہتے تھے، لیکن آپ نے کوئی خاص توجہ نہیں دی ،گویا آپ ، رسول اكرم صلّى اللّه عليه و آله ،سے پہلے یہ خبر سن چکے تھے ۔

الشيباني،  ابوعبد الله أحمد بن حنبل (متوفاى241هـ)، مسند أحمد بن حنبل، ج 3   ص 82، ناشر: مؤسسة قرطبة – مصر.

ھیثمی نے اس روایت کے بارے میں لکھا ہے ؛

رواه احمد ورجاله رجال الصحيح غير فطر بن خليفة وهو ثقة

الهيثمي، ابوالحسن نور الدين علي بن أبي بكر (متوفاى 807 هـ)، مجمع الزوائد ومنبع الفوائد، ج 9   ص 134، ناشر: دار الريان للتراث/‏ دار الكتاب العربي - القاهرة، بيروت – 1407هـ.

الباني نے اس روایت کے بارے میں کہا ہے :

 ( صحيح )

إن منكم من يقاتل على تأويل هذا القرآن كما قاتلت على تنزيله فاستشرفنا وفينا أبو بكر وعمر فقال : لا ولكنه خاصف النعل . يعني عليا رضي الله عنه

الألباني ، محمد ناصر الدين، السلسلة الصحيحة،ج 5، 639،  الرياض،الناشر : مكتبة المعارف

قرآن اور دین اسلام سے کہنگی اور  گرد و غبار کو ہٹانا

روایات میں اس بات کی طرف اشارہ ہوا ہے کہ ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ لوگ قرآنی اور اسلامی دستورات کو اہمیت نہیں دیں گے اور قرآن اور اسلام کا صرف رسم اور نام  اور ظاہری شکل ہی باقی رہے گی اور اس طرح لوگ قرآنی تعلیمات سے دور ہوں گے کہ گویا قرآن لوگوں کے درمیان ہے ہی نہیں ۔اسی لئے جب امام مھدی علیہ السلام ظہور فرمائیں گے اور قرآن کے احکام کو زندہ کرنا چاہیں گے اور قرآن اور اسلامی تعلیمات کو معاشرے میں لاگو کریں گے اور ان سے کہنگی اور گرد وغبار ہٹائیں گے اور صاف اور اصلی تعلیمات کو سامنے لائیں گے تو لوگ گویا خیال کریں گے کہ  آپ ایک نئی کتاب کے ساتھ تشریف لائیں ہیں  ۔

شيخ طوسي نے ایک صحیح سند روایت اس طرح نقل کی ہے :

 محمد بن الحسن الصفار عن محمد بن الحسين بن أبي الخطاب عن جعفر بن بشير ومحمد بن عبد الله بن هلال عن العلا بن رزين القلا عن محمد بن مسلم قال : سألت أبا جعفر ( عليه السلام ) عن القائم عجل الله فرجه إذا قام باي سيرة يسير في الناس ؟ فقال : بسيرة ما سار به رسول الله ( صلى الله عليه وآله ) حتى يظهر الاسلام  قُلْتُ وَ مَا كَانَتْ سِيرَةُ رَسُولِ اللَّهِ ص قَالَ أَبْطَلَ مَا كَانَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَ اسْتَقْبَلَ النَّاسَ بِالْعَدْلِ وَ كَذَلِكَ الْقَائِمُ ع إِذَا قَامَ يُبْطِلُ مَا كَانَ فِي الْهُدْنَةِ مِمَّا كَانَ فِي أَيْدِي النَّاسِ وَ يَسْتَقْبِلُ بِهِمُ الْعَدْلَ.

 

 علاء بن محمد نے حضرت باقر عليه السّلام سے پوچھا : قائم کس طرح لوگوں سے رفتار کریں گے ؟ فرمایا: پيغمبر (ص) کے طریقے کے مطابق عمل کریں گے اور اسلام کو آشکار کریں گے . میں نے عرض کیا: پیغمبر کی روش اور آپ کا طریقہ کیا تھا ؟ فرمایا: پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے کفر کے آثار مٹا دئے اور لوگوں کے ساتھ عدالت سے رفتار کیا اور قائم جب قیام فرمائیں گے تو ہر قسم کے غیر شرعی امور اور بدعتوں کو جو بیگانوں سے صلح کے دوران مسلمانوں میں مرسوم ہوئیں ہیں ،ان سب کو ختم کریں گے اور لوگوں کے ساتھ عدالت سے پیش آئیں گے ۔

الطوسي، الشيخ ابوجعفر محمد بن الحسن بن علي بن الحسن (متوفاى460هـ)، تهذيب الأحكام، ج 6 ص 154،  تحقيق : السيد حسن الموسوي الخرسان ، ناشر : دار الكتب الإسلامية ـ طهران ، الطبعة الرابعة،‌1365 ش .

علامه مجلسي نے اس روایت کو صحیح جانا ہے :

صحيح

مجلسى، محمد باقر بن محمد تقى‏، ملاذ الأخيار في فهم تهذيب الأخبار، ج‏9، ص: 409، محقق / مصحح: رجائى، مهدى، ناشر: كتابخانه آيه الله مرعشي نجفي‏، سال چاپ: 1406 ق چاپ: اول‏

اس سند کی تحقیق :

محمد بن الحبسن الصفار

نجاشي نے ان کی وثاقت کے بارے میں کہا ہے :

كان وجها في أصحابنا القميين ثقة عظيم القدر .

آپ قم کے ہمارے اصحاب میں سے جانی پہچانی شخصیت ، ثقه  اور بڑے مقام کے مالک تھے  ۔

رجال النجاشي /ص‏354 :

علامہ حلي نے کہا ہے :

كان وجها في أصحابنا القميين ثقة عظيم القدر راجحا قليل السقط في الرواية

الخلاصةللحلي /ص‏157 :

محمد بن الحسين بن أبي الخطاب

نجاشي کہتا ہے :

محمد بن الحسين بن أبي الخطاب أبو جعفر الزيات الهمداني و اسم أبي الخطاب زيد جليل من أصحابنا عظيم القدر كثير الرواية ثقة عين‏

آپ ہمارے اصحاب میں سے ایک ہیں ، آپ عظیم مقام کا مالک اور زیادہ روایات نقل کرنے والوں میں سے اور ثقہ ہیں ۔

رجال النجاشي/باب‏الميم/334

شيخ طوسي نے کہا ہے :

کوفي ثقة

فهرست ‏الطوسي /ص‏400

انہوں نے رجال طوسی میں بھی ان کی توثیق کی ہے ۔

ثقة

رجال الطوسي /ص‏379

جعفر بن بشير

نجاشي کہتے ہیں:

جعفر بن بشير أبو محمد البجلي الوشاء من زهاد أصحابنا و عبادهم و نساكهم و كان ثقة

آپ ہمارے اصحاب میں سے زھد پیشہ ،عبادت گزار اور ثقه انسان تھے ۔

رجال النجاشي/باب‏الجيم/119

شيخ طوسي نے بھی کہا ہے:

جعفر بن بشير البجلي ثقة جليل القدر

آپ  ثقه اور جليل القدر انسان تھے ۔

فهرست ‏الطوسي/باب‏الجيم/باب‏جعفر/109

علاء بن رزين القلاء

نجاشي نے کہا ہے :

العلاء بن رزين القلاء ...و كان ثقة

        رجال النجاشي/باب‏العين/ومن‏هذا.../298

شيخ طوسي نے کہا ہے :

العلاء بن رزين القلاء ..جليل القدر ثقة

   فهرست ‏الطوسي/باب‏العين/باب‏العلاء/322

حلي نے کہا ہے :

العلاء بن رزين القلاء ..ثقة ثقة

  رجال ابن ‏داود/الجزءالأول‏من.../باب‏العين‏المهملة/235

محمد بن مسلم

آپ اصحاب اجماع میں سے ہیں ۔

کشي نے کہا ہے :

اجتمعت العصابة على تصديق هؤلاء الأولين من أصحاب أبي جعفر

ان کی صداقت پر اجماع ہے ۔

  رجال‏ الكشي/الجزءالأول/الجزءالثالث/238

نجاشي نے کہا ہے :

وجه أصحابنا بالكوفة فقيه ورع صحب أبا جعفر و أبا عبد الله عليهما السلام و روى عنهما و كان من أوثق الناس

آپ کوفہ کے ہمارے اصحاب میں سے مشہور ،فقيه با تقوا اور امام باقر اورامام صادق عليهما السلام کے اصحاب میں سے ہیں  اور ثقہ ترین افراد میں سے ہیں۔

رجال النجاشي /ص‏324

پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس سلسلے میں ایک اور روایت اس طرح نقل ہوئی ہے ۔

.. إِنَّ الثَّانِيَ عَشَرَ مِنْ وُلْدِي يَغِيبُ حَتَّى لَا يُرَى وَ يَأْتِي عَلَى أُمَّتِي زَمَنٌ لَا يَبْقَى مِنَ الْإِسْلَامِ إِلَّا اسْمُهُ وَ لَا مِنَ الْقُرْآنِ‏ إِلَّا رَسْمُهُ‏ فَحِينَئِذٍ يَأْذَنُ اللَّهُ لَهُ بِالْخُرُوجِ فَيُظْهِرُ الْإِسْلَامَ وَ يُجَدِّدُ الدِّينَ

ہمارے فرزندوں میں سے بارویں غائب ہوگا اور دیکھائی نہیں دے گا اور آپ اس وقت ظاہر ہوں گے کہ اسلام کا صرف نام باقی ہوگا اور قرآن کے خط صرف باقی ہوگا اس وقت اللہ انہیں خروج کی اجازت دے گا اور آپ اسلام کو آشکار اور اسلام کی تجدید فرمائیں گے ۔

الخزاز القمي الرازي ، أبي القاسم علي بن محمد بن علي، كفاية الأثر في النص على الأئمة الاثني عشر ، ص15، تحقيق: السيد عبد اللطيف الحسيني الكوه كمري الخوئي، ناشر: انتشارات ـ قم، 140هـ .

ان روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ لوگ  قرآن اور دين پر عمل نہیں کریں گے اور اس آسمانی کتاب کی غربت اور فراموشی کا سبب بنے گا اور جب حضرت مهدي عليه السلام قرآن  اور اسلام کے احکام کو جاری کریں گے تو لوگوں کے لئے یہ نئی چیز ہوگی لہذا ایسا نہیں ہے کہ آپ ایک نیا قرآن اور نیا دین لے کر آئیں گے۔
لہذا روايات کے مطابق حضرت مهدي عليه السلام کا جدید قرآن لانے کا معنی یہ نہیں ہے کہ آپ موجودہ قرآن کے علاوہ کوئی اور قرآن لے کر آئیں گے ۔بلکہ مراد یہ ہے کہ آپ موجودہ قرآن کے فراموش شدہ احکام اور معطل شدہ احکام کو زندہ کریں 

 حضرت علي عليه السلام  کے جمع کردہ قرآن کو پیغمبر صلي الله عليه و آله کے زمانے کی قرائت کے ساتھ پیش کریں گے اور جب آپ بدعتوں اور باطل کو ختم کریں گے اور احکام اور حدود کو اسی طرح اسی طرح زندہ کریں گے جس طرح یہ احکام صادر ہوئے تھے تو لوگ یہ سمجھیں گے کہ یہ کوئی نئی چیز ہے اور نئی کتاب کے احکام ہیں ،لہذا اسی جہت سے کہتے ہیں کہ حضرت مهدي عليه السلام جديد کتاب لائیں گے .

مٹی ہوئی سنتوں کو آشکار کرنا ۔

جیساکہ نقل ہوا ہے کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد ان کی روایات پر پابندی اور انہیں آگ لگادی گئی  آگ لگادی گئی ؛

ذهبي نے اس سلسلے میں لکھا ہے :

 جمع أبي الحديث عن رسول الله و كانت خمسمائة حديث، فبات ليلته يتقلب كثيراً، قالت: فغمني، فقلت: أتتقلب لشكوى أو لشيء بلغك؟ فلما أصبح، قال: أي بنية هلمي الأحاديث التي عندك، فجئته بها، فدعا بنار فحرقها.

میرے والد (ابوبكر) نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی 500 احادیث کو جمع کیا اور رات سو گیا اور ادھر ادھر کروٹیں بدلتا رہا {کسی پریشانی کی وجہ سے سو نہیں پارہا تھا }عايشه کہتی ہے کہ میں بھی پریشان ہوئی ، میں نے کہا  : کیا کوئی مشکل پیش آئی ہے یا کوئی خبر آپ تک پہنچی ہے  ؟‌ جب صبح ہوئی تو مجھ سے کہا: میری بیٹی انہیں احادیث کو میرے پاس لائے جو میں نے تجھے دی ہے ،میں لے آئی ،انہوں نے آگ طلب کیا اور ان سب کو جلاڈالا۔

الذهبي الشافعي، شمس الدين ابوعبد الله محمد بن أحمد بن عثمان (متوفاى 748 هـ)، تذكرة الحفاظ، ج1، ص5 ناشر: دار الكتب العلمية  بيروت، الطبعة: الأولى.

اسی طرح نقل ہوا ہے کہ ابوبکر لوگوں کو احادیث نقل کرنے سے منع کرتا تھا۔

جمع الناس بعد وفاة نبيهم فقال إنكم تحدثون عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أحاديث تختلفون فيها والناس بعدكم أشد اختلافا فلا تحدثوا عن رسول الله شيئا فمن سألكم فقولوا بيننا وبينكم كتاب الله فاستحلوا حلاله وحرموا حرامه

ابوبکر نے  پيامبر (ص)‌ کی وفات کے بعد لوگون کو جمع کیا اور کہا : تم لوگ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایتیں نقل کرتے ہیں اور ان میں اختلاف کرتے ہیں اور ان میں لوگ تم لوگوں کے بعد زیادہ اختلاف کریں گے ۔لہذا تم لوگ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت نقل نہ کریں اور اگر کوئی سوال کرئے تو انہیں جواب دو کہ اللہ کی کتاب ہمارے اور تمہارے درمیان ہے اور یہی ہمارے لئے کافی ہے لہذا اس کے حلال کو حلال اور اس کے حرام کو حرام قرار دئے۔

الذهبي الشافعي، شمس الدين ابوعبد الله محمد بن أحمد بن عثمان (متوفاى 748 هـ)، تذكرة الحفاظ، ج 1   ص 2،ناشر: دار الكتب العلمية  بيروت، الطبعة: الأولى.

لہذا یہ جو کہا جاتا ہے کہ حضرت مهدي عليه السلام جدید سنت اور احکام کے ساتھ آئیں گے تو یہاں یہ احتمال دیا جاسکتا ہے کہ آپ انہیں چیزوں کو لائیں گے جن کو نابود اور ختم کی گئیں لہذا جب آپ ان چیزوں کو نقل کریں گے تو لوگ سوچیں گے کہ کوئی نئی چیز لے کر آئے ہیں۔

حضرت عيسي بھی دين اسلام کی تجدید فرمائیں گے ۔

اھل سنت کے علماء نے اعتراف کیا ہے کہ حضرت عيسي عليه السلام نزول کے بعد ،حضرت مهدي عليه السلام، کے زمانے میں،  پیغمبر صلي الله عليه و آله کے لائے ہوئے دین کی تجدید فرمائیں گے ۔

قرطبي نے  صحیح بخاری میں نقل «كيف أنتم إذا نزل بن مريم فيكم وإمامكم منكم» والی احادیث کے ذیل  لکھا ہے  :

قال علماؤنا رحمة الله عليهم : فهذا نص على أنه ينزل مجددا لدين النبي صلى الله عليه وسلم للذي درس منه لا بشرع مبتدأ

ہمارے علماء نے کہا ہے کہ یہ حدیث اس چیز پر نص ہے کہ حضرت عيسي نازل ہوں گے اور پیغمبر (ص) کے دین کی تجدید فرمائیں گے،اس دین کی جو بوسیدہ اور اور قدیمی حالت میں ہوکا اور  لوگ سمجھیں گے کہ آپ ایک نیا دین لے کر آئیں گے ۔

الأنصاري القرطبي، ابوعبد الله محمد بن أحمد بن أبي بكر بن فرح (متوفاى671هـ)، الجامع لأحكام القرآن، ج 16   ص 107 ناشر: دار الشعب – القاهرة.

ابن بطال نے بھی کہا ہے :

أن عيسى يأتى بتصحيح شريعة محمد

حضرت عيسي علیہ السلام  شريعت محمد صلي الله عليه و آيه کی تصحیح کے لئے آئیں گے ۔

إبن بطال البكري القرطبي، ابوالحسن علي بن خلف بن عبد الملك (متوفاى449هـ)، شرح صحيح البخاري، ج 6   ص 605 ،تحقيق: ابوتميم ياسر بن إبراهيم، ناشر: مكتبة الرشد - السعودية / الرياض، الطبعة: الثانية، 1423هـ - 2003م.

عيني نے بھی کہا ہے : عيسي (ع)  دین محمد (ص) کو آشکار کرنے کے لئے تشریف لائیں گے :

وأن الدين الحق هو الدين الذي هو عليه ، وهو دين الإسلام دين محمد صلى الله عليه وسلم الذي هو نزل لإظهاره وإبطال بقية الأديان..

دين حق وہی دین ہے کہ جو حضرت عیسی علیہ السلام کے پاس ہےاور یہ دین اسلام وہی دین محمد صلي الله عليه و آله ہی ہے ۔ جناب عیسی علیہ السلام  نازل ہوں گے اور اس دین کو ظاہر کریں گے اور باقی ادیان کو باطل کریں گے ۔

العيني الغيتابي الحنفي، بدر الدين ابومحمد محمود بن أحمد (متوفاى 855هـ)، عمدة القاري شرح صحيح البخاري، ج 12 ص 35 ناشر: دار إحياء التراث العربي،‌ بيروت.

لہذا جب حضرت عیسی علیہ السلام کے وسیلے سے دین کی تجدید فرمائیں گے ،اب اس کا معنی جدید دین لانا نہیں ہے ، بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لائے ہوئے دین کو آشکار کرنا ہے ،اب یہی بات حضرت امام مھدی علیہ السلام کے بارے میں بھی ہے ۔

 نتیجہ اور خلاصہ

پہچھلے مطالب سے مندرجہ ذیل چیزیں واضح ہوجاتی ہیں:

1. حضرت مهدي عليه السلام اسی قرآن کے ساتھ نازل ہوں گے اور پیغمبر (ص) کی سنت پر عمل کریں گے ۔

2. جدید کتاب سے مراد ، قرآن کے تعطیل شدہ احکام کو زندہ کرنا ہے اور  حضرت علي عليه السلام،کے قرآن کو لاگو کرنے کا مطلب بھی ممکن ہے  پیغمبر صلي الله عليه و آله کے دور کی قرائت کو زندہ کرنا یا قرآن کو شان  نزول کے مطابق تلاوت کرنا ہو۔۔۔۔۔۔

3.  حضرت علي عليه السلام کے جمع شدہ قرآن کو جو شان نزول کے ساتھ تھا، اس کو آشکار کرنا مراد ہو ۔

4. ممکن ہے نیا قرآن لانے سے مراد قرآن کی تاويل ہو ۔

5 . حضرت عيسي بھی  دين اسلام کی تجديد  کریں گے ۔

6. جدید دین اور اسلام سے مراد حضرت مهدي (ع)، کے ظهور کے وقت لوگوں کے درمیان باقی موجود خستہ اور فرسودہ حال دین میں نئی جان دینا اور دین کی حقیقت کو لوگوں کے لئے آشکار کرنا ہے ۔ حضرت مھدی علیہ السلام  دين اسلام کی تجدید اور احیاء فرمائیں گے ۔ لہذا نیا دین لانے سے دین اسلام کے علاوہ کوئی اور دین لانا مراد نہیں ہے ۔  

 حضرت مهدي عليه السلام کے ظہور سے ہی سنت، قضاوت ،شرعی احکام اور دین کے تبدیل شدہ اور معطل شدہ احکام کو لاگو کیا جائے گا ، یہاں تک کہ لوگ یہ خیال کریں گے کہ کوئی نیا دین اور نئی شریعت آئی ہے ۔

دوسرے الفاظ میں امام مھدی علیہ السلام کے انقلاب سے معاشرے میں ایک بنیادی اور اساسی تبدیلی  رانما ہوگی اور سب چیز زیر و زبر ہوگی،لوگ سوچیں گے کہ کوئی نیا دین لایا ہے جبکہ آپ دین اسلام کو ہی احیاء کریں گے اور  اسی دین کی ہی تجدید فرمائیں گے ،کیونکہ طول تاریخ میں حکومتیں ظالم اور جابر حاکموں کے ہاتھ میں رہیں اور ایسے ماحول اور حالات موجود رہیں کہ بہت سے دینی احکام پر عمل ہی نہیں ہوا اور بہت سے دینی احکام کو حاکموں نے اپنی مرضی سے تبدلیل کیا اور جب امام مھدی علیہ السلام  ظہور فرمائیں گے اور عالمی عادل پر مشتمل حکومت تشکیل دیں گے اور معطل شدہ احکام کو زندہ کریں گے تو یہ لوگوں کے لئے ایک نئی اور جدید چیز ہوگی ۔

 

شبھات کا جواب دینی والی ٹیم

تحقيقاتي ادارہ حضرت  ولي عصر (عج)

 

 





Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی