2021 May 19
تقیہ کی شرعی حیثیت ،شیعہ اور اھل سنت کے نظریات کا تقابلی جائزہ
مندرجات: ١٩٢٦ تاریخ اشاعت: ١٩ April ٢٠٢١ - ١٦:١٧ مشاہدات: 190
مضامین و مقالات » پبلک
تقیہ کی شرعی حیثیت ،شیعہ اور اھل سنت کے نظریات کا تقابلی جائزہ

 تقیہ کی شرعی حیثیت  ،شیعہ اور اھل سنت کے نظریات کا تقابلی جائزہ   

تقیہ کا معنی لغت اور اصطلاح میں :

تقیہ جائز پونے کے دلائل

تقیہ عقل کے آینے  میں :

تقیہ کے جواز پر قرآنی دلائل :

تقیہ شیعہ اور اہل سنت کی روایات کی نگاہ میں

ائمہ اہل بیت  علیہم السلام کی رویات میں تقیہ

اہل سنت کی روایات میں تقیہ :

اصحاب کی عملی زندگی اور ان کے اقوال میں تقیہ :

تقیہ ، شیعہ علماء کی نگاہ میں

تقيه اہل سنت کے علماء کی نظر میں :

کیا مسلمان کا مسلمان سے تقیہ جائز ہے ؟ 

تابعین کی عملی سیرت میں مسلمان سے تقیہ :

اھل سنت کے علماء کی سیرت میں مسلمانوں سے تقیہ:

تقیہ کے موارد 

نتيجه:

 

تقیہ کی شرعی حیثیت  ،شیعہ اور اھل سنت کے نظریات کا تقابلی جائزہ   

 تقیہ ایسے مسائل میں سے ہے جس کو بہانہ بناکر اہل سنت والے، خاص کر وہابی شیعوں کے خلاف خوب تبلیغ اور شور شرابہ کرتے ہیں ۔ شیعوں کو بدنام کرنے کے لئے ہر ممکن طریقے سے تقیہ کے موضوع سے خوب فائدہ اٹھاتے ہیں۔

اسی لئے یہ کہنا بہت حد تک صحیح ہے کہ اہل سنت والے اسی بہانے سے شیعوں کے ہر عمل کو تقیہ کی نگاہ سے ہی دیکھتے ہیں۔ شیعہ مخالفین تقیہ کا بہت ہی وسیع معنی لیتے ہیں اور شیعوں کے ہر عمل اور کردار کو شک کے آئینے میں دیکھتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ شیعہ ہمیشہ اور ہرکام میں تقیہ کرتے ہیں ۔

اسی لئے شیعہ جب اپنے اوپر ہونے والے کسی اعتراض اور الزام کا جواب دیتے ہیں تو آگے سے فورا جواب دیتے ہیں کہ آپ لوگ تقیہ کرتے ہو اور حقیقت کو چھپاتے ہو اور  کہہ دیتے ہیں : جواب دینے میں بھی تقیہ سے کام لیا ہے اور اس کا جواب دے تو پھر یہی کہتے ہیں کہ یہ بھی تقیہ ہے ۔

مثلا کہتے ہیں : شيعه تحريف قرآن کے قائل ہیں اور اگر کوئی شیعہ اس بات کو ماننے سے انکار کرتے ہوئے تحریف قرآن کے عقیدے کو رد کرے تو شیعہ مخالف کہتے ہیں ؛ یہاں بھی تقیہ سے کام لیا ہے  !!!

اسی طرح کہتے ہیں کہ شیعہ تمام مسلمانوں کو کافر سمجھتے تو ہیں لیکن علی الاعلان نہیں کہتے ہیں کیونکہ تقیہ سے کام لیتے ہیں اور حقیقت کو چھپاتے ہیں  !!!

 کہتے ہیں : شيعه تناسخ ارواح کے قائل ہیں ... یا اس قسم کے سینکڑوں شبہات اور تہمتیں کہ جو خاص کر وہابیوں کے مختلف چینلز اور سائیٹ اور دوسرے ذرائع سے نشر ہوتے ہیں ۔۔۔۔ان  سب میں تقیہ ہی کو نمایاں حیثیت حاصل ہے ۔

لیکن  تقيه کی حقيقت کے بارے میں تھوڑا بھی غور کرئے تو معلوم ہوگا کہ تقیہ نہ صرف اسلامی شریعت میں جائز ہے بلکہ یہ ایک ایسا فطری اور عقلی قانون ہے کہ جس کو سارے عقلاء قبول کرتے ہیں اور زندگی کے مختلف انفرادی اور اجتماعی امور میں اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔

طبيعي چیز ہے کہ ہر عاقل انسان جب عقیدے کے اظہار سے اپنی جان ،مال ، ناموس اور عزت کو خطرے میں دیکھتے ہیں تو وقتی طور پر اپنے عقیدے کے اظہار سے اجتناب کرتے ہیں  اور اپنے کو دشمن کے شر سے محفوظ رکھنے کی کوشش کرتے ہیں اور ایسا کام نہیں کرتے کہ جس سے دشمن کو کامیابی ملے اور اس کو اور اس کے مکتب فکر کو نابود کرنے کی سازش میں دشمن کامیاب ہوجائے ۔۔

 جیساکہ تقیہ کا معنی اپنے عقیدے سے مکمل ہاتھ اٹھانا نہیں ہے بلکہ  یہ  مقابلہ کرنے کی ٹیکنیک میں تبدیلی لانا ہے ۔ کیونکہ جب وہ یہ احساس کرئے کہ دشمن  اس کے مکتب فکر کو ختم کرنا چاہتا ہے تو دشمن سے مقابلے کی ٹیکنیک اور طریقہ تبدیل کرتا ہے ، براہ راست اور مستقیم طور پر دشمن کا سامنا کرنے کے بجائے غیر مستقیم طور پر دشمن سے مقابلہ کرتا ہے ۔ علی الاعلان مقابلہ کے بجائے مخفیانہ مقابلہ شروع کرتا ہے اور اس طرح مکمل نابود ہونے کے خطرے کو ڈالتا ہے اور اپنے اور اپنے مکتب کی حفاظت کرتا ہے ۔

جیساکہ اهل بيت عليهم السلام کے پیروکار ہمیشہ اقلیت میں رہے اور حکومتیں ان کے دشمنوں کے ہاتھ میں رہی۔ لہذا شیعوں نے بھی اس ٹیکنک سے زیادہ فائدہ اٹھایا اور اسی لئے یہ کہنا کافی حد تک صحیح ہے کہ مکتب تشیع کی حفاظت اور اس کی ترقی میں تقیہ کا بہت اہم کردار ہے .

اس ٹیکنکی مقابلے کا آغاز کرنے والا خود امير المؤمنین عليه السلام کی ذات گرامی ہیں، اگر شیعہ تاریخ کے بعض ادوار ، خاص کر بنی امیہ کے دور  میں اس ٹیکنیک سے فائدہ نہ اٹھاتے تو شیعوں کا شاید نام و نشان باقی نہ رہتا اور دشمن شیعی فکر کا خاتمہ کردیتا ۔

شیعہ دشمنوں نے بھی تقیہ کی اس اہمیت کا اندازہ اور شیعہ مکتب کی حفاظت میں تقیہ کے کردار اور اثر کو جانچا لیا تھا ۔ لہذا سب سے زیادہ تقیہ کے نظریے کو غلط اور غیر شرعی نظریہ قرار دینے کی کوشش کی ۔ اسی لئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ شیعہ مخالفین کا مقصد بھی امیر المومنین کے شیعوں اور مکتب اہل بیت کو نابود کرنا تھا ۔ کیونکہ شیعہ سخت ماحول میں  تقیہ نہ کرتے تو دشمن ان کی شناخت حاصل کرتا اور اور شیعوں کو نابود کرنے میں کامیاب ہوتا۔

بعض شیعہ مخالفوں مثلا ابن تيميه حراني، جیسے لوگ تقیہ کو غلط  اور غیر شرعی کام ثابت کرنے کے زیادی روی سے کام لیتے ہوئے اس کو نفاق  اور الحاد سے تعبیر کی ہے اور شیعوں کو اسی وجہ سے یہودیوں سے بھی تشبیہ دی ہے۔

ابن تيميه  منهاج السنة میں لکھتا ہے :

وما ذكره موجود في الرافضة وفيهم أضعاف ما ذكر ... منها غيرهم مشابهة للسامرة الذين هم شر اليهود ولهذا يجعلهم الناس في المسلمين كالسامرة في اليهود ومثل استعمالهم التقية وإظهار خلاف ما يبطنون من العداوة مشابهة لليهود ونظائر ذلك كثير ... .

جو چیزیں شیعوں میں رائج ہیں ،انہیں چیزوں میں سے بعض چیزیں سامریوں  میں رائج چیزوں کے مشابہ ہیں اور سامری یہودی قوم میں بدترین قوم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ شیعوں کو مسلمانوں کے درمیان سامری کی طرح سمجھتے ہیں۔

 شیعوں کے انہی کاموں میں سے ایک تقیہ اور اندر کی بات کو چھپانا ہے  مثلا دوسروں سے دشمنی کو چھپانے کی جہت سے یہ یہودیوں کی طرح ہے  اور شیعوں میں اس قسم کے کام بہت ہے ۔ 

ابن تيميه الحراني، أحمد عبد الحليم أبو العباس (متوفاي728 هـ)، منهاج السنة النبوية، ج 1، ص 37، تحقيق: د. محمد رشاد سالم، ناشر: مؤسسة قرطبة، الطبعة: الأولى، 1406هـ .

ایک اور جگہ ابن تیمیہ تقیہ کرنے کی وجہ سے شیعوں کو واضح انداز میں منافق ، زندیق اور ملحد لکھتا ہے ۔

وأما الرافضة فأصل بدعتهم عن زندقة وإلحاد وتعمد الكذب كثير فيهم وهم يقرون بذلك حيث يقولون ديننا التقية وهو أن يقول أحدهم بلسانه خلاف ما في قلبه وهذا هو الكذب والنفاق.

رافضیوں کے بدعتی کاموں کا سرچشمہ زندیق اور الحاد ہے ،جان بوجھ کر جھوٹ بولنا ان میں بہت زیادہ رائج ہے اور خود یہ لوگ اس چیز کا اعتراف بھی کرتے ہیں ۔ یہ لوگ کہتے ہیں:  تقیہ ہمارا دین ہے اور تقیہ یہ ہے  کہ زبان سے کوئی بات کہہ دئے لیکن دل میں وہ اس کے خلاف عقیدہ رکھتا ہے اور یہ وہی جھوٹ اور منافقت ہے ۔

ابن تيميه الحراني، أحمد عبد الحليم أبو العباس (متوفاي728 هـ)، منهاج السنة النبوية، ج 1، ص 68، تحقيق: د. محمد رشاد سالم، ناشر: مؤسسة قرطبة، الطبعة: الأولى، 1406هـ .

ایک اور جگہ وہ لکھتا ہے :

علامات النفاق وأسبابه ليست في أحد من أصناف الأمة اظهر منها في الرافضة حتى يوجد فيهم من النفاق الغليظ الظاهر ما لا يوجد في غيرهم وشعار دينهم التقية التي هي أن يقول بلسانه ما ليس في قلبه وهذا علامة النفاق.

منافقت کی نشانیاں اور علامتیں شیعوں میں باقی امت والوں سے زیادہ واضح اور روشن ہیں ۔شیعوں میں ایسی شدید قسم کی منافقت پائی جاتی ہے کہ جو دوسروں کے ہاں موجود نہیں ہے ۔ ان کی پہچان اور شعار تقیہ ہے ،یعنی جو بات اور اعتقاد دل میں ہے ، زبان سے اس کے خلاف کسی چیز کا اظہار کرنا  اور یہی نفاق کی نشانی ہے۔

ابن تيميه الحراني، أحمد عبد الحليم أبو العباس (متوفاي728 هـ)، منهاج السنة النبوية، ج 7، ص 151، تحقيق: د. محمد رشاد سالم، ناشر: مؤسسة قرطبة، الطبعة: الأولى، 1406هـ .

ابن تیمیہ کی طرف سے اس قسم کی سخت تعبیر اور الفاظ کا استعمال اور شیعوں کے خلاف اس طرح زہر اگلنا ، تقیہ کی ٹیکنیک کی اہمیت کو ہمارے لئے زیادہ واضح انداز میں بیان کرتا ہے ۔

ہم آگے چل کر ثابت کریں گے کہ نہ صرف شیعوں کی نگاہ میں یہ شرعی طور پر ثابت ہے بلکہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ، ان کے اصحاب ، تابعین اور اہل سنت کے بزرگوں کی نگاہ میں بھی یہ جائز اور شرعی عمل ہے اور ان سب نے اسی پر عمل بھی کیا ہے ۔لہذا اگر اس کی وجہ سے کسی کو منافق اور زندیق اور یہودی یا ۔۔۔۔۔ کہا جاسکتا ہے تو پھر اصحاب اور خود ابن تیمیہ کے ہمفکر لوگ اس کے زیادہ مستحق ہوگا۔

  ہم تقیہ کی حقیقت سے زیادہ اور بہتر آشنائی کے لئے پہلے تقیہ کے لغوی معنی کی تحقیق کرتے ہیں اور پھر بعد میں تقیہ کے جائز ہونے کے دلائل اور پھر تاریخی اعتبار سے اصحاب ، تابعین اور اہل سنت کے علماء اور عوام میں تقیہ کے رائج ہونے سے بحث کریں گے ۔

 لغت میں تقیہ کا معنی :

تقيه، باب «اتقي يتقي» کا مصدر ہے اس کا معانی محفوظ رہنا ، اپنے آپ کو بچانا اور اپنی حفاظت کرنا ہے ۔

لغت شناس ، فيروز آبادي (متوفاي817هـ) لکھتے ہیں :

اتقيت الشي‏ء، وتقيته أتقيه... : حذرته.

میں نے کسی چیز سے تقیہ کیا ،یعنی  «اس سے اپنے آپ کو بچایا ».

الفيروزآبادي، محمد بن يعقوب (متوفاي: 817 هـ)، القاموس المحيط، ج 1 ص 1731، ناشر: مؤسسة الرسالة – بيروت.

جوهري کہتے ہیں :

والتقاة: التقيّة.

«تقاة» کا لفظ (کہ جو قرآن میں آیا ہے ) یہ تقیہ کے معنی میں ہے .

الجوهري، إسماعيل بن حماد، (متوفاي393هـ)، الصحاح تاج اللغة وصحاح العربية، ج6، ص2527، تحقيق: أحمد عبد الغفور العطار، ناشر: دار العلم للملايين - بيروت، الطبعة: الرابعة، 1407هـ - 1987 م.

ابن منظور نے لسان العرب میں لکھا ہے :

تقى يتقي بمعنى استقبل الشيء و توقاه... وروي عن أبي العباس أنه سمع ابن الأعرابي يقول: واحدة التقى تقاة ... .

وفي الحديث: إنما الإمام جنة يتقى به ويقاتل من ورائه أي أنه يدفع به العدو ويتقى بقوته ... .

وفي الحديث: كنا إذا احمر البأس اتقينا برسول الله، أي جعلناه وقاية لنا من العدو قدامنا واستقبلنا العدو به وقمنا خلفه وقاية ... .

تَقِیَ کا معنی کسی چیز کا سامنا کرنا اور  اپنے آپ کو  اس سے بچانا ہے۔۔۔۔ أبو العباس نے ابن عربی سے سنا ہے : تقاة کا معنی ایک دفعہ تقیہ کرنا ہے ... اور روایت میں آیا ہے  کہ امام ایک ڈھال ہے ،انسان امام کے ذریعے سے آپنے آپ کو بچاتا ہے اور ان کے پیچھے پیچھے جنگ کرتا ہے ، یعنی امام کے وسیلے سے وہ اپنے دشمن کو دور کرتا ہے اور امام کی طاقت کے ذریعے سے آپنے کو بچاتا ہے ... .

روایت میں آیا ہے : جس وقت گمسان کی جنگ ہوتی تو ہم اپنے  آپ کو رسول خدا (ص) کی پناہ میں قرار دیتے ؛ یعنی ان کے وسیلے سے آپنے کو دشمن سے بچاتے ، دشمن کی طرف جاتے اور رسول اللہ (ص)  کے پیچھے بیٹھ کر خود کو بچاتے ۔

الأفريقي المصري، محمد بن مكرم بن منظور (متوفاي711هـ)، لسان العرب، ج 15، ص 403، ناشر: دار صادر - بيروت، الطبعة: الأولى.

لہذا لغت شناسوں کے کلمات سے یہ نتیجہ ہمیں ملتا ہے ؛ تقیہ سے مراد کسی چیز کے ضرر و نقصان ،آذیت و آزار سے بچاو،،اپنی حفاظت کرنا اور محفوظ رہنا ہے ۔اور یہ تقیہ کا وہی اصطلاحی معنی بھی ہے کہ جو شیعہ اس کے اصطلاحی معنی کے بیان میں پیش کرتے ہیں ۔

اصطلاح میں تقیہ سے مراد :

جیساکہ بیان ہوا تقیہ کے لغوی معنی میں لغت شناسوں کے بیان کے درمیان کوئی زیادہ فرق نہیں ہے، اسی طرح اس کے اصطلاحی معنی میں بھی کوئی خاص فرق نہیں ہے شیعہ اور اہل سنت کے علماء نے اس کی تعریف میں تقریبا ایک  جیسے کلمات استعمال کیے ہیں ۔

ہم پہلے شیعہ علماء کی بیان کردہ تعریف اور پھر بعد میں اہل سنت کے علماء کی طرف سے پیش کردہ تعریف یہاں نقل کرتے ہیں ۔

  اهل بيت عليهم السلام کے پیروکار علماء اور تقیہ کی تعریف :

شیعہ علماء اور فقہاء نے مختلف انداز اور کلمات کے ذریعے تقیہ کی تعریف کی ہے لیکن سب کے مضمون اور مفہوم ایک ہے .

شيخ مفيد رضوان الله تعالي عليه (متوفاي413هـ) تقیہ کی تعریف میں لکھتے ہیں :

التقية:كتمان الحق وستر الاعتقاد فيه، ومكاتمة المخالفين، وترك مظاهرتهم بما يعقب ضرراً في الدين أو الدينا، وفرض ذلك إذا علم بالضرورة، أو قوي في الظن، فمتى لم يعلم ضرراً بإظهار الحق، ولا قوي في الظن ذلك لم يجب فرض التقية، وقد أمر الصادقون( جماعة من أشياعهم بالكف والإمساك عن إظهار الحق والمباطنة والستر له عن أعداء الدين والمظاهرة لهم بما يزيل الريب عنهم في خلافهم، وكان ذلك هو الأصلح لهم، وأمروا طائفة أخرى من شيعتهم بمكالمة الخصوم ومظاهرتهم ودعائهم إلى الحق لعلمهم بأنه لا ضرر عليهم في ذلك، فالتقية تجب بحسب ما ذكرناه ويسقط فرضها في مواضع أخرى على ما قدمناه.

تقيه : حق کو چھپانا اور حق کےبارے میں اپنے اعتقاد کو مخفی رکھنا ہے ؛ حق پر پردہ ڈالنا اور دشمنوں سے اس کو چھپانا ہے ؛ دشمن کے سامنے ایسا کام انجام نہ دینا کہ جس کو انجام دینے کی وجہ  دین اور دنیا کو دشمن نقصان پہنچائے سکے ۔

تقیہ تب واجب ہوگا کہ جب اس بات پر یقین یا قوی احتمال حاصل ہو کہ حق کا اظہار کرنے کی وجہ سے دشمن اسے نقصان پہنچائے گا ۔لیکن اگر دشمن کی طرف سے حق کا اظہار کرنے کی وجہ سے نقصان پہنچانے کا قوی امکان نہ ہو تو تقیہ واجب نہیں ہے ۔

ہمارے ائمہ اپنے بعض پیروکاروں کو دشمنوں سے  اپنے عقائد اور نظریات کو چھپانے  اور حق کا اظہار نہ کرنے کا حکم دیتے تھے، تاکہ دشمن انہیں نہ پہچان پائے اور یہ طریقہ ان کے حق میں بہتر تھا ۔

لیکن ائمہ بعض کو حکم دیتے تھے کہ وہ اپنے دشمنوں سے گفتگو کرئے اور حق کو ان پر واضح کر دئے اور انہیں حق کی طرف دعوت دئے۔کیونکہ ائمہ جانتے تھے کہ اس گروہ کے لوگوں کو حق کا اظہار کرنے سےنقصان نہیں پہنچے گا ۔لہذ تقیہ بعض جگہوں پر واجب ہے ، بعض جگہوں پر جائز ہے ۔۔

الشيخ المفيد، محمد بن محمد بن النعمان ابن المعلم أبي عبد الله العكبري، البغدادي (متوفاي413 هـ)، تصحيح اعتقادات الإمامية، ص 66 تحقيق: حسين درگاهي، ناشر: دار المفيد للطباعة والنشر والتوزيع - بيروت - لبنان، الطبعة: الثانية، 1414هـ ـ 1993 م.

امين الإسلام طبرسي (متوفاي548هـ) تقيه کی تعریف میں لکھتے ہیں :

والتقية: الإظهار باللسان خلاف ما ينطوي عليه القلب، للخوف على النفس.

تقيه : جان کو خطرہ ہونے کی وجہ سے دل میں موجود عقیدے کے خلاف زبان پر کسی چیز کا اظہار کرنا ۔ {تاکہ جان محفوظ رہ سکے}

الطبرسي، أمين الاسلام أبي علي الفضل بن الحسن (متوفاي548هـ)، مجمع البيان في تفسير القرآن، ج 2، ص 272. تحقيق وتعليق: لجنة من العلماء والمحققين الأخصائيين، ناشر: مؤسسة الأعلمي للمطبوعات - بيروت - لبنان، الطبعة: الأولى، 1415هـ - 1995 م.

محمد مكي، مشهور به شهيد اول (متوفاي786هـ) آپ اس سلسلے میں  لکھتے ہیں :

والتقية: مجاملة الناس بما يعرفون، وترك ما ينكرون، حذرا من غوائلهم. كما أشار إليه أمير المؤمنين عليه السلام.

تقيه یعنی لوگوں کے ساتھ ایسا کردار اپنانا کہ جس کو لوگ قبول کرتے ہو اور جس چیز کو لوگ قبول نہیں کرتے اس کو انجام نہ دینا تاکہ اس طریقے سے لوگوں کے گزند سے محفوظ رہے جیساکہ امیر المومنین علیہ السلام نے ایسا رفتار اپنایا۔

مكي العاملي، أبي عبد الله محمد بن المعروف ب‍ الشهيد الأول (متوفاي786 هـ )، القواعد والفوائد في الفقه والأصول والعربية، ج 2، ص 155، تحقيق: السيد عبد الهادي الحكيم‌، ناشر: منشورات مكتبة المفيد ـ قم.

محقق كركي رضوان الله عليه (متوفاي940هـ) اس سلسلے میں لکھتے ہیں :

اعلم أن التقية جائزة وربما وجبت، والمراد بها: إظهار موافقة أهل الخلاف في ما يدينون به خوفا. والأصل فيه قبل الاجماع ما اشتهر من أقوال أهل البيت عليهم السلام وأفعالهم.

جان لیں تقیہ کبھی جائز ہے اور کبھی واجب ہے ۔ تقیہ کا معنی یہ ہے کہ خوف کی وجہ سے ظاہری طور پر ایسا عمل انجام دینا جس کے مخالف لوگ معتقد ہوں ۔اس کے واجب ہونے کی دلیل اجماع بھی ہے ، لیکن اجماع سے پہلے تقیہ کے واجب ہونے کی دلیل ائمہ علیہم السلام کے مشہور فرامین ہیں ۔

الكركي، المحقق الثاني الشيخ علي بن الحسين (متوفاي940هـ) رسائل المحقق الكركي، ج 2، ص 51، تحقيق: الشيخ محمد الحسون / إشراف: السيد محمود المرعشي، ناشر: مكتبة آية الله العظمى المرعشي النجفي - قم، الطبعة: الأولى، 1409هـ).

شيخ انصاري رحمة الله عليه (متوفاي1281هـ)  لکھتے ہیں :

والمراد هنا التحفّظ عن ضرر الغير بموافقته في قول أو فعل مخالف للحقّ.

تقیہ سے مراد ضرر سے محفوظ رہنے کے لئے حق کے خلاف زبانی یا عملی طور پر ضرر پہنچانے والے کا ساتھ دینا اور اس کے ساتھ ہمراہی کرنا ۔

الأنصاري، الشيخ مرتضي (متوفاي1282هـ) التقيّة، ص 37، تحقيق: الشيخ فارس الحسون، ناشر: مؤسسة قائم آل محمد (عج) - قم، الطبعة: الأولى، 1412هـ .

سيد بجنوري (متوفاي1395هـ) لکھتے ہیں :

هي عبارة عن إظهار الموافقة مع الغير في قول، أو فعل، أو ترك فعل يجب عليه، حذراً من شرّه، الذي يحتمل صدوره بالنسبة إليه، أو بالنسبة إلى من يحبّه مع ثبوت كون ذلك القول، أو ذلك الفعل، أو ذلك الترك مخالفاً للحقّ عنده.

تقيه سے مراد ظاہری طور پر زبانی یا  عملی طور پر دوسرے کا ساتھ دینا ، اسی طرح  کسی کام کو انجام نہ دینے کے ذریعے ضرر پہنچانے والے کے ضرر اور شر سے محفوظ رہنے کے لئے واجب کام کو چھوڑنا ۔ اور ایسا کرنا اس وقت واجب ہے کہ جب یہ احتمال موجود ہو کہ  اس کے نذدیک ثابت شدہ حق کا اظہار کرنے اور حق کے مطابق کردار اپنانے سے خود اس کو یا اس کے کسی نزدیکی رشتہ دار کو اس سے نقصان پہنچ جائے گا  ۔

الموسوي البجنوردي، السيد محمد حسن (متوفاي1395هـ)، القواعد الفقهيّة، ج5، ص47، تحقيق: مهدي المهريزي - محمد حسين الدرايتي، ناشر: نشر الهادي - قم – ايران، الطبعة: الأولى، 1419هـ .

اہل سنت کے علماء اور تقیہ کی تعریف :

محمد بن جرير طبري نے اپنی  تفسير میں ضحاك کے نظریے کو یوں نقل کیا ہے :

... سمعت الضحاك يقول في قوله «إلا أن تتقوا منهم تقاة» قال: التقية باللسان من حمل على أمر يتكلم به وهو لله معصية فتكلم مخافة على نفسه وقلبه مطمئن بالإيمان فلا إثم عليه.

... ضحاک سے سنا ہے کہ وہ اللہ کے اس کلام  «إلا أن تتقوا منهم تقاة»  کے بارے میں کہتا تھا: یہاں زبانی تقیہ مراد ہے، کسی کو ایسی بات کہنے پر مجبور کر دے کہ جس سے اللہ کی نافرمانی لازم آتا ہو  اور وہ مجبور شخص اپنی جان بچانے کے لئے وہ بات زبان پر لائے اور ساتھ ہی اس کا دل ایمان سے مستحکم ہو  ۔لہذا ایسی صورت میں وہ گناہ گار نہیں ہوگا۔

الطبري، محمد بن جرير (متوفاي310هـ)، جامع البيان عن تأويل آي القرآن، ج 3، ص 229، ناشر: دار الفكر، بيروت – 1405هـ .

مشہور حنفی فقیہ ،شمس الدين سرخسي، (متوفاي483 هـ) نے تقیہ کی یوں تعریف کی ہے ۔

والتقية أن يقي نفسه من العقوبة بما يظهره وإن كان يضمر خلافه وقد كان بعض الناس يأبى ذلك ويقول إنه من النفاق والصحيح أن ذلك جائز لقوله تعالى «إلا أن تتقوا منهم تقاة » وإجراء كلمة الشرك على اللسان مكرها مع طمأنينة القلب بالإيمان من باب التقية.

تقيه یہ ہے کہ کوئی اپنے آپ کو عقوبت اور سزا سے بچانے کے لئے ایسی چیز کا اظہار کرئے جس پر اس کا عقیدہ نہیں ہے ۔

بعض لوگ اس طریقے کو پسند نہیں کرتے اور اس کو نفاق سمجھتے ہیں۔لیکن صحیح نظریہ یہ ہے کہ یہ کام جائز ہے کیونکہ اللہ نے ارشاد فرمایا   «إلا أن تتقوا منهم تقاة».

تقیہ کے مورد میں سے ایک قلبی اعتقاد کے خلاف شرک آمیز کلمات کو مجبوری کی حالت میں زبان پر  لانا ہے ۔

السرخسي، شمس الدين (متوفاي483هـ)، المبسوط، ج 24، ص 45، ناشر: دار المعرفة – بيروت.

فخر الدين رازي شافعي اور ابن عادل دمشقي حنبلي نے تقیہ کی تعریف میں لکھا ہے :

أن التقية إنما تكون إذا كان الرجل في قوم كفار، ويخاف منهم على نفسه وماله فيداريهم باللسان، وذلك بأن لا يظهر العداوة باللسان، بل يجوز أيضاً أن يظهر الكلام الموهم للمحبة والموالاة، ولكن بشرط أن يضمر خلافه، وأن يعرض في كل ما يقول، فإن التقية تأثيرها في الظاهر لا في أحوال القلوب.

تقيه اس وقت ہے کہ جب کوئی کسی کافر قوم کے درمیان ہو اور کافروں سے اپنی جان اور مال کے بارے میں خوف لاحق ہو ۔ اسی لئےایسے لوگوں سے بات کرتے وقت مدارا {یعنی ان کے عمل اور عقیدے میں ظاہری طور پر ان کا ساتھ دینا }سے کام لیتا ہے اور زبان سے دشمنی کا اظہار نہیں کرتا۔ ایسی صورت میں زبان سے ایسے کلمات ادا کرنا جائز ہے کہ جن سے ظاہری طور پر محبت اور دوستی کی بو آتی ہو  لیکن شرط یہ ہے کہ وہ  قلب اور باطن میں اس ظاہر کے خلاف عقیدہ رکھتا ہو اور بات کرتے وقت بھی کنایہ آمیز گفتگو کرئےلہذا تقیہ کا تعلق ظاہر سے ہے ، دل پر اس کا کوئی اثر نہیں ہے .

الرازي الشافعي، فخر الدين محمد بن عمر التميمي (متوفاي604هـ)، التفسير الكبير أو مفاتيح الغيب، ج 8، ص 12، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت، الطبعة: الأولى، 1421هـ - 2000م؛

إبن عادل الدمشقي الحنبلي (متوفايبعد 880 هـ )، اللباب في علوم الكتاب، ج 5، ص 144، تحقيق: الشيخ عادل أحمد عبد الموجود والشيخ علي محمد معوض، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت / لبنان، الطبعة: الأولى، 1419 هـ -1998م.

ابن حجر عسقلاني اس سلسلے میں لکھتا ہے :

ومعنى التقية الحذر من إظهار ما في النفس من معتقد وغيره للغير.

تقيه کا معنی اس چیز کے  اظهار کرنے سے ڈرنا اور پرہیز کرنا ہے جو اس کے دل میں ہے چاہئے دل میں موجود اس چیز پر اس کا عقیدہ ہو یا نہ ہو.

العسقلاني الشافعي، أحمد بن علي بن حجر أبو الفضل (متوفاي852هـ)، فتح الباري شرح صحيح البخاري، ج 12، ص 314، تحقيق: محب الدين الخطيب، ناشر: دار المعرفة - بيروت.

آلوسي لکھتے ہیں :

وفى الآية دليل على مشروعية التقية وعرفوها بمحافظة النفس أو العرض أو المال من شر الاعداء والعدو قسمان: الاول من كانت عداوته مبنية على اختلاف الدين كالكافر والمسلم والثانى من كانت عداوته مبنية على أغراض دنيوية كالمال والمتاع والملك والامارة.

یہ آیت تقیہ کے جائز ہونے پر دلیل ہے ، تقیہ کی تعریف اس طرح سے کی ہے : تقیہ یعنی جان ،ناموس یا مال کو دشمن سے بچانا  اور یہ دشمن دو طرح کے ہوتے ہیں ۔الف ۔ دینی اعتبار سے  اختلاف کی وجہ سے دشمنی پیدا ہوئی ہو ،جیسے کافر اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف کے موارد ۔ ب :  دشمنی کی وجہ دنیوی اہداف ہوں ۔ مثلا مال اور مقام کی وجہ سے ایک دوسرے کے دشمن ہو۔  

الآلوسي البغدادي، العلامة أبي الفضل شهاب الدين السيد محمود (متوفاي1270هـ)، روح المعاني في تفسير القرآن العظيم والسبع المثاني، ج 3، ص 121، ناشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت.

 اگر چہ ان تعریفوں میں اختلاف پایا جاتا ہے لیکن یہ بات ان سب میں مشترک ہے کہ تقیہ یعنی حق کو مخفی رکھنا اور حق کے خلاف بات کرنا تاکہ دشمن کے شر سے محفوظ رہ سکے یا حق کا اظہار نہ کرنا سے زیادہ قیمتی مصلحت کی حفاظت کے لئے حق کا اظہار نہ کرنا ۔

تقیہ جائز پونے کے دلائل

تقیہ کے جائز ہونے پر عقلی دلیل کے علاوہ نقلی بھی بہت سے دلائل موجود ہیں ۔قرآن کی آیات اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم  کی احادیث کہ جنہیں شیعہ اور سنی دونوں نے نقل کیا ہے۔اسی طرح اجماع فقہاء اور دوسرے دلائل اس سلسلے میں موجود ہیں اور ان سے تقیہ کی مشروعیت کو ثابت کرسکتا ہے۔ہم یہاں انہیں دلائل کو مختصر طور پر پیش کریں گے ۔

تقیہ عقل کے آینے  میں :

اس میں شک نہیں ہے کہ عقیدے کا اظہار کرنا اور عقیدے کی دوسرے اقوام میں تبلیغ کرنا فائدہ مند اور ایک اھم اقدام ہے ۔لیکن اگر عقیدے کے اظہار کا نہ صرف فائدہ نہ ہو بلکہ اس سےمادی اور معنوی نقصان کا احتمال ہو تو یہاں پر عقلائ عالم ،حق کے اظپار سے چشم پوشی کرتے ہیں اور اپنے عقیدے کو مخفی رکھنے کی اجازت دیتے ہیں یہاں تک کہ بعض موقعوں پر تو تقیہ کو واجب سمجھتے ہیں .

اگر ایسا کوئی شخص یہ جانتے ہوئے کہ عقیدے کا اظہار کرنا اس کے لئے ضرر کا باعث ہے لیکن پھر بھی عقیدے کا اظہار کرتا ہے اور اس کے نتیجے میں نقصان اٹھاتا ہے تو عقلاء اس کی مذمت کرتے ہیں اور اس کے کام کو غیر عقلائی کام سمجھتے ہیں۔

جیساکہ جب کبھی دو  تکلیف اور مصلحتوں میں سے ایک کے انجام دینے پر مجبور ہو تو یہاں عقل دو مصلحتوں کے درمیان موازنہ اور جس میں مصلحت زیادہ ہو اس کو اپنانے کا حکم دیتی  ہے  اور اسی عقلی قانون  کو فقہ کی اصطلاح میں «اھم کو مھم پر مقدم کرنے کا قانون کہتے ہیں »  

ایک شیعہ عالم  اس سلسلے میں لکھتے ہیں :

فالعقل السليم يحكم فطريا بأنه عند وقوع التزاحم بين الوظيفة الفردية مع شوكة الاسلام وعزته وقوته، أو وقوع التزاحم بين حفظ النفس وبين واجب أو محرم آخر، لا بد من سقوط الوظيفة الفردية؛ وليست التقية إلا ذلك.

عقل سليم فطری طور پر یہ حکم لگاتی ہے کہ اگر کسی کی فردی ذمہ داری کے انجام دینے اور اسلام کی شان و شوکت اور قدرت کے درمیان ٹکراو ہو  یا جان و مال کی حفاظت اور ایک واجب کام کے یا حرام کے درمیان ٹکراو ہو تو یا یہاں پر اس کی فردی ذمہ داری کا ادا کرنے کی کا حکم ختم ہوجاتا ہے اور تقیہ یہی  ہے .

الروحاني، السيد محمد صادق (معاصر)، فقه الصادق (عليه السلام)، ج 11، ص 376. ناشر: مؤسسة دار الكتاب – قم، الطبعة: الثالثة، 1413هـ .

لہذا تقیہ کے جائز ہونے کی اصلی اور اھم ترین دلیل عقل کا حکم اور عقلاء کی سیرت ہے ۔ اب چاہئے یہ عقلاء مسلمان ہو یا نہ ہو .

دوسرے الفاظ میں : تقيه، ایسا حکم نہیں ہے جس کو اسلامی مقدس شریعت نے ہی جائز قرار دیا ہو اور یہ حکم اسلام سے ہی مختص ہو بلکہ یہ ایک عقلی اور عقلائی حکم ہے اسلام نے بھی اس حکم کی تائید اور اس کو پسند کیا ہے اور اس کے لئے خاص قانون اور شرائط  بنائی ہے، تاکہ اس عقلی اور عقلائی حکم کو قانون شکل کر دے اسلام  کی حفاظت اور معاشرے کو فتنہ اور فساد کا شکار ہونے سے دور رکھا جائے اور لوگوں کی جان و مال، ناموس اور عزت کی حفاظت  کے لئے اس قانون سے فائدہ اٹھایا جاسکے ۔ 

لیکن ان سب کے باوجود تعجب کا مقام کہ خاص کر وہابی فکر والے اس کو شیعوں سے مخصوص عقیدہ سمجھتے ہیں اور اس کو ایک تازیانے  کی طرح مذهب اهل بيت عليهم السلام کو گوڈنے اور مارنے کے لئے اسی سے فائدہ اٹھاتے ہیں،

یہاں پر اس نکتے کی طرف توجہ بھی ضروری ہے کہ اگر دین کی بنیادوں کو اس سے خطرہ ہو تو نہ صرف تقیہ جائز نہیں ہے بلکہ دین کی راہ میں جانوں کا نذرانہ پیش کرنا واجب ہوجاتا ہے

جیساکہ حضرت سيد الشهداء عليه السلام نے جب یہ دیکھا کہ یزید نے دین پر حملہ کرنا شروع کیا اور دینی کی بنیادوں کو خطرے سے دوچار کیا ہے تو امام علیہ السلام نے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے کے ذریعے دین کی حفاظت کا بندبست فرمایا ۔   

حقیقت یہ ہے کہ  «اهم و مهم» کا قانوں دونوں طرف جاری ہوسکتا ہے ، اگر کام کی اہمیت جان ،مال ،ناموس ۔۔۔۔ سے کم ہو تو تقیہ واجب ہے لیکن اگر برعکس ہو یعنی کام کی اہمیت جان ، مال ،ناموس سے زیادہ ہو تو تقیہ جائز نہیں ہوگا ۔

أمين الاسلام شیخ طبرسي فرماتے ہیں :

وقال أصحابنا: آن‌ها جائزة في الأحوال كلها عند الضرورة، وربما وجبت فيها لضرب من اللطف والاستصلاح.

وليس تجوز من الأفعال في قتل المؤمن، ولا فيما يعلم أو يغلب على الظن أنه استفساد في الدين.

شیعہ بزرگ علماء کہتے ہیں : اگر ضرورت ہو تو تقیہ تمام حالات میں جائز ہے ،کبھی تقیہ  لطف اور اصلاح کے لئے واجب ہوجاتا ہے۔

لیکن اگر تقیہ کسی مومن کے قتل کا سبب بنے تو جائز نہیں ہے ۔ اسی طرح کوئی اس چیز پر یقین حاصل کر لئے یا اسے احتمال اور گمان  ہو کہ اگر تقیہ کرئے تو دین تباہ ہوگا تو یہاں تقیہ جائز نہیں ہے ہے ۔

الطبرسي، أمين الاسلام أبي علي الفضل بن الحسن (متوفاي548هـ)، مجمع البيان في تفسير القرآن، ج 2، ص 274. تحقيق وتعليق: لجنة من العلماء والمحققين الأخصائيين، ناشر: مؤسسة الأعلمي للمطبوعات - بيروت - لبنان، الطبعة: الأولى، 1415هـ - 1995 م.

تقیہ کے جواز پر قرآنی دلائل :

اگرچہ قرآن کی بہت سی آیات سے تقیہ کے جواز پر استدلال کرسکتے ہیں لیکن ہم یہاں ان میں سے بعض ایسی آیات کو زیر بحث لائیں گے جس میں تقیہ کا جواز زیادہ روشن اور واضح ہے ۔ ہم ان آیات کی شان نزول کے بارے میں شیعہ اور اہل سنت کے علماء کے  اقوال کو یہاں  بیان کریں گے ۔

پہلی  دلیل ، آيه شريفه: إِلاَّ أَنْ تَتَّقُوا مِنْهُمْ تُقاةً:

لا يَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُونَ الْكافِرينَ أَوْلِياءَ مِنْ دُونِ الْمُؤْمِنينَ وَمَنْ يَفْعَلْ ذلِكَ فَلَيْسَ مِنَ اللَّهِ في‏ شَيْ‏ءٍ إِلاَّ أَنْ تَتَّقُوا مِنْهُمْ تُقاةً وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّهُ نَفْسَهُ وَإِلَى اللَّهِ الْمَصير. آل عمران / 28.

خبردار صاحبانِ ایمان .مومنین کو چھوڑ کر کفار کو اپنا و لی اور سرپرست نہ بنائیں کہ جو بھی ایسا کرے گا اس کا خدا سے کوئی تعلق نہ ہوگا مگر یہ کہ تمہیں کفار سے خوف ہو تو کوئی حرج بھی نہیں ہے اور خدا تمہیں اپنی ہستی سے ڈراتا ہے اور اسی کی طرف پلٹ کر جانا ہے

اللہ نے بہت سی آیات میں اور اس آیت کے شروع میں تمام مسلمانوں کو کفار اور مشرکین کے ساتھ دوستانہ تعلق قائم کرنے سے منع کیا ہے یہاں تک کہ یہ دھمکی بھی دی ہے کہ آگر مومنین میں سے کوئی ایسا کام انجام دے تو اللہ اور مومنین کے ساتھ اس شخص کا تعلق اور رابطہ ختم ہوجائے گا اور ایسی صورت میں وہ اللہ کی ولایت سے باہر نکل جائے گا  لیکن یہ کلی قانون ایک جگہ پر جاری نہیں ہوگا ۔

إِلاَّ أَنْ تَتَّقُوا مِنْهُمْ تُقاةً.

مگر یہ کہ ان کے شر سے محفوظ رہنا چاہتا ہو اور ایک اہم کام کی وجہ سے تقیہ کرنے پر مجبور ہو.

حقیقت میں یہ آیت اسی عقلی قانون کو بیان کرتی ہے کہ جس کو "اھم اور مھم کا قانون " کہا جاتا ہے ۔

یہ بات صحیح ہے کہ اللہ کے دین کو علی الاعلان بیان کرنا اور اس پر عمل کرنے کی اہمیت بہت زیادہ ہے اور یہ سارے مسلمانوں کی ذمہ داری بھی ہے لیکن اگر اس سے بھی اھم ہدف اس کے پیش نظر ہو تو ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس اھم کام کو انجام دئے اور دین کی تبلیغ کے عمل کو کسی اور مناسب موقع تک کے لئے تاخیر کر دئے ۔ ۔

اس آیت کے بارے میں مفسروں کی راے :

علامه امين الإسلام طبرسي نے  مجمع البيان میں اسی آیت کے ضمن میں  لکھا ہے :

(إلا أن تتقوا منهم تقاة) والمعنى إلا أن يكون الكفار غالبين، والمؤمنون مغلوبين، فيخافهم المؤمن إن لم يظهر موافقتهم، ولم يحسن العشرة معهم، فعند ذلك يجوز له إظهار مودتهم بلسانه، ومداراتهم تقية منه، ودفعا عن نفسه، من غير أن يعتقد ذلك. وفي هذه الآية دلالة على أن التقية جائزة في الدين عند الخوف على النفس. وقال أصحابنا: آن‌ها جائزة في الأحوال كلها عند الضرورة، وربما وجبت فيها لضرب من اللطف والاستصلاح.

وليس تجوز من الأفعال في قتل المؤمن، ولا فيما يعلم أو يغلب على الظن أنه استفساد في الدين.

اس آیت کا معنی یہ ہے کہ اگر کافر مومنوں پر غالب آجائے اور مومنین ان کے زیر تسلط چلاجائے اور ان کے ساتھ نہ دینے اور ان کی مخالفت کی وجہ سے خوف لاحق ہو  تو اس صورت میں مومن کے لئے یہ جائز ہے کہ وہ زبان سے دوستی کا اظہار کرئے اور اپنے بچاو اور تقیہ کی خاطر اس کے ساتھ مدارا {ظاہری طور پر ان کی مخالفت نہ کرئے } سے کام لے ؛  لیکن قلبی اور نظریاتی طور پر اس کے ساتھ محبت اور دوستی کا اظہار نہ کرئے ۔

اس آیت میں اس چیز کی طرف اشارہ موجود ہے کہ جہاں جان کے لئے خطرہ لاحق ہو وہاں دین کی نگاہ میں تقیہ کرنا ایک جائز عمل ہے ۔

شیعہ بزرگ علماء نے کہا ہے : اگر ضرورت ہو تو ، تقیہ سب جگہ جائز ہے اور کبھی یہ باب لطف اور صلح و صفائی کے لئے بھی واجب ہوجاتا ہے ۔

لیکن اگر تقیہ کسی مومن کے قتل کا سبب ہو یا کسی کو یہ معلوم ہو کہ تقیہ دین کی  کی تباہی اور بربادی کا موجب بن جائے تو پھر تقیہ کرنا جائز نہیں ہے ۔

الطبرسي، أمين الاسلام أبي علي الفضل بن الحسن (متوفاي548هـ)، مجمع البيان في تفسير القرآن، ج 2، ص 274. تحقيق وتعليق: لجنة من العلماء والمحققين الأخصائيين، ناشر: مؤسسة الأعلمي للمطبوعات - بيروت - لبنان، الطبعة: الأولى، 1415هـ - 1995 م.

و فخر رازي نے تفسير كبير میں لکھا ہے :

اعلم أن للتقية أحكاما كثيرة ونحن نذكر بعضها. الحكم الأول: أن التقية إنما تكون إذا كان الرجل في قوم كفار، ويخاف منهم على نفسه وماله فيداريهم باللسان، وذلك بأن لا يظهر العداوة باللسان، بل يجوز أيضا أن يظهر الكلام الموهم للمحبة والموالاة، ولكن بشرط أن يضمر خلافه، وأن يعرض في كل ما يقول، فإن التقية تأثيرها في الظاهر لا في أحوال القلوب.

جان لیں تقیہ کے احکام اور مسائل بہت زیادہ ہے ان میں سے بعض ہم یہاں ذکر کرتے ہیں۔

پہلا حکم :

تقیہ صرف وہاں ہے جہاں یہ کفار کے درمیان ہو اور کفار سے جان و مال کے بارے میں خوف ہو ۔ لہذا وہ زبانی طور پر دشمن سے مدارا کرتا ہے ، اس طرح وہ زبان سے دشمنی کا اظہار نہیں کرتا ،یہاں اس کے لئے یہ چیز جائز ہے کہ وہ زبان سے ایسی الفاظ ادا کرئے کہ جس سے  دوستی ظاہر ہو ۔ لیکن شرط یہ ہے کہ یہ ظاہری طور پر ہی ہو ، وہ دل میں اس سے دوستی اور محبت نہ رکھتا ہو  اور ہر صورت میں کنایہ آمیر گفتگو کرئے کیونکہ تقیہ کا تعلق صرف ظاہر سے ہے دل میں اس کا اثر نہیں ہوتا ۔

پھر آگے لکھتے ہیں :

 ظاهر الآية يدل أن التقية إنما تحل مع الكفار الغالبين إلا أن مذهب الشافعي رضي الله عنه أن الحالة بين المسلمين إذا شاكلت الحالة بين المسلمين والمشركين حلت التقية محاماة على النفس.

آیت کے ظاہر اس پر دلالت کرتا ہے کہ تقیہ وہاں جائز ہے جہاں کفار کا غلبہ اور قبضہ ہو ۔

 لیکن شافعی کہتا ہے :  اگر وہی حالات مسلمانوں کے درمیان بھی پیش آئے تو جان بچانے کے لئے تقیہ کرنا ضروری ہے .

فخر رازی جان بچانے کے لئے تقیہ کو شرعی طور پر جائز ثابت کرنے کے بعد مال کی خاطر بھی تقیہ جائز ہونے کو ثابت کرنے کے لئے لکھتے ہیں :

التقية جائزة لصون النفس، وهل هي جائزة لصون المال؟ يحتمل أن يحكم فيها بالجواز، لقوله صلى الله عليه وسلم: " حرمة مال المسلم كحرمة دمه " ولقوله صلى الله عليه وسلم: " من قتل دون ماله فهو شهيد " ولأن الحاجة إلى المال شديدة والماء إذا بيع بالغبن سقط فرض الوضوء، وجاز الاقتصار على التيمم دفعا لذلك القدر من نقصان المال، فكيف لا يجوز ههنا والله أعلم.

تقیہ جان بچانے کے لئے  تو جائز ہے لیکن کیا یہ مال کی حفاظت کے لئے بھی جائز ہے یا نہیں ؟

مال میں بھی جائز ہونے کا احتمال موجود ہے ؛ کیونکہ رسول خدا (ص) نے فرمایا ہے : مسلمان کے مال کی حرمت ان کے خون کی حرمت کی طرح ہے ۔

اسی لئے آپ ہی نے فرمایا : جو مال سے دفاع کی راہ میں قتل ہوجائے وہ شہید ہے ۔ وجہ بھی یہ ہے کیونکہ مال کی طرف انسان زیادہ محتاج ہوتا ہے اور مالی احتیاج سخت ہوتا ہے جیساکہ وضو کے پانی کے بارے میں کہا ہے اگر کسی کو وضو کا پانی خریدنا پڑے اور  خریدنے کی وجہ سے مالی طور پر نقصان ہوتا ہو تو پھر وضو کرنا ضروری نہیں ہے اور ایسی حالت میں  تیمم کے ساتھ نماز صحیح ہے ۔ تاکہ وضو کے پانی خریدنے سے آنے والا ضرر بھی نہ دیکھے ۔جب وضور کے پانی میں یہ چیز جائز ہے تو پھر مال کی خاطر تقیہ جائز نہیں ہے{ اللہ بہتر جانتا ہے}  ؟۔

آخر میں فخر رازی یہ بیان کرتے ہیں کہ تقیہ کا جائز ہونے ابتدائ اسلام کے ساتھ مخصوص حکم نہیں ہے  بلکہ یہ حکم بعد کے دور کے لئے بھی باقی ہے ۔

الحكم السادس: قال مجاهد: هذا الحكم كان ثابتا في أول الإسلام لأجل ضعف المؤمنين فأما بعد قوة دولة الإسلام فلا، وروى عوف عن الحسن: أنه قال التقية جائزة للمؤمنين إلى يوم القيامة، وهذا القول أولى، لأن دفع الضرر عن النفس واجب بقدر الإمكان.

چھٹا حکم : مجاهد نے کہا ہے : تقیہ اسلام کے شروع میں جائز تھا ؛ کیونکہ مسلمان اس وقت کمزور تھے لیکن بعد میں جب اسلام مستحکم اور قوی ہوا تو پھر یہ حکم جائز نہیں ہے۔

لیکن حسن سے نقل ہوا ہے : مومنین کے لئے تقیہ قیامت تک جائز ہے .

  یہ دوسرا قول زیادہ قوی ہے ؛ کیونکہ جان سے دفاع کرنا جتنا ہوسکتا ہے ضروری ہے۔

الرازي الشافعي، فخر الدين محمد بن عمر التميمي (متوفاي604هـ)، التفسير الكبير أو مفاتيح الغيب، ج 8، ص 12، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت، الطبعة: الأولى، 1421هـ - 2000م.

ابن خازن نے اس آیت کی تفسیر میں لکھا ہے :

ومعنى الآية أن الله نهى المؤمنين عن موالاة الكفار ومداهنتهم ومباطنتهم إلاّ أن تخافوا منهم مخافة. ومعنى الاية أن الله نهى المؤمنين عن موالاة الكافرين ومداهنتهم ومباطنتهم إلاّ أن يكون الكفار غالبين ظاهرين، أو يكون المؤمن في قوم كفاراً فيداهنهم بلسانه وقلبه مطمئن بالإيمان دفعاً عن نفسه من غير أن يستحل دماً حراماً أو مالاً حراماً أو غير ذلك من المحرمات، أو يظهر الكفار على عورة المسلمين، والتقية لا تكون إلا مع خوف القتل مع سلامة النية قال الله تعالى: ( إلا من أكره وقلبه مطمئن بالإيمان ) ثم هذه التقية رخصة فلو صبر على إظهار إيمانه حتى قتل كان له بذلك أجر عظيم ... .

اس آیت کا معنی یہ ہے کہ اللہ نے نے کفار کے زیر تسلط جانے اور کفار کے مقابلے میں   سستی، کاہلی اور کفار کے ساتھ دینے سے منع کیا ہے ۔

لیکن اگر کفار مسلمانوں پر مسط ہوں یا کوئی مومن کفار کے درمیان زندگی گزارتا ہو ،تو ایسی صورت میں کفار کے ساتھ زبانی طور ہر ہماہنگی کا اظہار کیا جاتا سکتا ہے ، لیکن اس کا دل ایمان سے مطمئن ہونا چاہئے  اور یہ اپنے سے کسی ضرر کو دفع کرنے کے لئے ہے ۔ اس قسم کا تقیہ جائز ہے ۔ لہذا ایسے موقعوں پر اپنے ایمان کے اظہار میں صبر سے کام لینا چاہئے تاکہ مرنے سے بچ سکے ۔ اسی تقیہ کی وجہ سے اسے بہت زیادہ ثواب ملتا ہے ۔

البغدادي الشهير بالخازن، علاء الدين علي بن محمد بن إبراهيم (متوفاي725هـ )، تفسير الخازن المسمى لباب التأويل في معاني التنزيل، ج 1، ص 336، ناشر: دار الفكر - بيروت / لبنان - 1399هـ ـ 1979م.

شوكاني نے اس آیت کی  تفسير میں لکھا ہے :

« إلا أن تتقوا منهم تقاة » على صيغة الخطاب بطريق الالتفات أي إلا أن تخافوا منهم أمرا يجب اتقاؤه... وفي ذلك دليل على جواز الموالاة لهم مع الخوف منهم ولكنها تكون ظاهرا لا باطنا.

یہ آیت خطاب کی صورت میں نازل ہوئی ہے اور اس میں اس بات کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ اگر کسی کام کے انجام دینے کی وجہ سے دشمن سے خطرہ ہو  تو تقیہ کرنا  اور جان بچانا واجب  ہے ۔ لہذا یہ آیت اس چیز پر دلیل ہے کہ اگر ڈر ہو تو کفار سے دوستی کا اظہار کرسکتے ہیں لیکن یہ دوستی ظاہری حد تک ہی ہوگی، باطنی اور دل سے دوستی نہیں ہوگی۔

الشوكاني، محمد بن علي بن محمد (متوفاي1255هـ)، فتح القدير الجامع بين فني الرواية والدراية من علم التفسير، ج1، ص331، ناشر: دار الفكر – بيروت.

عصر حاضر کے مفسر مراغي مصري، متوفاي1371هـ اس آیت کی تفسیر میں لکھتا ہے :

«إلا أن تتقوا منهم تقاة» أي ترك موالاة المؤمنين للكافرين حتم لازم في كل حال إلا في حال الخوف من شيء تتقونه منهم، فلكم حينئذ أن تتقوهم بقدر ما يبقى ذلك الشيء، إذ القاعدة الشرعية إن درء المفاسد مقدم على جلب المصالح وإذا جازت موالاتهم اتقاء الضرر فأولى أن تجوز لمنفعة المسلمين.

إذا فلا مانع من أن تحالف دولة إسلامية دولة غير مسلمة لفائدة تعود إلى الأولى إما بدفع ضرر أو جلب منفعة؛ وليس لها أن تواليها في شيء يضر المسلمين ولا تختص هذه المولاة بحال الضعيف فهي جائزة في كل وقت.

وقد استنبط العلماء من هذه الآية جواز التقية بأن يقول الإنسان أو يفعل ما يخالف الحق لأجل التوقي من ضرر يعود من الأعداء إلى النفس أو العرض أو المال فمن نطق بكلمة الكفر مكرها وقاية لنفسه من الهلاك، وقلبه مطمئن بالإيمان لا يكون كافرا بل يعذر كما فعل عمار بن ياسر حين أكرهته قريش على الكفر فوافقها مكرها وقلبه مطمئن بالإيمان وفيه نزلت الآية: «من كفر بالله من بعد إيمانه إلا من أكره وقلبه مطمئن بالإيمان».

اس آیت کا معنی یہ ہے کہ ہر حالت میں کفار سے دوستی نہ کرنا مومنین پر لازم ہے ؛ لیکن  کفار کی طرف سے اگر ضرر کا خوف  تو ایسی صورت میں جب تک خوف باقی ہو اس وقت تک تقیہ کی حالت میں باقی رہ سکتا ہے ۔

کیونکہ شرعی قانون یہ ہے ؛ نقصان اور ضرر کو اپنے سے دور کرنا مصلحت کو حاصل کرنے پر مقدم ہے اور جب ضرر اور نقصان کو اپنے سے دور کرنے کے لئے دشمن سے دوستی جائز ہے تو کفار کے ساتھ  دوستی کے ذریعے مسلمانوں کی منفعت کو حاصل کرنا بھی یقینا واجب ہے۔

 لہذا اسلامی ممالک غیر اسلامی ممالک سے مسلمانوں کے فائدے کی خاطر تعلق پیدا  کرسکتے ہیں اور اور ایک دوسرے سے معاھدے کرسکتے ہیں ۔ اب یہ فائدہ ممکن ہے نفع حاصل کرنے کی صورت میں ہو یا ضرر کو اپنے سے دور کرنے کی صورت میں ۔  

لیکن اگر غیر اسلامی ممالک سے تعلق قائم کرنے کی وجہ سے مسلمانوں کا نقصان ہو تو اسلامی ممالک کو غیر اسلامی ممالک سے رابطہ قائم کا حق نہیں ہے ۔

 اور کفار کے ساتھ اس قسم کی دوستی مسلمانوں کے کمزور ہونے کے ساتھ مخصوص نہیں ہے بلکہ اگر اس سے مسلمانوں کے مفاد وابستہ ہو  تو  یہ دوستی جائز ہے ۔

علماء نے اس آیت سے تقیہ کے جائز ہونے کو ثابت کیا ہے ،تقیہ اس طرح سے انجام پائے کہ تقیہ کرنے والا ایسی بات یا ایسا کام انجام دے جو حق کے خلاف ہو کیونکہ وہ اس کام  کے ذریعے سے دشمن سے اپنے آپ کو  اور اپنی ناموس اور مال کو محفوظ کرنا چاہتا ہے ۔

 لہذا کوئی اگر زبان پر شرک آلود کلمات ادا کرئے تاکہ اس سے ان کی جان بچ جائے جبکہ وہ دل سے  ایمان رکھتا لیکن صرف زبان سے شرک کا اظہار کرئے تو  ایسا شخص کافر نہیں ہے ۔ اس کا یہ کام جائز ہے ۔

جیساکہ جناب عمار ياسر کو جب کفار قریش نے کفر آمیز کلمات ادا کرنے پر مجبور کیا تو انہوں نے مجبوری کی حالت میں وہ کلمات ادا کیے جبکہ اس کا دل ایمان سے لبریز اور مستحکم تھا اور یہ آیت اسی کی شان میں نازل ہوئی ہے «من كفر بالله من بعد إيمانه إلا من أكره وقلبه مطمئن بالإيمان». 

جو شخص اپنے ایمان کے بعد اللہ کا انکار کرے (اس کے لیے سخت عذاب ہے) بجز اس شخص کے جسے مجبور کیا گیا ہو اور اس کا دل ایمان سے مطمئن ہو (تو کوئی حرج نہیں)  

المراغي المصري، احمد بن مصطفي (معاصر) تفسير المراغي، ج1، ص 486 ـ 487، ناشر: دار الكتب العلمية ـ بيروت.

لہذا اس میں شک نہیں ہے کہ یہ والی آیت تقیہ کے جائز ہونے کو ثابت کرتی ہے تقیہ ایمان کا حصہ ہے ، تقیہ کی وجہ سے کوئی کافر  یا منافق نہیں ہوتا  اور اسی مطلب کو شیعہ اور اہل سنت کے مفسروں نے اس آیت سے سمجھا ہے۔

دوسری دلیل ، آيه شريفه: مَنْ أُكْرِهَ وَقَلْبُهُ مُطْمَئِنٌّ بِالْإيمانِ:

مَنْ كَفَرَ بِاللَّهِ مِنْ بَعْدِ إيمانِهِ إِلاَّ مَنْ أُكْرِهَ وَقَلْبُهُ مُطْمَئِنٌّ بِالْإيمانِ وَلكِنْ مَنْ شَرَحَ بِالْكُفْرِ صَدْراً فَعَلَيْهِمْ غَضَبٌ مِنَ اللَّهِ وَلَهُمْ عَذابٌ عَظيمٌ. النحل / 106.

جو شخص اپنے ایمان کے بعد اللہ کا انکار کرے (اس کے لیے سخت عذاب ہے) بجز اس شخص کے جسے مجبور کیا گیا ہو اور اس کا دل ایمان سے مطمئن ہو (تو کوئی حرج نہیں) لیکن جنہوں نے دل کھول کر کفر اختیار کیا ہو تو ایسے لوگوں پر اللہ کا غضب ہے اور ان کے لیے بڑا عذاب ہے۔ آیت کی شان نزول:

یہ آیت بعض مسلمانوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے ، ان میں سے جناب عمار یا اور ان کے والد یاسر ،والدہ سمیہ، صهيب، بلال  اور  خباب شامل ہیں ۔کیونکہ کفار قریش ان لوگوں کو اسلام لانے کی وجہ سے سخت ٹارچر کرتے تھے یہاں تک کہ جناب یاسر اور سمیہ شکنجوں اور تکلیفوں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہوگئے اور اسلام کے سب سے پہلے شہید قرار پائے۔ لیکن عمار اس وقت جوان تھا ، وہ کفار کے شکنجوں کو برداشت نہ کرسکا لہذا جان بچانے کے لئے زبان پر وہی الفاظ لے آئے جو کفار چاہتے تھے اور اس طرح اپنی جان بچائی ۔

عمار روتے ہوئے رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور واقعے کو بیان کیا ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : اگر دوبارہ تمہارے ساتھ ایسا کیا تو تم دوبارہ یہی کام انجام دینا ۔ اسی موقع پر یہ والی آیت نازل ہوئی اور اللہ نے اس آیت میں جناب عمار کے اس کام کی تائید کی ۔

اس آیت کی شان نزول کے بارے میں مفسروں کی راے :

مرحوم علامه طبرسي رحمت الله عليه اور  سنی علماء میں سے فخر رازي نے اس شان نزول کو معمولی فرق کے ساتھ ذکر کیا ہے ۔

قيل نزل قوله: * ( إلا من أكره وقلبه مطمئن بالإيمان ) * في جماعة أكرهوا وهم: عمار، وياسر أبوه، وأمه سمية، وصهيب، وبلال، وخباب، عذبوا وقتل أبو عمار وأمه، وأعطاهم عمار بلسانه ما أرادوا منه. ثم أخبر سبحانه بذلك رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم، فقال قوم: كفر عمار، فقال صلى الله عليه وآله وسلم: كلا إن عمارا ملئ إيمانا من قرنه إلى قدمه، واختلط الإيمان بلحمه ودمه وجاء عمار إلى رسول الله صلى الله عليه وآله وهو يبكي، فقال صلى الله عليه وآله وسلم ما وراءك فقال شر يا رسول الله ما تركت حتى نلت منك، وذكرت آلهتهم بخير، فجعل رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يمسح عينيه، ويقول: إن عادوا لك، فعد لهم بما قلت! فنزلت الآية.

نقل ہوا ہے کہ یہ والی آیت بعض ایسے لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے کہ جنہں کفار  سخت شکنجے دیتے تھے ۔جیسے جناب عمار ، ان کے والد یاسر ، ان کی والدہ سمیہ ، صهيب، بلال  اور  خباب انہیں لوگوں میں سے ہیں ، جناب عمار نے مجبور ہوکر جو کفار نے ان سے کہا تھا، وہی کلمات زبان پر جاری کر دیا ۔  اللہ نے یہ خبر رسول اللہ (ص) کو دی . لوگوں نے کہا : عمار کافر ہوا ہے ۔ رسول خدا (ص) نے فرمایا : ہرگز ایسا نہیں ہے؛ عمار ایمان سے لبریز ہے ، ايمان عمار کے گوشت اور  خون کے ساتھ ملا ہوا ہے .

عمار ، جناب رسول خدا (ص) کے پاس روتے ہوئے آئے ؛ رسول خدا (ص) نے عمار سے کہا : کیا ہوا ہے ؟ عمار نے جواب : ایک برا کام انجام پایا ہے : میں اس وقت تک آزاد نہیں ہوا جب تک آپ کو برا بلا نہ کہا اور کفار کے خداوں کی تعریف کرنی پڑی۔ رسول خدا (ص) نے اس کے آنسوں کو صاف کیا اور فرمایا :اگر دوبارہ کفار نے تیرے ساتھ ایسا کیا تو پھر ایسا ہی کرنا ۔ اس کے بعد آپ نے مذکورہ آیت کی تلاوت فرمائی ۔.

الطبرسي، أمين الاسلام أبي علي الفضل بن الحسن (متوفاي548هـ)، مجمع البيان في تفسير القرآن، ج 2، ص203. تحقيق وتعليق: لجنة من العلماء والمحققين الأخصائيين، ناشر: مؤسسة الأعلمي للمطبوعات - بيروت - لبنان، الطبعة: الأولى، 1415هـ - 1995 م.

الرازي الشافعي، فخر الدين محمد بن عمر التميمي (متوفاي604هـ)، التفسير الكبير أو مفاتيح الغيب، ج 20، ص 121، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت، الطبعة: الأولى، 1421هـ - 2000م.

شيخ طوسي رضوان الله تعالي عليه نے اس آیت کے بارے میں لکھا ہے :

نزلت هذه الآية في عمار بن ياسر ( رحمه الله ) أكرهه المشركون بمكة بأنواع العذاب، وقيل: إنهم غطوه في بئر ماء على أن يلفظ بالكفر وكان قلبه مطمئنا بالايمان، فجاز من ذلك، وجاء إلى النبي صلى الله عليه وسلم جزعا فقال له النبي صلى الله عليه وسلم كيف كان قلبك؟ قال كان مطمئنا بالايمان، فأنزل الله فيه الآية. وأخبر ان الذين يكفرون بالله بعد ان كانوا مصدقين به بأن يرتدوا عن الاسلام " فعليهم غضب من الله " ثم استثنى من ذلك من كفر بلسانه، وكان مطمئن القلب بالايمان في باطنه، فإنه بخلافه.

یہ آیت جناب عمار یاسر کے بارے میں نازل ہوئی ہے اور یہ اس وقت نازل ہوئی کہ جب کفار نے انہیں سخت شکنجہ اور تکلیف پہنچائی۔ اور نقل ہوا ہے کہ ان کے سر کو  کوایں میں ڈال کر انہیں اپنی زبان پر کفر آمیز کلمات جاری کرنے پر مجبور کیا ، جبکہ اس کا دل ایمان سے مطمئن تھا ۔

جب یہ معاملہ ختم ہوا اور عمار بن یاسر جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے پوچھا : تیرے دلی ایمان  کی اس وقت کیا صورت حال تھی ؟  جناب عمار نے جواب دیا : میرا دل ایمان سے مستحکم ہوا تھا ۔اس کے بعد یہ آیت ان کے بارے میں نازل ہوئی اور اس آیت میں یہ خبر دی گئی کہ اسلام لانے کے بعد کوئی مرتد ہوجائے تو وہ اللہ کے سخت غضب کا شکار ہوگا اور پھر اس حکم سے ان لوگوں کو نکالا کہ جو دل سے ایمان رکھتا ہو لیکن مجبوری کی وجہ سے زبان سے کفر کا اقرار کر دئے ، کیونکہ یہ گروہ پہلے والے گروہ کی طرف نہیں ہے .

الطوسي، الشيخ أبو جعفر، محمد بن الحسن بن علي بن الحسن (متوفاي460هـ)، التبيان في تفسير القرآن، ج 6، ص 428، تحقيق وتصحيح: أحمد حبيب قصير العاملي، ناشر: مكتب الإعلام الإسلامي، الطبعة: الأولى، رمضان المبارك 1409هـ .

ابن كثير دمشقي سلفي نے اس سلسلے میں لکھا ہے :

وقد روى العوفي عن ابن عباس أن هذه الآية نزلت في عمار بن ياسر حين عذبه المشركون حتى يكفر بمحمد صلى الله عليه وسلم فوافقهم على ذلك مكرها وجاء معتذرا إلى النبي صلى الله عليه وسلم فأنزل الله هذه الآية وهكذا قال الشعبي وقتادة وأبو مالك.

عوفی نے  ابن عباس سے روایت نقل کیا ہے کہ یہ آیت جناب عمار کے بارے میں نازل ہوئی ہے ،کیونکہ کفار نے جب انہیں شکنجہ دیا اور انہیں رسول اللہ ص کی رسالت کا انکار کرنے پر مجبور کیا تو جناب عمار نے مجبور ہو کر اس کو قبول کیا ۔ اور معزرت خواہی کے لئے رسول اللہ ص کے پاس حاضر ہوا اور یہ آیت نازل ہوئی

شعبی  ،  قتاده اور  ابومالک نے بھی یہی کہا ہے .

القرشي الدمشقي، إسماعيل بن عمر بن كثير أبو الفداء (متوفاي774هـ)، تفسير القرآن العظيم، ج 2، ص 588، ناشر: دار الفكر - بيروت – 1401هـ .

عيني نے صحيح بخاري کی شرح میں لکھا ہے :

وقال تعالى * ( إلا من أكره وقلبه مطمئن بالإيمان ) * أباح للمكره التكذيب باللسان عند وجود التصديق القلبي.

اللہ کا ارشاد ہے  « إلا من أكره وقلبه مطمئن بالإيمان»؛ اس آیت میں اللہ نے ایسے لوگوں کے عمل کو جائز قرار دیا ہے کہ جو مجبور ہو کر ایمان کا انکار کرتے ہیں لیکن ان کا دل ایمان اور یقین سے مستحکم ہوتا ہے ۔

العيني، بدر الدين محمود بن أحمد (متوفاي855هـ)، عمدة القاري شرح صحيح البخاري، ج 1، ص 105، ناشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت.

دوسری جگہ وہ لکھتے ہیں :

أخذ المشركون عمارا فلم يتركوه حتى نال من رسول الله صلى الله عليه وسلم، وسلم وذكر آلهتهم بخير، فلما أتى رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ما وراءك؟ قال: شر يا رسول الله؟ والله ما تركت حتى نلت منك وذكرت آلهتهم بخير.

قال: فكيف تجد قلبك؟ قال: مطمئنا بالإيمان. قال: فإن عادوا فعد، وفيه نزل: * ( إلا من أكره وقلبه مطمئن بالإيمان )

مشرکوں نے جناب عمار کو پکڑا اور  رسول خدا (ص) کو گالی دینے اور اپنے جھوٹے خداوں کی مدح کرنے تک آزاد نہیں کیا اور جب آپ رسول اللہ (ص) کے پاس آیا، تو آپ  نے فرمایا :  کیا مسئلہ ہے ؟ عمار نے کہا : اللہ کے رسول ! میں نے ایک برا کام انجام دیا ہے ، اللہ کی قسم جب تک آپ کو گالی نہ دی اور ان کے خداوں کی تعریف نہیں کی، مجھے آزاد نہیں کیا ۔

رسول خدا (ص) نے فرمایا : دلی کیفیت کیسی تھی ؟ جواب دیا : ایمان سے مستحکم تھا ۔

رسول خدا (ص) نے فرمایا : اس کے بعد اگر کفار نے دوبارہ اس طرح تیرے ساتھ کیا تو تم دوبارہ ایسا کرنا اور یہ آیت نازل ہوئی ۔

العيني، بدر الدين محمود بن أحمد (متوفاي855هـ)، عمدة القاري شرح صحيح البخاري، ج 1، ص 197، ناشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت.

اہل سنت کے ہی مشہور مفسر آلوسي اس سلسلے میں لکھتے ہیں :

والآية دليل على جواز التكلم بكلمة الكفر عند الإكراه وإن كان الأفضل أن يتجنب.

یہ آیت اس بات پر دلیل ہے کہ مجبوری کی صورت میں کفر آمیز بات زبان پرلانا جائز ہے اگر چہ بہتر یہ ہے کہ اس کام سے پرہیز کیا جائے  .

الآلوسي البغدادي، العلامة أبي الفضل شهاب الدين السيد محمود (متوفاي1270هـ)، روح المعاني في تفسير القرآن العظيم والسبع المثاني، ج 14، ص 238، ناشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت.

 اہل سنت کی روایات میں جناب عمار کا تقیہ :

جیساکہ پہلے بیان ہوا یہ آیت جناب عمار ياسر رضوان الله تعالي عليه کے بارے میں نازل ہوئی ہے. اہل سنت کی کتابوں میں اس سلسلے مِیں بہت سی روایات موجود ہیں ہم ان میں سے بعض کی طرف اشارہ کرتے ہیں ؛

عبد الرزاق صنعاني نے اپنی تفسیر میں کہا ہے :

عن أبي عبيدة بن محمد بن عمار بن ياسر في قوله تعالى «إلا من أكره وقلبه مطمئن بالإيمان » قال أخذ المشركون عمار بن ياسر فعذبوه حتى قاربهم في بعض ما أرادوا فشكا ذلك إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال النبي صلى الله عليه وسلم كيف تجد قلبك قال مطمئن بالإيمان ثم قال النبي صلى الله عليه وسلم فإن عادوا فعد.

جناب  عمار ياسر کے نواسے سے نقل ہوا ہے  یہ آیت جناب عمار یاسر کے بارے میں اس وقت ہوئی نزل جب مشرکوں نے جناب عمار یاسر کو اپنی بعض باتوں کو آپ ماننے تک شکنجہ دیا  اور جب بعد میں جناب عمار رسول اللہ (ص) کے پاس آیا اور اس کام کی وجہ سے شکایت کی اور عذر پیش کیا  تو رسول اللہ (ص)  نے فرمایا : اس وقت تیرے دل کی کیا حالت تھی ؟ جواب دیا : میرا دل ایمان سے مطمئن تھا ۔ تو اس پر آپ  نے فرمایا : دوبارہ کفار نے ایسا کیا تو پھر یہی کام انجام دینا ۔   

الصعناني، عبد الرزاق (متوفاي211هـ) تفسير القرآن، ج 2، ص 360، تحقيق: د. مصطفى مسلم محمد، ناشر: مكتبة الرشد - الرياض، الطبعة: الأولى، 1410هـ؛

الطبري، أبي جعفر محمد بن جرير (متوفاي310هـ)، جامع البيان عن تأويل آي القرآن، ج 14، ص 182، ناشر: دار الفكر، بيروت – 1405هـ؛

القرشي الدمشقي، إسماعيل بن عمر بن كثير أبو الفداء (متوفاي774هـ)، تفسير القرآن العظيم، ج 2، ص 588، ناشر: دار الفكر - بيروت – 1401هـ .

حاكم نيشابوري (متوفاي405هـ) نے اس روایت کو اس طرح نقل کیا ہے :

عن أبي عبيدة بن محمد بن عمار بن ياسر عن أبيه قال أخذ المشركون عمار بن ياسر فلم يتركوه حتى سبّ النبي صلى الله عليه وسلم وذكر آلهتهم بخير ثم تركوه فلما أتى رسول الله صلى الله عليه وسلم قال ما وراءك قال شر يا رسول الله ما تركت حتى نلت منك وذكرت آلهتهم بخير قال كيف تجد قلبك قال مطمئن بالإيمان قال إن عادوا فعد.

عمار یاسر کے نواسے نے اپنے باپ سے نقل کیا ہے :

مشرکوں نے جناب عمار کو پکڑا اور  رسول خدا (ص) کو گالی دینے اور اپنے جھوٹے خداوں کی مدح کرنے تک آزاد نہیں کیا اور جب جناب عمار رسول اللہ (ص) کے پاس آیا  ، تو رسول اللہ ص نے فرمایا :  کیا مسئلہ ہوا ہے ؟ عمار نے کہا : اے اللہ کے رسول !! میں نے ایک برا کام انجام دیا ہے ، اللہ کی قسم جب تک آپ کو گالی نہ دی اور ان کے خداوں کی تعریف نہیں کی مجھے آزاد نہیں کیا ۔

رسول خدا (ص) نے فرمایا : دلی کیفیت کیسی تھی ؟ جواب دیا : میرا دل ایمان سے مستحکم تھا ۔

رسول خدا (ص) نے فرمایا : اس کے بعد اگر کفار نے اس طرح تمہیں مجبور کیا تو دوبارہ ایسا کرنا اور یہ آیت نازل ہوئی ۔

حاکم نے روایت کو نقل کرنے کے بعد لکھا ہے :

 هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يخرجاه

یہ روایت سیخین کی شرائط کے مطابق صحیح ہے لیکن ان دونوں نے اس کو نقل نہیں کیا ہے ۔

النيسابوري، محمد بن عبدالله أبو عبدالله الحاكم (متوفاي405 هـ)، المستدرك على الصحيحين، ج 2، ص 389، تحقيق: مصطفى عبد القادر عطا، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت، الطبعة: الأولى، 1411هـ - 1990م.

ان کے علاوہ اہل سنت کے اور بھی بہت سے بزرگوں نے اس روایت کو نقل ہے:

أخذ بنو المغيرة عماراً وغطوه في بئر مصون وقالوا له: أكفر بمحمد ( ولم يتعمد ) ذلك وقلبه كان مطمئناً فأُخبر رسول الله صلى الله عليه وسلم بأن عماراً كفر. فقال: ( كلا إن عماراً ملىء إيماناً من قرنه إلى قدمه وإختلط الايمان بلحمه ودمه ).

فأتى عمار رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو يبكي، فجعل رسول الله صلى الله عليه وسلم يمسح عينيه، وقال: ( مالك إن عادوا لك فعدلهم بما قلت ). فأنزل الله هذه الآية.

بنی مغیرہ نے جناب عمار کو پکڑا اور ان کے سر کو ایک کوائیں میں ڈال کر انہیں ادھر باندھ دیا اور یہ کہا : جب تک تم محمد ص کا انکار نہ کرئے تمہیں نہیں چھوڑیں گے ،جناب عمار مجبور ہوئے اور ان کا دل ایمان سے مستحکم تھا. رسول خدا (ص) تک یہ خبر  پہنچی کہ عمار کافر ہوا ہے  ۔ رسول اللہ (ص)  نے فرمایا : عمار یاسر کا دل ایمان سے لبریز ہے ۔ ایمان اس کے خون اور گوشت میں رچا بسا ہوا ہے ۔   

عمار روتے ہوئے  رسول خدا (ص) کے پاس آیا ؛ رسول خدا (ص) نے بھی اس کے آنسوں کو پاک کیا اور فرمایا : تمہیں کیا ہوا ہے ؟ اگر دوبارہ ایسا کرئے تو یہی کام کرنا۔ اللہ نے اس آیت کو نازل فرمایا ۔

الرازي الشافعي، فخر الدين محمد بن عمر التميمي (متوفاي604هـ)، التفسير الكبير أو مفاتيح الغيب، ج 20، ص 97، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت، الطبعة: الأولى، 1421هـ - 2000م.

الثعلبي النيسابوري أبو إسحاق أحمد بن محمد بن إبراهيم (متوفاي427هـ) الكشف والبيان، (متوفاي427 هـ - 1035م)، ج 6، ص 45، تحقيق: الإمام أبي محمد بن عاشور، مراجعة وتدقيق الأستاذ نظير الساعدي، ناشر: دار إحياء التراث العربي - بيروت، الطبعة: الأولى، 1422هـ-2002م

البغوي، الحسين بن مسعود (متوفاي516هـ)، تفسير البغوي، ج 3، ص 86، تحقيق: خالد عبد الرحمن العك، ناشر: دار المعرفة - بيروت؛

الآلوسي البغدادي، العلامة أبي الفضل شهاب الدين السيد محمود (متوفاي1270هـ)، روح المعاني في تفسير القرآن العظيم والسبع المثاني، ج 14، ص 237، ناشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت.

یہ آیت واضح طور ہر پر بیان کرتی ہے کہ اگر کوئی جان بچانے کے لئے کافروں سے ہمنوا  ہونے پر مجبور ہو جائے لیکن سے دل سے ایمان رکھتا ہو اور زبان سے اس ایمان کے خلاف کفر کا اظہار کرئے تو اس زبانی اظہار کی وجہ سے وہ کافر نہیں ہوگا ۔

اسی طرح شیعہ اور اہل سنت کے مفسروں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ یہ آیت ہجرت سے  پہلے مکہ میں نازل ہوئی ہے ۔ اس کا معنی یہ ہے کہ تقیہ جائز ہونے کا شرعی حکم اسلام کے شروع کے ایام میں ہی نازل ہوا ہے اور اس حکم کی تشریع کا مقصد بھی دین اسلام کی ترقی اور اس کو دشمن کے گزند سے محفوظ رکھنا تھا ۔لہذا ان دونوں آیات سے یہ واضح ہے کہ تقیہ کاملا ایک شرعی اور جائز حکم ہے ۔

تیسری دلیل ، آيه شريفه: رَجُلٌ مُؤْمِنٌ مِنْ آلِ فِرْعَوْنَ يَكْتُمُ إيمانَهُ:

وَقالَ رَجُلٌ مُؤْمِنٌ مِنْ آلِ فِرْعَوْنَ يَكْتُمُ إيمانَهُ أَ تَقْتُلُونَ رَجُلاً أَنْ يَقُولَ رَبِّيَ اللَّهُ وَقَدْ جاءَكُمْ بِالْبَيِّناتِ مِنْ رَبِّكُمْ وَإِنْ يَكُ كاذِباً فَعَلَيْهِ كَذِبُهُ وَإِنْ يَكُ صادِقاً يُصِبْكُمْ بَعْضُ الَّذي يَعِدُكُمْ إِنَّ اللَّهَ لا يَهْدي مَنْ هُوَ مُسْرِفٌ كَذَّاب‏. غافر / 28.

  اور فرعون والوں میں سے ایک مرد مومن نے جو اپنے ایمان کو حُھپائے ہوئے تھا یہ کہا کہ کیا تم لوگ کسی شخص کو صرف اس بات پر قتل کررہے ہو کہ وہ کہتا ہے کہ میرا پروردگار اللہ ہے اور وہ تمہارے رب کی طرف سے کھلی ہوئی دلیلیں بھی لے کر آیا ہے اور اگر جھوٹا ہے تو اس کے جھوٹ کا عذاب اس کے سر ہوگا اور اگر سچا نکل آیا تو جن باتوں سے ڈرا رہا ہے وہ مصیبتیں تم پر نازل بھی ہوسکتی ہیں - بیشک اللہ کسی زیادتی کرنے والے اور جھوٹے کی رہنمائی نہیں کرتا ہے

 یہ آیت بھی ان آیات میں سے ہے جو تقیہ کے جائز ہونے  کو واضح انداز میں بیان کرتی ہے۔کیونکہ اس آیت میں ایسے شخص کا واقعہ بیان ہوا ہے کہ جو حضرت موسی علیہ السلام کے قریبی آدمیوں میں سے تھا اور ان پر ایمان لایا تھا لیکن فرعون اور فرعوں والوں سے ایمان کو چھپایا ہوا تھا ۔ اسی وجہ سے وہ جناب موسی علیہ السلام کی جان بچانے میں کامیاب ہوا اور جب انوں نے احساس کیا کہ جناب موسی علیہ السلام فرعون کے غیض و غضب کی آگ کے لپیٹ میں آئیں گے اور آپ جان کی بازی ہار بیٹھیں گے لہذا جرات مندانہ اور  انتہائی سنجیدگی اور عقلمندی سے کام لیا  اور جناب موسی علیہ السلام سے دفاع کیا ۔

  اب یہاں سے تقیہ کی اہمیت زیادہ روشن ہوجاتی لہذا جب تقیہ کی وجہ سے ایک پیغمبر کی جان بچ سکتی ہے تو اس کے حرام ہونے کی کیا دلیل ہوسکتی ہے ؟ اور اسی سے بڑھ کر تقیہ کے جواز پر اور کیا دلیل ہوسکتی ہے ؟  یہ مومن آل فرعون اگر اپنے ایمان کو علی الاعلان بیان کرتے اور تقیہ سے کام نہ لیتے تو کیا یہ موسی علیہ السلام کی سے دفاع کرسکتے اور ان کی جان بچا سکتے ؟

کیا اس کا خون جناب موسی ع کے خون سے زیادہ اہمیت کا حامل تھا یا ان کا مقام جناب موسی علیہ اسلام سے زیادہ تھا کہ فرعون اس کو قتل کرنے سے اجتناب کرتا ؟

قرطبي اپنی تفسير میں اس آیت کے بارے میں لکھتا ہے :

أنّ المكلف إذا نوى الكفر بقلبه كان كافرا وإن لم يتلفظ بلسانه وأما إذا نوى الإيمان بقلبه فلا يكون مؤمنا بحال حتى يتلفظ بلسانه ولا تمنعه التقية والخوف من أن يتلفظ بلسانه فيما بينه وبين الله تعالى إنما تمنعه التقية من أن يسمعه غيره وليس من شرط الإيمان أن يسمعه الغير في صحته من التكليف وإنما يشترط سماع الغير له ليكف عن نفسه وماله.

مکلف جب دل میں کفر کی نیت رکھتا ہو  تو زبان سے کفر کا اظہار نہ کرئے پھر بھی وہ کافر ہے۔ لیکن اگر دل میں ایمان رکھتا ہو تو بھی جب تک زبان سے اس کا اظہار نہ کرئے پھر بھی وہ مومن نہیں ہے اور اس ایمان کا اپنے اور اللہ کے درمیان اظہار کرنے سے تقیہ اور خوف  بھی مانع نہیں ہے۔

لیکن تقیہ اور خوف صرف دوسرے انسانوں کے پاس اظہار کرنے اور دوسری رکاوٹ کی وجہ سے ہو تو اس صورت میں ایمان کی شرط اس کا زبان پر اظہار کرنا اور دوسروں کے لئے سنا نہیں ہے بلکہ اتنا کافی ہے کہ لوگ اس کو مسلمان جانے اور اس کے مال اور جان کی حفاظت ہو ۔

الأنصاري القرطبي، أبو عبد الله محمد بن أحمد (متوفاي671، الجامع لأحكام القرآن، ج 15، ص 308، ناشر: دار الشعب – القاهرة؛

آلوسي اپنی تفسیر میں آگے لکھتے ہیں :

أن الرجل احتاط لنفسه خشية أن يعرض اللعين حقيقة أمره فيبطش به فتلطف في الإحتجاج فقال: ( وإن يك كاذبا فعليه كذبه ) لا يتخطاه وبال كذبه

اس مومن آل فرعون نے اپنی جان بچانے کے لئے احتیاط سے کام لیا تاکہ فرعون والوں کو اندر کی بات کا پتہ نہ چلنے دیا جائے۔اسی لئے جو باتیں جناب موسی علیہ السلام سے دفاع میں استعمال کیا ان میں بھی کنایہ سے کام لیا اور کہا : موسی اگر جھوٹا ہے تو خود اسی کو ہی نقصان ہوگا ۔

الآلوسي البغدادي، العلامة أبي الفضل شهاب الدين السيد محمود (متوفاي1270هـ)، روح المعاني في تفسير القرآن العظيم والسبع المثاني، ج 24، ص 64، ناشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت.

احمد بن عبد القادر القيسي اس بارے میں لکھتا ہے :

وهذا استدراج إلى الاعتراف بالبينات بالدلائل على التوحيد... وأبدى ذلك في صورة احتمال ونصيحة وبدأ في التقسيم بقوله: «وَإِن يَكُ كَاذِباً فَعَلَيْهِ كَذِبُهُ» مداراة منه وسلوكاً لطريق الإنصاف في القول، وخوفاً إذا أنكر عليهم قتله أنه ممن يعاضده وينصره، فأوهم بهذا التقسيم والبداءة بحالة الكذب حتى يسلم من شره، ويكون ذلك أدنى إلى تسليمهم.

یہ آہستہ آہستہ توحید کے دلائل کو بیان کرنا اور لوگوں کو قانع کرنا ہے ۔ انہوں نے اس کام کو نصیحت اور احتمال کی صورت میں بیان کیا اور اپنے کلام کو تقسیم بندی کے ساتھ شروع کیا ۔

مثلا کہا :اگر جناب موسی علیہ السلام جھوٹ بولتے ہیں تو اسی کو اس کا نقصان ہوگا ۔

مومن آل فرعون نے ایسا اس لئے کہا تاکہ لوگوں کے ساتھ ظاہری طور پر ھمھانگی اور ہمراہی ہو اور لوگ اس کو  انصاف پسندی سمجھے ۔ کیونکہ  انہیں اس دفاع کو لوگوں کی طرف سے قبول نہ کرنے اور انہیں قتل  کر دینے کا خوف تھا، انہیں یہ خوف تھا کہ لوگ انہیں بھی جناب موسی علیہ اسلام کی مدد کرنے والا سمجھے ۔ یہی وجہ ہے کہ جب انہوں نے اس انداز میں گفتگو کی تو لوگ بھی انہیں اپنا ہمراز اور دوست سمجھنے لگے اور انہوں نے بھی اپنی بات کو جھوٹ کی صورت میں پیش کیا تاکہ ان لوگوں کے شر سے محفوظ رہ سکے  اور آسانی سے ان لوگوں کو قانع کر سکے ۔   

القيسي، احمد بن عبد القادر معروف به تاج الدين الحنفي (متوفاي749هـ)، الدرّ اللقيط من بحر المحيط، ج7، ص 458.

  مراغي  نے بھی اپنی تفسیر میں لکھا ہے :

وقال رجل من آل فرعون يكتم إيمانه منهم خوفاً على نفسه: أينبغي لكم أن تقتلوا رجلاً ما زاد على أن قال: ربّي الله، قد جاءكم بشواهد دالّة على صدقه؟ ومثل هذه المقالة لا تستدعي قتلاً ولا تستحق عقوبة فاستمع فرعون لكلامه، وأصغى لمقاله وتوقف عن قتله.

آل فرعون کا ایک شخص جس نے فرعون اور اس کے کارندوں سے  خوف کی وجہ سے اپنے ایمان کو چھپایا ہوا تھا ، اسی نے کہا : کیا یہ مناسب ہے کہ کسی ایسے شخص کو تم لوگ قتل کرئے جو صرف یہ کہتا ہے کہ میرا پروردار  اللہ ہے ؟اس نے اپنی صداقت پر گواہی پیش کی ہے ۔کیا ایسی بات کہنے والا قتل اور سزا کے مستحق ہے ؟

 جیساکہ انہیں باتوں کی وجہ سے فرعون نے جناب موسی علیہ السلام کی باتیں سنیں اور ان کے قتل سے اجتناب کیا.

المراغي المصري، احمد بن مصطفي (معاصر)، تفسير المراغي، ج8، ص309 ـ 310، ناشر: دار الكتب العلميةـ بيروت.

اس ایت سے یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ تقیہ کا جائز ہونا شریعت اسلام کے سے مخصوص حکم نہیں ہے بلکہ یہ اسلام سے پہلے کی شریعتوں میں بھی جائز تھا۔

  چوتھی دليل  : اصحاب كهف کا واقعہ

اللہ نے اصحاب کہف کے واقعے میں بیان فرمایا ہے :

فَابْعَثُوا أَحَدَكُمْ بِوَرِقِكُمْ هذِهِ إِلَى الْمَدينَةِ فَلْيَنْظُرْ أَيُّها أَزْكى‏ طَعاماً فَلْيَأْتِكُمْ بِرِزْقٍ مِنْهُ وَلْيَتَلَطَّفْ وَلا يُشْعِرَنَّ بِكُمْ أَحَداً. إِنهَُّمْ إِن يَظْهَرُواْ عَلَيْكمُ‏ْ يَرْجُمُوكمُ‏ْ أَوْ يُعِيدُوكُمْ فىِ مِلَّتِهِمْ وَلَن تُفْلِحُواْ إِذًا أَبَدًا. الكهف 19 و 20.

اب تم اپنے سکے دے کر کسی کو شہر کی طرف بھیجو وہ دیکھے کہ کون سا کھانا بہتر ہے اور پھر تمہارے لئے رزق کا سامان فراہم کرے اور وہ آہستہ جائے اورکسی کو تمہارے بارے میں خبر نہ ہونے پائے۔

یہ اگرتمہارے بارے میں باخبر ہوگئے تو تمہیں سنگسار کردیں گے یا تمہیں بھی اپنے مذہب کی طرف پلٹا لیں گے اور اس طرح تم کبھی نجات نہ پاسکو گے

۔شيعه  اور اہل سنت کے مفسروں نے واضح طور پر بیان کیا ہے کہ اس آیت میں « وَلْيَتَلَطَّفْ» سے مراد تقیہ ہے ۔ جب اصحاب کہف میں سے ایک نیند سے اٹھنے کے بعد کھانا لانے شہر جانا چاہا تو اس کے دوستوں نے کہا : احتیاط سے کام لینا تاکہ دشمن کو مخفی گاہ کا علم نہ ہو کیونکہ حاکموں سے ان کی جانوں کو خطرہ لاحق تھا ۔یہ وہی تقیہ ہی ہے کہ جس کے شیعہ قائل ہیں ،لیکن مکتب اھل بیت کے مخالفین اس کی شرعی حیثیت کو  قبول کرنے کے لئے تیار نہیں۔

عبد الرحمن سعدي نے اپنی تفسیر میں لکھا ہے :

ومنها: الحث على التحرز، والاستخفاء، والبعد عن مواقع الفتن في الدين، واستعمال الكتمان في ذلك على الإنسان وعلى إخوانه في الدين. ومنها: شدة رغبة هؤلاء الفتية في الدين، وفرارهم من كل فتنة، في دينهم، وتركهم أوطانهم في الله. ومنها: ذكر ما اشتمل عليه الشر، من المضار والمفاسد، الداعية لبغضه، وتركه.۔۔۔۔۔۔

اس آیت میں بیان شدہ مطالب میں سے ایک خطرے کی صورت میں جان کی حفاظت کے لئے مخفی رہنا اور ایسی جگہوں سے دوری اختیار کرنا کہ جن سے دین کے لئے نقصان کا خطرہ ہو ۔ ایسے موارد میں انسان اپنے اور اپنے دینی بھائیوں کے لئے حقیقت کو چھپا سکتا ہے اور  مخفی کاری سے کام لے سکتا ہے ۔

اس آیت میں موجود مطالب میں سے ایک اصحاب کہف کا اہنے دین کو زیادہ اہمیت دینا ، اس سلسلے میں فتنوں سے دوری اختیار کرنا اور اللہ کی راہ میں اپنے گھر بار چھوڑنا ہے ۔

اس آیت میں موجود مطالب میں سے ایک ایسے مفاسد اور مضر چیزوں کا بیان ہے کہ جن کو بیان کرنا ان سے ناراضگی اور ان کو وہاں سے نکلنے کا موجب بنے ۔

 اور حقیقت گزشتہ اور آئندہ آنے والے مومنوں کا راستہ ہے ۔۔۔۔

السعدي، عبد الرحمن بن ناصر (متوفاي1376هـ)، تيسير الكريم الرحمن في تفسير كلام المنان، ج1، ص473، تحقيق: ابن عثيمين، ناشر: مؤسسة الرسالة - بيروت - 1421هـ- 2000م.

ابن كثير دمشقي نے لکھا ہے :

«وليتلطف» أي في خروجه وذهابه وشرائه وإيابه يقولون وليختف كل ما يقدر عليه «ولا يشعرن» أي ولا يعلمن «بكم أحدا إنهم إن يظهروا عليكم يرجموكم » أي إن علموا بمكانكم... يخافون منهم أن يطلعوا على مكانهم فلا يزالون يعذبونهم بأنواع العذاب إلى أن يعيدوهم في ملتهم التي هم عليها أو يموتوا وإن وافقتموهم على العود في الدين فلاح لكم في الدنيا ولا في الآخرة.

«وليتلطف»  سے مراد یہ ہے کہ غار سے نکلنے اور شہر جانے اور شہر سے غذا خرید کر واپس آتے تک احتیاط سے کام لیا جائے اور کوئی آگاہ نہ ہونے پائے ۔

اصحاب کہف دقيانوس سے ڈرتے تھے کہ کہیں وہ ان کی مخفی گاہ سے آگاہ نہ ہو اور انہیں گرفتار کر کے انہیں شکنجے نہ دئے اور یہ لوگ دقیانوس کے دین قبول کرنے یا مرنے میں سے ایک راستے کے انتخاب پر مجبور نہ ہو۔  

القرشي الدمشقي، إسماعيل بن عمر بن كثير أبو الفداء (متوفاي774هـ)، تفسير القرآن العظيم، ج3، ص78، ناشر: دار الفكر - بيروت – 1401هـ .

قرطبي اس سلسلے میں لکھتے ہیں :

السادسة في هذه الآية نكتة بديعة وهي أن الوكالة إنما كانت مع التقية خوف أن يشعرهم بهم أحد لما كانوا عليه من الخوف على أنفسهم

چھٹی نکتہ : اس آیت میں ایک خوبصورت نکتہ یہ ہے کہ اصحاب کہف نے تقیہ کرنے کی شرط کے ساتھ شہر جانے والے کو اپنا وکیل بنایا اور خرید کے لئے جانے کی اجازت دی ، کیونکہ ان لوگوں کو دشمن کو پتہ چلنے کی صورت میں جانوں کو خطرہ محسوس ہورہا تھا  ۔

 الأنصاري القرطبي، أبو عبد الله محمد بن أحمد (متوفاي671، الجامع لأحكام القرآن، ج 10، ص 376، ناشر: دار الشعب – القاهرة.

فخر رازي نے اس سلسلے میں لکھا ہے :

وقوله: «وَلْيَتَلَطَّفْ » أي يكون ذلك في سر وكتمان يعني دخول المدينة وشراء الطعام ) وَلاَ يُشْعِرَنَّ بِكُمْ أَحَدًا ( أي لا يخبرن بمكانكم أحداً من أهل المدينة.

اللہ کا یہ کلام  « وَلْيَتَلَطَّفْ» یعنی اپنے کاموں کو مخفیانہ انجام دیا جائے اور شہر والوں میں سے کسی کو ان کی پناہ گاہ کی خبر نہ ہو ۔

الرازي الشافعي، فخر الدين محمد بن عمر التميمي (متوفاي604هـ)، التفسير الكبير أو مفاتيح الغيب، ج21، ص88، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت، الطبعة: الأولى، 1421هـ - 2000م.

ان باتوں کے علاوہ اصحاب کہف کے بارے میں خاص بات یہ بھی ہے کہ یہ لوگ جب تک شہر میں تھے اور شہر سے نکلے نہیں تھے ، اس وقت بھی یہ اپنے باطنی اور قلبی اعتقاد کو مخفی رکھتے تھے ،لیکن بت پرستوں کی رسومات میں دوسروں کی طرح شرکت بھی کرتے تھے 

امام صادق عليه السلام اس سلسلے میں فرماتے ہیں :

مَا بَلَغَتْ تَقِيَّةُ أَحَدٍ تَقِيَّةَ أَصْحَابِ الْكَهْفِ إِنْ كَانُوا لَيَشْهَدُونَ الْأَعْيَادَ وَيَشُدُّونَ الزَّنَانِيرَ فَأَعْطَاهُمُ اللَّهُ أَجْرَهُمْ مَرَّتَيْن‏.

امام صادق عليه السّلام فرماتے ہیں : کسی کا تقیہ بھی اصحاب كهف کے تقیہ کے درجے پر نہیں پہنچتا ،اصحاب کہف بت پرستوں کی عیدوں میں شرکت کرتے  اور  زنّار ( پیٹی تھی جو نصارا کی نشانیوں میں سے تھی ) باندھتے تھے  (جبکہ یہ لوگ خدا شناس اور موحد تھے ) لہذا اللہ نے ان کو دو برابر اجر و ثواب عطا کیا ۔

الكليني الرازي، أبي جعفر محمد بن يعقوب بن إسحاق (متوفاي328 هـ)، الأصول من الكافي، ج 2، ص 218، ناشر: اسلاميه‏، تهران‏، الطبعة الثانية،1362 ش‏.

اس آیت سے بھی گزشتہ آیات کی طرح یہ واضح ہوجاتی ہے کہ تقیہ اسلام سے پہلے کی شریعتوں میں بھی جائز عمل تھا گزشتہ امتیں بھی اپنی جان ، مال اور عزت کی حفاظت کے لئے تقیہ سے فائدہ اٹھاتے تھے.

تقیہ شیعہ اور اہل سنت کی روایات کی نگاہ میں

ائمہ اہل بیت  علیہم السلام کی رویات میں تقیہ

 ائمہ اهل بيت عليهم السلام سے تقیہ کے بارے میں بہت سی روایات نقل ہوئی ہے اگر تواتر کی حد تک نہ بھی کہے، استفاضہ کی حد سے بھی زیادہ اس سلسلے میں روایات موجود ہیں ۔یہاں تک کہ مرحوم شيخ حر عاملي رضوان الله تعالي عليه نے اپنی كتاب وسائل الشيعه، 13 ابواب میں  128 روايات اس سلسلے میں جمع کیا ہے ۔لہذا ہم ان میں سے بعض روایات یہاں نقل کرتے ہیں.

جو بھی تقیہ نہ کرئے وہ دین سے عاری ہے ۔

1. أَبُو عَلِيٍّ الْأَشْعَرِيُّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ النُّعْمَانِ عَنِ ابْنِ مُسْكَانَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَعْفُورٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام يَقُولُ التَّقِيَّةُ تُرْسُ الْمُؤْمِنِ وَالتَّقِيَّةُ حِرْزُ الْمُؤْمِنِ ولاَ إِيمَانَ لِمَنْ لَا تَقِيَّةَ لَه‏.

امام صادق عليه السّلام فرماتے ہیں: تقيه مؤمن کی ڈھال ہے، تقيه  مومن کی حفاظت کا سامان ہے ۔ جو تقیہ نہیں کرتا وہ دین بھی نہیں رکھتا ۔

الكليني الرازي، أبي جعفر محمد بن يعقوب بن إسحاق (متوفاي328 هـ)، الأصول من الكافي، ج‏2، ص221، ناشر: اسلاميه‏، تهران‏، الطبعة الثانية،1362 ش‏.

اس روایت کی سند کی تحقیق :

اس سلسلے میں  صحيح السند روایات بہت زیادہ ہیں ہم ان میں سے صرف ایک روایت کی سند کی تحقیق کرتے ہیں  ۔

أَبُو عَلِيٍّ الْأَشْعَرِيُّ؛  احمد بن ادريس القمي (متوفاي206هـ).

نجاشي نے ان کے بارے میں کہا ہے :

أحمد بن إدريس بن أحمد أبو علي الأشعري القمي كان ثقة، فقيها في أصحابنا، كثير الحديث، صحيح الرواية.

احمد بن ادريس، قابل اعتماد اور ہمارے اصحاب کے فقیہ ہیں ، بہت سی روایات انہوں نے نقل کیا ہے اور آپ صحیح روایت نقل کرتے ہیں.

النجاشي الأسدي الكوفي، أبو العباس أحمد بن علي بن أحمد بن العباس (متوفاي450هـ)، فهرست أسماء مصنفي الشيعة المشتهر ب‍ رجال النجاشي، ص 92، رقم: 228، تحقيق: السيد موسى الشبيري الزنجاني، ناشر: مؤسسة النشر الاسلامي ـ قم، الطبعة: الخامسة، 1416هـ .

مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ القمي.

شيخ طوسي نے ان کے بارے میں کہا ہے :

محمد بن عبد الجبار، وهو ابن أبي الصهبان، قمي، ثقة.

محمد بن عبد الجبار قمي، قابل اعتماد ہیں .

الطوسي، الشيخ أبو جعفر، محمد بن الحسن بن علي بن الحسن (متوفاي460هـ)، رجال الطوسي، ص391 و401، تحقيق: جواد القيومي الأصفهاني، ناشر: مؤسسة النشر الاسلامي ـ قم، الطبعة: الأولى، 1415هـ .

مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بن بزيع.

مرحوم نجاشي نے ان کے بارے میں  کہا ہے :

محمد بن إسماعيل بن بزيع أبو جعفر مولى المنصور أبي جعفر، وولد بزيع بيت، منهم حمزة بن بزيع. كان من صالحي هذه الطائفة وثقاتهم، كثير العمل.

محمد بن اسماعيل... وہ ایسے خاندان سے ہے جس میں سے حمزة بن بزيع بھی ہے یہ اچھے خاندان والے ہیں اور قابل اعتماد آدمی ہیں ،

اسی روایت کے سلسلے میں لکھتے ہیں :

عن الحسين بن خالد الصيرفي. قال: كنا عند الرضا عليه السلام، ونحن جماعة، فذكر محمد بن إسماعيل بن بزيع، فقال: "وددت أن فيكم مثله".

حسين بن خالد نے کہا ہے : ہم ایک گروہ  امام رضا عليه السلام کے پاس تھے ، محمد بن اسماعيل بزيع کا تذکرہ ہوا ، امام نے فرمایا : مجھے یہ چیز پسند ہے کہ تم لوگوں میں بھی اس جیسا بندہ ہو . 

النجاشي الأسدي الكوفي، أبو العباس أحمد بن علي بن أحمد بن العباس (متوفاي450هـ)، فهرست أسماء مصنفي الشيعة المشتهر ب‍ رجال النجاشي، ص 330 – 332، تحقيق: السيد موسى الشبيري الزنجاني، ناشر: مؤسسة النشر الاسلامي ـ قم، الطبعة: الخامسة، 1416هـ .

  مرحوم شيخ طوسي نے بھی کہا ہے :

محمد بن إسماعيل بن بزيع، ثقة صحيح، كوفي، مولي المنصور.

 محمد بن اسماعيل، قابل اعتماد ہیں اور ان کی روایتیں بھی صحیح ہیں .

الطوسي، الشيخ أبو جعفر، محمد بن الحسن بن علي بن الحسن (متوفاي460هـ)، رجال الطوسي، ص 364، تحقيق: جواد القيومي الأصفهاني، ناشر: مؤسسة النشر الاسلامي ـ قم، الطبعة: الأولى، 1415هـ .

عَلِيِّ بْنِ النُّعْمَانِ الأعلم.

نجاشي نے ان کے بارے میں لکھا ہے :

علي بن النعمان الأعلم النخعي أبو الحسن مولاهم، كوفي، روى عن الرضا عليه السلام، و أخوه داود أعلا منه، وابنه الحسن بن علي وابنه أحمد رويا الحديث. وكان علي ثقة، وجها، ثبتا، صحيحا، واضح الطريقة.

علي بن نعمان نے امام رضا عليه السلام سے روایت نقل کیا ہے ، اس کا بھائی داود اس سے بہتر ہے اس کے دوبیٹے، حسین اور احمد نے بھی روایت نقل کیا ہے  ۔۔علي بن نعمان قابل اعتماد ہے ،جانی پہچانی شخصیت ہے ،ان کی روایات بھی صحیح ہیں ،واضح موقف رکھنے والا بندہ تھا ۔

النجاشي الأسدي الكوفي، أبو العباس أحمد بن علي بن أحمد بن العباس (متوفاي450هـ)، فهرست أسماء مصنفي الشيعة المشتهر ب‍ رجال النجاشي، ص 274، تحقيق: السيد موسى الشبيري الزنجاني، ناشر: مؤسسة النشر الاسلامي ـ قم، الطبعة: الخامسة، 1416هـ .

عبد الله ابْنِ مُسْكَانَ. اصحاب اجماع میں سے ہیں ۔

نجاشي نے اس سلسلے میں لکھا ہے :

عبد الله بن مسكان أبو محمد مولى [عنزة]، ثقة، عين.

عبد الله بن مسكان، قابل اعتماد اور قابل فخر آدمی ہیں.

النجاشي الأسدي الكوفي، أبو العباس أحمد بن علي بن أحمد بن العباس (متوفاي450هـ)، فهرست أسماء مصنفي الشيعة المشتهر ب‍ رجال النجاشي، ص 214، تحقيق: السيد موسى الشبيري الزنجاني، ناشر: مؤسسة النشر الاسلامي ـ قم، الطبعة: الخامسة، 1416هـ .

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَعْفُورٍ.

نجاشي نے اس کے بارے میں لکھا ہے :

عبد الله بن أبي يعفور العبدي واسم أبي يعفور واقد، وقيل وقدان، يكنى أبا محمد، ثقة ثقة، جليل في أصحابنا.

عبد الله بن أبي يعفور، قابل اعتماد اور ہمارے اصحاب میں صاحب عزت اور احترام والا آدمی ہے .

النجاشي الأسدي الكوفي، أبو العباس أحمد بن علي بن أحمد بن العباس (متوفاي450هـ)، فهرست أسماء مصنفي الشيعة المشتهر ب‍ رجال النجاشي، ص 213، تحقيق: السيد موسى الشبيري الزنجاني، ناشر: مؤسسة النشر الاسلامي ـ قم، الطبعة: الخامسة، 1416هـ .

 دوسری روایت

2. عِدَّةٌ مِنْ أَصْحَابِنَا عَنْ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ خَالِدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَحْيَى عَنْ حَرِيزٍ عَنْ مُعَلَّى بْنِ خُنَيْسٍ قَالَ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام يَا مُعَلَّى اكْتُمْ أَمْرَنَا ولاَ تُذِعْهُ فَإِنَّهُ مَنْ كَتَمَ أَمْرَنَا وَلَمْ يُذِعْهُ أَعَزَّهُ اللَّهُ بِهِ فِي الدُّنْيَا وَجَعَلَهُ نُوراً بَيْنَ عَيْنَيْهِ فِي الْآخِرَةِ يَقُودُهُ إِلَى الْجَنَّةِ يَا مُعَلَّى مَنْ أَذَاعَ أَمْرَنَا وَلَمْ يَكْتُمْهُ أَذَلَّهُ اللَّهُ بِهِ فِي الدُّنْيَا وَنَزَعَ النُّورَ مِنْ بَيْنِ عَيْنَيْهِ فِي الْآخِرَةِ وَجَعَلَهُ ظُلْمَةً تَقُ ودُهُ إِلَى النَّارِ يَا مُعَلَّى إِنَّ التَّقِيَّةَ مِنْ دِينِي وَدِينِ آبَائِي ولاَ دِينَ لِمَنْ لَا تَقِيَّةَ لَهُ يَا مُعَلَّى إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ أَنْ يُعْبَدَ فِي السِّرِّ كَمَا يُحِبُّ أَنْ يُعْبَدَ فِي الْعلاَنِيَةِ يَا مُعَلَّى إِنَّ الْمُذِيعَ لِأَمْرِنَا كَالْجَاحِدِ لَه‏.

معلى بن خنيس نے نقل کیا ہے : امام صادق عليه السّلام نے فرمایا : اے معلى! ہمارے امر کو پوشیدہ رکھنا اور اس کو عیان نہ کرنا۔ اللہ اسی کام کی وجہ سے دینا میں اس کو عزت دے گا اور آخرت میں اسی کو ان کی آنکھوں کے آگے ایسا نور قرار دے گا جو اسے جنت کی طرف لے جائے گا۔

 اے معلى! تقیہ میرا دین اور میرے آباء و اجداد کا دین ہے جو تقیہ کو نہ مانے اس کے پاس دین بھی نہیں ہوگا ۔ اے  معلى! اللہ جس طرح کو مخفی طور پر اپنی عبادت کرنا پسند ہے اسی علانیہ طور پر بھی اپنی عبادت پسند ہے ۔ اے معلى! ہمارے امر کو آشکار کرنے والا ایسا ہے جیسا اس نے ہمارے امر کا انکار کیا ہو ۔

الكليني الرازي، أبي جعفر محمد بن يعقوب بن إسحاق (متوفاي328 هـ)، الأصول من الكافي، ج 2، ص 224، ناشر: اسلاميه‏، تهران‏، الطبعة الثانية،1362 ش‏.

3. ابْنُ أَبِي عُمَيْرٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ سَالِمٍ عَنْ أَبِي عُمَرَ الْأَعْجَمِيِّ قَالَ قَالَ لِي أَبُو عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام يَا أَبَا عُمَرَ إِنَّ تِسْعَةَ أَعْشَارِ الدِّينِ فِي التَّقِيَّةِ ولاَ دِينَ لِمَنْ لَا تَقِيَّةَ لَهُ وَالتَّقِيَّةُ.

ابو عمر اعجمى کہتا ہے: امام صادق عليه السلام نے مجھ سے فرمایا: اے ابو عمر! دین کے دس حصوں میں سے نو حصہ تقیہ ہے لہذا جس کے پاس تقیہ نہ ہو اس کے پاس دین بھی نہیں ۔

الكليني الرازي، أبي جعفر محمد بن يعقوب بن إسحاق (متوفاي328 هـ)، الأصول من الكافي، ج 2، ص 217، ناشر: اسلاميه‏، تهران‏، الطبعة الثانية،1362 ش‏.

4. حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ زِيَادِ بْنِ جَعْفَرٍ الْهَمَدَانِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ هَاشِمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ مَعْبَدٍ عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ خَالِدٍ قَالَ قَالَ عَلِيُّ بْنُ مُوسَى الرِّضَا عليه السلام لَا دِينَ لِمَنْ لَا وَرَعَ لَهُ ولاَ إِيمَانَ لِمَنْ لَا تَقِيَّةَ لَهُ إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَعْمَلُكُمْ بِالتَّقِيَّةِ فَقِيلَ لَهُ يَا ابْنَ رَسُولِ اللَّهِ إِلَى مَتَى قَالَ إِلَى يَوْمِ الْوَقْتِ الْمَعْلُومِ وَهُوَ يَوْمُ خُرُوجِ قَائِمِنَا أَهْلَ الْبَيْتِ فَمَنْ تَرَكَ التَّقِيَّةَ قَبْلَ خُرُوجِ قَائِمِنَا فَلَيْسَ مِنَّا.

حسين بن خالد نے آٹھویں امام سے نقل کیا ہے : جس کے پاس ورع  اور پرہیز گاری نہ ہو اس کے پاس دین بھی نہیں ہے جو تقیہ پر عمل نہیں کرتا اس کے پاس ایمان بھی نہیں ہے ،اللہ کے نذدیک تم میں سے زیادہ عزت والا وہی ہے جو زیادہ تقیہ کرتا ہے ۔فرمایا یہ کب تک؟ فرمایا : ہمارے قائم کے ظہور اور قیام  تک ،ہمارے قائم کے ظہور سے پہلے جو تقیہ کرنا چھوڑ دےوہ ہم میں سے نہیں ہے ۔

الصدوق، أبو جعفر محمد بن علي بن الحسين (متوفاي381هـ) كمال الدين و تمام النعمة، ج‏2، ص371، ناشر:‌ اسلامية ـ تهران‏، الطبعة الثانية‏، 1395 هـ .

شہد کی مکھی کی طرح اپنے رازوں کی حفاظت کرئے ۔

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَعْفُورٍ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام قَالَ اتَّقُوا عَلَى دِينِكُمْ فَاحْجُبُوهُ بِالتَّقِيَّةِ فَإِنَّهُ لَا إِيمَانَ لِمَنْ لَا تَقِيَّةَ لَهُ إِنَّمَا أَنْتُمْ فِي النَّاسِ كَالنَّحْلِ فِي الطَّيْرِ لَوْ أَنَّ الطَّيْرَ تَعْلَمُ مَا فِي أَجْوَافِ النَّحْلِ مَا بَقِيَ مِنْهَا شَيْ‏ءٌ إِلَّا أَكَلَتْهُ وَلَوْ أَنَّ النَّاسَ عَلِمُوا مَا فِي أَجْوَافِكُمْ أَنَّكُمْ تُحِبُّونَّا أَهْلَ الْبَيْتِ لَأَكَلُوكُمْ بِأَلْسِنَتِهِمْ وَلَنَحَلُوكُمْ فِي السِّرِّ وَالْعلاَنِيَةِ رَحِمَ اللَّهُ عَبْداً مِنْكُمْ كَانَ عَلَى ولاَيَتِنَا.

ابن ابى يعفور  نے امام صادق عليه السلام سے نقل کیا ہے : اپنے دین کی حفاظت کے لئے تقیہ کرئے اور تقیہ کے ذریعے اپنے دین کو مخفی رکھے کیونکہ جو تقیہ نہیں کرتا اس کا ایمان بھی نہیں ہے ، تم لوگ ،لوگوں کے درمیان ایسے رہنا جس طرح شہد کی مکھی دوسرے پرندوں کے درمیان رہتی ہے،اگر دوسرے پرندوں کو پتہ چل جائے کہ شہد کی مکھی کے پیٹ میں کیا ہے تو انہیں باقی نہیں چھوڑتے۔اگر لوگوں کو تمہارے دلوں میں موجود اہل بیت کی محبت کا علم ہوجائے تو یہ لوگ تم لوگوں کو اپنی دانتوں سے کاٹ دیں گے ۔ یہ لوگ چھپ چھپا کر اور اعلانیہ طور پر تم لوگوں کو برا بلا کہتے ہیں ۔ اللہ جو بندہ ہماری ولایت پر قائم ہے اس کو بخش دئے۔  

الكليني الرازي، أبي جعفر محمد بن يعقوب بن إسحاق (متوفاي328 هـ)، الأصول من الكافي، ج 2، ص 218، ناشر: اسلاميه‏، تهران‏، الطبعة الثانية،1362 ش‏.

تقیہ کے بغیر ایمان ایسا ہے جیسا سر کے بغیر بدن:

علي بن ابراهيم قمي رضوان الله تعالي عليه (متوفاي329هـ) نے اپنی تفسیر میں امام حسن عسكري عليه السلام نقل کیا ہے :

قَالَ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلي الله عليه وآله مَثَلُ مُؤْمِنٍ لَا تَقِيَّةَ لَهُ كَمَثَلِ جَسَدٍ لَا رَأْسَ لَه‏.

رسول خدا (صلي الله عليه وآله وسلم) نے فرمایا : جو مومن تقیہ نہیں کرتا وہ ایسا ہے جیسا سر کے بغیر دھڑ ۔

القمي، أبي الحسن علي بن ابراهيم (متوفاي310هـ) تفسير القمي، ص 320، شماره 162، تحقيق: تصحيح وتعليق وتقديم: السيد طيب الموسوي الجزائري، ناشر: مؤسسة دار الكتاب للطباعة والنشر - قم، الطبعة: الثالثة، صفر 1404؛

الحر العاملي، محمد بن الحسن (متوفاي1104هـ)، تفصيل وسائل الشيعة إلى تحصيل مسائل الشريعة، ج16، ص223، شماره: 21410، تحقيق و نشر: مؤسسة آل البيت عليهم السلام لإحياء التراث، الطبعة: الثانية، 1414هـ .

تقیہ فاجر اور ظالم لوگوں سے جان بچانے کا وسیلہ

وَقَالَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ عليه السلام التَّقِيَّةُ مِنْ أَفْضَلِ أَعْمَالِ الْمُؤْمِنِ يَصُونُ بِهَا نَفْسَهُ وَإِخْوَانَهُ عَنِ الْفَاجِرِينَ.

امير المومنین عليه السلام سے فرمایا : تقیہ مومن کے بہترین اعمال میں سے ہے ۔ تقیہ کے ذریعے مومن اپنی اور اپنے بھائی کی جان کو ظالموں اور فاجر لوگوں سے بچاتا ہے ۔

القمي، أبي الحسن علي بن ابراهيم (متوفاي310هـ) تفسير القمي، ص 320، شماره 163، تحقيق: تصحيح وتعليق وتقديم: السيد طيب الموسوي الجزائري، ناشر: مؤسسة دار الكتاب للطباعة والنشر - قم، الطبعة: الثالثة، صفر 1404؛

الحر العاملي، محمد بن الحسن (متوفاي1104هـ)، تفصيل وسائل الشيعة إلى تحصيل مسائل الشريعة، ج16، ص223، شماره: 21411، تحقيق و نشر: مؤسسة آل البيت عليهم السلام لإحياء التراث، الطبعة: الثانية، 1414هـ .

تقيه کرنے والے امت کے لوگوں کے اچھے کے ثواب میں شریک ہیں  :

وَقَالَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ عليهما السلام إِنَّ التَّقِيَّةَ يُصْلِحُ اللَّهُ بِهَا أُمَّةً لِصَاحِبِهَا مِثْلُ ثَوَابِ أَعْمَالِهِمْ فَإِنْ تَرَكَهَا أَهْلَكَ أُمَّةً تَارِكُهَا شَرِيكُ مَنْ أَهْلَكَهُمْ...

اللہ تقيه کے ذریعے ایک امت کی اصلاح کرتا ہے ، تقیہ کرنے والے کے لئے امت کے کاموں کی طرح اجر و ثواب ہے ۔ اگر کوئی تقیہ کو چھوڑ دے تو اس سے ایک امت تباہ ہوجاتی ہے اور تقیہ چھوڑنے والا امت کو تباہ کرنے والے کے جرم اور گناہ میں شریک ہے ۔

القمي، أبي الحسن علي بن ابراهيم (متوفاي310هـ) تفسير القمي، ص 320، شماره 164، تحقيق: تصحيح وتعليق وتقديم: السيد طيب الموسوي الجزائري، ناشر: مؤسسة دار الكتاب للطباعة والنشر - قم، الطبعة: الثالثة، صفر 1404؛

الحر العاملي، محمد بن الحسن (متوفاي1104هـ)، تفصيل وسائل الشيعة إلى تحصيل مسائل الشريعة، ج16، ص222، شماره: 21412، تحقيق و نشر: مؤسسة آل البيت عليهم السلام لإحياء التراث، الطبعة: الثانية، 1414هـ .

تقیہ ، دوست اور دشمن کی پہچان کا ذریعہ ہے ۔

قَالَ وَقَالَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ عليهما السلام لَوْ لَا التَّقِيَّةُ مَا عُرِفَ وَلِيُّنَا مِنْ عَدُوِّنَا.

حضرت سيد الشهداء عليه السلام نے فرمایا : اگر تقیہ نہ ہوتا تو ہمارے دوست اور دشمن نہیں پہچانے جاتے ۔

القمي، أبي الحسن علي بن ابراهيم (متوفاي310هـ) تفسير القمي، ص 321، شماره 165، تحقيق: تصحيح وتعليق وتقديم: السيد طيب الموسوي الجزائري، ناشر: مؤسسة دار الكتاب للطباعة والنشر - قم، الطبعة: الثالثة، صفر 1404؛

الحر العاملي، محمد بن الحسن (متوفاي1104هـ)، تفصيل وسائل الشيعة إلى تحصيل مسائل الشريعة، ج16، ص222، شماره: 21413، تحقيق و نشر: مؤسسة آل البيت عليهم السلام لإحياء التراث، الطبعة: الثانية، 1414هـ .

اس کا معنی یہ ہے کہ جو ہم سے دوستی کا دم برتے ہیں لیکن اگر وہ تقیہ نہ کرئے اور ہمارے اسرار کی حفاظت نہ کرئے تو وہ گویا ایسا شخص ہمارے دوست نہیں ہے بلکہ دشمن  ہے۔

تقيه علي بن يقطين کو امام كاظم عليه السلام نے تقیہ کحرنے کا حکم دیا:

شيخ مفيد رضوان الله تعالي عليه اس سلسلے میں لکھتے ہیں :

رَوَى مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ قَالَ اخْتَلَفَتِ الرِّوَايَةُ بَيْنَ أَصْحَابِنَا فِي مَسْحِ الرِّجْلَيْنِ فِي الْوُضُوءِ هُوَ مِنَ الْأَصَابِعِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ أَمْ هُوَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ إِلَى الْأَصَابِعِ فَكَتَبَ عَلِيُّ بْنُ يَقْطِينٍ إِلَى أَبِي الْحَسَنِ مُوسَى عليه السلام إِنَّ أَصْحَابَنَا قَدِ اخْتَلَفُوا فِي مَسْحِ الرِّجْلَيْنِ فَإِنْ رَأَيْتَ أَنْ تَكْتُبَ إِلَيَّ بِخَطِّكَ مَا يَكُونُ عَمَلِي عَلَيْهِ فَعَلْتُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ

فَكَتَبَ إِلَيْهِ أَبُو الْحَسَنِ عليه السلام: فَهِمْتُ مَا ذَكَرْتَ مِنَ الِاخْتِلَافِ فِي الْوُضُوءِ وَالَّذِي آمُرُكَ بِهِ فِي ذَلِكَ أَنْ تَتَمَضْمَضَ ثلاَثاً وَتَسْتَنْشِقَ ثلاَثاً وَتَغْسِلَ وَجْهَكَ ثلاَثاً وَتُخَلِّلَ شَعْرَ لِحْيَتِكَ وَتَمْسَحَ رَأْسَكَ كُلَّهُ وَتَمْسَحَ ظَاهِرَ أُذُنَيْكَ وَبَاطِنَهُمَا وَتَغْسِلَ رِجْلَيْكَ إِلَى الْكَعْبَيْنِ ثلاَثاً ولاَ تُخَالِفَ ذَلِكَ إِلَى غَيْرِهِ.

فَلَمَّا وَصَلَ الْكِتَابُ إِلَى عَلِيِّ بْنِ يَقْطِينٍ تَعَجَّبَ بِمَا رُسِمَ فِيهِ مِمَّا أَجْمَعَ الْعِصَابَةُ عَلَى خِلَافِهِ ثُمَّ قَالَ مَوْلَايَ أَعْلَمُ بِمَا قَالَ وَأَنَا مُمْتَثِلٌ أَمْرَهُ وَكَانَ يَعْمَلُ فِي وُضُوئِهِ عَلَى هَذَا الْحَدِّ وَيُخَالِفُ مَا عَلَيْهِ جَمِيعُ الشِّيعَةِ امْتِثَالًا لِأَمْرِ أَبِي الْحَسَنِ عليه السلام

وَسُعِيَ بِعَلِيِّ بْنِ يَقْطِينٍ إِلَى الرَّشِيدِ وَقِيلَ إِنَّهُ رَافِضِيٌّ مُخَالِفٌ لَكَ فَقَالَ الرَّشِيدُ لِبَعْضِ خَاصَّتِهِ قَدْ كَثُرَ عِنْدِيَ الْقَوْلُ فِي عَلِيِّ بْنِ يَقْطِينٍ وَالْقَرَفُ لَهُ بِخِلَافِنَا وَمَيْلِهِ إِلَى الرَّفْضِ وَلَسْتُ أَرَى فِي خِدْمَتِهِ لِي تَقْصِيراً وَقَدِ امْتَحَنْتُهُ مِرَاراً فَمَا ظَهَرْتُ مِنْهُ عَلَى مَا يُقْرَفُ بِهِ وَأُحِبُّ أَنْ أَسْتَبْرِئَ أَمْرَهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَشْعُرُ بِذَلِكَ فَيَتَحَرَّزَ مِنِّي.

فَقِيلَ لَهُ إِنَّ الرَّافِضَةَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ تُخَالِفُ الْجَمَاعَةَ فِي الْوُضُوءِ فَتُخَفِّفُهُ ولاَ تَرَى غَسْلَ الرِّجْلَيْنِ فَامْتَحِنْهُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ مِنْ حَيْثُ لَا يَعْلَمُ بِالْوُقُوفِ عَلَى وُضُوئِهِ فَقَالَ أَجَلْ إِنَّ هَذَا الْوَجْهَ يَظْهَرُ بِهِ أَمْرُهُ ثُمَّ تَرَكَهُ مُدَّةً وَنَاطَهُ بِشَيْ‏ءٍ مِنَ الشُّغُلِ فِي الدَّارِ حَتَّى دَخَلَ وَقْتُ الصّلاَةِ وَكَانَ عَلِيُّ بْنُ يَقْطِينٍ يَخْلُو فِي حُجْرَةٍ فِي الدَّارِ لِوُضُوئِهِ وَصلاَتِهِ.

فَلَمَّا دَخَلَ وَقْتُ الصّلاَةِ وَقَفَ الرَّشِيدُ مِنْ وَرَاءِ حَائِطِ الْحُجْرَةِ بِحَيْثُ يَرَى عَلِيَّ بْنَ يَقْطِينٍ ولاَ يَرَاهُ هُوَ فَدَعَا بِالْمَاءِ لِلْوُضُوءِ فَتَمَضْمَضَ ثلاَثاً وَاسْتَنْشَقَ ثلاَثاً وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثلاَثاً وَخَلَّلَ شَعْرَ لِحْيَتِهِ وَغَسَلَ يَدَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ ثلاَثاً وَمَسَحَ رَأْسَهُ وَأُذُنَيْهِ وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ وَالرَّشِيدُ يَنْظُرُ إِلَيْهِ فَلَمَّا رَآهُ وَقَدْ فَعَلَ ذَلِكَ لَمْ يَمْلِكْ نَفْسَهُ حَتَّى أَشْرَفَ عَلَيْهِ بِحَيْثُ يَرَاهُ ثُمَّ نَادَاهُ كَذَبَ يَا عَلِيُّ بْنُ يَقْطِينٍ مَنْ زَعَمَ أَنَّكَ مِنَ الرَّافِضَةِ وَصَلَحَتْ حَالُهُ عِنْدَهُ

وَوَرَدَ عَلَيْهِ كِتَابُ أَبِي الْحَسَنِ عليه السلام: ابْتِدَاءً مِنَ الْآنَ يَا عَلِيَّ بْنَ يَقْطِينٍ فَتَوَضَّ كَمَا أَمَرَ اللَّهُ وَاغْسِلْ وَجْهَكَ مَرَّةً فَرِيضَةً وَأُخْرَى إِسْبَاغاً وَاغْسِلْ يَدَيْكَ مِنَ الْمِرْفَقَيْنِ كَذَلِكَ وَامْسَحْ مُقَدَّمَ رَأْسِكَ وَظَاهِرَ قَدَمَيْكَ بِفَضْلِ نَدَاوَةِ وَضُوئِكَ فَقَدْ زَالَ مَا كَانَ يُخَافُ عَلَيْكَ وَالسّلاَمُ.

محمّد بن فضل کہتے ہیں : اصحاب کے درمیان اس بات پر اختلاف ہوا کہ پاوں کے مسح انگلی سے ابری ہوئی جگہ تک ہے یا ابری ہوئی جگہ سے انگلی کے سرے تک ۔

 على بن يقطين نے امام  موسى بن جعفر عليه السّلام کو خط لکھا تاکہ امام کے حکم کے مطابق عمل کیا جائے .

امام عليه السّلام نے جواب میں فرمایا: میں نے سنا ہے کہ اصحاب کے درمیان اختلاف ہوا ہے ، میرا دستور یہ ہے ؛ تین مرتبہ منہ میں پانی ڈالے ،تین مرتبہ ناک میں پانی ڈالے ، تین مرتبہ چہرے کو دھوئے اور پانی دھاڑی کے بالوں سے جلد تک پہنچائے۔

اور پورے سر کا مسح کرئے ،ساتھ میں کان کے ظاہر کو اور کان کے اندر کے حصے کو بھی مسح کریں ۔ پاوں کو اوبری ہوئی جگہ تک تین مرتبہ وھوئے اور یاد رکھنا اس دستور کے خلاف کام انجام نہ دینا ۔

جب یہ خط علی بن یقطین تک پہنچا اور اس کے مضمون سے آگاہ ہوا تو اس نے اس بات پر تعجب کیا کیونکہ امام نے تمام شیعہ علماء کے نظرئے کے خلاف دستور دیا تھا ۔

 اس نے اپنے آپ سے کہا : امام مجھ سے بہتر جانتے ہیں ،میں امام کے حکم پر عمل کروں گا اور اس کے بعد امام کے حکم کے مطابق وضو کرنا شروع کیا ۔ہارون الرشید کو یہ بتایا گیا کہ علی بن یقطین رافضی ہے اور آپ کے مخالف ہے۔ ہارون الرشید نے مخبری کرنے والے اپنے ایک خاص آدمی سے کہا : تم علی بن یقطین کے خلاف کچھ زیادہ ہی بولتے ہو اور اس پر شیعہ ہونے کا الزام لگاتے ہو ، میں اس کے کاموں میں کوئی عیب تو نہیں دیکھتا ہوں اور میں نے اس کا کئی بار امتحان بھی لیا ہے لیکن اس پر لگائے الزام کی حقیقت پرکوئی نشانی نہیں ملی ۔اس بار  پھر ایک دفعہ مخفیانہ اس کا امتحان لینا چاہتا ہوں کیونکہ اگر اسے پتہ چلے کہ میں اس کا امتحان لے رہا ہوں تو پھر وہ تقیہ کرئے گا ۔

اس شخص نے کہا : رافضی لوگ اہل سنت کے خلاف وضو کرتے ہیں ۔یہ لوگ آسان طریقے سے وضو کرتے ہیں اور پاوں نہیں دھوتے ۔آپ مخفیانہ طور پر اس کا امتحان لے کہ وہ کس طرح وضو کرتا ہے ،ہارون الرشید نے کہا : ٹھیک ہے یہ بہت اچھا طریقہ ہے ،پھر کچھ مدت کے بعد نماز کے وقت مخفیانہ طور پر دیوار کے اوپر سے علی بن یقطین کا وضو دیکھنے لگا ، علی ابن یقطین نے بھی اسی طرح وضو کیا جس کا امام نے حکم دیا تھا ۔۔ ہارون نے جب اس طریقے سے وضو کرتے ہوئے دیکھا تو اپنے آپ کو کنٹرول نہیں کرسکا اور سر اٹھا کر بلند آواز سے کہنے لگا: جنہوں نے کہا تم رافضی ہو انہوں نے جھوٹ بولا ہے ۔ اس واقعے کےبعد  علی بن یقطین کا مقام اور اس کی عزت ھارون کے پاس بڑ گئ ۔

   اس امتحان کے بعد امام کا ایک خط اس مضمون کے ساتھ اس تک پہنچا : اس کے بعد اسی طریقے سے وضو کرئے جس طرح اللہ نے حکم دیا ہے : ایک دفعہ چہرے کو واجب کی نیت سے دھوئے اور ایک مرتبہ شادابی کے لئے ، ہاتھوں کو کہنیوں سے اسی طرح دو مرتبہ دھوئے،پھر وضو کے اسی تری سے  سر  کا مسح کرئے اور پھر دونوں پاوں کا مسح کرئے۔ جو تیرے لئے خطرہ تھا وہ اب ٹل گیا ۔ و السلام ۔۔

الشيخ المفيد، محمد بن محمد بن النعمان ابن المعلم أبي عبد الله العكبري البغدادي (متوفاي413 هـ)، الإرشاد في معرفة حجج الله علي العباد، ج 2، ص 227، تحقيق: مؤسسة آل البيت عليهم السلام لتحقيق التراث، ناشر: دار المفيد للطباعة والنشر والتوزيع - بيروت - لبنان، الطبعة: الثانية، 1414هـ - 1993 م.

 اہل سنت کی روایات میں تقیہ :

اہل سنت کی کتابوں میں تقیہ کے بارے میں جناب عمار ياسر کے تقیہ کی روایات کے علاوہ اور بھی بہت سی روایات موجود ہیں ہم ان میں سے بعض کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

متواتر حدیث میں مجبور سے حکم اٹھنے کا حکم  «رفع»:

شیعہ اور اہل سنت دونوں نے اس سلسلے میں روایات نقل کی ہے اور یہاں تواتر کا ادعا کرنا بھی صحیح ہے ،اس قسم کی روایات کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : اللہ نے چند چیزوں کو میری امت سے اٹھائی ہے اور اس کی وجہ سے امت کو سزا نہیں دے گا ؛

ابن ماجه قزويني نے نقل کیا ہے :

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الْفِرْيَابِىُّ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ سُوَيْدٍ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْهُذَلِىُّ عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ عَنْ أَبِى ذَرٍّ الْغِفَارِىِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « إِنَّ اللَّهَ تَجَاوَزَ عَنْ أُمَّتِى الْخَطَأَ وَالنِّسْيَانَ وَمَا اسْتُكْرِهُوا عَلَيْهِ ».

  ابوذر غفاری نے رسول اللہ(ص) سے نقل کیا ہے : اللہ نے امت سے خطاء یا بھول چوک کر کوئی کام انجام دئے یا کسی کام کو انجام دینے پر مجبور کیا ہو ، تو اس کو بخش دیا ہے   

القزويني، محمد بن يزيد أبو عبدالله (متوفاي275هـ)، سنن ابن ماجه، ج 1، ص 659، ح 2045، تحقيق محمد فؤاد عبد الباقي، ناشر: دار الفكر - بيروت.

الباني نے اس روایت کو صحیح قرار دیا ہے ۔۔۔صحيح ابن ماجة، ج 1، ص 347، 1662۔

اسی طرح  ابوهريره سے  سنن ابن ماجہ میں نقل ہوا ہے‌:

عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « إِنَّ اللَّهَ تَجَاوَزَ لأُمَّتِى عَمَّا تُوَسْوِسُ بِهِ صُدُورُهَا. مَا لَمْ تَعْمَلْ بِهِ أَوْ تَتَكَلَّمْ بِهِ وَمَا اسْتُكْرِهُوا عَلَيْهِ ».

رسول خدا (ص) نے فرمایا : اللہ نے میری امت سے دل میں ہونے والے وسوسوں کو اگر اس پر عمل نہ کرئے اور زبان سے اس کو بیان نہ کرئے تو اس کو معاف کیا ہے اور اگر کسی کام کے انجام دینے پر مجبور کیا ہو تو اس کو بخش دیا ہے ۔   

القزويني، محمد بن يزيد أبو عبدالله (متوفاي275هـ)، سنن ابن ماجه، ج 1، ص 659، ح 2044، تحقيق محمد فؤاد عبد الباقي، ناشر: دار الفكر - بيروت.

الباني نے اس روایت کو بھی صحیح قرار دیا ہے ۔۔۔۔ صحيح ابن ماجة، ج 1، ص 348، حدیث نمبر 1663۔

ان روایات کے مطابق کوئی اگر کسی کام کے انجام دینے پر مجبور ہو تو اس کا عذر قبول ہوگا اور اللہ اس کے اس غلطی سے درگذر کرئے گا ۔جیساکہ تقیہ میں بھی انسان مجبور ہوکر اپنے عقیدے کو چھپاتا ہے لہذا اس کا عذر بھی قابل قبول ہوگا۔

اگر کوئی تقیہ نہ کرئے تو وہ مومن نہیں ہوگا :

ابن أبي شيبه‌، نے جو بخاری کے استاد بھی ہے ،اپنی کتاب المصنف میں  امير المؤمنين عليه السلام  کے فرزند محمد حنفيه سے نقل کیا ہے :

حدثنا وكيع عن إسرائيل عن عبد الأعلى عن بن الحنفية قال سمعته يقول لا إيمان لمن لا تقية له.

روائی کہتا ہے : میں نے محمد بن حنفیہ سے سنا آپ کہہ رہے تھے : جو تقیہ نہیں کرتا اس کا ایمان بھی نہیں ۔

إبن أبي شيبة الكوفي، أبو بكر عبد الله بن محمد (متوفاي235 هـ)، الكتاب المصنف في الأحاديث والآثار، ج 6، ص 474، ح 33045، تحقيق: كمال يوسف الحوت، ناشر: مكتبة الرشد - الرياض، الطبعة: الأولى، 1409هـ .

کوئی تقیہ نہ کرئے تو اس کے پاس دین بھی نہیں ہوگا :

جلال الدين سيوطي نے جامع الأحاديث میں نقل کیا ہے :

قَالَ النَّبِيُّ: لاَ دِينَ لِمَنْ لاَ تَقِيَّةَ لَهُ.

رسول خدا (ص) نے فرمایا : کوئی تقیہ پر عمل نہ کرئے تو اس کے پاس دین بھی نہیں ۔

السيوطي، جلال الدين عبد الرحمن بن أبي بكر (متوفاي911هـ) جامع الاحاديث (الجامع الصغير وزوائده والجامع الكبير) ج 8، ص 281، ح 26050.

ديلمي همداني نے بھی  امير المؤمنين عليه السلام سے نقل کیا ہے :لا دين لمن لا تقية له.

الديلمي الهمذاني، أبو شجاع شيرويه بن شهردار بن شيرويه الملقب إلكيا (متوفاي509 هـ) الفردوس بمأثور الخطاب، ج 5، ص 186، ح7909، و ج 5، ص210، ح7976، تحقيق: السعيد بن بسيوني زغلول، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت، الطبعة: الأولى، 1406 هـ - 1986م؛

الهندي، علاء الدين علي المتقي بن حسام الدين (متوفاي975هـ)، كنز العمال في سنن الأقوال والأفعال، ج 3، ص 43، ح5665، تحقيق: محمود عمر الدمياطي، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت، الطبعة: الأولى، 1419هـ - 1998م.

مؤمن اپنے آپ کو ذلیل کرنے کا حق نہیں رکھتا :

أخبرنا عبد الرزاق قال أخبرنا معمر عن الحسن وقتادة أن النبي صلى الله عليه وسلم قال لاينبغي لمؤمن أن يذل نفسه قال وكيف يذل نفسه قال يتعرض من البلاء بما لا يطيق.

قتادة سے نقل ہوا ہے کہ رسول خدا (ص) نے فرمایا : مؤمن کے لئے اپنے آپ کو ذليل نہیں کرنا چاہئے ؛ سوال ہوا : کیسے کوئی شخص اپنے آپ کو ذلیل کرتا ہے ؟

جواب میں فرمایا : اپنے آپ کو ایسے البلاء کے آگے ڈال دینا جس سے مقابلے کی اس میں طاقت نہیں ۔

الصنعاني، أبو بكر عبد الرزاق بن همام (متوفاي211هـ)،  المصنف، ج 11، ص 348، ح 20721، تحقيق حبيب الرحمن الأعظمي، ناشر: المكتب الإسلامي - بيروت، الطبعة: الثانية، 1403هـ .

احمد بن حنبل، ابن ماجه، بيهقي اور بزار نے اسی روايت کو  حذيفه سے نقل کیا ہے :

الشيباني، أحمد بن حنبل أبو عبد الله (متوفاي241هـ)، الورع، ج 1، ص 155، تحقيق: د. زينب إبراهيم القاروط، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت، الطبعة: الأولى، 1403هـ – 1983م؛

الشيباني، أحمد بن حنبل أبو عبدالله (متوفاي241هـ)، مسند أحمد بن حنبل، ج 5، ص 405، ناشر: مؤسسة قرطبة – مصر؛

القزويني، محمد بن يزيد أبو عبدالله (متوفاي275هـ)، سنن ابن ماجه،  2، ص 1332، ح 4016، تحقيق محمد فؤاد عبد الباقي، ناشر: دار الفكر - بيروت؛، ناشر: دار الفكر - بيروت، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي؛

البيهقي، أحمد بن الحسين بن علي بن موسى أبو بكر (متوفاي458هـ) شعب الإيمان، ج 7، ص 419، تحقيق: محمد السعيد بسيوني زغلول، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت، الطبعة: الأولى، 1410هـ؛

البزار، أبو بكر أحمد بن عمرو بن عبد الخالق (متوفاي292 هـ)، البحر الزخار (مسند البزار) ج 7، ص 218، تحقيق: د. محفوظ الرحمن زين الله، ناشر: مؤسسة علوم القرآن، مكتبة العلوم والحكم - بيروت، المدينة الطبعة: الأولى، 1409 هـ .

الباني  نے اسی روایت کو اپنی  كتاب، سلسلة احاديث الصحيحه (مختصرة)، ج 2، ص 170، رقم: 613 میں اور  كتاب ، صحيح وضعيف سنن الترمذي، ج 5، ص 254، رقم:2254 «صحيح » میں صحیح قرار دیا ہے اور  صحيح ابن ماجة، ج 2، ص 369، رقم: 3243، مِن اس روایت  کو « حسن » کہا ہے .

 اصحاب کی عملی زندگی اور ان کے اقوال میں تقیہ :

صحابي کا  مسيلمه كذاب سے تقیہ:

فخر الدين رازي نے اپنی تفسیر میں لکھا ہے :

قال الحسن أخذ مسيلمة الكذاب رجلين من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال لأحدهما: أتشهد أن محمدا رسول الله؟ قال: نعم نعم نعم، فقال: أفتشهد أني رسول الله؟ قال: نعم، وكان مسيلمة يزعم أنه رسول بني حنيفة، ومحمد رسول قريش، فتركه ودعا الآخر فقال أتشهد أن محمدا رسول الله؟ قال: نعم، قال: أفتشهد أني رسول الله؟ فقال: إني أصم ثلاثا، فقدمه وقتله فبلغ ذلك رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال: أما هذا المقتول فمضى على يقينه وصدقه فهنيئا له، وأما الآخر فقبل رخصة الله فلا تبعة عليه...

حسن نے نقل کیا ہے : مسيلمة کذاب نے اصحاب رسول خدا (ص) میں سے دو نفر کو گرفتار کیا ۔ ان میں سے ایک سے کہا : کیا گواہی دیتے ہو ؛ محمد ، اللہ کے رسول ہیں؟ ان نے جواب دیا : جی ہاں ، جی ہاں ۔

دوبارہ سوال کیا :  کیا اس چیز کی گواہی دیتے ہو کہ میں بھی اللہ کا رسول ہوں ؟

صحابی نے جواب دیا : جی ہاں ۔

کیونکہ مسيلمة ادعا کرتا تھا کہ وہ  بنی حنيفه کے رسول ہے اور  حضرت محمد(ص) قريش کے رسول ہیں .

اس کو آزاد کیا اور دوسرے کو بلایا اور اس سے پوچھا : کیا اس چیز کی گواہی دیتے ہو کہ میں بھی اللہ کے رسول ہوں ؟

صحابی نے جواب دیا : میں نہیں سن رہا ہوں ،یہ سوال تین دفعہ تکرار کیا اور پھر اس کو قتل کردیا  ۔ جب یہ خبر رسول خدا (ص) تک پہنچی تو آپ نے فرمایا : جو مارا گیا وہ اپنے یقین اور تصدیق کے ساتھ مرگیا، ایسی موت اس کے لئے مبارک ہو  اور دوسرے نے بھی ایسا کام انجام دیا جس کو اللہ نے اس کے لئے جائز قرار دیا ہے ۔ لہذا اس کو بھی اس کام کی وجہ سے کوئی سزا نہیں ملے گی ۔

الرازي الشافعي، فخر الدين محمد بن عمر التميمي (متوفاي604هـ)، التفسير الكبير أو مفاتيح الغيب، ج 8، ص 12، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت، الطبعة: الأولى، 1421هـ - 2000م.

القمي النيسابوري، نظام الدين (متوفاي728 هـ)، تفسير غرائب القرآن ورغائب الفرقان، ج 2، ص 140، تحقيق: الشيخ زكريا عميران، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت / لبنان، الطبعة: الأولى، 1416هـ - 1996م؛

ابن عادل الدمشقي الحنبلي، أبو حفص عمر بن علي (متوفايبعد 880 هـ)، اللباب في علوم الكتاب، ج 5، ص 144، تحقيق: الشيخ عادل أحمد عبد الموجود والشيخ علي محمد معوض، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت / لبنان، الطبعة: الأولى، 1419 هـ ـ 1998م

عبد الله بن مسعود کا ظالم حاکموں سے تقیہ :

ابن حزم اندلسي نے  المحلي میں نقل کیا ہے :

وقد رُوِّينَا من طَرِيقِ شُعْبَةَ قال نا أبو حَيَّانَ يحيى بن سَعْدٍ التَّيْمِيُّ عن أبيه قال قال لي الْحَارِثُ بن سُوَيْدٌ سَمِعْت عَبْدَ اللَّهِ بن مَسْعُودٍ يقول ما من ذِي سُلْطَانٍ يُرِيدُ أَنْ يُكَلِّفَنِي كَلاَمًا يَدْرَأُ عَنِّي سَوْطًا أو سَوْطَيْنِ إِلاَّ كُنْت مُتَكَلِّمًا بِهِ.

عبد الله بن مسعود سے سنا ہے: کوئی بھی صاحب قدرت مجھے ایسی بات کہنے پر مجبور کر دئے جو مجھ سے ایک یا دو تازیانوں کو دور کر سکے تو میں ایسا کہہ دوں گا {تاکہ اس کے تازیانے سے بچھ نکلے }

ابن حزم نے اس سلسلے میں لکھا ہے :

وَلاَ يُعْرَفُ له من الصَّحَابَةِ رضي الله عنهم مُخَالِفٌ.

اصحاب میں سے کسی کو نہیں جانتا ہوں کہ جو اس قول کے مخالف ہو ۔

إبن حزم الظاهري، علي بن أحمد بن سعيد أبو محمد (متوفاي456هـ)، المحلى، ج 8، ص 336، تحقيق: لجنة إحياء التراث العربي، ناشر: دار الآفاق الجديدة - بيروت.

لہذ اس میں شک نہیں کہ ظالم اور جابر حاکم کے خوف سے باطل کو زبان پر لانا  وہی تقیہ ہی ہے کہ جس کے جائز ہونے پر  اهل بيت اصرار کرتے تھے . ابن حزم کے اس جملے سے یہ نتیجہ نکال سکتے ہیں کہ تقیہ تمام اصحاب کے ہاں رائج تھا اور سب تقیہ کو جائز سمجھتے تھے ۔

عبد الله بن حذافه کا روم کے بادشاہ سے تقیہ :

شمس الدين ذهبي نے سير اعلام النبلاء میں لکھا ہے :

عن أبي رافع قال وجه عمر جيشا إلى الروم فأسروا عبد الله بن حذافة فذهبوا به إلى ملكهم فقالوا إن هذا من أصحاب محمد فقال هل لك أن تتنصر وأعطيك نصف ملكي قال لو أعطيتني جميع ما تملك وجميع ما تملك وجميع ملك العرب ما رجعت عن دين محمد طرفة عين قال إذا أقتلك قال أنت وذاك فأمر به فصلب وقال للرماة ارموه قريبا من بدنه وهو يعرض عليه ويأبى فأنزله ودعا بقدر فصب فيها ماء حتى احترقت ودعا بأسيرين من المسلمين فأمر بأحدهما فألقي فيها وهو يعرض عليه النصرانية وهو يأبى ثم بكى فقيل للملك إنه بكى فظن أنه قد جزع فقال ردوه ما أبكاك قال قلت هي نفس واحدة تلقى الساعة فتذهب فكنت أشتهي أن يكون بعدد شعري أنفس تلقى في النار في الله

فقال له الطاغية هل لك أن تُقَبِّل رأسي وأُخَلِّي عنك فقال له عبد الله وعن جميع الأسارى قال نعم فقَبَّلَ رأسه. وقدم بالأسارى على عمر فأخبره خبره فقال عمر حق على كل مسلم أن يُقَبِّل رأس ابن حذافة وأنا أبدأ فقَبَّل رأسه

  ابو رافع نے نقل کیا ہے :خلیفہ دوم  نے روم سے جنگ کے لئے ایک لشکر روانہ کیا ، اس جنگ میں عبد الله بن حذافه اسیر ہوا ؛ اس کو بادشاہ کے پاس لے گیا اور بادشاہ سے کہا : یہ شخص محمد (ص) کے اصحاب میں سے ہے .

پادشاه نے ان سے کہا : اگر مسيحی ہوجائے تو میں اپنی حکومت کا ادھا حصہ تمہیں دے دیتا ہوں ۔

اس نے جواب میں کہا : اگر اپنی حکومت اور عرب کی حکومت مجھے دے دی پھر بھی میں ایک لمحے کے لئے محمد (صلي الله عليه وآله) کے دین سے ہاتھ نہیں اٹھاوں گا .

پادشاه نے کہا : ایسا ہے تو پھر تجھے قتل کیا جائے گا ؛ جواب دیا :  جو کرنا ہے کر دئے ۔ بادشاہ نے حکم دیا : اس کو سولی پر لٹکا دیا جائے اور اس پر ھر طرف سے تیر بارواں کر دیا جائے لیکن تیر اس پر نہ لگے اور اسی حالت میں ان سے کہا : مسیحی ہو جاو لیکن اس نے قبول نہیں کیا.

اچانک عبد الله رونے لگا ؛ بادشاہ کو رپورٹ دی گئی کہ وہ اب ڈر گیا ہے ۔ بادشاہ نے نیچے اتارنے کا حکم دیا اور اس سے رونے کی علت پوچھی۔ اس نے جواب دیا : اس لئے رویا ہوں کیونکہ میری ایک جان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر نثار کر رہا ہوں ۔ مجھے یہ پسند ہے کہ میرے بالوں کے برابر میری جانیں ہوں اور میں ان سب کو  آگ میں جل جل کر سب جانیں اللہ کی راہ میں قربان کروں ۔

پادشاه نے کہا : اگر میری پیشانی کا بوسہ لے تو تجھے آزاد کرتا ہوں !!!

اس نے کہا : اگر سارے اسیروں کو آزاد کر دے تو میں اس کام کے لئے تیار ہوں ۔ بادشاہ نے بھی قبول کیا ۔ اس نے بھی بادشاہ کی پیشانی کا بوسہ لیا اور پھر اپنے اسیر ساتھیوں کے ساتھ عمر کے پاس آیا اور واقعے کو بیان کیا ۔

 عمر نے کہا : ہر مسلمان کو تیرے پیشانی کا بوسہ لینا چاہئے ،یہ کہہ کر خود عمر نے اس کے پیشانی کا بوسہ لیا ۔

الذهبي، شمس الدين محمد بن أحمد بن عثمان، (متوفاي748هـ)، سير أعلام النبلاء، ج 2، ص 14، تحقيق: شعيب الأرناؤوط، محمد نعيم العرقسوسي، ناشر: مؤسسة الرسالة - بيروت، الطبعة: التاسعة، 1413هـ .

رسول خدا (ص)  نے  ابوذر کو تقیہ کرنے کی سفارش کی :

عن أبي ذر رضي الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم يَا أَبَا ذَرَ كَيْفَ أَنْتَ إِذَا كُنْتَ فِي حُثَالَةٍ؟ وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ، قَالَ: مَا تَأْمُرُني يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: إِصْبِرْ، إِصْبِرْ، إِصْبِرْ خَالِقُوا النَّاسَ بِأَخْلاَقِهِمْ، وَخَالِفُوهُمْ فِي أَعْمَالِهِمْ.

رسول خدا نے  ابوذر سے کہا : اے ابوذر، اگر پست اور ذلیل انسانوں کے درمیان رہنا ہوا تو کیا کروگے ؟

جواب دیا : اے اللہ کے رسول! آپ کیا فرماتے ہیں، ایسے موقع پر حکم کیا ہے  ؟ فرمایا : صبر کرو صبر کرو  ،صبر کرو۔ ظاہری طور پر لوگوں کے رہن سہن کے مطابق زندگی کرو ۔ لیکن اعتقاد اور عمل میں لوگوں کے خلاف عمل کرو۔

البيهقي، أحمد بن الحسين بن علي بن موسى أبو بكر (متوفاي458هـ)، كتاب الزهد الكبير، ج 1، ص 111، تحقيق: عامر أحمد حيدر، ناشر: مؤسسة الكتب الثقافية - بيروت، الطبعة: الثالثة، 1996م؛

السيوطي، جلال الدين عبد الرحمن بن أبي بكر (متوفاي911هـ)، الحاوي للفتاوي في الفقه وعلوم التفسير والحديث والاصول والنحو والاعراب وسائر الفنون، ج 2، ص 11، تحقيق: عبد اللطيف حسن عبد الرحمن، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت، الطبعة: الأولى، 1421هـ - 2000م.

حاكم نيشابوري نے اس روایت کو نقل کرنے کے بعد کہا ہے :

هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يخرجاه.

یہ روایت صحیحین کی شرائط کے مطابق صحیح ہے لیکن ان دونوں میں اس کو نقل نہیں کیا ہے ۔

الحاكم النيسابوري، محمد بن عبدالله أبو عبدالله (متوفاي405 هـ)، المستدرك على الصحيحين، ج 3، ص 386، ح 5464، تحقيق: مصطفى عبد القادر عطا، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت الطبعة: الأولى، 1411هـ - 1990م.

تقیہ ، ابن عباس کی نگاہ میں:

اہل سنت کی کتابوں میں بہت سی ایسی روایتیں ہیں کہ جو یہ بتاتی ہیں کہ ابن عباس تقیہ کے معقد تھے ،جیساکہ محمد بن جرير طبري نے اپنی تفسیر میں نقل کیا ہے :

عن ابن عباس في قوله « إلا أن تتقوا منهم تقاة » فالتقية باللسان من حمل على أمر يتكلم به وهو معصية لله فيتكلم به مخافة الناس وقلبه مطمئن بالإيمان فإن ذلك لا يضره إنما التقية باللسان.

  ابن عباس سے اللہ کے اس کلام «إلا أن تتقوا منهم تقاة» کے بارے میں نقل ہوا ہے: تقیہ زبان سے ہوتا ہے ، کسی کو ایسی بات کہنے پر مجبور کیا جائے جو اللہ کی نافرمانی شمار ہوتی ہے اور وہ بھی خوف کی وجہ سے اس کو زبان پر لاتا ہے ، لیکن اس کا دل ایمان سے مطمئن ہو تو ایسے میں ظاہری بات اس کے ایمان کو نقصان نہیں  پہنچاتی ، اس کا یہ تقیہ صرف زبانی ہے۔

الطبري، أبي جعفر محمد بن جرير (متوفاي310هـ)، جامع البيان عن تأويل آي القرآن، ج 3، ص 229، ناشر: دار الفكر، بيروت – 1405هـ

اسی طرح ابن عباس سےنقل ہوا ہے ۔۔

فأما من أكره فتكلم به لسانه وخالفه قلبه بالإيمان لينجو بذلك من عدوه فلا حرج عليه لأن الله سبحانه إنما يأخذ العباد بما عقدت عليه قلوبهم

کسی کو ایسی بات کہنے پر مجبور کیا  جائے جس کو اس کا دل ایمان کی وجہ  سے کہنا نہیں چاہتا لیکن دشمن سے جان بچانے کے لئے کہہ ہی دے تو  کوئی اشکال نہیں ۔کیونکہ اللہ اپنے بندوں کو دل میں موجود باتوں کی وجہ سے جواب دہ قرار دیتا ہے ۔

الطبري، أبي جعفر محمد بن جرير (متوفاي310هـ)، جامع البيان عن تأويل آي القرآن، ج 14، ص 182، ناشر: دار الفكر، بيروت – 1405هـ .

أبو حيان اندلسي نے لکھا ہے :

قال ابن عباس: التقية المشار إليها مداراة ظاهرة وقال: يكون مع الكفار أو بين أظهرهم، فيتقيهم بلسانه، ولا مودة لهم في قلبه.

ابن عباس نے کہا ہے : آیت میں تقیہ سے مراد ظاہری طور پر لوگوں کے ساتھ گھل مل کر رہنا ہے ۔ کوئی شخص کفار کے ساتھ ہو اور یا ان کے درمیان رہتا پو اور وہ دل سے کفار سے محبت نہیں کرتا لیکن زبان سے تقیہ کرتا ہے ۔

أبي حيان الأندلسي، محمد بن يوسف، تفسير البحر المحيط، ج 2، ص 442، تحقيق: الشيخ عادل أحمد عبد الموجود - الشيخ علي محمد معوض، شارك في التحقيق 1) د.زكريا عبد المجيد النوقي 2) د.أحمد النجولي الجمل،  ناشر: دار الكتب العلمية - لبنان/ بيروت، الطبعة: الأولى، 1422هـ -2001م.

تقيه  ، ابودرداء کی نگاہ میں :

ابودرداء، صحابي رسول خدا صلي الله عليه وآله وسلم ان لوگوں میں سے ہے جو لوگوں کو تقیہ کرنے کی نصیحت کرتے اور تقیہ کو عاقل انسان کی نشانی سمجھتے تھے ۔

أبو الفرج ابن جوزي اور ابن عساكر کہتے ہیں :

قال أبو الدرداء ألا أنبئكم بعلامة العاقل؟ يتواضع لمن فوقه ولا يزري بمن دونه ويمسك الفضل من منطقه يخالق الناس بأخلاقهم ويحتجز الإيمان فيما بينه وبين ربه جل وعز وهو يمشي في الدنيا بالتقية والكتمان.

ابودرداء نے کہا ہے : کیا تم لوگ یہ چاہتے ہو کہ میں تم لوگوں کو عاقل لوگوں کی نشانی سے آگاہ کروں ؟

عاقل وہ ہے کہ جو اپنے سے بڑوں کے سامنے تواضع سے کام لیتا ہے ۔ جو اپنے سے کم مقام درجے کے لوگوں پر ظلم نہیں کرتا ، فضول بات نہیں کرتا ،لوگوں کے ساتھ لوگوں کے اخلاق اور رہن سہن کے مطابق عمل انجام دیتا ہے اور اپنے ایمان کو اپنے اور اللہ کے درمیان محفوظ رکھتا ہے دنیا میں تقیہ اور چھپاپا کر زندگی کرتا ہے !!!

ابن الجوزي، أبو الفرج عبد الرحمن بن علي بن محمد (متوفاي597 هـ)، كتاب الأذكياء، ج 1 ص 14، باب الاستدلال على عقل العاقل بالأفعال والأقوال، ناشر: مكتبة الغزالي؛

ابن عساكر الدمشقي الشافعي، أبي القاسم علي بن الحسن إبن هبة الله بن عبد الله،(متوفاي571هـ)،  تاريخ مدينة دمشق وذكر فضلها وتسمية من حلها من الأماثل، ج 47، ص 175، تحقيق: محب الدين أبي سعيد عمر بن غرامة العمري، ناشر: دار الفكر - بيروت - 1995.

محمد بن اسماعيل بخاري اور اہل سنت کے بہت سے بزرگوں نے نقل کیا ہے :

عن أبي الدَّرْدَاءِ إِنَّا لَنَكْشِرُ في وُجُوهِ أَقْوَامٍ وَإِنَّ قُلُوبَنَا لَتَلْعَنُهُمْ.

  کچھ لوگ ایسے ہیں جن کے سامنے ہم ہنستے اور خوشی کا اظہار کرتے ہیں مگر ہمارے دل ان پر لعنت کرتے ہیں۔

البخاري الجعفي، محمد بن إسماعيل أبو عبدالله (متوفاي256هـ)، صحيح البخاري، ج 5، ص 2271، تحقيق د. مصطفى ديب البغا، ناشر: دار ابن كثير، اليمامة - بيروت، الطبعة: الثالثة، 1407 - 1987؛

الكوفي، هناد بن السري (متوفاي243هـ)، الزهد، ج 2، ص 590، باب من قال ليتني لم أخلق، تحقيق: عبد الرحمن عبد الجبار الفريوائي، ناشر: دار الخلفاء للكتاب الإسلامي - الكويت، الطبعة: الأولى، 1406هـ؛

إبن أبي الدنيا، أبو بكر عبد الله بن محمد بن عبيد (متوفاي281هـ)، الحلم، ج 1، ص 69، تحقيق: محمد عبد القادر أحمد عطا، ناشر: مؤسسة الكتب الثقافية - بيروت، الطبعة: الأولى، 1413هـ .

ابن تيميه  اور  صحابہ کا تقيه ۔

 ابن تيميه لکھتا ہے :

قال نَصْرُ بن حَاجِبٍ سُئِلَ بن عُيَيْنَةَ عن الرَّجُلِ يَعْتَذِرُ إلَى اخيه من الشَّيْءِ الذي قد فَعَلَهُ وَيُحَرِّفُ الْقَوْلَ فيه لِيُرْضِيَهُ لم يَأْثَمْ في ذلك فقال أَلَمْ تَسْمَعْ قَوْلَهُ ليس بِكَاذِبٍ من أَصْلَحَ بين الناس يَكْذِبُ فيه فإذا اصلح بَيْنَهُ وَبَيْنَ اخيه الْمُسْلِمِ خَيْرٌ من أَنْ يُصْلِحَ بين الناس بَعْضِهِمْ من بَعْضٍ وَذَلِكَ إذَا أَرَادَ بِهِ مَرْضَاةَ اللَّهِ وَكَرِهَ أَذَى الْمُؤْمِنِ وَيَنْدَمُ على ما كان منه وَيَدْفَعُ شَرَّهُ عن نَفْسِهِ ولاَ يُرِيدُ بِالْكَذِبِ اتِّخَاذَ الْمَنْزِلَةِ عِنْدَهُمْ ولاَ طَمَعًا في شَيْءٍ يُصِيبُ منهم فإنه لم يُرَخَّصْ في ذلك وَرَخَّصَ له إذَا كَرِهَ مَوْجِدَتَهُمْ وَخَافَ عَدَاوَتَهُمْ.

قال حُذَيْفَةُ إنى أَشْتَرِي دِينِي بَعْضَهُ بِبَعْضٍ مَخَافَةَ ان أُقْدِمَ على ما هو أَعْظَمُ منه.

نصر بن حاجب نے کہا : ابن عيينه سے کسی ایسے شخص کے بارے میں سوال ہوا جو کوئی غلط کام انجام دیتا ہے اور پھر وہ حقیقت کے خلاف بیان دیتا ہے تاکہ  دوسرے کو راضی کر سکے ،کیا وہ اپنے اس کام کی وجہ سے گناہ گار ہوگا ؟

ابن عینیہ نے جواب دیا :  کیا رسول خدا (ص) کا فرمان نہیں سنا ہے کہ آپ نےفرمایا: جو دو بندوں کے درمیان صلح و صفائی کا باعث بنے وہ جھوٹا نہیں کہلائے گا ؟ اگر کوئی اپنے اور اپنے مومن بھائی کے درمیان صلح کر دئے تو یہ دوسروں کے درمیان صلح کرنے سے بہتر ہے ۔

لیکن یہ جھوٹ اس وقت جائز ہے جب وہ اس کام کے ذریعے اللہ کی رضایت حاص کرنا چاہتا ہو اور اس کو یہ پسند نہیں ہے کہ کوئی مسلمان اس سے تکلیف میں ہو اور جو غلط  کام انجام دیا ہے اس سے وہ پشیمان ہے اور اس کام کے ذریعے سے وہ اس کے شر سے محفوظ رہنا چاہتا ہے ۔

اس طرح جھوٹ بولنے کا مقصد اس کے پاس مقام حاصل کرنا یا اس کے پاس موجود کسی چیز کی لالچ نہ ہو ، یہ جھوٹ اس وقت جائز ہے کہ جب وہ اس کے غیض و غضب اور اس کی دشمنی سے وہ ڈرتا ہو ۔

حذیفہ سے نقل ہوا ہے : میں اپنے دین کے بعض حصے کو بچانے کے لئے بعض حصے کو بھیج دیتا ہوں تاکہ کہیں مجھے اس سے زیادہ سخت مشکل کا سامنہ نہ کرنا پڑے۔

ابن تيميه الحراني، أحمد عبد الحليم أبو العباس (متوفاي728 هـ)، الفتاوى الكبرى، ج 3، ص 212، تحقيق: قدم له حسنين محمد مخلوف، ناشر: دار المعرفة – بيروت؛

الزرعي الدمشقي، محمد بن أبي بكر أيوب (معروف به ابن قيم الجوزية)، إعلام الموقعين عن رب العالمين، ج 3، ص 216، تحقيق: طه عبد الرؤوف سعد، ناشر: دار الجيل - بيروت – 1973.

 شیعہ اور اہل سنت کے علماء کی نگاہ میں تقیہ

تقیہ ، شیعہ علماء کی نگاہ میں

خاص شرائط کے ساتھ تقیہ کا واجب یا جائز ہونا  اهل بيت عليهم السلام کے پیروکاروں کے ہاں اجماعی مسئلہ ہے ، ہم اس سلسلے میں  شيخ صدوق (متوفاي381هـ) اورشيخ طوسي (متوفاي460هـ) رضوان الله تعالي عليهما کی بات کو نقل کرتے ہیں:

شيخ صدوق کہتے ہیں :

التقية فريضة واجبة علينا في دولة الظالمين، فمن تركها فقد خالف دين الإمامية وفارقه.

تقيه ایک فریضہ ہے، ظالم حکومتوں کے دور میں یہ واجب ہوجاتا ہے ۔ لہذا جو تقیہ چھوڑ دیتا ہے وہ شیعہ مذہب کی مخالفت کرتا ہے اور شیعہ مذہب سے باہر ہوجاتا ہے ۔

الصدوق، أبو جعفر محمد بن علي بن الحسين (متوفاي381هـ)، الهداية، ص 51، تحقيق و نشر: مؤسسة الإمام الهادي (عليه السلام) ـ قم، الطبعة: الأولى، 1418هـ .

انہوں نے ہی " الإعتقادات " میں لکھا ہے :

اعتقادنا في التقية انّها واجبة، من تركها كان بمنزلة من ترك الصلاة.

ہم تقیہ کے واجب ہونے کا عقیدہ رکھتے ہیں جو اس کو ترک کر دئے گویا ایسا ہے جیسا اس نے نماز کو چھوڑا  ہو ۔

الصدوق، أبو جعفر محمد بن علي بن الحسين (متوفاي381هـ)، الاعتقادات في دين الإمامية، ص 107، تحقيق: عصام عبد السيد، ناشر: دار المفيد للطباعة والنشر والتوزيع - بيروت، الطبعة: الثانية، 1414هـ ـ 1993م.

آپ آگے جاکر لکھتے ہیں :

والتقية واجبة لا يجوز رفعها إلى أن يخرج القائم - عليه السلام - فمن تركها قبل خروجه فقد خرج عن دين الله ودين الإمامية وخالف الله ورسوله والأئمة.

تقيه واجب ہے  اور امام کے خروج سے پہلے اس حکم کو ختم  کرنا جائز نہیں ہے ؛ لہذا جو امام مہدی علیہ السلام کے خروج سے پہلے اس کو چھوڑ دئے وہ اللہ  کے دین اور امامیہ کے دین سے خارج ہوتا ہے اور اس نے اللہ ،اللہ کے رسول اور اماموں کی مخالفت کی ہے ۔

الصدوق، أبو جعفر محمد بن علي بن الحسين (متوفاي381هـ)، الاعتقادات في دين الإمامية، ص 108، تحقيق: عصام عبد السيد، ناشر: دار المفيد للطباعة والنشر والتوزيع - بيروت، الطبعة: الثانية، 1414هـ ـ 1993م.

شيخ طوسي رضوان الله عليه  نے  تقيه کے بارے میں لکھا ہے :

والتقية - عندنا - واجبة عند الخوف على النفس وقد روي رخصة في جواز الافصاح بالحق عندها.

روى الحسن أن مسيلمة الكذاب أخذ رجلين من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وآله فقال لأحدهما أتشهد أن محمدا رسول الله؟ قال: نعم. قال: أفتشهد أني رسول الله؟ قال نعم، ثم دعا بالاخر فقال أتشهد أن محمدا رسول الله؟ قال: نعم، فقال له أفتشهد أني رسول الله؟ قال إني أصم - قالها ثلاثا كل ذلك تقية - فتقول ذلك فضرب عنقه فبلغ ذلك فقال أما هذا المقتول فمضى على صدقه وتقيته وأخذ بفضله فهنيئا له.

وأما الاخر فقبل رخصة الله، فلا تبعة عليه فعلى هذا التقية رخصة والافصاح بالحق فضيلة. وظاهر أخبارنا يدل على آن‌ها واجبة، وخلافها خطأ.

تقیہ ہم شیعوں کے نذدیک اس وقت واجب ہے کہ جب کوئی تقیہ نہ کرنے سے اپنی جان کے لئے خطرہ محسوس کرتا ہو ۔ لیکن ایسی حالت میں حق بیان کرنے کے جواز پر بھی روایت نقل ہوئی ہے ۔

حسن نے کہا ہے : مسيلمة کذاب نے اصحاب رسول خدا (ص) میں سے دو نفر کو گرفتار کیا ۔ ان میں سے ایک سے کہا : کیا گواہی دیتے ہو محمد اللہ کے رسول ہیں؟ ان نے جواب دیا : جی ہاں جی ہاں ۔

 دوسرے کو بلایا اور اس سے پوچھا : کیا اس چیز کی گواہی دیتے ہو کہ میں بھی اللہ کے رسول ہوں ؟

صحابی نے جواب دیا : میں نہِیں سنن رہا ہوں ،اور یہ تین دفعہ تکرار کیا ،مسلمہ کے حکم سے  اس کو قتل کیا ۔ جب یہ خبر رسول خدا (ص) تک پہنچی تو آپ نے فرمایا : جو مارا گیا وہ اپنے یقین اور تصدیق کے ساتھ مرگیا، ایسی موت اس کے لئے مبارک ہو ۔ اور دوسرے نے بھی ایسا کام انجام دیا جس کو اللہ نے اس کے لئے جائز قرار دیا ہے لہذا اس کے لئے بھی اس کام کی وجہ سے کوئی سزا نہیں ملے گی ۔

لہذا تقیہ {اہل سنت کی اس روایت کے مطابق  ایک رخصت ہے  اور پھر بھی حق کا اظہار کرنا اور تقیہ نہ کرنا ایک فضیلت ہے۔

  لیکن ہمارے پاس موجود روایات سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ ایسے موقعوں پر تقیہ واجب ہے اور تقیہ نہ کرنا غلط ہے ۔

الطوسي، الشيخ أبو جعفر، محمد بن الحسن بن علي بن الحسن (متوفاي460هـ)، التبيان، ج 2، ص 435، تحقيق: تحقيق وتصحيح: أحمد حبيب قصير العاملي، ناشر: مكتب الإعلام الإسلامي، الطبعة: الأولى، 1409هـ .

تقيه اہل سنت کے علماء کی نظر میں :

اہل سنت کے علماء کے کلمات سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ وہ لوگ بھی اہل بیت کے پیروکاروں کی طرح تقیہ کے جائز ہونے پر یقین رکھتے ہیں اور ضرورت کے وقت تقیہ کرتے ہیں۔لیکن بعض لوگوں نے شیعہ اعتقاد کی تائید کرنے سے دوری اختیار کرتے ہوئے ایک ماھرانہ کھیل کھیلنے کی کوشش کی ہے اور  تقیہ کا نام بدل کر کبھی {اکراہ ] کبھی {مدارا} کا عنوان دینے ہیں اور شیعوں کے ساھ تقیہ کے بارے میں ہم عقیدہ ہونے سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں ۔لیکن بلکل واضح سی بات ہے کہ اکراہ اور مدارا کا معنی وہی تقیہ ہی ہے کہ جس کو اہل بیت علیہم السلام کے پیروکار جائز سمجھتے ہیں ۔

 اس کے علاوہ بھی جیساکہ بیان ہوا؛ فخر رازي، ابن خازن، عيني، آلوسي، تاج الدين حنفي، عبد الرحمن سعدي اور بہت سے اہل سنت کے علماء نے تقیہ کو بیان کرنے والی آیات کی شان نزول میں تقیہ کو جائز قرار دیا اور یہی اہل سنت کے دوسرے  بہت سے ایسے علماء کا نظریہ  بھی ہے جنہوں نے اپنی تفسیری کتابوں میں اس کے جائز ہونے کو واضح انداز میں بیان کیا ہے ۔

اس سلسلے میں اگرچہ  ابن بطال، ابن كثير دمشقي اور قرطبي،کے کلمات زیادہ واضح اور اھمیت کا حامل ہیں ۔ ان لوگوں نے  واضح طور پر تقیہ کے جواز  کو بیان کیا ہے ۔ ہم ذیل میں اہل سنت کے علماء کے اقوال اور کلمات کو ان کے وفات کی ترتیب کے حساب سے نقل کریں گے ۔

قتادة بن دعامة (متوفاي60هـ):

أبو حيان اندلسي لکھتا ہے :

وقال قتادة: إذا كان الكفار غالبين، أو يكون المؤمنون في قوم كفار فيخافونهم، فلهم أن يحالفوهم ويداروهم دفعاً للشر وقلبهم مطمئن بالإيمان.

قتاده نے کہا ہے : اگر کفار مسلمانوں پر فتح حاصل کر لے یا مسلمان کافروں کے درمیان میں ہوں اور ان سے خوف بھی  لاحق ہو  کفار سے عہد و پیمان باندھنا اور کفار کے ساتھ مدارا کرنا جائز ہے ، تاکہ اس طریقے سے ان کے شر سے اپنے کو محفوظ کر سکے لیکن شرط یہ ہے کہ اس کا دل ایمان سے محکم ہو ۔

أبي حيان الأندلسي، محمد بن يوسف، تفسير البحر المحيط، ج 2، ص 442، تحقيق: الشيخ عادل أحمد عبد الموجود - الشيخ علي محمد معوض، شارك في التحقيق 1) د.زكريا عبد المجيد النوقي 2) د.أحمد النجولي الجمل،  ناشر: دار الكتب العلمية - لبنان/ بيروت، الطبعة: الأولى، 1422هـ -2001م .

مكحول شامي (متوفاي100 هـ):

ابوعبد الله مكحول شامي، اھل سنت کے فقہاء مین سے ہیں اور  «فقيه شامي» کے نام سے مشهور ہے اور  تقريباً‌ 100 هجري کو دنیا سے چلے گئے .

ابو محمد انصاري لکھتا ہے :

علي بن حوشب عن مكحول قال ذلّ من لا تقية له.

  مکحول سے نقل ہوا ہے : اگر کوئی تقیہ نہ کرئے تو ذلیل ہوگا .

الأنصاري، عبدالله بن محمد بن جعفر بن حيان أبو محمد (متوفاي369 هـ )، طبقات المحدثين بأصبهان والواردين عليها، تحقيق: عبدالغفور عبدالحق حسين البلوشي، ج 4، ص 176، ناشر: مؤسسة الرسالة - بيروت، الطبعة: الثانية، 1412هـ – 1992م.

محمد بن الحسن شيباني (متوفاي198هـ):

شیبانی تقیہ کے بارے میں لکھتا ہے :

وإذا خاف المسلمون المشركين فطلبوا موادعتهم فأبى المشركون أن يوادعوهم حتى يعطيهم المسلمون على ذلك مالاً فلا بأس بذلك عند تحقق الضرورة؛ لأنهم لو لم يفعلوا وليس بهم قوة دفع المشركين ظهروا على النفوس والأموال جميعا، فهم بهذه الموادعة يجعلون أموالهم دون أنفسهم. وقد قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم لبعض أصحابه: « اجعل مالك دون نفسك ونفسك دون دينك ». وحذيفة بن اليمان رضي الله عنه كان يداري رجلا فقيل له: إنك منافق. فقال: لا، ولكني أشتري ديني بعضه ببعض مخافة أن يذهب كله. ففي هذا بيان أنه ليس بالمهانة. ولا بأس بدفع بعض المال على سبيل الدفع عن البعض إذا خاف ذهاب الكل.

اگر مسلمان کفار سے خوف زدہ ہو اور ان سے الگ ہونا چاہتے ہو لیکن مال دیے بغیر جدا ہونے نہیں دیتے تو مال دے کر جان چھڑانے میں کوئی اشکال نہیں ، کیونکہ ایسا نہ کرئے تو وہ وہ کافر سے مقابلہ نہیں کرسکتا اور کفار ان کے جان اور مال پر مسلط ہوگا ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے اصحاب سے فرمایا : اپنے مال کو اپنی جان کے لئے ڈھال قرار دو اور اپنی جان کو اپنے دین کے لئے ڈھال قرار دو۔

و حذيفة بن يمان (عثمان) کے ساتھ مدارا (تقيه) کرتے تھے ، ان سے کہا : تم منافق ہو ، تو کہا : ایسا نہیں ہے ، میں نے اپنے دین کے ایک حصہ کو فروخت کیا ہے تاکہ باقی بچ جائے کیونکہ مجھے سارا دین چلے جانے کا ڈر تھا ۔

اس روایت سے معلوم ہوتا ہے تقیہ ذلیل نہ ہونے کا سبب ہے . اور اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اگر کسی کو یہ خوف ہو کہ اس کے سارے مال چلا جائے گا تو مال کے ایک حصے کو دے کر باقی کو بچاسکتا ہے  .

الشيباني، محمد بن الحسن، السير الكبير، ج 5، ص 1692، تحقيق: د. صلاح الدين المنجد، ناشر: معهد المخطوطات - القاهرة.

محمد بن اسماعيل بخاري (متوفاي256 هـ):

بخاری ان لوگوں میں سے ہے کہ جنہوں نے شیعہ اعتقاد کی تصدیق کرنے سے بچنے کے لئے «اكراه» کے لفاظ کا استعمال کیا اور اسی سلسلے میں ایک کتاب لکھ دی ،اپنی اسی کتاب کے شروع میں لکھتا :

كتاب الإكراه وَقَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى (إِلاَّ مَنْ أُكْرِهَ وَقَلْبُهُ مُطْمَئِنٌّ بِالإِيمَانِ وَلَكِنْ مَنْ شَرَحَ بِالْكُفْرِ صَدْرًا فَعَلَيْهِمْ غَضَبٌ مِنَ اللَّهِ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ )

وَقَالَ ( إِلاَّ أَنْ تَتَّقُوا مِنْهُمْ تُقَاةً ) وَهْىَ تَقِيَّةٌ وَقَالَ ( إِنَّ الَّذِينَ تَوَفَّاهُمُ الْمَلاَئِكَةُ ظَالِمِي أَنْفُسِهِمْ قَالُوا فِيمَ كُنْتُمْ قَالُوا كُنَّا مُسْتَضْعَفِينَ فِي الأَرْضِ ) إِلَى قَوْلِهِ ( عَفُوًّا غَفُورًا ) وَقَالَ ( وَالْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ وَالْوِلْدَانِ الَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَا أَخْرِجْنَا مِنْ هَذِهِ الْقَرْيَةِ الظَّالِمِ أَهْلُهَا وَاجْعَلْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ وَلِيًّا وَاجْعَلْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ نَصِيرًا ) فَعَذَرَ اللَّهُ الْمُسْتَضْعَفِينَ الَّذِينَ لاَ يَمْتَنِعُونَ مِنْ تَرْكِ مَا أَمَرَ اللَّهُ بِهِ، وَالْمُكْرَهُ لاَ يَكُونُ إِلاَّ مُسْتَضْعَفًا غَيْرَ مُمْتَنِع مِنْ فِعْلِ مَا أُمِرَ بِهِ.

وَقَالَ الْحَسَنُ التَّقِيَّةُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ. وَقَالَ ابْنُ عَبَّاس فِيمَنْ يُكْرِهُهُ اللُّصُوصُ فَيُطَلِّقُ لَيْسَ بِشَىْء، وَبِهِ قَالَ ابْنُ عُمَرَ وَابْنُ الزُّبَيْرِ وَالشَّعْبِيُّ وَالْحَسَنُ. وَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم « الأَعْمَالُ بِالنِّيَّةِ ».

کتاب اکراه:

(اس باب کے دلائل :)

اللہ نے اپنی کتاب میں فرمایا ہے :« إِلاَّ مَنْ أُكْرِهَ وَقَلْبُهُ مُطْمَئِنٌّ بِالإِيمَانِ وَلَكِنْ مَنْ شَرَحَ بِالْكُفْرِ صَدْرًا فَعَلَيْهِمْ غَضَبٌ مِنَ اللَّهِ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ»

اسی طرح  اللہ کا کلام ہے : « إِلاَّ أَنْ تَتَّقُوا مِنْهُمْ تُقَاةً» اس سے مراد تقیہ ہے .

اسی طرح اللہ کا یہ کلام : «إِنَّ الَّذِينَ تَوَفَّاهُمُ الْمَلاَئِكَةُ ظَالِمِي أَنْفُسِهِمْ قَالُوا فِيمَ كُنْتُمْ قَالُوا كُنَّا مُسْتَضْعَفِينَ فِي الأَرْضِ... عَفُوًّا غَفُورًا»

اللہ کا یہ کلام : « وَالْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ وَالْوِلْدَانِ الَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَا أَخْرِجْنَا مِنْ هَذِهِ الْقَرْيَةِ الظَّالِمِ أَهْلُهَا وَاجْعَلْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ وَلِيًّا وَاجْعَلْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ نَصِيرًا»

ان آیات کے مطابق اللہ نے مستضعف لوگوں کو ، اللہ کے دستورات پر عمل نہ کرسکے تو معذور{ یعنی مجبوری کی وجہ سے اللہ کے دستور پر عمل نہ کرنے پر ان کے لئے عذاب نہیں } قرار دیا ہے اور مکرہ سے مراد وہی مستضعف ہے ،جس کو کسی کام کے انجام دینے پر مجبور کیا گیا ہو اور وہ کام کو جس طرح سے اسے امر ہوا ہے اس طرح انجام نہ دِے پائے  ۔

حسن نے کہا ہے : تقيه قیامت تک جاری اور باقی رہے گا .

ابن عباس نے بھی کہا : اگر چور کسی کو اپنی بیوی کو طلاق دینے پر  مجبور کرئے تو یہ طلاق صحیح نہیں ہے جیساکہ ابن عمر ، ابن زبير ، شعبی اور حسن نے بھی یہی کہا ہے .

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہے : اعمال کا دار و مدار نیت پر ہے ۔

البخاري الجعفي، محمد بن إسماعيل أبو عبدالله (متوفاي256هـ)، صحيح البخاري، ج 6، ص 2545، تحقيق د. مصطفى ديب البغا، ناشر: دار ابن كثير، اليمامة - بيروت، الطبعة: الثالثة، 1407 - 1987.

احمد بن علي جصاص (متوفاي370هـ):

انہوں نے اکراہ والی آیت کی تفسیر میں لکھا ہے :

قوله تعالى (من كفر بالله من بعد إيمانه إلا من أكره وقلبه مطمئن بالإيمان ) روى معمر عن عبدالكريم عن أبي عبيد بن محمد بن عمار بن ياسر إلا من أكره وقلبه مطمئن بالإيمان قال أخذ المشركون عمارا وجماعة معه فعذبوهم حتى قاربوهم في بعض ما أرادوا فشكا ذلك إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم قال كيف كان قلبك قال مطمئن بالإيمان قال فإن عادوا فعد

قال أبو بكر هذا اصل في جواز إظهار كلمة الكفر في حال الإكراه والإكراه المبيح لذلك هو أن يخاف على نفسه أو بعض أعضائه التلف إن لم يفعل ما أمره به فأبيح له في هذه الحال أن يظهر كلمة الكفر ويعارض بها غيره إذا خطر ذلك بباله فإن لم يفعل ذلك مع خطوره بباله كان كافرا قال محمد بن الحسن إذا أكرهه الكفار على أن يشتم محمدا صلى الله عليه وسلم فخطر بباله أن يشتم محمدا آخر غيره فلم يفعل وقد شتم النبي صلى الله عليه وسلم كان كافرا وكذلك لو قيل له لتسجدن لهذا الصليب فخطر بباله أن يجعل السجود لله فلم يفعل وسجد للصليب كان كافرا فإن أعجلوه عن الروية ولم يخطر بباله شيء وقال ما أكره عليه أو فعل لم يكن كافرا إذا كان قلبه مطمئنا بالإيمان.

اللہ کا یہ قول  « من كفر بالله من بعد إيمانه إلا من أكره وقلبه مطمئن بالإيمان» یہ جناب عمار کے بارے میں نازل ہوئی ہے ۔ مشرکوں نے جناب عمار کو گرفتار کیا اور آپ کو شکنچہ دینا شروع کیا یہاں تک کہ اپ کو کفار کے بعض خواہشوں کو پورا کرنا پڑی ۔بعد میں آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آئے اور واقعہ کو بیان کیا ۔ آپ نے فرمایا : اس وقت تیرا دل کیسا تھا ؟ جواب دیا : ایمان سے مستحکم ۔ آپ نے فرمایا : اگر کفار نے دوبارہ ایسا کیا تو پھر اسی طرح جان چھڑانا۔

ابوبکر نے کہا ہے : یہ ایک قانوں ہے کہ مجبوری کی صورت میں شرک آمیز کلمات کا اظہار کرسکتا ہے ۔ کیونکہ مجبور ہونا اس کے لئے جواز فراہم کرتا ہے اور یہ اس وقت ہے کہ جب وہ یہ دیکھتا ہے کہ ایسا نہ کرنے کی صورت میں اس کی جان کو خطرہ لاحق ہوگا تو ایسی صورت میں کفر آمیز کلمات کا جاری کرنا جائز ہے ۔اور اگر وہ کنایہ آمیز الفاظ استعمال کرنا چاہئے تو ایسا کرنا چاہئے ۔کیونکہ کرسکنے کے باوجود ایسا نہ کرئے اور اضح الفاظ کا استعمال کرئے تو وہ کافر ہے۔

محمد بن حسن نے کہا ہے : اگر کفار اس اسے  محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم  کو گالی دینے پر مجبور کرئے اور اس کے ذھن میں یہ بات آجائے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ سلم کے علاوہ کسی اور کو گالی دے تو ایسا کرئے لیکن اگر وہ ایسا کرسکنے کے باجود حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ہی گالی دے تو وہ کافر ہوگا ۔

یا اسی طرح اس سے صليب کو سجده کرنے کے لئے کہے ؛ لیکن اس کے ذھن میں بی بات آئے کہ وہ سجدہ اللہ کو ہی کرے گا لیکن ایسا کرسکنے کے باجود صلیب کو ہی سجدہ کرئے تو وہ کافر ہوگا اور اگر اسے فکر کرنے کا موقع ہی نہ دئے اور جو کفار کہے اسی کو ہی انجام دئے تو اس صورت میں وہ کافر نہیں ، لیکن شرط یہ ہے کہ اس کا دل ایمان سے لبریز ہو .

الجصاص، أحمد بن علي الرازي، أحكام القرآن، ج 5، ص 13، تحقيق: محمد الصادق قمحاوي، ناشر: دار إحياء التراث العربي - بيروت – 1405هـ .

ابن بطال (متوفاي449هـ):

ابن بطال نے صحيح بخاري کی شرح میں لکھا ہے :

أجمع العلماء على أن من أكره على الكفر حتى خشى على نفسه القتل أنه لا إثم عليه إن كفر وقلبه مطمئن بالإيمان، ولا تبين منه زوجته، ولا يحكم عليه بحكم الكفر.

علماء کا اجماع ہے اگر کسی کو کافر ہونے پر مجبور کردئے، یہاں تک کہ اس کی جان کو خطرہ لاحق ہو اور وہ ظاہری طور پر کافر ہوجائے لیکن اس کا دل ایمان سے مستحکم ہو تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہے ، اس کی بیوی ظاہری طور پر مرتد ہونے کی وجہ سے اس پر حرام نہیں ہوگا  اور اس پر کفر کا حکم جاری نہیں کرسکتا ۔

إبن بطال البكري القرطبي، أبو الحسن علي بن خلف بن عبد الملك (متوفاي449هـ)، شرح صحيح البخاري، ج 8، ص 291، تحقيق: أبو تميم ياسر بن إبراهيم، ناشر: مكتبة الرشد - السعودية / الرياض، الطبعة: الثانية، 1423هـ - 2003م.

سرخسي حنفي (متوفاي483 هـ ):

 سرخسي، کہ جو حنفیوں کے مشھور فقيه ہے ۔وہ تقیہ شریعت میں جائز ہونے کے بارے میں لکھتا ہے :

وعن الحسن البصري رحمه الله التقية جائزة للمؤمن إلى يوم القيامة إلا أنه كان لا يجعل في القتل تقية وبه نأخذ والتقية أن يقي نفسه من العقوبة بما يظهره وإن كان يضمر خلافه وقد كان بعض الناس يأبى ذلك ويقول إنه من النفاق والصحيح أن ذلك جائز لقوله تعالى ( إلا أن تتقوا منهم تقاة ) وإجراء كلمة الشرك على اللسان مكرها مع طمأنينة القلب بالإيمان من باب التقية.

 حسن بصری سے نقل ہوا ہے کہ تقیہ مومن کے لئے قیامت تک جائز ہے لیکن قتل کے بارے میں تقیہ نہیں کرسکتا۔

ہمارا نظریہ بھی یہی ہے ؛ تقيه یہ ہے کہ کوئی اپنے آپ کو عقوبت اور سزا سے بچانے کے لئے ایسی چیز کا اظہار کرئے جس پر اس کا عقیدہ نہیں ہے ۔ 

بعض لوگ اس طریقے کو پسند نہیں کرتے اور اس کو نفاق سمجھتے ہیں۔لیکن صحیح نظریہ یہ ہے کہ یہ کام جائز ہے کیونکہ اللہ نے ارشاد فرمایا   «إلا أن تتقوا منهم تقاة».

تقیہ کے مورد میں سے ایک شرک آمیز کلمات کو مجبوری کی حالت میں زبان پر  لانا ہے لیکن شرط یہ ہے کہ اس کا قلبی اعتقاد اس کے خلاف ہے ۔

السرخسي، شمس الدين أبو بكر محمد بن أبي سهل (متوفاي483هـ )، المبسوط، ج 24، ص 45، ناشر: دار المعرفة – بيروت.

علامه زمخشري (متوفاي538 هـ ):

  اھل سنت کے ادیب اور مشہور مفسر، زمحشری اس سلسلے میں لکھتے ہیں:

رخص لهم في موالاتهم اذا خافوهم والمراد بتلك الموالاة مخالفة ومعاشرة ظاهرة والقلب مطمئن بالعدواة والبغضاء وانتظار زوال المانع من قشر العصا كقول عيسى صلوات الله عليه كن وسطا وامش جانبا.

لوگوں کے لئے یہ چیز جائز ہے کہ اگر وہ کفار سے ڈرتے ہو تو ان کے ساتھ ظاہری طور پر دوستی کرئے اور مقصد یہ ہو ظاہری طور پر دوستی کا اظہار ہو  اور اندر سے اس کا مخالف ہو اور اس کا دل اس سے دشمنی کے سلسلے میں مستحکم ہو اور وہ اس سلسلے میں مانع کے برطرف ہونے کے انتظار میں ہو ۔اسے اس طرح رہنا چاہئے جس طرح حضرت عیسی صلوات الله عليه نے بیان فرمایا : لوگوں کے درمیان رہے لیکن احتیاط کے ساتھ ۔

الزمخشري الخوارزمي، أبو القاسم محمود بن عمر جار الله، الكشاف عن حقائق التنزيل وعيون الأقاويل في وجوه التأويل، ج 1، ص 380، تحقيق: عبد الرزاق المهدي، بيروت، ناشر: دار إحياء التراث العربي.

أبو حامد غزالي (متوفاي505هـ):

أن عصمة دم المسلم واجبة فمهما كان في الصدق سفك دم أمرىء مسلم قد اختفى من ظالم فالكذب فيه واجب.

مسلمان کی جان بچانا واجب ہے ؛ اگر سچ بولنے کی وجہ سے کسی ایسے مسلمان کی جان کو خطرہ لاحق ہو جو اکفار  سے مخفی ہو تو جھوٹ بول کر اس کی جان بچانا واجب ہے ۔الغزالي، محمد بن محمد أبو حامد (متوفاي505هـ، إحياء علوم الدين، ج 3، ص 137،  ناشر: دار االمعرفة – بيروت.

لہذا اس طرح جھوٹ بولنا وہی تقیہ ہے اور تقیہ کی واضح ترین مصداق ہے ۔

عبد الرحمن بن جوزي (متوفاي597 هـ):

إبن جوزي نے  ‌آيه اكراه کی تفسیر میں لکھا ہے :

الإكراه على كلمة الكفر يبيح النطق بها وفي الإكراه المبيح لذلك عن أحمد روايتان إحداهما أنه يخاف على نفسه أو على بعض أعضائه التلف إن لم يفعل ما أمر به والثانية أن التخويف لا يكون إكراها حتى ينال بعذاب وإذ ثبت جواز التقية فالأفضل ألا يفعل.

اگر کسی کو کفر آمیز کلمات کہنے پر مجبور کیا جائے تو ایسا کہنا جائز ہے ۔ اس سلسلے میں احمد بن حنبل سے دو روایتیں نقل ہوئی ہیں ۔ان میں سے ایک یہ ہے ؛ کوئی اگر شرک آمیز کلمات نہ کہنے کی وجہ سے اپنے یا اپنے کسی عزیز کے قتل ہونے کا احتمال دئے ۔ دوسری روایت کے مطابق صرف ڈرنا اجبار کا مصداق نہیں ہے بلکہ سزا دینے لگے ۔ اور اگر تقیہ جائز ہونے کا مورد پیش بھی آئے پھر بھی تقیہ نہ کرنا بہتر ہے ۔

إبن الجوزي، أبو الفرج عبد الرحمن بن علي بن محمد (متوفاي597هـ)، زاد المسير في علم التفسير، ج 4، ص 496، ناشر: المكتب الإسلامي - بيروت، الطبعة: الثالثة، 1404هـ .

انصاري قرطبي (متوفاي671 هـ):

قرطبي نے اپنی تفسیر میں لکھا ہے :

وقد ذكره أبو بكر الأصيلي في الفوائد وبن المنذر في كتاب الإقناع الرابعة أجمع أهل العلم على أن من أكره على الكفر حتى خشي على نفسه القتل أنه لا إثم عليه إن كفر وقلبه مطمئن بالإيمان ولا تبين منه زوجته ولا يحكم عليه بحكم الكفر هذا قول مالك والكوفيين والشافعي غير محمد بن الحسن فإنه قال: إذا أظهر الشرك كان مرتدا في الظاهر وفيما بينه وبين الله تعالى على الإسلام وتبين منه امرأته ولا يصلى عليه إن مات ولا يرث أباه إن مات مسلما وهذا قول يرده الكتاب والسنة قال الله تعالى: إلا من أكره الآية وقال: إلا أن تتقوا منهم تقاة ... .

ابوبکر اصيلی نے اپنی کتاب "الفوائد" میں اور ابن منذر نے  اپنی کتاب" الاقناع الرابعة" میں کہا ہے : تمام اھل علم کا اس بات پر اجماع ہے کہ کوئی اگر جان کے خطرے کی وجہ سے کفر آمیز کلمات جاری کرنے پر مجبور ہو اور وہ ایسا جاری کردئے لیکن اس کا دل ایمان سے مستحکم ہو تو اس پر کوئی گناہ نہیں ۔ اس کی بیوی اس ظاہری ارتداد کی وجہ سے اس سے جدا نہیں ہوسکتی اور اس پر کفر کا حکم جاری نہیں ہوگا یہ امام مالک ، کوفیوں اور امام شافعی کا نطریہ ہے ،سرف محمد بن حسن نے اس کی مخالفت کی ہے ۔ اس نے کہا ہے :

اگر ظاہری طور پر ارتداد کا اظہار کرئے تو ظاہری طور پر وہ مرتد ہی ہوگا لیکن اللہ کے نذدیک وہ مسلمان رہے گا ۔ لیکن اس کی بیوی اس سے جدا ہوگی اگر وہ مرجائے تو اس پر نماز نہیں پڑھی جائے گی ۔۔۔۔۔

 میری نظر میں محمد بن حسن کا یہ  نظریہ قرآن اور سنت کے خلاف ہے ۔ کیونکہ اللہ نے فرمایا :« إلا من أكره...» اسی طرح اللہ نے فرمایا  «إلا أن تتقوا منهم تقاة...».

الأنصاري القرطبي، أبو عبد الله محمد بن أحمد (متوفاي671، الجامع لأحكام القرآن، ج 10، ص 182،  ناشر: دار الشعب – القاهرة.

نووي (متوفاي676هـ ):

نووی نے بھی اس سلسلے میں لکھا ہے

وقد اتفق الفقهاء على انه لو جاء ظالم يطلب انسانا مختفيا ليقتله أو يطلب وديعة لانسان ليأخذها غصبا وسأل عن ذلك وجب على من علم ذلك اخفاؤه وانكار العلم به وهذا كذب جائز بل واجب لكونه في دفع الظالم.

علماء کا اجماع ہے کہ  اگر کوئی ظالم کسی کے پاس آئے اور اس سے کسی کے مخفی گاہ کا پوچھے تاکہ اس کو قتل کردئے یا کسی کے مخفی شدہ  مال کی جگہ کا پوچھے تاکہ وہ  غصب کر دئے ، تو ایسے میں جس کو  مخفی گاہ کا علم ہے اس پر واجب ہے کہ وہ مخفی گاہ کا نہ بتائے اور اس طرح جھوٹ بولے کہ مجھے مخفی گاہ کا علم نہیں اور یہ ایسے موارد میں سے ہے جہاں جھوٹ بولنا جائز ،بلکہ کبھی واجب ہوگا ۔ کیونکہ وہ اپنے اس کام کے ذریعے ایک ظالم کے لئے رکاوٹ بن رہا ہے .

النووي، أبو زكريا يحيى بن شرف بن مري، شرح النووي على صحيح مسلم، ج 15، ص 124،  ناشر: دار إحياء التراث العربي - بيروت، الطبعة الثانية، 1392 هـ .

ایک اور جگہ پر وہ لکھتا ہے :

اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ اگر کوئی ظالم کسی کا پوچھےاور وہ اس کے پاس چھپا ہوا ہو تو ایسے میں جھوٹ بولتے ہوئے یہ کہنا واجب ہے کہ میں نہیں جانتا ہوں کہ وہ کہاں ہے ۔

النووي، أبو زكريا يحيى بن شرف بن مري، شرح النووي على صحيح مسلم، ج 16، ص 158،  ناشر: دار إحياء التراث العربي - بيروت، الطبعة الثانية، 1392 هـ .

اب اس میں شک نہیں مندرجہ بالا مثالیں تقیہ کے واضح ترین مصادیق میں سے ہیں کیونکہ جھوٹ بولنا یعنی حق کے خلاف کا اظہار کرنا اور یہ خلاف ظاہر کہنا اس صورت میں ہے کہ جب ضرر کا خوف لاحق ہو  ، اب یہ تو وہی تقیہ ہے جیساکہ تقیہ کی تعریف کےباپ میں میں یہ  باتیں گزر چکی ۔

بيضاوي (متوفاي685 هـ):

انہوں نے اپنی تفسیر میں لکھا ہے :

منع عن موالاتهم ظاهرا وباطنا في الأوقات كلها إلا وقت المخافة فإن إظهار الموالاة حينئذ جائز كما قال عيسى عليه السلام كن وسطا وامش جانبا.

مسلمانوں کو کفر سے ظاہری اور باطنی طور پر دوستی سے منع کیا ہے ۔ لیکن اگر کفار سے خوف لاحق ہو تو ایسی صورت میں ظاہری طور پر دوستی کا اظہار کرنا جائز ہے ، جیساکہ جناب عيسی عليه السلام نے فرمایا :  لوگوں کے درمیان رہے رہے لیکن احتیاط کے ساتھ ۔

البيضاوي، ناصر الدين أبو الخير عبدالله بن عمر بن محمد (متوفاي685هـ)، أنوار التنزيل وأسرار التأويل (تفسير البيضاوي)، ج 2، ص 26، ناشر: دار الفكر – بيروت.

نظام الدين نيسابوري (متوفاي728 هـ):

انہوں نے بھی زمحشری والی بات کہیں ہے ۔

رخص لهم في موالاتهم إذا خافوهم، والمراد بتلك الموالاة محالفة ومعاشرة ظاهرة والقلب مطمئن بالعداوة والبغضاء وانتظار زوال المانع من قشر العصا وإظهار الطوية كقول عيسى عليه السلام: كن وسطاً وامش جانباً.

القمي النيسابوري، نظام الدين (متوفاي728 هـ)، تفسير غرائب القرآن ورغائب الفرقان، ج 2، ص 140، تحقيق: الشيخ زكريا عميران، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت / لبنان، الطبعة: الأولى، 1416هـ - 1996م.

أبو حيان اندلسي (متوفاي745هـ):

انہوں نے تقیہ والی آیت کے بارے میں لکھا ہے :

والمعنى لا يتخذوا كافراً ولياً لشيء من الأشياء إلاَّ لسبب التقية، فيجوز إظهار الموالاة باللفظ والفعل دون ما ينعقد عليه القلب والضمير.

اس آیت کا معنی یہ ہے کہ کفار سے کسی صورت میں بھی دوستی کا اظہار نہیں کرنا چاہئے ۔لیکن صرف تقیہ کی صورت میں ایسا کرسکتا ہے اور یہاں بھی صرف زبانی حد تک اور کام کے ذریعے دوستی کا اظہار کرنا جائز ۔ لیکن وہ دل اور ضمیر سے ایسا نہیں کرسکتا۔

أبي حيان الأندلسي، محمد بن يوسف، تفسير البحر المحيط، ج 2، ص 441، تحقيق: الشيخ عادل أحمد عبد الموجود - الشيخ علي محمد معوض، شارك في التحقيق 1) د.زكريا عبد المجيد النوقي 2) د.أحمد النجولي الجمل،  ناشر: دار الكتب العلمية - لبنان/ بيروت، الطبعة: الأولى، 1422هـ -2001م.

ابن كثير دمشقي (متوفاي774 هـ):

انہوں نے بھی اکراہ والی آیت کے بارے میں لکھا ہے :

اتفق العلماء على أن المكره على الكفر يجوز له أن يوالي إبقاء لمهجته

علماء کا اجماع ہے کہ کوئی اگر کفر کے اظہار پر مجبور ہوجائے تو وہ ظاہری طور پر محبت اور دوستی کا اظہار کرسکتا ہے ۔

القرشي الدمشقي، إسماعيل بن عمر بن كثير أبو الفداء (متوفاي774هـ)، تفسير القرآن العظيم، ج 2، ص 589،  ناشر: دار الفكر - بيروت – 1401هـ .

اسی طرح انہوں نے تقيه والی آيه کے بارے میں لکھا ہے :

(إلا أن تتقوا منهم تقاة) أي من خاف في بعض البلدان والأوقات من شرهم فله ان يتقيهم بظاهره لا بباطنه ونيته كما قال البخاري عن أبي الدرداء أنه قال إنا لنكشر في وجوه أقوام وقلوبنا تلعنهم.

« إلا أن تتقوا منهم تقاة»، یعنی  بعض اوقات ، بعض جگہوں  پر کفار کے شر کا خوف لاحق ہو تو ظاہری طور پر وہ تقیہ کرسکتا ہے ۔ لیکن باطن میں اس کی نیت ایسی نہیں ہونی چاہئے ،جیساکہ بخاری نے ابودرداء سے نقل کیا ہے : ہم بعض کے سامنے ہنستے ہیں لیکن ہمارے دل ان پر لعنت کرتے ہیں۔  

القرشي الدمشقي، إسماعيل بن عمر بن كثير أبو الفداء (متوفاي774هـ)، تفسير القرآن العظيم، ج 1، ص 358،  ناشر: دار الفكر - بيروت – 1401هـ .

ابن الوزير (متوفاي840هـ):

انہوں نے اس سلسلے میں لکھا ہے :

وزاد الحق غموضا وخفاء أمران أحدهما خوف العارفين مع قلتهم من علماء السوء وسلاطين الجور وشياطين الخلق مع جواز التقية عند ذلك بنص القرآن واجماع أهل الاسلام وما زال الخوف مانعا من اظهار الحق ولا برح المحق عدوا لاكثر الخلق

  ان میں سے ایک یہ ہے کوئی حق کو جانتے ہیں لیکن برے علماء اور ظالم حاکموں اور شیطان صفت لوگوں کے سامنے اپنی قلت کی وجہ سے خوف کا شکار ہو کر تقیہ کرتے ہیں اور تقیہ بھی قرآنی نص کے مطابق جائز ہے اور اس کے جائز ہونے پر علماء اسلام کا اجماع ہے ۔

اکثر لوگ حق کے دشمن ہیں ۔ اسی لئے خوف ہمیشہ حق  کے اظہار کے لئے مانع ہے۔

اليماني، محمد بن نصر المرتضى (ابن الوزير) (متوفاي840هـ)، إيثار الحق على الخلق في رد الخلافات إلى المذهب الحق من أصول التوحيد، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت - 1987م، الطبعة: الثانية.

ابن حجر عسقلاني (متوفاي852 هـ):

 ابن حجر اهل سنت کے  حافظ علي الإطلاق عالم ہے ،انہوں نے اكراه والی آیت  کی تفسیر میں لکھا ہے :

ومعنى الآية لا يتخذ المؤمن الكافر وليا في الباطن ولا في الظاهر إلا للتقية في الظاهر فيجوز أن يواليه إذا خافه ويعاديه باطنا.

آیت کا معنی یہ ہے کہ  مؤمن کو کفار سے  ظاہری اور باطنی دونوں صورتوں میں دوستی نہیں کرنی چاہئے ؛ خوف اور تقیہ کی صورت میں ظاہری طور پر دوستی جائز ہے لیکن باطن میں اس سے دشمنی رکھنا ہے ۔

العسقلاني الشافعي، أحمد بن علي بن حجر أبو الفضل (متوفاي852 هـ)، فتح الباري شرح صحيح البخاري، ج 12، ص 313، تحقيق: محب الدين الخطيب، ناشر: دار المعرفة - بيروت.

دوسری جگہ لکھتا ہے :

وَاتَّفَقُوا على جَوَازِ الْكَذِبِ عِنْدَ الاضْطِرَارِ كما لو قَصَدَ ظَالِمٌ قَتْلَ رَجُلٍ هو مُخْتَفٍ عِنْدَهُ فَلَهُ أَنْ يَنْفِيَ كَوْنَهُ عِنْدَهُ وَيَحْلِفَ على ذلك وَلا يَأْثَمُ.

علما کا اجماع ہے کہ ضرورت کے وقت جھوٹ بول سکتا ہے ؛ مثلا اگر ظالم شخص کسی ایسے کے بارے میں پوچھے جو اس کے پاس مخفی ہے اور وہ  ظالم اسے قتل کرنا چاہتا تو ایسی صورت میں وہ حقیقت کا انکار کرسکتا ہے ،یہاں تک کہ وہ  اس پر قسم بھی کھائے تو اس پر کوئی گناہ نہیں۔     

العسقلاني الشافعي، أحمد بن علي بن حجر أبو الفضل (متوفاي852 هـ)، فتح الباري شرح صحيح البخاري، ج 5، ص 300، تحقيق: محب الدين الخطيب، ناشر: دار المعرفة - بيروت.

جلال الدين سيوطي (متوفاي911هـ):

انہوں نے  سنن إبن ماجة پر اپنی شرح میں لکھا ہے :

والايتاء معناه الإعطاء يؤتوگن الزكاة أي يعطون أي قد وافقوا المشركين على ما أرادوا منهم تقية والتقية في مثل هذه الحال جائزة لقوله تعالى الا من أكره وقلبه مطمئن بالإيمان و الصبر على اذاهم مستحب

ايتاء کا معنی اداء کرنا ہے ،یعنی کبھی کبھی جو کافر چاہتا ہے تقیہ کی وجہ سے اس کو دیتا ہے ۔ تو ایسی صورت میں تقیہ جائز ہے کیونکہ اللہ نے کہا ہے « الا من أكره وقلبه مطمئن بالإيمان» لیکن مشرکوں کے آذیت کے سامنے صبر کرنا مستحب ہے.

السيوطي وآخرون، شرح سنن ابن ماجه، ج 1، ص 14.

شوكاني (متوفاي1250 هـ ):

شوكاني تقیہ والی آیت کے بارے میں لکھتا ہے :

وفي ذلك دليل على جواز الموالاة لهم مع الخوف منهم ولكنها تكون ظاهرا لا باطنا.

یہ آیت ثابت کرتی ہے کہ کفار سے خوف کی صورت میں کفار سے دوستی کا اظہار کرسکتے ہیں لیکن یہ دوستی باطن میں نہیں ہونی چاہئے ۔

الشوكاني، محمد بن علي بن محمد (متوفاي1255هـ)، فتح القدير الجامع بين فني الرواية والدراية من علم التفسير، ج 1، ص 331، ناشر: دار الفكر – بيروت.

دوسری جگہ شوکانی لکھتے ہیں :

وذهب الحسن البصري والأوزاعي والشافعي وسحنون إلى أن هذه الرخصة المذكورة فى هذه الآية إنما جاءت فى القول وأما فى الفعل فلا رخصة مثل أن يكره على السجود لغير الله ويدفعه ظاهر الآية فآن‌ها عامة فيمن أكره من غير فرق بين القول والفعل ولا دليل لهؤلاء القاصرين للآية على القول وخصوص السبب لا اعتبار به مع عموم اللفظ كما تقرر فى علم الأصول.

حسن بصری ، اوزاعی ، شافعی اور سحنون نے یہ خیال کیا ہے کہ تقیہ کا جائز ہونا صرف زبانی حد تک ہے اور رفتار اور عمل میں تقیہ جائز نہیں ہے ،مثل کسی کو غیر اللہ کو سجدہ کرنے پر مجبور کرئے تو ان کے نذدیک یہ تقیہ جائز نہیں ہے ، لیکن آیت کا ظاہر ان کے ادعا کے خلاف ہے کیونکہ آیت کا ظاہر عمومیت کو بتاتا ہے اور یہ گفتار اور رفتار دونوں میں مجبور ہونے والے شخص کو شامل ہے ۔

الشوكاني، محمد بن علي بن محمد (متوفاي1255هـ)، فتح القدير الجامع بين فني الرواية والدراية من علم التفسير، ج 3، ص 197، ناشر: دار الفكر – بيروت.

مراغي مصري (متوفاي1371 هـ):

مراغي نے اپنی تفسیر میں کہا :

فمن نطق بكلمة الكفر مكرهاً وقاية لنفسه من الهلاك وقلبه مطمئن بالإيمان لا يكون كافراً، بل يعذر كما فعل عمار بن ياسر حين أكرهته قريش على الكفر فوافقها مكرهاً وقلبه مليء بالإيمان، وفيه نزلت الآية: (... إِلاَّ مَنْ أُكْرِهَ وَقَلْبُهُ مُطْمَئِنٌّ بِالإِيمَانِ).

جو بھی مجبور ہو کر زبان پر ایسی بات کہہ دے جس سے اس کی جان بچ جائے لیکن اس کا دل ایمان سے مستحکم ہو تو ایسا شخص کافر نہیں ہوگا بلکہ ایسے شخص  کا عذر قابل قبول ہے ،جیساکہ جناب عمار یاسر کو جب کفار نے شرک آمیز کلمات زبان پر جاری کرنے پر مجبور کیا اور انہوں نے بھی مجبوری میں ایسا کردیا ، جبکہ اس کا دل ایمان سے مستحکم اور مطمئن تھا تو اللہ نے انہیں کے بارے میں آیت نازل کیا « إِلاَّ مَنْ أُكْرِهَ وَقَلْبُهُ مُطْمَئِنٌّ بِالإِيمَانِ»  .

المراغي المصري، احمد بن مصطفي، تفسير المراغي، ج1، ص 486، ناشر: دار الكتب العلميةـ بيروت.

 کیا مسلمان کا مسلمان سے تقیہ جائز ہے ؟

جیساکہ بیان ہوا کہ اہل سنت کے علماء تقیہ کو واضح انداز میں جائز سمجھتے ہیں اور اس پر عمل بھی تھے ۔ لیکن بعض نے یہ اعتراض کیا ہے کہ ہم اصل تقیہ کی مشروعیت کو قبول کرتے ہیں کیونکہ یہ قرآن کے نص سے ثابت ہے ۔ جو چیز قرآن سے ثابت ہے وہ مسلمان کا کفار سے تقیہ ہے لیکن مسلمان کا مسلمان سے تقیہ قرآن سے ثابت نہیں ہے ۔

جواب ۔۔۔

اولاً: عقلی نقطہ نگاہ سے اس میں فرق نہیں ہے کہ تقیہ ظالم کافر کے سامنے ہو یا ظالم مسلمان کے سامنے کیونکہ تقیہ جائز ہونے کا معیار دونوں میں موجود ہے ، دونوں صورت میں اگر دین ،جان ،مال اور عزت وغیرہ کو خطرہ ہو  تو عقل وقتی طور پر تقیہ سے کام لینے کا حکم دیتی ہے اور اپنے عقیدے کے اظہار سے منع کرتی ہے  . اھم و مھم کی رعایت کا قانوں عقلاء کے درمیان ایک قابل قبول قانون ہے ۔ عقلی اعتبار سے ان دونوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔

ثانياً: تقیہ کے جواز پر قرآنی دلیل بھی عام ہے ؛ خاص کر یہ والی آیات  «إِلاَّ أَنْ تَتَّقُوا مِنْهُمْ تُقاةً» ( آل عمران/ 28 ) و آيه دوم « إِلاَّ مَنْ أُكْرِهَ وَقَلْبُهُ مُطْمَئِنٌّ بِالْإيمانِ» (النحل /106).

یہ دونوں آیتیں بتاتی ہیں کہ اگر جان کو خطرہ لاحق ہو  اور  کسی کام کے کرنے پر مجبور ہو تو وقتی طور پر عقیدے کے اظہار سے پرہیز کرنی چاہئے ۔ یہ حکم مطلق ہے کافر کے سامنے تقیہ اور مسلمان کے سامنے تقیہ دونوں کو شامل ہے ۔

یہ بات تو ٹھیک ہے کہ آیت ایک کفار سے تقیہ کے مورد میں نازل ہوئی ہے ۔ لیکن علم اصول میں یہ بات ثابت ہے کہ شان نزول اور مورد نزول مخصَّص نہیں ہے، يعني شأن نزول اور خاص مورد میں نازل ہونا ایک عمومی اور مطلق حکم  کو  اسی خاص مورد کے ساتھ خاص کرنے پر دلیل نہیں ہے ۔

ثالثاً:دوسرے اسلامی مذاھب والے بھی شیعہ نظرئے کی تائید کرتے ہیں اور انہوں نے واضح طور پر فتوا لگایا ہے کہ تقیہ کے مسئلے میں مسلمان اور کافر کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے ۔

فخررازي شافعي نے اپنی تفسیر میں لکھا ہے :

ظاهر الآية يدل أن التقية إنما تحل مع الكفار الغالبين إلا أن مذهب الشافعي رضي الله عنه أن الحالة بين المسلمين إذا شاكلت الحالة بين المسلمين والمشركين حلت التقية محاماة على النفس.

آیت کا ظاہر کافر سے تقیہ دلالت کرتی ہے ۔لیکن امام شافعی کا نظریہ یہ ہے کہ تقیہ جس طرح سے مسلمان اور مشرک کے درمیان جائز ہے اسی طرح  اگر تقیہ کا مورد پیش آئے تو تقیہ مسلمان اور مسلمان کے درمیان  بھی جان بچانے کے لئے جائز ہے ۔

الرازي الشافعي، فخر الدين محمد بن عمر التميمي (متوفاي604هـ)، التفسير الكبير أو مفاتيح الغيب، ج8، ص12،  ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت، الطبعة: الأولى، 1421هـ - 2000م.

رابعاً:   صحابه، تابعين  اور  اهل سنت کے علماء کی عملی سیرت بھی ثابت کرتی ہے کہ تقیہ مسلمان کا مسلمان کے درمیان بھی جائز ہے ۔

اھل سنت کی کتابوں میں ایسے بہت سے موارد اور نمونے ذکر ہوئے ہیں کہ جو مسلمان کا مسلمان کے لئے تقیہ کرنے کو ثابت کرتی ہے اور تقیہ صرف کافر سے کرنے کے نظریے کے بطلان کو بتاتی ہے۔

 تابعین کی عملی سیرت میں مسلمان سے تقیہ :

سعيد بن جبير (متوفاي95هـ) کا تمام لوگوں سے تقیہ :

سعيد بن جبير، کہ جو اہل سنت کے مشہور فقیہ ہیں ، آپ ان لوگوں میں سے ہے جو تقیہ کرتے تھے ، قاسم بن سلام  اور خطيب بغدادي لکھتے ہیں:

قال حدثنا مروان بن معاوية عن حسان بن أبي يحيى الكندي قال سألت سعيد بن جبير عن الزكاة؟ فقال: ادفعها إلى ولاة الأمر. فلما قام سعيد تبعته فقلت: إنك أمرتني أن أدفعها إلى ولاة الأمر وهم يصنعون بها كذا ويصنعون بها كذا؟ فقال: ضعها حيث أمرك الله سألتني على رؤس الناس فلم أكن لأخبرك.

  سعيد بن جبير سے میں نے زکات کے مسئلے میں سوال کیا : انہوں نے جواب دیا :زکات حکومتی نمائندوں کو دئے ۔جب لوگ چلے گئے تو میں ان کے ساتھ چلا اور ان سے کہا : کیا آپ نے مجھے زکات حکومتی نمائندوں اور چیلوں کو دینے کا حکم دیا ؟ جبکہ میں جانتا ہوں کہ یہ لوگ زکات کے ساتھ کیا کیا کرتے ہیں۔ اس پر سعید بن جبیر نے جواب دیا : زکات کو اسی راہ میں خرچ کرو جس کا اللہ نے حکم دیا ہے تم نے لوگوں کے درمیان سوال کیا جبکہ میں وہاں جواب نہیں دے سکتا۔

أبو عبيد القاسم بن سلام (متوفاي224هـ )، كتاب الأموال، ج 1، ص 684، ح 1813، ناشر: دار الفكر.  - بيروت.  تحقيق: خليل محمد هراس، 1408هـ - 1988م؛

البغدادي، أحمد بن علي أبو بكر الخطيب (متوفاي463هـ)، الفقيه و المتفقه، ج 2، ص 415، تحقيق: أبو عبد الرحمن عادل بن يوسف الغرازي، ناشر: دار ابن الجوزي - السعودية، الطبعة: الثانية، 1421هـ .

اس روایت سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ سعید بن جبیر تمام لوگوں سے  تقیہ کرتے تھے۔

عامر شعبى (متوفاي105 هـ) نے حجاج سے تقیہ کیا:

عامر بن شُرَحْبِيل معروف به شعبي کہ جو اھل سنت کے مشہور بزرگ علماء میں سے ہیں ، ابن حجر ان کے بارے میں لکھتا ہے :

ثقة مشهور فقيه فاضل من الثالثة قال مكحول ما رأيت أفقه منه

ایک قابل اطمينان، مشهور، فقيه، تیسرے طبقے کے راویوں میں سے ہیں ۔ مکحول نے کہا ہے : میں نے ان سے زیادہ  بڑا فقیہ نہیں دیکھا ۔

العسقلاني الشافعي، أحمد بن علي بن حجر أبو الفضل (متوفاي852هـ)، تقريب التهذيب، ج 1، ص 287، تحقيق: محمد عوامة، ناشر: دار الرشيد - سوريا، الطبعة: الأولى، 1406 - 1986.علي بن عابس.

عامر شعبي ان لوگوں میں سے ہے جو تقیہ کرتے تھے . بلاذري  اور ابو حامد غزالي نے نقل کیا ہے ؛

حدثنا أحمد بن إبراهيم الدورقي، ثنا عبد الله بن عمرو المنقري، ثنا عبد الوارث أبو عبيدة، ثنا محمد بن ذكوان عن مجالد عن الشعبي قال: قدمنا على الحجاج البصرة، وقدم عليه قراء من المدينة من أبناء المهاجرين والأنصار، فيهم أبو سلمة بن عبد الرحمن بن عوف رضي الله عنه... وجعل الحجاج يذاكرهم ويسألهم إذ ذكر علي بن أبي طالب فنال منه ونلنا مقاربة له وفرقاً منه ومن شره.

شعبی سے نقل ہوا ہے  : ہم بصرہ میں حجاج کے پاس گئے ؛ مدینہ کے انصار اور مہاجرین کے کچھ فرزند قاری بھی وہاں تھے  ان میں سے  ابوسلمة بن عبد الرحمن بن عوف بھی تھا ... حجاج نے اس سے گفتگو کرنا شروع کیا اور علی بن ابی طالب  کی بات سامنے آئی

حجاج نے انہیں گالی دی ۔ ہم نے بھی حجاج کے ڈر سے اور اس کے شر سے محفوظ رہنے کے لئے علی بن ابی طالب کو گالی دینا اور برا بلا کہنا شروع کیا !!

البلاذري، أحمد بن يحيى بن جابر (متوفاي279هـ)، أنساب الأشراف، ج 4، ص 315.

الغزالي، محمد بن محمد أبو حامد (متوفاي505هـ، إحياء علوم الدين، ج 2، ص 346،  ناشر: دار االمعرفة – بيروت.

ابن قتيبه دينوري لکھتا ہے :

قال الشعبي. ما لقينا من آل أبي طالب إن أحببناهم قتلونا، لإن أبغضناهم أدخلونا النار.

شعبی نے کہا ہے : آل ابو طالب کی وجہ سے ہم نے کیا سختیاں برداشت کی ۔ اگر ان سے محبت کرئے تو ہمیں مار دیتے ہیں اور اگر ان سے دشمنی کرئے تو جہنم ہمارا ٹھیکانہ ہوگا۔

الدينوري، أبو محمد عبد الله بن مسلم ابن قتيبة (متوفاي276هـ)، عيون الأخبار، ج 1، ص 91.

حسن بصري (متوفاي110هـ) کا  حجاج سے تقیہ :

حسن بصری بھی اہل سنت کے ان مشہور فقہاء میں سے ہے جو فقہ اور کلام میں اپنا مخصوص اور مستقل نظریہ رکھتا ہے  ۔

ذهبي نے ان کے بارے میں لکھا ہے :

كان كبير الشأن رفيع الذكر رأسا في العلم والعمل.

آپ بڑے مرتبہ کا مالک اور علم و دانش اور عمل کے اعتبار سے پہلے درجے کے لوگوں میں سے ہے ۔

الذهبي، شمس الدين محمد بن أحمد بن عثمان، (متوفاي748هـ)، الكاشف في معرفة من له رواية في الكتب الستة، ج 1، ص 322، تحقيق محمد عوامة، ناشر: دار القبلة للثقافة الإسلامية، مؤسسة علو - جدة، الطبعة: الأولى، 1413هـ - 1992م.

حسن بصری ان لوگوں میں سے ہے جو بہت زیادہ تقیہ کرتے تھے ؛ یہاں تک کہ امیر المومنین علیہ السلام کے نام کو زبان پر لانے کی جرات بھی نہیں کرتا تھا۔

مزي نے تهذيب الكمال میں لکھا ہے :

عن يونس بن عبيد، قال: سألت الحسن، قلت: يا أبا سعيد إنك تقول: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم وإنك لم تدركه؟ قال: يا ابن أخي لقد سألتني عن شئ ما سألني عنه أحد قبلك، ولولا منزلتك مني ما أخبرتك، إني في زمان كما ترى - وكان في عمل الحجاج - كل شئ سمعتني أقول: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم، فهو عن علي بن أبي طالب، غير أني في زمان لا أستطيع أن أذكر عليا.

يونس بن عبيد نے نقل کیا ہے  میں نے حسن  سے سوال کیا : اے ابا سعيد؛ آپ کہتے ہیں :رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایسا فرمایا ، جبکہ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ سلم کو دیکھا نہیں ہے ؟ حسن نے جواب دیا : اگر میرے نذدیک آپ کا کوئی مقام نہیں ہوتا تو میں جوب نہیں دیتا۔ ہم حجاج  کے زمانے میں زندگی گزار رہے ہیں ۔ اگر میں کہوں:  رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایسا کہا ہے ۔ تو میں نے یہ حدیث علی ابن ابی طالب  علیہ السلام سے سنی ہے ۔ لیکن میں ایسے زمانے میں ہوں کہ علی کا نام زبان پر نہیں لاسکتا !!!

المزي، يوسف بن الزكي عبدالرحمن أبو الحجاج (متوفاي742هـ)، تهذيب الكمال، ج 6، ص 124، تحقيق: د. بشار عواد معروف، ناشر: مؤسسة الرسالة - بيروت، الطبعة: الأولى، 1400هـ – 1980م.

العيني، بدر الدين أبو محمد محمود بن أحمد الغيتابى الحنفى (متوفاي855هـ)، مغانى الأخيار، ج 1، ص 210؛

السيوطي، جلال الدين عبد الرحمن بن أبي بكر (متوفاي911هـ)، تدريب الراوي في شرح تقريب النواوي، ج 1، ص 204، تحقيق: عبد الوهاب عبد اللطيف، ناشر: مكتبة الرياض الحديثة - الرياض؛

السيوطي، جلال الدين عبد الرحمن بن أبي بكر (متوفاي911هـ)، الحاوي للفتاوي في الفقه وعلوم التفسير والحديث والاصول والنحو والاعراب وسائر الفنون، ج 2، ص 96، تحقيق: عبد اللطيف حسن عبد الرحمن، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت، الطبعة: الأولى، 1421هـ - 2000م؛

القاسمي، محمد جمال الدين (متوفاي1332 هـ)، قواعد التحديث من فنون مصطلح الحديث، ج 1، ص 143، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت، الطبعة: الأولى، 1399هـ - 1979م.

محمد بن اسماعيل بخاري نے حسن بصري سے نقل کیا ہے :

وَقَالَ الْحَسَنُ التَّقِيَّةُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ.

حسن بصری نے کہا ہے :  قیامت تک تقیہ جائز ہے !!!

البخاري الجعفي، محمد بن إسماعيل أبو عبدالله (متوفاي256هـ)، صحيح البخاري، ج 6، ص 2545، تحقيق د. مصطفى ديب البغا، ناشر: دار ابن كثير، اليمامة - بيروت، الطبعة: الثالثة، 1407 - 1987.

رجاء بن حيوة (متوفاي112هـ) کا وليد بن عبد الملك سے تقیہ :

یہ بھی تابعين کے بزرگوں میں سے تھے ،ذهبي نے تاريخ الإسلام، ج7، ص361، میں ان کے بارے میں «أحد أئمة التابعين، وثّقه غير واحد، سيد أهل الشام » کی تعبیر استعمال کیا ہے .

قرطبي نے رجاء کے وليد بن عبد الملك سے تقیہ کو اس طرح نقل کیا ہے :

وقال إدريس بن يحيى كان الوليد بن عبد الملك يأمر جواسيس يتجسسون الخلق يأتونه بالأخبار قال: فجلس رجل منهم في حلقة رجاء بن حيوة فسمع بعضهم يقع في الوليد فرفع ذلك إليه فقال: يا رجاء أذكر بالسوء في مجلسك ولم تغير فقال: ما كان ذلك يا أمير المؤمنين فقال له الوليد: قل: آلله الذي لا إله إلا هو قال: آلله الذي لا إله إلا هو فأمر الوليد بالجاسوس فضربه سبعين سوطا فكان يلقى رجاء فيقول: يا رجاء بك يستقى المطر وسبعون سوطا في ظهري فيقول رجاء: سبعون سوطا في ظهرك خير لك من أن يقتل رجل مسلم.

ادريس بن يحيی نے کہا ہے : وليد بن عبد الملک نے اپنے جاسوسوں کو حکم دیا تھا کہ وہ لوگوں کی مخبری کرئے ۔ایک جاسوس رجاء بن حيوة کی محفل میں بیٹھے ہوا تھا ، اس جاسوس نے سنا کہ ان میں سے ایک ولید کو گالی دے رہا تھا۔ اس نے یہ خبر ولید کو دی ۔وليد نے رجاء سے کہا : میں نے سنا ہے لوگ تیری محفل میں مجھے گالی دیتے ہیں لیکن تم خاموش رہتا ہے ؟

رجاء نے کہا  : اے امیر المومنین ایسا نہیں ہوا ہے  .

وليدنے کہا :  قسم کھاو.

اس نے بھی قسم کھائی ۔

وليد نے جاسوس کو بلا کر ۷۰ کھوڑے مارے ۔اس کے بعد جب بھی یہ جاسوس رجاء کو دیکھا تو کہتا تھا : اے جاء، یہ کیا ہو تیری دعا سے بارش برستی ہے، لیکن تیری وجہ سے مجھے ۷۰ کھوڑے لگے ؟

رجاء نے کہا : تیرا ۷۰ کھوڑے کھانا ایک مسلمان کے قتل ہونے سے بہتر ہے

الأنصاري القرطبي، أبو عبد الله محمد بن أحمد (متوفاي671، الجامع لأحكام القرآن، ج 10، ص 190،  ناشر: دار الشعب – القاهرة.

قرطبي نے اس واقعے کو  اس آیت کے ذیل میں نقل کیا ہے  « إِلاَّ مَنْ أُكْرِهَ وَقَلْبُهُ مُطْمَئِنٌّ بِالإِيمَانِ» اور یہ آیت تقیہ کو جائز قرار دیتی ہے .

  ابن شهاب زهري (متوفاي125هـ) { بني امية کے حامی} اور تقیہ

ابن شهاب زهري ان لوگوں میں سے ہے جو بني اميه کے دربار میں خاص مقام رکھتا تھا.

ابن حجر لکھتا ہے :

الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه وهو من رؤوس الطبقة الرابعة.

فقيه، حافظ (جو 100000 سے زیادہ روايت کے حافظ تھا) آپ ایسا آدمی ہے کہ آپ کی بزرگی اور علمی مقام کے بارے میں سب کا اتفاق ہے اور آپ طبقه چہارم کے بزرگوں میں سے ہے .

العسقلاني الشافعي، أحمد بن علي بن حجر أبو الفضل (متوفاي852هـ)، تقريب التهذيب، ج 1، ص 506، تحقيق: محمد عوامة، ناشر: دار الرشيد - سوريا، الطبعة: الأولى، 1406 - 1986.علي بن عابس.

ذهبي نے اس سلسلے میں نقل کیا ہے :

كان رحمه الله محتشما جليلا بزي الأجناد له صورة كبيرة في دولة بني أمية.

زهري، کے پاس  مال و ثروت بہت تھا اور  بنی امیہ کی حکومت میں خاص مقام رکھتا تھا.

الذهبي، شمس الدين محمد بن أحمد بن عثمان، (متوفاي748هـ)، سير أعلام النبلاء، ج 5، ص 337، تحقيق: شعيب الأرناؤوط، محمد نعيم العرقسوسي، ناشر: مؤسسة الرسالة - بيروت، الطبعة: التاسعة، 1413هـ .

بعض نقلوں کے مطابق زہری بنی امیہ کے درباریوں سے امیر المومنین عليه السلام کے فضائل بیان کرنے سے ڈرتا تھا اور تقیہ سے کام لیتا تھا .

ابن اثير جزري نے  اسد الغابه میں نقل کیا ہے :

قال عبيد الله بن العلاء بعد نقل الزهري حديث الغدير: فقلت للزهري: لا تحدّث بهذا الشام، وأنت تسمع ملء أذنيك سب علي، فقال: والله إن عندي من فضائل علي ما لو تحدّثت بها لقتلت.

عبيد الله ،زهري سے روایت نقل کرنے کے بعد لکھتا ہے : میں نے زھری سے کہا : حديث غدير کو شام میں نقل نہ کرو ؛ جبکہ تمہارے کان علی بن ابی طالب علیہ السلام ، پر دشنام سے برا ہوا ہے ( ہر جگہ انہیں برا بلا کہے جاتے ہیں ).

 اس نے جواب دیا : اللہ کی قسم علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے اتنے فضائل مجھے یاد ہیں کہ آگر میں انہیں بیان کردوں تو مجھے قتل کیے جائے گیں۔

الجزري، عز الدين بن الأثير أبي الحسن علي بن محمد (متوفاي630هـ)،  أسد الغابة في معرفة الصحابة، ج 1، ص 450، تحقيق عادل أحمد الرفاعي، ناشر: دار إحياء التراث العربي - بيروت / لبنان، الطبعة: الأولى، 1417 هـ - 1996 م.

اسی طرح  ابو احمد عسكري سے نقل کیا ہے :

يقال إن الأوزاعي لم يرو في الفضائل حديثاً غير هذا، والله أعلم. قال: وكذلك الزهري لم يرو فيها إلا حديثاً واحداً، كانا يخافان بني أمية.

کہا گیا ہے کہ الأوزاعي نے علی علیہ السلام کی فضیلت میں اس ایک حدیث سے زیادہ   نقل نہیں کیا ہے اور زہری نے بھی ایک ہی روایت نقل کیا ہے کیونکہ یہ دونوں بنی امیہ والوں سے ڈرتے تھے ۔   

الجزري، عز الدين بن الأثير أبي الحسن علي بن محمد (متوفاي630هـ)،  أسد الغابة في معرفة الصحابة، ج 2، ص 28، تحقيق عادل أحمد الرفاعي، ناشر: دار إحياء التراث العربي - بيروت / لبنان، الطبعة: الأولى، 1417 هـ - 1996 م.

واصل بن عطاء (متوفاي131هـ) کا خوارج سے تقیہ :

واصل بن عطا، اھل سنت کے مشہور متکلم ہیں ، انہوں نے بھی تقیہ کیا ہے ، تنوخي بصري اور ابو الفرج بن جوزي نے اس سلسلے میں لکھا ہے :

أن أبا حذيفة، واصل بن عطاء، خرج يريد سفراً في رهط من أصحابه، فاعترضهم جيش من الخوارج. فقال واصل لأصحابه: لا ينطق منكم أحد، ودعوني معهم. فقالوا: نعم. قال: فقصدهم واصل، واتبعه أصحابه. فلما قربوا بدأ الخوارج ليوقعوا بهم، فقال: كيف تستحلون هذا، وما تدرون ما نحن، ولأي شيء جئنا؟ قالوا: نعم، فما أنتم؟ قال: قوم من المشركين، جئناكم مستجيرين لنسمع كلام الله.

قال: فكفوا عنهم، وبدأ رجل يقرأ عليهم القرآن. فلما أمسك، قال له واصل: قد سمعنا كلام الله، فأبلغنا مأمننا حتى ننظر في الدين. فقالوا: هذا واجب، سيروا. قال: فسرنا، والخوارج والله معنا برماحهم، يسيروننا ويحموننا، عدة فراسخ، حتى قربنا من بلد لا سلطان لهم عليه. فقالوا: ذاك مأمنكم؟ فقال واصل: نعم، فارجعوا عنا. فانصرفوا.

  ابو حذيفه واصل بن عطاء اپنے کچھ ساتھیوں کے ساتھ سفر کر رہے تھے ؛ خوارج کے بعض سپاہی نے راستہ روکا ن تو واصل نے اپنے ساتھیوں سے کہا : سب خاموش رہے ، میں بات ہی کرتا ہوں.

واصل اپنے ساتھوں کے ساتھ ان کی طرف گئے ، خوارج والوں نے تیر مانے کا ارادہ کیا تو واصل نے کہا : تم لوگ کیسے ہماری طرف تیز پھینگ رہے ہو جبکہ تم لوگوں کو معلوم نہیں ہے کہ ہم کیوں تمارے پاس آرہے ہیں ؟

انہوں نے آنے کی وجہ پوچھی ؟

واصل نے کہا : ہم مشرکوں کے ایک گروہ ہیں، ہمیں پناہ دیں ، ہم اللہ کے کلام کو تم لوگوں سے سننا  چاہتے ہیں ۔

خوارج والے ان سے مطمئن ہوئے اور ان میں سے ایک نے کچھ آیات کی تلاوت کی ،جب تلاوت ختم ہوئی تو واصل نے کہا : اب ہمیں کسی امن والی جگہ لے کر جائے ، ہم تاکہ تمہارے دین کے بارے میں غور و فکر کرسکین !!!

انہوں نے کہا : یہ کام واجب ہے لہذا ان کے ساتھ چلیں .

خوارج والوں نے نیزے ہاتھوں میں لے کر ان کی حفاظت کی اور ایک ایسے شہر کے باہر پہنچے جو خوارج کے زیر تسلط نہیں تھا ،خوارج والوں نے پوچھا : کیا اس شھر میں تم لوگوں کے لئے پناہ کی جگہ مل جائے گی ؟ انہوں نے جواب میں کہا : ہاں ہمیں پناہ کی جگہ مل جائے گی ۔ تو خوارج والوں نے انہیں وہاں چھوڑ دیا ۔

التنوخي البصري، أبو علي المحسن بن علي بن محمد بن أبي الفهم (متوفاي384هـ)، نشوار المحاضرة وأخبار المذاكرة، ج 1، ص 380، تحقيق: مصطفى حسين عبد الهادي، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت، الطبعة: الأولى، 1424هـ-2004م؛

ابن الجوزي، أبو الفرج عبد الرحمن بن علي بن محمد (متوفاي597 هـ)، كتاب الأذكياء، ج 1، ص 120، ناشر: مكتبة الغزالي.

اھل سنت کے علماء کی سیرت میں مسلمانوں سے تقیہ:

  إمام أبوحنيفة (متوفاي150هـ) کا  منصور دوانيقي سے تقیہ :

نا حمزة ابن عبدالله الخزاعى ان أبا حنيفة هَرَّبَ من بيعة المنصور جماعةً من الفقهاء، قال أبو حنيفة: لي فيهم أسوة، فخرج مع أولئك الفقهاء فلما دخلوا على المنصور أقبل على أبي حنيفة وحده من بينهم فقال له: أنت صاحب حيل، فالله شاهد عليك أنّك بايعتنى صادقا من قلبك. قال: الله يشهد علي ّ حتى تقوم الساعة، فقال: حسبك.

 فلما خرج أبو حنيفة قال له أصحابه: حكمت على نفسك بيعته حتى تقوم الساعة!!

قال: إنّما عنيت حتى تقوم الساعة من مجلسك إلى بول أو غائط أو حاجة حتى يقوم من مجلسه ذلك.

حمزه بن عبد الله خزاعی نے روایت نقل کیا ہے : ابو حنيفه نے فقها کے ایک گروہ کو منصور کی بیعت سے فرار ہونے کا موقع فراہم کیا اور کہا: یہ لوگ میرے لئے نمونہ عمل ہیں اور پھر انہیں فقھاء کے ساتھ چلا گیا ۔

اور جب منصور کے پاس پہنچے ، منصور نے ابو حنیفہ  سے کہا : تم نے یہ سب چکر چلایا ہے ۔ اللہ گواہ ہے کہ تم نے سچ میں دل سے میری بیعت کی ہے ۔ ابوحنیفہ نے کہا: اللہ گواہ ہے اور قیامت کے دن تک ،  منصور نے قبول کیا ۔

جب ابوحنیفہ باھر آیا تو اس کے ساتھیوں نے کہا : تم نے قیامت تک منصور کی بیعت کو اپنے اوپر لازمی قرار دیا ۔ تو اس نے جواب دیا : «تقوم الساعة» سے میرا مقصد یہ تھا کہ وہ لیٹرین جانے یا کسی کام کے لئے اپنی جگہ سے اٹھ جائے !!!

النمري القرطبي، أبو عمر يوسف بن عبد الله بن عبد البر (متوفاي463هـ)، الانتقاء في فضائل الثلاثة الأئمة الفقهاء مالك والشافعي وأبي حنيفة رضي الله عنهم، ج 1، ص 159، ناشر: دار الكتب العلمية – بيروت

  امام مالك بن أنس (متوفاي179هـ)، کا  بني امية سے تقیہ :

  بنو اميه سے خوف کی وجہ سے امام مالک نے امام صادق عليه السلام کوئی  نقل نہیں کیا .

مزي نے تهذيب الكمال ،  ذهبي نے سير اعلام النبلاء میں اور  ابن حجر عسقلاني میں تهذيب التهذيب میں لکھا :

عن مصعب بن عَبد الله الزبيري: سمعت الدَّراوَرْدِيّ يقول: لم يرو مالك عن جعفر حتى ظهر أمر بني العباس.

الدَّراوَرْدِيّ سے سنا ہے وہ کہتا تھا : مالک نے بنی عباس کی حکومت قائم ہونے تک جعفر بن محمد سے روایت نقل نہیں کیا ہے !!!

المزي، يوسف بن الزكي عبدالرحمن أبو الحجاج (متوفاي742هـ)، تهذيب الكمال، ج5، ص76، تحقيق: د. بشار عواد معروف، ناشر: مؤسسة الرسالة - بيروت، الطبعة: الأولى، 1400هـ – 1980م؛

الذهبي، شمس الدين محمد بن أحمد بن عثمان، (متوفاي748هـ)، سير أعلام النبلاء، ج6،‌ ص256، تحقيق: شعيب الأرناؤوط، محمد نعيم العرقسوسي، ناشر: مؤسسة الرسالة - بيروت، الطبعة: التاسعة، 1413هـ؛

العسقلاني الشافعي، أحمد بن علي بن حجر أبو الفضل (متوفاي852هـ)، تهذيب التهذيب، ج2،‌ ص88، ناشر: دار الفكر - بيروت، الطبعة: الأولى، 1404 - 1984 م.

  علي بن عيسى الرماني (متوفاي384هـ) کا شيعيان:

ابن حجر عسقلاني ادعا کرتا ہے کہ علي بن عيسي تقیہ کی وجہ سے ظاہرا شیعہ تھا :

وقد ذكر أبن النديم في الفهرست أن مصنفات علي بن عيسى الرماني التي صنفها في التشيع لم يكن يقول بها وإنّما صنّفها تقية؛ لأجل انتشار مذهب التشيع في ذلك الوقت...

ابن نديم نے الفهرست میں لکھا ہے : علی بن عيسی نے شیعوں کی حق میں جو کتابیں لکھی اس وقت وہ ان کتابوں کے مطالب پر اعتقاد نہیں رکھتا تھا ، جہاں یہ رہتا تھا وہاں شیعہ تھے اور وہ تقیہ کرتا تھا ۔

العسقلاني الشافعي، أحمد بن علي بن حجر أبو الفضل (متوفاي852 هـ)،  لسان الميزان، ج 4، ص 248، تحقيق: دائرة المعرف النظامية - الهند، ناشر: مؤسسة الأعلمي للمطبوعات - بيروت، الطبعة: الثالثة، 1406هـ – 1986م.

  موسي بن الحسن بن المسمار (متوفاي433هـ) کا شیعوں سے تقیہ

شمس الدين ذهبي نے علي بن موسي بن حسين دمشقي کے تقیتا شیعہ ہونے کے امکان کے سلسلے میں لکھتا ہے :

ولعل تشيّعه كان تقية لا سجية؛ فإنّه من بيت الحديث ولكن غلت الشام في زمانه بالرفض بل ومصر والمغرب بالدولة العبيدية بل والعراق وبعض العجم بالدولة البويهية واشتد البلاء دهرا وشمخت الغلاة بأنفها وتواخى الرفض والاعتزال حينئذ.

ظاهرا موسی بن حسن بن مسمار  تقیتا شیعہ تھا ؛ اعتقادی طور پر وہ شیعہ نہیں تھا  کیونکہ اس کے گھرانے کا تعلق اھل حدیث سے ہے لیکن اس کے زمانے میں شام رافضیوں سے برا ہوا تھا ،یہاں تک کہ مصر اور مغرب پر عبيديان کی حکومت تھی  ؛ اھل عراق اور بعض عجمی آل بويه کی حکومت میں تھے.اس زمانے میں یہ مسائل بہت زیادہ تھے اور غالی بڑے مقام پر تھے ۔ شیعہ اور معتزلہ بھی آزاد تھے ۔

الذهبي، شمس الدين محمد بن أحمد بن عثمان، (متوفاي748هـ)، سير أعلام النبلاء، ج 17، ص 507، تحقيق: شعيب الأرناؤوط، محمد نعيم العرقسوسي، ناشر: مؤسسة الرسالة - بيروت، الطبعة: التاسعة، 1413هـ .

علماء اور  اهل سنت کے لوگوں کا  خلق القرآن کے مسئلے میں تقیہ :

اعتزال کا مذھب بنی عباس کے خلفاء کے دور میں عروج پر تھا،عباسی حکومت، لوگوں کو اعتزالی مذھب قبول کرنے پر مجبور کرتی تھی ، یہاں تک کہ جو بھی قرآن کے مخلوق ہونے کا عقیدہ رکھتے اس کو قتل کیا جاتا تھا ،اس وقت اھل سنت کے تقریبا سارے علماء اور لوگوں نے اس دور کے حاکموں کی اطاعت کی اور قرآن مخلوق نہ ہونے کا اقرار کیا۔ جبکہ ان کا قلبی اعتقاد اس کے خلاف تھا ۔ اھل سنت کے تاریخ نگاروں نے اس  «محنة خلق القرآن» کے نام سے یاد کیا ہے  اور اس سلسلے میں لوگوں کے تقیہ کو، تقیہ کی تائید اور اس کے شرعی ہونے پر دلیل کے طور پر پیش کیے ہیں ۔

اهل سنت کےمشهور عالم ذهبي،‌ نے اس فتنے کے بارے میں لکھا ہے :

من أجاب تقية فلا بأس عليه.

جس نے بھی تقیہ کی وجہ سے جواب دیا ہے تو کوئی مسئلہ نہیں ہے ۔

الذهبي، شمس الدين محمد بن أحمد بن عثمان، (متوفاي748هـ)، سير أعلام النبلاء، ج 13، ص 322، تحقيق: شعيب الأرناؤوط، محمد نعيم العرقسوسي، ناشر: مؤسسة الرسالة - بيروت، الطبعة: التاسعة، 1413هـ .

یہ طریقہ کار اس دور کے اکثر لوگوں میں رائج تھا ۔

1. خطيب بغدادي نے اس سلسلے میں لکھا ہے :

جاء عمر بن حماد بن أبي حنيفة فجلس إلينا فقال سمعت أبي حماد يقول بعث إبن أبي ليلى إلى أبي حنيفة فسأله عن القرآن؟ فقال: مخلوق.

 فقال: تتوب والا أقدمت عليك. قال: فتابعه فقال: القرآن كلام الله. قال: فدار به في الخلق يخبرهم أنّه قد تاب من قوله القرآن مخلوق. فقال أبي: فقلت لأبي حنيفة: كيف صرت إلى هذا وتابعته؟ قال: يا بُني خفت أن يَقْدِم عَلَيَّ فأعطيته التقية.

عمر بن حماد بن ابی حنيفه ہمارے پاس آئے اور کہا :  میں نے اپنے والد سے سنا ہے : ابن ابی ليلی نے کسی کو  ابو حنيفه کے پاس بھیجا اور ان سے قرآن کے بارے میں سوال کیا ،انہوں  نے جواب دیا : قرآن اللہ کی مخلوق ہے ۔

ابن ابی ليلی نے کہا : تم یا تقیہ کرئے یا میں تیرے خلاف اقدام کروں ؟!!!

اسی لئے ابوحنيفه نے اس کی اطاعت کی اور کہا  : قرآن اللہ کا کلام ہے ، ان کو شھر میں پھیرایا اور لوگوں کو یہ بتایا : انہوں نے قرآن مخلوق ہونے کے نظریے  کو چھوڑا دیا  ہے ۔

  میرے والد نے کہا :  ابوحنيفه سے پوچھا یہ کام اس لئے کیا تاکہ اس کی اطاعت کرئے؟  

جواب دیا : بیٹا ! میں ڈر گیا کہ کہیں یہ میرے خلاف کوئی اقدام نہ کر بھیٹے میں نے تقیہ کرتے ہوئے ایسا جواب دیا ہے ۔

البغدادي، أحمد بن علي أبو بكر الخطيب (متوفاي463هـ)، تاريخ بغداد، ج 13، ص 387، رقم: 7467، ناشر: دار الكتب العلمية – بيروت.

2. ذهبي نے سعيد بن سليمان کے بارے میں لکھا ہے :

سعيد بن سليمان الحافظ الثبت الإمام أبو عثمان الضبي الواسطي البزاز الملقب بسعدويه سكن بغداد ونشر بها العلم ... .

وأما أحمد بن حنبل فكان يغض منه ولا يرى الكتابة عنه؛ لكونه أجاب في المحنة تقية... وقال أبو بكر الخطيب: كان سعدويه من أهل السنة وأجاب في المحنة.

قال أحمد بن عبد الله العجلي: قيل لسعدويه بعدما انصرف من المحنة ما فعلتم قال كفرنا ورجعنا.

سعيد بن سليمان، حافظ، ،قابل اعتماد ، پیشوا تھے ، سعدويه لقب تھا، بغداد میں ساکن رہے اور علم پھلایا ۔۔.

احمد حنبل ،سعيد بن سليمان سے روگرانی کرتا تھا اور ان سے حدیث نہیں لکھتا تھا کیونکہ انہوں نے فتنے کے زمانے میں تقیہ کیا تھا اور غیر واقعی جواب دیا  تھا ...ابوبكر خطيب نے کہا ہے : سعدويه  اهل سنت سے ہے اور فتنے کے دور میں تقیہ کے ساتھ جواب دیتا تھا ، احمد بن عبد الله عجلي نے کہا ہے : سعدويه سے فتنے کے بعد پوچھا ، فتنے کے دوران کیا کام کیا ؟ جواب دیا : کافر ہوا اور پھر واپس آیا .

الذهبي، شمس الدين محمد بن أحمد بن عثمان، (متوفاي748هـ)، سير أعلام النبلاء، ج 10، ص481 ـ 482، تحقيق: شعيب الأرناؤوط، محمد نعيم العرقسوسي، ناشر: مؤسسة الرسالة - بيروت، الطبعة: التاسعة، 1413هـ .

3. ذهبي نےأبو نصر التمار کے بارے میں لکھا ہے :

قلت أجاب تقية وخوفا من النكال وهو ثقة بحاله ولله الحمد

تقیہ اور سزا سے بچنے کے لئے جواب دیا ہے لیکن پھر بھی وہ قابل اعتماد اور ثقہ ہے۔  

الذهبي، شمس الدين محمد بن أحمد بن عثمان، (متوفاي748هـ)، سير أعلام النبلاء، ج 10، ص 573، تحقيق: شعيب الأرناؤوط، محمد نعيم العرقسوسي، ناشر: مؤسسة الرسالة - بيروت، الطبعة: التاسعة، 1413هـ .

4. تاج الدين سبكي نے ابراهيم بن المنذر بن عبد الله  کے بارے میں لکھا ہے :

كان حصل عند الإمام أحمد رضى الله عنه منه شئ؛ لأنه قيل خلط فى مسألة القرآن كأنه مجمح فى الجواب.

قلت: وأرى ذلك منه تقية وخوفا ولكن الإمام أحمد شديد فى صلابته جزاه الله عن الإسلام خيرا ولو كلف الناس ما كان عليه أحمد لم يسلم إلا القليل.

امام احمد بن حنبل، نے ان سے کم روایت نقل کیا ہے ؛ کیونکہ ان کے بارے میں یہ کہا گیا ہے کہ قرآن کی بحث میں ان کے پاوں لڑکھڑا گیے تھے ا!!!

میری نظر میں اس نے ایسا تقیہ کی وجہ سے کیا ہے لیکن امام احمد بن حنبل بہت ہی ثابت قدم تھا وہ تقیہ کے ساتھ جواب نہیں دیتا تھا، اللہ انہیں جزائ خیر دئے ۔اگر سارے لوگ احمد بن حنبل کی طرح کام کرتے تو حکومت کے گزند سے تھوڑے لوگوں کے سوا کوئی بچ کر نہیں نکلتے ۔

5. يحيي بن معين بھی اسی مسئلے میں تقیہ کرنے والوں میں سے ہے .

ذهبي نے أبو زرعه رازي سے نقل کیا ہے :

كان أحمد بن حنبل لا يرى الكتابة عن أبي نصر التمار ولا عن يحيى بن معين ولا عن أحد ممّن امتحن فأجاب.

احمد بن حنبل کا یہ نظریہ تھا  کہ ابی نصر تمار  اور يحيي بن معين اور دورہ محنت میں جواب دینے والوں سے روایت نہیں لکھنا چاہئے ۔

پھر اس کے جواب میں لکھتا ہے :

قلت: هذا امر ضيّق ولا حرج على من أجاب في المحنة؛ بل ولا على من أكره على صريح الكفر عملاً بالآية وهذا هو الحق وكان يحيى رحمه الله من أئمة السنة فخاف من سطوة الدولة وأجاب تقية.

یہ سخت معاملہ ہے، محنت کے دور میں خلق قرآن کے بارے میں جواب دینے والوں کے گردن پر کچھ نہیں ،یہاں تک کہ ان لوگوں پر بھی جنہوں نے آیت تقیہ پر عمل کرتے ہوئے واضح طور پر کفر کا اظہار کیا ہو ،اور حق بات بھی یہی ہے کیونکہ یحیی اھل سنت کے اماموں میں سے ہے ،کیونکہ یہ لوگ حکومت کی قدرت سے خائف تھے لہذا تقیہ کے ساتھ ایسا جواب دیا ہے !!

الذهبي، شمس الدين محمد بن أحمد بن عثمان، (متوفاي748هـ)، سير أعلام النبلاء، ج 11، ص 87، تحقيق: شعيب الأرناؤوط، محمد نعيم العرقسوسي، ناشر: مؤسسة الرسالة - بيروت، الطبعة: التاسعة، 1413هـ .

6  : اسماعيل بن حمّاد

ابن حجر عسقلاني نے  اسماعيل بن حمّاد کے بارے میں لکھا ہے :

قال يوسف في المرآة وكان إسماعيل بن حماد ثقة صدوقا لم يغمزه سوى الخطيب فذكر المقالة في القرآن قال السبط انما قاله تقية كغيره

يوسف نے کتاب "مرآة" میں کہا ہے : اسماعيل بن حماد قابل اعتماد اور سچا آدمی ہے کسی نے ان پر اعتراض نہیں کیا ،سوای خطیب کے ،خطیب نےقرآن کے بارے میں اس کی بات نقل کیا ہے ؛ لیکن سبط نے ان کے بارے میں کہا ہے : انہوں نے یہ بات تقیہ کی وجہ سے کہی ہے ۔

العسقلاني الشافعي، أحمد بن علي بن حجر أبو الفضل (متوفاي852 هـ)،  لسان الميزان، ج 1، ص 399، تحقيق: دائرة المعرف النظامية - الهند، ناشر: مؤسسة الأعلمي للمطبوعات - بيروت، الطبعة: الثالثة، 1406هـ – 1986م.

اهل سنت کے علماء کا  احكام شرعي میں تقیہ :

ابن عربي نے اس آیت  « وَالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ » کی تفسیر میں لکھا ہے :

ولامتنان الباري سبحانه وتعظيم النعمة فيه فإنه مقتات مدَّخر فلذلك قلنا بوجوب الزكاة فيه وإنّما فرّ كثير من العلماء من التصريح بوجوب الزكاة فيه تقية جور الولاة فإنّهم يتحاملون في الأموال الزكائية فيأخذونها مغرماً.

انجير و زيتون پر زکات کی وجہ یہ ہے کہ اللہ نے ان دو نعمتوں کا ذکر کیا ہے اور ان کو بڑی نعمت قرار دیا ہے ،لوگ ان کو جمع کرتے ہیں اور ان کی حفاظت کا بندوبست کرتے ہیں۔

اسی لئے ہم نے ان دونوں پر زکات کے واجب ہونے کا فتوا دیا ہے۔ لیکن بہت سے علماء کا اس فتوے سے فرار کی وجہ ظالم حاکم ہے ۔کیونکہ یہ لوگ زکات کے جمع شدہ شدہ مال کو اپنے لئے رکھتے ہیں {اور اگر علماء ان دو کے زکات کا فتوا دیتے تو حکام ان کے زکات کو بھی غصب کر لیتے ).

إبن العربي، أبو بكر محمد بن عبد الله (متوفاي543هـ)، أحكام القرآن، ج 4، ص 413، تحقيق: محمد عبد القادر عطا، ناشر: دار الفكر للطباعة والنشر - لبنان.

اھل سنت کے علماء کا ظالم حاکموں سے تقیہ کا فتوا

إبن خويز منداد،‌ مالكي‌ مذھب کے بزرگوں میں سے ہے ، جیساکہ علامه محمد بن مخلوف نے ان کے بارے میں لکھا ہے :

أبو عبد الله محمد بن أحمد بن عبد الله بن خويز منداد: الإمام العالم المتكلّم الفقيه الأصولي ... .

آپ  امام، عالم  علم کلام کے عالم ، فقه اور اصولی ہیں۔

مخلوف، محمد بن محمد بن عمر بن قاسم، طبقات المالكية، ج1، ص154.

آپ ان میں سے ہیں جو ظالم حاکموں سے تقیہ کو جائز سمجھتے ، ابن عربي مالكي اور أبو حيان اندلسي نے ان کے بارے میں لکھا :

وقال إبن خويز منداد: وأما طاعة السلطان فتجب فيما كان لله فيه طاعة ولا تجب فيما كان لله فيه معصية ولذلك قلنا: إن ولاة زماننا لا تجوز طاعتهم ولا معاونتهم ولا تعظيمهم ويجب الغزو معهم متى غزوا والحكم من قبلهم وتولية الإمامة والحسبة وإقامة ذلك على وجه الشريعة وإن صلوا بنا وكانوا فسقة من جهة المعاصي جازت الصلاة معهم وإن كانوا مبتدعة لم تجز الصلاة معهم إلا أن يخافوا فيصلى معهم تقية وتعاد الصلاة.

ابن خويز منداد نے کہا ہے : حاکم کی اطاعت اس وقت واجب ہے جہاں اللہ کی اطاعت بھی ہو ،لیکن جہاں اللہ کی نافرمانی ہو وہاں حاکم کی اطاعت جائز نہیں ہے،اسی لئے ہم کہتے ہیں کہ ہمارے زمانے کے حاکموں کی اطاعت اور ان کی مدد کرنا اور انہیں بڑا سمجھنا جائز نہیں ہے ،لیکن اگر ان حاکموں نے جھاد کیا تو ان کی مدد کرئے، اسی طرح ان کی طرف سے قضاوت ،امامت اور ذمہ داری کو قبول کرنا واجب ہے اور ان امور کو شریعت کے مطابق انجام دینا چاہئے اور اگر حاکم خود ہی امام جماعت بنے تو اگر وہ اھل بدعت نہ ہو تو اس کی امامت میں نماز پڑھنا جائز ہے لیکن اگر وہ اھل بدعت ہو تو اس کے پیچھے نماز جماعت جائز نہیں ہے۔ لیکن اگر تقیہ کے طور پر ہو اور اس سے ڈر کی وجہ سے اس کے پیچھے نماز پڑھنا پڑھے تو بعد میں نماز دوبارہ پڑھے ۔

إبن العربي، أبو بكر محمد بن عبد الله (متوفاي543هـ)، أحكام القرآن، ج 5، ص 259، تحقيق: محمد عبد القادر عطا، ناشر: دار الفكر للطباعة والنشر - لبنان؛

أبي حيان الأندلسي، محمد بن يوسف، تفسير البحر المحيط، ج 3، ص 291، تحقيق: الشيخ عادل أحمد عبد الموجود - الشيخ علي محمد معوض؛ شارك في التحقيق: 1) د.زكريا عبد المجيد النوقي؛ 2) د.أحمد النجولي الجمل،  ناشر: دار الكتب العلمية - لبنان/ بيروت، الطبعة: الأولى، 1422هـ -2001م.

ابن عربي مالكي نے فاسق حاکموں سے تقیہ کے بارے میں لکھا ہے :

ومن العجب أن يجوز الشافعي ونظراؤه إمامة الفاسق ومن لا يؤتمن على حبَّة مال كيف يصح أن يؤتمن على قنطار دين وهذا إنما كان أصله أنَّ الولاة الذين كانوا يصلُّون بالناس لما فسدت أديانهم ولم يمكن ترك الصلاة وراءهم ولا استطيعت إزالتهم صُلِّيَ معهم ووراءهم كما قال عثمان الصلاة أحسن ما يفعل الناس فإذا أحسنوا فأحسن معهم وإذا أساؤوا فاجتنب إساءتهم ثم كان من الناس من إذا صلَّى معهم تقيّة أعادوا الصلاة لله ومنهم من كان يجعلها صلاته وبوجوب الإعادة أقول فلا ينبغي لأحد أن يترك الصلاة خلف من لا يرضى من الأئمة ولكن يعيد سرّاً في نفسه ولا يؤثر ذلك عند غيره.

عجيب بات یہ ہے کہ امام  شافعی اور ان جیسے دوسرے فقہاء نے فاسق کی امامت کو جائز قرار دیا ہے ؛اب جو کو ایک دانہ کے لئے امین قرار نہیں دے سکتا تو کیسے اس کو دین کے معاملے میں آمین قرار دینا جائز ہے ؟

اصل بات یہ ہے کہ جو حاکم لوگوں کے لئے نماز کی امامت کراتے اگر یہ بے دین ہوں تو ان کے پیچھے نماز بھی نہیں پڑھ سکتے اور  ساتھ ہی انہیں اس کام سے روک بھی نہیں سکتے۔ لہذا مجبوری میں ان کے پیچھے نماز پڑھتے ہیں ،جیساکہ عثمان نے کہا ہے : نماز ان بہترین کاموں میں سے ہیں جس کو لوگ انجام دیتے ہیں ۔اگر حاکم اس کام کو انجام دئے تو تم لوگ بھی انجام دئے ،اگر غلط کام انجام دئے تو تم لوگ ان کی اطاعت نہ کرئے ۔

اسی طرح بعض لوگ تھے کہ لوگ ان کے پیچھے تقیہ کی وجہ سے نماز پڑھے تو  نماز کو اللہ کے لئے دوبارہ پڑھے ،جبکہ  بعض لوگ اسی کو واجب نماز سمجھتے ہیں  اور پھر تکرار نہ کرتے ۔لیکن میری نظر یہ ہے کہ اس قسم کی نماز کو دوبارہ پڑھے .

لہذا مناسب یہ ہے کہ ایسے امام حماعت کے پیچھے کہ جو دینی اعتبار سے قابل اعتبار نہیں ہے، نماز پڑھنا نہ چھوڑے۔ اس نماز کو چھپ کر دوبارہ پڑھے اور لوگوں کے سامنے ایسا نہ کرئے ۔

إبن العربي، أبو بكر محمد بن عبد الله (متوفاي543هـ)، أحكام القرآن، ج 4، ص 147، تحقيق: محمد عبد القادر عطا ، ناشر: دار الفكر للطباعة والنشر - لبنان؛

الأنصاري القرطبي، أبو عبد الله محمد بن أحمد (متوفاي671هـ)، الجامع لأحكام القرآن، ج 16، ص 312، ناشر: دار الشعب – القاهرة.

 تقيه کے موارد:

اب یہ سوال ہے کہ کن موارد میں تقیہ کیا جاسکتا ہے ؟ کیا علماء نے کسی خاص مورد کو تقیہ کرنے کے لئے بیان کیا ہے یا جہاں بھی  خود شخص تقیہ کے لئے مناسب دیکھے تو تقیہ کرنا جائز ہے ۔؟

جو چیز تقیہ کو شرعی طور پر جائز قرار دینے والی دلیلوں سے ظاہر ہے وہ یہ ہے کہ تقیہ ان تمام موارد میں جائز ہیں جہاں عقل عقیدہ کے اظہار  سے تقیہ کرنے کو اھم قرار دیتی ہے ۔اللہ نے « إِلاَّ أَنْ تَتَّقُوا مِنْهُمْ تُقاةً » میں مطلق طور پر کفار سے ڈر کی صورت اور  مجبوری میں ان سے اظہار محبت کرنےکو جائز قرار دیا اور یہ جان اور مال اور دوسرے تمام موارد کو شامل ہے۔

مرحوم طبرسي نے اسی آیت کے ذیل میں لکھا ہے :

وفي هذه الآية دلالة على أن التقية جائزة في الدين عند الخوف على النفس. وقال أصحابنا: آن‌ها جائزة في الأحوال كلها عند الضرورة، وربما وجبت فيها لضرب من اللطف والاستصلاح. وليس تجوز من الأفعال في قتل المؤمن، ولا فيما يعلم أو يغلب على الظن أنه استفساد في الدين.

یہ آیت بتاتی ہے کہ جب جان کا خطرہ ہو تو تقیہ کرنا جائز ہے ،شیعہ علماء نے کہا ہے کہ اگر ضرورت ہو تو ھر حالت میں تقیہ کرنا جائز ہے اور کبھی یہ واجب بھی ہوجاتا ہے ۔ یہ تقیہ صلح کا باعث بنتا ہے ،لیکن اگر تقیہ مومن کے قتل کا سبب بنے یا ایسا مورد پیش آئے جہاں تقیہ کی صورت میں شخص یہ جاننے یا گمان کرئے کہ اس وجہ سے دین نابود ہوگا تو یہاں تقیہ جائز نہیں ہے ۔  

الطبرسي، أمين الاسلام أبي علي الفضل بن الحسن (متوفاي548هـ)، تفسير مجمع البيان، ج 2، ص 274، تحقيق وتعليق: لجنة من العلماء والمحققين الأخصائيين، ناشر: مؤسسة الأعلمي للمطبوعات - بيروت الطبعة: الأولى، 1415هـ ـ 1995م.

جیساکہ بہت سی روایات میں اس مطلب کی تائید ہوئی ہے ۔

شيخ كليني رضوان الله تعالي عليه نے  كافي اصول کافی میں صحیح سند نقل کیا ہے :

عَنْ زُرَارَةَ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ عليه السالم قَالَ التَّقِيَّةُ فِي كُلِّ ضَرُورَةٍ وَصَاحِبُهَا أَعْلَمُ بِهَا حِينَ تَنْزِلُ بِه‏.

امام باقر عليه السّلام نے فرمایا : جہاں بھی مجبور ہو تو تقیہ جائز ہے ،اور تقیہ کرنے والا خود ہی زیادہ جانتا ہے کہ کب اسے تقیہ کرنا ہے، انسان خود ہی مجبوری کی حالت کو بہتر تشخیص دے سکتا ہے ۔

الكليني الرازي، أبي جعفر محمد بن يعقوب بن إسحاق (متوفاي328 هـ)، الأصول من الكافي، ج2، ص219، ج13،‌ باب التقية، ناشر: اسلاميه‏، تهران‏، الطبعة الثانية،1362 هـ .ش.

کلینی نے ہی صحیح سند نقل کیا ہے :

عَنْ إِسْمَاعِيلَ الْجُعْفِيِّ وَمَعْمَرِ بْنِ يَحْيَى بْنِ سَامٍ وَمُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ وَزُرَارَةَ قَالُوا سَمِعْنَا أَبَا جَعْفَرٍ عليه السلام يَقُولُ التَّقِيَّةُ فِي كُلِّ شَيْ‏ءٍ يُضْطَرُّ إِلَيْهِ ابْنُ آدَمَ فَقَدْ أَحَلَّهُ اللَّهُ لَهُ‏.

امام باقر عليه السّلام نے فرمایا : جب انسان تقیہ کرنے پر مجبور ہو تو اللہ نے اس کے لئے تقیہ کو جائز قرار دیا ہے ۔

الكليني الرازي، أبي جعفر محمد بن يعقوب بن إسحاق (متوفاي328 هـ)، الأصول من الكافي، ج2، ص220، ح18، باب التقية، ناشر: اسلاميه‏، تهران‏، الطبعة الثانية،1362 هـ .ش.

نتيجه:

تقیہ کا شرعی طور پر جائز ہونا ائمہ اھل بیت علیہم السلام کی پیروی کرنے والوں کے مذھب کے ہاں مسلمات اور یقینی باتوں میں سے ہے ،اھل سنت کے علماء نے بھی اپنی گفتار اور رفتار کے ذریعے تقیہ کا شرعی طور پر جائز ہونے اور عقلی ،قرآنی اور حدیثی دلائل  سے اس کو ثابت کیا ہے ۔

لہذا جو لوگ زہریلے پروپیگنڈوں ، فضول اور ناعادلانہ شبھات بیان کرنے کے ذریعے ایک زہریلا اور انصاف پسندی سے دور فضاء بنا کر عجیب و غریب چیزوں کی نسبت شیعوں کی طرف دیتے ہیں،ہمیں اس تحقیقی مقالہ کے مطالعہ کرنے والوں سے یہ امید اور توقع رکھتے ہیں کہ اس مقالے کو پڑھنے کے بعد شک اور بدگمانی کے پردے کو ہٹا کر اس حق اور مذھب حق کے سامنے خاضعانہ تسلیم ہو جائے اور یہ اعتراف کریں کہ تقیہ حق اور حقیقت ہے اور یہ قرآنی تعلیمات میں سے ہے۔

التماس دعا 

شبھات کے جواب دینے والی ٹیم۔۔۔۔

 تحقيقاتي ادارہ حضرت ولي عصر (عج)

 

 




Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی