2021 May 19
شیعہ شخصیات کا تحریکِ پاکستان میں نمایاں کردار
مندرجات: ١٩٢١ تاریخ اشاعت: ١٨ April ٢٠٢١ - ٠١:٤٦ مشاہدات: 139
خبریں » پبلک
شیعہ شخصیات کا تحریکِ پاکستان میں نمایاں کردار

 تحریر: سویرا بتول
بشکریہ: اسلام ٹائمز

تقسیمِ ہند سے پہلے اور بعد میں مکتبِ اہلِ بیت کے ماننے والوں نے پاکستان کے قیام میں بھرپور حصہ لیا ہے۔ بہت سی شیعہ شخصیات کا تحریکِ پاکستان میں نمایاں کردار رہا ہے اور اس بات سے کلی طور پر انکار نہیں کیا جاسکتا کہ عاشقانِ اہل بیت نے اپنی جان، مال اور اولاد دیکر وطنِ عزیز کی حفاظت کی ہے۔ قیامِ پاکستان میں سب سے زیادہ اہم کردار اہلِ تشیع کا تھا اور اکابرین اہلِ تشیع سے لیکر ایک عام سے کارکن تک سب نے اجتماعی طور پر پورے وجود سے تحریکِ پاکستان کی حمایت کی۔ ذیل میں نمایاں کارنامے انجام دینے والی شیعہ شخصیات کی خدمات کا مختصر تذکرہ کیا جا رہا ہے، جو کہ نہ صرف تاریخِ ہندوستان بلکہ تاریخِ عالم میں نامور ہوئیں۔ تاریخ کے ان سنہرے اوراق سے چند اقتباسات پیش خدمت ہیں۔

جسٹس سید امیر علی

1884ء میں جسٹس سید امیر علی کی کوششوں سے کراچی میں ایک مدرسہ قائم کیا گیا، جو علی گڑھ کی طرز پر تھا اور اس کا نام سندھ مدرسۃ الاسلام رکھا گیا۔ قائداعظم محمد علی جناح بھی اسی مدرسہ کے طالبِ علم رہے ہیں۔ اسی طرح کا ایک مدرسہ بنگال میں ہگلی کے مقام پر قائم ہوا، جس کا ایک حصہ امام بارگاہ کے لیے مختص تھا۔

قائداعظم محمد علی جناح

قائد اعظم محمد علی جناح نہ صرف شیعہ اثناء عشری تھے بلکہ انھوں نے آغا خان کو یہ ترغیب دلائی کہ وہ اسماعیلیوں کی سربراہی سے سبکدوش ہو کر اثناء عشری مکتب اختیار کریں(شاہراہ پاکستان صفحہ ٥٢٠) قائداعظم محمد علی جناح کی مدبرانہ قیادت ہی قیامِ پاکستان کی کامیابی کا سرچشمہ ثابت ہوئی۔

راجہ صاحب محمود آباد

پاکستان کی تاریخ سے آشنا لوگ کہتے ہیں: پاکستان قائداعظم کی راہنمائی اور راجہ صاحب محمود آباد کی دولت کے مرہون ِمنت ہے۔ راجہ صاحب محمود آباد ریاست محمود آباد کے والی تھے، جو کہ لکھنو سے 30 میل دور شیعہ اکثریتی ریاست تھی۔ راجہ صاحب نے تحریکِ پاکستان میں جس طرح دل کھول کر اپنی دولت لٹائی ہے، اس کی مثال مشکل سے ملتی ہے۔ راجہ صاحب ایک طرف مسلم لیگ کے تمام جلسوں کا خرچہ برداشت کرتے تو دوسری طرف ذاتی طور پر ہر بے کس و نادار کی مدد کے لیے ہمہ وقت تیار رہتے۔ آپ نے قیامِ پاکستان کے سلسلہ میں مالی، اخلاقی مدد فراہم کرنے میں بہت زیادہ مثبت کرادر ادا کیا۔

مرزا ابو الحسن اصفہانی

آپ قائداعظم کے نہایت ہی قریبی رفقاء میں شمار ہوتے تھے۔ آپ نے مسلم لیگ کو فعال اور مضبوط بنانے میں بہت اہم کردار ادا کیا۔ آپ نے قائداعظم کے کہنے پر انگریزی اخبار ڈان کا اجرا کیا۔

راجہ غضنفر علی خان

آپ نے قیامِ پاکستان کے لیے سر توڑ کوششیں کیں۔ آپ قائداعظم کے اول دستہ کے اہم رکن شمار ہوتے تھے اور آج بھی آپ کی خدمات پر لوگ فخر محسوس کرتے ہیں۔

مرزا احمد اصفہانی

مرزا احمد اصفہانی نے قائداعظم کے کہنے پر مسلم بینکاری نظام کا آغاز کیا اور مسلم کمرشل بینک کی بنیاد رکھی۔ آپ نے ہر مشکل موقع پر مسلم لیگ کے فنڈ میں خطیر رقم بطور چندہ دی۔

سید محمد دہلوی

سید محمد دہلوی اپنے دور کے شیعہ مکتب کے بڑے راہنماؤں میں سے ایک شمار ہوتے تھے۔ علم و حکمت کے بہار چمن میں نمایاں مقام رکھتے تھے۔ آپ نے قیامِ پاکستان کی تحریک میں بہت مثبت اور جاندار کردار ادا کیا۔
نواب فتح علی خان قزلباش

آپ اس وقت لاہور کے سب سے بڑے نواب شمار ہوتے تھے۔ آپ نے پنجاب کے دل لاہور میں قیام پاکستان کے لیے بھرپور کردار ادا کیا۔
مولانا حسین بلگرامی آف اودھ ہور

آپ اہلِ تشیع کے ممتاز عالم دین تھے اور قیامِ پاکستان کی تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔

علامہ ابن حسن جاچوروی

علامہ ابنِ حسن جاچوروی کا شمار نامور علماء دین میں ہوتا تھا۔ آپ نے قیامِ پاکسان کی تحریک میں بہت شاندار کردار ادا کیا۔ قائداعظم آپ کی صلاحیتوں کے بہت زیادہ معترف تھے۔

سید علی امام آف پٹنہ، سید حسن امام آف پٹنہ

آپ دونوں کا شمار تحریکِ پاکسان کے اہم ترین اکابرین میں ہوتا تھا۔

سید وزیر حسن آغا

آپ پاکستان مسلم لیگ کے مرکزی جوائنٹ سیکرٹری تھے اور قیامِ پاکستان کی تحریک میں بہت سے مواقع پر انتہائی اہم خدمات سر انجام دیتے رہے۔

سیٹھ محمد علی حبیب، حبیب بینک والے
آپ قیام پاکستان کی تحریک میں بڑے فعال تھے، م
تعدد مواقع پر قائداعظم اور مسلم لیگ کی مالی معاونت کرتے رہے۔ قیامِ پاکسان کے بعد پہلے بجٹ کے لیے قائداعظم کی انتہائی خطیر رقم سے معاونت کی۔

اسکے علاوہ ایک لمبی فہرست ہے مکتبِ اہلِ بیت کی، جنہوں نے تحریک پاکستان میں اہم کرادر ادا کیا۔ فاطمہ جناح، بیگم مرزا محمد اصفہانی، بیگم علی امام، بیگم ہارون، بیگم قزلباش، بیگم وزیر حسن آغا کا کردار قیامِ پاکستان میں نمایاں رہا ہے۔ مزید یہ کہ صوبہ سرحد میں شیعہ بنگش سادات اور طوری قبیلہ، بلوچستان میں ہزارہ شیعہ، سندھ میں تالپور خاندان، سادات، پنجاب میں بلوچ اور دیگر تمام علاقوں میں سے ہر اقوام سے تعلق رکھنے والے شیعہ افراد نے تحریک پاکستان میں حصہ لیا۔ آج بھی وطنِ عزیز کی تاریخ گواہ ہے کہ قیامِ پاکستان کی تحریک میں حصہ لینے والی قوم عصر حاضر میں بھی وطنِ عزیز پاکستان کے استحکام، سالمیت اور بقاء کی جنگ لڑ رہی ہے۔ اگر ماضی قریب میں ہمارے آباؤ اجداد نے قیامِ پاکستان کے لیے بے شمار قربانیاں دی تھیں تو آج ہم استحکام ِپاکستان کے لیے قربانیاں دے رہے ہیں۔ لیکن انہی پیروان ِولایت کو ان کے آباؤ اجداد کی سرزمین پر بعض کج فکر گروہوں کی طرف سے دیوار سے لگانے اور تنہا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہیں۔

سالوں سے ہمارے جوانوں کو ہراساں کیا جا رہا ہے۔ مسلکی شناخت کی بنیاد پر عرصہ دراز سے ہم ٹارگٹ کلنگ کا شکار رہے ہیں۔ یہاں تک کہ اس دھرتی پر مکتبِ اہل بیت کے ماننے والوں کا خون مباح قرار دیا گیا۔ وہ وطن ِعزیز جسے ہمارے آباؤ اجداد نے اپنا خون دے کر پروان چڑھایا، آج انہی پیروان حسینی کے جوانوں کو شب کی تاریکی میں اٹھا کر لاپتہ کر دیا جاتا ہے۔ اُن کے پیارے حسرت و یاس کی تصویر بنے سالوں سے اُن کی واپسی کے منتظر ہیں۔ اُن کا جرم کیا ہے، یہ آج تک نہیں بتایا گیا اور اگر ہم اپنے پیاروں کے جنازے لیکر پرامن احتجاج کریں تو ہمیں بلیک میلر کہا جاتا ہے۔ کیا یہ ہے ریاستِ مدینہ کہ جہاں عاشقانِ آل رسول کا خون سب سے زیادہ سستا ہے۔؟ مگر اِن سب مظالم کے باوجود ہم ملک عزیز کے دفاع و استحکام میں سالوں سے جاری اپنی کوششیں جاری رکھیں گے، کیونکہ؛
پاکستان بنایا تھا پاکستان بچائیں گے
http://www.taghribnews.com/vdchivnm623nvxd.4lt2.html




Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی