2021 December 3
جبرئیل سے خیانت کو منسوب کرنا ۔۔۔۔۔۔ شیعوں پر بے بنیاد الزام ۔۔۔۔
مندرجات: ١٨٩٨ تاریخ اشاعت: ١٧ March ٢٠٢١ - ٢١:١٤ مشاہدات: 856
یاداشتیں » پبلک
جبرئیل سے خیانت کو منسوب کرنا ۔۔۔۔۔۔ شیعوں پر بے بنیاد الزام ۔۔۔۔

 

 

جبرئیل سے خیانت کو منسوب کرنا

 

 

 

اعتراض:

 شیعوں کا عقیدہ یہ ہے کہ جبرئیل نے رسالت کے ابلاغ میں خیانت کی اور اسے علی بن ابی طالبؑ پر ابلاغ کرنے کے بجائے پیغمبرﷺ تک پہنچا دی۔ ابن عبد ربّہ اندلسی (م 328 ھ جری) اس بارے میں لکھتے ہیں:

" الرافضہ تقول: غلط جبرئیل فی الوحی الی محمد بترک علی بن ابی طالب"

[1]

تحلیل اور جائزہ

اس اعتراض(غیرسنجیدہ  اعتراض) کے  جواب میں چند نکتے قابل ملاحظہ ہیں:

پہلا نکتہ:

جو لوگ شیعوں پر اس قسم کا الزام لگاتے ہیں کم سے کم کوئی سند بھی دیکھا دیں۔ کیا انہوں نے یہ بات شیعہ کتب سے بیان کیا ہے؟ یا کسی شخص سے یہ کلام سنا ہے؟ یا کسی خاص حدیث سے اس کو نقل کیا ہے؟

بےشک دنیا کےمختلف کونوں میں زندگی بسر کرنے والے کروڑوں شیعوں میں سے کسی ایک شخص کے ذہن میں بھی یہ خیال نہیں آیا ہوگا،  یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ اس بات کے معتقد  بھی ہوں! اس قسم کی نسبتیں ایسے لوگوں سے صادر ہوتے ہیں جو صرف شیعوں سے بغض و عداوت رکھتے ہیں۔ اگر حقیقت میں شیعہ جبرئیل کی خیانت کا عقیدہ رکھتے  تو شیعہ نشین علاقوں کے مساجد کے گلدستوں سے "اشہد ان محمدا رسول اللہ" کی آواز سنائی دیتی۔؟ تمام شیعہ خطیب خطبوں سے پہلے آپﷺ کی رسالت کی گواہی دیتے۔؟ کیا ایسا نہیں ہے کہ وہابی شیعوں کے خاص درود کو بدعت سمجھتے ہیں۔ اگر شیعوں کو جبرئیل پر اعتراض ہوتا تو ان کے درود میں پیغمبرﷺ کا نام اصل محور و مرکز کیوں ہے؟

اجکل کے دور میں سٹیلائٹ ، آڈیواور ویڈیو میڈیا کے ذریعے  تمام دنیا میں شیعوں کی آواز سن سکتے ہیں کیا کہیں سے بھی  ایک واقعہ اس جھوٹ کو مستندکرنے کے لیے پیش کیا جاسکتا ہے؟ اگر شیعہ اس بات کے دعویدار ہیں تو شیعہ پیغمبرﷺ کی نسبت کسی قسم کی توہین (نعوذ باللہ) کے مرتکب کیوں نہیں ہوتے۔ اگر وہابی سچے ہیں تو  جب سلمان رشدی اورناروے کے پاپ نے پیغمبرﷺ کی توہین کی تھی تو وہابیوں کی صدائے اعتراض بلند کیوں  نہیں ہوئی؟ لیکن شیعہ علماء ( اس وقت کے رہبر تشیع) امام خمینی نے سلمان رشدی کی موت کا فتوا دیا۔

اگر شیعوں کا یہ عقیدہ ہے تو صبح و شام نماز کی تشہد میں ذکر واجب کے عنوان سے "اشہد ان محمدا عبدہ و رسولہ"  کی ندا کیوں دیتے ہیں؟

اگر جبرئیل کی نسبت شیعوں کا یہ عقیدہ ہے تو کسی بھی شیعہ کتب میں یہ بات نقل کیوں نہیں ہوئی؟

دوسرا نکتہ:

یہ اعتراض کرنے والے لوگ اس بات کی تشریح کرے تو زیادہ بہتر ہے کہ کس وحی کے ابلاغ میں شیعوں کا یہ عقیدہ ہے؟ کیا ان کا مطلب یہ ہے کہ یہ قرآن علی بن ابی طالب پر نازل ہونے والا تھا لیکن پیغمبرﷺ پر نازل ہوا؟

اگر ایسا ہے تو خود قرآن میں چاربار پیغمبرﷺ کا نام آیا ہے: قرآن فرماتا ہے:

"محمد رسول اللہ، محمد رسول خدا ہے۔[2] ما كانَ مُحَمَّدٌ أَبا أَحَدٍ مِنْ رِجالِكُمْ وَ لكِنْ رَسُولَ اللَّهِ وَ خاتَمَ النَّبِيِّينَ، محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں ہاں وہ اللہ کے رسول اور خاتم النبین ہیں۔[3]

اب یہ کیسے ممکن ہے کہ کوئی یہ کہے کہ یہ آیات حضرت علیؑ پر نازل ہونے والی تھیں لیکن جبرئیل کی خیانت کی وجہ سے پیغمبرﷺ پر نازل ہوئیں ہیں۔

قرآن اس بارے میں فرماتا ہے:

 لا يَعْصُونَ اللَّهَ ما أَمَرَهُمْ وَ يَفْعَلُونَ ما يُؤْمَرُونَ، جو اللہ کے حکم کی نافرمانی نہیں کرتے اور جو حکم انہیں ملتا ہے اسے بجا لاتے ہیں۔[4]

ایک اور جگہ فرماتا ہے:

لا يَسْبِقُونَهُ بِالْقَوْلِ وَ هُمْ بِأَمْرِهِ يَعْمَلُون، وہ تو اللہ (کے حکم) سے پہلے بات (بھی) نہیں کرتے اور اسی کے حکم کی تعمیل کرتے ہیں[5]

قرآن،  امانتداری کی وجہ سے جبرئیل کی  تعریف کرتا ہے اور فرماتا ہے:

نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمينُ عَلىَ‏ قَلْبِكَ لِتَكُونَ مِنَ الْمُنذِرِين، عَلىَ‏ قَلْبِكَ لِتَكُونَ مِنَ الْمُنذِرِين۔ جسے روح الامین نے اتارا،  آپ کے قلب پر تاکہ آپ تنبیہ کرنے والوں میں سے ہو جائیں۔[6]

ملاحظہ کیا جاسکتا ہے کہ اس آیت میں جبرئیل کو "امین" کالقب دیا گیا ہے۔ امین ایسا فرد ہے جو خیانت نہیں کرتا۔ پس یہ کیسے ممکن ہے کوئی بھی شخص اس آیت   سے باخبر ہوتے ہوئے یہ دعوا کرے کہ قرآن نے علیؑ پر نازل ہونا تھا لیکن جبرئیل نے خیانت کی اور اسے پیغمبرﷺ پر ابلاغ کیا۔

چوتھا نکتہ :

حضرت امیر المؤمنین اور اہل بیتؑ سے لیکر امام زمانہؑ تک کے خطبے، خطوط اور روایتیں شیعہ کتب میں موجود ہیں۔ ان میں صاف طور پر پیغمبرﷺ کو رسول خدا کے عنوان سے یاد کیا گیا ہے۔اب یہ کیسے ممکن ہے کہ ان کے پیروکاروں سے یہ نسبت دی جائے کہ وہ علیؑ کو رسول خدا مانتے ہیں؟ اور جبرئیل نے وحی میں خیانت کی۔؟ خود علیؑ پیغمبرﷺ کے بارے میں فرماتے ہیں: أَشْهَدُ أَنْ‏ لَا إِلَهَ‏ إِلَّا اللَّهُ‏ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَ أَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُهُ وَ رَسُولُهُ ، گواہی دیتا ہوں اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، گواہی دیتا ہوں محمد خدا کا بندہ اس کا رسول اور خاتم نبیین ہیں۔[7]

ایک اور جگہ فرماتے ہیں:امین وحیہ و خاتم رسلہ، پیغمبرﷺ امین وحی اور پیغمبروں کا خاتم ہیں۔[8]

پانچواں نکتہ:

شیعہ علیؑ کی امامت کو ثابت کرنے کے لیے احادیث جیسے حدیث منزلت، غدیر اور اثنا عشر خلیفہ سے تمسک کرتے ہیں، یہ سب پیغمبرﷺ سے صادر ہوئیں ہیں۔کیا یہ معقول ہے کہ یہ کہا جائے پیغمبرﷺ، رسول اللہ نہیں ہیں بلکہ کوئی اور رسول خدا ہے؟  کیا یہ دو متناقض دعوے قابل جمع ہیں؟

چھٹا نکتہ:

بعض مفسرین کے کلام سے پتہ چلتا ہے کہ خیانتِ جبرئیل کا افکار یہودیت میں موجود ہے۔ کیونکہ وہ اس بات کے قائل ہیں کہ خدا نے جبرئیل کو حکم دیا تھا کہ نبوت ان کے خاندان میں جاری کر دے لیکن جبرئیل نے خیانت کی اور نسل اسماعیل میں نبوت کو جاری کیا لہذا انہوں نے جبرئیل پر خیانت کا الزام لگایا۔ قرآن ان کے جواب میں فرماتا ہے:

 قُلْ مَنْ كانَ عَدُوًّا لِجِبْريلَ فَإِنَّهُ نَزَّلَهُ عَلى‏ قَلْبِكَ بِإِذْنِ اللَّهِ ، ۔ آپ کہدیجیے: جو کوئی جبرائیل کا دشمن ہے (وہ یہ جان لے کہ) اس نے (تو) اس قرآن کو باذن خدا آپ کے قلب پر نازل کیا۔[9]

نتیجہ:

جبرئیل کی خیانت کا الزام شیعوں پر لگائے جانے والے الزامات میں سب سے زیادہ  غیر سنجیدہ  الزام ہے اور اب تک اس کے لیے کوئی دلیل  بیان نہی ہوئی، اور یہی اس کےصرف الزام ہونے کو ثابت کرنے کے لیے کافی ہے۔

مزید مطالعہ کے لیے کتب

شبہات غدیر ج3 ، سید مجتبی عصیری

راہنمائے حقیقت، جعفر سبحآنی

ہمارے سوالات ، حسین تہرانی

۔۔۔تحریر : استاد رستمی نژاد                       ۔ ترجمہ : اعجاز حیدر

 


[1][1] ۔ عقد الفرید ج1 ص269

[2] ۔فتح/29

[3] ۔احزاب/ 40

[4] ۔تحریم/6

[5] ۔انبیا/ 27

[6] ۔شعراء/ 193-194

[7] ۔تفسیر القمی ج 2ص106، الکافی ج 8ص68

[8] ۔نہج البلاغہ، خطبہ 173

[9] ۔ بقرہ/97، تفسیر الکبیر ج3 ص195، قال مقاتل: زعمت الیہود ان جبرئیل عدّونا، امران یجعل النبوۃ فینا فجعلھا فی غیرنا فانزل اللہ ھذہ الایۃ۔





Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی