2021 September 27
سَبِیلُ المُسْتَبْصِرِینْ اِلی صِرَاطِ المستقیم
مندرجات: ١٨٩١ تاریخ اشاعت: ٠٩ March ٢٠٢١ - ١٢:١٦ مشاہدات: 717
کتب خانہ » پبلک
سَبِیلُ المُسْتَبْصِرِینْ اِلی صِرَاطِ المستقیم

 

كتاب کا نام: سَبِیلُ المُسْتَبْصِرِینْ اِلی صِرَاطِ المستقیم

مولف : دکتر صلاح الدین اَلْحُسَیْنِی

کتاب کا مختصر تعارف :  «سَبِیلُ المُسْتَبْصِرِینْ اِلی صِرَاطِ المستقیم» نامی اس  کتاب« ڈاکٹر  صلاح الدین اَلْحُسَیْنِی» نے عربی زبان میں لکھی ہے .

«ڈاکٹر اَلْحُسَیْنِی» اس کتاب کے لکھنے کے مقصد کو یوں بیان کرتے ہیں: «اللہ نے جب مجھے اہل بیت علیہم اسلام کے راستے کی طرف ہدایت دی تو میں نے اپنے اوپر یہ فرض سمجھا کہ میں اپنے بھائیوں کو اس راستے کی طرف راہنمائی کے لئے کچھ تحریر کروں جو ان سے مخفی رہا ہے ،ایسا راستہ کہ جو ان کو حق تک پہنچاتا ہے اور انہیں نجات کی کشتی میں سوار ہونے کا سامان فراہم کرتا ہے یہ وہ راستہ ہے جسے اللہ نے رسول اللہ ص کی وفات کے بعد امت کی ہدایت اور انہیں گمراہی سے رہائی کے لئے فراہم کیا ہے۔  

اس کتاب کے مطالب میری اپنی تحقیق اور غور و فکر کا نتیجہ ہے ۔یہ کتاب ایسے مطالب کا مجموعہ ہے کہ جن کے بارے میں  میں نے اپنے علماء  سے پوچھا ہے اور ان کی کی طرف سے کوئی جواب نہیں پایا ۔

میں ایک مدت تک سرگرداں رہا ۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ نہ صرف میرے ذہن میں موجود سوالات اور شبہات کے جواب مجھے نہیں ملے بلکہ میں مزید ان سوالات اور شبہات میں گم ہوتا گیا ۔

بچپنے سے ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد ان کے جانشین کے مسئلے میں کچھ سوالات میرے ذہن میں تھے ۔ مجھے  اپنے علماء کی جانب سے ان کے لئے کوئی قانع کنندہ جواب نہیں ملاتھا ۔ میں جب بھی کوئی سوال بیان کرنا چاہتا تو یا تو سوال ہی نہیں کرنے دیتے یا پھر سوال کے بعد الزام تراشی اور تہمت لگا کر مجھے اپنے سے دور کرتے تھے۔

  کیونکہ میری پرورش اور تربیت  ایک مذہبی اور دین دارگھرانے میں ہوئی تھی ، اسی لئے میں نے اپنے مطالعے اور تحقیق کا آغاز کیا۔ سب سے پہلے ۷۳ فرقوں والی حدیث کا سامنا کیا ۔میں نے خود سے یہ سوال کیا کہ وہ کونسا اسلامی فرقہ ہے کہ جو اہل نجات ہے ؟  {کیونکہ اس حدیث کے مطابق امت کے ۷۳ فرقوں میں سے صرف ایک کی نجات کی خبر دی گئی ہے}

سب سے زیادہ جو موضوع بحث میرے لئے سوالیہ نشان بنارہا اور میرے لئے بہت سے سوالات کا موجب بنا وہ اصحاب کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم  کے ساتھ مخلص نہ ہونے کا مسئلہ تھا ۔ میرے سامنے یہ سوال تھا کہ اصحاب نے آپ کے اہل بیت کے ساتھ کیوں دشمنی کی اور کیوں حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کے گھر پر حملہ کیا ، ان کے گھر کو نذر آتش کیا اور ان کے بچے کو سقط کیا؟      

حضرت زهرا سلام الله علیها کیوں  بعض اصحاب سے ناراضگی کی حالت میں دنیا سے چلی گئیں؟ کیوں وقت کے حکماء اور بادشاہوں نے اہل بیت علیہم السلام کو شہید کردیا ؟

آئے روز ایک میرے ذہن میں اس قسم کے سوالات جنتم لیتے ، لیکن مجھے اپنے مذہب کےاندرسے ان سوالات کے جواب نہیں ملتے تھے ۔ میں نے یہ محسوس کیا کہ جس چیز کی مجھے تلاش ہے  وہ مذھب اہل بیت کے اندر موجود ہے ۔ لیکن پھر بھی مجھے یقین نہیں  آرہا تھا اور  جس چیز نے مجھے زیادہ شک و شبہہ میں ڈالا وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بستر بیماری پر جمعرات کے دن پیش آنے والا تاریک المیہ تھا ۔ کیوں ایک صحابی یہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مقدس ذات کی شان میں توہین کرتا ہے  اور ان کی طرف ہزیان گوئی کی نسبت دے کر کہتا ہے  : اللہ کی کتاب ہمارے لئے کافی ہے ؟ {کسی نوشتہ کی ضرورت نہیں۔}

میں مکتب اهل بیت علیهم السلام طرف جانے یا نہ جانے کی کشمکش میں تھا ، ایک رات  رسول اللہ صلی الله علیه و آله کی مقدس ذات کو خواب میں دیکھا ۔ آپ نے مجھے امام حسین علیه السلام کی زیارت کا حکم دیا . صبح جب اٹھا تو یہ پتہ چلا کہ آج محرم کی پہلی تاریخ ہے ۔ انترنیٹ پر سیرچ کرنے سے معلوم ہوا کہ محرم کی دس تاریخ امام حسین علیہ السلام کے مصائب اور غم کا دن ہے ۔ جبکہ ہم اس دن کو خوشی کا دن سمجھتے تھے اب یہاں سے میرا شک یقین میں بدلنا شروع ہوا اور میں نے مکتب اہل بیت علیہم السلام کی طرف ہدایت  پائی۔

۔ڈاکٹر حسینی نے اس کتاب کے مطالعہ کرنے والوں کو انصاف پسندی اور تعصب سے دوری کی دعوت دی ہے اور اس کتاب میں اہم مطالب پر بحث کی ہے ،جیسے پیغمبر ص کی عصمت ، پیغمبر کی وصیت ، آیت ابلاغ،  ایت اکمال و ... ، غدیر ، ولایت کی نعمت ، حقیقت صحابه، خلفاء کی طرف سے پیغمبر  صلي الله عليه وآله کی احادیث کو جلادینا،رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم  کی شہادت کے بعد حالات کا دگرگوں ہونا، خداوند متعال آنکھین رکتھاہے یا نہیں جیسے مسائل کو اپنی کتاب میں  مولف نے بیان کیا ہے ۔

 

 





Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی