2021 March 7
حق زہرا سلام اللہ علیہما اور باغ فدک کی حقیقت صحیحین کی روشنی میں..
مندرجات: ١٨٧٦ تاریخ اشاعت: ١٩ February ٢٠٢١ - ٠٧:٤٤ مشاہدات: 142
یاداشتیں » پبلک
حق زہرا سلام اللہ علیہما اور باغ فدک کی حقیقت صحیحین کی روشنی میں..

بسمہ تعالی

 

حق حضرت فاطمہ زہرا علیہا السلام .

باغ فدک کی حقیقت صحیحین کی روشنی میں..

جناب فاطمہ زہرا علیہا السلام نے فدک اور اپنے دیگرحقوق کا خلیفہ اول سے مطالبہ کیا... جب یہ مطالبات منظور نہ ہوئے تو آپ ان سے ناراض ہوگئیں اور ان سے مکمل بائیکاٹ کیا ۔ یہاں تک کہ اسی ناراضگی کی  حالت میں آپ اپنے بابا سے ملاقات کر گئیں...

جناب امیر المومنین علی علیہ السلام  کے سامنے جب حدیث" نحن معاشر الانبیاء لانورث  ۔۔۔۔۔" سے استدلال کیا تو آپ نے خلیفہ اول اور پھر خلیفہ دوم کو جھوٹا، دھوکہ باز، خائن، گناہ گار اور بعض  روایات کے مطابق، ظالم، جابر اور فاجر سمجھے ...

 کیا یہ باتیں صحیحین  میں ہیں یا نہیں ؟ کیا یہ باتیں صحیح سند کے ساتھ صحاح ستہ میں نقل ہوئی ہیں یا نہیں...؟

کیا صحیحین کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بعد جناب ابوبکر نے فدک وغیرہ پر قبضہ کیاکہ نہیں؟

اگر ان چیزوں کا انکار کرتے ہو تو ہم ثابت کر دیں گے۔  اگر اقرار کرتے ہو تو زبان درازی اور دھوکہ بازی سے کام لینا چھوڑ دو... اپنی کتابوں میں موجود باتوں کو شیعوں کی باتیں کہہ کر شیعوں کے خلاف تبلیغ کے ظالمانہ  کا سلسلہ ترک کر دو....

جی ہاں! ہم ان سارے  معاملات میں امیر المؤمنین علی ابن ابی طالب اور جناب فاطمہ زہراء علیہا السلام کو حق بجانب سمجھتے ہیں اور ان کے ساتھ ہم عقیدہ ہیں۔اس پر ہم فخر بھی کرتے ہیں۔

کیا آپ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ جناب فاطمہ علیہاالسلام کسی اور کے حق پر ڈاکہ ڈالنے گئی تھیں؟ {نعوذ بااللہ۔} کیا وہ اپنا حق سمجھ کر ان چیزوں کا مطالبہ نہیں کر رہی تھیں؟

کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سب سے ممتاز شاگردوں کے مطالبے اور نظریے کو آپ باطل سمجھتے ہو؟

کیا جناب فاطمہ اور مولا علی کے ساتھ ہم عقیدہ ہونے کو  جرم  سمجھتے ہو؟

دیکھیں آپ کی ہی معتبر اور صحیح سند کتابوں سے خاص کر صحیحین کی روایات سے ہماری باتوں کی سند۔

اسناد : ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جناب فاطمہ زہرا علیہاالسلام کا ٹھوس موقف اور آپ کا سخت ردعمل

    1۔۔۔۔  فَهَجَرَتْهُ فَاطِمَةُ فَلَمْ تُكَلِّمْهُ حَتَّى مَاتَتْ۔۔۔۔۔۔

مطالبہ منظور نہ ہونے پر جناب فاطمہ خلیفہ کے پاس سے چلی گئیں اور خلیفہ سے کلام  کرنا چھوڑ دیا۔ 

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ فَاطِمَةَ وَالْعَبَّاسَ عَلَيْهِمَا السَّلَام أَتَيَا أَبَا بَكْرٍ يَلْتَمِسَانِ مِيرَاثَهُمَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُمَا حِينَئِذٍ يَطْلُبَانِ أَرْضَيْهِمَا مِنْ فَدَكَ وَسَهْمَهُمَا مِنْ خَيْبَرَ فَقَالَ لَهُمَا أَبُو بَكْرٍ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا نُورَثُ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ إِنَّمَا يَأْكُلُ آلُ مُحَمَّدٍ مِنْ هَذَا الْمَالِ قَالَ أَبُو بَكْرٍ وَاللَّهِ لَا أَدَعُ أَمْرًا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُهُ فِيهِ إِلَّا صَنَعْتُهُ قَالَ فَهَجَرَتْهُ فَاطِمَةُ فَلَمْ تُكَلِّمْهُ حَتَّى مَاتَتْ۔۔۔۔   اس پر فاطمہ ع نے اس سے تعلق کاٹ لیا اور تادمِ حیات ان سے کلام نہیں کیا۔۔۔

صحيح البخاري ۔کتاب فرائض۔۔۔۔ بَاب قَوْلِ النَّبِيِّ ص  لَا نُورَثُ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ ۔۔ 6230

2۔۔۔۔: فَغَضِبَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ۔۔۔۔ فَهَجَرَتْ۔۔۔    ۔۔۔۔۔۔ قَالَتْ وَكَانَتْ فَاطِمَةُ تَسْأَلُ أَبَا بَكْرٍ

۔۔۔۔۔۔غضبناک ہو کر چلی گئیں اور مرتے دم تک مکمل بائیکاٹ کی حالت میں رہیں۔

-فَقَالَ لَهَا أَبُو بَكْرٍ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا نُورَثُ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ فَغَضِبَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهَجَرَتْ أَبَا بَكْرٍ فَلَمْ تَزَلْ مُهَاجِرَتَهُ حَتَّى تُوُفِّيَتْ وَعَاشَتْ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِتَّةَ أَشْهُرٍ قَالَتْ وَكَانَتْ فَاطِمَةُ تَسْأَلُ أَبَا بَكْرٍ نَصِيبَهَا مِمَّا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ خَيْبَرَ وَفَدَكٍ وَصَدَقَتَهُ بِالْمَدِينَةِ فَأَبَى أَبُو بَكْرٍ عَلَيْهَا ذَلِكَ وَقَالَ لَسْتُ تَارِكًا شَيْئًا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْمَلُ بِهِ إِلَّا عَمِلْتُ بِهِ فَإِنِّي أَخْشَى إِنْ تَرَكْتُ شَيْئًا مِنْ أَمْرِهِ أَنْ أَزِيغَ فَأَمَّا صَدَقَتُهُ بِالْمَدِينَةِ فَدَفَعَهَا عُمَرُ إِلَى عَلِيٍّ وَعَبَّاسٍ وَأَمَّا خَيْبَرُ وَفَدَكٌ فَأَمْسَكَهَا عُمَرُ وَقَالَ هُمَا صَدَقَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ۔۔۔

 صحيح البخاري ۔۔   کتاب خمس ۔۔۔ 1 - باب فرض الخمس 2926

  3:   فَوَجَدَتْ فَاطِمَةُ عَلَى أَبِي بَكْرٍ فِي ذَلِكَ فَهَجَرَتْهُ فَلَمْ تُكَلِّمْهُ۔

ناراض ہوگئیں اور وہاں سے چلی گئیں اور آخر عمر تک خلیفہ سے بات تک نہیں کیں۔  یہاں تک کہ نماز(جنازہ) میں بھی شرکت کی اجازت نہیں دی۔

 - حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ عُقَيْلٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ فَاطِمَةَ عَلَيْهَا السَّلَام بِنْتَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْسَلَتْ إِلَى أَبِي بَكْرٍ تَسْأَلُهُ مِيرَاثَهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَيْهِ بِالْمَدِينَةِ وَفَدَكٍ وَمَا بَقِيَ مِنْ خُمُسِ خَيْبَرَ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا نُورَثُ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ إِنَّمَا يَأْكُلُ آلُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْمَالِ وَإِنِّي وَاللَّهِ لَا أُغَيِّرُ شَيْئًا مِنْ صَدَقَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ حَالِهَا الَّتِي كَانَ عَلَيْهَا فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَأَعْمَلَنَّ فِيهَا بِمَا عَمِلَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَبَى أَبُو بَكْرٍ أَنْ يَدْفَعَ إِلَى فَاطِمَةَ مِنْهَا شَيْئًا فَوَجَدَتْ فَاطِمَةُ عَلَى أَبِي بَكْرٍ فِي ذَلِكَ فَهَجَرَتْهُ فَلَمْ تُكَلِّمْهُ حَتَّى تُوُفِّيَتْ وَعَاشَتْ بَعْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِتَّةَ أَشْهُرٍ فَلَمَّا تُوُفِّيَتْ دَفَنَهَا زَوْجُهَا عَلِيٌّ لَيْلًا وَلَمْ يُؤْذِنْ بِهَا أَبَا بَكْرٍ وَصَلَّى عَلَيْهَا وَكَانَ لِعَلِيٍّ مِنْ النَّاسِ وَجْهٌ حَيَاةَ فَاطِمَةَ فَلَمَّا تُوُفِّيَتْ اسْتَنْكَرَ عَلِيٌّ وُجُوهَ النَّاسِ فَالْتَمَسَ مُصَالَحَةَ أَبِي بَكْرٍ وَمُبَايَعَتَهُ وَلَمْ يَكُنْ يُبَايِعُ تِلْكَ الْأَشْهُرَ فَأَرْسَلَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ أَنْ ائْتِنَا وَلَا يَأْتِنَا أَحَدٌ مَعَكَ كَرَاهِيَةً لِمَحْضَرِ عُمَرَ فَقَالَ عُمَرُ لَا ۔۔۔۔۔

 صحيح البخاري (13/ 135):  کتاب المغازی ۔۔ بَاب غَزْوَةِ خَيْبَرَ۔۔۔۔۔۔

صحیح مسلم ۔۔  - كتاب الجهاد والسير  - باب قول النبي ص ( لا نورث ما تركنا فهو صدقة

 

 4: وَاللَّهِ لاَ أُكَلِّمُكُمَا۔۔۔             بات نہ کرنے کی قسم کھائی

 اللہ کی قسم میں تم دونوں سے بات نہیں کروں گی۔

1609- حَدَّثَنَا بِذَلِكَ عَلِيُّ بْنُ عِيسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ فَاطِمَةَ جَاءَتْ أَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ، تَسْأَلُ مِيرَاثَهَا مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالاَ: سَمِعْنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: إِنِّي لاَ أُورَثُ، قَالَتْ: وَاللَّهِ لاَ أُكَلِّمُكُمَا أَبَدًا، فَمَاتَتْ وَلاَ تُكَلِّمُهُمَ۔۔۔

سنن الترمذي  ) أَبْوَابُ السِّيَرِ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ  : 44- بَابُ مَا جَاءَ فِي تَرِكَةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔۔

 

نوٹ:  خود امام ترمذی نے اس بات نہ کرنے کو ان کی طرف سے خلیفہ کی بات کو قبول کرنے کا معنی کیا ہے۔۔۔جبکہ یہ اس سلسلے کی دوسری روایات کے خلاف معنی ہے۔۔۔ حتی ترمذی کی دوسری روایات کے بھی خلاف ہے۔۔۔

 5: قبضہ کرنا

فَقَبَضَهَا أَبُو بَكْرٍ۔۔۔۔  فدک وغیرہ کو خلیفہ نے رسول اللہ ص کے بعد اپنے قبضے میں لیا۔

- فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ أَنَا وَلِىُّ رَسُولِ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - فَقَبَضَهَا أَبُو بَكْرٍ يَعْمَلُ فِيهَا بِمَا عَمِلَ بِهِ فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - ۔۔۔۔۔۔۔۔ ، فَقَبَضْتُهَا سَنَتَيْنِ أَعْمَلُ فِيهَا بِمَا عَمِلَ رَسُولُ اللَّهِ۔

صحيح البخارى  : کتاب النفقات ۔3 - باب حَبْسِ نَفَقَةِ الرَّجُلِ قُوتَ سَنَةٍ عَلَى أَهْلِهِ ، وَكَيْفَ نَفَقَاتُ الْعِيَالِ . ( 3 ) 5358  ۔۔كِتَابُ الِاعْتِصَامِ بِالكِتَابِ وَالسُّنَّةِ ۔۔۔ بَابُ مَا يُكْرَهُ مِنَ التَّعَمُّقِ وَالتَّنَازُعِ فِي العِلْمِ، وَالغُلُوِّ فِي الدِّينِ وَالبِدَعِ7305

۔   امیر المؤمنین علیہ السلام کا سخت موقف ۔۔۔۔

خلیفہ دوم خود ہی امیر المؤمنین علیہ السلام کا جناب ابوبکر اور اپنے بارے میں سخت موقف کا اعتراف کر رہا ہے۔۔۔

  جیساکہ جناب امیر المؤمنین ع نے بھی خلیفے کے اس اعتراف کو مسترد نہیں کیا۔۔۔۔۔ یہ نہیں فرمایا: استغفر اللہ جناب آپ مجھ پر خلیفہ اول اور اپنے کو جھوٹا، خائن، دھوکہ باز، گناہ گار، ظالم ،جابر فاجر کہنے کا الزام لگا رہے ہو۔ میں نے تو ایسا کبھی نہیں کہا اور نہیں سمجھا۔

 لہذا خلیفہ اول کا اعتراف اور خلیفہ چہارم کی طرف سے اس اعتراف کو مسترد نہ کرنا ہی اس موقف پر دلیل ہے  ۔۔۔۔ ہم تو کم از کم اس اعتراف میں خلیفے کو صادق سمجھتے ہیں کیونکہ مولا علی نے خلیفے کو اس وجہ سے نہیں جھٹلایا۔ آپ کی مرضی ۔۔۔۔ دیکھیں

1: فَرَأَيْتُمَاهُ كَاذِبًا آثِمًا غَادِرًا خَائِنًا،

 خلیفے کو جھوٹا، گنہگار، دھوکہ باز، خائن، ظالم، فاجر۔۔۔ سمجھنا

 

 امیر المومنین علی ابن ابی طالب ع خلیفہ اول اور دوم کی طرف سے حدیث نحن معاشرالانبیاء۔۔۔ سے استدلال کرنے اور جناب فاطمہ علیہا السلام کو حق نہ دینے  کے مسئلے میں خلفاء کو  حق بجانب نہیں سمجھتے تھے ۔۔۔۔

قَالَ: فَلَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَنَا وَلِيُّ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجِئْتُمَا تَطْلُبُ مِيرَاثَكَ مِنِ ابْنِ أَخِيكَ، وَيَطْلُبُ هَذَا مِيرَاثَ امْرَأَتِهِ مِنْ أَبِيهَا، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا نُورَثُ مَا تَرَكْنَاهُ صَدَقَةٌ» ، فَرَأَيْتُمَاهُ كَاذِبًا آثِمًا غَادِرًا خَائِنًا، وَاللهُ يَعْلَمُ إِنَّهُ لَصَادِقٌ بَارٌّ رَاشِدٌ تَابِعٌ لِلْحَقِّ، ثُمَّ تُوُفِّيَ أَبُو بَكْرٍ وَأَنَا وَلِيُّ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَوَلِيُّ أَبِي بَكْرٍ، فَرَأَيْتُمَانِي كَاذِبًا آثِمًا غَادِرًا خَائِنًا، وَاللهُ يَعْلَمُ إِنِّي لَصَادِقٌ بَارٌّ رَاشِدٌ تَابِعٌ لِلْحَقِّ، فَوَلِيتُهَا ۔۔۔۔۔

_ صحیح مسلم ۔۔  - كتاب الجهاد والسير  - باب 15 - بَابُ حُكْمِ الْفَيْءِ

السنن الكبرى للبيهقي  کتاب قسم الفئ۔۔  ۔۔۔ ( 5 باب بيان مصرف أربعة أخماس الفيء ۔

مسند أبي عوانة (4/ 244):  کتاب الایمان ۔۔۔18 باب الأخبار الدالة على الإباحة أ

 

   2 - تَزْعُمَانِ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ كَذَا وَكَذَا ،۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 5358 - ح۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔- فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ أَنَا وَلِىُّ رَسُولِ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - فَقَبَضَهَا أَبُو بَكْرٍ يَعْمَلُ فِيهَا بِمَا عَمِلَ بِهِ فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - وَأَنْتُمَا حِينَئِذٍ - وَأَقْبَلَ عَلَى عَلِىٍّ وَعَبَّاسٍ - تَزْعُمَانِ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ كَذَا وَكَذَا ، وَاللَّهُ يَعْلَمُ أَنَّهُ فِيهَا صَادِقٌ بَارٌّ رَاشِدٌ تَابِعٌ لِلْحَقِّ ، ثُمَّ تَوَفَّى اللَّهُ أَبَا بَكْرٍ فَقُلْتُ أَنَا وَلِىُّ رَسُولِ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - وَأَبِى بَكْرٍ ، فَقَبَضْتُهَا سَنَتَيْنِ أَعْمَلُ فِيهَا بِمَا عَمِلَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - وَأَبُو بَكْرٍ ، ثُمَّ جِئْتُمَانِى وَكَلِمَتُكُمَا وَاحِدَةٌ وَأَمْرُكُمَا جَمِيعٌ ، ۔۔۔۔۔۔۔ . أطرافه 2904 ، 3094 ، 4033 ، 4885 ، 5357 ، 6728 ، 7305 تحفة 5135 ،

 

صحيح البخارى  : کتاب النفقات ۔3 - باب حَبْسِ نَفَقَةِ الرَّجُلِ قُوتَ سَنَةٍ عَلَى أَهْلِهِ ، وَكَيْفَ نَفَقَاتُ الْعِيَالِ . ( 3 ) 5358  ۔۔كِتَابُ الِاعْتِصَامِ بِالكِتَابِ وَالسُّنَّةِ ۔۔۔ بَابُ مَا يُكْرَهُ مِنَ التَّعَمُّقِ وَالتَّنَازُعِ فِي العِلْمِ، وَالغُلُوِّ فِي الدِّينِ وَالبِدَعِ7305

مسند أحمد (4/ 213):  وَمِنْ مُسْنَدِ بَنِي هَاشِمٍ  ۔۔  حَدِيثُ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔

بخاری  کی روایت میں قابل توجہ نکتہ۔۔۔

۔۔ امام بخاری نے فَرَأَيْتُمَاهُ كَاذِبًا آثِمًا غَادِرًا خَائِنًا، کی تعبیر کو مناسب نہیں سمجھ کر اس کی جگہے پر کذا کذا ۔۔۔  لایا ہے ۔۔۔  ایک تو یہ امام بخاری یا راوی کی خیانت علمی ہے ۔۔۔ لیکن پھر بھی بعد  کے جملے سے واضح ہے کہ یہاں بھی وہی مسلم والے الفاظ ہی مراد ہیں؛ کیونکہ کذا کذا کے بعد خلیفہ دوم، خلیفہ اول کی صداقت کی گواہی دیتا ہے۔۔۔ لہذا کاذبا۔۔۔۔ کے مقابلے میں صداقت کی گواہی دینا اس بات کی دلیل ہے کہ یہاں بھی وہی الفاظ مراد ہیں۔۔۔۔

3    تَزْعُمَانِ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ فِيهَا ظَالِمٌ فَاجِرٌ    تم دونوں نے ابوبکر کو ظالم اور فاجر  سمجھا۔۔

مصنف عبد الرزاق الصنعاني (5/ 470): خُصُومَةُ عَلِيٍّ وَالْعَبَّاسِ   9772

 صحيح ابن حبان (14/ 575): 60 - كتاب التاريخ   8 - باب مرض النبي صلى الله عليه و سلم 6608ح 

مسند أبي عوانة (4/ 247):  مبتدأ كتاب الجهاد 18 باب الأخبار الدالة۔

 

4    فَزَعَمْتُمَا أَنَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانَ فِيهَا خَائِنًا فَاجِرًا۔۔

تم دونوں نے ابوبکر کو خائن اور فاجر سمجھا ۔۔۔

فَجِئْتَ يَا عَبَّاسُ تَطْلُبُ مِيرَاثَكَ مِنِ ابْنِ أَخِيكَ، وَجِئْتَ يَا عَلِيُّ تَطْلُبُ مِيرَاثَ زَوْجَتِكَ مِنْ أَبِيهَا، فَزَعَمْتُمَا أَنَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانَ فِيهَا خَائِنًا فَاجِرًا، وَاللَّهُ يَعْلَمُ [ص:209] لَقَدْ كَانَ بَرًّا مُطِيعًا تَابِعًا لِلْحَقِّ، ثُمَّ تُوُفِّيَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَبَضْتُهَا، فَجِئْتُمَانِي، تَطْلُبُ مِيرَاثَكَ يَا عَبَّاسُ مِنِ ابْنِ أَخِيكَ، وَتَطْلُبُ مِيرَاثَ زَوْجَتِكَ يَا عَلِيُّ مِنْ أَبِيهَا، وَزَعَمْتُمَا أَنِّي فِيهَا غَادِرٌ فَاجِرٌ،

تاريخ المدينة لابن شبة (1/ 204): خُصُومَةُ عَلِيٍّ وَالْعَبَّاسِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ۔۔۔

 

5   وَأَنْتُمَا تَزْعُمَانِ أَنَّهُ فِيهَا ظَالِمٌ۔۔۔۔   تم دونوں نے ابوبکر کو  ظالم سمجھا

 13105 ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى عَلِىٍّ وَالْعَبَّاسِ رَضِىَ اللَّهُ عَنْهُمَا ثُمَّ قَالَ وَأَنْتُمَا تَزْعُمَانِ أَنَّهُ فِيهَا ظَالِمٌ وَاللَّهُ يَعْلَمُ أَنَّهُ فِيهَا صَادِقٌ بَارٌّ تَابِعٌ لِلْحَقِّ ثُمَّ وَلِيتُهَا بَعْدَ أَبِى بَكْرٍ رَضِىَ اللَّهُ عَنْهُ سَنَتَيْنِ مِنْ إِمَارَتِى فَفَعَلْتُ فِيهَا بِمَا عَمِلَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَأَبُو بَكْرٍ وَأَنْتُمَا تَزْعُمَانِ أَنِّى فِيهَا ظَالِمٌ وَاللَّهُ يَعْلَمُ أَنِّى ۔۔۔۔۔

السنن الكبرى للبيهقي  کتاب قسم الفئ۔۔  ۔۔۔ ( 5 باب بيان مصرف أربعة أخماس الفيء ۔۔ 13105

 ایک اہم نکتہ : بعض لوگ جناب امیر المومنین علیہ السلام کے اس سخت موقف کو خراب کرنے کے لئے کہتے ہیں کہ مسلم کی روایت کے مطابق جناب عباس نے بھی مولا علی ع کے بارے میں بھی یہی الفاظ استعمال کیے ہیں۔۔۔۔

جواب : پہلی بات تو یہ کہ مسلم کے علاوہ باقیوں نے اس کو نقل نہیں کیا ہے  جبکہ خلیفہ دوم کی زبانی  مولا علی ع کا موقف سب نے نقل کیا ہے۔۔۔ لہذا یہ خود محدثین کی نگاہ میں مسلم کی روایت کے پہلے والے حصے کے جعلی ہونے اور بعد والے حصے کی توجیہ کے لئے اضافہ کرنے کی دلیل ہے۔۔۔

اگر ابن عباس نے ایسا کہا بھی ہو  تو ابن عباس کی بات کی کوئی حیثیت نہیں۔۔۔۔ کیونکہ وہ فتح مکہ تک مسلمانوں کی صفوں میں داخل ہی نہیں ہوا اور اسلامی تعلیمات کے زیر سایہ ان کی تربیت نہیں ہوئی تھی ۔۔۔۔۔ لیکن مولا علی ع نے اگر ایسا کہا ہے تو یقینا یہ حقیقت پر مبنی ہے۔۔۔ مولا علی بغیر سوچے سمجھے کسی پر الزام لگانے والی شخصیت نہیں۔۔۔

اگر مولا نے ایسا نہیں کہا تو یہ خلیفہ کی طرف سے ان پر  الزام اور تہمت شمار ہوگا ۔۔۔

 

ایک عجیب تناقض : 

گزشتہ مطالب میں غور و خوض کرنے سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ جناب خلیفہ ایک طرف تو اعتراف کر رہا ہے کہ آل رسول کو ان چیزوں سے ، ان کے اخراجات فراہم کرنا رسول اللہ ص کی سیرت تھی۔۔۔ ساتھ ہی خلیفہ قسم کھا رہا ہے کہ میں رسول اللہ ص کے طریقے اور سیرت کو تبدیل نہیں کروں گا۔۔۔۔۔ لیکن عجیب بات یہ ہے کہ  قسم کھانے کے باجود بھی  جناب فاطمہ علیہا السلام کو کچھ بھی نہیں دیا۔۔۔۔۔

أَنَّ فَاطِمَةَ عَلَيْهَا السَّلَام بِنْتَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْسَلَتْ إِلَى أَبِي بَكْرٍ تَسْأَلُهُ مِيرَاثَهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَيْهِ بِالْمَدِينَةِ وَفَدَكٍ وَمَا بَقِيَ مِنْ خُمُسِ خَيْبَرَ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا نُورَثُ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ إِنَّمَا يَأْكُلُ آلُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْمَالِ وَإِنِّي وَاللَّهِ لَا أُغَيِّرُ شَيْئًا مِنْ صَدَقَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ حَالِهَا الَّتِي كَانَ عَلَيْهَا فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَأَعْمَلَنَّ فِيهَا بِمَا عَمِلَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَبَى أَبُو بَكْرٍ أَنْ يَدْفَعَ إِلَى فَاطِمَةَ مِنْهَا شَيْئًا فَوَجَدَتْ فَاطِمَةُ عَلَى أَبِي بَكْرٍ فِي ذَلِكَ فَهَجَرَتْهُ فَلَمْ تُكَلِّمْهُ ۔۔۔۔

 صحيح البخاري (13/ 135):  کتاب المغازی ۔۔ بَاب غَزْوَةِ خَيْبَرَ۔۔۔۔۔۔

صحیح مسلم ۔ كتاب الجهاد والسير  - باب قول النبي ص ( لا نورث ما تركنا فهو صدقة )

مطالبہ جاری رہا۔۔

 لہذا رضایت والی کہانی  کی حقیقت کا بطلان بھی واضح ہے  ۔۔۔

الف :

خود حضرت فاطمہ علیہا السلام بھی مطابہ کرتی رہیں۔۔۔

وَكَانَتْ فَاطِمَةُ تَسْأَلُ أَبَا بَكْرٍ ۔۔۔ آپ ابوبکر سے بار بار مطالبہ کرتی رہیں"  کانت جب فعل مضارع سے پہلے آئے تو یہ ماضی استمراری پر دلالت کرتا ہے۔۔۔

وَكَانَتْ فَاطِمَةُ تَسْأَلُ أَبَا بَكْرٍ نَصِيبَهَا مِمَّا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ خَيْبَرَ وَفَدَكٍ وَصَدَقَتِهِ بِالْمَدِينَةِ فَأَبَى أَبُو بَكْرٍ عَلَيْهَا ذَلِكَ۔۔۔۔۔

صحیح مسلم ۔۔  - كتاب الجهاد والسير  - باب قول النبي صلى الله عليه و سلم ( لا نورث  ۔۔۔

قَالَتْ وَكَانَتْ فَاطِمَةُ تَسْأَلُ أَبَا بَكْرٍ۔۔ صحيح البخاري ۔۔ کتاب خمس ۔۔۔ 1 - باب فرض الخمس 2926

ب :

 امیر المؤمنین علیہ السلام نے بھی خلیفہ اول اور دوم کے دور میں یہی مطالبہ جاری رکھا۔۔۔ اور جناب فاطمہ علیہا السلام کے موقف کی حمایت کیں۔۔۔۔۔

خلیفہ دوم کہتا ہے: علی میرے  پاس اپنی بیوی کی ان کے باپ سے میراث کا مطالبہ کرنے آئے۔

، جِئْتَنِى تَسْأَلُنِى نَصِيبَكَ مِنِ ابْنِ أَخِيكَ ، وَأَتَى هَذَا يَسْأَلُنِى نَصِيبَ امْرَأَتِهِ مِنْ أَبِيهَا

صحيح البخارى  کتاب النفقات ۔3 - باب حَبْسِ نَفَقَةِ الرَّجُلِ ۔۔ مسند أحمد (4/ 213):  وَمِنْ مُسْنَدِ بَنِي هَاشِمٍ  ۔۔  حَدِيثُ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

وَيَطْلُبُ هَذَا مِيرَاثَ امْرَأَتِهِ مِنْ أَبِيهَا، ۔۔۔۔۔ثُمَّ جِئْتَنِي أَنْتَ وَهَذَا وَأَنْتُمَا جَمِيعٌ وَأَمْرُكُمَا وَاحِدٌ، ۔۔۔

صحیح مسلم ۔۔  - كتاب الجهاد والسير  - باب 15 - بَابُ حُكْمِ الْفَيْءِ۔۔

السنن الكبرى للبيهقي  کتاب قسم الفئ۔۔  ۔۔۔ ( 5 باب بيان مصرف أربعة أخماس الفيء ۔۔

  وجاءني هذا ـ يعني عليا ـ يسألني ميراث امرأته  ۔۔ صحيح ابن حبان (14/ 575):

هذا - يعني عليا - يسألني ميراث امرأته من أبيها  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مصنف عبد الرزاق (5/ 471):

 

ثُمَّ جِئْتُمَانِي، جَاءَنِي هَذَا , يَعْنِي الْعَبَّاسَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ , يَسْأَلُنِي مِيرَاثَهُ مِنِ ابْنِ أَخِيهِ، وَجَاءَنِي هَذَا , يُرِيدُ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ , يَسْأَلُنِي مِيرَاثَ امْرَأَتِهِ مِنْ أَبِيهَا،۔۔۔۔۔۔۔  ۔۔۔ السنن الكبرى للبيهقي (6/ 487):

لہذا جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ معاملہ ختم ہوا تھا اور حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا  ابوبکر کی بات سن کر خاموش ہوگئ تھیں اور پھر دنیا سے جانے کے بعد ان کا جنازہ بھی خلیفہ نے ادا کیا ۔یہ ساری کہانی جناب فاطمہ اور مولا علی علیہما السلام کے موقف کو کمزور کرنے اور شیعہ منطق سے لوگوں کو دور رکھنے کے لئے بنائی گئی داستانیں ہیں ۔۔۔

یہی وجہ ہے کہ شیعہ منطق کے آگے بوکھلاہٹ کا شکار ہو کر بعض لوگ اپنی کتابوں میں موجود صحیح سند روایات میں موجود باتوں کو شیعوں کی باتیں کہہ کر شیعوں کے خلاف تبلیغ کرتے ہیں ۔ جبکہ شیعہ وہی کہتے ہیں کہ جو مخالفین کی صحیح سند روایات میں ہے۔

طالبان حق کے لئے اشارہ کافی ہے۔

ایک شبھہ اور آخری حربہ

کہتے ہیں اگر فدک حضرت فاطمہ زہرا علیہا السلام کا حق تھا تو مولا علی علیہ نے خود اپنی حکومت کے دوران میں اس کو واپس کیوں نہیں لیا؟

اس کا جواب بھی مولا علی علیہ السلام نے کئی جگہوں پر دیے ہیں۔

اب شیعہ مخالف ان کی طرف سے پیش کردہ عذر کو قبول نہیں کرتے تو ہم کیا کرسکتے ہیں۔

 گویا امام علی علیہ السلام کو اس شبہے اور اعتراض کا علم تھا۔۔۔ اور یہ شبہہ اور اعتراض اس دور میں بھی لوگ اٹھاتے تھے۔۔۔

امام  نے ایک خطبے کے ضمن میں اس قسم کے شبہات کے جواب دیے۔۔۔

 

امام اس میں واضح طور پر فرماتے ہیں: گزشتہ حکومتوں کے دور میں  ایسی بہت ساری بدعتیں انجام پائی ہیں۔

 قَدْ عَمِلَتِ‏ الْوُلَاةُ قَبْلِي أَعْمَالًا خَالَفُوا فِيهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ، مُتَعَمِّدِينَ لِخِلَافِهِ، نَاقِضِينَ لِعَهْدِهِ، مُغَيِّرِينَ لِسُنَّتِهِ، وَ لَوْ حَمَلْتُ النَّاسَ عَلَى تَرْكِهَا وَ حَوَّلْتُهَا إِلَى مَوَاضِعِهَا وَ إِلَى مَا كَانَتْ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ ۔

کہ اگر میں ان کی اصلاح کرنا چاہوں تو :

 لَتَفَرَّقَ عَنِّي جُنْدِي، حَتَّی أَبْقَی وَحْدِی أَوْ قَلِیلٌ مِنْ شِیعَتِی الَّذِینَ عَرَفُوا فَضْلِی وَ فَرْضَ إِمَامَتِی مِنْ کتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ وَ سُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ »

میرے لشکر والے تتر بتر ہو جائیں گے اور میں تنہا رہ جاؤں گا یا میں اپنے ان تھوڑے سے شیعوں کے ساتھ  تنہا رہ جاؤں گا کہ جو میرِی فضیلت کو جانتے ہیں اور میری امامت کو اللہ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سنت کے مطابق اپنے اوپر فرض ہونے کا اعتقاد رکھتے ہیں۔

«أَ رَأَیتُمْ لَوْ أَمَرْتُ بِمَقَامِ إِبْرَاهِیمَ ع فَرَدَدْتُهُ إِلَی الْمَوْضِعِ الَّذِی وَضَعَهُ فِیهِ رَسُولُ اللَّهِ »

اگر مقام ابراہیم کو  اسی جگہ قرار دوں جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے قرار دیا تھا.

«وَ رَدَدْتُ فَدَکاً إِلَی وَرَثَةِ فَاطِمَةَ ع» 

   اگر میں فدک کو فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا کی اولاد کو واپس پلٹا دوں۔

یا متعة النساء اور متعة الحج کو حلال کردوں اور لوگوں کو بلند آواز سے بسم اللہ پڑھنے پر مجبور کروں۔ یا نماز تروایح ۔….{گزشتہ خلفاء کے دور کے دسیوں مورد بدعتوں کو ذکر کرتے ہیں} اگر میں ان کو اصل حالت کی طرف پلٹا دوں تو

 

«إِذاً لَتَفَرَّقُوا عَنِّی»

تو لوگ مجھ سے دور ہوجائیں گے.

«امام ایک شاہد پیش کرتے ہیں

وَ اللَّهِ لَقَدْ أَمَرْتُ النَّاسَ أَنْ لَا یجْتَمِعُوا فِی شَهْرِ رَمَضَانَ إِلَّا فِی فَرِین مضَة»

اللہ کی قسم! میں نے لوگوں کو حکم دیا کہ مسجد میں رمضان کے مہینے میں نماز تراویح نہ پڑھیں اور صرف فریضہ نمازوں کے علاوہ جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کے لئے مسجد میں جمع نہ ہوجائیں۔ «فَتَنَادَی بَعْضُ أَهْلِ عَسْکرِی مِمَّنْ یقَاتِلُ مَعِی یا أَهْلَ الْإِسْلَامِ غُیرَتْ سُنَّةُ عُمَر ینْهَانَا عَنِ الصَّلَاةِ فِی شَهْرِ رَمَضَانَ تَطَوُّعا»

تو میرے لشکر میں سے بعض کہنے لگے : اے مسلمانو! عمر کی سنت کو تبدیل کیا ہے اور  ہمیں  رمضان میں {تروایح کی} نماز پڑھنے سے روکا گیا ہے۔

«وَ لَقَدْ خِفْتُ أَنْ یثُورُوا فِی نَاحِیةِ جَانِبِ عَسْکرِی»

مجھے یہ خوف لاحق ہوا کہ اب میرے ہی لشکر والے میرے خلاف اٹھ کھڑے ہو جائیں گے اور مجھ پر ہی حملہ کریں گے۔

لہذا امام نے حکمت علمی اور تدبیر سے کام لیتے ہوئے ایسا اقدام نہیں کیا کیونکہ معاویہ جیسے دشمن کے مقابلے میں اپنے لشکر کی صفحوں میں انتشار پھلانے سے دوری امام کے لئے فدک کی زمین واپس لینے سے زیادہ اھمیت رکھتی تھی اور وقت کی ضرورت یہی تھی کہ آپ اپنے موقف کو واضح کرنے کے باجود اس کو واپس نہ کرئے  اور بنی امیہ اور آپ کے دشمنوں کو لوگوں کو آپ کے خلاف  اکسانے اور آپ کے لشکر کا شیرازہ بکھرنے کا دشمن کو موقع نہ دیا جاہے۔۔۔

و السلام علی من اتبع الھدی...

تحریر ۔۔ غ م ملکوتی ۔۔





Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی