2021 May 16
شیعوں کی تعداد کا کم ہونا کیا ان کے اھل باطل ہونے کی دلیل ہے ؟
مندرجات: ١٨٧٢ تاریخ اشاعت: ١٤ February ٢٠٢١ - ٠٨:١٥ مشاہدات: 468
یاداشتیں » پبلک
شیعوں کی تعداد کا کم ہونا کیا ان کے اھل باطل ہونے کی دلیل ہے ؟

 

 اعتراض :

 اگر شیعہ مذہب  حق ہے تو کیوں مسلمانوں کے درمیان شیعہ اقلیت میں ہیں  اور مسلمانوں میں سے اکثریت کا تعلق شیعہ مکتب و مذہب سے نہیں ہے  ؟ !

تحلیل و جائزہ :

 

اس اعتراض کے جواب میں چند نکات کی طرف اشارہ کیا جاتاہے :

پہلا نکتہ :  قرآن مجید کی تعلیمات کی روشنی میں ، نہ کثرت حقانیت کی نشانی ہے اور نہ قلت ناحق پر ہونے کی علامت ۔ حق و باطل  کے اپنے کچھ  مخصوص معیار اور ملاک ہوتے ہیں  جن میں کثرت و قلت کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا ہے ۔ چنانچہ بہت  سی باطل چیزوں کو  لوگوں کی اکثریت  نے اپنایا ہے  اور بہت سے سچ اور  حق مسائل سے اکثریت نے سر پیچی کی ہے ۔ حق کے طرفداروں کا غلبہ اور کامیابی ایک ایسا وعدہ ہے جو صرف آخر الزمان میں تحقق پذیر ہوگا ۔([1])

قرآن مجید ایسے پیغمبروں  کا تذکرہ کرتا ہے۔ کہ  جن کی حقانیت میں کسی کو کوئی شک نہیں ۔  جن  کے مددگار بہت مختصر تعداد میں تھے ۔ اور اس کے مقابل، اکثر لوگ انکی مخالفت کیا کرتے تھے ۔ قرآنی نصوص کی روشنی میں ، دینداروں کی تعداد بے دینوں کے مقابل ہمیشہ کم رہی ہے  چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہوتا ہے : ’’ وَقَلِيلٌ مِّنْ عِبَادِيَ الشَّكُورُ ‘‘۔([2])اور میرے بندوں میں شکر گزار بہت ہی کم ہیں۔

اسی طرح  اللہ تعالیٰ ایک مقام پر  اپنے پیغمبر ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے فرماتا ہے : ’’ وَمَا أَكْثَرُ النَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِينَ ‘‘ ۔  ([3])اور آپ کتنا ہی حرص کریں (اور کتنا ہی چاہیں) مگر اکثر لوگ ایمان نہیں لائیں گے۔

قرآن   مجید کی آیات کی روشنی میں ، جناب نوح علیہ السلام نے مسلسل ساڑھے نو سو برس  تک تبلیغ  کی لیکن آپ پر بہت ہی کم لوگ ایمان لائے  چنانچہ اس کے متعلق قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے : ’’ وَمَا آمَنَ مَعَهُ إِلَّا قَلِيلٌ ‘‘ ۔ ([4]) اور بہت ہی تھوڑے  سے لوگ ان  پر ایمان لائے تھے۔

اسی طرح قرآن مجیدحکم   دیتا ہے کہ حق کی راہ میں  اگر کوئی تمہارے ساتھ نہ آئے تو تم اکیلے ہی قیام کرو  اور دوسروں کی مخالفت سے مت گھبراؤ  چنانچہ  خداوند عالم کا فرمان ہے : ’’  قُلْ إِنَّمَا أَعِظُكُم بِوَاحِدَةٍ أَن تَقُومُوا لِلَّـهِ مَثْنَىٰ وَفُرَادَىٰ ‘‘ ۔([5]) (اے میرے  نبی(ص) آپ کہہ دیجئے! میں تمہیں صرف ایک بات کی نصیحت کرتا ہوں کہ تم دو، دو اور ایک ایک ہو کر خدا کیلئے کھڑے ہو جاؤ !

اس آیت سے بخوبی سمجھ میں آتا ہے کہ حق کی راہ میں تنہا اور اکیلے ہوجانے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ  قیام کرنے والا باطل پر ہے ۔اس بنا پر ، تعداد کی کثرت سے  لازمی طور پر یہ نتیجہ نہیں لیا جاسکتا کہ وہ  مکتب حق پر  تھا یا ہے۔  بلکہ اکثر مواقع پر مسئلہ اس کے برخلاف ہوتا ہے  چنانچہ قرآن مجید جناب طالوت کے واقعہ میں کہ جن کے سپاہیوں کی تعداد  بہت کم  تھی  اس نکتہ کی طرف اس طرح اشارہ کررہا ہے : ’’  كَم مِّن فِئَةٍ قَلِيلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِيرَةً بِإِذْنِ اللَّهِ ‘‘ ۔  ([6]) بہت مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ کئی چھوٹی جماعتیں اور گروہ ( اللہ کی مدد کے سہارے ) بڑی جماعتوں پر غالب و فائق آئی ہیں ۔

اور اسی طرح قرآن مجید  کثرت تعداد  کو کامیابی اور فتح کی دلیل نہیں مانتا  ۔ تاریخی رپورٹس کے مطابق   جنگ حنین میں مسلمانوں کی تعداد ۱۲ ہزار سپاہیوں پر مشتمل تھی  اور اس سے پہلے کسی جنگ میں مسلمانوں کی تعداد اس مقدار تک نہیں پہونچی تھی  چنانچہ اس منظر کو دیکھ کر کچھ مسلمان غرور آمیز لہجہ میں کہہ اٹھے : ’’ لن نغلب الیوم ‘‘ ۔([7]) اتنی بڑی  تعداد کے ساتھ ہم کبھی شکست نہیں کھا سکتے ۔  لیکن ابھی کچھ دیر نہ ہوئی تھی کہ دشمن کے سامنے سے فرار کرنے لگے   اور قرآن مجید کی تعبیر کے مطابق ، اس طرح دوڑے کہ زمین اپنی تمام وسعت کے باوجود  ان کے لئے تنگ ہوگئی   چنانچہ قرآن مجید اس حقیقت کی طرف ان الفاظ میں اشارہ کرتا ہے : ’’ وَيَوْمَ حُنَيْنٍ  ، إِذْ أَعْجَبَتْكُمْ كَثْرَتُكُمْ فَلَمْ تُغْنِ عَنكُمْ شَيْئًا وَضَاقَتْ عَلَيْكُمُ الْأَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ ثُمَّ وَلَّيْتُم مُّدْبِرِينَ ‘‘ ۔ ([8]) اور حنین کے موقع پر بھی جب تمہاری کثرت تعداد نے تمہیں مغرور کر دیا تھا مگر اس (کثرت) نے تمہیں کوئی فائدہ نہ پہنچایا اور زمین اپنی ساری وسعت کے باوجود تم پر تنگ ہوگئی پھر تم پیٹھ دکھا کر بھاگ کھڑے ہوگئے۔

اور دوسری طرف قرآن مجید پیغمبر اکرم ﷺ کو اکثریت کی پیروی کرنے  کے خطرات سے آگاہ کرتے ہوئے کہتا ہے : ’’ وَإِن تُطِعْ أَكْثَرَ مَن فِي الْأَرْضِ يُضِلُّوكَ عَن سَبِيلِ اللَّهِ ‘‘ ۔ ([9]) (اے رسول(ص)) اگر آپ زمین کے رہنے والوں کی اکثریت کی اطاعت کریں گے (ان کا کہنا مانیں گے) تو وہ آپ کو اللہ کے راستہ سے بھٹکا دیں گے۔

اس بنا پر ہم جرات کے ساتھ یہ کہہ سکتے ہیں کہ مذکورہ  اعتراض  کو ایک باطل بنیاد پر قائم کرنے کی کوشش کی گئی ہے  کہ تعداد کی کثرت کو حق کا معیار اور پیمانہ بنا دیا جائے ۔ جبکہ قرآنی آیات کی روشنی میں یہ بنیاد سرے سے ہی غلط  اور باطل ہے  اور صاحبان ایمان کبھی  ایسے معیار سے تمسک نہیں کرتے ۔

دوسرا نکتہ :  جس طرح  افراد  و تعداد کی کثرت حقانیت کی علامت نہیں ہوتی  ویسے ہی مشہور اور معاشرے کے با اثر و رسوخ شخصیتوں  کا عمل بھی  حقانیت کی نشانی  اور اس کا پیمانہ نہیں ہوتا ہے ۔

روائی اور تاریخی دستاویزوں کے مطابق  ایک ایسا شخص کہ جو جنگ جمل میں حق و باطل کا فیصلہ معروف و  مشہور  نیز با اثر و رسوخ شخصیتوں کے عمل و سیرت  میں تلاش کر رہا تھا  اس نے امیرالمؤمنین  علی علیہ السلام سے سوال کیا :’’  کیا آپ  طلحہ و زبیر سے جنگ لڑیں گے جبکہ وہ وہ رسول خدا ﷺ کے برجستہ اصحاب میں سے ہیں ؟ امام علیہ السلام نے جواب میں فرمایا : ’’ تم غلطی پر ہو ،  افراد کی عظمت و بزرگی  حق و باطل کا معیار نہیں ہوتا بلکہ تم  پہلے مرحلے میں حق کو پہچانو تاکہ اس کے اہل کو پہچان سکو ،  اسی طرح تم پہلے باطل کو پہچان جاؤ  تو پھر تمہارے لئے اس کے اہل کی معرفت آسان ہوجائے گی‘‘ ۔ ([10])

اس اور اس جیسی دیگر  روایت  سے یہ سمجھ میں آتا ہے کہ حق کی شناخت کا اپنا الگ معیار ہوتا ہے ۔جس میں سابقہ ، ماضی کے کارنامے ،  شخصیت کا اثر و رسوخ ، تعداد کی کثرت، قوم و قبیلہ  نیز  اس طرح کی دیگر چیزیں ، حق کی پہچان اور اس معرفت میں کوئی اہم کردار ادا  نہیں کرتی ہیں ۔

تیسرا نکتہ : علمی نقطہ نگاہ سے  ، حق و باطل  ، ہر ایک کی اپنی ذاتی  خصوصیت   بھی یہ تقاضہ کرتی ہے کہ اہل باطل ، حق کے طرفداروں کے مقابل ، تعداد میں زیادہ  اور کثرت کے ساتھ ہوں  چونکہ  باطل کی پیروی کرنا شہوانی خواہشات اور حیوانی رغبت  کے عین مطابق ہوتا ہے   اور ’’ ان النار حقّت بالشھوات ‘‘  ۔([11])کے  طور پر  ، اس پر عمل کرنے میں کچھ خرچ بھی نہیں ہوتا ہے  ۔ جبکہ حق کی پیروی کرنا از باب ’’ ان الجنۃ حقّت بالمکارہ‘‘   ۔([12]) شہوتوں اور لذات کے خلاف اقدام اور حرکت ہوتا ہے  اسی وجہ سے اس ( حق کی طرفداری ) میں زیادہ سختیاں اور دشواریاں پیش آتی  ہیں  اور اس وجہ سے اس کے  مدد گار و پیروکار ہمیشہ  کم ہوتے ہیں ۔

امیرالمؤمنین علی علیہ السلام  ایک جامع تعبیر سے اس حقیقت کو اس طرح واضح کرتے ہیں : ’’ لا تَسْتَوْحِشُوا فِى طَرِيقِ الْهُدى لِقِلَّةِ أَهْلِهِ، فَإِنَّ النّاسَ قَدِ اجْتَمَعُوا عَلى مائِدَةٍ شِبَعُها قَصِيرٌ، وَ جُوعُها طَوِيلٌ‘۔([13]) ہدایت کی راہ میں   اس کے طرفداروں کی قلت سے مت گھبراؤ  چونکہ لوگ ایسے دسترخوان پر اکھٹا ہوچکے ہیں  جس پر شکم سیری  کے آثار کم اور بھوک کا احساس زیادہ اور طولانی ہوتا ہے ۔

درحقیقت  امیرالمؤمنین علیہ السلام  اس بیان میں ،مؤمنین کی قلیل تعداد  اور اکثر لوگوں کی دنیا طلبی کا تذکرہ فرما رہے ہیں ۔قرآن مجید بھی  اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے  حق کی نسبت اکثر لوگوں کی کراہیت  اور ناپسند  کو اس طرح بیان فرماتا ہے : ’ وَأَكْثَرُهُمْ لِلْحَقِّ كَارِهُونَ ‘‘ ۔([14]) اور اکثر لوگ حق کو ناپسند کرتے ہیں۔ نیز اسی طرح ایک دوسرے مقام پر ارشاد ہوتا ہے : ’’ وَإِنَّ كَثِيرًا مِّنَ النَّاسِ لَفَاسِقُونَ ‘‘ ۔([15]) بے شک زیادہ تر لوگ فاسق (نافرمان )ہیں ۔

چوتھا نکتہ : اگر تعداد کی کثرت ، حقانیت کا معیار و ملاک ہو تو پھر یہی اعتراض و اشکال ۔ شیعہ مذہب کے علاوہ  ۔تمام دیگر اسلامی مذاہب پر بھی وارد ہوتا  ہے ۔ چونکہ پوری دنیا میں اس وقت مسلمانوں کی آبادی ڈیڑھ ارب  افراد پر مشتمل ہے جبکہ پوری دنیا میں تقریباً  سات ارب لوگ بستے ہیں تو ان کی نسبت مسلمانوں کی تعداد بہت کم ہے ۔

چین  یا  ہندوستان جیسے ممالک کہ جن میں ہر ایک  کی آبادی  ایک  ارب سے زیادہ ہے  اور جہاں انسانوں کا ایک سیلاب بستا ہے اور جن میں اکثریت بت پرستوں یا مادہ پرستوں کی ہے  تو کیا کوئی مسلمان  اسی دلیل کے سبب ، انہیں حق پر  اور اپنے مذہب کو ناحق تصور کرسکتا ہے ؟ !

اس سے بھی صرف نظر کرتے ہوئے، مکتب وہابیت کے پیروکار کہ جو خود کو سب سے بڑے موحد اور دیگر مسلمانوں کو مشرک مانتے ہیں  تو کیا ان کی کل تعداد دیگر مسلمانوں کے مقابل اکثریت میں ہے ؟ !

پانچواں نکتہ :  ان تمام چیزوں کو  چھوڑتے ہوئے ، شیعوں کی بنسبت  ،تمام  مسلمانوں کی   موجودہ  تعداد  ،  جن متعدد عوامل و اسباب کے  سبب اس   مقدار تک پہونچی ہے  ان میں سب سے ایک اہم عامل یہ رہا ہے کہ اہل سنت ، سقیفہ سے لیکر آج تک ۔ پوری تاریخ میں  ۔حکومتوں  کی بے دریغ حمایتوں کے سائے میں رہے ہیں  ، جبکہ  ۔ تاریخی  حقائق کے مطابق ۔ شیعوں کو   ہمیشہ سے  حکومتوں پر سب سے بڑے تنقید کرنے والوں کے طور پر جانا جاتا ہے  یہی وجہ ہے کہ حکومتوں نے تاریخ میں بارہا شیعوں کا قتل عام کیا ہے یہاں تک شیعوں کے قائدین اور آئمہ علیہم السلام  بھی ظالم و جابر حکمرانوں کے ظلم سے محفوظ نہ رہ سکے ۔ چنانچہ  کربلا، شہدائے فتح ، سادات اور شیعوں کا بنی امیہ و بنی عباس کے ذریعہ قتل عام  وغیرہ وغیرہ  اس مدعیٰ پر  بہترین گواہ ہیں۔

تاریخ اسلام کے صفحات ان  غمناک اور دلسوز  واقعات کی حکایات سے بھرے پڑے ہیں   کہ  کب کب  ظالم و جابر حکمرانوں نے  علویوں اور شیعوں کو  بہیمانہ طور پر تہہ تیغ کیا تھا ۔چنانچہ تاریخ نے شیعوں کے ایسے ایسے قتل عام کے مناظر اپنی آنکھوں سے دیکھے ہیں  جہاں صرف قتل پر ہی اکتفاء نہیں کیا گیا بلکہ ساتھ میں ان کی ہتک حرمت بھی کی گئی ۔اور صرف یہی نہیں کہ یہ سلسلہ صرف کسی ایک زمانے تک محدود رہا ہو بلکہ شیعوں کا قتل عام کرنے کی سازش ظالم و ستمگر حکومتوں  کے ذریعہ آج تک جاری ہے  کہ جس کے کچھ نمونہ ہم ذیل میں بیان کررہے ہیں :

سلطان محمود غزنوی نے مشرقی خراسان پر قبضہ کرنے کے بعد اس علاقہ میں آباد مسلمانوں کے دو بڑے گروہ شیعوں اور معتزلہ  کو منصوبہ بند طریقہ سے قلع قمع کیا اور اس طرح ان پر مظالم ڈھائے کہ نہ صرف انہیں جان ہی دینا پڑی بلکہ ان کے بڑے بڑے علمی مراکز  اور بہت سی لائبریریاں نذر آتش کردی گئیں   اور ان کے علمی آثار راکھ کے ڈھیر میں تبدیل  کردیئے گئے ۔ ([16])

صلاح الدین ایوبی   نے مصر کے فاطمیوں سے خیانت کرنے کے بعد  شیعوں کے قتل عام کرنے کا منصوبہ بنایا  اور اس نے بہت سے شیعہ گروہوں اور جماعتوں  پر ظلم ڈھائے ۔([17])

عثمانی حکمراں  سلطان سلیم  کے دور حکومت میں  ایک حنفی فقیہ کے فتوے کے بموجب ستر ہزار شیعوں کے سر قلم کئے گئے ۔([18])

اسی طرح لبنان میں جزّار کی حکومت میں ، جبل عامل کے علاقہ میں شیعوں کا اتنے وسیع پیمانے پر خون بہایا گیا کہ  خون سڑکوں اور محلوں کی نالیوں میں بہنے لگا اور  ان کی کتابوں اور علمی آثار کو ایک عرصہ تک تنوروں میں روٹی بنانے والے استعمال کرتے اور جلاتے رہے ۔([19])

اور اگر  آج بھی  اس حقیقت کو ملموس طور مشاہدہ کرنا چاہیں تو  ہمارے لئے کافی ہے کہ ہم  خلیجی ممالک میں شیعوں کے حالات کا جائزہ لیں تو پھر اندازہ ہوگا کہ سعودی عرب ، بحرین اور دیگر خلیجی ممالک میں ان کے ساتھ کیا سلوک روا رکھا جاتا ہے اور ان سے کیسا بہیمانہ رویہ اپنایا جاتا ہے ؟۔

نیورک یونیورسٹی کی ادیان فیکلٹی کے دو پروفیسر ڈاکٹر گراہم مولر اور ڈاکٹر رند رحیم  فرانکہ ،نے سعودی عرب  کے شیعوں کےحالات پر مشتمل  ایک مستقل مقالہ تحریر کیا ہے جس کا عنوان :’’  شیعیان عربستان، مسلمانان فراموش شدہ ‘‘ ہے ۔ اس مقالہ میں  لکھا گیا ہے  کہ  سعودی عرب میں شیعوں کی آبادی عراق کے بعد عرب کے خلیجی ممالک میں سب سے بڑی آبادی ہے ۔ لیکن  سنی معاشرے میں ان کی اجتماعی  امور میں شرکت  پورے عرب  خطے میں آباد  شیعوں  کی نسبت سب سے کم ہے ۔ اور صرف  یہی نہیں کہ  وہ عملی طور پر تبعیض ، عدم مساوات اور تعصب  کا شکار ہیں بلکہ ان کے ساتھ قانون میں بھی دوہرے معیار اپنائے جاتے ہیں اوران کی طرف سے ظاہر ہونے والی  کسی بھی طرح کی علنی شیعی شناخت یا فعالیت کو  شدت کے ساتھ کچل دیا جاتا ہے ۔ سعودی عرب کے شیعہ درحقیقت  تاریخ کے   فراموش شدہ مسلمان ہیں ۔ ([20])

وہاں کے بہت سے شیعہ اپنے مذہب کو چھپاتے ہیں  اور ان کی یہ ہمت تک  نہیں ہوتی کہ وہ علنی طور پر اپنے مذہب کا اظہار و اعلان کرسکیں ۔ اس خطہ کے شیعہ  ۱۹۱۳ ء سے ۱۹۸۵ء  تک   خاندان بن جیلویی  کی حکومت کی مستقیم نظارت  میں رہے کہ جو  آل سعود کی مرکزی    کے حکومت کی طرف سے اس خطہ پر  حکمراں تھے  چنانچہ  اقوام متحدہ کی طرف سے  ۱۹۹۶ ء  میں پوری دنیا سے  متعلق نشر ہونے والی رپورٹ میں  اس  خاندان (خاندان بن جیلویی  ) نہایت بے رحم  اور ظالم و جابر بتلایا گیا ہے  اور اس کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ذکر کی گئی ہے کہ یہ لوگ شیعوں سے بے پناہ نفرت کرتےہیں  ۔ ([21])

رپورٹس کے مطابق  سعودی عرب  میں شیعوں کے ساتھ جن شعبوں میں خاص طور پر  متعصبانہ اور امتیازی سلوک برتا جاتا ہے اس کا اجمالی خاکہ یہ ہے :

1۔ مذہبی تعصب

الف ) :  ۱۹۲۷ ء میں سعودی عرب کے نامور و مشہور علماء و مفتیوں نے یہ فتویٰ صادر کیا تھا کہ : ’’ شیعوں کو اپنے انحرافی دین کے اعمال و مناسک انجام دینا کا حق نہیں ہے  اگر انہوں نے اس پابندی کی خلاف ورزی کی تو انہیں جلا وطن کردیا جائے گا اور مسلمانوں کی سرزمین سے باہر دھکیل دیا جائے گا ‘‘ ۔ چنانچہ  اس فتویٰ  کی  سعودی عرب کے ایک مشہور مفتی  بن جبرین کے ذریعہ سن ۱۹۹۱ ء تائید ہوئی  تھی ۔

ب ) : شیعوں کا ایک بڑا علمی مرکز ۱۶ برس تک علمی خدمات  انجام دینے کے  بعد آخر کار  ۱۹۹۰ ء میں حکومت کی طرف سے  بند کردیا گیا ۔

ج ) : دینی مراکز جیسا کہ  خصوصی مساجد اورامام بارگاہیں   تعمیر کرنے   کا حق بڑے شدید پیمانے پر  محدود کردیا گیا ۔

د ) :  انہیں کوئی بھی دینی  اور مذہبی کتاب کی نشر و  اشاعت کا حق حاصل نہیں ہے ۔

2 ۔ ثقافتی  تعصب

الف ) :  کتابیں ، کیسٹیں اور شیعی ترانے  شائع کرنا منع ہیں  ۔

ب ) : کچھ مخصوص شیعہ ناموں کے رکھنے پر پابندی ہے  ۔

ج ) :  شیعہ کلچرل اور تاریخی لٹریچر کی  نشر و اشاعت مطلق طور پر بند کردی گئی ۔

3 ۔ قانونی  عدم مساوات اور تعصب

الف ) : شیعہ تمام اہم حکومتی  اور غیر حکومتی مناصب سے دور رہیں گے ۔

ب ) :  پورے ملک کی تقریباً ۵۰ فیصدی یونیورسٹیوں میں شیعہ اسٹوڈنٹس کا داخلہ ممنوع ہے ۔

ج ) : سعودی عرب کی عدالتوں میں کسی شیعہ کی  گواہی  قبول نہیں کی جاتی ۔ اس ملک کی عدالتوں میں شیعہ اور سنیوں کے برابر اور مساوی حقوق نہیں ہیں  اسی طرح  عدالتی سسٹم میں کسی شیعہ فرد کی بطور  جج تقرری نہیں ہوسکتی ، شیعہ کوئی بڑا افسر نہیں بن سکتا نیز فوج اور نیشنل سیکورٹی  کے شعبہ میں بھی کوئی شیعہ سروس نہیں کرسکتا ہے ۔

اور حد تو یہ ہے کہ سعودی عرب کی حکومت نے اس شیعہ نشین   مشرقی صوبہ  کے  نام کو بھی تبدیل کردیا ہے  تاکہ اس قوم کی ثقافتی  پہچان  کو بھی ختم کیا جاسکے ۔ ([22])

 درحقیقت  ان تمام پابندیوں  اور شدید قتل و غارتگری  کے باوجود شیعوں کا  اس دنیا میں باقی بچے  رہنا  اور ان کے پاس قوی دینی ثقافت  اور ہر اسلامی علم میں عظیم مفکرین و دانشوروں  کا  وجود اور بڑی طاقت کے  ساتھ رشد و نمو کرنا  صرف  خدائی معجزہ ہے ۔

 آج  ایران ، عراق ، آذربائجان ، بحرین اور لبنان   کی  اکثریت کا تعلق شیعہ اثنا عشری مکتب کے پیروکاروں سے  ہے  اور ان کے علاوہ دنیا کے دیگر بہت سے ممالک میں شیعہ تأثیر گذار اقلیت  کے باوجود  معاشرہ میں فعال کردار ادا کرنے کے لئے مشہور اور پہچانے جاتے  ہیں اس طرح کہ ان کے دشمن  انہیں اپنے لئے سب سے بڑا خطرہ سمجھتے ہیں  چنانچہ ’’ مد الشیعۃ ‘‘ کے دعوے کے مطابق بیداری اسلامی کی تحریک  اس مدعیٰ پر سب سے بڑی دلیل ہے ۔

چھٹا نکتہ :  دیگر مسلمانوں کی نسبت شیعوں کے اقلیت میں رہنے کی ایک دلیل  مکتب تشیع کی دنیا والوں کے سامنے صحیح تعارف  کی کمی ہے ۔ دوسری طرف نااہل اور غاصب  حکمرانوں کے ذریعہ  اس مکتب کی تبلیغ و تشہیر  پر پابندی لگانا ہے  چونکہ وہ بہت اچھی طرح  جانتے ہیں کہ   ان کی حیات اور ان کی حکمرانی اسی وقت تک چل سکتی ہے کہ جب تک  شیعہ  کمزور اور اقلیت  میں رہیں  اور دوسری طرف شیعوں پر کفر ، غلو ،  شرک ،  رافضی و خارجی وغیرہ کی بے بنیاد تہمتیں لگاکر دیگر مسلمانوں کو اس مکتب کے صحیح ادراک سے روک رکھا ہے ۔تیسری بات یہ کہ یہ ظالم و جابر حکمراں یہ چاہتے ہیں کہ عوام کی اکثریت جہل اور بے خبری کے عالم میں زندگی گذارے اور انہیں حق و حقانیت کا صحیح اداراک نہ ہونے پائے  جبکہ آج بہت سے اسلامی ممالک میں شیطان پرستی کے پیروکار اپنے مکتب کی ترویج اور تبلیغ کے لئے آزاد ہیں  لیکن ان تک شیعہ علماء و دانشوروں کی تألیف کردہ کتابیں پہونچنا  سختی کے ساتھ منع ہے ۔  اور یہ صورت حال اس وقت پیدا کی جارہی ہے کہ جب کہ شیعوں کی اکثر لائبریریوں  میں بہت بڑی مقدار میں اہل سنت علماء کی کتابیں رکھی ہوئی ہیں ۔ غرض یہ وہ سب عوامل و اسباب ہیں  جنہیں  شیعوں کےاقلیت میں رہنے کے وجوہات میں شمار کیا جاسکتا ہے ۔

 ساتواں نکتہ :  اگر غلبہ اور کثرت حقانیت کا معیار ہو  تو کیا وہابی پیغمبر اکرم ﷺ کے اس قول کو قبول کریں گے جس میں آپ نے فرمایا : ’’ ما اختلفت امۃ بعد نبیھا  الا ظھر اھل باطلھا علی اھل حقھا ‘‘ ۔(


[1]) کسی امت نے بھی اپنے پیغمبر کے بعد اختلاف نہیں کیا  مگر یہ کہ  ان کے اہل باطل ، حق والوں پرغالب آئے ہوں  ۔  اب وہابی خود فیصلہ کریں  کہ غالب و مغلوب میں سے  کون اس امت میں ناحق اور باطل پر ہوسکتا ہے ؟ !

نتیجہ : کثرت تعداد  حقانیت کی نشانی نہیں ہے  اور اکثر و بیشتر حق کے طرفدار پوری تاریخ میں  اقلیت میں رہے ہیں  اور جو لوگ اکثریت میں ہیں انہیں ایک بار خود سے یہ سوال  ضرور کرلینا چاہیئے کہ : کیا وہ  اکثریت میں ہونے کے باوجود حق پر بھی ہیں ؟

 تحریر : استاد رستمی نژاد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ترجمہ اعجاز حیدر



[1] ۔ سورہ توبہ : آیت ۳۳ ۔

[2]  ۔ سورہ سبأ : آیت ۱۳ ۔

[3] ۔ سورہ یوسف : آیت ۱۰۳ ۔

[4] ۔ سورہ ہود : آیت ۴۰ ۔

[5] ۔ سورہ سبأ : آیت ۴۶ ۔

[6] ۔ سورہ بقرہ : آیت ۲۴۹ ۔

[7] ۔ البدایۃ و النہایۃ ، ج۴ ، ص ۳۶۹ ۔

[8] ۔ سورہ توبہ : آیت ۲۵ ۔

[9] ۔ سورہ انعام : آیت ۱۱۶ ۔

[10] ۔ امالی شیخ طوسی، ص ۱۳۴ ۔ ’’ إنّ الحقّ و الباطل لا يعرفان بالرّجال ، لکن اعرف الحقّ باتباع من اتبعہ و الباطل باجتناب من اجتنبہ‘‘ ۔  نیز یہی مضمون ایک دوسری عبارت میں بھی نقل ہوا ہے ۔’’ إنّك لملبوس عليك إنّ الحقّ و الباطل لا يعرفان بأقدار الرّجال.اعرف الحقّ تعرف أهله و اعرف الباطل تعرف أهله‘‘ ۔

[11] ۔ نہج البلاغہ : خطبہ ۱۷۶ ۔

[12] ۔ نہج البلاغہ : خطبہ ۱۷۶ ۔

[13] ۔ نہج البلاغہ : خطبہ ۲۰۱ ۔

[14] ۔ سورہ مؤمنون : آیت ۷۰ ۔

[15] ۔ سورہ مائدہ : آیت ۴۹ ۔

[16] ۔ اعیان الشیعۃ ، ج۳ ، ص ۱۹۶ ۔

[17] ۔ سابق حوالہ ، ج۱ ، ص ۳۰ ۔

[18] ۔ سابق حوالہ ، ج۱ ، ص ۳۰ ۔

[19] ۔ دائرۃ المعارف اللبنانیۃ ، شرح حال ابراہیم یحیٰ ۔

[20] ۔ درآمدی بر شیعہ شناسی ، ص ۱۰۵ ۔

[21] ۔ فصلنامہ تخصصی شیعہ شناسی ، شمارہ ۸ ، ص ۱۲۹  ۔

[22] ۔ فصل نامہ تخصصی شیعہ شناسی ، ص ۱۲۹ ۔ ۱۳۹ ۔



[1][1] ۔ المعجم الاوسط ، ج۷ ، ص ۳۷۰ ؛ الجامع الصغیر ، ج۲ ، ص ۴۸۱ ، حدیث ۷۷۹۹ ۔





Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی