2021 May 16
شیعہ اذان اور اقامت میں "حی علی خیرالعمل" کیوں کہتے ہیں
مندرجات: ١٨٦٦ تاریخ اشاعت: ٠٨ February ٢٠٢١ - ١٧:٤٣ مشاہدات: 442
یاداشتیں » پبلک
اذان اور اقامت میں "حی علی خیرالعمل" کہنا
شیعہ اذان اور اقامت میں "حی علی خیرالعمل" کیوں کہتے ہیں

اعتراض: شیعہ حضرات دوسرے اسلامی فرقوں کے برخلاف اذان و اقامت میں "حی علی الفلاح"کے بعد "حی علی خیرالعمل" کہتے ہیں اور اس کے علاوہ صبح کی اذان میں دوسرے مسلمانوں کے برخلاف "الصلاۃ خیر من النوم" کہنے سے بھی پرہیز کرتے ہیں۔

 

تجزیہ اور تحلیل:

 

 

 

اس اعتراض کے جواب میں چند نکتے قابل توجہ ہیں:

پہلا نکتہ:جو کچھ بھی شیعہ اذان و اقامت میں کہتے ہیں وہ اہل بیت علیہم السلام سے منقول رویات اور شب معراج جبرئیل کے ذریعہ پیغمبر ص کو تعلیم کردہ متن کے مطابق ہے۔


[1] دلچسپ بات یہ ہے کہ اہل سنت کی روایات بھی اسی مسالہ کی تائید کرتی ہیں۔[2]

تاریخی اور روائی اسناد کہ جن کو اہل سنت کے بزرگ علماء نے بھی لکھا ہے۔ جملہ "حی علی خیر العمل" پیغمبر ص کے زمانہ میں بھی اذان کا جزء تھا۔ عبدالرزاق نے عبداللہ بن عمر سے نقل کیا ہے کہ وہ جب سفر میں نماز پڑھتے تھے تو دو یا تین بار کہتے تھے "حی علی الصلاۃ، حی علی الفلاح، حی علی خیر العمل"[3]

متقی ہندی (اہل سنت عالم) لکھتے ہیں:"کان بلال یوذن بالصبح فیقول: "حی علی خیر العمل" بلال جب صبح کی اذان دیتے تھے تو یہ جملہ "حی علی خیر العمل"  کہتے تھے۔[4] اسی طرح ابن حجر لسان المیزان میں ابی محذورہ سے نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں: "کنت غلاما فقال لی النبی ص: اجعل فی آخراذانک "حی علی خیر العمل"ابی محزورہ کہتے ہیں میں جوان تھا رسول خدا نے مجھ سے فرمایا: اپنی اذان کے آخر میں جملہ "حی علی خیر العمل" کو اضافہ کرو[5]

زبلعی(اہل سنت عالم) لکھتے ہیں: ایسی کوئی بھی معتبر روایت نہیں ہے جس میں رسول خدا ص نے بلال سے  "الصلاۃ خیر من النوم"کہنے کا حکم دیا ہو۔ فقط روایات میں یہ ملتا ہے کہ بلال اپنی اذان میں "حی علی خیر العمل" کہتے تھے۔[6]

بیہقی نے امام علی بن الحسین علیہ سے نقل کیا ہے: "کان یقول فی اذانہ اذا قال "حی علی الفلاح قال: "حی علی خیرالعمل"و یقول ھو الاذان الاول ۔ امام سجاد علیہ السلام جب اذان میں "حی علی الفلاح" کہتے تھے تو اس کے بعد  "حی علی خیرالعمل" کہتے تھے اور فرماتے تھے یہ پہلی اذان ہے۔ (یعنی تحریف ہونے سے پہلے اس طرح اذان دی جاتی تھی)۔[7]

دوسرا نکتہ: لیکن اذان میں جملہ "الصلاۃ خیر من النوم" جو اہل سنت علماء کے مطابق خلیفہ دوم کی ایجاد ہے شیعوں کے لحاظ سے کوئی شرعی حیثیت نہیں رکھتا۔

تاریخی اور روائی اسناد کے مطابق یہ جملہ پیغمبر ص کے زمانہ میں اذان کا جزء نہیں تھا۔ لھٰذا جس چیز کو پیغمبر س نے تشریع نہیں کیا ہے ہم کیوں اسے اذان میں کہیں؟

مالک موطا میں اس سلسلہ میں لکھتے ہیں: "ان الموذن جاء الی عمر بن الخطاب یوذنہ لصلاۃ الصبح فوجدہ نائما فقال: الصلاۃ خیر من النوم فامرہ ان یجعل فی نداءالصبح؛ موذن عمر کے پاس آیا تاکہ اسے نماز صبح کے وقت سے باخبر کرے اس نے عمر کو سوتا ہوا پایا اس نے کہا: "الصلاۃ خیر من النوم" اس کے بعد عمر نے اسے حکم دیا آج کے بعد اس جملہ کو اذان صبح میں شامل کرو۔[8]

البتہ بعض تابعین ایسے بھی تھے جنھوں نے حضرت عمر کے اس حکم کو نہیں مانا۔ یہاں تک کہ خود عبداللہ ابن عمر خلیفہ کے بیٹے بھی اپنے والد کے حکم کے پابند نہیں تھے۔ ابن ابی شیبہ کی نقل کے مطابق "انہ کان یقول فی اذانہ : "الصلاۃ خیر من النوم"  و ربما قال: "حی علی خیر العمل" ابن عمر کبھی جملہ "الصلاۃ خیر من النوم"  کہتے تھے اور کبھی "حی علی خیر العمل"[9]     

اسی لئے بعض اہل سنت فقھاء بھی اذان میں "الصلاۃ خیر من النوم" کہنا مناسب نہیں سمجھتے ہیں۔

ابن حزم المحلی میں اس سلسلہ میں لکھتے ہیں: "لم یثبت ھٰذا اللفظ عن النبی (ص) فیما علم بلالا و ابا محذورہ و نحن نکرہ الزیادۃ فیہ؛ اس طرح کا جملہ "الصلاۃ خیر من النوم"بلال اور ابو محذورہ کو دی گئی پیغمبر اکرم ص تعلیمات میں نہیں ملتا اور ہم اذان میں کسی بھی لفظ کے اضافہ کے قائل نہیں ہیں۔[10]

 

 

نتیجہ:

شیعہ جو اذان میں حی علی خیر العمل کہنے اور "الصلاۃ خیر من النوم"  کو ترک کرنے کے قائل ہیں وہ علمی اور اصولی مناہج کے مطابق ہے اور اہل سنت کی تاریخی اور روائی اسناد بھی اسی کی گواہی دیتی ہیں۔ یہ دوسروں کو جواب دینا چاہیے کہ کیوں وہ اذان میں ایسا  جملہ کہتے ہیں جس کا پیغمبر ص کے زمانہ میں اصلا وجود ہی نہیں تھا؟

کیوں انھوں نے پیغمبر ص کے تعلیم کردہ جملہ حی علی خیر العمل کو حذف کردیا؟

مطالعہ کے لئے مزید کتب:

شبہات غدیر؛ج2؛ سید مجتبی عصیری

 

 

 

 

تحریر : استاد رستمی نژاد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔   ترجمہ اعجاز حیدر۔

 

 


 


[1][1] ۔ آگے ان میں سے بعض روایات کو ذکر کیا جائے گا۔

[2] ۔ المصنف ج1، ص 464؛ کنزالعمال، ج8، ص 161۔

[3] ۔ المصنف ج1، ص 464؛

[4] ۔ کنزالعمال، ج8، ص 161۔

[5] ۔لسان المیزان،ج1، ص 268۔

[6] ۔نصب الرایۃ، ج1، ص 290۔

[7] ۔مصنف ابن ابی شیبہ، ج1، ص 195؛ سنن کبری،بیہقی،ج1،ص424۔

[8] ۔ الموطاء، ج1 ص72۔

[9] ۔ المصنف، ج1 ص195۔

[10] ۔ السنن الکبریٰ، ج1، ص 425 





Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی