2021 March 7
کس نے ابوبکر کو «صديق» اور عمر کو «فاروق» کا لقب دیا ہے ؟
مندرجات: ١٨٥٥ تاریخ اشاعت: ٠٤ February ٢٠٢١ - ١٢:٠٤ مشاہدات: 224
سوال و جواب » سنی
کس نے ابوبکر کو «صديق» اور عمر کو «فاروق» کا لقب دیا ہے ؟

 سوال کرنے والا : امینی

جواب  :

اہل سنت کی صحیح سند روایات کے مطابق یہ دو پربرکت  القاب امیر المومنین علیہ السلام سے  خاص  ہیں لیکن بنی امیہ کی فکر اور سیاست کی وجہ اسے ان دو القاب اوربعض دوسرے فضائل کو باقی خلفاء کے لئے استعمال اور نقل کیا ہے؛ ہم اس سلسلے میں چند روایات کی طرف اشارہ کرتے ہیں ۔

1 . اهل سنت کے بہت سے علماء نے اس روایت کو نقل کیا ہے ان میں سے ایک ابن ماجه قزويني ہیں انہوں نے اپنی کتاب السنن میں جو اہل سنت کی چھے صحیح کتب  میں سے ایک ہے ، اس میں صحیح سند روایت کے ساتھ نقل کیا ہے ۔

عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ عَلِيٌّ أَنَا عَبْدُ اللَّهِ وَأَخُو رَسُولِهِ صَلَّي اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا الصِّدِّيقُ الْأَكْبَرُ لَا يَقُولُهَا بَعْدِي إِلَّا كَذَّابٌ صَلَّيْتُ قَبْلَ النَّاسِ بِسَبْعِ سِنِينَ .

سنن ابن ماجة ، ج1 ، ص 44 ، و البداية والنهاية ، ج3 ، ص 26 و المستدرك ، حاكم نيشابوري ، ج3 ، ص 112 وتلخيص آن ، تأليف ذهبي در حاشيه همان صفحه ، و تاريخ طبري ، ج2 ، ص 56 ، والكامل ، ابن الاثير ، ج2 ، ص 57 و فرائد السمطين ، حمويني ، ج 1 ص 248 و الخصائص ، نسائي ، ص 46 با سندي كه تمام روات آن ثقه هستند ، و تذكرة الخواص ، ابن جوزي ، ص 108 و ده ها سند ديگر .

عباد بن عبد الله کہتے ہیں: علي عليه السلام نے فرمایا : میں اللہ کا بندہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بھائی اور  صديق اكبر ہوں ،میرے بعد جو بھی اپنے آپ کو اس لقب سے پکارے گا وہ جھوٹاہوگا ۔میں نے دوسروں سے سات سال پہلے نماز ادا کی ہے ۔

اہل سنت کا ایک عالم جوسنن ابن ماجه کا محقق بھی ہیں کہتے ہیں:

في الزوائد : هذا إسناد صحيح . رجاله ثقات . رواه الحاكم في المستدرك عن المنهال . وقال : صحيح علي شرط الشيخين .

(بوصيری) نے زوائد میں (سنن ابن ماجة) کی اس روایت کو نقل کیا ہے اور کہا ہے : اس روایت کی سند صحیح ہے اور اس کے  سارے روات قابل اعتماد ہیں " . حاكم نيشابوري نے بھی اس کو نقل کیا ہے  اور کہا ہے : یہ روایت امام  بخاری اور مسلم کی شرائط کے مطابق صحیح ہے ۔

2 . ابن قتيبه دينوري نے اپنی كتاب المعارف میں لکھا ہے  :

عن معاذة بنت عبد الله العدوية سمعت علي بن أبي طالب علي منبر البصرة وهو يقول أنا الصديق الأكبر آمنت قبل ان يؤمن أبو بكر وأسلمت قبل أن يسلم أبو بكر .

المعارف - ابن قتيبة - ص 169 و تهذيب الكمال - المزي - ج 12 - ص 18 - 19 و البداية والنهاية - ابن كثير - ج 7 - ص 370 و ... .

عبد الله کی بیٹی معاذه کہتی ہے : میں نے علي بن أبي طالب عليه السلام سے سنا ہے کہ آپ منبربصرہ پر فرما رہے تھے میں صدیق اکبر ہوں میں نے ابوبکر سے پہلے اسلام قبول کیا ہےاور ایمان لایا .

3 . ابن مردويه اصفهاني نے اپنی کتاب مناقب میں  ؛ فخررازي ، آلوسي ، أبو حيان و جلال الدين سيوطي نے اپنی اپنی تفسیروں میں ، متقي هندي نے كنز العمال میں ، مناوي نے  فيض القدير  اور دوسروں نے ... نقل کیا ہے کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:

" الصديقون ثلاثة : حبيب النجار مؤمن آل ياسين ، وحزبيل مؤمن آل فرعون ، وعلي بن أبي طالب الثالث ، وهو أفضلهم .

مناقب علي بن أبي طالب (ع) وما نزل من القرآن في علي (ع) - أبي بكر أحمد بن موسي ابن مردويه الأصفهاني - ص 331 و الجامع الصغير - جلال الدين السيوطي - ج 2 - ص 115 و كنز العمال - المتقي الهندي - ج 11 - ص 601 و فيض القدير شرح الجامع الصغير - المناوي - ج 4 - ص 313 و تفسير الرازي - الرازي - ج 27 - ص 57 و تفسير البحر المحيط - أبي حيان الأندلسي - ج 7 - ص 442 و تفسير الآلوسي - الآلوسي - ج 16 - ص 145 و تاريخ مدينة دمشق - ابن عساكر - ج 42 - ص 43 و ج 42 - ص 313 و المناقب - الموفق الخوارزمي - ص 310 و ...

رسول اللہ کے فرمان کے مطابق سچے افراد تین ہیں :

 حبيب نجار{مؤمن آل ياسين }، حزقيل مؤمن آل فرعون ، اور علي بن أبي طالب عليه السلام کہ جو ان دونوں سے افضل ہیں  .

اب اگر صدیق، ابوبکر کا لقب ہوتا تو پیغمبر ص اس کو بیان فرماتے اور الصديقون ثلاثة ،سچے تین ہیں ،  کے بجائے فرماتے  : « الصديقون اربعة » سچے چار ہیں ،اور ابوبکر کو بھی ان میں شامل کرتے۔

لہذا ابوبکر کوصدیق کا لقب دینا پیغمبر ص کی اس حدیث کے ساتھ سازگار نہیں ہے۔

قابل توجہ بات یہ ہے کہ جلال الدين سيوطي ،کہ جو اہل سنت کے مشہور مفسر اور ادیب ہیں انہوں نے" الدر المنثور" میں  اور قندوزي حنفي نے ينابيع المودة میں  اسی روایت کو معمولی اختلاف کے ساتھ بخاری کی تاریخ کی کتاب سے نقل کیا ہے :

وأخرج البخاري في تاريخه عن ابن عباس قال قال رسول الله صلي الله عليه وسلم الصديقون ثلاثة حزقيل مؤمن آل فرعون وحبيب النجار صاحب آل ياسين وعلي بن أبي طالب .

الدر المنثور - جلال الدين السيوطي - ج 5 - ص 262 و ينابيع المودة لذوي القربي - القندوزي - ج 2 - ص 400

لیکن جب ہم بخاری کی کتاب تاریخ صغیر اور کبیر کی طرف رجوع کرتے ہیں تو اس روایت کو ان کتابوں میں نہیں پاتے  اور  یہ امیر المومنین ع پر روا رکھنے والے مظالم میں سے ایک ہے ، آپ کے دشمن یہ کوشش کرتے تھے کہ کسی طریقے سے امیر المومنین ع کے خصوصی فضائل کو لوگوں کی نظروں سے دور رکھا جائے ۔لیکن یہ ان لوگوں کی ناکام کوشش ہے کیونکہ ان سے پہلے انہیں کے علماء نے اس روایت کو نقل کیا ہے ۔

اہل سنت کے علماء نے ان دو القاب کو ابوبکر اور عمر کے القاب ہونے کی تردید کی ہے :

بہت سے اہل سنت  علماء کا اعتراف کیا ہے اورابوبکر اور عمر کے بارے میں موجود روایت کو جعلی قراردیاہے اور صدیق اورکہا ہے کہ فاروق کو ان کے القاب میں سے ہونے کی تردید کی ہے،جیساکہ اهل سنت کے مشہور عالم ابن جوزی نے اپنی کتاب الموضوعات میں لکھا ہے  :

عن أبي الدرداء عن النبي صلي الله عليه وسلم قال : «رأيت ليلة أسري بي في العرش فرندة خضراء فيها مكتوب بنور أبيض : لا إله إلا الله محمد رسول الله أبو بكر الصديق عمر الفاروق».

أبي درداء نے  پيغمبر اسلام صلي الله عليه وآله وسلم سے نقل کیا ہے کہ آنحضرت نے فرمایا :  شب معراج دیکھا کہ اللہ کے عرش پر سبز تختے پر سفید رنگ سے لکھا ہوا تھا :« اللہ  کے علاوہ کوئی معبود نہیں ، محمد صلي الله عليه وآله وسلم اللہ کے رسول ہیں ، ابوبكر صديق اورعمر فاروق ہے ! .

ابن جوزی اس روایت کو نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں  :

هذا حديث لا يصحّ ، والمتّهم به عمر بن إسماعيل قال يحيي : ليس بشئ كذّاب ، دجال ، سوء ، خبيث ، وقال النسائي والدارقطني : متروك الحديث .

الموضوعات ، ابن جوزي ، ج1 ، ص 327 .

حديث صحيح نہیں ہے اور جو اس روایت کے جعل کرنے کے سلسلے میں متہم ہے وہ  عمر بن اسماعيل ہے . يحيي بن معين نے اس کے بارے میں لکھا ہے : اس کی باتوں کی کوئی قیمت نہیں وہ جھوٹا انسان ہے  ، ایک برا اور خبیث انسان ہے  . نسائي اور دارقطني نے کہا ہے  : اس کی حدیث متروک ہے .

دوسری جگہ لکھتے ہیں :

هذا باطل موضوع وعلي بن جميل كان يضع الحديث ... .

الموضوعات ، ابن جوزي ، ج1 ، ص 336 .

یہ روایت جعلی ہے علی ابن جمیل روایت جعل کرتا تھا۔

ایک اور جگہ کہتے ہیں  :

هذا حديث لا يصح عن رسول الله صلي الله عليه وسلم . وأبو بكر الصوفي ومحمد بن مجيب كذابان ، قاله يحيي بن معين .

الموضوعات ، ج1 ، ص337 .

اس حدیث کا رسول خدا صلي الله عليه وآله وسلم سے نقل ہونا صحیح نہیں ہے  ؛ کیونکہ ابوبكر صوفي اور  محمد بن مجيب دونوں جھوٹے ہیں ، یہ یحیی بن معین کی بات ہے ۔

هيثمي نے بھی اس کے بارے میں کہا ہے :

رواه الطبراني وفيه علي بن جميل الرقي وهو ضعيف .

مجمع الزوائد ، الهيثمي ، ج9 ، ص58 .

اس روایت کو طبرانی نے بھی نقل کیا ہے اور اس کی سند میں  علي بن جميل رقي ہے اور وہ ضعیف ہے .

 متقي هندي نے بھی اس کو نقل کرنے کے بعد کہا ہے  :

  وفيه محمد بن عامر كذّاب

كنز العمال ، ج13 ، ص236 .

اس کو ابن عساكر نے نقل کیا ہے اور اس کی سند میں محمد بن عامر ، ہے جو جھوٹا آدمی ہے  .

ابن حبان نے اس سلسلے میں دو روایتیں نقل کرنے کے بعد لکھا ہے  :

وهذان خبران باطلان موضوعان لا شكّ فيه ، وله مثل هذا، أشياء كثيرة يطول الكتاب بذكرها .

كتاب المجروحين ، ج ج2 ، ص116.

اس میں شک نہیں ہے کہ یہ دو روایات جعلی اور جھوٹی ہیں ۔۔ .

ابن حجر عسقلاني اور  شمس الدين ذهبي نے بھی اس روایت کو نقل کرنے کے بعد کہا ہے  :

هذا باطل ، والمتهم به حسين .

ميزان الاعتدال ، ذهبي ، ج1 ، ص540 و لسان الميزان ، ابن حجر ، ج2 ، ص295 .

یہ روایت باطل ہے اور جس پر اس کو جعل کرنے کا الزام ہے وہ حسین ہے۔

  ابن كثير دمشقي سلفي نے اس سلسلے میں کہا ہے  :

فإنّه حديث ضعيف في إسناده من تكلم فيه ولا يخلو من نكارة ، والله أعلم .

البداية والنهاية ، ج7 ، ص230 .

یہ حدیث ضعیف ہے اس کی سند میں ایسا آدمی ہے جس کے خلاف علماء نے بات کی ہے اور اس کی باتیں منکرات سے خالی نہیں ہیں.

سب سے پہلے اہل کتاب نے عمر بن خطاب کو فاروق کہا :

محمد بن سعد نے  الطبقات الكبري میں، ابن عساكر نے تاريخ مدينة دمشق میں ، ابن اثير نے  اسد الغابة میں اور محمد بن جرير طبري نے اپنی تاریخ میں نقل کیا ہے  :

قال بن شهاب بلغنا أن أهل الكتاب كانوا أول من قال لعمر الفاروق وكان المسلمون يأثرون ذلك من قولهم ولم يبلغنا أن رسول الله صلي الله عليه وسلم ذكر من ذلك شيئا .

الطبقات الكبري - محمد بن سعد - ج 3 - ص 270 و تاريخ مدينة دمشق - ابن عساكر - ج 44 - ص 51 و تاريخ الطبري - الطبري - ج 3 - ص 267 و أسد الغابة - ابن الأثير - ج 4 - ص 57 .

ابن شهاب کہتا ہے  : ہم تک اس طرح بات پہنچی ہے کہ اہل کتاب نے سب سے پہلے عمر کو فاروق کا لقب دیا اور مسلمان ان کی باتوں سے متاثر ہوئے اور  عمر کو اس لقب سے یاد کیا اور پیغمبر سے اس سلسلے میں کوئی بات ہم تک نہیں پہنچی ہے ۔

  ابن كثير دمشقي سلفي نے اپنی اہم کتاب  البداية والنهاية میں عمر بن الخطاب کا زندگی نامہ  میں  لکھا ہے  :

عمر بن الخطاب بن نفيل بن عبد العزي ... أبو حفص العدوي ، الملقب بالفاروق قيل لقبه بذلك أهل الكتاب

البداية والنهاية - ابن كثير - ج 7 - ص 150 .

عمر بن الخطاب ... جس کو لقب فاروق ہے ، کہتے ہیں اہل کتاب نے سب سے پہلے یہ لقب انہیں دیا ۔

نتیجہ : «صديق» کا لقب  امير المؤمنين کے ساتھ مختص لقب ہے اور اهل سنت کے علماء نے ابوبکر کے سلسلے میں پیغمبر سے جو مطلب اس لقب کے بارے میں نقل کیا ہے وہ سب جعلی اور جوٹھی ہیں  ۔اسی طرح  «فاروق» کا لقب بھی  امير المؤمنين علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے القاب میں سے ہے اور اہل کتاب نے خلیفہ دوم کو یہ لقب تحفے میں دیا ہے ۔

 
 




Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی