2021 March 7
کیا شیعوں کے پاس موجودہ قرآن کے علاوہ اور بھی قرآن بنام " مصحف فاطمہ" اور "مصحف علیؑ" ہیں ؟؟
مندرجات: ١٨٥٠ تاریخ اشاعت: ٠٢ February ٢٠٢١ - ١٧:٥٣ مشاہدات: 164
یاداشتیں » پبلک
مصحف حضرت علیؑ و فاطمہؑ
کیا شیعوں کے پاس موجودہ قرآن کے علاوہ اور بھی قرآن بنام " مصحف فاطمہ" اور "مصحف علیؑ" ہیں ؟؟

اعتراض:

شیعوں کے پاس موجودہ قرآن کے علاوہ اور بھی قرآن  بنام " مصحف فاطمہ" اور "مصحف علیؑ" ہیں۔[1]

تحلیل اور جائزہ

اس بارے میں چند نکتے قابل توجہ ہے:

پہلا نکتہ:

اعتراض کرنے والے نے یہ سوچا ہے کہ  مصحف سے مراد "قرآن" ہے۔ حالانکہ یہ لفظ "صحیفہ" سے ماخوذ ہے اور ہر قسم کی تحریر اور کتاب کو مصحف کہا جاتا ہے۔

جیسا کہ قرآن میں بیان ہوا ہے : وَ إِذَا الصُّحُفُ نُشِرَتْ، اور جب اعمال نامے کھول دیے جائیں گے۔"[2]

 اسی طرح قرآن میں بیان ہوا ہے : إِنَّ هَذَا لَفِى الصُّحُفِ الْأُولىَ‏ صحُفِ إِبْرَاهِيمَ وَ مُوسى‏ ، پہلے صحیفوں میں بھی یہ بات(مرقوم) ہے۔ ابراہیم اور موسیٰ کے صحیفوں میں۔[3]

اسی طرح" مصحف" کا لفظ ابتدائے اسلام میں جلد والی کتاب کے لیے استعمال ہوتا تھا۔ جیسا کہ ابن عساکر نے اس بارے میں ابو داؤد سجستانی سے نقل کیا ہے:

"اقسم علی علی ان لا یرتدی الرداء الا لجمعۃ  حتی یجمع القرآن فی مصحف، حضرت علیؑ نے قسم کھا کر کہا کہ چادر کندھوں پر نہیں اوڑھوں گا مگر نمازجمعہ کے لیے، یہاں تک کہ قرآن کو ایک جلد والی مصحف میں جمع کر دوں۔"[4]

یہ جملہ اس بات کی علامت ہے کہ اس زمانے میں مصحف کا لفظ ایک بڑی کاپی یا مجلد کتاب کے لیے استعمال ہوتا تھا جو کتاب کے اوراق کو بکھرنے سے روکتی تھی۔

اسی طرح ابو العالیہ سے نقل ہوا ہے  کہ وہ کہتا ہے:" ان عمر بن خطاب۔۔۔۔ امر بجمع القرآن و اول من کان جمعہ فی المصحف، عمر بن خطاب نے جمع قرآن کا حکم دیا، وہ پہلا شخص ہے جس نے قرآن کو ایک مصحف میں جمع کیا۔"[5]

البتہ آخری صدیوں میں کچھ عرصے تک مصحف کا لفظ قرآن کے مترادف کے طور پر استعمال ہوتا تھا لیکن یہ اس بات کی دلیل نہیں کہ پہلی صدی میں بھی مصحف اسی معنی میں استعمال ہوتا تھا۔

 قابل توجہ بات یہ کہ مصحف کا لفظ فریقین کی احادیث  میں کتاب(مکتوب تحریر) کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ بیھقی، ام سلمہ ازدی سے نقل کرتا ہے:" رائت عائشہ تقراء فی المصحف، عائشہ کو دیکھا جو قرآن کو مصحف( مکتوب تحریر) سے پڑھ رہی تھیں"[6]

ثقۃ الاسلام کلینی نے اصول کافی میں امام صادق ؑ سے روایت نقل کیا ہے: من قراء القرآن فی المصحف یتمتع ببصرہ، جو کوئی بھی قرآن کو مصحف(مکتوب تحریر) سے پڑھے گا، اپنی آنکھ سے فایدہ اٹھائے گا۔[7]

ان جملوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اس زمانے میں مصحف،  کتاب یا کاپی  جس میں لوگ لکھتے تھے کو کہا جاتا تھا، لیکن بعد میں یہ لفظ قرآن کے معنی میں استعمال ہونے لگا۔

دوسرا نکتہ:

حضرت علی کے مصحف کے بارے میں یہ نکتہ قابل توجہ ہے کہ ابتدائے اسلام میں بزرگ صحابی جیسے  عبداللہ بن مسعود، عبداللہ بن عباس اور حضرت علیؑ نے موجودہ قرآن کو جمع کیا کہ ان میں سے ہر ایک مصحف سورتوں کو جمع کرنے کی کیفیت میں مختلف تھے۔[8] مثلا جس قرآن کو حضرت علیؑ نے جمع کیا تھا وہ  ترتیب نزول کے مطابق تھا اور اس کے حاشیے میں آیات کی تفسیر بیان ہوئی تھی۔[9]

یعقوبی لکھتے ہیں۔ حضرت علی نے پیغمبرﷺ کی رحلت کے بعد قرآن کو جمع اور اسے سات حصوں میں تقسیم کیا ۔[10]

قابل توجہ نکتہ یہ ہے کہ  ان مصحفوں اور موجودہ قرآن کے درمیان سورتوں اور آیات کی تعداد کے لحاظ سے کوئی اختلاف نہیں ہے۔ فرق صرف سورتوں کی تقدیم و تاخیر اور حاشیے میں لکھے گئے تفسیری نکات میں تھا لہذا ان مصحفوں کی موجودگی  اور عدم تحریف قرآن  کے درمیان کوئی تصادم نہیں۔

اب وہابیوں سے سوال کیا جائے کہ فریقین کے ماخذ میں مصحف ابن مسعود، مصحف ابن عباس، مصحف عثمانی، مصحف ابی بن کعب وغیرہ کے بارے میں بیان ہوا ہے۔کیا کوئی یہ کہتا ہے کہ ان کے قرآنوں اور موجودہ قرآن میں فرق تھا؟ کیا کوئی یہ کہتا ہے کہ اہل سنت چند قرآن کے قائل ہیں؟ کیا کوئی یہ دعوا کرتا ہے کہ اہل سنت کے ہاں کوئی اور قرآن ہے؟ جب شیعہ امام علیؑ کے مصحف بارے میں یہی بات کرتے ہیں تو ان پر تحریف قرآن کا الزام لگاتے ہیں۔

تیسرا نکتہ:

 سلیم بن قیس کی روایت کے مطابق عثمان کی خلافت کے دور میں مصحفوں   کی قرائتوں میں اختلاف کچھ مشکلات کا باعث بنا تھا۔ لہذا طلحہ نے حضرت علیؑ سے درخواست کی کہ وہ مصحف جسے آپ نے رسول اکرم ﷺ کی وفات کے جمع کیا تھا لوگوں کے اختیار میں قرار دیا جائے۔ لیکن حضرت علیؑ نے یہ درخواست قبول نہیں کیا۔ اور طلحہ کے اصرار کے جواب میں فرمایا:

"اخبرنی عما کتب القوم، اقرآن کلہ ام فیہ ما لیس بقرآن؟ یہ بتاؤ جو کچھ انہوں نے لکھا ہے وہی قرآن ہے یا اس میں کوئی اور چیز اضافہ کیا گیا ہے؟ طلحہ نے جواب دیا: بلکہ سب یہی قرآن ہے۔ امامؑ نے فرمایا:"ان اخذتم بما فیہ نجوتم من النار و دخلتم الجنۃ، جو کچھ اس میں لکھا گیا ہے اس سے استفادہ کرو تو آگ سے نجات پیدا کروگے اور جنت میں داخل ہوجاؤگے۔[11] اس روایت سے پتہ چلتا ہے کہ حضرت علیؑ، موجودہ قرآن کے علاوہ کسی اور قرآن کے قائل نہ تھے۔

قابل توجہ بات یہ ہے کہ حضرت علیؑ کے مصحف( مکتوب قرآن) کے علاوہ بھی حدیث کی کتابیں " کتاب علی" اور " صحیفہ علی"  کے نام سے موجود تھیں۔ ان کتب میں رسول خدا سے منقول احادیث تھیں جنہیں رسول اکرم ﷺ نے املاء اور حضرت علیؑ نے تحریر کیے تھے۔یہ کتابیں اہل بیتؑ کے پاس تھیں۔ تاریخی بیان کے مطابق، ائمہؑ بعض موقعوں پر ان کتب سے استفادہ کرتے تھے۔[12]

چوتھا نکتہ:

مصحف حضرت فاطمہؑ کا قرآن سے کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ اس کتاب میں ایسی احادیث ہیں جسے انہوں نے پیغمبرﷺ یا فرشتہ(کیونکہ آپ محدثہ تھیں) سے سنیں تھیں۔

امام صادق ؑ مصحف فاطمہؑ کے بارے میں فرماتے ہیں: "اس میں ایک لفظ بھی قرآن سے نہیں ہے بلکہ املائے رسول خداﷺ، خط امام علیؑ کے ساتھ ہے۔[13]

اسی طرح فرماتے ہیں:

"واللہ ما فیہ من قرآنکم حرف واحد، قلت: ھذا واللہ العلم؟ قال : انّہ لعلم  و ما ھو بذاک ، اللہ کی قسم! تمہارے قرآن کا ایک لفظ بھی اس میں نہیں ہے۔ راوی کہتا ہے میں نے سوال کیا: کیا اس میں علم ہے؟ فرمایا: ہاں۔ لیکن  عام علوم اس میں نہیں ہے۔"[14]

مسلمان دانشوروں کا مسلمہ عقیدہ ہے کہ انسان کامل ایسے درجے پر پہنچتا ہے کہ وحی تشریعی ان پر نہیں ہوتی اس کے باوجود وہ فرشتوں کے کلام کو سنتا ہے۔ فریقین کی روایات میں انہیں" محدَّث" کہا جاتا ہے۔

جناب کلینی نے امام صادق سے روایت کی ہے: " جب اللہ نے اپنی نبی کی روح قبض کرلیا، حضرت فاطمہ بہت غمگین ہوئیں۔ اللہ نے ان کی تسلی کے لیے ایک فرشتہ بھیجا۔ فرشتہ آتا حضرت فاطمہؑ سے باتیں کرتا آپ حضرت امام علیؑ کو بتاتیں ۔ حضرت علیؑ نے فرمایا جب بھی یہ فرشتہ آئے مجھے بلانا تاکہ جو کچھ وہ بتائے میں لکھوں، یہ باتیں حضرت علیؑ کے توسط ایک کاپی میں لکھیں گئیں۔ اور وہ یہی "مصحف فاطمہؑ" ہے اس میں حلال و حرام سے متعلق کوئی بات نہیں ہے بلکہ آئندہ کے بارے میں کچھ پیش گوئیاں ہیں۔[15]

 

 

 

 

 

نتیجہ:

ابتدائے اسلام میں بعض صحابہ نے قرآن کو جمع کیا ان کے مکتوبات انہیں کے ناموں سے مشہور ہوئے جیسے مصحف عبداللہ بن مسعود، مصحف ابی بن کعب، مصحف زید وغیرہ۔

اس زمانے میں قرآن کو جمع کرنے والوں میں حضرت علیؑ بھی تھے ان  کا جمع کردہ قرآن"مصحف علی " کے نام سے مشہورہوا۔ اہم نکتہ یہ ہے کہ یہ تمام مصحفیں موجودہ قرآن کے  نسخے تھے۔ لیکن وہابی مصحف علیؑ کو بہانہ بناکر شیعوں پر الزام لگاتے ہیں کہ شیعہ موجودہ قرآن کے علاوہ کسی اور قرآن کو مانتے ہیں۔ جبکہ حقیقت کچھ اور ہے۔

مصحف فاطمہؑ حدیث کی کتاب ہے اور قرآن سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔

مزید مطالعہ کے لیے کتب

التمہید فی علوم القرآن ج1،  ہادی معرفت

راہنمائے حقیقت، جعفر سبحانی

پاسخ جوان شیعہ بہ پرسش ہای وہابیان، محمد طبری

تحریر کرنے والا : استاد رستمی نژاد۔۔۔۔۔۔ ترجمہ اعجاز حیدر



[1] ۔الشیعہ و السنۃ ج 1ص 78-79

[2] .سورہ تکویر/10

[3] ۔اعلی/18-19

[4] ۔ تاریخ مدینہ دمشق ج 42ص 298

[5] ۔المصاحف ج 1ص60

[6] ۔السنن الکبری ج 2ص 326

[7] ۔اصول کافی ج 2ص 613

[8] ۔ الاتقان فی علوم القران ج 1 ص220-230

[9] ۔تاریخ مدینہ دمشق ج 42، ص298،الاتقان فی علوم القرآن ج 1ص 220

[10] ۔تاریخ یعقوبی ج 2 ص135

[11] ۔کتاب سلیم بن قیس ہلالی، ج2ص659، بحار الانوار ج 89 ص49

[12] ۔رجال نجاشی، ترجمہ 967

[13] ۔بصائر الدرجات فی فضائل آل محمد ج 1ص153

[14] ۔الکافی ج 1ص239

[15] ۔ اصول کافی ج1 ص 240" عن حماد بن عثمان قال: سمعت اباعبداللہ  یقول: "تظھر الزنادقہ فی سنۃ ثمان و عشرین و مائۃ ذالک انّی نظرت فی مصحف فاطمہ قال: قلت: و ما مصحف فاطمہ؟ قال: ان اللہ تعالی لمّا قبض نبیّہ دخل علی فاطمۃ من وفاتہ من الحزن ما لا یعلمہ الا عزوجل ، فارسل اللہ الیھا ملکا یسلیّ غمّھا و یحدّثھا فشکت ذلک الی امیر المؤمنین یکتب کل ما سمع حتی اثبت من ذلک مصحفا ۔ قال: اما انٌّہ لیس فی شیء من الحلال  والحرام  و لکن فیہ علم ما یکون"۔





Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی