2021 October 21
حضرت علی [علیہ السلام] کی شہادت پر عائشہ کی خوشی
مندرجات: ١٧٩ تاریخ اشاعت: ٢١ November ٢٠١٦ - ١٦:١٧ مشاہدات: 2946
تصویری دستاویز » پبلک
حضرت علی [علیہ السلام] کی شہادت پر عائشہ کی خوشی

 

 

 

ابن سعد نے اس سلسلہ میں یوں لکھا:

 فبلغ ذلك عائشة فقالت: 

فألقت عصاها واستقرت بها النوى     كما قر عينا بالإياب المسافر  

 جس وقت حضرت علی علیہ السلام کی شہادت کی خبر عائشہ کو ملی، تو عائشہ نے یہ شعر پڑھا:

اس عورت نے خوشی سے، اپنے عصاء کو پھینک دیا اور اپنی جگہ پرسکون ہوگئی۔ جیسے مسافر، سفر سے پلٹ کر خوش ہوتا ہے اور سکون کی سانس لیتا ہے۔


الطبقات الكبرى  ج 3 ص 38





Share
1 | عائشہ | | ٢٠:٠٤ - ٢٦ August ٢٠٢٠ |
کچھ اللہ کا خوف کریں۔۔۔ اتنی بڑی بہتان لگاتے آپ کا دل نہیں کانپا۔۔۔ لانت ہے آپ پر۔۔۔۔ اللّٰہ سبحان و تعالیٰ کو کیا جواب دیں گے۔۔۔۔ آپ جیسے گندے لوگوں نے شیعہ سنی میں تفرقے ڈالے ہوئے ہیں۔۔۔۔ کروڑ بار لانت آپ پر اور آپ کی گندی سوچ پر۔

جواب:
 سلام علیکم ۔۔
اگر اپ دلیل کے ساتھ بات کریں تو زیادہ بہتر ہے دوچار سخت الفاظ استعمال کرنے سے کچھ نتیجہ سامنے نہیں آتا ۔۔۔
2 | عائشہ | | ٢٠:٠٤ - ٢٦ August ٢٠٢٠ |
کچھ اللہ کا خوف کریں۔۔۔ اتنی بڑی بہتان لگاتے آپ کا دل نہیں کانپا۔۔۔ لانت ہے آپ پر۔۔۔۔ اللّٰہ سبحان و تعالیٰ کو کیا جواب دیں گے۔۔۔۔ آپ جیسے گندے لوگوں نے شیعہ سنی میں تفرقے ڈالے ہوئے ہیں۔۔۔۔ کروڑ بار لانت آپ پر اور آپ کی گندی سوچ پر۔

جواب:
جناب ایک تو آپ کی غلط فہمی ہے کہ اپ اس کو شیعوں کا بہتان کہہ رہا ہے ۔یہ کسی شیعہ کتاب کا حوالہ نہیں ہے ،بلکہ اہل سنت کی کتاب کا حوالہ ہے لہذا آپ لوگ خود ہی جواب دہ ہیں ۔جناب یہ تو ایک سند کے اس کے دسوں  سند اپ کی کتابوں میں موجود ہیں۔۔۔جناب جس نے جنگ کی اور ہزاروں مسلمان جنگ جمل میں مارے گئے لہذا جو جنگ کرنے میں قباحت نہیں دیکھتی وہ کیا اپنے اس رقیب کے مرنے پر غم کا اظہار کرئے ۔۔۔  
3 | عائشہ | | ٢٠:٠٤ - ٢٦ August ٢٠٢٠ |
کچھ اللہ کا خوف کریں۔۔۔ اتنی بڑی بہتان لگاتے آپ کا دل نہیں کانپا۔۔۔ لانت ہے آپ پر۔۔۔۔ اللّٰہ سبحان و تعالیٰ کو کیا جواب دیں گے۔۔۔۔ آپ جیسے گندے لوگوں نے شیعہ سنی میں تفرقے ڈالے ہوئے ہیں۔۔۔۔ کروڑ بار لانت آپ پر اور آپ کی گندی سوچ پر۔

جواب:
جناب یہ تو ایک سند ہے اور وہ بھی اہل سنت کی کتاب کی سند ہے اس قسم کے اور بھی بہت سے اسناد ہم اہل سنت کی کتابوں سے پیش کرسکتے ہیں لہذا اس کو شیعوں کا بہتان کہہ کر نظر انداز کرنے کی کوشش نہ کریں ۔ جناب جو ان سے جنگ کرنے اور انہیں قتل کرنے کے لئے لشکرکشی کرئے اور اس جنگ کے نتیجے میں ہزاروں مسلمانوں کا خون بہائے تو کیا اپنے اس سیاسی رقیب جس کے ہاتھ شکست کھائی ، کیا اس کے مرنے پر غم کا اظہار کرئے  گی ؟
4 | عائشہ | | ٢٠:٠٤ - ٢٦ August ٢٠٢٠ |
کچھ اللہ کا خوف کریں۔۔۔ اتنی بڑی بہتان لگاتے آپ کا دل نہیں کانپا۔۔۔ لانت ہے آپ پر۔۔۔۔ اللّٰہ سبحان و تعالیٰ کو کیا جواب دیں گے۔۔۔۔ آپ جیسے گندے لوگوں نے شیعہ سنی میں تفرقے ڈالے ہوئے ہیں۔۔۔۔ کروڑ بار لانت آپ پر اور آپ کی گندی سوچ پر۔
5 | شاکر | | ٠٤:٣١ - ٠٣ May ٢٠٢١ |
استغفراللہ لعنت بہتان لگان والے پر۔۔

جواب:
 جناب  ؛  سند اھل سنت کی کتابوں سے پیش کی گئی ہے اب اگر بہتان ہے تو شیعوں کی طرف سے نہیں ہے بلکہ اھل سنت کی طرف سے ہی ہے ۔۔۔
 
یہاں یہ  بات بھی  قابل توجہ ہے کہ جناب عائشہ کا مولا علی سے  رویہ اچھا تو نہیں تھا ۔۔۔ جنگ جمل سے پہلے اور جنگ جمل کے بعد یہ بات ثابت ہے کہ جناب عائشہ ان کے بارے میں منفی رویہ رکھتی تھی ۔
جنگ کی نوبت آنے کا مطلب یہی تو ہے ، کبھی اس جنگ کی وجہ سے مولا علی سے معزرت خواہی نہیں کی ۔۔۔ 
اھل سنت کی کتابوں میں ہے کہ جناب عائشہ آپ کے ساتھ سوتن جیسا رفتار رکھتی تھی ۔۔
 
«واللّه‏ ما کان بینی و بین علیّ فی القدیم إلاّ ما یکون بین المرأة و أحمائها».

طبرى، تاریخ الأمم و الملوک: ج 3، ص 60 ـ 61، حوادث سال 36 هجرى قمرى، تجهیز علیّ رضى‏الله‏عنه عائشة من البصرة؛  

ابن‏ کثیر، البدایة و النهایة: ج 7، ص 257، حوادث سال 36 هجرى قمرى، مسیر علی بن أبیطالب من المدینة إلى البصرة بدلاً من الشام.  

 

 اھل سنت کی کتابوں میں یہاں تقل نقل ہے کہ جناب عائشہ معاویہ کے لئے دعا کرتی کہ اللہ ان کی عمر معاویہ کو بخش دئے ۔۔۔۔
 
اب یہ دعا حقیقت میں اپنے رقیت کے دشمن کی حمایت کا اعلان ہے۔۔۔۔ لہذا تاریخی حقائق کو بہتان کہنا صحیح نہیں ہے ۔۔۔۔۔ کوئی تاریخ میں دکھا نہیں سکتا کہ جناب عائشہ نے ان کی شہادت پر افسوس کا اظہار کیا ہو ۔۔۔۔
   
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی