2018 September 21
آئمہ معصومین (ع) کے نام واضح طور پر قرآن کریم میں کیوں ذکر نہیں ہوئے ؟
مندرجات: ١٧٣٢ تاریخ اشاعت: ٠٩ September ٢٠١٨ - ١٢:٠٨ مشاہدات: 30
سوال و جواب » شیعہ
جدید
آئمہ معصومین (ع) کے نام واضح طور پر قرآن کریم میں کیوں ذکر نہیں ہوئے ؟

 

سوال:

آئمہ معصومین (ع) کے نام واضح طور پر قرآن کریم میں کیوں ذکر نہیں ہوئے ؟

جواب:

اس سوال کے چند جواب ہیں:

جواب اول :

قرآن کریم میں احکام اور معارف کلی اور اشارے کی صورت میں ذکر ہوئے ہیں، لیکن انکی تفصیل اور کھول کر بیان کرنا، خداوند نے رسول خدا (ص) کے عہدے پر قرار دیا ہے، جیسے قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ:

وَأَنْزَلْنَا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَيْهِمْ وَلَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ.

اور اس قرآن کو ہم نے تمہاری طرف نازل کیا ہے، تا کہ جو کچھ نازل ہوا ہے، آپ اسکو لوگوں کے لیے بیان کریں۔۔۔۔۔،

سورہ نحل آیت 44

وَمَا أَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَابَ إِلَّا لِتُبَيِّنَ لَهُمُ الَّذِي اخْتَلَفُوا فِيهِ،

اور ہم نے اس کتاب کو آپ پر نازل نہیں کیا، مگر یہ کہ وہ لوگ جس چیز میں اختلاف کریں، آپ اسکو انکے لیے بیان کریں۔

سورہ نحل آیت 64

اور خداوند نے بہت سی آیات میں رسول خدا (ص) کی اطاعت کو تمام لوگوں پر واجب قرار دیا ہے، جیسے

وَمَا آَتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا .

اور جو کچھ رسول تم کو دیں، اسکو لے لو اور جس سے منع کریں، اس سے منع ہو جاؤ۔

سورہ حشر آیت 7

مثلا قرآن کریم میں کئی مقامات پر ذکر ہوا ہے کہ اقيموا الصلاة ، لیکن اتنی تاکید کے باوجود قرآن میں یہ ذکر نہیں ہوا کہ ایک دن میں کتنی نمازیں پڑھو، ہر نماز کی کتنی رکعات ہیں، نماز کو کیسے پڑھو، نماز میں کس کس سورہ کو پڑھو۔۔۔۔۔ وغیرہ، بلکہ خداوند نے نماز اور قرآن میں ذکر کیے گئے دوسرے تمام احکام کی جزئیات اور تفاصیل کے بیان کرنے کا ذمہ رسول خدا کے سپرد کیا ہے، اور رسول خدا (ص) نے خود فرمایا ہے کہ:

صلّوا كما رأيتموني اصلّي .

ویسے نماز پڑھو، جیسے میں نماز پڑھتا ہوں۔

كتاب المسند ، الإمام الشافعي ، ص 55

السنن الكبري ، البيهقي ، ج 2 ، ص 345

صحيح البخاري ، البخاري ، ج 1 ، ص 155 و ج 7 ، ص 77 و ج 8 ، ص 133

امامت کے بارے میں بھی بہت سی آیات میں کلیات ذکر ہوئی ہیں، جیسے حضرت ابراہیم (ع) کے بارے میں ذکر ہوا ہے کہ:

إِنِّي جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ إِمَامًا قَالَ وَمِنْ ذُرِّيَّتِي قَالَ لَا يَنَالُ عَهْدِي الظَّالِمِينَ .

(خداوند نے اس سے فرمایا) میں نے تم کو لوگوں کا امام قرار دیا ہے، (ابراہیم) نے پوچھا کیا میری اولاد سے بھی کوئی امام ہو گا ؟ (خداوند نے) فرمایا: یہ عہدہ ظالموں کو نہیں ملے گا۔

سورہ بقره آیت 124

وَجَعَلْنَاهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنَا .

اور ہم نے انکو امام قرار دیا ہے کہ وہ ہمارے حکم کے مطابق لوگوں کی ہدایت کرتے ہیں۔

سورہ أنبياء سورہ 73

يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ وَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ وَاللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ .

اے رسول، جو کچھ آپکے پروردگار کی طرف سے آپ کی طرف نازل ہوا ہے، اسے پہنچا دیں اور اگر ایسا نہ کیا تو گویا آپ نے اپنی رسالت کے ذمے کو ادا نہیں کیا۔۔۔۔۔،

سورہ مائده آیت 67

الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا .

آج ہم نے تمہارے دین کو کامل اور اپنی نعمت کو تم پر مکمل کر دیا ہے اور اسلام کو تمہارے لیے پسندیدہ دین قرار دیا ہے۔

سورہ مائدة آیت 3

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آَمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ .

اے ایمان والو خدا کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور اپنے صاحبان امر کی بھی اطاعت کرو،

سورہ نساء آیت 59

اسکے علاوہ بھی بہت سی آیات ہیں کہ جن میں احکام اور اسلامی عقائد کی کلیات کو ذکر کیا گیا ہے، جبکہ ان سب کی تفصیل کو بیان کرنا، رسول خدا کے عہدے پر ہے۔

پيغمبر اكرم (ص) بعثت کے تیسرے سال اپنی رسالت کے آغاز میں ہی اپنے رشتہ داروں کو انذار کرنے کے لیے مبعوث ہوئے:

وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ .

اور اپنے قریبی رشتہ داروں انذار کرو،

سورہ شعراء آیت 214

خود اہل سنت کے بزرگان سے صحیح روایات نقل ہوئیں ہیں کہ اس آیت کے نازل ہونے کے بعد رسول خدا (ص) نے اپنے تمام رشتے داروں کے سامنے، حضرت علی (ع) کے ہاتھ کو پکڑ کر فرمایا:

وهذا اخي ووصيي وخليفتي من بعدي .

یہ میرا بھائی اور میرا وصی اور میرے بعد میرا خلیفہ ہے،

اسکے علاوہ رسول خدا (ص) نے مختلف مواقع اور کئی مقامات پر حضرت امیر (ع) کی خلافت و ولایت کو ذکر کیا ہے، حتی اپنی زندگی کے آخری ایام میں غدیر خم کے مقام پر بھی ایک لاکھ 20 ہزار کے مجمعے میں بھی حکم خدا کے مطابق اس فرض کو انجام دیا تھا۔

اب رسول خدا کس زبان اور کن الفاظ کے ساتھ اپنے جانشین کا ذکر کریں کہ لوگوں کو یقین حاصل ہو جائے کہ رسول خدا نے اپنی زبان وحی و رسالت سے آئمہ کے اسماء کو ذکر کیا ہے ؟!

جواب دوم :

درست ہے کہ قرآن میں واضح طور پر آئمہ کے نام ذکر نہیں ہوئے، لیکن خداوند نے آیات میں متعدد مقامات پر مختلف صفات کے ساتھ انکا ذکر کیا ہے۔ جیسے خداوند نے امير المؤمنين علی (ع) کے بارے میں فرمایا ہے کہ:

إِنَّمَا وَلِيُّكُمُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَالَّذِينَ آَمَنُوا الَّذِينَ يُقِيمُونَ الصَّلَاةَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَهُمْ رَاكِعُونَ .

تمہارا ولی فقط خدا اور اسکا رسول اور وہ با ایمان لوگ ہیں کہ جو نماز کو قائم کرتے ہیں اور حالت رکوع میں زکات دیتے ہیں۔

سورہ مائدة آیت 55

اہل سنت کے اکثر مفسرین کے مطابق یہ آیت امیر المؤمنین علی (ع) کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔

قاضی عضد الدين ايجی نے اس بارے میں کہا ہے کہ:

وأجمع أئمّة التفسير أنّ المراد علي .

تفسیر قرآن کے بزرگان نے اتفاق و اجماع کیا ہے کہ اس آیت سے مراد علی ہیں۔

المواقف في علم الكلام ، ص 405 .

اور سعد الدين تفتازانی نے بھی وضاحت کی ہے کہ:

نزلت باتّفاق المفسّرين في علي بن أبي طالب ، رضي اللّه عنه ، حين أعطي خاتمه وهو راكع في صلاته .

تمام مفسرین کا اتفاق ہے کہ یہ آیت علی (ع) کی شان میں نازل ہوئی ہے، اس وقت کہ جب انھوں نے نماز میں رکوع کی حالت میں فقیر کو انگوٹھی دی تھی۔

شرح المقاصد في علم الكلام ، ج 5 ، ص270 .

علاء الدين علی ابن محمد حنفی معروف بہ قوشجی نے بھی اس بارے میں کہا ہے کہ:

إنّها نزلت باتفاق المفسّرين في حق علي بن أبي طالب حين أعطي السائل خاتمه وهو راكع في صلاته .

تمام مفسرین کے اتفاق کے مطابق یہ آیت علی ابن ابی طالب (ع) کے حق میں نازل ہوئی ہے کہ جب انھوں نے نماز میں رکوع کی حالت میں سائل کو اپنی انگوٹھی دی تھی۔

شرح تجريد الاعتقاد ، ص 368

آلوسی نے بھی لکھا ہے کہ:

غالب الأخباريّين علي أنّ هذه الآية نزلت في علي كرّم اللّه وجهه .

اکثر اخباریوں (احادیث کے بارے میں علم رکھنے والے) نے کہا ہے کہ: یہ آیت علی کی شان میں نازل ہوئی ہے۔

روح المعاني ، ج 6 ، ص168

کیا اہل حق و اہل انصاف کے لیے یہ آیت کافی نہیں ہے ؟

اسکے باوجود بھی کیا ضروری تھا کہ خداوند ایک ایک امام کا نام قرآن میں ذکر فرماتے ؟

جواب سوم :

اگر خداوند قرآن میں آئمہ کے نام کو ذکر کرتا تو کیا سقیفہ اینڈ کمپنی اس بات کو قبول کر لیتے ؟

کیا وہی لوگ کہ جہنوں نے رسول خدا پر ہذیان کی تہمت لگاتے ہوئے کہا تھا کہ:

ان الرجل ليهجر .

تو اگر حضرت علی (ع) کا نام واضح طور پر قرآن میں ذکر ہو جاتا تو کیا ان لوگوں نے نہیں کہنا تھا کہ:

ان جبرئيل قد هجر ؟

اہل سنت اور وہابیوں کے اعتقادات کو سامنے رکھتے ہوئے ہمیں یقین ہے کہ اگر امام علی (ع) کا نام قرآن میں ذکر ہو بھی جاتا تو سقیفہ کی ٹوٹی کشتی پر سوار گمراہ انسانوں نے اس بات کو بالکل قبول نہیں کرنا تھا اور طرح طرح کی غلط توجیہات اور تاویلات کر کے لفظ علی کے اصلا معنی کو ہی بدل دینا تھا !

جس طرح کہ ان لوگوں نے قرآن میں ذکر کیے گئے بعض واضح شرعی احکام کو مختلف غلط بہانوں  سے قبول نہیں کیا، جیسے حکم شرعی و قرآنی متعہ، مگر متعے کے بارے میں قرآن میں واضح طور پر خداوند نے نہیں فرمایا:

فَمَا اسْتَمْتَعْتُمْ بِهِ مِنْهُنَّ فَآَتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ فَرِيضَةً .

اور ان عورتوں کو کہ جن سے تم نے متعہ کیا ہے، انکے حق مہر کو ایک فریضے کے طور پر انکو دے دو ۔۔۔۔۔۔

سورہ نساء آیت 24

اہل سنت کے بزرگ مفسر قرآن قرطبی نے کہا ہے کہ:

وقال الجمهور المراد نكاح المتعة الذي كان في صدر الإسلام .

« فَمَا اسْتَمْتَعْتُمْ » سے مراد، نکاح متعہ ہے کہ جو ابتدائے اسلام میں عام طور پر رائج تھا۔

تفسير قرطبي ، ج5 ، ص120

فتح القدير ، ج1 ، ص449

تفسير طبري ، ج5 ، ص18

اور اسکے علاوہ بہت سی روایات کہ جو کتاب صحیح بخاری میں جناب جابر اور دوسرے صحابہ سے نقل ہوئی ہیں کہ ہم رسول خدا (ص) کے زمانے میں متعہ کیا کرتے تھے، حتی ہمارے پاس کوئی درہم و دینار نہیں ہوتے تھے تو ہم مٹھی بھر گندم کے بدلے میں بھی متعہ کیا کرتے تھے۔

محمد ابن اسماعيل بخاری نے اپنی کتاب صحیح بخاری میں نقل کیا ہے کہ:

حدثنا مسدد حدثنا يحيي عن عمران أبي بكر حدثنا أبو رجاء عن عمران بن حصين رضي الله تعالي عنه قال نزلت آية المتعة في كتاب الله ففعلناها مع رسول الله صلي الله عليه وسلم ولم ينزل قرآن يحرمه ولم ينه عنها حتي مات قال رجل برأيه ما شاء قال محمد يقال إنه عمر .

متعے والی آیت رسول خدا کے زمانے میں نازل ہوئی تھی اور ہم رسول خدا کے زمانے میں اس آیت پر عمل کیا کرتے تھے اور کوئی دوسری آیت اس (متعہ) کے حرام ہونے کے بارے میں بھی نازل نہیں ہوئی اور رسول خدا نے بھی مرتے دم تک ہمیں اس سے منع نہیں کیا تھا، ایک شخص نے اپنی مرضی و رائے سے جو اسکے دل میں آیا اس نے کہا، (یعنی اس متعے کے بارے میں)، اور وہ شخص عمر تھا۔

صحيح البخاري ، ج 5 ، ص 158

اسی طرح مسلم نيشاپوری نے بھی اپنی کتاب صحیح مسلم میں نقل کیا ہے کہ:

قال عطاء قدم جابر بن عبد الله معتمرا فجئناه في منزله فسأله القوم عن أشياء ثم ذكروا المتعة فقال نعم استمتعنا علي عهد رسول الله صلي الله عليه وسلم وأبي بكر وعمر .

عطا نے کہا ہے کہ: جابر ابن عبد اللہ انصاری عمرے کے لیے مکہ آیا تو میں اسکے گھر گیا، لوگ اس سے شرعی مسائل کے بارے میں سوال کر رہے تھے، یہاں تک کہ باتوں باتوں میں متعے کا ذکر ہوا تو جابر ابن عبد اللہ نے کہا:

ہاں ہم رسول خدا، ابوبکر اور عمر کے زمانے میں متعہ کیا کرتے تھے۔

صحيح مسلم ، ج4 ، ص131

اور ایک دوسری جگہ پر مسلم نے نقل کیا ہے کہ:

عن أبي نضرة قال كنت عند جابر بن عبد الله فاتاه آت فقال إن ابن عباس وابن الزبير اختلفا في المتعتين فقال جابر فعلناهما مع رسول الله صلي الله عليه وسلم ثم نهانا عنهما عمر فلم نعد لهما .

میں جابر ابن عبد اللہ کے پاس بیٹھا تھا کہ کہنے والوں نے کہا کہ عبد اللہ ابن عباس اور عبد اللہ ابن زبیر کا دو متعوں ( متعہ نساء و متعہ حج) کے بارے میں آپس میں اختلاف تھا۔ اس پر جابر ابن عبد اللہ نے کہا:

 ہم رسول خدا کے زمانے میں ہر دو (متعوں) کو انجام دیا کرتے تھے، پس عمر نے ان دونوں کے انجام دینے سے منع کیا تو پھر اسکے بعد ہم نے انجام نہیں دیا۔

صحيح مسلم ، ج4 ، ص59

اہل سنت کہتے ہیں کہ عمر نے اپنی مرضی سے متعے کو حرام کیا تھا۔

متعتان كانتا علي عهد رسول الله ، صلي الله عليه وآله - أنا أنهي عنهما ، وأعاقب عليهما ، متعة النساء ومتعة الحج .

عمر نے کہا کہ:

وہ دو متعے کہ جو رسول خدا کے زمانے میں حلال تھے، لیکن میں انکو حرام قرار دے رہا ہوں اور جو بھی انکو انجام دے گا تو میں اسکو سزا دوں گا، ایک متعہ حج اور دوسرا متعہ نساء ۔

الإيضاح ، الفضل بن شاذان الأزدي ، ص 443

مسند احمد ، الإمام احمد بن حنبل ، ج 1 ، ص 52

و ج 3 ، ص 325

السنن الكبري ، البيهقي ، ج 7 ، ص 206

معرفة السنن والآثار ، البيهقي ، ج 5 ، ص 345

الاستذكار ، ابن عبد البر ، ج 4 ، ص 95

أحكام القرآن ، الجصاص ، ج 1 ، ص 338

أحكام القرآن ، الجصاص ، ج 2 ، ص 191

تفسير الرازي ، الرازي ، ج 5 ، ص 167

تذكرة الحفاظ ، الذهبي ، ج 1 ، ص 366

ميزان الاعتدال ، الذهبي ، ج 3 ، ص 552

قابل توجہ ہے کہ عالم اہل سنت سرخسی حنفی اور ابن قدامہ حنبلی نے اس روایت کی سند کے بارے میں کہا ہے کہ:

وقد صح أن عمر رضي الله عنه نهي الناس عن المتعة .

یہ روایت صحیح ہے کہ عمر نے متعہ کرنے سے منع کیا تھا۔

قرآن کریم میں متعے کا ذکر اتنا واضح ہونے کے باوجود، ان بہانے بازوں نے اس حکم شرعی اور قرآنی کو قبول نہیں کیا تو اگر حضرت علی (ع) کا نام قرآن میں واضح طور پر ذکر ہو جاتا تو انھوں نے کہنا تھا کہ:

ان الله تبارك و تعالي قد عين علياً للإمامة ولكن عمر عزله .

خداوند نے تو علی کو منصب امامت پر نصب کیا تھا لیکن عمر نے اسکو اس منصب سے عزل کر دیا تھا۔

ایک لاکھ 24 ہزار انبیاء ہونے کے باوجود اگر قرآن میں فقط 26 انبیاء کے نام کو ذکر کیا گیا ہے تو یہ اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ ان 26 انبیاء کے علاوہ باقی دوسرے نبی یا رسول نہیں تھے، اس لیے کہ خداوند نے قرآن میں فرمایا ہے کہ:

وَ لَقَدْ أرْسَلْنا رُسُلاً مِنْ قَبْلِکَ مَنْهُمْ مَنْ قَصَصْنا عَلَيْکَ وَ مِنْهُمْ مَنْ لَمْ نَقْصُصْ عَلَيْکَ ...

اور ہم نے آپ سے پہلے رسولوں کو بھیجا کہ ان میں سے بعض کے حالات کو ہم نے آپکے لیے بیان کیا ہے اور ان میں سے بعض کے حالات کو ہم نے آپکے لیے بیان نہیں کیا۔

سورہ غافر آيت 78

آيت مباہلہ:

قُلْ تَعالَوا نَدْعُ أَبْنأَنا وَ أبْنأَکُمْ وَ أنْفُسَنا وَ أنْفُسَکُمْ ،

اے رسول کہہ دیں کہ ہم اپنے بیٹوں کو لاتے ہیں اور تم اپنے بیٹوں کو لے آؤ اور ہم اپنی جانوں کو لاتے ہیں اور تم اپنی جانوں کو لے آؤ۔۔۔۔۔

شیعہ سنی تمام مفسرین کے مطابق اس آیت میں لفظ أنْفُسَنا سے مراد علی ہیں کہ اس آیت میں خداوند نے انکو رسول خدا کا نفس و جان شمار کیا ہے۔

سورہ آل عمران آیت 61

امیر المؤمنین علی (ع) کے لیے اس سے بڑھ کر اور کیا فضیلت ہو سکتی ہے ؟

جن لوگوں نے اہل بیت پر رحم نہیں کیا اگر علی یا انکی اولاد میں سے کسی کا نام بھی قرآن میں واضح طور پر ذکر ہو جاتا تو ایسے ناصبی اور دشمنان اہل بیت اپنی پوری قوت اور طاقت کے ساتھ قرآن کے خلاف قیام کرتے اور اسکو تحریف کر دیتے۔

جس طرح کہ انہی لوگوں نے رسول خدا کی احادیث میں فضائل اہل بیت اور خاص طور پر فضائل علی ابن ابی طالب (ع) ذکر ہونے کی وجہ سے، انھوں نے علنی طور احادیث سے جنگ کی اور منبر و مساجد میں لوگوں کے سامنے احادیث کے بیان کرنے پر پابندی لگا دی، احادیث کی کتب کو آگ لگا دی، بہت سی کتابوں کو دریا برد کر دیا اور رہی سہی کتابوں میں تحریف کر دی، بعض واضح احادیث کو کتابوں سے حذف کر دیا، بعض احادیث سے آئمہ کے ناموں کو حذف کر دیا، بعض احادیث میں آئمہ کے ناموں کو تبدیل کر کے دوسروں کے ناموں کو ذکر کر دیا گیا وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔۔ کیونکہ رسول خدا کی اکثر احادیث میں مولا علی (ع) کے فضائل و مناقب ذکر ہوئے تھے۔

اسم علی سے دشمنی و بغض و کینے کی انتہاء یہ ہے کہ آج بھی اہل سنت اور وہابی قرآن کی تلاوت ختم ہونے کے بعد جملہ :

« صدق الله العلي العظيم » سے لفظ علی کو حذف کر کے کہتے ہیں: " صدق الله العظيم " حالانکہ « العلي العظيم » اسم خدا ہے۔

لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ ،

سورہ شوری آيت 4

آیت الکرسی میں بھی ذکر ہوا ہے کہ:

وَسِعَ کُرْسِیُّهُ السَّمَاوَاتِ وَ الأَرْضَ وَ لاَ یَؤُودُهُ حِفْظُهُمَا وَ هُوَ الْعَلِیُّ الْعَظِیمُ ،

سورہ بقرہ آیت 255

یہاں پر الْعَلِیُّ الْعَظِیمُ، میں لفظ العلی اسم خدا ہے، لیکن صرف اور صرف مولا علی سے حسد و بغض و کینے اور نفاق کی وجہ سے یہاں پر بھی لفظ علی کو حذف کر دیتے ہیں۔

یہی نہیں بلکہ متعدد ایسے موارد ہیں کہ جہاں پر تین غاصب خلفاء نے واضح طور پر سو فیصد قرآن کریم کے خلاف عمل کیا ہے، یعنی نص کے مقابلے پر اجتہاد کیا ہے:

1- عمر نے رسول خدا (ص) سے ایک جعلی حدیث گھڑ کر قرآن کی آیات:

وَوَرِثَ سُلَيْمَانُ دَاوُودَ ،

سورہ نمل آیت 16

و فَهَبْ لِي مِن لَّدُنكَ وَلِيًّا ، يَرِثُنِي وَيَرِثُ مِنْ آلِ يَعْقُوبَ وَاجْعَلْهُ رَبِّ رَضِيًّا ،

سورہ مريم آیت 5 ، 6

کے بر خلاف انبیاء کے ارث لینے کا انکار کیا ہے اور اسی غلط و جھوٹے بہانے سے باغ فدک کو حضرت زہرا (س) سے چھین لیا تھا۔

2- آیت فَمَا اسْتَمْتَعْتُم بِهِ مِنْهُنَّ فَآتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ"فَريضة ،

سورہ نساء آیت 24

کہ جو واضح طور پر متعے کے بارے میں ہے، لیکن اسکے باوجود بھی عمر نے اس قرآنی حکم کے بر خلاف متعہ کو حرام قرار دے دیا تھا۔

3- عمر نے آیت فَمَن تَمَتَّعَ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ ،

سورہ بقره آیت 192

کو منسوخ کر کے حکم دیا کہ اس آیت پر عمل نہ کیا جائے۔

4- قرآن نے رسول خدا (ص) کے بارے میں فرمایا ہے کہ:

وَمَا يَنطِقُ عَنِ الْهَوَى ، إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَى ، عَلَّمَهُ شَدِيدُ الْقُوَى ،

سورہ نجم آیت 3

لیکن حدیث قرطاس کے مطابق جب رسول خدا (ص) نے بیماری کی حالت میں کاغذ و قلم مانگا تا کہ ایسی وصیت لکھ جائیں کہ جس سے انکی امت ضلالت و گمراہی سے بچ جائے تو وہاں پر موجود عمر اور اسکے پیرکاروں نے رسول خدا کو کہا کہ:

یہ شخص ہذیان کہہ رہا ہے، حالانکہ ان کی یہ بات واضح طور پر قرآن کریم کے خلاف ہے۔

نتیجہ اور خلاصہ یہ کہ امام کے نام کا قرآن میں ذکر ہونا، نہ یہ کہ امامت کے فائدے میں نہ تھا، بلکہ اس کام کا خطرہ امام کے نام کے ذکر نہ ہونے سے بہت زیادہ تھا، بلکہ اس صورت میں اگر کہا جائے کہ اصل دین کے ختم ہونے کا خطرہ تھا تو غلط نہ ہو گا، کیونکہ جیسے چند نمونوں کو ملاحظہ کیا ہے کہ قرآن کی آیات کے خلاف عمل کرنا، اس دور میں ایسا عادی اور معولی کام تھا کہ جسکا مسلمانوں پر کوئی خاص اثر نہیں ہوتا تھا۔

شاید حضرت علی (ع) کے نام کا قرآن میں واضح طور پر ذکر نہ ہونے اور اس کام کا ذمہ رسول خدا کے عہدے پر لگانے کی ایک حکمت، اس امت کا امتحان لینا تھا۔

اس لیے کہ خداوند کی ایک نا قابل تبدیل سنت، انسانوں سے امتحان لینا ہے۔ جیسے تمام انبیاء کا امتحان، حضرت آدم کی خلقت سے فرشتوں کا امتحان اور امت اسلامی کا امتحان وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔۔

وَأَنزَلْنَا إِلَيْكَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ مِنَ الْكِتَابِ وَمُهَيْمِنًا عَلَيْهِ «فَاحْكُم بَيْنَهُم بِمَا أَنزَلَ اللّهُ وَلاَ تَتَّبِعْ أَهْوَاءهُمْ عَمَّا جَاءكَ مِنَ الْحَقِّ لِكُلٍّ جَعَلْنَا مِنكُمْ شِرْعَةً وَمِنْهَاجًا وَلَوْ شَاء اللّهُ لَجَعَلَكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً وَلَـكِن لِّيَبْلُوَكُمْ فِي مَآ آتَاكُم فَاسْتَبِقُوا الخَيْرَاتِ إِلَى الله مَرْجِعُكُمْ جَمِيعًا فَيُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ فِيهِ تَخْتَلِفُونَ،

ہم نے تجھ پر سچی کتاب اتاری جو اپنے سے پہلی کتابوں کی تصدیق کرنے والی ہے اور ان کے مضامین پر نگہبانی کرنے والی ہے، سو تو ان لوگوں میں اس کے موافق حکم کر جو اللہ نے اتارا ہے، اور ان کی خواہشات کی پیروی نہ کر اپنے پاس آنے والے حق سے منہ موڑ کر، ہم نے تم میں سے ہر ایک کے لیے ایک شریعت اور واضح راہ مقرر کر دی ہے، اور اگر اللہ چاہتا تو سب کو ایک ہی امت کر دیتا لیکن وہ تمہیں اپنے دیے ہوئے حکموں میں آزمانا چاہتا ہے، اس لیے نیکیوں میں ایک دوسرے سے بڑھنے کی کوشش کرو، سب کو اللہ کے پاس پہنچنا ہے پھر تمہیں بتائے گا جس میں تم اختلاف کرتے تھے۔

سورہ مائده آیت 48

اگر خداوند انسانوں سے امتحان اور آزمائش نہ لے تو نہ ثواب کا وجود ہو گا اور نہ عذاب کا اور اس صورت میں کوئی بھی نیک بننے کے لیے اور کوئی بھی بد بننے کے لیے کوشش نہ کرتا، یعنی اس جہان میں نیکی و بدی موجود نہ ہوتی اور اس جہان کا سارا نظام بالکل بیہودہ اور فالتو ہو جاتا، حالانکہ ہمارا ایمان ہے کہ خداوند علیم و حکیم ہے اور جو بھی علیم و حکیم ہوتا ہے وہ ہرگز فالتو و بیہودہ کام انجام نہیں دیتا۔

نام کا ذکر ہونا یا نہ ہونا یہ ہمیشہ فضیلت و برتری پر دلیل نہیں ہے، کیونکہ حضرت موسی اور خضر کے واقعے میں فقط حضرت موسی کا نام ذکر ہوا ہے، حالانکہ حضرت خضر حضرت موسی کے استاد اور ان سے برتر تھے لیکن پھر بھی انکا نام ذکر نہیں ہوا۔

اسی طرح قرآن میں حضرت موسی کا نام 136 مرتبہ ، حضرت آدم کا نام 25 مرتبہ اور حضرت نوح کا نام 43 مرتبہ ذکر ہوا ہے، حالانکہ رسول خدا کا نام قرآن میں فقط 4 مرتبہ ذکر ہوا ہے۔ لہذا کیا یہ کہا جا سکتا ہے رسول خدا کا مقام و رتبہ، ان انبیاء سے کم ہے کیونکہ انکا نام زیادہ اور رسول خدا کا نام کم قرآن میں ذکر ہوا ہے ؟!

اسکے علاوہ یہ کہ قرآن کریم میں مریم نام کی سورہ موجود ہے، حالانکہ حضرت عیسی اور حضرت موسی کے نام کی سورہ موجود نہیں ہے۔

کیا یہ دلیل ہے کہ حضرت مریم دو اولو العزم انبیاء یعنی حضرت عیسی اور حضرت موسی سے افضل ہے ! ؟

اسی طرح قرآن کریم میں بعض حیوانات کے نام پر سورہ موجود ہیں، جیسے سوره فیل ، سوره عنکبوت ، سوره نمل اور سورہ بقرہ وغیرہ۔

یہ ایک بہت واضح اور عقلی دلیل ہے کہ نام کا ذکر ہونا، یہ افضیلیت کی دلیل نہیں ہے، کیونکہ اسی قرآن میں خداوند کے بہت بعض ہی مقرب انبیاء اور اولیاء کے نام نہیں ہیں، حالانکہ اسی قرآن میں فرعون جیسے مشرک اور ظالم کا نام موجود ہے۔

بہت سے شرعی احکام اور عقائد کہ جن پر ہم عمل کرتے ہیں اور انکو انجام دینا ہم پر واجب بھی ہے، اسکے باوجود بھی ان احکام اور عقائد کی تفاصیل قرآن میں ذکر نہیں ہوئی۔ جیسے نماز فجر کی جزئیات اور تفاصیل کہ اس نماز کی کتنی رکعات ہیں یا اس نماز کو آہستہ یا بلند آواز سے پڑھنا ہے وغیرہ وغیرہ کہ بہت سے ایسے مسائل ہیں کہ جو قرآن میں ذکر نہیں ہوئے اور ہم انکو محمد و آل محمد (ع) کی روایات سے پڑھتے اور سمجھتے ہیں۔

اس لیے کہ فریقین کے نزدیک متواتر حدیث ثقلین کے مطابق قرآن و اہل بیت ہمیشہ ہر جگہ پر ساتھ ساتھ ہوں گے، یہی وجہ ہے کہ اہل بیت یعنی علی و اولاد علی، قرآن کریم کے واقعی و حقیقی مفسرین ہیں اور اہل بیت ہی قرآن میں ذکر شدہ احکام اور عقائد کی شرح و تفاصیل بیان کر سکتے ہیں۔ آئمہ کے نام کا قرآن میں ذکر ہونا بھی ایک ایسا موضوع ہے کہ جسکو تفصیل سے جاننے کے لیے ہمیں رسول خدا کی احادیث کی طرف رجوع کرنا ہو گا۔

ہم شیعیان علی نے 1400 سال سے کب کہا ہے کہ حسبنا کتاب الله،

اس لیے کہ بقول ذہبی کے یہ نعرہ خوارج کا تھا:

ولم يقل حسبنا كتاب الله كما تقوله الخوارج،

اور انھوں نے حسبنا کتاب نہیں کہا تھا جیسا کہ خوارج کہا کرتے تھے۔

تذكرة الحفاظ ج 1 ص 3

اسی طرح یہ عقیدہ رکھنا کہ ہدایت کے لیے فقط قرآن کافی ہے اور اسکے علاوہ کسی دوسری چیز کی ضرورت نہیں ہے تو ایسی بات اس انسان کی ضلالت اور گمراہی کی علامت ہے۔ اہل سنت کے بعض علماء نے کہا ہے کہ:

وقال أيوب السختياني إذا حدث الرجل بالسنة فقال دعنا من هذا حدثنا من القرآن فاعلم أنه ضال مضل ،

جو روایت کو ترک کرے اور فقط قرآن کو پکڑے تو جان لو کہ ایسا شخص گمراہ ہے۔

الإمام أبي عبد الله محمد بن مفلح المقدسي، الآداب الشرعية ج 2 ص 292

تم لوگ جو کہتے ہو کہ مسلمانوں کے درمیان کسی بھی اختلاف کی صورت میں فقط قرآن کی طرف رجوع کرنا چاہیے تو تم لوگوں کی یہ بات خود قرآن کریم کے خلاف ہے، اس لیے کہ خود قرآن نے اختلاف کی صورت میں قرآن و رسول کی طرف رجوع کرنے کا حکم دیا ہے:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّـهَ وَأَطِيعُوا الرَّ‌سُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ‌ مِنكُمْ فَإِن تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُ‌دُّوهُ إِلَى اللَّـهِ وَالرَّ‌سُولِ إِن كُنتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّـهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ‌ ذَلِكَ خَيْرٌ‌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلًا،

اے ایمان والو! اللہ کی فرمانبرداری کرو اور رسول کی فرمانبرداری کرو اور ان لوگوں کی جو تم میں سے حاکم ہوں، پھر اگر آپس میں کسی چیز میں جھگڑا کرو تو اسے اللہ اور اس کے رسول کی طرف لاؤ اگر تم اللہ پر اور قیامت کے دن پر یقین رکھتے ہو، یہی بات اچھی ہے اور انجام کے لحاظ سے بہت بہتر ہے۔

سورہ نساء آیت 59

اسی وجہ سے رسول خدا  (ص) نے علی (ع) کی ذات مقدس کو معیار حق قرار دیا ہے:

أَنْتَ مَعَ الْحَقِّ وَالْحَقُّ مَعَكَ حَيْثُ مَا دَارَ ،

ابن عساكر الدمشقي الشافعي، تاريخ مدينة دمشق، ج20، ص361،

اب جب حق واضح ہو گیا ہو تو کیا کوئی گنجائش باقی رہ جاتی ہے کہ ہم کہیں کہ اختلاف کی صورت میں کس کی طرف رجوع کریں ؟

مگر اختلاف کی صورت میں ایک طرف حق پر اور دوسری طرف باطل پر نہیں ہے ؟

رسول خدا (ص) کی اس حدیث کی روشنی میں کیا یہ کہا جا سکتا ہے کہ اختلاف کی صورت میں ہمیں کیا کرنا چاہیے، اس لیے کہ رسول خدا نے راہ کو واضح کر دیا ہے کہ مسلمانوں کے آپس میں اختلاف کے وقت میرے اہل بیت کی طرف رجوع کرنا۔

اس لیے کہ:

اولا: تقریبا 300 آیات قرآن آئمہ و اہل بیت کی شان میں نازل ہوئی ہیں، لیکن قرآن میں آئمہ (ع) کا نام واضح طور پر ذکر نہ ہونے کا سبب یہ ہے کہ:

1- وہ آیات کہ جو اہل بیت اور انکی امامت کے بارے میں قرآن میں نازل ہوئی ہیں، وہ ایک ایسی خاص حالت پر مشتمل ہیں کہ جس میں کوشش کی گئی ہے کہ ان آیات کو دوسرے موضوع والی آیات کے درمیان ذکر کیا جائے اور ان آیات میں واضح طور پر آئمہ کے نام کو ذکر نہ کیا جائے، جیسے

إِنَّما يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَ يُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيراً

اور

آيت الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ،

وغیرہ کہ جن آیات کے بارے میں خود اہل سنت کے مفسرین نے کہا ہے کہ یہ آیات رسول خدا کے اہل بیت اور آئمہ اطہار کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔

مخشري حنفي، ‌الكشاف، بيروت،‌ دار المعرفه،‌ ج 1، ص 59

2- دوسری علت یہ ہے کہ تعصب سے پاک اور حقیقت کا طالب انسان سمجھ جاتا ہے کہ اس آیت کا حقیقی معنی و مفہوم کیا ہے، لیکن قرآن میں آئمہ کے نام کو واضح طور پر ذکر کرنا، اس بات کا سبب بنتا کہ متعصب، ضعیف ایمان انسان اور آئمہ کے دشمن افراد قرآن کے احکام کی نافرمانی کرنے پر اتر آتے اور قرآن کے مقابلے پر کھڑے ہو جاتے۔ جیسے آیت

إِنَّما وَلِيُّكُمُ اللَّهُ وَ رَسُولُهُ وَ الَّذِينَ آمَنُوا الَّذِينَ يُقِيمُونَ الصَّلاةَ وَ يُؤْتُونَ الزَّكاةَ،

کہ رکوع کی حالت میں زکات دینا ایک عام اور ہر کسی کا کام نہیں ہے، بلکہ یہ آیت ایک خاص واقعے کی طرف اشارہ کر رہی ہے اور حقیقت کی تلاش کرنے والا انسان جب شیعہ اور سنی تفاسیر کی کتب کی طرف رجوع کرتا ہے تو وہ سمجھ لیتا ہے کہ یہ آیت ایک خاص موقعے پر حضرت علی (ع) کی شان میں نازل ہوئی ہے، اگرچہ واضح طور پر اس آیت میں ان کا اسم گرامی ذکر نہیں ہوا۔

3- تحریف قرآن کا خوف، بہرحال قرآن کو تحریف سے محفوظ رہنا چاہیے، کیونکہ قرآن ہر زمانے کے لوگوں کے لیے نازل ہوا ہے لہذا قرآن کو ہر طرح کے عامل تحریف سے دور ہونا چاہیے، اب آئمہ کے اسماء کو قرآن میں ذکر کرنے کی صورت میں یہ لوگ یا رسول خدا پر قرآن کو تحریف کرنے کی تہمت لگاتے اور کہتے کہ ان آیات کو رسول خدا نے اپنے اہل بیت کی خاطر خود قرآن میں اضافہ کیا ہے اور یا یہ لوگ خود اپنے ہاتھوں سے قرآن کو تبدیل کر دیتے۔ جیسے کہ خلافت کو غصب کرنے والوں نے حضرت علی کے جمع کردہ قرآن کو قبول کرنے سے انکار کر دیا اور عثمان کے جمع کردہ قرآن کو قبول کر لیا۔

امامت و رهبري، ص 162

اسی بارے میں کہا گیا ہے کہ:

1- رسول خدا (ص) کا وظیفہ رسالت پر عمل کرنا۔

اسی سوال کو جناب ابو بصیر نے امام صادق (ع) سے بھی کیا کہ:

اطیعوا الله و اطیعوا الرسول و اولی الامر منکم ،

سوره نساء آیت 59

اس آیت میں قرآن نے ولی امر کا نام کیوں ذکر نہیں کیا ؟ اگر واقعا شیعہ حق پر ہیں اور ولی امر سے مراد امام علی (ع) اور اہل بیت ہیں، تو کیوں پھر کیوں انکے نام کو ذکر نہیں کیا گیا ؟

ما باله لم یسم علیا و اهل بیته ؟

امام صادق (ع) نے جواب دیتے ہوئے قرآن کے طریقے اور عادت کے بارے میں فرمایا کہ:

ان رسول الله نزلت علیه الصلوة و لم یسم لهم ثلاثا و لا اربعا حتی کان رسول الله هو الذی فسر لهم ذلک و نزلت علیه . الزکاة و لم یسم لهم من کل اربعین درهما درهم، حتی کان رسول الله (ص) هو الذی فسر ذلک لهم و نزل الحج فلم یقل لهم طوفوا اسبوعا حتی کان رسول الله (ص) هو الذی فسر ذلک لهم و نزلت «اطیعو الله و اطیعوا الرسول و اولی الامر منکم » و نزلت فی علی والحسن و الحسین، فقال رسول الله (ص) فی علی: من کنت مولاه; و قال (ع) اوصیکم بکتاب الله و اهل بیتی فانی سالت الله عزوجل ان لا یفرق بینهما حتی یوردهما علی الحوض فاعطانی ذلک . . .

جب رسول خدا کے لیے نماز کی آیت نازل ہوئی تو خداوند نے اس آیت میں نماز کی تین رکعت یا چار رکعت کا ذکر نہیں کیا، یہاں تک کہ اس بارے میں خود رسول خدا نے تفصیل بتائی، پھر آیت زکات نازل ہوئی تو خداوند نے ذکر نہیں کیا کہ چالیس درہموں پر ایک درہم زکات واجب ہو گی، یہاں تک کہ اس بارے میں خود رسول خدا نے تفصیل بتائی، اور پھر حج کے بارے میں آیت نازل ہوئی تو خداوند نے نہیں فرمایا کہ کعبہ کے گرد طواف میں سات چکر لگانے ہیں، یہاں تک کہ اس بارے میں خود رسول خدا نے تفصیل بتائی، اور جب اطیعوا الله و اطیعوا الرسول و اولی الامر منکم، کی آیت امام علی حسن و حسین علیہم السلام کے بارے میں نازل ہوئی تو رسول خدا نے علی کے بارے میں فرمایا کہ: جس جس کا میں مولا ہوں، علی بھی اس اس کے مولا ہیں، اور پھر فرمایا کہ میں تم لوگوں کو وصیت کرتا ہوں کتاب خدا اور اپنے خاندان کے بارے میں، کیونکہ میں نے خداوند سے طلب کیا ہے کہ ان دونوں (قرآن و اہل بیت) کو ایک دوسرے سے جدا نہ کرے تا کہ ان دونوں کو میرے پاس حوض کوثر کے کنارے پر پہنچا دے، خداوند نے بھی میری اس دعا کو قبول کر لیا۔

اصول کافی، ج 2، ص 71

اس روایت اور اس طرح کی دوسری بہت سی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآنی احکام کی جزئیات اور تفاصیل کو کھول کر بیان کرنا، یہ رسول خدا کا وظیفہ اور فرض ہے، یعنی سنت کے بغیر قرآن کو سمجھنا ناممکن ہے۔

اہل سنت کے معروف و مشہور مفسر قرآن جناب قرطبی نے اپنی کتاب تفسیر کے مقدمے میں روایت کو نقل کیا ہے کہ:

انک رجل احمق! اتجد الظهر فی کتاب الله اربعا لایجهر فیها بالقراءة!؟ - ثم عدد علیه الصلاة و الزکاة و نحو هذا ثم قال: - اتجد هذا فی کتاب الله مفسرا! ان کتاب الله تعالی ابهم هذا و ان السنة تفسر هذا ،

ایک شخص نے جب گمان کیا کہ قرآن کو سمجھنے کے لیے سنت کی ضرورت نہیں ہے تو عمران ابن حصین نے اس شخص سے کہا کہ تم احمق ہو، کیا تم نے قرآن میں نماز ظہر کی چار رکعات دیکھی ہیں اور کیا تم نے سورہ حمد اور دوسری سورہ کے آہستہ آواز سے پڑھنے کو قرآن میں دیکھا ہے ؟ بس شک اس جیسے امور کو کتاب خدا نے مبہم ذکر کیا ہے اور سنت ان امور کی تفصیل بیان کرتی ہے۔

التفسیر و المفسران، استاد معرفت، ج 1، ص 182

اسی کتاب تفسیر میں قرطبی نے ایک اہل سنت کے عالم مکحول سے ایسے نقل کیا ہے کہ:

القرآن احوج الی السنة من السنة الی القران،

قرآن سنت کا زیادہ محتاج ہے لیکن خود سنت قرآن کی کم محتاج ہے۔

ان تمام موارد سے معلوم ہوتا ہے کہ تفصیل سے نام کو بیان نہ کرنا، یہ صرف ہمارے آئمہ کے ساتھ ہی خاص نہیں ہے، بلکہ یہی قرآنی قاعدہ اکثر شرعی احکام اور اسلامی عقائد کو بھی شامل ہوتا ہے، لہذا آئمہ معصومین کے اسماء کو تفصیل سے جاننے کے لیے ہمیں، سنت نبوی کی طرف رجوع کرنا ہو گا، جیسا کہ دوسرے شرعی احکام اور اسلامی عقائد کی تفسیر کو جاننے کے لیے ہم سنت کی طرف رجوع کرتے ہیں۔

2- قرآن کا ذکر صفات کے طریقے پر تاکید کرنا:

قرآن کریم کے قابل توجہ انداز گفتگو میں سے انداز شخصیات کی مثبت اور منفی صفات اور خصائص کا ذکر کرنا ہے، بغیر اسکے کہ ان اشخاص کے واضح کر کے ناموں کو ذکر کیا جائے۔ شاید اس کام کی حکمت یہ ہو کہ اس کام سے امت کو اس کام کی عادت ڈالی جائے کہ وہ قرآن میں مذکورہ مثبت اور منفی صفات کے ذریعے سے نیک اور برے افراد کی پہچان کر سکیں، گویا یہ صفات اشخاص کو پہچاننے کے لیے معیار و میزان ہے۔

لہذا شیعوں کا اعتقاد ہے کہ خداوند نے قرآن کی بہت سی آیات میں مثبت صفات کا ذکر کر کے قیامت تک آنے والے مسلمانوں کی آئمہ اطہار کی طرف راہنمائی فرمائی ہے اور مسلمانوں پر بھی لازم ہے کہ ان صفات کے مطابق، اپنے امام کو پہچانیں، اسکی معرفت حاصل کریں اور اپنے دینی، معاشرتی اور سیاسی سوالات کے حل کو اپنے امام سے طلب کریں۔

اسی وجہ سے امام باقر (ع) نے فرمایا ہے کہ:

من لم یعرف امرنا من القران لم یتنکب الفتن،  

جو بھی ہماری ولایت کو قرآن سے نہ سمجھ سکے تو وہ ہرگز فتنوں سے محفوظ نہیں رہے گا۔

تفسیر عیاشی، ج 1، ص 13

اس نورانی روایت میں دو مہم نکتے قابل غور ہیں:

1- اہل بیت کی امامت و ولایت قرآن میں موجود ہے اور قرآن میں مذکورہ اوصاف ہماری آئمہ معصومین کی طرف راہنمائی کرتے ہیں۔

2- شیعیان کا مختلف طریقوں سے آئمہ کی ولایت تک پہچنا ممکن ہے، لیکن قرآن کریم کی اہمیت کے پیش نظر آئمہ کی ولایت کو آیات قرآن سے زیادہ بہتر طریقے سے سمجھا جا سکتا ہے۔

اسی بارے میں امام صادق (ع) نے فرمایا ہے کہ:

اگر قرآن کو ایسے کہ جیسے خداوند نے چاہا ہے اور جیسے اسے نازل کیا ہے، تلاوت کیا جائے اور اسکی آیات میں غور و تدبر کیا جائے تو بے شک ہمیں مختلف اوصاف کے ساتھ قرآن میں پا لے گا۔

اگرچہ آئمہ اطہار کا قرآن میں واضح طور پر نام ذکر نہیں ہوا لیکن رسول خدا (ص) کے کلام میں واضح طور پر آئمہ کا نام اور خاص طور پر على ابن ابى طالب (ع) کا نام ذکر ہوا ہے کہ جسکا واضح ترین ثبوت حدیث غدیر ہے کہ اس حدیث میں رسمی طور پر امیر المؤمنین کی خلافت کا اعلان کیا گیا تھا۔

ابن البطریق، العمدة، ص 121 و 133

سید هاشم بحرانى، غایة المرام، ص 320

علامه امینى، الغدیر، ج 2، ص 278

الغدیر، ج 1، ص 14 - 114

ابن المغازلى، مناقب، ص 25 - 26

مطهرى، مرتضى، امامت و رهبرى، ص 72 - 73

العمدة، ص 173 – 175

احمدبن حنبل، مسند احمد، ج 3، ص 32

الغدیر، ج 1، ص 51 ؛ ج 3، ص 197 - 201

محمد بن حسن حرّ عاملى، اثبات الهداة، ج 3، ص 123

سلیمان بن ابراهیم قندوزى، ینابیع المودة، ص 494

غایة المرام، ص 267، ج 10

کلینى، کافى، کتاب الحجة، باب ما نص الله و رسوله على الائمة واحداً فواحداً، ج 1

آئمہ معصومین (ع) کی روایات اور علمائے حق کی تحقیق کے مطابق یہ نتیجہ حاصل ہوتا ہے کہ علی ابن ابی طالب کے مبارک کو قرآن میں واضح طور پر ذکر نہ کرنے کا سبب، قرآن کو تحریف سے محفوظ رکھنا تھا، کیونکہ وہ خطر ناک منافق کہ جہنوں نے اپنے کفر و نفاق کو پنہان اور ظاہری ایمان کو ظاہر کیا تھا اور وہ اپنے شیطانی اہداف کو حاصل کرنے کی نیت سے اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ تھے، جیسا کہ رسول خدا (ص) کی شہادت کے فوری بعد رونما ہونے والے تلخ واقعات نے ثابت کیا کہ منافق اپنے اہداف تک پہنچنے کے لیے کسی بھی ظلم و ستم سے دریغ نہیں کرتے، حتی اگرچہ وہ رسول خدا کے اہل بیت ہی کیوں نہ ہوں !

جن منافقوں نے خلافت اور جانشینی کے لیے رسول خدا (ص) کی اکلوتی بیٹی پر رحم نہیں کیا، صد در صد اگر علی (ع) کا نام واضح طور پر قرآن میں ذکر ہو جاتا تو وہ منافق اپنی تمام طاقت اور قوت کے ساتھ قرآن کے خلاف قیام کرتے اور اسے مختلف غلط بہانوں سے تحریف و تبدیل کر دیتے، جیسا کہ انھوں نے رسول خدا کی احادیث کے ساتھ صرف اور صرف امیر المؤمنین علی کے فضائل کیوجہ سے علی الاعلان اعلان جنگ کیا تھا اور اس وقت کی پوری مملکت اسلامی میں رسول خدا کی احادیث کو پڑھنا، پڑھانا اور احادیث کی کتب کو شائع کرنا سختی سے منع کر دیا گیا تھا، کیونکہ رسول خدا کی اکثر احادیث میں اہل بیت اور خاص طور پر امیر المؤمنین علی کے فضائل و مدحت ذکر کی گئی تھی۔

وہ رسول خدا کہ جنکی شان و فضیلت میں خود خداوند نے واضح طور پر فرمایا ہے کہ:

وَمَا یَنطِقُ عَنِ الْهَوَى ، إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْیٌ یُوحَى، عَلَّمَهُ شَدِیدُ الْقُوَى،

سورہ نجم آیت 3

لیکن اسی رسول (ص) نے جب علی (ع) کی امامت و ولایت کو تحریری شکل دینے کے لیے امت سے کاغذ و قلم مانگا تو منافقوں کے سردار کی پیروی کرتے ہوئے سب نے کہا کہ:

 یہ مرد (رسول خدا) بیماری کی حالت میں ہذیان کہہ رہا ہے، (نعوذ باللہ)، حالانکہ وہ ظاہری طور پر حافظ قرآن ہونے کے باوجود قرآن کے خلاف بات کر کے قرآن کو بدل رہے تھے !!!

کیا خود خداوند قرآن کی حفاظت کرنے والے نہیں ہیں ؟

ممکن ہے کہ اس بات کو پڑھ کر کسی کے ذہن میں اشکال و اعتراض آئے اور وہ کہے کہ خداوند نے قرآن کو تحریف سے محفوظ رکھنے کا وعدہ کیا ہے:

إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ،

سورہ حجر آیت 9

لہذا خداوند کے اس وعدے کے بعد آیات ولایت کا واضح طور پر ذکر نہ ہونے کا کیا معنی ہے ؟ !

اس اعتراض کے جواب میں ایک حدیث کو ذکر کیا جا رہا ہے کہ:

ابی الله ان یجری الامور الا باسبابها،

خداوند کی اس کائنات میں یہ سنت و طریقہ ہے کہ تمام افعال اپنے عادی اسباب و واسطوں کے ذریعے سے انجام پاتے اور واقع ہوتے ہیں۔

جیسے قرآن میں خداوند نے فرمایا ہے کہ:

وَ مَا مِن دَآبَّةٍ فِی الأَرْضِ إِلاَّ عَلَى اللّهِ رِزْقُهَا وَیَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَمُسْتَوْدَعَهَا كُلٌّ فِی كِتَابٍ مُّبِینٍ،

ہر جاندار کی روزی خداوند کے ذمہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سورہ هود آیت 6

لیکن اس آیت کا یہ معنی نہیں ہے کہ ہر جاندار کی روزی غیب سے اس پر نازل ہو گی بلکہ روزی حاصل کرنے کے لیے حرکت، کام، تلاش اور کوشش بھی کرنا ہو گی۔ دوسری مثالیں بھی اسی طرح ہی ہیں۔

اب اگر خداوند نے قرآن کی حفاظت کا وعدہ دیا ہے اور اس کام کو اپنے ذمہ پر لیا ہے تو اس کا یہ ہرگز یہ معنی نہیں ہے کہ خداوند ہر قرآن کے ساتھ ڈنڈا پکڑ کر بیٹھا ہوا ہے اور قرآن کو تبدیل کرنے والے کے سر پر وہ ڈنڈا مارتا ہے، نہ بلکہ خداوند کا وعدہ بر حق ہے اور اس حفاظت کے وعدے کا یہ معنی ہے کہ وہ آیات جو قرآن میں کسی بھی حوالے سے تحریف کا سبب بن سکتی ہیں، خداوند نے ان آیات کے معنی کو واضح بیان نہیں کیا اور ان آیات کو شرعی احکام اور تاریخ انبیاء والی آیات کے درمیان میں ذکر کیا ہے تا کہ دوسرے موضوعات کی طرف توجہ رہے اور ان امامت و ولایت والی آیات کا معنی بھی سیاق و سباق کے ساتھ ملا کر کیا جائے، حالانکہ اہل معرفت و تحقیق جانتے ہیں کہ رسول خدا اور اہل بیت کی روایات میں ان آیات کی کیا تفسیر بیان کی گئی ہے۔

وہ آیات کہ جو امیر المؤمنین علی (ع) کی شان میں نازل ہوئی ہیں وہ اتنی واضح ہیں کہ اہل سنت کے مفسرین نے بیان کیا ہے کہ 700 سے زیادہ آیات امیر المؤمنین علی کی امامت و ولایت کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔

اس بات پر دلیل عالم اہل سنت کی کتاب شواهد التنزیل ہے کہ جس میں قرآن کی بہت سی آیات کو امیر المؤمنین علی (ع) کی امامت و ولایت کے بارے میں نازل ہونے کو ثابت کیا گیا ہے۔

قابل توجہ ہے کہ خداوند نے بعض اوقات افراد کا نام ذکر کر کے اور کبھی افراد کے عدد و تعداد کو ذکر کر کے اور کبھی افراد کے اوصاف کو ذکر کر کے ان کا تعارف کرایا ہے۔

1- نام کے ذکر کے ساتھ:

بعض اوقات حالات کے مطابق ایک شخص کے نام کو ذکر کیا جاتا ہے، جیسا کہ:

وَمُبَشِّرًا بِرَسُولٍ یَأْتِی مِن بَعْدِی اسْمُهُ أَحْمَدُ ،

(حضرت عیسی کہتے ہیں کہ) میں تم لوگوں کو خوشخبری دیتا ہوں کہ میرے بعد ایک رسول آئیں گے اور ان کا نام احمد ہو گا۔

سوره صف آیت 6

یَا زَکَرِیَّا إِنَّا نُبَشِّرُکَ بِغُلَامٍ اسْمُهُ یَحْیَى ،

اے زکریا ہم تم کو ایک ایسے بچے کی خوشخبری دیتے ہیں کہ جسکا نا م یحیی ہے۔

سوره مریم آیت 7

2- عدد کے ذکر کے ساتھ:

اور کبھی حالات کا تقاضا ہوتا ہے کہ افراد کی تعداد کو ذکر کیا جائے جیسا کہ:

وَلَقَدْ أَخَذَ اللّهُ مِیثَاقَ بَنِی إِسْرَائِیلَ وَبَعَثْنَا مِنهُمُ اثْنَیْ عَشَرَ نَقِیبًا ،

اور خداوند نے بنی اسرائیل سے وعدہ لیا اور ہم نے ان میں سے 12 نقیبوں کو مبعوث فرمایا۔

سوره مائده آیت 12

3- صفت کے ذکر کے ساتھ:

بعض اوقات حالات تقاضا کرتے ہیں کہ مورد نظر فرد کے اوصاف کو ذکر کیا جائے، جیسے کہ خداوند نے کتاب تورات اور انجیل میں رسول خدا کا تعارف اوصاف کے ساتھ کرایا ہے۔

الَّذِینَ یَتَّبِعُونَ الرَّسُولَ النَّبِیَّ الأُمِّیَّ الَّذِی یَجِدُونَهُ مَکْتُوبًا عِندَهُمْ فِی التَّوْرَاهِ وَالإِنْجِیلِ یَأْمُرُهُم بِالْمَعْرُوفِ وَیَنْهَاهُمْ عَنِ الْمُنکَرِ وَ یُحِلُّ لَهُمُ الطَّیِّبَاتِ وَ یُحَرِّمُ عَلَیْهِمُ الْخَبَآئِثَ وَ یَضَعُ عَنْهُمْ إِصْرَهُمْ وَالأَغْلاَلَ الَّتِی کَانَتْ عَلَیْهِمْ ،

وہ لوگ جو اس رسول کی پیروی کرتے ہیں جو اُمّی نبی ہے جسے اپنے ہاں تورات اور انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں، وہ ان کو نیکی کا حکم کرتا ہے اور برے کام سے روکتا ہے اور ان کے لیے سب پاک چیزیں حلال کرتا ہے اور ان پر ناپاک چیزیں حرام کرتا ہے اور ان پر سے ان کے بوجھ اور وہ قیدیں اتارتا ہے جو ان پر تھیں، سو جو لوگ اس پر ایمان لائے اور اس کی حمایت کی اور اسے مدد دی اور اس کے نور کے تابع ہوئے جو اس کے ساتھ بھیجا گیا ہے، یہی لوگ نجات پانے والے ہیں۔

سوره اعراف آیت 157

یَا أَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُواْ مَن یَرْتَدَّ مِنکُمْ عَن دِینِهِ فَسَوْفَ یَأْتِی اللّهُ بِقَوْمٍ یُحِبُّهُمْ وَیُحِبُّونَهُ أَذِلَّهٍ عَلَى الْمُؤْمِنِینَ أَعِزَّهٍ عَلَى الْکَافِرِینَ یُجَاهِدُونَ فِــــی سَبِیلِ اللّهِ وَلاَ یَخَافُونَ لَوْمَهَ لآئِمٍ ذَلِکَ فَضْلُ اللّهِ یُؤْتِیهِ مَن یَشَاءُ وَاللّهُ وَاسِعٌ عَلِیمٌ ،

اے ایمان والو ! جو کوئی تم میں سے اپنے دین سے پھر جائے گا تو عنقریب خداوند ایسی قوم کو لائے گا کہ جن کو اللہ چاہتا ہے اور وہ اس کو چاہتے ہیں، مسلمانوں پر نرم دل ہوں گے اور کافروں پر زبردست، خداوند کی راہ میں لڑیں گے اور کسی کی ملامت سے نہیں ڈریں گے، یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہے دیتا ہے، اور اللہ گشائش والا جاننے والا ہے۔

سوره مائده آیت 54

قابل ذکر ہے کہ علی فقط حضرت امیر المؤمنین (ع) کا نام نہیں تھا، جسطرح کہ ابو طالب فقط علی کے والد گرامی کی کنیت نہیں تھی، بلکہ عربوں میں بہت سے افراد کا نام علی اور انکی کنیت ابو طالب تھی، لہذا اگر علی کا نام واضح طور پر قرآن میں ذکر ہو جاتا تو پھر بھی وہ لوگ کہ جنکے دلوں میں مرض تھا وہ اس لفظ علی کو امیر المؤمنین کے علاوہ کسی دوسرے پر منطبق کرتے۔

اسی وجہ سے بہتر طریقہ یہی ہے کہ حضرت علی (ع) کی ذات مقدس کا ان کے فضائل اور خصائص کے ساتھ تعارف کرایا جائے، تا کہ وہ فضائل اور خصائص انکے علاوہ کسی دوسرے پر بالکل قابل انطباق نہ ہوں، اسی وجہ سے خدا‏‏ئے حکیم نے قرآن کریم میں اہل بیت کا تعارف اور شناخت کروانے کے لیے اسی طریقے کو انتخاب کیا ہے اور قرآن میں انہی فضائل اور صفات کے ساتھ علی کو ولی مؤمنین اور جانشین بلا فصل رسول خدا ذکر کیا ہے۔

حضرت موسی اور ہارون کی جانشینی والی داستان:

حضرت موسى کلیم الله نے واضح طور پر اپنے بھائی ہارون کو اپنا خلیفہ اور جانشین اعلان کیا۔ حضرت موسی نے بنی اسرائیل کے 70 ہزار سے بھی زیادہ افراد کو اکٹھا کیا اور انکو بتایا اور تاکید کی کہ ہارون میرا خلیفہ اور جانشین ہے، لیکن اسکے باوجود بہت تھوڑے ہی عرصے میں بنی اسرائیل نے اپنے کانوں سے سننے کے باوجود ہارون کی اطاعت کو ترک کر دیا اور سامری کے بنائے ہوئے گوسالے کے مجسمے کی عبادت شروع کر دی۔

اس قرآنی داستان کو سامنے رکھتے ہوئے اگر خداوند قرآن میں آئمہ اطہار کے اسماء کو واضح طور پر ذکر فرما دیتا تو کیا سقیفہ کی پیروی کرنے والے آئمہ کی امامت کو دل و جان سے قبول کر لیتے ؟

کیا وہی لوگ کہ جہنوں نے رسول خدا (ص) پر ہذیان کی تہمت لگائی اور کہا:

ان الرجل لیهجر،

اگر حضرت علی (ع) کا نام قرآن میں ذکر ہو جاتا تو انھوں نے نہیں کہنا تھا:

ان جبرئیل قد هجر ؟

یا جیسے جب معاویہ ملعون نے امام علی (ع) کے خلاف بغاوت کرتے ہوتے جنگ کی تھی تو اس وقت اور آج کے مسلمان کہتے ہیں کہ معاویہ نے اجتہاد کیا تھا، تو کیا اس صورت میں بھی انھوں نے نہیں کہنا تھا کہ خدا نے قرآن میں اجتہاد کرتے ہوئے علی کے نام کو ذکر کر دیا ہے لیکن ہم بھی اجتہاد کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم خدا کی اس آیت کو قبول نہیں کرتے ! ؟

اسکے علاوہ اگر مولا علی (ع) کا نام واضح طور پر قرآن میں ذکر ہوتا تو ان حضرت سے کینہ و بغض رکھنے والے منافقوں نے انکے نام کو یا تو قرآن سے حذف کر دینا تھا یا پھر تاویل کر کے انکے نام کو بدلنے کی کوشش کرنی تھی، جیسا کہ رسول خدا (ص) کی مشہور و متواتر حدیث:

انا مدینه العلم و علّی بابها،

ابن حجر عسقلانی نے کتاب صواعق المحرقہ میں، سیوطی نے کتاب تاریخ الخلفاء میں اور ابن اثیر نے کتاب جامع الاصول میں اس روایت کو کتاب صحیح ترمذی سے نقل کیا ہے، لیکن بد قسمتی سے یہ بات لکھنا پڑ رہی ہے کہ خیانت کاروں نے جان بوجھ کر اس حدیث کو تحریف و تبدیل کرنے کے علاوہ اصلا سرے سے اس حدیث کتاب صحیح ترمذی سے حذف کر دیا ہے، لہذا اب حدیث کا کوئی نام و نشان اہل سنت کی اس معتبر کتاب میں نہیں ہے:

پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا۔۔۔۔۔

بعض اہل سنت کے منافق علماء نے تحریف سے پست تر کام کرنے کی ناکام کوشش کی ہے اور وہ یہ کہ انھوں نے لفظ علیّ کو لفظ باب کی صفت قرار دیتے ہوئے، بلند و بالا معنی کیا ہے، یعنی رسول خدا کی حدیث کا یہ معنی ہو گا:

میں علم کا شہر ہوں اور اسکا شہر کا دروازہ بلند و بالا ہے،

لعنۃ اللہ علی المنافقین و المعاندین۔۔۔۔۔

ابن عباس کا بیان ہے کہ حضرت علی (ع) کی شان میں قرآن کی 300 آیات نازل ہوئی ہیں۔

ابن عساکر و سیوطی نے ابن عباس سے نقل کیا ہے کہ:

نَزَلَت فِی عَلِیٍّ ثَلاثَ مِأه آیَه.

حضرت علی کی شان میں قرآن کی 300 آیات نازل ہوئی ہیں۔

تاریخ الخلفاء للسیوطی، ص 170

الصواعق المحرقه لإبن حجر مکی، ص 196

تاریخ بغداد للخطیب البغدادی، ج 6 ص 219

تاریخ مدینه دمشق لإبن عساکر، ج 42 ص 364

ینابیع الموده لذوی القربى للقندوزی، ج 1 ص 377

قابل توجہ ہے کہ اگر حضرت علی (ع) کی شان میں نازل ہونے والی تمام آیات سے صرف نظر کریں اور اگر حضرت علی (ع) کی امامت و خلافت کے بارے میں تمام روایات سے صرف نظر کریں، جیسے علی خلیفتی و وصیی، ولیکم من امری، أنت منی بمنزله هارون من موسی و …

اور تعصب سے پاک ہو کر اپنی عقل و بصیرت سے کام لیں تو ہم دیکھیں گے کہ تاریخ اسلام کے آغاز میں رسول خدا (ص) کے بعد اسلامی معاشرے میں علم، قدرت، فضیلت، شجاعت، عبادت، اور ایمان کے لحاظ سے کوئی بھی شخص حضرت علی (ع) کی مانند نہیں تھا۔

خود احمد ابن حنبل نے بہت ہی واضح طور پر کہا ہے کہ:

ما لِأَحَدٍ مِنَ الصَّحابَهِ مِنَ الفَضائِلِ بِالأسانید الصِّحاحِ مِثل ما لِعَلِیٍّ رَضِیَ الله عَنهُ.

صحیح اسناد کے ساتھ حضرت علی کے لیے ثابت ہونے والے فضائل، کسی بھی دوسرے صحابی کے لیے ثابت نہیں ہوئے ہیں۔

اہل سنت اور وہابیوں کو جب آئمہ اہل بیت کی معصوم و پاک ذات میں جب کسی قسم کا کوئی گناہ، خطا اور اعتراض نظر نہیں آتا تو، آئمہ معصومین سے اور شیعیان سے اپنے باطنی نفاق اور کینے کو ظاہر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ:

اگر شیعہ حق پر ہیں اور اگر شیعہ مذہب بھی حق ہے اور اگر شیعوں کے آئمہ بھی حق ہیں تو پھر انکے آئمہ کے نام قرآن میں کیوں ذکر نہیں ہوئے ؟

کیونکہ انکے پاس ایک آیت ہے کہ:

وَ نَزَّلْنَا عَلَیْکَ الْکِتَابَ تِبْیَانًا لِکُلِّ شَیْءٍ،

یعنی قرآن تمام چیزوں کو کھول کر بیان کرنے والا ہے،

سوره نحل آیت 89

ان جاہلوں کے جواب میں کہنا چاہیے کہ یہ منافقانہ اور یہودیانہ طریقہ ہے کیونکہ منافق اور یہودی:

أَفَتُؤْمِنُونَ بِبَعْضِ الْکِتَابِ وَتَکْفُرُونَ بِبَعْضٍ،

کیا تم قرآن کے بعض حصے پر ایمان لاتے ہو اور بعض حصے کا نکار کر دیتے ہو ؟

سورہ بقرہ آیت 85

اس لیے کہ اگر جس قرآن نے کہا ہے کہ:

وَ نَزَّلْنَا عَلَیْکَ الْکِتَابَ تِبْیَانًا لِکُلِّ شَیْءٍ،

تو بالکل اسی قرآن نے یہ بھی کہا ہے کہ:

وَأَنزَلْنَا إِلَیْکَ الذِّکْرَ لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَیْهِمْ وَ لَعَلَّهُمْ یَتَفَکَّرُونَ،

اور اس قرآن کو ہم نے آپکی طرف نازل کیا تا کہ آپ قرآن کو لوگوں کے بیان کریں۔۔۔۔۔

سورہ نحل آیت 44

یعنی قرآن رسول خدا (ص) کے ذریعے سے تفصیل بیان کرنے کے بعد

تِبْیَانًا لِکُلِّ شَیْءٍ، نہ کہ تفصیل بیان کیے بغیر۔

اسی طرح خداوند نے قرآن کریم میں فرمایا ہے کہ:

وَمَا أَنْزَلْنَا عَلَیْکَ الْکِتَابَ إِلَّا لِتُبَیِّنَ لَهُمُ الَّذِی اخْتَلَفُوا فِیهِ ،

اور ہم نے اس کتاب کو آپ پر نازل کیا ہے تا کہ آپ ان لوگوں کے لیے ان چیزوں کو بیان کریں، جن میں وہ آپس میں اختلاف کرتے ہیں۔

سوره نحل آیت 64

اگر قرآن نے کہا ہے کہ میں تمام چیزوں کو کھول کر بیان کرنے والا ہوں، تو قرآن نے اسکے ساتھ یہ بھی فرمایا ہے کہ:

وَ مَا آَتَاکُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَ مَا نَهَاکُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا،

اور جو کچھ رسول خدا تم کو دیں، اسے لے لو اور جس سے منع کریں تو اس سے منع ہو جاؤ۔

سورہ حشر آیت 7

اگر قرآن کہتا ہے کہ میں تمام چیزوں کو کھول کر بیان کرنے والا ہوں، تو قرآن نے اسکے ساتھ یہ بھی فرمایا ہے کہ:

یَا أَیُّهَا الَّذِینَ آَمَنُوا أَطِیعُوا اللَّهَ وَ رَسُولَهُ،

اے ایمان والو خداوند اور اسکے رسول کی اطاعت کرو۔

سورہ أنفال آیت 20

یَا أَیُّهَا الَّذِینَ آَمَنُوا أَطِیعُوا اللَّهَ وَ أَطِیعُوا الرَّسُولَ وَ أُولِی الْأَمْرِ مِنْکُمْ ،

اے ایمان والو اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور اپنے میں سے صاحبان امر کی اطاعت کرو۔

سورہ نساء آیت 59

صاحبان امر کا کامل ترین مصداق، آئمہ اہل بیت (ع) ہیں۔

اسی طرح اہل سنت کا عقیدہ ہے اور کتاب صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں بار بار ذکر ہوا ہے کہ حضرت فاطمہ جنت کی عورتوں کی سردار ہیں۔

صحیح بخاری ج 4 ص 209 کتاب بدئ الخلق،

حالانکہ قرآن میں حضرت مریم اور آسیہ کا نام ذکر ہوا ہے اور حتی حضرت مریم کے نام کی ایک سورہ بھی قرآن میں موجود ہے۔

فریقین کے علماء کے نزدیک حضرت زہرا (س) تمام جنت کی عورتوں کی سردار ہیں کہ ان عورتوں میں مریم و آسیہ و حوا و خدیجہ بھی شامل ہوں گی، یعنی حضرت زہرا ان سب عورتوں سے افضل ہیں، لیکن اسکے باوجود کسی مسلمان کی نظر میں کوئی اعتراض اور مشکل نہیں ہے کہ حضرت زہرا کا نام واضح طور پر قرآن میں کیوں ذکر نہیں ہوا ؟

ایک مکمل سورہ کوثر کہ جو حضرت زہرا (س) کی شان و فضیلت میں نازل ہوئی ہے، حتی اس سورہ میں بھی حضرت زہرا کا نام تک ذکر نہیں ہوا۔،لیکن علی (ع) سے بغض و کینے کی وجہ سے ہر روز منبروں، ٹی وی چینلوں پر دن رات کہتے رہتے ہیں کہ اگر شیعہ مذہب حق ہے، اگر آئمہ کی امامت خدا کی طرف سے ہے وغیرہ وغیرہ تو ہمیں بتاؤ کہ علی کا نام قرآن میں واضح طور پر ذکر کیوں نہیں ہوا ! ؟

وَمَنْ كَانَ فِي هَذِهِ أَعْمَى فَهُوَ فِي الْآخِرَةِ أَعْمَى وَأَضَلُّ سَبِيلًا،

اور جو اس دنیا میں اندھا ہو گا تو وہ آخرت میں بھی اندھا ہی محشور ہو گا۔۔۔۔۔

سورہ بنی اسرائیل آیت 72

اس لیے کہ جنکے دل نور معرفت خداوند سے اور عشق محمد و آل محمد سے لبریز ہیں، وہ اشاروں کی زبان سے ہی سمجھ جاتے ہیں کہ اس سورہ سے مراد یا اس آیت سے مراد اہل بیت ہیں، لیکن جن لوگوں کے دلوں میں نفاق و بغض کا مرض ہے اور وہ دل و جان سے بنی امیہ کی حمایت کرنے والے ہیں، وہ ایسے عقل و دل کے اندھے ہیں کہ آیات و روایات میں نہ انکو واضح صفات و فضائل نظر آتے ہیں اور نہ ہی انکو خداوند کے اشاروں کی زبان سمجھ آتی ہے۔

فى قلوبهم مرض فزادهم الله مرضا ولهم عذاب الیم بما كانوا یكذبون ۔

انکے دلوں میں مرض ہے پس اللہ نے انکے مرض کو زیادہ کیا ہے۔۔۔۔۔

سورہ بقرہ آیت 10

التماس دعا۔۔۔۔۔

 





Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی