2018 November 19
گلگت بلتستان کے وہابی علاقہ چلاس میں سپاہ صحابہ/داعش نے لڑکیوں کے اسکول نذر آتش کردیئے
مندرجات: ١٦٨٦ تاریخ اشاعت: ٠٥ August ٢٠١٨ - ١٤:٠٥ مشاہدات: 63
خبریں » پبلک
گلگت بلتستان کے وہابی علاقہ چلاس میں سپاہ صحابہ/داعش نے لڑکیوں کے اسکول نذر آتش کردیئے

شیعیت نیوز: گلگت بلتستان کے وہابی علاقے چلاس میں داعش اور سپاہ صحابہ نے رات کے اندھیرے میں لڑکیوں کی تعلیم کے لیے قائم متعدد اسکولوں کو نذر آتش کردیا، مقامی افراد کے مطابق چلاس شہر میں قائم لڑکیوں کے اسکول رونئی اور تکیہ میں شرپسندوں نے مبینہ طور پر دھماکے بھی کئے، اس کے علاوہ تحصیل چلاس کے علاقے ہوڈر اور تھور میں قائم لڑکیوں کے اسکولوں کو نذر آتش کیا گیا۔

دوسری جانب ضلع دیامر کی تحصیل داریل میں آرمی پبلک اسکول سمیت گیال گاؤں میں قائم لڑکیوں کے اسکول، تبوڑ میں لڑکیوں کے لیے قائم 2 اسکول اور کھنبری میں قائم ایک لڑکیوں کے اسکول کو بھی آگ لگائی گئی، مقامی افراد کے مطابق چلاس کے علاقے دیامر میں تحصیل تانگیر میں جنگلوٹ میں قائم آرمی پبلک اسکول سمیت گلی بالا اور گلی پائین میں قائم 2 لڑکیوں کے اسکولوں کو بھی نذر آتش کیا گیا۔

یہاں یہ بات بھی دھیاں میں رہے کہ چلاس کالعدم سپاہ صحابہ کا گڑھ اور وہابی علاقہ ہے، گذشتہ چار سال قبل اسی علاقہ کے سامنے سے بلتستان اور گلگت جانے والی بسوں کو روک سپاہ صحابہ سے سیکڑوں شیعہ مسلمانوں کو شناخت کرکے بے دردی سے قتل کردیا تھا۔

دوسری جانب گذشتہ مہنیہ ہی اس علاقہ میں کالعدم سپاہ صحابہ کے دہشتگر د اورنگزیب فاروقی نے دورہ کیا تھا اور ایک بڑے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے دھمکی دی تھی کہ ہم نے یہاں کی عوام کو کنٹرول کیا ہوا ہے اور اب یہ کوئی دہشتگردی نہیں کریں گے، لیکن ملک بھر میں ہونے والے جنرل الیکشن کے بعد ان تکفیری دہشتگردوں کی بری طرح شکست سے واضح ہوگیا ہے کہ انہوںنے اس علاقہ کو پرامن بنانے کا پلان تریب دیے دیا ہے۔






Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی