2018 November 20
کیا امام زمان (عج) کے نظروں سے غائب ہونے کے باوجود بھی انکے وجود کا کوئی فائدہ ہے ؟
مندرجات: ١٥٢٨ تاریخ اشاعت: ٠١ May ٢٠١٨ - ١٣:٣٤ مشاہدات: 575
سوال و جواب » امامت
جدید
کیا امام زمان (عج) کے نظروں سے غائب ہونے کے باوجود بھی انکے وجود کا کوئی فائدہ ہے ؟

توضیح سوال:

وہابی چینل دن رات اور خاص طور پر امام زمان (ع) کی ولادت کے ایام میں یہ سوال بار بار دہراتے رہتے ہیں کہ تمہارے امام تو غائب ہے، اس غائب امام کے وجود کا تمہیں فائدہ آخر کیا ہے۔ مہربانی کریں ہمیں اس سوال کا جواب بتائیں تا کہ ہم ان لوگوں کو اپنے امام زمان (ع) کے وجود کے فوائد کو بتا سکیں۔

 جواب:

انبيا ہوں يا  آئمہ ،جب سب کا تقرر خدا کی طرف سے ہوتا ہے اور يہ دين و دنيا دونوں کے دینی راہنما ہوتے ہيں، کسی کی رعيت نہيں ہوتےاگر کہيں دنيوی رياست و حکومت پر دوسرے لوگ قابض ہو جائيں تو اس سے ان کی نبوت و امامت ميں کوئی فرق نہيں آتا۔

 اسی طرح يہ حضرات حاضر ہوں يا غائب ہوں ہر حالت ميں نبی و امام رہتے ہيں۔ حضور و عدم حضور يا غيبت و ظہور سے شان نبوت و امامت ميں کوئی تبديلی نہيں ہوتی۔ انبياء کی بھی غيبتيں ہوئی ہيں۔ نبی تھے اور نبی رہے۔ اسی طرح حضرت حجت عليہ السلام ہر حال ميں امام ہيں اور حضرت کا وجود مبارک تمام عالم خدا کے لیے رحمت و نعمت ہے۔ حضرت حجت عليہ السلام اسی نور رسول اللہ کے حامل ہيں، جس سے خطاب الہی ہوا تھا:

لولاک لما خلقت الافلاک،

يعنی تم نہ ہوتے تو ميں آسمانوں کو پيدا نہ کرتا۔

پس عالم کی پيدائش جس پر موقوف ہے اسی پر عالم کی بقاء بھی  موقوف ہوتی ہے۔ اگر يہ نہ ہوں تو ساری دنيا ختم ہو جائے، اسی لیے تو اس نور کے حامل امام موجود ہيں اور ہر قسم کی نعمتيں عام خلائق کے شامل حال ہيں۔ آسمان سے بارش ہوتی ہے ، زمين سے دانا اگتا ہے ، درختوں پر پھل آتے ہيں ، عقلوں ميں سمجھنے کی قوت ہے ، آنکھوں ميں بصارت ہے ، کانوں ميں سماعت ہے۔ زبان ميں گويائی ہے اور ان انعامات الہيہ کے ذريعہ روئے زمين پر حجت خدا کا وجود ہے جو رحمۃ  للعالمين کے فرزند ہيں۔ جن کی برکت سے دنيا با وجود ان بد کرداريوں کے جو سابقہ امتوں پر نزول عذاب کا باعث ہوتی رہی ہيں ، عذابوں سے محفوظ ہيں اور پہلے کے عالم گير عذاب مسخ و خسف ، غرق و حرق يعنی صورتوں کا بدل جانا ، زمين ميں دھنسنا ، پانی ميں ڈوبنا ، آگ ميں جلنا سب کے سب انھيں کے سبب سے رکے ہوئے ہيں، کيونکہ عذاب نازل نہ ہونے کے دو سبب قرآن ميں بيان ہوئے ہيں:

يا رسول اللہ (ص) کی موجودگی ،

 يا بندوں کا استغفار  کرنا،

وماکان اللہ ليعذبھم وانت فيھم وماکان اللہ معذبھم وھم يستغفرون،

يعنی اے رسول ،جب تک تم ان ميں موجود ہو خدا ان پر عذاب نہ کرے گا اور نہ ايسی حالت ميں عذاب نازل فرمائے گا کہ لوگ استغفار کرتے رہيں۔

پس اب نہ رسول اللہ تشريف فرما ہيں نہ سب بندے معافی کے خواہاں ہيں ، توبہ و استغفار مثل نہ ہونے کے ہے۔ پھر عذاب کيوں نازل نہيں ہوتا ؟ صرف اس لیے کہ قائم مقام رسول ہمنام رسول موجود ہيں جو فرزند رسول ہيں ، وارث رسول ہيں جن کا فعل ، فعل رسول ہے ، جن کا وجود، وجود رسول ہے ، جن کا نور، نور رسول ہے اور وہ اسی نور مبارک کے حامل ہيں جو غايت خلقت عالم اور سبب بقائے عالم ہے۔ يہی مطلب اس فرمان نبوی کا ہے:

النجوم امان لاھل السماء واھل بيتي امان لاھل الارض،

يعنی ستارے اہل آسمان کے لیے امان کا سبب ہيں اور ميرے اہل بيت زمين والوں کے واسطے باعث امن و امان ہيں ۔

ستارے نہ ہوں تو آسمان والوں کے لیے مصيبت ہے اور ميرے اہل بيت ميں سے کوئی نہ ہو تو زمين والوں کے لیے مصيبتيں ہيں۔

عصر غیبت میں امام مہدی (عج) کے فوائد:

عقیدہ مہدویت کے غیر نفسیاتی فوائد کو دو قسموں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:

فوائد عامہ:                     فوائد خاصہ:

امام مہدی (عج) کے وجود کے فوائد عامہ:

امام مہدی کے وجود کے بہت سے فوائد عامہ شیعہ و سنی روایات میں ذکر کیے گئے ہیں، جن میں سے چند ایک مندرجہ ذیل ہیں:

 1-  زمین و آسمان کی بقاء:

امام مہدی (عج) کے وجود کا ایک فائدہ یہ ہے کہ آپ تمام زمین و آسمان والوں کیلئے امان اور ان کی بقاء کا سبب ہیں اور آپ ہی کے وجود کی وجہ سے زمین و آسمان قائم ہیں۔

امام کے وجود کے اسی فائدہ کو امام سجاد (ع) کی حدیث میں بیان کیا گیا ہے کہ جسے امام صادق (ع) نے نقل فرمایا:

نحن أئمۃ المسلمین وحجج اللہ علی العالمین وسادۃ المومنین وقادۃ الغرّ المحجلین وموالی المومنین ونحن امان لأھل الارض کما أن النجوم أمان لأھل السماء ونحن الذین بنا یمسک اللہ السماء أن تقع علی الأرض الاّ باذنہ وبنا یمسک الأرض أن تمید بأھلھا،

ہم (اہل بیت) امت اسلام کے پیشوا، زمین والوں پر اللہ کی حجت، مؤمنین کے رہبر، (قیامت کے دن) سفید رُو افراد کے پیشوا اور مومنوں کے سرپرست ہیں، ہم زمین والوں کیلئے امان ہیں، جیسے ستارے آسمان والوں کیلئے، ہمارے ہی سبب اللہ نے آسمان کو زمین پر گرنے سے محفوظ رکھا ہوا ہے مگر یہ کہ جب خدا چاہے، اور ہمارے ہی سبب اللہ نے زمین پر بسنے والوں کو ہلاکت سے بچایا ہوا ہے۔

کمال الدین، شیخ صدوق ج 1 ص 207

فرائد السمطین جوینی شافعی ج 1 ص 45

ینابیع المودۃ قندوزی حنفی ص 21

اسی طرح کی عبارت امام مہدی (عج) کی ایک توقیع (خط) میں بھی ملتی ہے کہ جس میں آپ نے فرمایا:

انّی امان لأھل الارض کما أن النجوم أمان لأھل السماء،

میں زمین والوں کیلئے امان ہوں جیسے ستارے آسمان والوں کیلئے امان ہیں۔

الاحتجاج، طبرسی ج 2 ص 545

کمال الدین، شیخ صدوق ج 2 ص 485

پس ہر زمانے میں زمین و آسمان کی بقاء اہل بیت میں سے کسی ایک فرد کی موجودگی کی دلیل ہے، مشہور حدیث:

لولا الحجۃ لساخت الأرض والسماء،

اگر حجتّ ِخدا کا وجود نہ ہو تو زمین و آسمان تباہ ہو جائیں،

بعض احادیث میں یہ الفاظ ہیں:

لو بقیت الأرض بغیر امام لساخت،

اگر زمین بغیر امام کے باقی رہے تو تباہ ہو جائے گی۔

اصول کافی: ج1 ص 179، باب أن الأرض لا تخلوا من حجۃ،

بصائر الدرجات،ص488 ، باب أن الأرض لاتخلوا بغیر امام،

امام مہدی (عج) کے وجود کا یہ فائدہ اہل سنت کی معتبر کتب میں بھی بیان ہوا ہے، چنانچہ اہل سنت کے علماء نے روایت کی ہیں کہ پیغمبر اکرم ؐنے فرمایا:

النجوم امان لاھل السماء فاذا ذھبت ذھبوا واھل بیتی امان لاھل الارض فاذا ذھب اھل بیتی ذھب أھل الارض،

ستارے آسمان والوں کیلئے امان ہیں ، جب وہ ختم ہو جائیں گے تو آسمان والے بھی ختم ہو جائیں گے اور میرے اہل بیت زمین والوں کیلئے امان ہیں پس جب میرے اہل بیت نہ رہیں گے تو زمین والے بھی ختم ہو جائیں گے۔

ذخائر العقبی، طبری شافعی ص 17

نیز یہی حدیث اہل سنت کی بہت سی کتب میں ایک ہی مضمون میں مختلف الفاظ کے ساتھ بیان ہوئی ہے ۔

المستدرک، حاکم نیشاپوری،ج 2 ص 448

مجمع الزوائد، ھیثمی،ج 9 ص 174

المعجم الکبیر، الطبرانی، ج 7 ص 22

الجامع الصغیر، جلال الدین سیوطی، ج 2 ص 68

حکمت الہی کا تقاضا تھا کہ وہ اہل بیت کے ذریعہ سے سیّد الانبیاء کی ذریت کو قیامت تک قائم رکھے، تا کہ عام لوگ ان کے نور ہدایت سے استفادہ کرتے رہیں لہذا وہی اس کائنات کی بقاء کا سبب اور امت کیلئے امان ہیں۔

پس شیعہ و سنی متفقہ روایات کی بناء پر زمین و آسمان کی بقاء اس بات کی دلیل ہے کہ ہر دور میں اہل بیت کا کوئی نہ کوئی فرد موجود رہا ہے لہذا اِس دور میں بھی اہل بیت کا آخری فرد یعنی امام مھدی عجل اللہ فرجہ الشریف زندہ و موجود ہیں، نہ کہ مستقبل میں پیدا ہوں گے۔

اسی طرح دعائے عدیلہ میں امام مہدی عجل اللہ فرجہ الشریف کو ان الفاظ میں زمین و آسمان کی بقاء کا سبب قرار دیا گیا ہے:

و بوجودہ ثبتت الارض والسماء،

امام زمان عجل اللہ فرجہ الشریف ہی کے وجود سے زمین و آسمان ثابت و قائم ہیں۔

مفاتیح الجنان، دعائے عدیلہ.

 2- اہل زمین کی اجتماعی عذاب سے نجات:

امام مہدی (عج) کے وجود کا ایک اور انتہائی اہم فائدہ یہ ہے کہ خداوند لوگوں کی بد کرداریوں اور برے اعمال کے باوجود ان پر اجتماعی عذاب بھیجنے میں جلدی نہیں کرتا۔ امام مہدی عجل اللہ فرجہ الشریف کے وجود کے اس فائدہ سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کیونکہ سابقہ قوموں کی تاریخ گواہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے چھوٹے چھوٹے گناہوں کی وجہ سے انہیں انتہائی سخت عذاب میں مبتلا کر دیا۔ کوئی قوم مسخ ہو گئی اور کسی قوم کو غرق کر دیا گیا، کسی قوم پر آسمانی بجلی گری اور کوئی مختلف قسم کے طوفانوں میں گر گئی لیکن موجودہ زمانے میں سابقہ قوموں کے گناہوں کی نسبت بڑے بڑے گناہ انجام دیئے جا رہے ہیں، بلکہ شاید یہ کہنا بھی صحیح ہو کہ سابقہ امتوں میں موجود سارے گناہ آج کے مسلمانوں میں موجود ہیں، آج کے مسلمان معاشرے میں گناہ و فساد اور بدکاری عام ہے لیکن اس کے باوجود مسلمان اجتماعی عذاب  میں گرفتار نہیں ہو رہے تو یہ صرف امام زمان عجل اللہ فرجہ الشریف ہی کے وجود مبارک کی برکت کے سبب ہے۔

خداوند نے قرآن مجید میں کسی قوم پر عذاب نہ آنے کے دو اسباب بیان فرمائے ہیں:

وَمَا کَانَ اللّٰہُ لِیُعَذِّبَھُمْ وَأَنْتَ فِیْھِمْ وَمَا کَانَ اللّٰہُ مُعَذِّبَھُمْ وَھُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ،

اے نبی، اللہ اُن لوگوں کو عذاب میں مبتلا نہیں کرتا جبکہ تم اُن میں موجود ہو، اور خدا انہیں عذاب نہیں دیتا جبکہ وہ توبہ و استغفار کرتے رہیں۔

سورہ انفال آیت 33

اس بناء پر کوئی بھی قوم صرف دو اسباب کی بناء پر عذاب خدا سے نجات پا سکتی ہے ، یا ان کے درمیان رسول خدا موجود ہوں اور یا وہ قوم توبہ و استغفار کرتی ہو۔ لیکن موجودہ زمانے میں نہ تو نبی ظاہری طور پر امت کے درمیان موجود ہیں اور نہ ہی لوگوں کے درمیان توبہ و استغفار کا رواج ہے بلکہ اکثر لوگ توبہ و استغفار کی بجائے گناہوں کی طرف زیادہ رغبت رکھتے ہیں۔

اب سوال یہ ہے کہ جب عذاب سے بچنے کیلئے قرآن مجید میں ذکر شدہ دونوں اسباب موجود نہیں تو پھر مسلمان اجتماعی عذاب کا شکار کیوں نہیں ہو رہے ؟

اس سوال کا جواب صرف یہ ہے کہ اگرچہ رسول خدا ظاہری طور پر موجود نہیں لیکن آخری نبی کا وہ آخری نائب موجود ہے کہ جو آخری محمد بھی ہے کیونکہ رسول خدا فرما چکے ہیں کہ :

اوّلنا محمد وأوسطنا محمد وآخرنا محمد،

یعنی میرے اہل بیت میں سے سب مجھ (محمد) ہی جیسے ہیں۔

بحار الأنوار علامہ مجلسی ج 36ص 3، باب نادر فی معرفتھم صلوات اللہ علیھم.

پس جس طرح امام مہدی عجل اللہ فرجہ الشریف کے جدِّ بزگوار رسول خدا (ص) کا وجود امت کیلئے عذاب خدا سے امان کا سبب تھا، ویسے ہی موجودہ امت اگر عذاب خدا سے محفوظ ہے اور خداوند ہماری بد کرداریوں کے باوجود عذاب بھیجنے میں جلدی نہیں کر رہا تو یہ صرف اور صرف امام مہدی عجل اللہ فرجہ الشریف ہی کے وجود مبارک کی وجہ سے ہے۔

اہل سنت کے بہت سے علماء نے اسی بات کا اقرار بھی کیا ہے جیسے قندوزی نے اپنی کتاب ینابیع المودۃ میں آیت (وَمَا کَانَ اللّٰہُ لِیُعَذِّبَھُمْ وَأَنْتَ فِیْھِمْ) کے ذیل میں لکھا ہے:

أشار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم الی وجود ذلک المعنی فی أھل بیتہ، وأنھم أمان لاھل الارض کما کان (ھو) صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم أمانا لھم،

پیغمبر اکرم نے اس بات کی طرف اشارہ فرمایا کہ یہی صفت آپ کے اہل بیت میں بھی پائی جاتی ہے اور وہ بھی زمین والوں کیلئے امان ہیں، جیسے آپ امان تھے۔

ینابیع المودۃ، قندوزی حنفی : آیت ' 'وما کان اللہ لیعذبھم ' 'کے ذیل میں؛

مستدرک، حاکم نیشاپوری ج 3 ص 149

اہل سنت کی ایک جماعت نے نقل کیا ہے:

النجوم أمان لاہل السماء وأھل بیتی أمان لامتی،

ستارے آسمان والوں کیلئے امان ہیں اور میرے اہل بیت میری امت کیلئے امان ہیں۔

شواھد التنزیل، حاکم حسکانی ج 1 ص 426

ذخائر العقبی، الطبری ص 17

اور دوسری روایت میں ہے:

النجوم أمان لاہل السماء وأھل بیتی أمان لاہل الارض،فاذا ذھب النجوم ذھب أھل السماء واذا ذھب أھل بیتی ذھب أھل الارض،

ستارے آسمان والوں کیلئے امان ہیں اور میرے اہل بیت زمین والوں کیلئے امان ہیں ، پس جب ستارے ختم ہو جائیں گے تو آسمان والے بھی ختم ہو جائیں گے اور جب میرے اہل بیت نہ رہیں گے تو زمین والے بھی ختم ہو جائیں گے۔

ینابیع المودۃ، قندوزی حنفی ج 2 ص 442

پس ماننا پڑے گا کہ اگر یہ امت اجتماعی عذاب سے محفوظ ہے اور زمین و آسمان اپنی اپنی جگہ قائم ہیں تو صرف اہل بیت کے آخری فرد امام مہدی عجل اللہ فرجہ الشریف کے وجود مبارک کی برکت سے ہے، وگرنہ نہ زمین و آسمان باقی رہتے اور نہ ہی کوئی جاندار اس دنیا میں موجود ہوتا۔

3- دین اسلام کی حفاظت و بقاء:

جب سے رسول خدا (ص) نے دین اسلام کو لوگوں کے سامنے دائمی اور ہمیشہ رہنے والے دین کے عنوان سے پیش کیا ہے، اُسوقت سے لیکر آج تک دین اسلام کے دشمن مختلف حربوں اور ہتھکنڈوں کے ذریعہ اسلام کو نابود کرنے کی کوششوں میں سرگرم ہیں لہذا کبھی ذاتی نظریات کو دینی مسائل میں داخل کرنے کی کوشش کی گئی اور کبھی نئے دور کے رسوم و رواج کو دین کے ساتھ مخلوط کرنے کی سعی ہوئی، کبھی دین کی تفسیر کے عنوان سے تحریف کی سازشیں ہوئیں اور کبھی یہ بہانہ بنا کر لوگوں کو بے دین بنانے کی کوشش کی گئی کہ اسلام نئے دور کے تقاضوں کو پورا نہیں کرتا، لہذا کیا یہ ضروری نہیں تھا کہ دین اسلام کو پسندیدہ اور دائمی دین قرار دینے والا خالق، کوئی ایسا انتظام کرے کہ ہر زمانے میں دین اسلام دشمنوں کی سازشوں سے محفوظ رہے اور اسلامی تعلیمات فنا نہ ہونے پائیں ؟!

پس یہ بات تسلیم کرنا پڑے گی کہ خداوند نے اپنے دین کی حفاظت و بقاء کا انتظام ضرور کیا ہے ، البتہ ہمارے عقیدہ کے مطابق وہ امام مہدی عجل اللہ فرجہ الشریف ہی کی ذاتِ بابرکت ہے کہ جو غیبت کے دوران دین اسلام کی حفاظت و بقاء اور دشمنوں سے اِس دین اور اسکی تعلیمات کے بچاؤ کا اہم فریضہ ادا کر رہے ہیں اور آپ کے وجود ہی کی برکت سے دین قائم و دائم ہے۔ جیسا کہ رسول خدا  (ص)نے فرمایا:

في کل خلف من امتي عدول من أھل بیتي ینفون عن ھذا الدین تحریف الغالین وانتحال المبطلین وتاویل الجاہلین،

میری امت کی ہر نسل میں میرے اہل بیت میں سے عادل فرد ہوں گے جو دین کو غالیوں کی تحریف، قبول نہ کرنے والوں کے انکار اور جاہلوں کی تاویل سے بچائیں گے۔

بحار الأنوار، علامہ مجلسی ج 36 ص 256 باب 41

یہاں قابل توجہ نکتہ یہ ہے کہ مذکورہ حدیث اہل سنت کی بعض معتبر کتب میں بھی موجود ہے ۔

ینابیع المودۃ، قندوزی حنفی ج 2 ص 114

نیز اہل سنت کیلئے اس دعوی کی مزید توضیح و تشریح میں خلفاء سے متعلق احادیث بھی بیان کی جا سکتی ہیں کہ جن سے امام مہدی عجل اللہ فرجہ الشریف کے وجود کا مذکورہ فائدہ ثابت ہوتا ہے۔

جیسا کہ اہل سنت نے بیان کیا ہے کہ رسول خدا (ص) نے فرمایا:

لا یزال ھذا الدین عزیزا منیعا الی اثنی عشر خلیفۃ،

یہ دین اسوقت تک عزیز اور قوی ومضبوط رہے گا یہاں تک کہ بارہ خلفاء ہو جائیں۔

المعجم الکبیر، طبرانی ج 2 ص 195 باب عامر الشعبی

صحیح مسلم:ج 6 ص 3، باب الناس تبع لقریش والخلافۃ فی قریش

سنن أبی داود: ج 2 ص 903

ایک اور روایت کے مطابق رسول خدا (ص) نے فرمایا:

لایزال ھذا الدین قائما حتی یکون علیکم اثنا عشر خلیفۃ،

یہ دین اُسوقت تک باقی رہے گا جب تک کہ تم پر بارہ خلفاء نہ ہو جائیں۔

سنن أبی داود ج 2 ص 903 ، آخر کتاب الفتن

المعجم الکبیر، طبرانی ج 2 ص 207 باب ابو خالد الوالبی

اسی طرح اہل سنت علماء نے رسول خدا (ص) کا یہ فرمان بھی نقل کیا ہے:

لایزال ھذا الدین عزیزا منیعا ینصرون علی من ناواھم علیہ الی اثنی عشر خلیفۃ،

یہ دین اُسوقت تک محکم و پائیدار اور دشمنوں پر غالب رہے گا جب تک بارہ خلفاء ہوں گے۔

مسند أحمد حنبل ج 5 ص 99

اہل سنت کی کتب میں موجود مذکورہ متواتر حدیث میں پیغمبر اکرم نے اپنے بعد بارہ خلفاء کو دین کی حفاظت و بقاء کا ضامن قرار دیا ہے کہ جنکی وجہ سے دین اسلام کی شان و شوکت باقی رہے گی۔

اگرچہ انتہائی معتبر اہل سنت علماء بھی مذکورہ حدیث کے مصداق کی تعیین میں بوکھلاہٹ کا شکار ہو گئے ہیں اور بارہ خلفاء کی تعیین سے عاجز نظر آتے ہیں، حتی کہ بعض نے بارہ خلفاء کی تعداد پوری کرنے کیلئے یزید جیسے فاسق و فاجر کو بھی ان خلفاء میں شمار کیا ہے۔

شرح صحیح الترمذی، ابن عربی، حدیث خلفاء کے ذیل میں۔

لیکن اہل تشیع کا مؤقف اس معاملہ میں انتہائی واضح ہے اور شیعہ حضرات کے نزدیک پیغمبر اکرم نے جن بارہ خلفاء کا تذکرہ کرتے ہوئے انہیں دین کی بقاء اور حفاظت کا ذمہ دار قرار دیا ہے وہ صرف امام علی (ع) سے لیکر امام مہدی عجل اللہ فرجہ الشریف تک بارہ امامِ برحق ہیں۔

پس یہ بات تسلیم کرنا پڑے گی کہ پیغمبر اکرم (ص) کا مذکورہ فرمان بارہ خلفاء والی حدیث، اس بات کی واضح دلیل ہے کہ دین کی عزت و عظمت اور بقاء رسول خدا (ص) کے بارہ خلفاء میں سے کسی ایک کی وجہ سے ہے کہ جنہیں دین کی حفاظت کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے اور عصر حاضر  میں وہ رسول خدا (ص) کے آخری جانشین امام مہدی عجل اللہ فرجہ الشریف ہی کی ذات با برکات ہے کہ جو پردہ غیب سے دین کی حفاظت کی ذمہ داری ادا کر رہے ہیں۔

4-  اہل زمین پر آسمان و زمین کی برکات کا نزول:

امام مہدی عجل اللہ فرجہ الشریف کے وجود کے فوائد عامہ میں سے ایک فائدہ یہ ہے کہ زمین والوں پر باران رحمت کا نزول ہوتا ہے، زمین اپنی برکات ظاہر کرتی ہے جیسا کہ امام فرماتے ہیں: وبنا ینزّل الغیث وتنشر الرحمۃ وتخرج برکات الأرض،

ہمارے سبب باران رحمت نازل ہوتی ہے، رحمت خدا پھیلتی ہے اور زمین سے برکات ظاہر ہوتی ہیں۔

کمال الدین، شیخ صدوق ج 1ص 207

أمالی، شیخ صدوق ص 186، المجلس الرابع والثلاثون۔

زمین و آسمان کی برکات کا مسئلہ ایک قرآنی اصول ہے کیونکہ خداوند نے فرمایا:

وَلَوْ أَنَّ أَھْلَ الْقُرٰی اٰمَنُوْا وَاتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَیْھِمْ بَرَکٰاتٍ مِنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ وَلٰکِنْ کَذَّبُوْا فَأَخَذْنَاھُمْ بِمَا کَانُوْا یَکْسِبُوْنَ،

اگر بستیوں والے ایمان لے آتے اور پرہیزگار بنتے تو ہم ضرور ان پر آسمان و زمین کی برکتوں کے دروازے کھول دیتے، لیکن انہوں نے جھٹلایا پھر ہم نے ان کو انکے اعمال کی بناء پر پکڑ لیا۔

سورہ اعراف آیت 96

اس آیت مبارکہ سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ چونکہ سابقہ امتوں نے تقوی سے منہ موڑا، حق کا انکار اور اہل حق کی تکذیب کی جس کے نتیجہ میں خداوند نے انہیں عذاب میں مبتلا کردیا لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ اس امت پر باران رحمت نازل ہوتی ہے، زمین سے اس کی برکات ظاہر ہوتی ہیں اور اہل زمین اس سے استفادہ کرتے ہیں، یہ سب کچھ ممکن نہیں مگر صرف ائمہ اطہار علیہم السلام کے وجود کے صدقہ میں، کیونکہ وہی زمین میں تقوی و پرہیزگاری کا مکمل مظہر ہیں۔

 

وجودِ امامِ مہدی (عج) کے فوائد خاصہ:

امام مہدی عجل اللہ فرجہ الشریف کے وجود مبارک میں فوائد عامہ کے علاوہ کچھ فوائد خاصہ بھی موجود ہیں البتہ دونوں میں فرق یہ ہے کہ فوائد عامہ ہر مخلوق کو مل رہے ہیں، چاہے کوئی ان فوائد کی طرف متوجہ ہو یا نہ ہو، نیز یہ فوائد ہر مخلوق کو ملتے رہیں گے، چاہے کوئی امام مہدی عجل اللہ فرجہ الشریف کے وجود کو مانے یا انکار کرے، لیکن امام کے وجود کے فوائد خاصہ عام طور پر صرف انہیں افراد کے ساتھ مخصوص ہیں جو امام پر صحیح عقیدہ رکھنے کے ساتھ ساتھ آپ (ع) کے ساتھ معنوی رابطہ رکھتے اور توسل کرتے ہوں۔

1- جاہلیت کی موت سے نجات:

اہل سنت کی معتبر کتب میں امام زمان عجل اللہ فرجہ الشریف کے حوالے سے پیغمبر اکرم (ص) کی ایک حدیث مختلف الفاظ میں موجود ہے کہ آپ نے فرمایا:

من مات ولیس فی عنقہ بیعۃ مات میتۃ جاہلیۃ،

جو کوئی ایسی حالت میں مرے کہ اس کی گردن میں کسی (امام) کی بیعت نہ ہو تو وہ جاہلیت کی موت مرا ہے۔

صحیح مسلم،کتاب الامارۃ، باب 13

سنن کبری، ترمذی ج 8 ص 156

فتح الباری، ابن حجر ج 13 ص 5

دوسری روایت کے مطابق آپ (ص) نے فرمایا:

من مات بغیر امام مات میتۃ جاہلیۃ،

جو کوئی امام (کی معرفت) کے بغیر مر جائے وہ جاہلیت کی موت مرا ہے۔

مسند، أحمد ابن حنبل ج 4 ص 96

مجمع الزوائد، ھیثمی ج 5 ص 218

ایک اور روایت کے مطابق آپ (ص) نے فرمایا:

من مات ولیس علیہ امام مات میتۃ جاہلیۃ،

جو کوئی ایسی حالت میں مرے کہ اس کا کوئی امام نہ ہو وہ جاہلیت کی موت مرا ہے۔

مجمع الزوائد، ھیثمی ج 5 ص 218

ان روایات کو مدنظر رکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ :

موجودہ دور میں تمام مسلمانوں اور خاص طور پر اہل سنت کے لیے امام مہدی عجل اللہ فرجہ الشریف کے وجود کا ایک اہم فائدہ یہ ہے کہ وہ امام حق کی بیعت کا فرض ادا کر سکیں کہ جس کے نتیجہ میں انکی موت جاہلیت کی موت نہ رہے گی۔

2- مؤمنین کی مشکل کشائی :

امام مہدی عجل اللہ فرجہ الشریف کے وجود کا ایک اور خاص فائدہ یہ ہے کہ آپ اپنے ماننے والوں کی مشکل کشائی اور حاجت روائی کرتے ہیں۔ تاریخ تشیع میں علماء و مومنین کے بہت سے ایسے واقعات ملتے ہیں کہ جن میں امام مہدی عجل اللہ فرجہ الشریف نے بالواسطہ یا بلاواسطہ ان کی مشکلات حل فرمائیں ہیں۔

امام مہدی عجل اللہ فرجہ الشریف نے اپنی ایک توقیع (خط) میں شیعوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:

اِنَّا غَیْرُ مُھْمِلِیْنَ لِمُرَاعَاتِکُمْ، وَلَا نَاسِیْنَ لَذِکْرِکُم، وَلَولَا ذٰلِکَ لَنَزَلَ بِکُمْ اْللَّاوٰاءُ وَاصْطَلَمَکُمْ اْلأَعْدَاءُ فَاتَّقُوْا االلّٰہَ جَلَّ جَلاٰلُہُ،

ہم تمہاری دیکھ بھال میں کوتاہی نہیں کرتے اور نہ ہی تمہیں فراموش کیا ہے ، اگر ایسا نہ ہوتا تو تم پر مصیبتیں آ پڑتیں اور دشمن، تمہیں تباہ و برباد کر دیتے پس تم تقویٰ الہی اختیار کرو۔

بحار الانوار، علامہ مجلسی ج 53 ص 175

الاحتجاج، طبرسی ص 596

امام مہدی عجل اللہ فرجہ الشریف کے ان محبت آمیز جملات سے واضح ہوتا ہے کہ آپ کے ذریعہ ہمیشہ غیبی امداد شیعوں تک پہنچ رہی ہے اور امام مہدی عجل اللہ فرجہ الشریف کے محبین و معتقدین بھی اپنی فردی و اجتماعی مشکلات و پریشانیوں میں کبھی اپنے امام سے غافل نہیں ہوئے بلکہ شیعت کی تاریخ گواہ ہے کہ وہ ہمیشہ اپنے زمانے کے امام کو حلّال مشکلات اور محرم اسرارِ خلقت سمجھتے ہوئے، اُن سے متوسل ہوئے ہیں جس کے بارے میں بہت سے واقعات کتبِ تاریخ میں مذکور ہیں مثلا:

بحرین کے حاکم اور انار کا واقعہ  جس میں امام زمان نے بحرین ہی کے ایک مومن محمد ابن عیسی کے ذریعہ وہاں کے مومنین کی مدد فرمائی،

یا اسی قسم کے اور بہت سے واقعات امام مہدی عجل اللہ فرجہ الشریف سے متعلق کتب میں مذکور ہیں کہ جن میں آپ نے اپنے ماننے والوں کی مشکل کشائی اور حاجت روائی فرمائی ہے۔

منتھی الآمال (اردو ترجمہ احسن المقال) ج 2 ص 440

النجم الثاقب ص 314

بحار الانوار، علامہ مجلسی ج 52 ص 178

3- نامحسوس روحانی نفوذ اور معنوی ہدایت:

ہر آسمانی و الہی رہبر چاہے وہ نبی ہو یا امام، کا سب سے اہم کام لوگوں کی ہدایت کرنا ہے، چنانچہ خداوند تعالی نے فرمایا:

وَجَعَلْنَاھُمْ اَئِمَّۃً یَھْدُوْنَ بِأَمْرِنَا،

سورہ انبیاء آیت 73

لہذا ہر نبی اور امام اپنی پوری زندگی اس ہدایت کے فریضہ کو ادا کرتا ہے لیکن اس بات کی طرف توجہ ضروری ہے کہ ہدایت کے فریضہ کی ادائیگی کیلئے بھی ہادی کا لوگوں کی آنکھوں کے سامنے مسلسل ہونا ضروری نہیں ہے، اگرچہ عام طور پر ہدایت کا فریضہ، درس و گفتار اور عادی تعلیم و تربیت کے ذریعہ ادا ہوتا ہے، لیکن نبی یا امام کے پاس لوگوں کی ہدایت کا ایک روحانی و معنوی طریقہ بھی ہے کہ جو دل و فکر میں معنوی نفوذ کے ذریعہ انجام پذیر ہوتا ہے کہ جسے اصطلاح میں ہدایت و تربیت تکوینی کا نام دیا جا سکتا ہے، اس طریقہ ہدایت میں الفاظ و کلمات اور درس و گفتار مؤثر نہیں ہوتے بلکہ نبی یا امام کی صرف روحانی کشش مؤثر ہوتی ہے۔

بہت سے الہی رہبروں کے حالات میں ملتا ہے کہ بعض اوقات نہایت منحرف و غلط  افراد صرف ایک مختصر سی ملاقات کے ذریعہ بدل گئے اور فورا راہ راست پر آ گئے، بے ایمانی و گناہوں سے تائب ہو کر مؤمن و فداکار بن گئے اور اسی چیز کو شخصیت کے نفوذ یا اثر سے تعبیر کیا جاتا ہے۔

خانہ کعبہ کے پہلو میں بت پرست اسعد ابن زرارہ کی پیغمبر اکرم (ص) سے مختصر ملاقات اور اس کا مسلمان ہونا،

کربلا کے راستے میں امام حسین (ع) کے پیغام کا زھیر پر اثر، کہ اُس نے اپنے ہاتھ کا لقمہ بھی منہ میں رکھنا گوارا نہ کیا اور فورا امام کی طرف چل پڑا،

نیز امام حسین (ع) کی حرُ ابن یزید ریاحی سے ملاقات اور اُس کا یزیدی لشکر کو چھوڑ کر امام حسین (ع) کے لشکر میں شامل ہو جانا،

حضرت امام موسی کاظم (ع) کو دیکھ کر ہارون کی طرف سے امام کے زندان میں بھیجی گئی فاحشہ عورت کا بدل جانا

یا بشر حافی اور امام موسی کاظم (ع) کا واقعہ وغیرہ...

یہ تمام واقعات معصومین (ع) کے نامحسوس روحانی نفوذ و اثر کی نشاندہی کرتے ہیں۔

اسی طرح غیبت کے پردے میں امام مہدی عجل اللہ فرجہ الشریف کے وجود کا بھی ایک اثر یہی ہے کہ آپ مومنین کے دلوں کی زرخیز زمین کو اپنی روحانی شخصیت کے نفوذ کے بیج سے آباد کرتے ہیں جس سے آپ کے ماننے والوں کی روحانی تربیت ہوتی ہے۔

4- امام مہدی (عج) کی غیبت کا مومنین کیلئے باعث برکت ہونا:

امام مہدی عجل اللہ فرجہ الشریف کی غیبت کے سبب مومنین کیلئے عظیم اجر و ثواب کے دروازے کھلے ہوئے ہیں اور ایسا بہت سا عظیم ثواب جس کا حصول انتہائی با مشقت اعمال کے بغیر ممکن نہ تھا، امام زمان عجل اللہ فرجہ الشریف کی غیبت کی وجہ سے مومنین کو مل رہا ہے اور روایات میں اس عظیم ثواب کا کثرت کے ساتھ ذکر ہوا ہے۔ جیسا کہ امیر المومنین حضرت علی (ع) سے روایت ہے :

أفضل العبادۃ الصبر والصَمت، وانتظار الفرج،

بہترین عبادت صبر کرنا، فضول باتوں سے پرہیز اور امام مہدی (عج) کے ظہور کا انتظار کرنا ہے۔

بحار الانوار، علامہ مجلسی ج 74 ص 422

پس غیبت کے زمانے میں امام کے ظہور میں تعجیل کیلئے دعا کرنے والے ، غیبت میں مصائب و مشکلات پر صبر کرتے ہوئے امامت کے عقیدہ پر ثابت قدم رہنے اور ظہور کے بعد آپ کی نصرت کے خواہاں مومنین، خداوند کی طرف سے ثواب عظیم حاصل کرتے ہیں۔

اہل سنت اور حدیث امان:

وہ بعض احادیث کہ جو امامت و مرجیعت دینی اور عصمت اہلبیت (ع) پر دلالت کرتی ہیں ان میں سے ایک مشہور حدیث، حدیث امان بھی ہے۔

اس حدیث میں پیغمبر اسلام (ص) نے اپنے اہل بیت کو امت کے لیے امان قرار دیا ہے تا کہ ان کی امت اختلاف سے دور رہے ، اس کے معنی یہ ہیں کہ اگر امت مسلمہ رسول اسلام کے بعد اہل بیت کے بتائے ہوئے راستے پر عمل پیرا ہو جائے اور ان کی اقتداء کر لیں تو اختلاف سے بچے رہیں گے اور ہدایت تک پہنچ جائیں گے۔

حدیث امان کو اہل سنت کے علماء میں سے ایک جماعت نے اپنی اپنی کتابوں میں نقل کیا ہے ، ان کی بعض عبارتیں اس طرح سے ہیں:

1- حاکم نیشاپوری نے صحیح سند کے ساتھ رسول اسلام (ص) سے نقل کیا ہے کہ آپ نے فرمایا:

النجوم امان لاھل الارض من الغرق واھل بیتی امان لامتی من الاختلاف ، فاذا خالفھا قبیلۃ من العرب اختلفو ا فصاروا حزب من ابلیس،

ستارے اہل زمین کے لیے امان ہیں تا کہ وہ غرق نہ ہو اسی طرح میرے اہلبیت میری امت کے لیے امان ہیں تا کہ ان میں اختلاف نہ ہونے پائے اگر عرب میں سے کوئی قبیلہ ان کی مخالفت کرے گا تو ان میں خود اختلاف ہو جائے گا اور وہ شیطان کے گروہ میں سے ہو گا۔

مستدرک حاکم ،ج 3 ص 149

2- ابن حجر مکیّ و سیوطی نے بھی اس حدیث کو اِسی مضمون کے ساتھ نقل کیا ہے۔

الصواعق المحرقہ ، ص 150

احیا المیتّ ،ج 35 ص 345

3- ابن حجر نے پیغمبر اسلام (ص) سے نقل کیا ہے کہ آپ نے فرمایا:

۔۔۔ واھل بیتی امان لآمتی من الاختلاف فاذا خالفتھا قبیلۃ من العرب اختلفوا فصارو حزب ابلیس،

میرے اہل بیت وسیلہ امان ہیں میری اُمت کے لیے تا کہ وہ اختلاف میں نہ پڑیں اگر عرب میں سے کوئی قبیلہ ان کی مخالفت کرے گا تو ان میں خود اختلاف ہو جائے گا اور وہ شیطان کے گروہ میں سے ہو گا۔

4- ابو یعلی موصلی نے اپنی کتاب مسند میں سند حسن کے ساتھ رسول اسلام (ص) سے نقل کیا ہے کہ آپ نے فرمایا:

النجوم امان لآھل السماء واھل بیتی امان لاُمتی،

جس طرح سے ستارے اہل آسمان کے لیے وسیلہ امان ہیں اِسی طرح میرے اہلبیت اہل زمین کے لیے وسیلہ امان ہیں۔

منتخب کنز العمال ، ج 5 ص 92

الجامع الصغیر ، ج 2 ص 189

ذخائر العقبی ، ص 17

یہ حدیث اِسی طرح دوسرے مضمون سے بھی جو کہ قریب المعنی ہے، نقل ہوئی ہے۔

علی اصغر رضوانی ، امام شناسی و پاسخ بہ شبہات ج 2 ص 415

اہل بیت اطہار (ع) کی اتباع کیوں واجب ہے ؟

حدیث سفینہ:

پیغمبر اکرم (ص) نے اپنے اہل بیت (ع) کے بارے میں ارشاد فرمایا:

انما مثل اھلبیتی فیکم کسفینة نوح من رکبھا نجی ومن تخلف عنھا غرق ،

میرے اہل بیت کی مثال تمہارے درمیان نوح کی کشتی جیسی ہے کہ جو اس پر سوار ہو گیا وہ نجات پاگیا اور جس نے اس سے روگردانی اختیار کی وہ غرق ہو گیا۔

المستدرک علٰی الصحیحین، ج 3 ص 151

اور اسی طرح، ج 2 ص 343

اہل بیت (ع) کو کشتی نوح سے اس لیے تشبیہ دی گئی ہے کہ مسلمانوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اصول دین و فروع دین میں اہل بیت (ع) کے علم سے ہدایت حاصل کریں اور ان کے اخلاق و کردار کو اپنے لیے نمونہ عمل قرار دیں، ورنہ وہ مذاہب و نظریات کے اختلاف میں گر کر ڈوب جائیں گے اور ان کی نجات ممکن نہیں ہو گی۔

ابن حجر نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے:

اہل بیت (ع) کو کشتی نوح سے اس لیے تشبیہ دی گئی ہے کہ جو شخص بھی خداوند کے حضور اس شکرانے کے طور پر کہ اس نے اہل بیت (ع) کو عظمت و فضیلت عطا کی، اہل بیت (ع) سے محبت کرے ان کی عظمت کا قائل ہو اور ان کے علماء سے ہدایت حاصل کرے تو وہ مخالفتوں کی تاریکی سے نجات پا جائے گا، اور جو شخص ان سے منہ موڑے گا تو وہ کفران نعمت کے دریا میں غرق ہو جائے گا اور گمراہی کے  بھنور میں پھنس کر ہلاک ہو جائے گا۔

صواعق محرقہ،ص 91 ،باب 11 ،تفسیر آیت 7

حدیث امان:

ایک دوسری حدیث میں پیغمبر اکرم (ص) نے اپنے اہل بیت (ع) کو آسمان کے ستاروں سے تشبیہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:

النجوم امان لاھل الارض من الغرق واھل بیتی امان لامتی من الاختلاف فاذا خالفتھا قبیلة من العرب اختلفوا فصاروا حزب ابلیس،

ستارے زمین والوں کو ڈوبنے سے بچاتے ہیں اور میرے اہل بیت (ع) میری  امت کو اختلاف سے بچاتے ہیں لہٰذا اگر عرب کا کوئی بھی قبیلہ ان سے اختلاف کرے گا تو وہ شیطانی گروہ بن جائے گا۔

المستدرک علٰی الصحیحین،ج 3 ص 149

اس حدیث کو نقل کرنے کے بعد حاکم نیشاپوری نے یہ کہا ہے کہ:

یہ حدیث سند کے اعتبار سے صحیح ہے، لیکن بخاری و مسلم نے اسے اپنی اپنی کتاب میں نقل نہیں کیا۔

ستاروں کے ذریعہ لوگوں کو ہدایت ملتی ہے اس کا تذکرہ خود قرآن مجید میں بھی ہے چنانچہ ارشاد ہوا ہے:

و بالنجم ھم یھتدون،

اور ستاروں سے وہ لوگ ہدایت پاتے ہیں۔

سورہ نحل آیت 16

مذکورہ احادیث کے علاوہ جن دوسری احادیث میں اہل بیت (ع) کی پیروی کرنے کو واجب قرار دیا گیا ہے، وہ اہل بیت (ع) کی علمی اور شرعی قیادت و رہبری پر واضح انداز سے دلالت کرتی ہیں اور ان سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ قرآن کریم اور سنت پیغمبر اکرم (ص) کے بعد اہل بیت (ع) کا قول و فعل ہی اصول دین و فروع دین کی شناخت کا واحد سر چشمہ اور اہم ذریعہ ہے۔

ﻋﻦ ﺍﺑﻲ ﺣﻤﺰﺓ ﺍﻟﺜﻤﺎﻟﻲ ﻋﻦ ﺍﺑﻲ ﻋﺒﺪﺍﻟﻠﻪ ‏( ﻉ ‏) ﻗﺎﻝ : ﻗﻠﺖ ﻟﻪ ﺍﺗﺒﻘﻲ ﺍﻻﺭﺽ ﺑﻐﻴﺮ ﺍﻣﺎﻡ ؟ ﻗﺎﻝ ﻟﻮ ﺑﻘﯿﺖ ﺍﻷﺭﺽ ﺑﻐﯿﺮ ﺍﻣﺎﻡ ﺳﺎﻋﺔ ﻟﺴﺎﺧﺖ.

ابو حمزہ ثمالی کہتے ہیں: میں نے امام جعفر صادق (ع) سے پوچا کہ: کیا زمین امام کے وجود کے بغیر باقی رہ سکتی ہے ؟ امام نے فرمایا: اگر زمین ایک لمحہ بھی امام کے وجود کے سے خالی ہو تو تباہ ہو جائے گی۔

‏ﮐﻤﺎﻝ ﺍﻟﺪﻳﻦ ﻭ ﺗﻤﺎﻡ ﺍﻟﻨﻌﻤﻪ ﺹ 308

بعض جاہل وہابی اور اہل سنت سوال کرتے ہیں کہ وہ امام جو غائب ہو، اسکے وجود کا امت اسلامی کے لیے کیا فائدہ ہے ؟

امام صادق (ع) نے اپنے والد گرامی کے ذریعے سے اپنے جد بزرگوار سے نقل کیا ہے کہ: ہم اہل بیت آئمہ مسلمین اور تمام مخوقات پر حجت خدا ہیں، ہم اہل زمین کے لیے پناہ گاہ ہیں، جسطرح کہ ستارے اہل آسمان کے لیے پنا گاہ ہیں۔ ہماری وجہ سے آسمان زمین پر گرنے سے محفوظ ہے، مگر یہ کہ اس کام کے لیے خداوند کا حکم ہو۔ ہمارے وجود کی برکت سے بارش برستی ہے اور ہماری وجہ سے خداوند اپنی تمام مخلوقات پر اپنی رحمت کو نازل کرتا ہے اور ہماری وجہ سے زمین اپنی برکات کو بندوں کے لیے خارج کرتی ہے اور اگر ہم اہل بیت کا کوئی فرد بھی زمین پر موجود نہ ہو تو زمین اپنی تمام مخلوقات کو نگل لے گی۔ پھر فرمایا: خداوند نے جب سے حضرت آدم کو خلق کیا ہے، زمین کو اپنی حجت سے خالی نہیں رکھا، چاہے وہ حجت خدا زمین پر ظاہر ہو یا ظاہری طور پر نظروں سے غائب ہو۔ اسکے بعد بھی قیامت تک زمین حجت خدا سے خالی نہیں رہے گی اور اگر ایسا نہ ہو تو لوگ خداوند کی عبادت نہیں کری‍ں گے۔

سلیمان راوی کہتا ہے کہ لوگ کسطرح حجت غائب سے فائدہ حاصل کر سکتے ہیں ؟

امام نے فرمایا: اس طرح کہ جسطرح لوگ بادلوں کے پیچھے موجود سورج سے فائدہ حاصل کرتے ہیں۔

بحار الأنوار، العلامة المجلسي ج : 23 ص 5- ح10

 یہی مطلب اہل سنت کی کتب میں بھی ذکر ہوا ہے:

ابن حجر عسقلانی نے کتاب صحیح بخاری کی شرح کتاب فتح البارى میں لکھا ہے کہ انبیاء میں سے چند نبی زندہ اور غائب ہیں کہ جو اہل زمین کے باعث امن و امان ہیں:

أربعة من الأنبیاء أحیاء أمان لأهل الأرض اثنان فی الأرض الخضر والیاس واثنبن فی السماء إدریس وعیسى،

انبیاء میں سے چار نبی زندہ ہیں اور اہل زمین کے لیے امان ہیں، ان میں سے دو زمین پر ہیں: حضرت خضر اور حضرت الیاس، اور دو آسمان پر ہیں: حضرت ادریس اور حضرت عیسی۔

فتح الباری شرح صحیح البخاری، ج 6 ، ص 434، تحقیق: محب الدین الخطیب،

الكتب  - صحيح البخاري - كتاب أحاديث الأنبياء - باب حديث الخضر مع موسى عليهما السلام- الجزء رقم6

سیوطی در الدرالمنثور ج4ص239

زمخشری در ربیع الابرار ج1 ص 397

امام قرطبی نے بھی اپنی تفسیر میں ذکر کیا ہے کہ:

عن عمر بن دینار قال: ان الخضر، و الیاس حیّین فى الارض، ما دام القرآن على الارض، فاذا رفع ماتا،

حضرت خضر و الیاس زمین پر زندہ ہیں کہ جب تک قرآن زمین پر ہے، اور جب بھی قرآن زمین سے اٹھ جائے گا، وہ دونوں (خضر و الیاس) مر جائیں گے۔

تفسیر قرطبی ج13 ص361 موسسه الرساله

وہابیوں سے سوال: حضرت خضر، الیاس، ادریس اور حضرت عیسی (ع) زندہ ہیں، وہ کدہر ہیں اور انکے وجود کا کیا فائدہ ہے۔ تمہارے ہی علماء نے ذکر کیا ہے کہ ان انبیاء کے با برکت وجود سے اہل زمین سے بلائیں اور مصیبتیں دور ہوتی ہیں۔ جسطرح قرآن باعث ہدایت ہے، اسی طرح انکا غائب وجود بھی لوگوں کے لیے باعث ہدایت ہے۔

تم وہابیوں اور اہل سنت نے جو جواب ان غائب انبیاء کے بارے میں دیا، ہم شیعہ بھی تم کو امام زمان غا‏ئب کے بارے میں وہی جواب دیں گے !!!

امام زمان (عج) کے با برکت وجود کا فائدہ :

1- سبب دفع بلا،

2- سبب ہدایت عوام الناس، (مثل قرآن کریم)

بعد والا سوال یہ ہے کہ تم وہابی اور اہل سنت بتاؤ کہ ابوبکر، عمر، عثمان، معاویہ، یزید وغیرہ جب زندہ اور زمین پر موجود تھے، ان کا لوگوں اور اسلام کے لیے کیا فائدہ تھا ؟

کیا ان لوگوں کا فائدہ فقط قرآن، نماز، وضو، حج وغیرہ کو تحریف اور تبدیل کرنا تھا ؟ ان لوگوں نے اسلام اور مسلمین میں ایسے فتنے اور فساد برپا کیے ہیں کہ جو رہتی دنیا تک باقی رہیں گے اور جن کا خاتمہ خود حضرت مہدی (عج) آ کر کریں گے۔

تم وہابی اور اہل سنت کس منہ سے ہم شیعوں سے امام مہدی (عج) کے با برکت وجود کے فوائد کے بارے میں سوال کرتے ہو !؟

اسکے علاوہ خود تمہارے علماء نے اعتراف کیا ہے کہ حضرت مہدی (ع) ابوبکر، عمر اور حتی بعض انبیاء سے برتر اور زمین پر خداوند کے بہترین خلیفہ ہیں:

ابن ابی شیبہ نے سند صحیح کے ساتھ نقل کیا ہے کہ:

أبو أسامة عن عوف، عن محمد، قال: يكون في هذه الأمة خليفة لا يفضل عليه أبو بكر ولا عمر،

محمد ابن سيرين کہتا ہے کہ اس امت میں ایسا خلیفہ آئے گا کہ جو ابوبکر اور عمر پر بھی برتری رکھتا ہو گا۔

مصنف ابن أبي شيبة، ج 7 ، ص 513 ، ح 37650

سیوطی نے بھی کتاب العرف الوری فی اخبار المهدی ص118

پر اسی روایت کو نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ روی زمین پر بہترین خلیفہ کہ جو حتی ابوبکر و عمر سے افضل ہو گا، موجود ہو گا۔۔۔۔

اقوال حضرت امام زمان علیہ السلام:

قال الامام المھدی علیہ السلام : انا یحیط علمنا با نبائکم ، ولا یعزب عنا شئی من اخبارکم ،

حضرت امام مہدی علیہ السلام فرماتے ہیں: تمہارے سارے حالات ہمارے علم میں ہیں اور تمہاری کوئی بات ہم سے پوشیدہ نہیں ہے۔

بحار الانوار ج 53 ص 175

قال الامام المھدی علیہ السلام:  اکثر و الدعا بتعجیل الفرج فان ذالک فرجکم ،

حضرت امام مہدی علیہ السلام فرماتے ہیں: تعجیل ظہور کے لیے زیادہ سے زیادہ دعا کیا کرو،  اس لیے کہ یہ دعا خود تمہارے لیے ہی خوشحالی کا باعث بنے گی۔

بحار الانوار ج 52 ص 92

قال الامام المھدی علیہ السلام:  انا خاتم الاوصیاء و بی یدفع اللہ البلاء عن اھلی و شیعتی ،

حضرت امام مہدی علیہ السلام فرماتے ہیں: میں سلسلہٴ اوصیاء کی آخری کڑی ہوں۔ خداوند عالم میرے وسیلے سے میرے اہل اور میرے شیعوں سے بلاؤں کو دور کرتا ہے۔

بحار الانوار ج 52 ص 93

قال الامام المھدی علیہ السلام:  ان الارض لا تخلوا من حجة اما ظاھرا و اما مغمورا ،

حضرت امام مہدی علیہ السلام فرماتے ہیں: زمین حجت خدا سے خالی نہیں ہوتی ، وہ حجت یا ظاہر ہوتی ہے یا پوشیدہ۔

کمال الدین صدوق ج 2 ص 511

قال الامام المھدی علیہ السلام:  کلما غاب علم بدا علم ، و اذا افل نجم طلع نجم ،

حضرت امام مہدی علیہ السلام فرماتے ہیں: جب کسی علم پر پردہ پڑ جاتا ہے تو دوسرا علم ظاہر ہو جاتا ہے اور جب کوئی ستارہ غروب ہو جاتا ہے تو دوسرا اسکی جگہ طلوع ہو جاتا ہے۔

احتجاج طبرسی ج 2 ص 490

قال الامام المھدی علیہ السلام:  انّی امان لاھل الارض کما ان النجوم امان لاھل السماء ،

حضرت امام مہدی علیہ السلام فرماتے ہیں: میں اہل زمین کے لیے اسی طرح سبب راحت و امان ہوں جس طرح ستارے اہل آسمان کے لیے باعث امان ہیں۔

بحار الانوار ج 78 ص 380

التماس دعا۔۔۔۔۔





Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی