2018 June 19
ایم ایم اے، نظریہ پاکستان مخالف قوتوں کا اتحاد، تکفیریت پھیلانے والے اتحاد کا حصہ نہیں بنیں گے، ایم ڈبلیو ایم اجلاس اعلامیہ
مندرجات: ١٤٥٥ تاریخ اشاعت: ٠٩ April ٢٠١٨ - ١٦:٣٢ مشاہدات: 69
خبریں » پبلک
ایم ایم اے، نظریہ پاکستان مخالف قوتوں کا اتحاد، تکفیریت پھیلانے والے اتحاد کا حصہ نہیں بنیں گے، ایم ڈبلیو ایم اجلاس اعلامیہ

تکفیریت کے ناسورسے نجات اور استحکام پاکستان کے لئے تمام معتدل قوتوں کا متحد ہونا وقت کی اہم ضرورت ہے پاکستان کو بنانے اکابرین معتدل شیعہ سنی تھے ۔ ان خیالات کا اظہار مجلس وحدت مسلمین پاکستان سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس نے تنظیمی مرکزی شوریٰ کے تیسرے اور آخری روز ،،وحدت اسلامی اور پاکستان کا استحکام ،،کے عنوان سے سمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔سیمینارمیں جمیعت علمائے پاکستان نیازی کے پیر معصوم نقوی ،رہنما پاکستان عوامی تحریک خرم نواز گنڈہ پور ،چیئر مین سنی اتحاد کونسل صاحبزادہ حامد رضا ،ملی یکجہتی کے صاحبزادہ ابوالخیر ،ثاقب ، سید ناصر شیرازی، ڈاکٹر امجد چشتی سمیت مختلف مکاتب فکر کے علماء و دانشوروں نے خطاب کیا ،سمینار سے خطاب کرتے ہوئے مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا کہہ علمی اختلافات علما تک محدود رہنے سے فتنہ پیدا نہیں ہوتا۔ایسے فتنہ گروں کا راستہ روکنا ہو گا جو باہمی اختلافات کو ہوا دے کر امت مسلمہ کو تصادم کی راہ پر لے جانا چاہتے ہیں۔ملت تشیع کے اندر بھی ایسے اختلافات زور پکر رہے ہیں جو ہمارے لیے نقصان دہ ہیں۔علماء کی ذمہ داری ہے کہ ان کی راہ میں رکاوٹ پیدا کریں۔انہوں نے کہا کہ مشترکہ سیاسی اہداف اور استحکام پاکستان کے لیے شیعہ سنی جماعتوں کو یکجا ہونا ہو گا۔پاکستا ن کی سالمیت و بقا تکفیریت کے خاتمے سے مشروط ہے جس کے لیے شیعہ سنی پورے عزم سے ساتھ میدان میں موجود رہیں۔پاکستان میں قانون کی عملداری اور انصاف کے فروغ کے لیے ہم خیال مذہبی جماعتوں کا سیاسی اشتراک وقت کی اہم ضرورت ہے۔اس وقت لاقانونیت کا گہر ا زخم ہمارے جسم میں رس رہا ہے۔مسنگ پرسنز لاقانونیت کی بدترین مثال ہیں۔کسی مہذب معاشرے میں اس کی اجازت نہیں۔یہ وطن قانون شکن قوتوں کے چنگل میں پھنسا ہوا ہے۔اس ملک کی اپنی کوئی پالیسی نہیں۔ہم نے ارض پاک کو بیرونی دباؤ سے آزاد ریاست بنانا ہے۔ ہماری خارجہ پالیسی اپنے جغرافیائی ،سیاسی اور معاشرتی ضرورتوں،قومی وقار اور عوامی امنگوں کے تابع ہو۔انہوں نے کہا کہ تکفیریت نے ایک طرف مسلمانوں کو ذبح کیا اور دوسری طرف اسلام کے روشن تشخص کو داغدار بنایا۔ہماری سیاسی وحدت عصر حاضر کا تقاضہ اور وقت کی اہم ضرورت ہے۔ملک دشمن بدعنوان لوگوں کا راستہ روکنے کے لیے ہم نے مل بیٹھنا ہے۔مذہبی جماعتوں کا یہ قرب ہمارے سیاسی اتحاد کا آغاز ثابت ہو۔ہم سے زیادہ سے اس وطن کے باوفا بیٹے اور کہیں نہیں۔بہت جلد اس ملک کی بھاگ دوڑ اس ملک کے باوفا بیٹوں کے ہاتھ میں ہو گی۔انہوں نے سمینار میں شریک مذہبی رہنماؤں اور مختلف علاقوں سے آئے ہوئے اراکین کا شکریہ ادا کیا ۔سنی اتحاد کونسل کے چیئرمین صاحبزادہ حامد رضا نے کہا کہ ہمارے بارے میں اداروں نے منفی رپورٹنگ کی اور ہمارے خلاف آپریشن ہوتے رہے اور جن اداروں میں دہشت گرد تیار کیے جاتے ہیں انہیں تحفظ فراہم کیا جاتارہا۔ اگرحکومتی سطح پر نیک نیتی سے کوشش کی جاتی تو شیعہ سنی قتل عام پر آغاز سے ہی قابو پا لیا جاتا لیکن اسے دانستہ طور پر کھلے عام چھوٹ دی گئی۔عوامی تحریک کا ساتھ نواز شریف کی مخالفت میں نہیں دیا تھا بلکہ یہ ظلم کے خلاف تھا۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردی قابل مذمت ہے چاہے وہ کسی امام بارگاہ میں ہو ،مسجد میں ہو خانقاہ میں ہو یا پھر اقلیتوں کی کسی عبادت گاہ میں۔ملک میں بہت سارے خطبا غیر ملکی ایجنسیوں کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے مسلمانوں میں اشتعال پیدا کر رہے ہیں۔ایسے عناصر سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔وطن عزیز کی بقا صرف اور صرف نظام مصطفےٰ میں ہے۔پاکستان عوامی تحریک پاکستان کے سیکرٹری جنرل خرم نواز گنڈا پور نے سمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مجلس وحدت مسلمین پاکستان نے اتحاد امت کے لئے جو کردار اد کیا ہے اسکی مثال نہیں ملتی مظلوموں کی حمایت اور ظالموں کیخلاف قیام کا درس تمام سیاسی و دینی جماعتوں کو اسی جماعت نے دیا سانحہ ماڈل ٹاون میں مظلوم شہداء کے خاندان کیساتھ نبھانے کا جو کردار مجلس وحدت مسلمین کے قائدین نے ادا کی اسے ہم زندگی بھر فراموش نہیں کرسکتے،آپ لوگوں کی استقامت کا نتیجہ ہے کہ آج چیف جسٹس آف پاکستان نے تنزیلہ شہیدہ کی بیٹی بسمہ کو بلا کریہ یقین دہانی کی ہے کہ شہدائے ماڈل ٹاون کو انصاف دلا کر رہونگا،آج اس سمینار میں تمام مکاتب فکر کی نمائندگی اس بات کی غمازی ہے کہ قوم متحد ہیں اور چند شرپسندوں کے ہاتھوں وطن عزیز کو یرغمال بننے نہیں دینگے۔ مجلس علمائے شیعہ پاکستان کے سربراہ علامہ مرزا یوسف حسین نے اپنے خطاب میں کہا کہ امت مسلمہ کا اتحاد وقت کی ضرورت ہے اتحاد جہاں جہاں ہو گا وہاں کامیابی ہو گی ،مغرب کے لیئے سب سے بڑا خطرہ اسلام محمدی ہے امریکہ اور اسکے حواری اسلام محمدی کے خلاف سازشیں کر رہے ہیں اسلام محمدی کے لیئے مسلمانوں کو متحد ہونا ہو گا متحد کر اسلام دشمن کی قوتوں کی سازشوں کو ناکام بنایا جا سکتا ہے انہوں نے کہا کہ چونتیس ممالک کا اتحاد کیا دنیا بھر میں مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کے خلاف آواز اٹھانے کے لیئے بنایا گیا ایسا نہیں ہے بلکہ اسلام دشمن قوتیں اسلام کو نقصان پہنچانے کے لیئے سازشوں میں مصروف ہے ہم سب کو ملکر ان سازشوں کو ناکام بنانا ہو گا ہمیں اپنے ہمسایہ ملک کے انقلاب کو دیکھنا ہو گا اور اسکے لیئے کی گئی جدوجہد کو اپنانا ہو گا تب ہی ہم کامیابی حاصل کر سکتے ہیں ۔مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل سید ناصر شیرازی نے کہا کہ پاکستان کی سرزمین پر استعمار ی آلہ کاروں کی کوئی جگہ نہیں۔ہم ظلم کے مخالف اور مظلوم کی حامی ہیں۔ سانحہ ماڈل ٹاؤن پر ہمارا اصولی موقف ظلم اور ظالموں کے خلاف تھا ۔مجلس وحدت مسلمین نے شیعہ سنی اتحاد کو عملی شکل دی ہے ۔ایسے کسی اتحاد کا حصہ نہیں بنیں گے جو تکفیریت کی تقویت کا باعث ہو۔پاکستان میں پہلی اکثریت و ہ اہلسنت ہیں جو لبیک یارسول اللہ ﷺ اور لبیک یا حسین ؑ کا نعرہ بلند کرتے ہیں۔ملکی یکجہتی کو نسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل ثاقب اکبر نے کہا کہ وحدت امت کا مئلہ مقامی نہیں بلکہ عالمی ہے اور اس کے دشمن بھی عالمی ہیں۔شیطانی اور ناپاک سہ فریقی اتحاد کا اصل سرغنہ امریکہ ہے جو اسرائیل اور ہند وستان کی کمانڈ کر رہا ہے۔پاکستان میں سفارتی استثنی کے نام پر قاتلوں کو کھلی چھٹی نہیں دی جا سکتی۔13اپریل کو بعد از نماز جمعہ مظلوم فلسطینیوں اور کشمیریوں کی حمایت میں آب پارہ میں مظاہرہ کیا جائے گا۔

جمیعیت علمائے پاکستان و ملی یکجہتی کونسل پاکستان کے صدر صاحبزادہ ابوالخیر زبیر نے اپنے خطاب میں کہا کہ دشمن قوتیں عالم اسلام کو دست و گریبان دیکھنا چاہتی ہیں۔ امت مسلمہ کا باہمی اخوت و اتحاد وہ واحدہتھیار ہے جس سے اسلام دشمنون کو شکست دی جا سکتی ہے۔مسلمانوں کے ہاتھوں مسلمانوں کا قتل عا م یہود و نصاری کی سازش ہے۔ یمن کے اندر پیسہ پھینکا جا رہا ہے ۔سعودی ولی عہد کا عالمی ذرائع ابلاغ کے سامنے اس بات کا اقرار کہ امریکہ کی ایما پر مختلف قوتوں میں اختلاف کو ہوا دینے کے لیے سعودی عرب بے دریغ سرمایہ لٹا رہا ہے سب کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے ۔یہود و ہنود کا مقابلہ کرنے کے لیے تمام مذہبی قوتوں کو متحد ہونا ہو گا۔پارلیمنٹ کے اندر یہودی و نصاری کے ایجنٹ موجود ہیں جو د ہشت گرد تکفیریوں کی سرپرستی کر رہے ہیں ۔جب تک دہشت گردوں کے ان سیاسی سہولت کاروں پر ہاتھ نہیں ڈالا جاتا تب تک ملک سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ممکن نہیں۔ان سہولت کاروں کا ہم مل کر محاسبہ کریں گے۔

جمعیت علمائے پاکستان نیازی کے سربراہ پیر معصوم نقوی نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہمارے حکمران اور مقتدر حلقوں کی غلط پالیسیوں کے سبب جنرل ضیاء کے دور میں ملک میں مخصوص طبقے کو اکثریت پر مسلط کیا گیا جس کا خمیازہ قوم آج بھگت رہی ہے ،امت مسلمہ متحد ہیں اسی کے سبب پاکستان کی سلامت ہے،ورنہ ریاستی اداروں کی سرپرستی میں پالے تکفیری گروہ نے ملک دشمنوں سے مل کر ملک وقوم پر وار کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا،متحدہ مجلس عمل کے قیام کا اصل مقصد نظریہ پاکستان کے مخالف قوتوں کا تحفظ ہے جسے ہم کبھی قبول نہیں کریں گے، سیمنار سے خطاب کرتے ہوئے جمعیت علمائے پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل ڈاکٹر امجد چشتی نے کہا کہ اتحاد امت کے لئے ضروری ہے تکفیری قوتوں سے قومی سطح پر لاتعلقی کا اظہار کریں،حکمران اور مقتدر ادارے ان تکفریوں کیخلاف بیانیہ لائیں ان کا اسلام اور پاکستان سے کوئی تعلق نہیں،




Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی