2018 June 19
سعودی عرب میں پہلے قومی تاش چیمپئن کا آغاز، وہابی مفتیوں کی بھرپور شرکت+تصاویر
مندرجات: ١٤٥١ تاریخ اشاعت: ٠٧ April ٢٠١٨ - ١٦:٣٢ مشاہدات: 72
خبریں » پبلک
سعودی عرب میں پہلے قومی تاش چیمپئن کا آغاز، وہابی مفتیوں کی بھرپور شرکت+تصاویر

وہابی نظریۂ ضرورت کے تحت اقتدار میں رہنے اور بادشاہ کے پہلو سے دور نہ ہونے کے لئے وہابیوں نے سعودی بادشاہت کے سیکولر رجحان کا ساتھ دیتے ہوئے پہلی بار پورے سعودی عرب میں ملک کی بڑی بڑی دینی شخصیتوں کی حمایت اور شراکت سے تاش کے مقابلوں کا آغاز کر دیا ہے۔

جاثیہ نیوز کے مطابق، سعودی عرب میں بدھ کے روز پانچ دن کے لیے دار الحکومت ریاض سے سرکاری طور پر تاش مقابلوں کا آغاز ہو گیا ہے۔
سعودی عرب کے محکمہ کھیل کے سربراہ ترکی آل الشیخ نے گزشتہ ماہ فروری میں اس ملک کی اولمپیک کمیٹی کے سربراہ کو یہ مقابلے منعقد کرنے کی ذمہ داری سونپی تھی۔ یہ مقابلے رواں ہفتے یعنی ۴ اپریل سے ۸ اپریل تک جاری رہیں گے۔
سعودی عرب کے محکمہ کھیل نے اعلان کیا ہے کہ مبینہ تاش مقابلوں کے لیے پانچ لاکھ سعودی ریال (معادل ۱۳۳ ہزار ڈالر) کا بجٹ مختص کیا گیا ہے جس میں سے پہلے چار رتبے پانے والے کھلاڑیوں کو نفیس انعامات سے نوازا جائے گا۔
خیال رہے کہ تاش کا کھیل سعودیوں کے نزدیک پسندیدہ ترین کھیل شمار کیا جاتا ہے۔
کہا جاتا ہے کہ تاش کھیلوں کے مقابلے سعودی عرب کے ویژن ۲۰۳۰ منصوبے کا حصہ ہیں کہ جنہیں گزشتہ مہینوں سعودی ولیعہد محمد بن سلمان کی طرف سے اس ملک میں سماجی اور ثقافتی فضا میں تبدیلی لانے اور ملک کے خام تیل کی فروخت پر انحصار کو کم کرنے کی غرض سے شروع کیا گیا ہے۔
مذکورہ مقاصد کے پیش نظر سعودی عرب کے بعض مفتیوں کی حمایت اور شراکت سے گزشتہ ہفتے پورے سعودی عرب میں تاش مقابلوں کے آغاز کا اعلان کیا گیا جس کے بعد سوشل میڈیا پر انہیں شدید تنقید کا نشانہ بھی بنایا گیا۔
سوشل میڈیا پر تنقید کرتے ہوئے صارفین نے کہا ہے کہ سعودی حکومت تاش کے کھیلوں پر اتنی توجہ دے رہی ہے جبکہ تعلیمی مراکز پر کوئی توجہ نہیں ہے کاش کہ ان مقابلوں پر خرچ کئے جانے والے بجٹ کو تعلیمی مراکز پر خرچ کیا جاتا۔ صارفین نے سوشل میڈیا پر ٹورنامنٹ ہال اور امتحانات ہال کی تصویریں ایک ساتھ شائع کی ہیں۔
ارم نیوز کی رپورٹ کے مطابق، مسجد الحرام میں تراویح پڑھانے والے امام جماعت اور سعودی مبلغ دین ’’عادل بن سعید الکلبانی‘‘ نے بھی ان مقابلوں میں شرکت کی ہے۔
واضح رہے کہ سعودی حکومت ایسے حال میں تاش مقابلوں کو سرکاری طور پر منعقد کروا رہی ہے کہ سعودی عرب کے سابق مفتی اعظم (۱۹۹۲ سے ۱۹۹۹تک) ’’عبد العزیز ابن باز‘‘ نے تاش کھیل کو لہو و لعب کے اوزار اور آلات قمار میں سے قرار دے کر اسے منکرات میں سے گردانا تھا اور کہا تھا کہ اس طرح کے کھیل نماز کے ترک یا اس میں تاخیر کا سبب بنتے ہیں اور جائز نہیں ہیں۔










Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی