2018 December 10
ڈاکٹر سعداللہ زارعی: سعودی عرب میں وہابی اقلیت
مندرجات: ١٤٣٩ تاریخ اشاعت: ٠٣ April ٢٠١٨ - ١٣:١١ مشاہدات: 140
خبریں » پبلک
ڈاکٹر سعداللہ زارعی: سعودی عرب میں وہابی اقلیت

شیعیان جعفری کی آبادی ـ جو زیادہ تر الشرقیہ کے علاقے کے صوبوں میں رہائش پذیر ہیں اور مدینہ اور دوسرے شہروں میں بھی ان کی آبادی پائی جاتی ہے، کی مجموعی آبادی 30 لاکھ ہے یعنی: 17 فیصد۔

علاقائی امور کے ماہر ڈاکٹر سعد اللہ زارعی کہتے ہیں: میرے تخمینے کے مطابق سعودی شہروں مکہ اور جدہ میں مالکی سنیوں کی آبادی پچاس لاکھ ہے یعنی: 23/1 فیصد۔

مدینہ، الباحہ اور تبوک مین رہائش پذیر شافعیوں کی آبادی تیس لاکھ سے کچھ کم ہے یعنی: 10/4 فیصد

الجوف اور شمالی حدود میں نیز کچھ مکہ اور کچھ الشرقیہ میں رہنے والے حنفی سنیوں کی آبادی تقریبا 8 لاکھ ہے یعنی: 4 فیصد۔

شیعیان جعفری کی آبادی ـ جو زیادہ تر الشرقیہ کے علاقے کے صوبوں میں رہائش پذیر ہیں اور مدینہ اور دوسرے شہروں میں بھی ان کی آبادی پائی جاتی ہے، کی مجموعی آبادی 30 لاکھ ہے یعنی: 17 فیصد۔

زیدی حنوبی صوبوں [یعنی مقبوضہ یمنی صوبوں] عسیر اور نجران میں اور الباحہ شہر میں رہتے ہیں جن کی آباد 16 لاکھ 20 ہزار ہے یعنی: 9/2 فیصد۔

اسماعیلی جو عام طور پر جنوبی [مقبوضہ] صوبے عسیر اور الشرقیہ کے ساحلی علاقوں میں رہائش پذیر ہیں جن کی مجموعی آباد تقریبا 10 لاکھ ہے، یعنی: 5/8 فیصد

جبکہ حنبلی منطقہ نجد کے تین صوبوں میں رہائش پذیر ہیں، وہابی یہاں حنبلی کہلواتے ہیں اور ان کی آبادی 54 لاکھ ہے، یعنی: 30 فیصد۔

 چنانچہ غیر وہابی سنی آبادی کا تناسب:  37/5 فیصد / شیعہ مکاتب کا مجموعی تناسب: 32 فیصد = تقریبا 70 فیصد غیر وہابی اور غیر سعودی تیس فیصد حنبلی بھی سب وہابی نہیں ہیں اور ان میں سے بڑی تعداد وہابیت کو بطور فقہی و اعتقادی مکتب تسلیم نہیں کرتی۔

چنانچہ حتی سعودی عرب میں بھی وہابی اقلیت میں ہیں۔

 یہ اعداد و شمار اگرچہ دقیق نہیں ہیں لیکن حقیقت سے قریب تر ہیں۔




Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی