2018 July 22
ہم نے مغرب کی خواہش پر وہابیت کو فروغ دیا: بن سلمان کا تاریخی اعتراف
مندرجات: ١٤٢٢ تاریخ اشاعت: ٢٨ March ٢٠١٨ - ١٣:١٢ مشاہدات: 118
خبریں » پبلک
ہم نے مغرب کی خواہش پر وہابیت کو فروغ دیا: بن سلمان کا تاریخی اعتراف

پوری دنیا القاعدہ، داعش، النصرہ اور سپاہ فلاں، لشکر فلاں اور جیش و جند فلاں یا فلاں حرام اور فلاں حلال کے ناموں پر بنے بےشمار تشدد پسند اور خونخوار دہشت گرد ٹولوں کی نظریاتی اساس وہابیت ہے

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔  گوکہ وہابیت نے دنیائے اسلام پر جو آثار مرتب کئے، اسلام کی بدنامی کے اسباب فراہم کرکے اس کے فروغ کے سامنے رکاوٹ اور اس کی تعلیمات کے سائے میں لاکھوں مسلمانوں کا خون بہایا گیا، انگریزی وزارت نوآبادیات اور ایم آئی 6 اور بعدازآں سی آئی اے کے ساتھ اس کے تعلق کو چھپایا گیا لیکن آخرکار اپنے زبانی رسوا ہوئی اور سعودی ولیعہد نے اپنے ہاتھوں اسے بے نقاب کرتے ہوئے کہا کہ سرد جنگ کے دوران مغرب نے عالم اسلام میں وہابیت کے فروغ کی ضرورت محسوس کی اور ہم نے اس کو فروغ دیا۔
انتہائی مشرقی اور جنوب مشرقی ایشیا سے لے کر، جنوبی، وسطی اور مغربی ایشیا اور شمالی افریقہ تک، سعودی تیل کے ڈالروں سے بنے ہوئے لاکھوں مدارس اور مساجد کی تعمیر کا اصل فلسفہ کچھ کو تو پہلے ہی سمجھ میں آ چکا تھا لیکن اب ان لوگوں کو بھی سمجھ میں آنا چاہئے کہ وہابیت مغربی طاقتوں کے ہاتھ میں ایک اوزار کے طور پر کردار ادا کرتی رہی ہے اور گو کہ اس کے فروغ کے اخراجات سعودی برداشت کرتے آ رہے ہیں لیکن اس کی اصل کمانڈ مغرب کے ہاتھ میں ہے اور اس کے احکامات آسمان سے نہیں بلکہ واشنگٹن اور لندن سے آتے رہے ہیں کیونکہ اس وقت وہابی تفکر کے اماموں اور نام نہاد خادمین حرمین شریفین نے اعتراف کیا ہے کہ سعودی حکمرانوں نے اپنے مغربی “متحدین” [آپ پڑھ لیں: آقاؤں] کے کہنے پر سرد جنگ میں مغربی بلاک کی ضرورتوں کے پیش نظر اسے فروغ دیا۔
اس اعتراف میں ایک ضمنی اعتراف بھی چھپا ہؤا ہے اور وہ یہ “سعودی حکمران مغرب کے تابع مہمل اور مطیع بلاشرط ہیں” اور لگتا ہے کہ اب جو وہابیت مغرب کی ناک میں بھی دم کرنے لگی ہے تو سعودی حکمران مغرب ہی کے فرمان پر اسے رسوا کرنے پر تل گئے ہیں۔
واضح رہے کہ پوری دنیا القاعدہ، داعش، النصرہ اور سپاہ فلاں، لشکر فلاں اور جیش و جند فلاں یا فلاں حرام اور فلاں حلال کے ناموں پر بنے بےشمار تشدد پسند اور خونخوار دہشت گرد ٹولوں کی نظریاتی اساس وہابیت ہے؛ اور سرد جنگ کے عروج یعنی افغانستان پر سوویت یونین کے قبضے اور جہاد افغانستان کے دوران جنوبی ایشیا میں تقریبا نصف لاکھ مساجد و مدارس نیز افریقہ میں بےشمار مساجد و مدارس کی تعمیر کو بھی اسی تناظر میں دیکھنا چاہئے۔
حال ہی دنیا بھر کے مختلف ممالک کے حکام اور عالمی تنظیموں نے بارہا و بارہا سعودی عرب کی طرف سے وہابیت کی ترویج کے حوالے سے تشویش ظاہر کی ہے اور داعش سمیت مختلف دہشت گرد تنظیموں کو اسی تفکر کا ثمرہ گردانا ہے لیکن اب سعودی بادشاہ کے بیٹے اور سعودی ولیعہد نیز سعودی وزیر داخلہ محمد بن سلمان نے دورہ امریکہ میں واشنگٹن پوسٹ کو انٹرویو دیا اور کہا: سعودی عرب نے مغرب کی خواہش پر وہابیت کو فروغ دیا ہے۔
انھوں نے کہا: “وہابی مدارس اور مساجد” کی تعمیر میں سعودی سرمایہ کاری کی جڑیں سرد جنگ میں پیوست ہیں۔
سعودی ولیعہد نے کہا: ہمارے مغربی متحدین نے سعودی عرب سے کہا تھا کہ سوویت یونین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ اور جارحیت روکنے کے لئے اپنے ذرائع کو بروئے کار لائے اور اسلامی ممالک میں وہابیت کو فروغ دے، سو ہم نے اپنے ذرائع استعمال کئے اور وہابیت کو فروغ دیا۔
تاہم بن سلمان نے کہا کہ اس سے پہلے وہابیت کی ترویج کا بجٹ سعودی حکومت فراہم کرتی تھی، اور اس وقت وہابیت کی ترویج کی مالی پشت پناہی سعودی حکومت نہیں کررہی ہے بلکہ “کچھ سعودی فاؤنڈیشنز اور اداروں” کے ہاتھ میں ہے اور اب ہمیں دنیا کے مختلف علاقوں میں وہابیت کی ترویج کی مالی پشت پناہی بند کرکے ان مالی ذرائع کو واپس پلٹانا ہے۔
واشنگٹن پوسٹ کے ساتھ اپنے انٹرویو سعودی ولیعہد کے ان اعترافات سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ان کے امریکی آقا بھی وہابیت کو قصہ پارینہ اور اس کو دنیا کے نئے حالات میں اپنے لئے نقصان دہ سمجھتے ہیں اور جناب ولیعہد کو ان ہی کے کہنے پر وہابیت کی دکان سے پیٹ پالنے والوں کی ناراضگی مول لیتے ہوئے یہ تاریخی اعترافات کرنا پڑے ہیں۔
انھوں نے دعوی کیا کہ انھوں نے اس سلسلے میں سعودی عرب میں مذہبی راہنماؤں کے ساتھ مفصل اور مثبت مذاکرات کئے ہیں؛ اور ان ہی مذاکرات کی بنا پر مذہبی طبقات کے اندر ان کی حمایت میں اضافہ ہورہا ہے۔

بشکریہ جاثیہ تجزیاتی ویب سائٹ






Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی