2018 May 22
کالعدم تنظیمیں نئے ناموں سے انتخابات لڑنے کیلئے متحرک
مندرجات: ١٣٧٤ تاریخ اشاعت: ١٢ March ٢٠١٨ - ١٧:٥٢ مشاہدات: 58
خبریں » پبلک
کالعدم تنظیمیں نئے ناموں سے انتخابات لڑنے کیلئے متحرک

اہل سنت والجماعت (اے ایس ڈبلیو جے) کو کالعدم قرار دیئے جانے کے بعد پارٹی رہنماؤں نے عام انتخابات میں حصہ لینے کے لیے آزاد امیدوار یا ہم خیال پارٹی کا سیاسی اتحاد بن کر الیکشن لڑنے کا فصیلہ کیا ہے۔

اے ایس ڈبلیو جے کے بعض رہنماؤں کو یقین تھا کہ وہ دیگر بڑی مذہبی جماعتوں جمیعت علمائے اسلام (ف) اور جے یو آئی (س) کے ساتھ انتخابی اتحاد کرلیں گے۔

لیکن اس دوران ان کی تمام تر امیدیں اس وقت ڈگمگا گئیں جب پاکستان کے سیاسی منظر نامے میں غیر معمولی تبدیلیاں رونما ہو ئیں جبکہ پاکستان مسلم لیگ (ن) بھی لودھراں انتخابات کو ذہن میں رکھتے ہوئے پیر اور بریلوی گروپس سے کنارہ کشی اختیار کررہی ہے۔

واضح رہے کہ دسمبر 2016 میں پنجاب اسمبلی کے حلقے پی پی 78 میں سپاہ صحابہ کے مقتول سربراہ حق نواز جھنگوی کے بیٹے مولانا منصور نواز جھنگوی نے اے ایس ڈبلیو جے کی پش پناہی سے مسلم لیگ (ن) کے امیدوار کو شکست دی بعدازاں اے ایس ڈبلیو جے کے حمایتی یافتہ امیدوار نے جے یو آئی (ف) میں شمولیت اختیار کرلی اور پنجاب اسمبلی میں پارٹی کی ترجمانی تنہا رہ گئی۔

دوسری جانب جے یو آئی (ف) نے کالعدم تحریکِ جعفریہ پاکستان کے سربراہ ساجد نقوی کے ساتھ مل کر متحدہ مجلسِ عمل (ایم ایم اے) کو دوبارہ فعال کرنے کے لیے کوشش کی لیکن حالیہ پیش رفت پر اے ایس ڈبلیو جے اور جے یو آئی (ف) کے مابین اتحاد کے امکانات پر عدم اعتماد کا اظہار کیا گیا۔

اے ایس ڈبلیو جے کے پیٹران علامہ محمد احمد لدھیانوی نے ڈان کو بتایا کہ ’ہمیں سیاسی اور مذہبی جماعتوں نے دھوکا دیا اس لیے وقت آگیا ہے کہ ملک بھر میں اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا جائے، بعض حلقوں میں ہمیں اکثریت سے کامیابی ہو گی‘۔

خیال رہے کہ وزارت داخلہ نے سپاہ صحابہ پاکستان اور اے ایس ڈبلیو جے کو کالعدم قرار دیا تھا اور اے ایس ڈبلیو نے پاکستان رائے حق پارٹی (پی آر پی) یا آزاد امیدوار کی حیثیت سے انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔

پارٹی کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ کسی بھی تنازعے سے بچنے کے لیے اے ایس ڈبلیو جے کے صدر اورنگزیب فاروقی کراچی کے حلقے پی ایس 128 سے آزاد امیدوار کی حیثیت میں انتخاب لڑلیں گے۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) میں اے ایس ڈبلیو جے کی نئی جماعت پی آر پی کے صدر محمد ابراہیم قاسم اور کالعدم تحریکِ جعفریہ پاکستان کی جانب سے اسلامی تحریک پاکستان (آئی ٹی پی) کے سربراہ سید ساجد نقوی ہیں۔

اس نئی سیاسی حکمت عملی کے تحت اے ایس ڈبلیو جے مولانا سمیع الحق سے انتخابی اتحاد کرسکتی ہے۔

دوسری جانب مولانا سمیع الحق نے خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے سیاسی اتحاد قائم کررکھا ہے۔

اس حوالے سے علامہ محمد احمد لدھیانوی نے کہا کہ ’رانا ثناء اللہ اور شہبازشریف کے ساتھ تعاون کے نتیجے میں ہمیں کچھ نہیں ملا اور جب بھی انہیں ووٹ کی ضرورت پڑی وہ ہمارے پاس آئے اور اس مرتبہ ہم ان کے مقابلے میں ہوں گے‘۔




Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی