2018 October 18
کابل کے شیعہ اجتماع پر داعش کا دھشتگردانہ حملہ، 27 شیعہ مسلمان شہید اور زخمی
مندرجات: ١٣٦٣ تاریخ اشاعت: ١٠ March ٢٠١٨ - ١٤:٥٩ مشاہدات: 87
خبریں » پبلک
کابل کے شیعہ اجتماع پر داعش کا دھشتگردانہ حملہ، 27 شیعہ مسلمان شہید اور زخمی

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق ڈپٹی وزارت داخلہ کے ترجمان نصرت رحیمانی کا کہنا تھا کہ خودکش حملے میں 9 افراد شہید ہوگئے ہیں جبکہ 18 افراد زخمی ہیں۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ کابل میں ہونے والے گزشتہ چند روز میں تیسرا خودکش حملہ افغان حکومت کی طالبان کو 16 سال سے چلنے والی خانہ جنگی کو ختم کرنے کے لیے امن مذاکرات کی حالیہ پیشکش کے حوالے سے طالبان پر بڑھتے دباؤ کے بعد سامنے آیا۔

دہشت گرد گروہ داعش نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔

دھماکہ ہزارہ کمیونٹی کے سابق قائد عبدالعلی مزاری کی 23ویں برسی کی تقریب کے درمیان پیش آیا۔

اس تقریب میں افغانستان کے چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ ان کے ڈپٹی محمد محقق سمیت کئی نامور سیاست دانوں نے شرکت کی تھی۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق ڈپٹی وزارت داخلہ کے ترجمان نصرت رحیمانی کا کہنا تھا کہ خودکش حملے میں 9 افراد شہید ہوگئے ہیں جبکہ 18 افراد زخمی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ شہید ہونے والوں میں دو پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔

اے ایف پی کی رپورٹ میں سیکیورٹی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے مزید کہا گیا کہ افغان حکام نے ہلاکتوں کی تعداد کم بتائی ہے اور واقعے میں 13 افراد ہلاک اور 30 زخمی ہوئے ہیں۔

تاہم کابل پولیس کے سربراہ محمد داؤد امین نے افغانی خبررساں ادارے طلوع نیوز کو بتایا کہ دھماکے میں 5 افراد شہید اور 22 زخمی ہوئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ خودکش بمبار تقریب میں داخل نہیں ہوسکا تھا اور پولیس کی جانب سے شناخت کیے جانے پر چیک پوسٹ کے قریب ہی خود کو اڑا دیا۔

تقریب میں موجود کاظم علی کا کہنا تھا کہ دھماکے کی وجہ سے مسجد کے شیشے ٹوٹ گئے۔

امن مذاکرات

ستمبر 2001 حملوں کے بعد امریکا کی سربراہی میں افغانستان میں ہونے والی مداخلت کی وجہ سے طالبان حکومت کا خاتمہ ہوا تھا جس کے بعد سے دہشت گرد تنظیم پر دباؤ بڑھ گیا تھا۔

تاہم اشرف غنی اور امریکی حکام اس بات پر راضی ہوگئے ہیں کہ طالبان امن مذاکرات میں ملک کے نئے جمہوری آئین کو مانے بغیر بھی شرکت کرسکتے ہیں۔

امید کی جارہی ہے کہ طالبان بین الاقوامی شدت پسند تنظیم القائدہ سے الگ ہوکر اپنا افغانستان میں کردار ادا کرے گی۔

واشنگٹن طویل عرصے تک غیر نتیجہ خیز تنازعے کے حل کے لیے طالبان کے ساتھ یک طرفہ مذاکرات کے لیے تیار نہیں تاہم انغان مذاکرات کی اس نے حمایت کا اعلان کردیا ہے۔

امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی ترجمان ہیتھر نورت نے واضح کیا تھا کہ واشنگٹن کو خوشی ہے کہ اشرف غنی نے کانفرنس کا استعمال کرتے ہوئے طالبان کو بتایا کہ امن کے لیے کوئی شرائط نہیں ہیں۔





Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی