2018 October 18
کیا آل سعود، سعودیوں کے ہاتھوں قتل ہونے والے غریب پاکستانی نوجوان کے والدین کو انصاف فراہم کریگی؟
مندرجات: ١٣٥٧ تاریخ اشاعت: ٠٨ March ٢٠١٨ - ١٧:٠٠ مشاہدات: 106
خبریں » پبلک
کیا آل سعود، سعودیوں کے ہاتھوں قتل ہونے والے غریب پاکستانی نوجوان کے والدین کو انصاف فراہم کریگی؟

آل سعود کی شاہی حکومت کی جانب سے پاکستانیوں کے سرقلم کرنے کی خبریں تو بہت زیادہ سننے میں آتی ہیں لیکن اب دیکھنا یہ ہےکہ یہ نظام گزشتہ روز صرف 65 ریال کی خاطر سعودیوں کے ہاتھوں قتل ہونے والے غریب پاکستانی مزدور کے ضعیف العمر والدین کو بھی انصاف فراہم کرنے پر قادر ہے یا نہیں؟

خبررساں ادارے تسنیم کے مطابق سعودی عرب کے مشرقی صوبے میں ایک پٹرول پمپ پر ایک وفادار اور محنت کش پاکستانی نے صرف 65 ریال کے لیے اپنی جان گنوا دی جبکہ والدین نے نہایت رحم دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مرنے والے شمریز کے جسمانی اعضاء عطیہ کردئیے۔

سعودی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ پاکستانی مشرقی صوبے کے ہی ایک پٹرول سٹیشن پر کام کرتا تھا۔ پٹرول پمپ پر آئے ہوئے کچھ لڑکوں کے گروپ نے پٹرول تو ڈلوا لیا لیکن 65 ریال ادا نہ کیے، جس پر یہ پاکستانی کارکن گاڑی کی پچھلی سیٹ پر چڑھ کر انھیں روکنے کی کوشش کرنے لگا لیکن 17 سالہ سعودی شہری نے اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر گاڑی چلا دی جس سے پاکستانی کارکن گاڑی سے نیچے گر گیا اور اسے سخت چوٹیں آئیں۔ گاڑی میں موجود لڑکے جائے حادثہ سے بھاگ گئے تھے، تاہم پولیس نے پیچھا کر کے سعودی لڑکے اور اسکے باقی دوستوں کو جن میں ایک خلیجی شہری بھی شامل تھا کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔17 سالہ لڑکے کے علاوہ باقی تمام لڑکوں کو پبلک پراسیکیوشن کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

پولیس سے حاصل ہونے والی تفصیلات کے مطابق پاکستانی کارکن زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے خالق حقیقی سے جا ملا۔ پاکستانی کارکن کا نام شمریز تھا اور اس عمر 26 سال تھی۔ شمریز کا تعلق پاکستانی کے شہر گجرات سے تھا اور وہ سعودی عرب میں ملازمت کی غرض سے رہائش پذیر تھا۔ زخمی شمریز کو فوری طور پر دمام کے ایک ہسپتال لایا گیا جہاں ڈاکٹرز نے تصدیق کی کہ شمریز کے سر میں چوٹ آنے کی وجہ سے وہ جانبر نہیں ہو سکا۔ شمریز کے والدین کو اس کی موت کی اطلاع دے دی گئی ہے اور اس کے والدین نے نہایت رحم دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے شمریز کے جسمانی اعضاء عطیہ کردئیے ہیں۔ سعودی حکام کے مطابق شمریز کی لاش ابھی ورثاء کے حوالے نہیں کی گئی ہے۔

ایک عام پاکستانی شہری کا سوال یہ ہے کہ آل سعود کی شاہی حکومت تو چھوٹے موٹے جرم یا مبینہ الزامات کے تحت آئے روز پاکستانیوں کے سرقلم کردیتی ہے لیکن اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا آل سعود کا یہ نظام ایک پاکستانی مزدور کیساتھ ہونے والے اس سلوک پر اپنے شہریوں کیلئے کونسی سزا کا انتخاب کرتا ہے جبکہ قصاص اسلام کے احکام سزا میں سے ہے جس کو قرآن مجید نے سماج کیلئے حیات جانا ہے۔




Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی