2018 October 17
پاکستان میں شیعہ نسل کشی کا سلسلہ جاری، ہزارہ برادری کا ایک اور نوجوان شہید
مندرجات: ١٣٤٧ تاریخ اشاعت: ٠٥ March ٢٠١٨ - ١٦:٤٨ مشاہدات: 75
خبریں » پبلک
پاکستان میں شیعہ نسل کشی کا سلسلہ جاری، ہزارہ برادری کا ایک اور نوجوان شہید

ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان کو تکفیری دہشتگردوں نے علی بھائی روڈ پر فائرنگ کرکے شہید کردیا جسے ریاستی اداروں کے منہ پر طمانچے کے مترادف قرار دیا جا رہا ہے۔


خبررساں ادارے تسنیم کے مطابق ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والا 22 سالہ نوجوان نیاز علی اپنی دکان پر کام میں مصروف تھا کہ موٹرسائیکل پر سوار تکفیری دہشتگردوں نے فائرنگ شروع کردی جس کے نتیجے میں متوفی کو متعدد گولیاں لگی اور وہ موقعے پر ہی چل بسا۔

واضح رہے کہ رواں برس ہزارہ برادی سے تعلق رکھنے والے شخص پر پہلا حملہ ہے جبکہ کوئٹہ کے زرغون روڑ میں واقع بیتھل میموریل میتھوڈسٹ چرچ میں 17 دسمبر کو خودکش دھماکے اور فائرنگ کے نتیجے میں 3 خواتین سمیت 9 افراد شہید اور درجنوں زخمی ہوگئے تھے۔

لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے ہسپتال پہنچایا گیا جہاں قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد لاش کو اہلخانہ کے حوالے کردی گئی۔

پولیس نے واقعہ کو ٹارگٹ کلنگ قرار دے کر تحقیقات شروع کردی۔

پولیس نے جائے وقوعہ کا جائزہ لینے کے بعد بتایا کہ نامعلوم مسلح افراد نے دکان پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں نیاز علی جاں بحق ہو گیا تاہم دکان پر کھڑے دیگر افراد محفوظ رہے ۔

کسی گروپ یا کالعدم تنظٰیم نے واقعے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔

پولیس نے شہر کےمختلف مشتبہ علاقوں میں چھاپے مارے لیکن کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آسکی۔

یاد رہے کہ گزشتہ سال 4 جون کو کوئٹہ کے علاقے سپینی روڑ پر تکفیریوں کی فائرنگ سے ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون اور مرد شہید ہوگئے تھے جبکہ 19 جولائی کو بلوچستان کے علاقے مستونگ میں فائرنگ سے 4 افراد کو شہید کیا گیا تھا۔

پولیس ذرائع کا کہنا تھا کہ نامعلوم مسلح حملہ آور نے ایک گاڑی پر فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں خاتون سمیت گاڑی میں سوار 4 افراد شہید ہوئے۔

خیال رہے کہ صوبہ بلوچستان میں مختلف کالعدم تنظیمیں، سیکیورٹی فورسز اور پولیس اہلکاروں پر حملوں میں ملوث رہی ہیں جبکہ گذشتہ ایک دہائی سے صوبے میں فرقہ وارانہ قتل و غارت میں اضافہ ہوا ہے۔

صوبے میں گذشتہ 15 برسوں کے دوران اقلیتی برادری کو نشانہ بنائے جانے کے ایک ہزار 400 سے زائد واقعات پیش آچکے ہیں تاہم ریاستی ادارے حالات کو کنٹرول کرنے میں تاحال ناکام نظر آرہی ہیں۔






Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی