2018 May 22
عالم تشیع کی ترقی، اسرائیل کے لیے خطرناک ہے
مندرجات: ١٣١٩ تاریخ اشاعت: ٢٦ February ٢٠١٨ - ١٧:٥٢ مشاہدات: 50
خبریں » پبلک
عالم تشیع کی ترقی، اسرائیل کے لیے خطرناک ہے

صہیونی روزنامہ(یروشلم پوسٹ) نے اپنی ایک رپورٹ میں صہیونی حکومت کےخلاف عالم اسلام کی علمی ترقی کےخطرناک ہونے کا جائزہ لیتے ہوئےکہا ہےکہ اہل سنت سے زیادہ عالم تشیع، اسرائیل کے لیےبہت زیادہ خطرناک ہے۔

اس نے اپنی اس تحریر میں لبنان میں ٹارگٹ میزائل کو بنانے میں ایران کی کوششوں کےدعوے کی تکرارکی طرف اشارہ کرتے ہوئےکہا ہےکہ ایران کے اسرائیل کی سرحدوں کے نزدیک ہونے کی وجہ سےاسرائیل کے لیےاس کے فوجی اورمعاشی نتائج نکلیں گے۔

یروشلم پوسٹ نے مزید لکھا ہےکہ شیعہ تفکر مختلف پہلو رکھتا ہےکہ جو اسرائیل کے لیےخطرناک ہیں۔ روس کی حمایت میں ایران، شام اورلبنان کا اتحاد نہ فقط عسکری طاقت بلکہ شیعہ اسلام کے اصولوں کی بنا پرترقی یافتہ مرکزی مفہوم کی نظرمیں بھی اپنی قدرت کا اظہارکرتا ہے۔

اس روزنامہ نےلکھا ہےکہ اہل سنت اپنے ماضی پررشک کرتے ہیں اوروہ ماضی میں پلٹنا چاہتے ہیں جبکہ شیعہ مسلمان، مستقبل پرنظررکھے ہوئے ہیں اورماضی کو اپنی ترقی کا باعث جانتے ہیں۔

یروشلم پوسٹ نے مزید لکھا ہےکہ شیعوں نےاسلامی تمدن کےعلمی ورثے پرحیرت انگیزتاثیر قائم کی ہوئی ہے جبکہ اہل سنت میں علم ودانش کو بنیادی حیثیت حاصل نہیں رہی ہے لیکن عالم تشیع کے ہائرایجوکیشن اورتعلیمی انسٹیٹیوٹس کے نصاب میں غیراسلامی علمی اورفلسفی رسومات بھی شامل ہوگئی ہوئی ہیں۔

اس تحریر میں ایران کی علمی توانائیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے آیا ہےکہ علمی تحقیقات کس طرح ایران میں ترقی کررہی ہے اورعربی ممالک میں زوال کا شکارہیں اوریہ کہ تہران کس طرح اپنے ترقی یافتہ تحقیقاتی انسٹی ٹیوٹس، مستقل عسکری ٹیکنالوجی اورایٹمی پروگرام کا مالک بن سکتا ہے۔

یروشلم پوسٹ نے آخرمیں لکھا ہے کہ اسرائیل اس وقت دو راہے پرکھڑا ہے اورایک سنجیدہ بحران سےدوچار ہےکیونکہ اگروہ عسکری اقدام کرتا ہے تواسے اس پربہت زیادہ نقصان اٹھانا پڑے گا جبکہ  یہ چیزگوشہ نشینی اورانفعال اس سےبھی بدترہوگی۔





Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی