2018 October 18
آل سعود ـ آل نہیان غوطہ شرقیہ میں شامی افواج کی کامیابیوں سے تشویش میں مبتلا/ انہیں دہشت گردوں کی اتنی فکر کیوں ہے؟
مندرجات: ١٣١٤ تاریخ اشاعت: ٢٤ February ٢٠١٨ - ١٨:٥٠ مشاہدات: 90
خبریں » پبلک
آل سعود ـ آل نہیان غوطہ شرقیہ میں شامی افواج کی کامیابیوں سے تشویش میں مبتلا/ انہیں دہشت گردوں کی اتنی فکر کیوں ہے؟

دارالحکومت دمشق کے نواح میں آل سعود ـ آل نہیان ـ یہودی ریاست اور امریکہ کے حمایت یافتہ تکفیری دہشت گردوں کا صفایا قریب ہونے پر حامی عرب ریاستوں کو تشویش ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ چار مئی 2017 کو ایران، روس اور ترکی نے ـ قزاقستان کے دارالحکومت آستانہ میں ـ شام کے تناؤ گھٹانے کے چار علاقوں میں جنگ بندی کے عمل کی نگرانی کے معاہدے پر دستخط کئے۔
شمالی علاقہ (بشمول ادلب اور حماہ اور حمص کے کچھ علاقے)، جنوب (بشمول قنیطرہ اور درعا)، مغربی علاقہ اور شہر دمشق کا نواحی علاقہ غوطہ شرقیہ جیسے نقاط اس معاہدے میں شامل تھے اور تینوں ممالک نے ان علاقوں میں حکومت اور دہشت گردوں کے درمیان مفاہمت کے عمل کی نگرانی سے اتفاق کیا۔
اس معاہدے کے تحت ایران اور روس کو شام کی سرکاری افواج اور ترکی کو نام نہاد معتدل دہشت گردوں کی کارکردگی پر نظر رکھنا تھی اور اگر زیر نگرانی فورسز کی طرف سے کوئی خلاف ورزی ہوتی تو معاہدے کے فریق ممالک جواب دہ ہوتے۔
مذکورہ معاہدے کے تحت داعش، القاعدہ اور جبہۃ النصرہ معتدل دہشت گردوں میں شامل نہیں تھے اور حکومت ان پر کہیں بھی اور کسی بھی وقت حملہ کرسکتی تھی۔
گوکہ معاہد زد پذیر تھا لیکن مغرب اور ترکی کے حمایت یافتہ دہشت گرد اس معاہدے کی طرف مائل ہوئے جس کے بعد ماسوائے دہشت گردوں کے زیر قبضہ علاقوں کے، پور ملک شام میں کسی حد تک سکون بحال ہوگیا تھا۔
غوطہ شرقیہ چونکہ دارالحکومت کے نواح میں واقع ہے لہذا یہاں پر موجود دہشت گرد ٹولوں کی وجہ سے دمشق سرکار فکرمند تھی اور دہشت گرد ٹولے اور اس کے خلیجی اور اسرائیلی حامی اس علاقے کو "اسد سرکار کی آنکھ میں کانٹا" کہا کرتے تھے۔ اس علاقے میں مختلف النوع دہشت گرد ٹولوں نے گھونسلے بنا رکھے ہیں اور یہ لوگ 2011 میں مغربی ـ صہیونی فتنہ انگیزی کے آغاز سے ہی بسیرا کئے ہوئے ہیں۔ غوطہ شرقیہ دمشق کے بین الاقوامی ہوائے اڈے کے قریب واقع ہے۔
شامی افواج نے ـ شہر دمشق اور ہوائی اڈے کو یہاں چھپے ہوئے دہشت گردوں سے شدید خطرہ لاحق ہونے کی بنا پر ـ 2013 میں اس علاقے کو گھیر لیا اور 315 کلومیٹر مربع کے اس علاقے میں سے 200 کلومیٹر کا علاقہ "جبہۃ النصرہ، فیلق الرحمن، اور جیش الاسلام" نامی تکفیری دہشت گردوں سے آزاد کرالیا۔ اور باقیماندہ علاقہ "تناؤ کم کرنے کا علاقہ" گردانا گیا۔
اس معاہدے کی بنا پر غوطہ شرقی میں مسلح دہشت گردوں کے سر سے نابودی کا خطرہ ٹل گیا اور یہ علاقہ بایں حال حکومت شام پر دباؤ ڈالنے کا آخری علاقہ تھا جہاں کافی عرصے تک سکون بحال ہوا تھا اور دہشت گرد سکون کا سانس لینے لگے تھے۔
معاہدے پر عملدرآمد شروع ہوا تو سرکاری افواج اور مزاحمت کی افواج نے اپنی تمام تر توجہ ان علاقوں پر مبذول کردی جو داعش اور القاعدہ کی شاخ "جبہۃ النصرہ" کے قبضے میں تھے اور ان کے خلاف کاروائی کے لئے کسی قسم کی کوئی رکاوٹ نہیں تھی۔
دریں اثناء غوطہ میں موجود دہشت گرد ٹولوں نے معاہدے سے اتفاق کے باوجود دمشق کے رہائشی علاقوں پر راکٹ اور مارٹر حملوں کا سلسلہ شروع کیا اور 2012 سے لے کر آج تک اس علاقے سے شہر دمشق کے رہائشی علاقوں پر 14800 مارٹر گولے اور راکٹ داغے گئے ہیں جن کے نتیجے یں 11000 افراد ـ بلا تمیز مذہب و رنگ و نسل ـ شہید ہوچکے ہیں جن میں 1500 بچے بھی شامل ہیں جبکہ 30000 افراد ان حملوں کے نتیجے میں جسمانی طور پر ناکارہ ہوچکے ہیں۔
ان حملوں کا تسلسل دہشت گردوں کی کارکردگی کے نگران ملک ترکی کے کھاتے میں آیا۔
دہشت گردوں نے گذشتہ ہفتے اتوار کو 80 اور سوموار کو 114 راکٹ اور مارٹر گولے دمشق پر فائر کئے جن میں 13 افراد شہید اور 77 زخمی ہوئے۔
دہشت گردوں نے معاہدے کی مسلسل اور ناقابل توجیہ خلاف ورزی کی تو سرکاری افواج نے دہشت گردوں کی اس پناہگاہ کو ٹھکانے لگانے کی فکر لاحق ہوئی اور تازہ ترین رپورٹوں کے مطابق شامی افواج کے مشہور زمانہ اعلی افسر سہیل الحسن معروف بہ النمر (چیتا) بھاری ہتھیاروں، فوجی گاڑیوں اور دیگر سازوسامان کے ایک بڑے قافلے کے ساتھ شمالی شام سے دمشق کے نواح میں پہنچ چکے ہیں۔
سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سمیت دہشت گردوں کے حامی عرب اور مغربی ممالک ـ جو دمشق میں غوطہ کے دہشت گردوں کے خونی کھیل پر مکمل خاموشی اختیار کئے ہوئے تھے ـ کو زبردست اندیشے لاحق ہوئے ہیں اور ان سب کے سفارتی نمائندے دی میستورا ـ جو بظاہر شام کے امور میں اقوام متحدہ کا ایلچی ہے ـ نے غوطہ شرقیہ میں شامی افواج کی کاروائی سے تشویش ظاہر کرہے ہوئے دعوی کیا ہے کہ غوطہ شرقیہ دوسرے حلب میں تبدیل ہوجائے گا!
ادھر جنیوا مذاکرات میں دہشت گردوں کے نمائندے "نصر الحریری" نے سلامتی کونسل سے کہا ہے کہ فوری مداخلت کرکے شامی افواج کے جرائم کا سد باب کرے اور دمشق کے نواح میں دہشت گردوں کا صفایا نہ ہونے دے۔
دوسری طرف سے فرانسیسی صدر اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نیز جرمن چانسلر کے ترجمان نے بھی غوطہ شرقیہ میں شامی افواج کی کاروائی روکنے پر زور دیا۔
اسی اثناء میں دہشت گرد اپنے زیر قبضہ علاقوں میں عوام کو دفاعی ڈھال کے طور پر استعمال کررہے ہیں اور عوامی ہلاکتوں کو بڑھا کر امریکہ کو شام پر حملہ کرنے پر اکسانے کے درپے ہیں۔
2013 میں بھی دہشت گردوں نے کیمیاوی گیس استعمال کرکے غوطہ شرقیہ میں سینکڑوں افراد کا قتل عام کیا، امریکہ نے شام پر حملہ کرنے کا اعلان کیا لیکن اسے ایسا کرنے سے اجتناب کرنا پڑا [جس کے اسباب معلوم ہیں] اور روس کی مدد سے شام کے کیمیاوی ہتھیار تباہ کردیئے گئے۔
شام میں دہشت گردوں کے مغربی ممالک ـ جو ابتدائے بحران سے شام کے لئے مختلف قسم کے خواب دیکھ رہے تھے ـ کو معلوم ہے کہ غوطہ شرقیہ کی آزادی سے دارالحکومت کے نواحی علاقوں میں دہشت گردوں کا آخری ٹھکانہ بھی ختم ہوکر رہے گا اور یوں وہ حکومت شام پر دباؤ ڈالنے کا آخری حربہ بھی کھو جائیں گے اور غوطہ شرقیہ میں چھپے ہوئے دہشتگردوں کو جلدی یا بدیر ـ غوطہ غربیہ کی مانند ـ حکومت کے ساتھ مذاکرات کرکے ہتھیار ڈالنا پڑیں گے اور انہیں ادلب میں النصرہ فرنٹ کے دہشت گردوں کی پناہ میں جانا پڑے گا یا پھر وہیں کہیں اپنے ہاتھوں تیار کردہ اجتماعی قبروں میں دفن ہونا پڑے گا۔
دریں اثناء شامی افواج نے غوطہ شرقیہ میں اعلامیے پھینکے ہیں اور یہاں رہنے والے نہتے عوام کو علاقے سے نکلنے کے پرامن راستے دکھائے گئے ہیں اور انہیں ہدایت کی گئی ہے کہ ہر قسم کے ناگوار حادثے سے بچنے کے لئے سرکاری افواج کے ساتھ تعاون کریں۔
کل جمعرات کے دن ہی غوطہ شرقیہ میں چھپے ہوئے دہشت گردوں نے دمشق کے نواح میں برزۃ البلد پر ایک مارٹر گولہ پھینکا جس کے نتیجے میں ایک بچہ شہید ہوا؛ جبکہ الوافدین کیمپ کو کئی مارٹر گولوں کا نشانہ کر ایک بچے کو شہید اور چھ مزید بچوں کو زخمی کردیا۔ جرمانا کے علاقے پر بھی چار مارٹر گولے داغے گئے ہیں۔ ادھر تشرین اسٹیڈیم کے قریب البرامکہ کے علاقے پر گرنے والے گولوں کے نتیجے میں متعدد شامی شہروں کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے اور الجورہ پر گرنے والے مارٹر گولے کے پھٹنے سے چھ افراد زخمی ہوئے ہیں۔ دمشق پولیس کے مطابق ضہرالمسطاح کے علاقے پر گرنے والے ایک مارٹر گولے کے پھٹنے سے املاک کو زبردست نقصان پہنچا ہے۔

شام کی بعض دیگر خبریں:

دریں اثناء عفرین شہر میں ـ جس کو ترکی کی جارحانہ یلغار کا سامنا تھا ـ حکومت شام کے حامی فورسز تعینات ہوچکی ہیں اور وہاں کے عوام نے ان کا والہانہ استقبال کیا ہے۔

ادھر یورپی ممالک کے نمائندوں نے سعودی عرب کی طرف سے انتہا پسند دہشت گردوں کی حمایت پر کڑی تنقید کی ہے۔

روس نے کہا ہے کہ دہشت گردوں کے حامی عرب اور مغربی ممالک ہی دمشق کے غوطہ شرقیہ میں حالات کی خرابی کے ذمہ دار ہیں نہ کہ حکومت شام اور اس کے حلفاء۔
عفرین کے نواح میں ترکی کا ایک ٹینک شامی کردوں کے ہاتھوں منہدم / فری سیرین آرمی نامی دہشت گردوں نے جندریس شہر پر توپخانے کی گولہ باری کی ہے۔ اور کرد مدافعین نے اس دیرصوان کے علاقے میں اس ٹولے کے درجنوں دہشت گردوں کو ہلاک کردیا ہے۔

حلب شہر کے مختلف علاقوں سے کرد مدافعین 100 گاڑیوں کے قافلے میں شہر عفرین میں داخل ہوئے ہیں۔

ترک فضائیہ نے عفرین کے نواحی دیہاتوں مریمین اور شرا پر بمباری کی ہے۔

عفرین پر چار ہفتوں سے جاری ترکی افواج کا حملہ اب تک ناکام رہا ہے۔

حلب کے قریب الزیارہ نامی گذرگاہ کے قریب عوام کے لئے غذائی مواد لے جانے والے قافلے پر ترک فضائیہ کی گولہ باری میں تین افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

ادلب کے قریب حاس نامی شہر میں جبہۃ النصرہ اور آزادی شام فرنٹ نامی دہشت گرد تنظيموں کے درمیان گھمسان کی جنگ جاری ہے اور النصرہ ""جس کو ترکی کے کہنے پر حال ہی میں "تحریر الشام" کا نام دیا گیا ہے"" کے 17 دہشت گرد ہلاک ہوگئے ہیں۔

داعش کے متعدد دہشت گرد الحسکہ سے امریکی ہیلی کاپٹروں کے ذریعے شہر کے مشرق میں واقع الہول کیمپ منتقل ہوچکے ہیں۔

صدر پیوٹن کے نمائندے الیکزینڈر لاورینتو نے دمشق میں صدر بشار الاسد سے ملاقات اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کے حوالے سے دو طرفہ تعاون نیز سوچی کانفرنس کے بارے میں تبادلہ خیال کیا ہے۔




Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی