2018 December 17
کربلائے قصور سے کاروان امام حسینؑ نکال کر یزیدی حکمرانوں اور ظالمانہ نظام کو انجام تک پہنچائں گے، سراج الحق
مندرجات: ١٢٤٧ تاریخ اشاعت: ١٤ January ٢٠١٨ - ١٠:١٣ مشاہدات: 139
خبریں » پبلک
کربلائے قصور سے کاروان امام حسینؑ نکال کر یزیدی حکمرانوں اور ظالمانہ نظام کو انجام تک پہنچائں گے، سراج الحق

امیر جماعت اسلامی نے کہاکہ قصور اور اس کے گردو نواح میں اس طرح کے شرمناک واقعات تسلسل کے ساتھ ہورہے ہیں لیکن حکمران اندھے گونگے اور بہرے ہیں۔

 خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کمسن زینب کے قاتلوں کو فوری گرفتار کرکے کڑی سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ امیر جماعت اسلامی نے قصور میں ننھی زینب کے گھر جاکر والدین سے تعزیت کا اظہار کیا۔ 

اس موقع پر مظاہرین اور میڈیا سے گفتگو میں سراج الحق کا کہنا تھاکہ وزیراعلیٰ پنجاب کا دفتر قصور سے ایک گھنٹے کے فاصلے پر تھا، وہ سب کام چھوڑ کر کیوں نہیں پہنچے۔ سراج الحق نے کہا کہ قصور میں بچی اغوا کی گئی، کئی روز لاپتا رہی تو شہبازشریف کیوں سوئے رہے؟ وزیراعلیٰ صاحب، پنجاب پولیس کہاں گئی ؟ ڈولفن فورسز کہاں تھی؟ 

ان کا کہنا تھا کہ اس ملک میں غریب کے خون کی کوئی قیمت نہیں ہے، یہی اگر کسی حکمران کا یا رکن اسمبلی کا بچہ ہوتا تو یہ حکمران ٹولہ فوری طور پر یہاں پہنچتا۔ انہوں نے کہا اغواء، زیادتی اور قتل ہونے کے واقعات مسلسل ہو رہے ہیں، یہ ظالم حکمران انصاف دینے کی بجائے احتجاج کرنیوالوں پر گولیاں برساتے ہیں۔

انہوں نے کہا نھنی بچی پاکستان کے 20 کروڑ عوام کیخلاف، حکومت کیخلاف، ظالم پولیس کیخلاف، عدالتی نظام کیخلاف اللہ تعالیٰ کے پاس فریاد لیکر گئی ہے، اگر ہم ظلم کیخلاف نہ اٹھے تو اللہ تعالیٰ کا قہر نازل ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ ان ظالموں نے قصور کو کربلا بنا دیا ہے، لیکن ہم ان یزیدی حکمرانوں کو نہیں چھوڑیں گے، یہاں سے امام حسینؑ کا کاروان نکلے گا، جو ان ظالموں کو اور اس ظالمانہ نظام کو انجام تک پہنچائے گا۔

انہوں نے کہاکہ قصور اور اس کے گردو نواح میں اس طرح کے شرمناک واقعات تسلسل کے ساتھ ہورہے ہیں لیکن حکمران اندھے گونگے اور بہرے ہیں۔ لگتاہے کہ حکمرانوں کو عوام کے جان و مال اور عزت کے تحفظ سے کوئی سروکار نہیں اور انہیں محض اپنے اقتدار کی فکر ہے۔ انہوں نے کہاکہ معصوم کلی کو مسلنے والے انسان نہیں، درندے ہیں، انہیں اس جرم کی عبرتناک سزا ملنی چاہیے۔

انہوں نے کہاکہ اگر 2015ء کے واقعات میں ملوث مجرموں کو نشان عبرت بنایا جاتا تو 2016 ءمیں قصور شہر سے کمسن 12 بچیوں کے اغوا اور قتل کے واقعات سے بچا جا سکتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ معصوم بچی کے قتل سے ہر آنکھ اشکبار ہے، اس طرح کے شرمناک واقعات سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ میڈیا کے ذریعے پھیلائی جانے والی فحاشی و عریانی اور بے حیائی کے سیلاب کو بھی روکا جائے۔

سینیٹر سراج الحق نے بچی کے قتل کے خلاف ہونے والے احتجاج مظاہرہ پر پولیس فائرنگ کی بھی شدید مذمت کی۔ انہوں نے مقامی رہنماؤں کیساتھ پولیس کی فائرنگ سے جاں بحق ہونے والے مقتولین کی کے ورثاء سے بھی تعزیت کی۔




Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی