2018 June 25
اگر سعودی عرب کے پاس پیسے ہیں تو کیا ہم اپنی آزادی اور خودمختاری کو فروخت کریں؟
مندرجات: ١٢٤٢ تاریخ اشاعت: ٣١ December ٢٠١٧ - ١٣:٤٣ مشاہدات: 118
خبریں » پبلک
اگر سعودی عرب کے پاس پیسے ہیں تو کیا ہم اپنی آزادی اور خودمختاری کو فروخت کریں؟

پاکستان کے معروف تجزیہ نگار کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کی پاکستان میں بہت زیادہ مداخلت رہی ہے، سعودی عرب عالمی سطح پر غیرجانبدار ملک نہیں ہے بلکہ امریکہ کا اتحادی ہے، اسی طرح خلیج میں بھی سعودیہ غیرجانبدار ملک نہیں ہے، اس کی ڈکٹیشن قبول کرنے کا مطلب دوسرے ملک کو ناراض کرنا ہے۔

معروف تجزیہ نگار ثاقب اکبر کا تسنیم نیوز کے ساتھ انٹرویو کے دوران کہنا تھا کہ پاکستان ایک آزاد ملک ہے، کیا وجہ ہے کہ بیرونی طاقتوں سے  ڈکٹیشن لی جاتی ہے۔ اگر سعودی عرب کے پاس پیسے ہیں تو کیا اپنے آزادی اور خودمختاری اس کے ہاتھ فروخت کر دی جائے۔ پاکستان بیس کروڑ عوام کی ایک عظیم ریاست ہے۔ اس جوہری ملک کے وقار کے مطابق ہمارے حکمرانوں اور ریاستی اداروں کو فیصلے کرنے چاہییں۔ امریکہ کی غلامی نے ہمیں کیا دیا، سوائے رسوائی اور تنزلی کے ہمیں کیا ملا۔
 
 




Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی