2018 December 17
پاکستانی سیاست کا مرکز سعودی عرب کیوں ؟ کیا نواز شریف واقعی این آر او کرنے جارہےہیں؟
مندرجات: ١٢٤١ تاریخ اشاعت: ٣١ December ٢٠١٧ - ١٣:٤١ مشاہدات: 154
خبریں » پبلک
پاکستانی سیاست کا مرکز سعودی عرب کیوں ؟ کیا نواز شریف واقعی این آر او کرنے جارہےہیں؟

شیعیت نیوز: ایک ایسے وقت میں جب عام انتخابات میں کچھ ہی مہینے باقی ہیں اور مسلم لیگ (ن) کو عدالتوں میں بڑے مقدمات کا سامنا ہے تو وہیں لیگی قیادت کی اچانک سعودی عرب روانگی نے ایک نئی بحث کو جنم دے دیا۔

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) سمیت کئی اپوزیشن جماعتوں کا خیال ہے کہ نواز شریف کے دورہ سعودی عرب کا فیصلہ اپنے خلاف کیسز سے بچنے کے لیے ایک مرتبہ پھر قومی مفاہمتی آرڈیننس (این آر او) کرنے کی کوشش ہے۔

واضح رہے کہ نواز شریف نے سعودی عرب جانے کا فیصلہ اُس وقت کیا جب ان کے چھوٹے بھائی اور وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف اور وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق پہلے ہی وہاں موجود ہیں۔

اگرچہ حکومتی وزراء اپوزیشن کی طرف سے ممکنہ این آر او سے متعلق الزامات کو سختی سے مسترد کرچکے ہیں، لیکن پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کا مؤقف یہی ہے کہ اگر ایسا ہوا تو وہ اس کے خلاف کھڑے ہوں گے۔

ایک طرف تو پاناما لیکس کیس کے فیصلے میں نواز شریف کی نااہلی کے بعد سپریم کورٹ کے حکم پر شریف خاندان کے خلاف نیب ریفرنسز سابق وزیراعظم کے سیاسی مستقبل کے لیے ایک بڑا خطرہ ہیں تو دوسری جانب عدالتی فیصلوں پر لیگی قیادت کی عدلیہ اور فوج پر تنقید کو بھی موجودہ سیاسی پسِ منظر میں کئی زاویوں سے دیکھا جارہا ہے اور بعض مبصرین اسے ملک میں کوئی ایسی صورتحال پیدا کرنے کی کوشش قرار دیتے ہیں جس سے ان کیسز سے بچا جاسکے۔

لیکن نواز شریف کی تمام مصروفیات کو ترک کرکے سعودی عرب جانے کے فیصلے پر جہاں کئی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، وہیں ایک سوال یہ بھی ہے کہ اگر حکومت واقعی کسی این آر او کی طرف جاتی ہے تو پھر آیا یہ کس کے ساتھ ہوسکتا ہے؟ اور وہ بھی ایسے میں جب سانحہ ماڈل ٹاؤن پر انصاف کے حصول کے لیے تمام ہی جماعتیں ڈاکٹر طاہرالقادری کیساتھ مل کر ایک اور دھرنے کی بھی تیاری کررہی ہیں۔

اس ساری صورتحال پر تجزیہ کار شہزاد چوہدری کہتے ہیں کہ اس وقت ملک میں تین قوتیں موجود ہیں جن میں حکومت، فوج اور عدلیہ شامل ہے اور اگر تو واقعی نواز شریف کسی این آر او کے مقصد سے سعودی عرب گئے ہیں تو یقیناً یہ اہم سوال ہے، کیونکہ وہ وزیراعظم کے عہدے سے نااہل ہوچکے ہیں مگر پھر بھی حکومت انہیں کی جماعت کی ہے۔

شہزاد چوہدری کے بقول وہ سمجھتے ہیں کہ جہاں تک فوج کی بات ہے تو وہ اس وقت عوامی مقبولیت حاصل کرکے ایک ایسے مقام پر کھڑی ہے جہاں وہ اس قسم کے کسی بھی اقدم کے لیے تیار نہیں ہوگی اور نہ ہی اس کے لیے یہ قابلِ قبول ہوگا۔

انھوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں ن لیگ یہ دعویٰ کرتی رہے کہ اب بھی ملک میں اس کی مقبولیت پہلے جیسی ہی ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ پاناما لیکس کے فیصلے نے اس کی ساکھ کو بُری طرح سے متاثر کردیا۔

ان کا کہنا تھا کہ 'میرا نہیں خیال کہ فوج ایک ایسی جماعت کے ساتھ این آر او کرنے پر رضامند ہوسکے گی جسے خود کرپشن کے سنگین مقدمات سے نقصان پہنچا ہو '۔

شہزاد چوہدری کا کہنا تھا کہ جس طرح حالیہ فیصلہ آیا ہے، اُس کو دیکھ کر تو یہ اندازہ لگانا بہت ہی آسان ہے کہ عدالتیں بھی اس میں حکومت کا کوئی ساتھ نہیں دیں گی اور ایک آزاد اور خود مختار عدلیہ کے لیے یہ ممکن بھی نہیں ہے۔

انھوں نے کہا کہ بظاہر تو یہی لگتا ہے کہ لیگی قیادت کا سعودی عرب جانے کی وجہ امریکا کی پاکستان کے خلاف حالیہ بیان بازی ہے اور حکومت چاہتی ہے کہ وہ سعودی عرب کے ذریعے امریکا کو کوئی ایسا پیغام دے جس سے صورتحال مثبت سمت کی جانب جاسکے۔

شہزاد چوہدری کا کہنا تھا کہ پاکستان چاہتا ہے کہ امریکا کے ساتھ اس کے خدشات دور ہوں اور خاص طور پر قبائلی علاقوں میں دہشت گردوں کی پناگاہوں سے متعلق مسلسل اسے الزامات کا سامنا ہے تو شاید اسی دباؤ کو کم کرنے کے لیے مسلم لیگ (ن) نے اپنے قریبی دوست ملک کی مدد لی ہے، لہذا جہاں تک این آر او کی بات ہے تو اس کے لیے اس وقت کوئی بھی طاقت ان کا ساتھ نہیں دے گی۔

تاہم، تحریک انصاف کے رہنما چوہدری سرور اس بات سے اتفاق نہیں کرتے کہ لیگی قیادت کا یہ دورہ خارجہ امور سے متعلق صورتحال کا حصہ ہے، جو کہتے ہیں کہ اگر واقعی امریکا کے ساتھ تعلقات کو درست کرنے کے لیے سعودی عرب کی مدد حاصل کرنی تھی تو اس کے لیے نواز شریف اور شہباز شریف کا وہاں جانا کوئی جواز نہیں رکھتا۔

انھوں نے کہا کہ 'لوگ این آر او کی باتیں خود سے نہیں کررہے، بلکہ لیگی قیادت نے عوام کو بتائے بغیر اچانک اس دورے کا منصوبہ بنایا جس سے ہر ایک کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوا '۔

تحریک انصاف کے رہنما کا کہنا تھا کہ اگر تو یہ سیکیورٹی سے متعلق بات کرنے وہاں گئے ہیں تو کم از کم اپوزیشن کو اس بارے میں پہلے عتماد میں لینا چاہیئے تھا اور وزیرِ خارجہ کو اس کام کے لیے سعودی عرب جاکر اس معاملے کو اٹھانا چاہیے تھا۔

چوہدری سرور کا کہنا تھا کہ پاناما کیس کے ساتھ ختمِ نبوت سے متعلق معاملے نے ن لیگ کو بہت بڑا نقصان پہنچایا اور اب انہیں خود بھی معلوم ہے کہ عوام اِن سے نجات چاہتے ہیں، کیونکہ چار سالوں میں جو کچھ ہوا وہ سب کے سامنے آچکا ہے۔

خیال رہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف آج خصوصی طیارے سے سعودی عرب روانہ ہوں گے، جہاں وہ سعودی عرب کی اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں بھی کریں گے۔

یاد رہے کہ نواز شریف نے حال ہی میں قومی سلامتی کے مشیر لیفٹننٹ جنرل (ر) ناصر جنجوعہ کیساتھ بھی 5 گھنٹے طویل ملاقات کی تھی اور اس دورے کے تناظر میں اسے بھی کافی اہمیت دی جارہی ہے۔





Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی